Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 15

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 15

–**–**–

کچھ روز بعد ایک عجب پراسرار واقعہ رونماء ہوا-
میں معمول کے مطابق مسجد کے صحن میں سویا ہوا تھا- نجانے شب کا کون سا پَہر تھا کہ اچانک کچھ کنکر کہیں سے آ کر میری پیٹھ پہ لگے- میں ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا-
مسجد کے گیٹ کا بلب جل رہا تھا- چاند بھی پورا نکلا ہوا تھا-اور صحن میں خوب روشنی تھی- مجھے فرش پہ موٹی بجری جیسی کئ کنکریاں پڑی نظر آئیں- شاید انہی میں سے کچھ مجھے بھی لگی تھی-
کون ہو سکتا ہے ؟ میں نے فوراً جانی کی طرف دیکھا- وہ مُجھ سے کچھ دور صف پہ بے سُدھ سویا پڑا تھا- میں نے اسے جگانا چاہا پھر یہ سوچ کر باز رہا کہ وہ فوراً یہ قضیہ جنّات کے سر تھوپ دے گا اور الٹا مجھے ہی کوسے گا-
میں اُٹھ کر مسجد کے دروازے تک گیا- دروازہ اچھّی طرح بند تھا- پھر چار دیواری کے قریب جا کر باھر کی طرف جھانکنے لگا- میرا خیال تھا کہ کنکر اِسی طرف سے پھینکےگئے ہیں- ادھر خالی کھیت تھے- دور دور تک مجھے کچھ بھی نظر نہ آیا-
میں واپس پلٹ ہی رہا تھا کہ مسجد کے صحن میں ایک چھوکرا کھڑا دکھائ دیا- اس نے سفید لباس پہن رکھّا تھا اور اس کا سفید چہرہ چاندنی میں دور سے جگمگا رہا تھا- وہ دونوں ہاتھ کولھوں پہ ٹکائے میری طرف دیکھ رہا تھا-
میں سمجھا مزار پہ آیا ہوا کوئ زائر ہے- آواز دی:
“کون ہو ؟”
وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا- میں صحن کی طرف چلتا چلتا اس کے بالکل قریب پہنچ گیا- اچانک ہی باہر سے کنکریوں کی اور باڑھ آئ- ان میں سے کچھ مجھے لگیں اور کچھ مسجد کے پکّے صحن میں گریں- اس کے بعد تو گویا بارش ہی شروع ہو گئ-
یوں لگ رہا تھا جیسےکئ لوگ مٹھیاں بھر بھر کے بجری اندر پھینک رہے ہیں- میں کنکریوں سے بچنے کےلئے ادھر ادھر بھاگنے لگا- مسجد کے پکّے فرش پہ بارش جیسا ارتعاش پیدا ہو رہا تھا-
پھر کنکریوں کی بارش اچانک تھم گئ- میں نے سامنے دیکھا تو مسجد کا صحن خالی تھا- وہ لڑکا غائب ہو چکا تھا-
میں واپس پلٹا اور دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے چلایا ” کون ہے ؟؟ کون پتّھر پھینکتا ہے .. ؟؟”
مسجد کا دروازہ کھولا تو باھر کوئ نہ تھا- کچھ فاصلے پہ پیپل کا ایک بڑا پیڑ تھا- اس کے نیچے دن کو ملنگ بیٹھا کرتے تھے- وہاں سفید کپڑوں میں ملبوس کوئ شخص بیٹھا نظر آیا-
میں نے چلا کر کہا ” کون ہو ؟ کیوں مارتے ہو پتّھر” مگر اس نے کوئ جواب نہ دیا-
میں نے خیال کیا کہ شاید کچھ شرارتی لڑکے ہیں جو مجھے تنگ کرنا چاھتے ہیں- مسجد کا مرکزی دروازہ بند کرنے کو ہم ایک بڑی دوشاخہ لکڑی لگاتے تھے- میں نے وہ نکالی اور ڈانگ کی طرح کھٹکاتا ہوا پیپل کی طرف بڑھا- ساتھ ساتھ اونچی آواز میں اسے دھمکانے کو کہا ” اپنے پیو کے پُتّر ہو تو وہیں کھڑے رہنا ٹھہر ..!! ابھی سکھاتا ہوں تجھے سبق ..!!”
پیپل کے نیچے خوب اندھیرا تھا- میں وہاں پہنچا تو وہ لڑکا پھر غائب ہو چکا تھا-
میں اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا- دفعتاً کسی نے میری گردن پہ زور کی چپت رسید کی اور میں کلبلا اُٹھا- پھر کسی اُلّو کے چیخنے کی آواز آئ- میں گردن سہلاتا ہوا ادھر ادھر دیکھنے لگا- پیپل کے اس پیڑ پہ رات کو عموماً الّوؤں کا بسیرا ہوتا تھا جو ہر آئے گئے کو چپّت ضرور لگایا کرتے تھے-
میں نے خیال کیا کہ شاید وہ لڑکا بھاگ گیا ہے یا کہیں چھپ گیا ہے- اسے ڈھونڈنا فضول تھا- میں واپسی کے ارادے سے مُڑا ہی تھا کہ اچانک نظر صحنِ مزار کی طرف اٹھ گئ- خوف کی ایک لہر میرے جسم میں پیدا ہوئ اور رونگٹے کھڑے ہو گئے-
صحن کے عین بیچ وہی سفید کپڑوں والا لڑکا اکڑوں بیٹھا ہوا تھا- وہ مجھ سے تقریباً سو قدموں کے فاصلے پہ تھا-
میں نے کانپتی آواز میں کہا:
“کون ہو ؟ کیا کر رہے ہو ادھر ؟” مگر اس نے کوئ جواب نہ دیا- میں پیپل کے نیچے کھڑا اسے غور سے دیکھنے لگا- فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے میں یہ جاننے سے قاصر تھا کہ وہ وہاں کیا کر رہا ہے-
پھر وہ آہستہ آہستہ اٹھنے لگا اور اس کا قدوقامت بڑھتا ہی چلا گیا- میں نے اپنی زندگی میں اتنا طویل قامت شخص کبھی نہ دیکھا تھا- وہ صحنِ مزار میں کھڑا مجھ سے بے نیاز آسمان کی طرف دیکھنے لگا-
میں دوشاخہ ہاتھ میں تھامے اسے برابر دیکھتا رہا- پھر اچانک ہی وہ میری طرف چل پڑا- اس کی چال بڑی عجیب تھی جیسے کوئ لنگڑا کر چلتا ہے- چلنے کی دوران بھی اس کی نگاہ برابر آسمان کی طرف اٹھی ہوئ تھی-
مجھے شدید خوف محسوس ہوا اور میں دل ہی دل میں قل شریف پڑھنے لگا- وہ شخص برابر میری طرف چلا آ رہا تھا- لنگڑاتے ہوئے وہ اپنا ایک پاؤں زور سے فرش پہ مارتا- پھر سیدھا ہوتا اور دوسرا پاؤں مارتا- اس کے قدموں کی چاپ گھوڑے کی ٹک ٹک جیسی تھی-
دوشاخہ ڈنڈے پہ میری گرفت مظبوط ہوتی گئ- وہ شخص مجھ سے تقریباً دس قدم کے فاصلے پہ آ کر رُک گیا- اب اس کا چہرہ کسی قدر صاف اور واضح نظر آ رہا تھا- اس کی داڑھی بالکل صاف تھی اور بال لمبے اور گھنگھریالے- میں نے اس پہلے اسے کبھی مزار پہ نہ دیکھا تھا- وہ چاند کی طرف دیکھتے ہوئے مسلسل مسکرا رہا تھا-
میں نے ہمّت کر کے پوچھا:
“کون ہو تُم ؟
وہ میرے سوال سے بے نیاز یونہی مونہہ اٹھائے چاند کو دیکھتا برابر مسکراتا رہا- پھر اسی حالت میں وہ لنگڑاتا ہوا پیچھے مُڑا اور واپس چل دیا- میں نے سکون کی سانس لی اور خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا-
مزار کے مرکزی دروازے تک پہنچنے میں اسے کافی وقت لگا- بالاخر وہ گیٹ کھول کے باھر نکل گیا- میرا حلق خوف کے مارے خشک ہو رہا تھا- “مجھے یہاں نہیں آنا چاھئے تھا- مجھے فوراً واپس مسجد جانا چاھئے”
یہ سوچ کر میں دو شاخے کو گھسیٹتا ہوا واپس مسجد کی طرف چل دیا-
ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ اچانک پیچھے سے دھپ دھپ کی آواز آئ- فوراً مُڑ کے دیکھا تو وہی پراسرار شخص پوری رفتار سے میری طرف بھاگا چلا آ رہا ہے-
خوف کی لہر میرے پورے جسم میں بجلی کی طرح دوڑ گئ اور میں سرپٹ مسجد کی طرف بھاگا- دروازہ بند کرتے ہوئے میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہاں کوئ نہ تھا-
صحن میں آکر میں نے صف اٹھائ اور جانی کے برابر بچھا کے لیٹ گیا- میری سانس دھوکنی کی طرح چل رہی تھی- زندگی میں کبھی ایسی خوفناک صورتحال سے واسطہ نہ پڑا تھا- اس حالت میں نیند کہاں آنی تھی- میں اونچی آواز میں آیت الکرسی پڑھنے لگا- پھر جو قرانی سورتیں یاد تھیں سب پڑھ ڈالیں- آہستہ آہستہ میرا خوف دور ہوا- یونہی رات گزر گئ اور جانی نے اُٹھ کر صبح کی اذان دے دی-
فجر کی نماز میں کچھ زائر بھی چلے آئے اور اچھی خاصی صف بن گئ- تکبیر ہو رہی تھی کہ میں نے فاضل شاہ کو آتے دیکھا- اس سے پہلے وہ مسجد میں کبھی نہ آئے تھے- وہ اپنے حجرے سے بہت کم باہر نکلتے تھے-
نماز کے بعد حسبِ روایت میں نے دعا کرائ- اس کے بعد نمازی ایک ایک کر کے نکلتے گئے مگر فاضل شاہ وہیں بیٹھا رہا- جانی نے کتابوں والی الماری سے قرانِ پاک نکالا اور کونے میں بیٹھ کر تلاوت کرنے لگا- میں اٹھ کر باہر صحن میں چلا آیا-
میرے دماغ پر رات والے واقعے کا اثر تھا- صحن میں آ کر ادھر ادھر دیکھا مگر وہ کنکریاں کہیں نظر نہ آئیں جو رات کو ماری گئ تھیں- مجھے خیال ہوا کہ شاید جانی نے صفائ وغیرہ کر دی ہے- انہی خیالوں میں منہمک تھا کہ اچانک کندھے پہ کسی کا بھاری ہاتھ محسوس ہوا-
چونک کر پیچھے دیکھا تو شاہ جی کھڑے مسکرا رہے تھے- میں نے ایک گہری سانس لی اور ساختہ کہا :
” آپ نے تو ڈرا ہی دیا شاہ جی !!”
وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولے “اللہ سے ڈرنے والوں کو کسی سے کیا ڈرنا ؟ ہاں نیّت میں فتور ہو تو ضرور ڈرنا چاھئے .. سمجھا کہ نئیں ؟”
میں سمجھی ناسمجھی میں انہیں دیکھتا رہا- وہ برابر میری آنکھوں میں جھانک رہے تھے- موضوع بدلنے کو میں نے کہا ” آپ نے آج بڑی شفقت فرمائ ، جانی بتا رہا تھا کہ آپ جنڈیالی بنگلہ گئے ہوئے ہیں- منگل کو آئیں گے واپس …؟”
وہ مسکراتے ہوئے بولے:
“ہاں ارادہ تو منگل تک کا ہی تھا مگر مزار کی ہوا خراب ہو رہی تھی- جلدی واپس آنا پڑا- کچھ لوگ کچھ نہ ہو کر بھی خود کو بہت کچھ سمجھنے لگے ہیں- حالانکہ بجلی کی تاروں اور عاملوں کے اسراروں میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاھئے … سمجھا کہ نئیں ؟ “
میں نے کہا ” نئیں سمجھا- آپ کس کی بات کر رہے ہیں”
وہ بولے ” اسی کی …. جو نُوری سہاگ گیا تھا … ملنگ بن کے … سمجھا کہ نئیں ؟”
میں نے کہا ” سمجھ گیا … میں ہی گیا تھا نوُری سہاگ .. اس لڑکی کو دم کرنے … کیا میں نے غلط کیا ….؟؟”
وہ بولے:
” نیتوں کا حال تو خدا ہی جانتا ہے … لیکن یہ بات ہر کوئ جانتا ہے کہ استاد کے بغیر کوئ بھی کام کنارے نئیں لگتا- نیم حکیم خطرہء جان .. چار سورتیں پڑھ کے جِن اتارنے کا خیال ایسا ہی ہے کہ کوئ اناڑی محض سفر کی دعا پڑھ کے گڈّی چلانا شروع کر دے- سمجھا کہ نئیں ؟ خود بھی مرے گا ، اوروں کو بھی مروائے گا- مانتا ہوں چڑھتی جوانی ہے ، عورت کو دیکھ کے من مچلتا ہے مگر جنّات کے ساتھ پنگا .. بالکل نہیں .. سمجھا کہ نئیں …؟”
یہ کہ کر انہوں نے میری پیٹھ تھپتھپائ اور چل دئے-
میں نے آوز دی:
“شاہ جی … جنّات انسان سے زیادہ طاقتور نہیں … میں آدم کا بیٹا ہوں … میرے پاس اللہ کا قران ہے … آپ مت ڈرائیے مُجھے اس مخلوق سے ….. !!!”
انہوں نے پلٹ کے مجھے دیکھا اور سر ہلاتے ہوئے بولے:
” بڑی ظالم مخلوق ہے بیٹا … بچ جاؤ … اور اس لڑکی کا خیال بھی دِل سے نکال دو ورنہ …. چین سے سو نئیں سکو گے- بیٹا تٌم نے جِنّات کا صرف نام سنا ہے …. ہم نے عمر گزاری ہے ان کے ساتھ … سمجھا کہ نئیں ؟”
میں نے کہا:
“سن رکھّا ہے میں نے جنّات کا نام … قران میں … آگ سے بنی ہوئ ایک مخلوق … جو ناکام ہو چکی تھی خلافت کا بوجھ اٹھانے سے … تب خالق نے مجھے پیدا کیا … مٹّی سے … میں لوہا نہیں جو آگ سے پگھل جاؤں …. !!”
وہ کچھ دیر خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے- پھر چلتے ہوئے قریب آئے اور میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولے:
“جنّات کی سب سے بے ضرر قسم چھلاوہ ہے … ایک امرد جِن … ایک لونڈا … عامل لوگ جِس سے دِل بہلاتے ہیں … اور جس نے رات بھر تُجھے سانڈ کی طرح بھگایا ہے ناں … وہ چھلاوہ ہی تھا- سمجھا کہ نئیں ….. ؟؟ “
میری زبان پہ چُپ کا تالہ پڑ گیا اور میں پھٹّی پھٹّی نظروں سے شاہ جی کو دیکھنے لگا-
جاری ہے
دوستو جب آپ سستی دکھاتے ہو تو پھر مجھ پر بھی غنودگی چھانے لگتی ہے پلیز ایکٹو رہا کرو……

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: