Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 16

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 16

–**–**–

شاہ جی کی دھمکی کے بعد میں کسی قدر محتاط ہو گیا اور کسی بھی ہنگامی صُورت حال سے نمٹنے کےلئے خود کو روحانی طور پر تیّار کرنے لگا- جنّات سے اب کسی بھی وقت مڈبھیڑ ہو سکتی تھی- اس صورت میں واحد ہتھیار قرانِ مجید تھا- میں نے حفظ کا ارادہ کیا اور جانی کی طرح صبح و شام کلامِ پاک سینے میں جمع کرنے لگا-
ایک روز عصر کے بعد مسجد کے صحن میں تلاوت کر رہا تھا کہ شادا ملنگ بھاگتا ہوا آیا- اس نے بتایا کہ مزار سے باہر کوئ شخص میری “زیارت” کو آیا بے-
میں نے کہا “زیارت ؟ کون آیا ہے؟ میری تو یہاں کسی سے واقفیّت بھی نہیں؟ اور وہ اندر کیوں نہیں آ رہا …؟”
وہ بولا ” وہ اندر آنے سے انکاری ہے جی … اور ہر آئے گئے کی منّت سماجت کر رہا ہے کہ سائیں کو باہر بلوا دیجئے …”
میں نے کہا: “ٹھہرو ارشاد … تُم میرے ساتھ آنا … “
میں نے قرانِ مجید الماری میں رکھّا اور شادے کو ساتھ لئے مزار کے مرکزی دروازے پر پہنچا- باہر سڑک کے دونوں طرف پتھارے والوں کا رش تھا-
سڑک کے اس پار کُچھ فاصلے پر ایک شخص اسکوٹر پر بیٹھا ہوا نظر آیا- وہ گیٹ کی طرف نظریں جمائے بیٹھا تھا گویا شدّت سے کسی کا منتظر ہو- ہمیں آتا دیکھ کر اس نے اسکوٹر اسٹینڈ پہ کھڑی کی اور ہماری طرف چلا آیا-
سفید شلوار اور بوسکی کی قمیض میں ملبوس اس شخص کی عمر چھبیس ستائس کے لگ بھگ تھی- سفید رنگت ، چوڑے چکلے شانے ، گھنگریالے بال اور بڑی نفاست سے تراشی ہوئ خوب صورت مونچھیں-
قریب آ کر وہ “سائیں جی سائیں جی …” کہتا ہوا جھکتا ہی چلا گیا- میں نے بمشکل اسے سیدھا کیا اور کہا ” کیا کر رہے ہو بھائ؟”
وہ میرا ہاتھ چومتے ہوئے بولا آپ اللہ والے ہو جی- دلوں کے حال جانتے ہو- دکھ تو یہ ہے کہ بڑی دیر سے مِلے ہو-
میں نے حیرت سے کہا :
تُم ہمیں کیسے جانتے ہو؟ کوئ کام ہے ہم سے ؟
وہ بولا “میرا نام سلطان ہے جی- کُکّڑ ہٹّہ سے آیا ہوں- اس کُڑی کا منگیتر ہوں جسے آپ دم کرنے نوری سہاگ گئے تھے …”
میں یوُں پیچھے ہٹا گویا سانپ نے ڈس لیا ہو- پھر شادے کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا اور اس شخص سے کہا:
” اس لڑکی کا خیال بھی دل سے نکال دو سلطان …. وہ تجھ سے محبّت نہیں کرتی …. دوسرا اس پہ جِن آتا ہے اور جنّات کے ساتھ پنگا …. بالکل ٹھیک نہیں … !!!”
وہ لاپرواہی سے بولا ” مجھے جنّوں بھوتوں سے مت ڈرائیں سائیں جی … میں جان تلی پہ رکھ کے پھرتا ہوں …!!”
میں نے کہا ” تم نے جن بھوت کا صرف نام سُنا ہے … ھم نے عُمر گزاری ہے ….. ابھی ابھی شاہ جی کے پاس سے ہو کر آیا ہوں …. ایک وفد آیا ہوا ہے وہاں جنّات کا …. کہتے ہیں بیروزگار ہیں ، کام دھندہ کوئ نئیں … ہمیں کسی پہ چڑھا دیجئے … کیوں اپنی جان کے دشمن بنتے ہو- جِن ، بھوت آسیب اور مارشل لاء … ایک بار چڑھ جائیں تو اترتے آرام سے ہی ہیں …. !!!”
وہ بولا ” بس کریں سائیں جی- جانتا ہوں میں شاہ جی کو- کئ گھر اجاڑے ہیں اس شیطان نے – وہی تو سارے فساد کی جڑ ہے- آپ سچّے فقیر ہو- بس دو منٹ میرے ساتھ اسکوٹر پہ بیٹھو- نہر کنارے چلتے ہیں- ایک بار میرا دکھڑا سن لیجئے- فیر کبھی بوُتھا نئیں دکھاؤں گا آپ کو … چلئے میرے ساتھ “
میں اس غرض سے کہ شاید اس بلاء سے جان چھوُٹ جائے اور شاہ جی کے بارے میں بھی کچھ خبر مل جائے اس کے ساتھ موٹر سائیکل پہ بیٹھ گیا- ہم گِدڑ پِنڈی سے ہوتے ہوئے سیدھا نہر پر جا نکلے- یہاں کچّی اینٹوں اور مٹّی سے بنا ایک سادہ سا دھابہ تھا جس کے اوپر سرکنڈے کا چھپر بنا ہوا تھا-
نہر کنارے لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے بنج لگے ہوئے تھے ، ہم وہاں جا بیٹھے-
چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے سلطان نے کہا:
“رخسانہ میرے چچا کی بیٹی ہے سائیں جی- میں آٹھویں جماعت میں تھا کہ اس سے محبّت کرنے لگا- وہ بھی مجھے پسند کرتی تھی- میں آئے روز کسی نہ کسی بہانے چاچا کے پِنڈ آتا رہتا کہ اسے دیکھ سکوں- ہماری محبّت کسی سے ڈھکّی چھپّی نہ تھی- ہم دونوں کے خاندان اس رشتے پر مکمّل راضی تھے-
بدقسمتی تب شروع ہوئ جب رخسانہ کی خالہ مجھ سے پہلے اپنے بیٹے ھاشم کا رشتہ لیکر چاچے رمضان کے بوُہے پہ پہنچ گئ- انہوں نے کوئ جواب نہ دیا- میں نے صورت حال دیکھ کر اپنی ماں سے کہا جلدی کر امّاں- شکرے منڈلانے لگے ہیں- یہ نہ ہو کہ رشتہ لے اڑیں- امّاں تو پہلے ہی راضی تھی- جس روز اماّں اور بہنیں مٹھائ کے ٹوکرے لے کر رخسانہ کے گھر گئے میں بہت خوش تھا- پھر اچانک میری خوشیوں کو جیسے آگ لگ گئ- گلی میں کھیلنے والا ایک چھوٹا سا بچّہ ہمارے گھر آیا اور مجھے ایک رقعہ دے گیا- اسے یہ رقعہ گلی سے گزرنے والے کسی شخص نے دیا تھا- میں نے فوراً کھول کے پڑھا اس میں لکھا تھا:
“سُنا ہے آج تمہاری منگنی ہے- ہمّت ہے تو کر کے دکھا دو …!!
فقط تمہارا بدخواہ “
میں اس پیغام کو بالکل نہ سمجھ سکا اور اسے کسی یار بیلی کا مذاق سمجھ کر ہنس کے پھاڑ دیا- مجھے اپنی محبّت پہ سو فیصد یقین تھا- رخسانہ اور میں نے ساتھ مرنے جینے کی قسمیں کھا رکھّی تھیں-
شام کو جب گھر والے واپس آئے تو سخت پریشان تھے- میں نے پوچھا خیر تو ہے ؟ کہنے لگے خیر نہیں ہے- رشتے سے صاف انکار ہو گیا ہے اور انکار رخسانہ نے کیا ہے- ہماری اچھی خاصی سبکی ہوئ ہے- اب ھم قیامت تک اس دروازے پہ کبھی نہ جائیں گے-
میرے ہوش اڑ گئے- کچھ سمجھ نئیں آ رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے- رخسانہ نے آخر ایسا کیوں کِیا ؟ پوچھنے کی بھی ہمّت نہ تھی کہ ان لوگوں کا موڈ سخت برھم تھا- پھر اچانک مجھے اس رقعے کا خیال آیا- آخر کون ہے یہ شخص اور میری بربادی کے پیچھے کیوں پڑا ہے ؟ اس رشتے میں روڑے کیوں اٹکا رہا ہے؟ میں جتنا سوچتا اتنی ہی گُتّھی الجھتی جاتی- رات تڑپتے پھڑکتے گزر گئی- اگلے روز صبح سویرے میں چاچا کے پنڈ نوری سہاگ جا پہنچا-
دروازہ چاچی نے کھولا-
کہنے لگی اندر آنے کا کوئ فائدہ نئیں- رخسانہ نے انکار کر دیا ہے اب کیاچاھتے ہو ؟ میں چاچی کو دھکیلتا ہوا سیدھا اندر گیا- رخسانہ برامدے میں کھڑی تھی- میں نے اسے جا پکڑا اور اسکے شانے جھنجھوڑ کے کہا ” تُم نے کیا کِیا رخسانہ ؟ کیا تمہیں مجھ سے محبّت نئیں ؟”
وہ بولی ” کیا کہ رہے ہو ؟ مجھے تم سے کبھی محبّت تھی ہی نہیں- ہاں نفرت ضرور ہے- دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ شور کر کے محلّہ اکٹھا کر لونگی”
میں حیران پریشان اسے دیکھتا ہی رہ گیا- کچھ سمجھ نئیں آ رہا تھا کہ کیا کروں- پاؤں پٹختا ہوا وہاں سے نکلا اور واپس گھر آگیا- دروازہ کھولنے لگا تو چوکاٹھ کی درز میں ایک اور رقعہ پھنسا ہوا تھا- میں نے جلدی جلدی کھول کے پڑھا لکھا تھا:
“اب ٹکریں مارنے کا کوئ فائدہ نہیں- رخسانہ کو بھول جاؤ اب وہ تمہیں کبھی نہیں مل سکتی”
میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا کہ آخر یہ شخص ہے کون اور چاھتا کیا ہے؟ کہیں ہاشم تو نہیں؟ لیکن وہ اس طرح کیوں کر رہا ہے؟ کھُل کے سامنے کیوں نہیں آتا؟
اگلے روز میں ھاشم سے ملنے پُل باگڑ جا پہنچا-
ھاشم بڑے تپاک سے ملا- میں نے اسے پوری کہانی سنائ اور کہا ھاشم بھائ- پیچھے سے وار مت کرو- آخر تم چاھتے کیا ہو ؟
وہ بولا خدا کی قسم بھائ میرا اس قصّے میں کوئ کردار نہیں- نہ ہی رخسانہ سے مجھے کوئ لگاؤ ہے- میری ماں خود ہی رشتہ لے کر گئ تھی- انکار ہوا تو بیٹھ گئ- نہ تو میں نے اپنی خوشی سے اماں کو بھیجا تھا نہ ہی انکار سے کوئ پریشانی ہوئ ہے-
میں نے اپنی ٹوہ جاری رکھّی- کئ روز کی بھاگ دوڑ کے بعد اتنا معلوم ہو سکا کہ رخسانہ اپنے پنڈ کی ایک عورت شاھینہ بی بی کے ہاں سلائ سیکھنے جاتی ہے- شاھینہ کا مزار پہ بہت آنا جانا ہے- وہ شاہ جی سے تویت دھاگہ بھی لیتی ہے- اسی نے رخسانہ کو تویت پلائے ہیں یا کوئ جِن بھوت چڑھوایا ہے-
شاھینہ سے ملنا بیکار تھا- میں سیدھا مزار پہ گیا اور شاہ جی سے مِلا- بیس روپے نزرانہ چڑھایا اور مسئلہ ان کے سامنے رکھّا-
انہوں نے ماش کی ثابت دال کو دھواں دکھایا اور جنتر منتر پڑھنے کے بعد کہا:
” لڑکی پہ جِنّ ہے- نام اس کا پرکاش ہے- یہ جِن کس نے چڑھایا رب جانتا ہے- اتارنا ہے تو بات کرو- پندرہ ہزار لگیں گے- سمجھا کہ نہیں؟”
میں نے مالٹوں کا باغ اونے پونے داموں بیچا- شاہ جی کو پندرہ ہزار دیا- اسی شام جِن اتر گیا اور رخسانہ کی ماں ہمارے گھر بھاگی چلی آئ- گزشتہ رویّے کی معافی مانگی اور منگنی کےلئے ہاں کر دی- ھم لوگ ایک پھر مٹھائیوں کے ٹوکرے لیکر پہنچے- سُوٹ کپڑے دئے ، انگوٹھی پہنائ ،منگنی ہو گئ- شادی کےلئے دو ماہ بعد کی تاریخ مقرّر ہو گئ-
ابھی دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ جِن پھِر آ گیا- سب کپڑا لتّھا جو دیا تھا ، اسے آگ لگا دی- انگوٹھی کو تندور میں پھینکا- میں بھاگتا ہوا شاہ جی کے پاس گیا اور جِن کی شکایت کی- انہوں نے ایک بار پھر ثابت ماش ابالی اور تنتر منتر پڑھ کر بولے:
“رولا ہو گیا بھائ … وہی پرکاش ہے … اب کی بار کسی نے 20 ہزار دیکر چڑھایا ہے- اتارنے کے پچاس ہونگے اور جلا کر راکھ کرنے کا ایک لاکھ- سمجھا کہ نئیں ..؟”
باغ تو پہلے ہی بک چُکا تھا ، لے دے کے ٹریکٹر ہی بچا تھا- میں اس کا سودا کرنے لگا تو ابّا جی درمیان میں آ گئے- بولے نہ کر پُتّر ہم سہُو ، سرگانڑوں ، جٹّوں ، ارائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں … جنّات کا نہیں … نہ یہ بندوق سے ڈرتے ہیں نہ پولیس سے- چنگے سے چنگا وکیل بھی ان کا مندا نئیں کر سکتا- بھول جا رخسانہ کو- خود بھی اجڑو گے اور ہمیں بھی اجاڑو گے-
بس سائیں جی وہ دن اور آج کا دن ، میں رخسانہ کےلئے بس تڑپ ہی رہا ہوں – اب اس پہ ہر مہینے جِن آتا ہے- دورے پڑتے ہیں- بے ہوش ہو جاتی ہے- مزار پہ لاتے ہیں تو جِن اتر جاتا ہے- گھر جاتے ہیں تو فیر چڑھ جاتا ہے- کل ہی چاچا رمضان نے آپ کے بارے میں بتایا کہ بڑے پہنچے ہوئے فقیر آئے ہیں- رخسانہ کو جب سے دم کیا ہے بھلی چنگی ہو گئ ہے- ہر وقت آپ کی مالا جپتی ہے- آپ کی دم کی ہوئ گھڑی بڑی سنبھال کے رکھتی ہے- فقیروں کا رب داتا ہے- پورا جگ تمہارے آسن کے نیچے ہے- اللہ والیو … اب جِن اتار دیا ہے تو اس کا دِل بھی سیدھا کر دو … وہ منگنی کےلئے ہاں کر دے … 15 سال سے تڑپ رہا ہوں- شاید ہماری بھی کشتی کنارے لگ جائے-
چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی اور میرا جسم بھی- میں نے کہا:
“جِن کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں سلطان … نہ محبّت میں دھوکے کا ڈر نہ محبوب کی بے وفائ کا اندیشہ … جسے چاھتے ہیں چمٹ جاتے ہیں … اسے اپنا اسیر کر لیتے ہیں … ایک ہم بدنصیب ہیں … محبّت کرتے ہیں … دل و جان لٹاتے ہیں … محبوب کےلئے اپنا سکون غارت کرتے ہیں … اور نتیجہ …؟؟ صفر بٹا صفر …. بہرحال تو فکر نہ کر … میں رب سائیں کو لکھ دُوں گا چٹّھی …. ہو جائے گا تیرا کام ….. !!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: