Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 18

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 18

–**–**–

جانی کا جانا میرے لئے مستقل دردِ سر بن گیا- مسجد کے بے شمار کام میرے ذمّہ ہو گئے- صفائ ستھرائ ، پانی ، بجلی ، اذان ، اقامت سب کچھ وہی کرتا چلا آیا تھا- خاص موقعوں پہ محافل بھی وہی منعقد کراتا تھا- میں صرف امامت کراتا تھا- اب یہ سب کچھ میرے سر آن پڑا- یوں میری صبح شام بھاگتے گزرنے لگی-
فجر کے بعد اشراق تک حفظ کی تیّاری ، اس کے بعد مسجد کی صفائ ، دوپہر کو ٹینکیوں میں پانی بھرنا ، سہ پہر لنگر کی تقسیم ، ظہر کے بعد گھنٹہ بھر آرام اور پھر حفظ کا دور- شام کو پھر لنگر کی تقسیم- عشاء کے بعد میں تھک ہار کے مسجد کی صف پہ آن گرتا-
بالاخر ایک روز میں سورة بقرہ حفظ کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا- یہ میرے روحانی سفر کی پہلی کامیابی تھی- میں روحانی طور پر خود کو بہت طاقتور محسوس کرنے لگا- میں پراعتماد تھا کہ اگر اس بار چھلاوہ سامنے آ گیا تو اسے سانڈ کی طرح بھگانے کی باری میری ہو گی-
ایک روز لنگر کی تقسیم کے دوران کچھ ایسے زائرین سے ملاقات ہو گئ جو سرائیکی بولتے تھے- یہ ڈیرہ غازی خان سے آئے تھے اور بڑے خلوص والے لوگ تھے- میں چاولوں کا تھال لیکر وہیں ان کے پاس جا بیٹھا-
ان کا ایک ساتھی بیمار تھا- یہ اسی کو لے کر یہاں آئے تھے- وہ فرش پہ چادر تانے ہائے ہائے کر رہا تھا- میں نے پُوچھا اسے کیا ہوا ہے؟ ان میں سے ایک زائر جو کافی بزرگ معلوم ہوتا تھا کہنے لگا یہ میرا بیٹا ہے سائیں- اس کے سر میں ہر وقت درد رہتا ہے-
مجھے بڑا دُکھ ہوا- اس روز سے اس مریض کا درد گویا میرا دردِ سر بن گیا- میں روز اس کا سر دباتا ، مُٹھّی بھرتا اور رب تعالی سے اس کی صحت کی دعا کرتا- وہ لوگ ہفتہ بھر مزار پہ معتکف رہے-
ایک روز میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس بیمار شخص کو فاتحہ پڑھ کے دم کر رہا ہوں- اس کی کنپٹیوں کو انگلیوں سے دباتا ہوں تو اس کے کانوں سے پیپ نکلتی ہے-
اگلے روز لنگر بانٹنے لگا تو وہ زائرین نظر نہ آئے- مجھے خیال ہوا کہ شاید چلے گئے ہیں- پھر رات والا خواب یاد آ گیا- میں نے شادے ملنگ سے ان کی بابت دریافت کیا تو وہ بولا:
” سامنے مسافر خانے میں ٹھہرے تھے- شاید چلے گئے ہوں- جا کر معلوم کر لو”
مسافر خانے پہنچا تو وہ لوگ سامان باندھ رہے تھے- اس بزرگ سے ملاقات ہو گئ- میں نے بیمار کا حال دریافت تو کہنے لگا رات بڑی مشکل گزری ہے سائیں- پیر سجاد شاہ کا دم کیا ہوا نمک سات روز تک چکھایا ہے ، مزار کی خاک بھی چٹوائ ہے ، مگر آرام نہیں آیا- ہم لوگ تو بڑی آس لیکر آئے تھے- نامراد واپس جا رہے ہیں-
میں نے کہا ایک لمحے کو ٹھہرو- مجھے رات کو رب سائیں کی ایک چٹّھی آئ ہے- اس نے ایک دم لکھ بھیجا ہے- اگر اجازت ہو تو میں وہ دم کروں؟ امید ہے شفاء ہو جائے گی- وہ کچھ دیر بے یقینی سے مجھے دیکھتا رہا پھر میرا ہاتھ پکڑ کے مریض کے پاس لے گیا- اس کی حالت بہت خراب تھی اور وہ سر پہ کئ کپڑے لپیٹے ہائے ہائے کر رہا تھا-
میں نے کہا: “اس کے سر سے کپڑے اتار دو- رب نے چاہا تو یہ ضرور ٹھیک ہو جائے گا”
پھر بسم اللہ پڑھ کے اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور جس طرح خواب میں دیکھا تھا ، سورة فاتحہ پڑھتے ہوئے اس کی کنپٹیاں ملنے لگا-
ابھی تیسرا ہی دور فاتحہ کا ہوا تھا کہ مریض نے آنکھیں کھول دیں کہنے لگا ” مولا سائیں کا واسطہ اسی طراں دم کرتے رہو .. مجھے سکون آ رہا ہے ….”
میں اسے مسلسل دم کرتا رہا یہاں تک کہ اس کی ہائے ہائے بند ہو گئ اور وہ پرسکون نیند سو گیا- میں نے اس کے والد سے کہا اسے سونے دو- جب تک خود نہ جاگے مت جگانا- جب جاگ جائے تو اسے لے کر خاموشی سے گھر چلے جانا- یہاں مزار پہ اس بات کا تذکرہ بالکل نہ کرنا-
دم کر کے میں مسجد چلا آیا اور نوافل پڑھ کر اس مریض کی صحت یابی کےلئے دُعا کرنے لگا- مجھے امید تھی کہ مولا سائیں اسے ضرور شفاء دے گا-
اس کے بعد میری ان لوگوں سے ملاقات نہ ہو سکی- شاید وہ چلے گئے تھے-
اس بات کو تین ہفتے گزر گئے- ایک روز عصر کے وقت مسجد کی ٹینکی میں پانی بھر رہا تھا کہ شادا ملنگ بھاگتا ہوا اندر آیا اور ہانپتا ہوا بولا ” تیرےمُرید آئے ہیں سائیں … پورے مزار پہ دھُم پڑ گئ ہے تیری …. !!”
میں نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا:
“میرے مُرید؟ کہاں سے …؟؟”
وہ بولا ” سائیں آپ تو بڑے پہنچے ہوئے نکلے ….. ہمیں تو خبر ہی نہ تھی- نواب رئیس آئے ہیں ڈیرہ غازی خان سے …!!”
میں نے کہا ” میں تو کسی نواب کو نہیں جانتا … “
“وہ بھی نئیں جانتے تھے … تیرا نام بھی مالوم نہ تھا … پر جو حلیہ بتاتے ہیں .. وہ تیرا ہی ہے … مزار پہ سب سے پتلا اور کمزور ملنگ کون ہے … تیرے سوا ….؟؟ “
اسی دوران ملنگوں اور زائرین کا ایک جمِّ غفیر مسجد کے صحن میں چلا آیا- سب بڑے اشتیاق سے مجھے دیکھنے لگے- ساتھ ہی وہ بزرگ بھی تھا جس کے بیٹے کو اس روز میں نے دم کیا تھا- وہ جوتے اتار کر سیدھا میری طرف آیا اور قدموں میں جھُک گیا-
میں نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا ” کیا ہوا ہے؟ کیسا ہے تمہارا بیٹا ؟”
کہنے لگا ” آپ کی نظر کرم سے بالکل ٹھیک ہو گیا سائیں- سارے ٹیسٹ ٹھیک آئے ہیں- مسجد سے باہر کھڑا ہے ، اجازت ہو تو پاؤں چومنے کو اندر آئے؟”
میں نے کہا ” نظرِ کرم تو رب سائیں کی ہے ، بندہ صرف بہانہ ہے ، پاؤں چٹوانے کو یہاں بے شمار پھرتے ہیں- میں تو انسانوں کو گلے لگاتا ہوں … !!”
ایک ملنگ بھاگ کے باھر گیا اور اس نوجوان کو اندر لے آیا- وہ خوش باش بھلا چنگا تھا- میں نے اسے گلے لگایا اور دعا دی- وہ بزرگ بولا ” سالوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے- ڈاکٹر بتاتے تھے کہ سر میں رسولی ہے- آپریشن کرواتے تو بچنے کی امید نہ تھی- آپ نے تو جیسے آگ پہ پانی ڈال دیا- رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے ہو سائیں- آج سے نوکر ہوں آپ کا- بتائیے کیا خدمت کروں ….؟؟”
میں نے کہا ” شفاء دینے والی ذات رب تعالی کی ہے- میں نے آپ کا درد محسوس کیا اس نے رستہ سجھا دیا- مجھے کسی خدمت کی ضرورت نہیں- ہاں مسجد کی صفائ میں کچھ مدد کر سکتے ہیں تو کر دو …”
میرے بولنے کی دیر تھی کہ نواب کے ساتھ آئے ہوئے نوکر جھاڑو پہ ٹوٹ پڑے- ایک ہی جھاڑو تھی ، تنکا تنکا ہو کے رہ گئ- باقیوں نے کندھوں سے چادریں ، سروں سے پگڑیاں اتاریں اور صفائ میں جُت گئے- میں نواب کے ساتھ مسجد کے صحن میں جا بیٹھا-
اسی اثناء میں پیر سجاد علی شاہ صاحب جو مزار کے متوّلی اور گدّی نشین تھے مسجد میں تشریف لائے- اس سے پہلے وہ کبھی ادھر نہ آئے تھے- سب ملنگ زائر ان کے احترام میں باادب کھڑے ہو گئے- میں نے بھی اُٹھ کے ہاتھ ملایا-
وہ بولے:
“امام صاحب ذرا اندر تشریف لائیے گا ایک ضروری بات کرنی ہے”
میں نواب کو صحن میں چھوڑ کے پِیر صاحب کے ساتھ کمرہء مسجد میں چلا آیا- انہوں نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے گلے لگایا اور بولے:
“بڑا نصیبوں والا ہے تو … اتنا جلد فقیر بن گیا … دیکھ لے سائیں مستاں والے کا فیض …. !!”
میں نے کہا ” مہربانی ہے رب سائیں کی … فیض کے سب خزانوں کا وہی مالک ہے “
بولے: ” بڑا شکار مارا ہے تو نے … اس نواب کو خالی مت جانے دینا … پنج ہزار سالانہ سے کم نئیں مُکانا … !!”
میں نے کہا ” پانچ ہزار ؟ وہ کس لئے پِیر جی ؟؟”
کہنے لگے ” بہت بڑی اسامی ہے .. ایک ہی بیٹا ہے اس کا … .. بابا مستاں کی نذرِ کرم سے ٹھیک ہوا ہے … بابا کا حصّہ ضرور نکالنا “
میں نے کہا ” نہ تو اسے مستاں والا نے ٹھیک کیا ہے نہ میں نے … وہ اللہ کے فضل سے ٹھیک ہوا ہے- نہ تو مجھے روپوں کی کوئ حاجت ہے نہ اس فوت شدہ بزرگ کو … نواب اپنی خوشی سے کچھ صدقہ کرنا چاھے تو ٹھیک – میں تو ایک پائ نہ لوں گا”
وہ بگڑ کر بولے:
“کیا وابیوں جیسی بات کرتا ہے .. بے ادباں نہ سار ادب دی گئے ادباں تھیں وانجے ھُو …. جس نے فقیری عطا کی اس کی کوئ قدر نئیں …؟؟ جس کا فیض ہے اس کا کوئ حصّہ نئیں؟؟ … ادب سیکھ ادب ..!! “
میں حیرت سے پیر صاحب کا مونہہ دیکھنے لگا- وہ مُندریوں بھرا ہاتھ میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولے:
“نئ نئ فقیری کا نشّہ برا ہوتا ہے- ہوش میں رہ- کسی غلط فہمی میں نہ رہنا- پنج ہزار چاھئے … سالانہ … ایک پائ بھی کم ہوئ تو اینٹیں سریا سیمنٹ آج ہی منگوا کے تیرا مزار بنا دوں گا … زندہ پِیر کی نسبت فوت شُدّہ کی زیادہ قدر ہوتی ہے یہاں … !! “
خوف سے میرا گلہ خشک ہونے لگا- اس دوران کچھ زائر مسجد کے اندر چلے آئے- شاہ جی نے ان کے سامنے میرا کندھا تھپتھپایا اور ہنس کے گلے لگا لیا- اس کے بعد وہ میرا ہاتھ پکڑے مسکراتے ہوئے مسجد سے باھر آئے- ملنگوں نے جھٌک جھُک کر ہمارے گھُٹنے چھوئے- کسی کو میرا سُتا ہوا چہرہ نظر نہ آیا- ہر کوئ میری کرامت پہ صدقے واری جاتا تھا ، جبکہ میں اس وقت کو ملامت کرتا تھا جب اس مزار پہ بوریا نشین ہوا تھا-
نواب سے دس ہزار ہاتھ آئے- یہ اس دور کی بہت بڑی رقم تھی- اس سے گاؤں میں ایک گھر بنایا جا سکتا تھا- شادی کی جا سکتی تھی- دوکان بنائ جا سکتی تھی مگر میں نے کچھ نہ رکھا- سوائے پچاس روپے چندہ برائے مسجد کے- سب کا سب پِیر صاحب کو بھجوا دیا- بیک مُشت- مجھے اپنا مزار بنوانے کی کوئ جلدی نہ تھی-
جانی کو چِلّے پہ گئے ایک ماہ ہو چکا تھا- ایک روز مغرب کے بعد مسجد سے نکلا تو عامل فاضل شاہ نظر آ گئے- میں نے سلام کیا مگر وہ نظرانداز کرتے ہوئے اپنے حجرے کی طرف بڑھ گئے- ان کے پیچھے ان کا نوکر بخشو بھی تھا-
مجھے حیرت ہوئ کہ چِلّے میں ابھی کئ دن باقی ہیں اور شاہ جی واپس بھی آ گئے- جانی کیوں نہیں آیا؟ میں نے بخشو کو آواز دی اور پوچھا
“شاہ جی واپس آگئے؟”
“ہاں آ گئے … کیوں؟؟ “
میں جانی کے بارے میں پوچھنے ہی لگا تھا کہ پنج سورة پہ کیا ہوا وعدہ یاد آ گیا- اس راز کو دِل میں ہی رکھنا مناسب تھا-
میں نے کہا ” کچھ نئیں … ویسے ہی پوچھ رہا تھا”
مجھے خود ہی جانی کو تلاش کرنا تھا- اسے سنانے کو میرے پاس بہت سی خبریں تھیں اور اس سے بہت کچھ سننا بھی تھا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: