Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 19

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 19

–**–**–

میں نے جانی کی تلاش میں مزار کا چپّہ چپّہ چھان مارا- لنگر پہ تلاش کیا ، سرائے میں ڈھونڈا ، ملنگوں سے پوچھا ، فقیروں سے دریافت کیا مگر کوئ سُراغ نہ مِل سکا-
بالاخر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا- میں نے عامل فاضل شاہ جی سے ملنے کا ارادہ کیا اور ایک روز عصر کی نماز کے بعد سب کام دھندے چھوڑ کے ان کے حجرے کی طرف چلا آیا-
مزار کی پچھلی دیوار سے منسلک کمروں کی ایک چھوٹی سی قطار تھی- یہاں چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیاں بنی ہوئ تھیں- ان میں سے کچھ تو خالی تھیں جن پہ بھاری بھر کم تالے پڑے ہوئے تھے- دو کوٹھڑیوں میں مزار کا راشن ، دیگیں برتن اور تمبو قنات وغیرہ رکھے جاتے تھے- ایک کمرہ بخشوُ کے زیر استعمال تھا- یہ قطار آگے جا کر دائیں طرف مڑ جاتی تھی یہاں ایک بڑا کمرہ شاہ جی کے زیرِ قبضہ تھا- اس کے ساتھ ایک کھلا ورانڈہ بنا ہوا تھا جسے دیوان کہتے تھے- یہاں ان کے ملاقاتی اور سائلین وغیرہ آ کر بیٹھتے تھے-
میں دیوان کے پاس جا کھڑا ہوا- اس روز منگل تھا اور ورانڈہ عورتیں مردوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا- بخشو سائلین کو باری باری اندر حجرے میں بھیج رہا تھا- شاہ جی ایک ایک سائل سے ملاقات کر کے تعویز دھاگے پکڑا رہے تھے-
میں کچھ دیر وہاں کھڑا یہ سوچتا رہا کہ بات کروں یا نہ کروں- جانی کی فکر بھی تھی اور رازداری کے اس وعدے کا بھی پاس تھا جو قران پہ حلف اٹھا کے کیا گیا تھا-
بخشو کی نظر مجھ پہ پڑی تو بولا “امام صاب .. خیریت؟”
میں گڑبڑا گیا اور کہا:
“بس ویسے ہی آیا تھا … برکت کےلئے … !!”
وہ بولا “آج تو شاہ جی بہت مصروف ہیں … پھر کسی روز چکّر لگا لیجئے گا “
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور خاموشی سے واپس لوٹ آیا-
اسی طرح ایک اور ہفتہ بیت گیا اور جانی کی کوئ خیر خبر نہ مِل سکی-
کچھ روز بعد لنگرخانے میں بھنڈارہ بانٹ رہا تھا کہ بخشو بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور بولا ” سائیں جی آپ کو شاہ جی سرکار بُلا رہے ہیں … حُجرے میں .. جلدی آئیے … !! “
مجھے خوشگوار حیرت ہوئ اور دِل تیزی سے دھڑکا- ایک موہوم سی امید پیدا ہوئ کہ شاید جانی کا کوئ سراغ مل جائے- میں نے بھنڈارے کا تھال شادے کو پکڑایا اور بخشو کے پیچھے پیچھے چل پڑا-
شاہ جی کے حجرے کے سامنے پہنچ کر بخشو نے اچانک بریک لگائ اور میرے کان میں کہا :
” آپ تو نصیبوں والے ہیں جی … آج شاہ جی کسی سے نہیں مِل رہے … سائلین کو بھی واپس کر دیا ہے … آپ کی بڑی تعریف فرما رہے تھے … ذرا خیال سے جائیے گا … آگے جنّات ہیں …!!”
وہ چَلا گیا تو میں نے ڈرتے ڈرتے دستک دی- کچھ ہی دیر میں دروازہ چرچرا کر کھُلا اور شاہ جی نے سر باہر نکالا- مجھے دیکھ کر چہرے پہ خلافِ توقع مسکراہٹ ابھری البتہ ہونٹوں پہ ذِکرِ خفی جاری رہا- سر ہلا کے اندر آنے کا خفیف سا اشارہ کیا- پھر خاموشی سے میرا ہاتھ پکڑے اندر لے گئے-
حجرے میں روشنی بہت کم تھی- میں اندھوں کی طرح اندھیرے میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگا- ایک ایک قدم اٹھانا دوبھر ہو رہا تھا- ایک عجیب سی ناگوار بوُ اندر پھیلی ہوئ تھی-
ایک طرف سرخ دبیز قالین بچھا تھا جس پہ سرخ غلاف والے چار گاؤ تکئے دھرے تھے-
انہوں نے قالین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خفیف سی آواز میں فرمایا:
” بیٹھئے بیٹھئے … !!”
میں قالین پہ گاؤ تکیہ کا سہارا لیکر بیٹھ گیا- آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئیں تو ماحول کا جائزہ لینے لگا- بڑی ہی پراسرار جگہ تھی- شاہ جی آلتی پالتی مارے سر جھکائے ذکر فرما رہے تھے- ساتھ ہی لکڑی کی تپائ تھی جس پہ ایک عدد چراغ ، کسی پرندے کے پَر ، انسانی بالوں کی ایک گٹّھی اور کسی جانور کی ھڈّی پڑی تھی- ایک طرف بوسیدہ کتابوں اور کاپیوں کا ڈھیر لگا تھا- میری نظر قرانِ مجید کے کٹّے پھٹّے نسخوں پہ جم گئ جو عام کتابوں کے ساتھ بڑی لاپرواہی سے قالین پہ رکھّے ہوئے تھے-
اچانک شاہ جی نے کھانس کر مجھے متوجّہ کیا اور چہرے پہ ایک مسکراہٹ سجا کے بولے:
” آپ تو عید کا چاند ہو گئے امام صاحب ….. نظر ہی نہیں آتے آج کل ؟”
میں نے چونک کر کہا:
” جج … جی یہیں ہوتا ہوں … مسجد میں ہی …. آپ نے اس دن کے بعد … کبھی رونق ہی نہیں بخشی …!! “
انہوں نے کاپی پہ کچھ لکھتے ہوئے سر اٹھایا اور بڑی لگاوٹ سے بولے:
“بس جی .. کیا کریں؟ … خلقِ خدا کی خدمت میں وقت ہی کہاں ملتا ہے … جسے دیکھو کوئ نہ کوئ درد اٹھائے پھرتا ہے- دنیا دکھوں کا گھر ہے … کس کس کا غم دور کریں؟ .. بس جو ڈیوٹی مالک نے لگائ ہے ، نبھا رہے ہیں … ہاں جب وقت ہوتا ہے تو یہیں مُصلّہ بچھا کر اس سے دل کے تار جوڑ لیتے ہیں”
شاہ جی کی باتیں بڑی زاھدانہ اور صوُفیانہ تھیں مگر میری طبیعت نجانے کیوں سخت مکدّر ہونے لگی- دیوار پہ لٹکی اُلّو کی ایک حنوط شدہ لاش مجھے مسلسل گھور رہی تھی- ساتھ کسی جانور کی کھال کا تازہ ٹکڑا لٹکا تھا جو پورے کمرے میں تعفن پھیلا رہا تھا-
اچانک شاہ جی کی آواز آئ:
” تمہارا وہ دوست …جانی … بڑا نصیبوں والا نکلا … رب کی بڑی رحمت ہوئ اس پر … آج کل جنڈیالی بنگلہ گیا ہوا ہے … نوری علم سیکھنے …. میرے استاد سے … رب نے چاہا تو ایک دن ہیرا بن کے لوٹے گا … “
میں نے کچھ کہنا چاھا ، پھر کچھ سوچ کر چُپ ہو گیا- شاہ جی کچھ دیر میرے چہرے کے تاثرات پڑھتے رہے پِھر بولے:
” تم بھی بڑے کرماں والے ہو … نماز ، قران ، ذِکر ، عبادت … ہر کسی کو کہاں نصیب ہوتی ہے … بس ایک کمّی ہے … روحانّیت کی … وہ بھی پوری ہو سکتی ہے اگر نوُری علم سیکھ لو تو … کیا خیال ہے ؟”
میں نے کہا ” خیال تو نیک ہے … میں نے حفظِ قران کا ارادہ کر لیا ہے …. کوئ عالم میّسر ہوا تو ترجمہ تفسیر بھی سیکھ لوں گا … میرے نزدیک تو یہی نوری عِلم ہے … قران پاک سے بڑھ کر بھلا کیا نوُر ہو گا … اس میں ہر بلاء کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے …..!!! “
” بے شک … !! ” انہوں نے زور سے میری تائید کی” قران ہر مصیبت ، ہر تکلیف ، ہر بلا کا توڑ ہے … لیکن مقابلہ کیسے کرنا ہے .. توڑ کیسے کرنا ہے … یہ سکھاتا ہے نوُری علم … نوری علم بھی درحقیقت قرانی علم ہی ہے … جس طرح قران کی تفسیر سیکھنے کےلئے عالموں کے پاس جاتے ہیں … اسی طرح قران کے روحانی فوائد جاننے کےلئے روحانی عامل کی شاگردی ضروری ہے …. یہ بھی ایک طرح کی تفسیر ہی ہے … لیکن ذرا مختلف قسم کی … اِس کا تعلق روح سے ہے … اور ہر اس چیز سے جو ہمیں نظر نہیں آتی … “
یہ کہ کر اچانک وہ سیدھے ہوئے اور چونک کر چھت والے پنکھے کو دیکھنے لگے- میں نے بھی ان کی تقلید میں ادھر دیکھا- لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی غائب تھی اور کمرے میں حبس بڑھ رہی تھی-
اچانک وہ زور سے گرجے:
” اُتر نیچے … اِبلیس کا بچّہ … اُتر … جلا کے راکھ کر دوں گا مردوُد … کتنی بار سمجھایا ہے کہ مہمان بیٹھا ہو تو شرارتیں مت کیا کرو … !!”
شاہ جی شاید “واپڈا جِن” پہ غُصّہ اتار رہے تھے ، مجھے تو وہاں کچھ نظر نہ آیا- ذرا خاموش ہوئے تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور کہا:
“ظہر کا وقت ہو چلا ہے حضرت اجازت ہو تو میں چلوں ؟”
وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے- بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور بولے :
“میری باتوں پہ غور کرنا … اس میں تمہارا ہی بھلا ہے … لوگ سالوں ٹکریں مارتے ہیں اور میں اذن نہیں دیتا … مَن کالا ہو تو اذن کیسے دوں ؟ … تمہیں خود اذن دے رہا ہوں .. اس لئے کہ تُمارا من صاف ہے … تم ایک نیک سیرت اور صاف دل بندے ہو … روحانیت تمہارے درجات بڑھا دے گی … ابھی پتھّر ہو … نوری عِلم سیکھ کر پارس پتھّر ہو جاؤ گے … !!!”
میں کچھ دیر خاموش کھڑا رہا پھر بنا کچھ کہے باھر نکل آیا-
جانی کا چِلّہ پورا ہوگیا مگر وہ لوٹ کے نہ آیا- کہیں سے اس کی کوئ خیر خبر نہ مل سکی- اس کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنا فضول تھا اور انتظار کے سوا اب کوئ چارہ نہ تھا-
ایک شب بارش خوب برسی اور ہر طرف جل تھل ہو گیا- نالے ، پرنالے سب بہہ نکلے- گرمی کا زور ٹوٹا اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی- دیکھتے ہی دیکھتے موسم خوشگوار ہو گیا- مسلسل بوندا باندی کی وجہ سے بجلی کا آنا جانا لگا ہوا تھا- میں نے کمرہء مسجد کی دونوں کھڑکیاں کھولیں اور صف پہ چادر بچھا کے سو گیا-
نصف شب اچانک میری آنکھ کھُل گئ- بجلی ابھی تک گئ ہوئ تھی اور ہر سُو گھپ اندھیرا تھا- آنکھ کھلنے کی وجہ غیر مُتوقع شور تھا- یوں لگ رہا تھا جیسے بہت سے لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہوں یا کوئ بحث چل رہی ہو- ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کے قہقہے بھی گونج رہے تھے- مجھے لگا کہ آوازیں باہر مسجد کے صحن سے آ رہی ہیں- سخت حیرت ہوئ کہ آخر نصف شب یہاں کون محفل جما کے بیٹھ گیا ہے؟
میں کلمہ پڑھتے ہوئے اٹھ بیٹھا- پھر بڑی مشکل سے مسجد کا دروازہ تلاش کیا اور باھر صحن میں آ گیا- یہاں ہر سو اندھیرے اور خاموشی کا راج تھا- دور دور تک کوئ نظر نہ آیا- میں نے معاملہ خواب سمجھ کے جھٹک دیا اور صحن میں کھڑے ہو کر تازہ ہوا کا لُطف لینے لگا-
اس کے بعد میں واپس اندر چلا آیا اور احتیاطاً کمرہء مسجد کا دروازہ کھُلا چھوڑ دیا- اب یہاں بھی مکمّل سکوت تھا- میں نے چادر آٹھا کر اچھی طرح جھاڑی اور دروازے کے قریب بچھا کر لیٹ گیا- ابھی کلمہ شریف کا ورد ہی کر رہا تھا کہ اچانک کسی کی سسکیوں کی آواز سنائ دی-
یہ سسکیاں کسی جوان لڑکی کی تھیں- پھر یوں لگا جیسے کسی نے روتے ہوئے مُجھے پکارا ہو … “سائیں جی …!!”
پھر اسی آواز میں زور کا قہقہہ گونجا- آواز مسجد کے اندر سے ہی آئ تھی- میرا دِل پہلی بار خوف سے دھڑک اُٹھا-
میں نے ہمّت جمع کر کے آواز لگائ ” کون ہے ؟” اس کے بعد قہقہے تھم گئے اور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز آنے لگی- پھر اس آواز میں بے شمار گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں بھی شامل ہوتی گئیں گویا کوئ لشکر چلا آ رہا ہو- رفتہ رفتہ آوازیں بلند ہوتی گئیں اور مسجد کے درودیوار لرزنے لگے-
میں سمجھ گیا کہ جِنّات کا حملہ ہو چُکا ہے- کئ روز سے مجھے اسی شب کا انتظار تھا- میں خم ٹھونک کے مقابلے کےلئے اٹھ کھڑا ہوا- جنّات پر حضرتِ انسان کی برتری ثابت کرنے کےلئے میرے پاس یہی ایک موقع تھا- پہلا اور آخری موقع –
میں پورے عزم اور ارادے کے ساتھ اٹھا اور وضو کی نیّت سے باہر جانے لگا- مجھے یقین تھا کہ آج کی شب فتح و نصرت کا جھنڈا ان شاءاللہ میرے ہاتھ میں ہو گا-
اچانک ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا- کمرہء مسجد کا دروازہ زور سے بند ہوا تھا- میں نے بہتیرا زور لگایا مگر دروازہ نہ کھُل سکا- یوں لگ رہا تھا جیسے باہر سے بھی کوئ اندر کی طرف برابر زور لگا رہا ہو-
میں نے ہمّت نہ ہاری- آٹھ دس قدم پیچھے ہٹا- پھر دوڑتا ہوا آیا اور زور سے دروازے کو لات ماری- سال خوردہ دروازہ چوکاٹھ سمیت ٹوٹ کر دور جا پڑا- باہر کوئ نہ تھا-
میں بھاگ کر وضوخانے پہنچا- یہاں نالی میں بے شمار مینڈک ٹرٹرا رہے تھے- یا الہی یہ کہاں سے آ گئے؟ نل کھولنے کےلئے ٹوٹی پہ ہاتھ رکھّا تو وہاں پہلے ہی کسی کا ہاتھ رکھا ہوا تھا-
میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئ اور میں تڑپ کر دو قدم پیچھے ہٹا- وضو کا ارادہ ترک کیا اور بھاگ کر صحنِ مسجد میں چلا آیا- صحن کے عین وسط میں کوئ شخص سفید کفن جیسا لبادہ اوڑھے کھڑا تھا-
کون ہو ؟ کیا کررہے ہو؟ جیسے لایعنی سوالات کا وقت گزر چکا تھا- میں جنّات سے کسی قسم کے مذاکرات کا ارادہ نہ رکھتا تھا- بے ھنگم شور بڑھتا ہی جا رہا تھا- اچانک ہی نظر سوئے مزار اٹھ گئ- سامنے پیپل کے درخت کی طرف سے ہزاروں کا لشکر اس طرف چلا آتا تھا- بے شمار گھوڑے ، ہاتھی ، شیر ، چیتے اور کُتّے مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے- گھڑ سواروں کی برہنہ تلواریں اندھیرے میں چمک رہی تھیں-
ہمّت ہارنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا- میں نے صحنِ مسجد میں کھڑے ہو کر اذان بلند کر دی- اللہ اکبر … اللہ اکبر کی صدا سے فضاء گونج اٹھی-
لشکر مسجد میں داخل ہوتے ہی تتّر بتّر ہونے لگا- ہاتھی گھوڑے کاغذی کھلونوں کی طرح ادھر ادھر بکھرنے لگے- شوروغُل بدستور جاری رہا اور میں اس ہنگام میں مسلسل اذان دیتا رہا-
اذان ختم ہوئ تو سر پہ پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ محسوس ہوئ-
سیاہ رنگ کی ہزاروں چمگادڑیں میرے سر پہ جنگی جہازوں کی طرح چکّر لگانے لگیں- گویا جنّات اپنی ہوائ فوج بھی میدان میں اتار لائے تھے-
میں نے ٹھنڈے فرش پہ تیّمم کیا اور نوافل کی نیّت باندھ لی- پھر بلند آواز سے قراءت کے ساتھ الحمد شریف پڑھنی شروع کی- اس کے بعد سورہء بقرہ کی پرسوز تلاوت کرتے ہوئے ماحول کو پاک کرنے لگا-
آہستہ آہستہ چمگادڑوں کی پھڑپھڑاہٹ کم ہوتی گئ اور فضاء میں سکوت چھاتا گیا- ڈیڑھ رکوع تلاوت کر چکا تو رب تعالی کے حضور رکوع میں جھک گیا-
نماز کے بعد میں صحنِ مزار پہ نظر ڈالی- ہر طرف مکمل امن و امان تھا- میں اٹھ کھڑا ہوا اور صحنِ مزار کے چکّر لگانے لگا-میرا اعتماد آسمان کی بلندیوں کو چھوُ رہا تھا- مجھے فخر ہو رہا تھا کہ میں رب تعالی کی احسن ترین مخلوق ابنِ آدم ہوں ، جو دوسری تمام مخلوقات پر حاوی ہے-
میں نے صدا لگائ:
“کہاں چلے گئے ہو …؟ آؤ نہ سامنے ..؟ لے آؤ اپنی تمام فوج … میں انتظار کر رہا ہوں تمہارا … اور ہونگے جو تمہارے سامنے لیٹ جاتے ہونگے … تم سے خوف کھاتے ہونگے … وہ اپنی حقیقت نہیں جانتے … میں جانتا ہوں … ابن آدم ہوں میں … جسے سجدہ کیا تھا تمام مخلوقات نے … الا ابلیس … تم اسی ابلیس کی اولاد ہو جسے قیامت تک کےلئے دھتکار دیا گیا … میں اسی آدم کی اولاد ہوں جسے اپنا خلیفہ بنایا رب تعالی نے …. تُم آج بھی اپنے تکبّر کے ساتھ اکیلے بھٹک رہے ہو … میں آج بھی اپنی عاجزی کے ساتھ اسی کے دربار میں کھڑا ہوں … تُم اس کے پجاری ہو جو راندہء درگاہ ہے … میں اس کا خلیفہ ہوں جو پورے جہان کا رب ہے … میں اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا … تٌم اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہو … اعوذ باللہ کے دو حرفوں سے ڈرتے ہو … اذان سے ڈرتے ہو … قران سے ڈرتے ہو … اور ان شاءاللہ قیامت تک ڈرتے رہو گے … !!”
میری صدا کا کوئ جواب نہ آیا- فبہت الّذی کفر- اس کے بعد میں نے بڑے آرام سے مسجد کا دروازہ کھولا اور اندر چلا آیا- اچانک بجلی آ گئ اور مسجد کے قمقمے روشن ہو گئے- ایک صف پہ مجھے تھوڑا خوُن پڑا نظر آیا- میں اسے اٹھا کے باہر لایا- وضو خانے میں پانی موجود تھا اور مینڈک غائب ہو چکے تھے- میں نے صف کو اچھی طرح دھویا اور باھر فرش پہ پھیلا دیا-
اس کے بعد میں نے کمرہء مسجد کے اندر چاروں کونوں میں اذان دی- پھر اطمینان سے چادر بچھائ اور آیت الکرسی پڑھ کر سو گیا- اس کے بعد کسی شیطان کی جراءت نہ ہوئ کہ وہ اس طرف جھانک کر بھی دیکھے-
اگلے روز نمازِ فجر میں شاہ جی بھی چلے آئے- اقامت سے پہلے ہماری نظریں چار ہوئیں- انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا تو جواباً میں نے بھی ہلا دیا- نماز کے بعد باہر نکلتے ہوئے انہوں نے کمرہءمسجد کے ٹوُٹے ہوئے دروازے کو کچھ دیر غور سے دیکھا پھر خاموشی سے چلے گئے-
دو روز بعد عصر کی نماز کےلئے جماعت کھڑی ہو رہی تھی کہ شادے ملنگ نے بتایا کہ مسجد سے باھر وہی شخص کھڑا ہے جو اس روز آپ سے ملنے آیا تھا-
میں نے کہا ” کون ؟ سُلطان ؟ بلاؤ اسے ، باھر کیوں کھڑا ہے ؟”
وہ بھاگ کر سلطان کو بلا لایا- وہ بہت پریشان تھا- کہنے لگا ” امام صاحب ، ذرا دیر کو باہر آئیے گا … بہت ضروری بات کرنی ہے”
میں نے کہا “وضو کرو اور نماز پڑھو …”
وہ بولا “جی کپڑے پلیت ہیں”
میں نے کہا “اسی لئے بلائیں بھی چمٹتی ہیں تمہیں”
نماز کے بعد میں نے اسے بلایا پھر اس کا ہاتھ پکڑے مسجد کے باغیچے میں لے گیا اور کہا:
” معاف کرنا میں نے سخت بات کہ دی … نماز پڑھا کرو … جنّات کے خلاف ہمارے پاس یہی ایک قوّت ہے …اب جلدی بتاؤ مسئلہ کیا ہے …؟”
وہ بولا ” بہت بری خبر ہے جی .. رخسانہ پہ دوبارہ جن آ گیا ہے … اس نے آپ کی دم کی ہوئ گھڑی چولھے میں پھینک دی ہے … اس بار نئیں بچّے گی وہ … مر جائے گی … خدا کےلئے اسے بچا لیجئے … !!”
یہ سن کر مجھے شدید دھچکا لگا- میں نے کہا:
“کب سے ہوئ اس کی یہ حالت ؟ مجھے بتایا کیوں نہیں؟؟ “
کہنے لگا ” کل شام سے جی … مجھے خود آج پتا چلا ہے .. اسے مزار پہ لیکر آ رہے ہیں جی … خدا کےلئے بچا لیجئے … !!”
میں نے کہا ” تم باہر جاؤ اور خبر رکھو … جب وہ لوگ آئیں تو فوراً مجھے اطلاع دینا … آج اس جِن کی شامت ضرور میرے ہاتھوں لکھّی ہے”
اس کے بعد میں تلاوت میں مشغول ہو گیا- کوئ پندرہ بیس منٹ بعد وہ ہانپتا ہوا آیا اور بولا ” وہ آ گئے جی جلدی نکلیں !!”
میں نے قران سمیٹ کر رحل میں رکھّا اور اس کے پیچھے پیچھے صحن مزار کی طرف بھاگا- وہاں ملنگوں فقیروں اور زائرین کا رش لگا تھا- کچھ ہی دیر میں سلطان واپس آتا دکھائ دیا:
“یہاں نئیں ہیں جی … اودھر گئے ہیں حجرے کی طرف …”
ہم واپس پلٹے اور حجرے کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے- دیوان میں عورتوں مردوں کا رش لگا تھا- ہم مردو زن سے ٹکراتے بھیڑ چیرتے ہوئے آگے بڑھے- رخسانہ فرش پہ لیٹی تھی- نظر پڑی تو دنگ رہ گیا- اس کی حالت واقعی بہت خراب تھی- ہاتھ پاؤں بری طرح مُڑ چکے تھے اور مونہہ سے کف بہہ رہا تھا-
میں اعوذ باللہ پڑھ کر اس کے قریب بیٹھنے ہی لگا تھا کہ ہٹو بچّو کا شور بلند ہوا اور فاضل شاہ بمعہ بخشُو آن دھمکے- پہلے مجھے ڈانٹا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ ، پھر ملنگوں فقیروں پہ رعب کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ ، جو آگے ہوا وہ راکھ کا ڈھیر بن جائے گا- میں خاموشی سے اٹھا اور پیچھے جا کھڑا ہوا-
شاہ جی رخسانہ کے پاس دوزانو ہو بیٹھے- پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر نجانے کس زبان کامنتر پڑھنے لگے-
جب منتر پڑھ پڑھ کے ہانپ چکے تو جِن کے ترلے واسطے شروع کر دئے:
” تجھے کالی کا واسطہ نکل جا … شمشانک کا واسطہ .. کملا کا واسطہ پدمنی کا واسطہ … لکشمی کا واسطہ … گنیش جی کا واسطہ … دیوتا ، سروپ، ہمادیو ارے تو جس کو بھی سویکار کرتا ہے نکل جا میرے بھائ …. !!”
میں سرکتا ہوا ان کے پِیچھے جا کھڑا ہوا اور کہا:
“ایک ہی خُدا ہے … سچا خدا … جس نے جن و انس کو تخلیق کیا .. اللہ پاک …. اس کا نام لو …. قران پڑھو شاہ جی قران … !!”
انہوں نے بِگڑ کر میری طرف دیکھا اور ہانپتے ہوئے بولے:
“تم چپ رہو ….. دور جا کے کھڑے ہو … “
اسی دوران رخسانہ نے ایک زوردار انگڑائ لی اور بگڑی ہوئ صورت بنا کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“نکالو اسے … شیطان ہے یہ …. کافر ہے … اخ تھوُ …. !!”
اس کی آواز انتہائ بھدّی اور کرخت تھی-
میں آگے بڑھا اور کہا :
” ہاں ہاں میں کافر ہوں … انکار کرتا ہوں ان سب خداؤں کا جنہیں تُم پوجتے ہو …!!”
اس پر رخسانہ نے پھر شور کیا:
“نکال اس کافر کو ادھر سے …. جلدی کر …. ورنہ گلا دبا دونگا اس کا …. !! “”
یہ سنتے ہی شاہ جی اٹھ کھڑے ہوئے اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ کے بولے:
“یہ کیا مولویوں کی طرح کافر کافر لگا رکھّی ہے ؟ کیوں اس کی جان کا دشمن ہوا ہے؟ قتل کر دے گا یہ اسے …مر جائے گی یہ لڑکی … دفع ہو جا ادھر سے … چلا جا …. !!”
میں چند قدم پیچھے ہٹا ، وہ رخسانہ کی طرف پلٹے اور کوئ نیا منتر پڑھنے لگے-
میں نے بھی بلند آواز سے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھی اور پوری قراءت سے رب تعالی کا کلام پڑھنے لگا:
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ …… “
اتنا پڑھنا تھا کہ رخسانہ چیخنے لگی پھر اچانک ساکت ہو گئ- شاہ جی یکایک اُٹھے اور کس کے ایک چپیڑ میرے مونہہ پہ ماری- میں پھرکی کی طرح گھوما اور لڑھکتا ہوا دور جا گرا-
وہ دھاڑے:
“لے جاؤ اس مردُود کو … جا کے بخشو کی کوٹھڑی میں بند کر دو … سارا عمل چوپٹ کر دیا … نحش نے ….!!”
ملنگ ، فقیر ، قلندر مجھ پہ ٹوٹ پڑے- جس کے ہاتھ جو آیا مجھے دے مارا- جب اچھی طرح دھو چکے تو ڈولی ڈنڈا کر کے بخشو کے کمرے میں لا پھینکا اور باھر سے تالہ لگا دیا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: