Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 17

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 17

–**–**–

اپریل کی دھوپ جی کو جلانے لگی تھی- میں مزار سے متصل ایک دیوار کے سائے میں اداس بیٹھا تھا- اس روز جمعرات تھی اور مزار پہ زائرین کا ہجوم- کوئ زائر چاولوں کی ایک تھیلی میرے پاس چھوڑ گیا تھا جسے چکھنے کی بھی نوبت نہ آ سکی- بھوُک تو گویا مجھ سے روٹھ ہی چُکی تھی-
میں نے رب سائیں کے نام کئ چٹھیاں لکھیں اور لکھ کے پھاڑ دیں- کئ حاجات لب پہ آتے آتے دم توڑ گئیں- کوئ بھی حرف ، حرفِ دُعا نہ بن سکا- میری ہر دُعا میری اپنی خواہشات سے ٹکرا رہی تھی یا کسی اور کی قضاء بن رہی تھی- کیا کہتا ؟ کیا مانگتا ؟ اس کی بارگاہ میں خواہشات سے بھرا دامن پیش کرتا یا امید سے بھرا دل لئے چپ چاپ بیٹھا رہتا ؟
ایک سایہ میرا اوپر آن کھڑا ہوا- نہ تو مجھے کسی کا انتظار تھا نہ ہی مجھے کوئ ملنے کو بے تاب ہوا پھرتا تھا – میں آنے والے سے بے نیاز اپنے ہاتھوں کی لکیروںمیں کھویا رہا-
” صلّو ؟ یہ تُو ہے صلّو؟ … توُ یہاں کیا کر رہا ہے … ؟”
میں نے نظر آٹھا کر مخاطب کو دیکھا- کچھ دیر اس کے حیرت زدہ چہرے کو پہچانتا رہا- پھر نرمی سے کہا ” کون صلّو ؟؟”
” او یار کیا ہو گیا تُجھے؟ میں چوھدری صادق ہوں یار- صادق سیکلوں والا- بھول گیا توُ ..؟”
میں نے بے زاری سے کہا ” صادق ؟ کون صادق؟ میں کسی صادق کو نئیں جانتا”
” او یار توُ تو سچ مچ ملنگ بن گیا” وہ میرے سامنے اکڑوں بیٹھتے ہوئے بولا- “قسمے وئ بڑی مشکل سے ڈھونڈا تجھے- تیرا تو انجر پنجر ہی ڈھِیلا ہو گیا یار ؟”
میں نے کسی بیمار کی طرح اسے دیکھا اور کہا ” تُجھے بھُلیکھا ہوا ہے وِیر- میں وہ نئیں جو توُ سمجھا ہے- جا چلا جا … بابے کی تُربت اُس طرف ہے- نذر نیاز چڑھا اور جا … “
” بلّے وئ …” وہ ڈھٹائ سے میرے قریب دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھتے ہوئے بولا “ہم سجّن تھے یار … بیلی تھے … تیرے کام نہ آ سکے تو کیا ہوا … تیرے ساتھ تو چلے تھے ناں کچھ دن .. اب خُدا سے لین سیٹ ہو گئ تو ہمیں بھول گیا ہے …؟”
میں نے ایک پھیکی مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور کہا:
“میری کسی سے لائین سیٹ نئیں ہے وِیر- نہ خدا سے ، نہ اس کے بندوں سے- بے شمار ملنگ اُدھر پھرتے ہیں- سب کی لائنیں سیٹ ہیں- ان کے پاس جا- میرے پاس کچھ نہیں ہے … میں بس اس کا بندہ ہوں …”
” او یار وہ تو ٹھیک پر خدا کے بندوں کو تو ماف کر دے … عرش تک آہ گئ ہے تیری … پھٹّے چُک دئے تُو نے تو مولبی کے …!!”
“کیا ہوا ہے … ؟؟”
“اور یار ہونا کیا ہے ؟ .. وہ اپنے پِنڈ والا مولبی شبیر شاہ ہے ناں … اس کو تیری آہ لگ گئ ہے یار … چھ مہینوں سے منجی پہ پڑا ہے … سُک سُک کے تِیلا ہو گیا وچارہ …. جب سے عالیہ کو ویاہ کے لایا ہے سُکھ کا ساہ نئیں لیا اس نے … تو ان دونوں کو ماف کردے یار … خُدا کےلئے ماف کر دے … !!!”
میں اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور کہا :
“معاف کر دیا میں نے … سب کو ماف کر دیا … اب تو بھی مُجھے معاف کر …. جا کسی اور کو جا کے یہ کہانیاں سُنا … جان چھڈ میری ….”
اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور اُٹھ کھڑا ہوا-اس کی آنکھوں میں نمّی تھی اور وہ پہلے سے بہت بدلا ہوا دکھائ دیتا تھا- کچھ دیر مجھے لجاجت سے دیکھنے کے بعد وہ دونوں ہاتھ جوڑ کے بولا:
” ماف کرو سائیں … ناراض نہ ہو .. ہنسی خوشی وداع کرو … میں غریب بندہ ہوں … بس میری غلطیاں ماف کر دیناں .. اچھا چلتا ہوں … رب راکھا “
وہ عقیدت سے الٹے پاؤں واپس ہوا اور چل دیا- میں خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ لوگوں کی بھیڑ میں گُم ہو گیا-
شب کو قوالی تھی اور میں شورو ہنگامے سے دور ایک خالی تھڑے پر دل کے چراغ جلائے بیٹھا تھا- جانی مجھے ڈھونڈتا ہوا ادھر آنکلا
” سائیں … توُ ادھر بیٹھا ہے … بڑی مست قوالی چل رہی ہے یار … آج تو خلیفہ پیر سجاد شاہ صاحب بھی بیٹھے ہیں … بڑا ماحول ہے یار …. آج ناچے گا نہیں …؟”
میں نے کہا ” جتنا ناچنا تھا ناچ چُکا جانی ، اب صرف تڑپنا رہ گیا ہے … تڑپ رہا ہوں”
وہ میرے پاس بیٹھ کے کچھ دیر سوچتا رہا پھر میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا:
” کیوں تڑپتے ہو سائیں ؟ یاد آ رہی ہے کسی کی ؟ “
میں نے کہا ” نہیں … !!”
” کب جا رہو اسے چھاپ پہنانے ؟”
میں نے کہا:
“دِل کو ہر غیر کی چھاپ سے خالی کر رہا ہوں جانی- رب سائیں کی جگہ بنا رہا ہوں- آج کی رات بڑی بھاری ہے مُجھ پہ “
“کیوں ؟ … کیا ہوا ؟”
” بس یار …. بہت کچھ مانگنا ہے مالک سے … وہ سب کُچھ … جس کےلئے دل راضی نہیں ہے”
” کیا مانگ رہے ہو؟ ہمیں بھی تو بتاؤ …؟”
” کچھ خاص نہیں یار … بس یہ کہ آٹھ ماہ پہلے جو شخص میری بیوی ہتھیا کے لے گیا تھا … رب سائیں اسے اچھا کر دے … سنا ہے بیمار ہے وہ …. !!”
جانی حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا:
“تمہاری بیوی بھی ہے سائیں ؟
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا :
“ہے نہیں … تھی … طلاق دے بیٹھا تھا غریب کو … غلطی سے … سخت پچھتاوہ ہوا … ادھر ادھر بھاگا … مولبیوں کے پاس … کبھی مُلاّں پور … کبھی کوٹاں والا .. سلفیوں نے فتوی دیا کہ بسا لو … ایک طلاق واقع ہوئ ہے …میرے پِنڈ کا مولبی اکڑ گیا کہ چھوڑ دو … حرام ہو گئ تیرے واسطے … میں سسرال کے پنڈ جا بیٹھا … وہاں مولوی شبیر شاہ پیچھے پڑ گیا … بولا چھوڑ دے … حرام ہو چکی … پھر اس کے باپ کو درغلایا … اور اپنے لئے حلال کر لی … مجھے پنڈ سے بے دخل کرا دیا … میں نے بددعا دی تھی اسے کہ تو بستر پہ تڑپ تڑپ کے مرے گا … وہ قبول ہو گئ یار … دیکھ مولا سائیں کے رنگ … اب پھر اسے چٹّھی لکھوں گا کہ مولا سائیں اسے اچھا کر دے … دوسری دعا رُخسانہ کےلئے کرنی ہے … کبھی ہم اسے اپنے لئے مانگ رہے تھے اب سلطان کےلئے مانگیں گے ….. وہی سچّا پیار کرتا ہے اس سے … ہمارے لئے تو وہ محض ایک دیوانے کا خواب تھی … سراب تھی …. دل سے نکال باہر کریں گے آج اسے …. !!”
وہ میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولا:
“تجھے کسی کو دل سے نکالنے کی ضرورت نئیں سائیں- آج کے بعد تیری ہر چاھت پوری ہو گی”
میں نے چونک کر اسے دیکھا اور کہا “وہ کیسے ؟”
وہ میرے قریب ہوتے ہوئے کان میں بولا ” ایک راز کی خبر دیتا ہوں سائیں- کسی سے ذکر نہ کرنا- بس یوں سمجھ کہ کام بن گیا تیرا ..”
میں نے کہا ” کیسی خبر ؟”
وہ جیب سے پنج سوُرہ نکالتے ہوئے بولا ” پہلے قران پہ وعدہ کر- کسی سے اس بارے بات نئیں کرے گا”
” لے رکھ دیا ہاتھ … بات کیا ہے ؟” میں نے بے تابی سے پوچھا-
” مُجھے اذن مِل گیا ہے سائیں- شاہ جی نے نوری علم سیکھنے کا اذن دے دیا ہے- ہم جا رہے ہیں منگل کو …. راوی کے اُس پار .. ایک ویران کُھوہ پر … شاہ جی کہ رہے تھے کہ کالے کھوہ پہ چالیس روز کا عمل ہو گا”
” کالا کھوُہ ؟ کون سا عمل ؟”
“جنّات مسخّر کرنے کا عمل … بس ایک بار مجھے نوری علم سیکھ لینے دے … پھر وہ سب کچھ ہو گا جو تُو چاہے گا …. نوری علم سیکھ کر ہم رخسانہ کے جِنّ کو مسخّر کر لیں گے … پھر جِن ہو گا میرے ہاتھ میں اور رُخسانہ کا ہاتھ … تیرے ہاتھ میں … !! “
” توُ بوہت غلط کر رہا ہے جانی” میں نے اُٹھتے ہوئے کہا ” تُو شاہ جی کو نہیں جانتا … اسی نے جِن مسلّط کیا ہے رخسانہ پر … اور اس جِن کو بھگایا ہے میں نے … سائیں صلّو نے …. رب کے پاک کلام سے … رُخسانہ جِن سے آزاد ہو چکی جانی … میں مانگوں گا اسے …. رب سائیں سے سلطان کےلئے … !!”
” بھوُل ہے تمہاری سائیں… ” جانی بھی اٹھ کھڑا ہوا- ” تمہیں شاید ساری کہانی کا عِلم نہیں … رخسانہ کا ایک اور عاشق بھی ہے … ھاشم … ھاشم کی ماں نے ہی جن چڑھوایا تھا اس پہ … اپنے کنگن شاہ جی کے پاس گروی رکھوا کے … وہ کبھی ہار نہیں مانے گی … نوری عِلم کے بغیر یہ جِن کبھی نہیں اترے گا … “
“غلط کہ رہے ہو جانی- انسان جِنّات سے زیادہ طاقتور ہے”
” انسان سانپ سے بھی زیادہ طاقتور ہے سائیں … مگر وہی سانپ اسے ڈس کے مار دیتا ہے- انسان نے ساری آفتوں پہ علم و ہُنر کے ذریعے ہی قابو پایا ہے ، اور جنّات پہ قابو پانے کےلئے نوری علم سیکھنا ضروری ہے … تو بے فکر ہو جا … بس ایک بار مُجھے یہ عِلم سیکھ لینے دے … پھر دیکھ ہم کیا تماشا کرتے ہیں …”
“تماشہ ؟؟ ” میں نے تلخی سے کہا- “وہی تماشا جو شاہ جی نے لگا رکھّا ہے؟ … پیسے لے کے جنّات چڑھانا …. مزید پیسے لے کے اتار دینا ؟ … خدا کی مخلوق کو تنگ کرے گا تو ؟ اللہ کے بندوں کو ایسے کام زیب نہیں دیتے جانی … یہ جادو ، ٹونہ ، سحر ، فریب … سب شیطانی ہتھکنڈے ہیں … خدا کےلئے اس گندے تالاب میں مت اُتر جانی … پچھتائے گا … !!!”
وہ میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا:
“اللہ کے بندے ہی گندگی دور کرتے ہیں سائیں … جب تک اس تالاب میں اتریں گے نہیں انسانوں کو آزاد کیسے کرائیں گے … بڑے بڑے مولوی ، عالم فاضل عاجز ہو جاتے ہیں جنّات کے ہاتھوں … کیوں؟ اس لئے کہ وہ نوری علم نہیں جانتے … ہم علم کا مثبت استعمال کریں گے … لوگوں کو جِنّات سے چھٹکارہ دلائیں گے … تو میرےلئے دُعا کرنا یار … چل اب مسجد چل … عشاء کا وقت ہو رہا ہے”
میں خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا- جانی سے بحث فضول تھی- وہ ذھن بنا چکا تھا- مجھے صرف اس کی کامیابی کےلئے دعا کرنی تھی-
تیسرے روز جانی اور فاضل شاہ روُحانی چِلّے کےلئے کالا کھوہ چلے گئے- میں نے نفس کشی کےلئے تین روزے رکھّے اور خواہشات کا دامن جھاڑ کے رب سائیں سے لو لگا کے بیٹھ گیا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: