Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 2

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 2

–**–**–

میں دبے پاؤں چلتا ہوا گھر کے دروازے تک پہنچا اور زور سے کنڈی کھٹکائ- کافی دیر بعد دروازہ کھُلا-
دروازہ عالیہ نے ہی کھولا- مجھے دیکھ کر وہ کُچھ پریشان ہوئ پھر سر جھکائے واپس چل دی- میری غیرت جاگ اٹھی اور میں “عاشق” سے ایک دم شوھر بن گیا- ایک غیرت مند شوھر-
میں نے غُصّے میں کانپتے ہوئے آواز دی:
“کون آیا تھا یہاں — ؟؟”
اس نے پلٹ کر دیکھا پھر سراسیمگی سے میرے ہیولے کو گھورنے لگی- میں نے کہا ” بولو بھی — کون تھا یہ — جو ابھی ابھی — اس بوُہے سے باہر نکلا ہے؟”
دونوں ہاتھوں سے اوڑھنی سنبھالتے ہوئے بمشکل اس کے ہونٹ ہِلے :
” کک …. کون — ؟؟ “
” واہ — سرے سے ہی مُکر گئ توُ-؟ ” میں نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا- ” خُود دیکھا ہے میں نے — اپنی اِن اکھّوں سے — ایک بندہ یہاں سے نکلا — اس بوُہے سے — چور تھا — ڈاکو تھا — لٹیرا تھا — یا بھوُت –!!! “
” بتا دیا ناں تجھے — کوئ نئیں آیا یہاں ” وہ روہانسی ہو کر بولی-
میں اس پہ ایک غصیلی نظر ڈالتا ہوا گھر کے اندر آ گیا- پھر کمرے میں جا کر بلب روشن کیا اور ماحول کا جائزہ لینے لگا- سب کچھ درست حالت میں تھا اور گھر میں کسی اجنبی کی آمد کے کوئ آثار نہ تھے- تناؤ سے میرا دماغ پھٹنے لگا- مجھے اپنی عقل اور یاداشت پر شک ہونے لگا-
میں نے کہا عالی دیکھو- جو کچھ بھی ہے سچ سچ بتا دے- اگر کوئ چور تھا — ڈاکو یا کوئ بدمعاش تو ابھی مسیت میں اعلان کرا دیتے ہیں — میں نے خود ایک اجنبی کو یہاں ، اس بوھے سے نکلتے دیکھا ہے-
اس بار وہ تنک کر بولی:
” اپنا علاج کرا- دوسروں کو سرمہ بیچتے بیچتے تیری آنکھوں میں بھی کُکرے اتر آئے ہیں- کوئ نئیں آیا یہاں”
مجھے اس بات نے بھڑکا دیا- پھر ہمارے بیچ لڑائ شروع ہو گئ- مجھ پر وحشت سوار ہوئ اور میں نے اسی کے دوپٹّے سے اس کا گلہ دباتے ہوئے کہا:
” سچ سچ بتا عالی — کون تھا وہ — ورنہ ٹوٹے کر کے یہیں ویہڑے میں دفنا دونگا”
اس نے گھُٹّی گھُٹّی آواز میں کہا:
“بھبھ …. بھائ !!!”
میں نے اس کا گلہ چھوڑ دیا- پھر ایک گہری سانس لے کر کہا:
” اچھا — تو اب توُ نے بھائ بھی بنا لئے ہیں — !!! “
میں جانتا تھا کہ عالیہ کا کوئ بھائ نہیں ہے- وہ محض بہانہ کر رہی ہے- مجھے دھوکا دے رہی ہے-
میں نے غُصّے سے زمین پہ تھوُکا پھر منجا گھسیٹتا ہوا ویہڑے میں لے گیا اور تکیہ گود میں دھر کے بیٹھ گیا- کچھ ہی دیر میں وہ کپکپاتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس لیکر آئ- میں نے گلاس جھپٹ کر دور پھینک دیا اور کہا:
” نہیں پیتا میں تیرے ہاتھ کا پانی- نفرت ہے مجھے تجھ سے- جب تک تو مجھے یہ بتائے گی کہ یہاں کون آیا تھا ؟ کہاں سے آیا تھا ؟ کیا لینے آیا تھا قسم عنایت شاہ سرکار کی تجھ سے کلام نہ کروں گا-
” بھائ تھا میرا — ” وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی-
آخر کون ہے یہ بھائ ؟؟ تیرا تو کوئ بھائ بہن نہیں؟ کہاں سے پیدا ہو گیا یہ بھائ — ؟؟
وہ خاموشی سے اندر کمرے میں چلی گئ- میں دل پہ پتھر کی سِل رکھ کر ویہڑے میں لیٹ گیا- میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا-
اگلے روز میں نے عالیہ سے کوئ بات نہ کی- ہمارے بیچ ایک انجانی دیوار حائل ہو چکی تھی- مجھے اس میں ہزارہا خامیاں دکھائ دینے لگیں- وہ بھی کسی قدر بے رُخی برت رہی تھی- میں نے پورا دن دکان میں گزار دیا- شام کو محمد دین نائ سے بہانہ کیا کہ ٹبری بیمار ہے ، ایک بندے کا کھانا بھیج دے- وہ غریب دو روٹیاں لے آیا- بھوک تو ویسے اڑ چکی تھی زھر مار کر کے گھر آ گیا اور منجا گھسیٹ کے ویہڑے میں ہی سو گیا-
وہ رات میں نے جاگتے ہوئے گزاری- عالیہ سے بات چیت کا کوئ فائدہ نہ تھا- ویسے بھی جتنا الاؤ نفرت کا میرے اندر جل رہا تھا اتنا ہی غصّہ وہ بھی پالے بیٹھی تھی- میں نے فیصلہ کیا کہ صبح دھوبیاں جا کر صادق سے بات کروں گا- اسی نے یہ رشتہ کرایا تھا- لیکن اس کی نوبت ہی نہ آ سکی-
صبح سویرے وہ دھماکہ ہو ہی گیا جس کے خطرات کل سے منڈلا رہے تھے- وہ چائے لیکر آئ تو میں نے گرم چائے اسی کے اوپر انڈیل دی- اس نے غُصّے میں مجھے ” ذلیل ، کُتّا ، کمینہ ، کُبھار دی اولاد” کا القاب عطاء کر دئے- میں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ پہلے دھوبیوں کی سات پشتوں کو دھویا پھر طلاق طلاق طلاق کے آٹھ دس فائر کر دیے-
وہ خاموشی سے آنسو چھپاتی کمرے میں چلی گئ- میں اٹھ کر دکان پہ آ گیا- مجھے اپنے فیصلے پہ کوئ افسوس نہ تھا- جب شک کا کانٹا دل میں چُبھا ہو ، اور آپ کی عزیز ترین ہستی اسے نکالنے کی قدرت رکھنے کے باوجود مزید گہرا کر رہی ہو تو کیسی گرہستی کہاں کا وسیبا-
شام کو گھر آیا تو عالیہ جا چکی تھی-
رات کو جب یہ فقیر چارپائ پر گرا تو غُصہ کی بجائے ندامت گھیرنے لگی- احساس کے کوئلے دہکے تو دل و دماغ پر جمی کبرونخوت کی برف پگھلنے لگی- رفاقتوں کے دیپ بجھے تو تنہائ کے اندھیرے ڈسنے لگے اور میں زندگی میں در آئ شبِ تنہائ میں بری طرح بھٹکنے لگا-
پوری رات افسوس میں گزری کہ آخر عالیہ نے مجھ سے کیوں بے وفائ کی- صادق سیکلوں والے کا لگایا ہوا یہ پنکچر زیادہ دیر کیوں نہ ٹھہر سکا اور تین ماہ بعد ہی گرھستی کا ٹائر کیوں پھٹ گیا-
میں “ہائے بے وفا ” کہتا ہوا بستر پر گرا اور رونے لگا- شب خوابی کا مارا تو تھا ہی ، روتے بسورتے جانے کب آنکھ لگ گئ-
کچھ دیر بعد مجھے یوں لگا جیسے دروازہ زور زور سے پیٹا جا رہا ہو- میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا- آنکھیں ملتے ہوئے باہر جا کر دیکھا تو سامنے سجی سنوری عالیہ کھڑی تھی-
میرے جزبات کا سمندر بے قابو ہونے لگا- میں نے کہا ” عالیہ یہ سب خواب تھا ناں ؟؟ بولو — بولو — ہمارے بیچ طلاق نہیں ہوئ ناں ؟؟ اس سے پہلے کہ وہ کوئ جواب دیتی اچانک کہیں سے صادق سائیکلوں والا نمودار ہوا اور مجھے زور کا دھکا دے دیا-
میں لڑھکتا ہوا جیسے کسی گہری کھائ میں جا گرا — !!!
آنکھ کھلی تو بستر سے نیچے پڑا تھا اور دروازہ شدّت سے پیٹا جا رہا تھا-
میں جلدی سے اٹھا اور چپل گھسیٹتا ہوا دروزے تک پہنچا- سورج مشرق سے کنّی نکال رہا تھا- ہُڑکا کھولا تو سامنے سچ مچ صادق سیکلوں والا کھڑا تھا- اس کی قہر آلود نگاہوں سے بچنے کےلئے میں خجالت سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا-
وہ کھڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا- ورانڈے کے پاس سائیکل کھڑی کی پھر صافے سے مونہہ صاف کرتے ہوئے ہونٹ بھینچ کر بولا :
“کچھ لوگ لانتی کردار ہوتے ہیں ، مگر تُو تو چلتی پھرتی لعنت نکلا صلّو !! “
میں نظریں جھکائے بمشکل اتنا ہی کہ پایا:
” کیا ہو گیا اُستاد — !!!”
وہ نتھنے پھلاتے ہوئے بولا:
” مت کہ مُجھے استاد- لعنتیوں کے استاد وی لعنتی ہوتے ہیں — غلطی میری ہے صلّو — جس نے تجھ جیسے مہاتڑ سے نیکی کی ، اک چنگے بھلے گھر میں رشتہ کرایا ، اور تو نے — ؟؟ کیتی کتائ پہ پانی روڑھ دیا –؟ اشکے وئ — !!! “
میں نے اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے کہا:
” دیکھ صادق !!! عالیہ نے میرے ساتھ بے وفائ کی ہے- پہلے میری پوری بات سُن لے — پھر بھلے چپیڑیں مارنا — “
وہ کچھ دیر خاموشی سے مجھے گھورتا رہا پھر بولا ” ہاں پھُٹ – کیا بولتا ہے توُ — !!!”
میں نے کہا پہلے یہ بتا — کوئ مرد یہ برداشت کر سکتا ہے کہ ٹبری گھر میں کنجر پُنّا کرتی پھرے اور وہ عزت مارے خاموش رہے ؟؟”
صادق کچھ دیر پریشان نگاہوں سے مجھے گھورتا رہا- پھر بولا:
” مطبل کیا ہے تیرا – — ؟؟ “
میں نے کہا ” پرسوُں رات کو – شہر گیا تھا میں- کیسٹیں لینے- واپسی پہ دیر ہو گئ- کوئ نو دس بجے کا ٹَیم تھا- وہ سامنے میاں ماچھی کی ہٹّی کے پاس تھا تو اپنے گھر سے — اپنے بوُہے سے — ایک مہاتڑ کو نکلتے دیکھا — رب جانے کون تھا — قسم اٹھوا لے یار– میں نےخود دیکھا — اپنی ان دو آنکھوں سے — !!! “
” تو نے عالیہ سے پوچھا کہ وہ بندہ کون تھا ؟؟”
” ایک بار –؟؟ اور یار ھزار بار پوچھا ہے- کون لعنتی تھا ؟ …. وہ کچھ بتاتی ہی نہیں …. میں نے دھمکایا تو بولی بھائ تھا … اب بتا …. یہ بھائ کہاں سے پیدا ہو گیا ؟ نکاح کے وقت تو کوئ بھائ نہیں تھا …. کہاں سے آیا یہ بھائ ؟؟ آسمان سے گرا یا چھپر پھاڑ کے ٹپکا ؟؟ اور یوں ملنے آ رہا ہے چوری چھُپے ؟؟ … راتوں رات چلا بھی گیا ؟؟”
میری بات سُن کر صادق چارپائ کھینچ کر بیٹھ گیا اور تکیہ گود میں رکھ کر کچھ سوچنے لگا- پھر کچھ دیر بعد بولا:
” زندگی برباد کر دی تو نے اس غریب کی … باپ اس کا دمّے کا مریض ہے … ماں لوگوں کے کپڑے دھو کر گزارا کرتی ہے …. ایک ہی دِھی تھی وِچاروں کی …. اس کے مونہہ پر بھی طلاق کی کالک مل دی تونے دوزخی”
میں نے کہا :
“اگر میں دوزخی ہوں تو مجھ سے بھی بڑی دوزخن عالیہ ہے …. جس کے یار اسے چوری چھپے ملنے آتے ہیں …. کس چیز کی کمّی تھی یار مجھ میں ؟؟ “
صادق کچھ دیر خاموشی سے سر کھجاتا رہا پھر بولا:
” اس نے یہی کہا تھا کہ بھائ ہے ؟”
میں نے کہا:
” ہاں ہاں …. اس نے یہی کہا … تو جانتا ہے ناں … اس کا کوئ بھائ وائ نئیں ہے …. !!”
صادق کچھ دیر سوچتا رہا بولا:
” وہ ٹھیک کہتی تھی …. ہے اس نصیبوں جلی کا ایک بھائ وی … !!! “
میں حیرت سے اٹھ کھڑا ہوا-
” کیا بول رہا ہے صادق- کون سا بھائ …؟ مطلب .. اگر بھائ ہے تو آج تک سامنے کیوں نہیں آیا …. ؟؟ کیا ڈاکے ڈالتا ہے بھائ ؟؟”
” نہیں …….. !!!”
” قاتل ہے … ؟؟ …. خونی ہے …. ؟؟”
“نہیں …… !!! “
“پھر ؟؟ آج تک سامنے کیوں نہیں آیا …. ؟؟”
” وہ سامنے آنے کے قابل نہیں … چھپ چھپا کے ملتا ہے بہن سے … چھوٹا بھائ جو ہے اس کرماں سڑی کا … “
” چھپ چھپا کر ملتا ہے ……. ؟؟ آخر کیوں ؟؟”
” وہ …… ہیجڑا ہے !!!!”
صادق نے گویا میری سماعت پر بم گرا دیا- میں کسی کٹّے ہوئے شہتیر کی طرح چارپائ پر آن گرا- پچھتاوے کے کالے سائے میری طرف بڑھنے لگے- صادق زمین سے گھاس کا ایک تنکا اٹھا کر اسے انگلیوں میں مسلنے لگا- میری نظریں اس کے سپاٹ چہرے پر گڑی تھیں- کچھ دیر ہمارے بیچ خاموشی حائل رہی پھر میں نےکہا:
” مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئ یار صادق “
وہ تنکے پہ نظرجمائے بولا:
“ہاں چوّل تو تجھ سے بوہت وڈّی وجّی ہے ، پر قصور عالیہ کا وی ہے- جو بات پُورے پِنڈ کو ملُوم تھی ، آخر تُجھ سے چھپانے کا فیدہ ؟ ڈر گئ ہو گی شاید- کئ رشتے ٹوُٹے تھے ناں اس نمانڑیں کے- صرف اسی وجہ سے- کوئ نہ کوئ لوُطی لگا دیتا تھا کہ بھرا اس کا ہیجڑا ہے- ہیجڑوں کے گھر میں کون رشتہ کرتا ہے بھلا- پھر جب تو مجنوں بن کر آیا تو ماملہ کچھ اور ہو گیا- اس ڈر سے کہ کوئ لوُطی نہ لگا دے ، جھٹ منگنی پٹ ویاہ ہوا- پر افسوس یہ کشتی وی کنارے نہ لگ سکی- لکڑ کی ھانڈی تھی — کب تک چلتی- اب سلگتی ہی رہے گی پُوری حیاتی — چنگا وئ صلّو — اللہ بیلی — !!! “
صادق سائیکل کھڑکاتا باھر نکل گیا اور میں پچھتاوے کے سمندر میں غوطے کھانے لگا-
کوئ سوا گھنٹہ تک میں منجے پہ یوں ہی چت لیٹا آسمان کو گھورتا رہا- سوُرج نکل آیا تھا- دھوپ کی تمازت محسوس ہوئ تو منجا گھسیٹ کر چھپری تلے چلا آیا- دماغ میں ہزارہا خدشات ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو رہے تھے- گزشتہ دو دنوں میں پیش آنے والے واقعات کی کڑواہٹ رگ و پے میں سرایت کر چُکی تھی-
بالاخر میں اپنی تمام ہمت مجتع کر کے اٹھ بیٹھا- میری سوچ خیالات کے نئے زاویے بننے لگی- مقدر کی الجھی ہوئ گُتھی کو سلجھانے کی کوشش ترک کرنے کا جنون بیدار ہوا- سوچا جو ہو گیا سو ہو گیا- محبت ہوئ ، شادی ہوئ ، ناکام ہو گئ- اللہ اللہ- خیر صلّہ- اب کیسا عشق اور کہاں کا جنون- اِنا للہ و انا الیہ راجعون-
دِل کو سمجھایا کہ پچھتاوے کی اندھی غاروں میں سرپٹخنے کا اب کوئ فائدہ نہیں- اس غلطی کو لیکر بیٹھا مت جائے- خود کو سنبھالا جائے- یادِ ماضی پر بے فکری کی خاک ڈال کر نئ زندگی شروع کی جائے- جیون کی نئ منزلیں ، نئے راستے ، نئ راحتیں اور نئ خوُشیاں تلاش کی جائیں-
میں نے غُسل کیا- دھلا ہوا صاف لباس پہنا ، عطر چھڑکا اور دوکان پہ چلا آیا- تھڑے پہ پانی کا چھڑکاؤ کیا ، کاؤنٹر کو صاف کیا ، دکان میں پڑی خالی کیسٹوں کو ڈبیوں میں ڈال کے شیلفوں میں سجایا اور ٹیپ پر ” آؤ مدینے چلیں ، اسی مہینے چلیں ” کا پرسوز کلام لگا کر اطمینان سے کُرسی پر بیٹھ گیا-
سامنے کچّی سڑک پر لوگوں کی آمدورفت جاری تھی- سب کچھ معمول کے مطابق تھا- کسی کو کان و کان خبر نہ تھی کہ دکان پہ ہشاش بشاش بیٹھا صلّو اندر سے پاش پاش ہو چکا ہے- آشیانے کو خاکستر کر کے بیٹھا ہے- گھر کو قبر بنا کر بیٹھا ہے- لوگ گھروندوں کو دیکھتے ہیں ، گھر والے کس حال میں جی رہے ہیں وہ کیا جانیں-
سامنے سڑک سے نادر اور اس کی بیوی جٹّی گزرے- وہ دونوں کھیتوں سے آ رہے تھے- نادر کے ہاتھ میں درانتی تھی اور جٹّی کے سر پہ گھاس کی بھاری پنڈ – میں نے سوچا کتنا ظالم ہے یہ نادرا- بیوی کو گدھی سمجھتا ہے- اتنا کڑیل ہو کے خود بھار کیوں نہیں اٹھاتا ؟؟
پھر خود پہ نفرین کی کہ آج سے پہلے یہ سوچ میرے دماغ میں کیوں نہ آئ- روز شام کو جب دکان بڑھا کے گھر پہنچتا تھا تو چارپائ کمر پہ لادے صحن میں کون آ کے بچھاتا تھا- حاجی بشیر کے نلکے سے تازہ پانی کے گھڑے کون بھر کے لاتا تھا- سوکھی گیلی لکڑیوں کے دھویں میں جھلس کر گرم کھانا کون بناتا تھا آہ — عالیہ — آہ میں نے کیا کر دیا — !!!
ایک بار پھر پچھتاوہ تلخ زھر بن کر میرے وجود میں پھیلنے لگا- میں نے ٹیپ بند کی ، کاؤنٹر کو اندر دھکیلا اور دکان کو چٹخنی لگانے لگا- اتنے میں اقبال ارائیں دور سے بھاگتا ہوا نظر آیا- میں رُک گیا- اسے سانس چڑھی ہوئ تھی- لگتا تھا جیسے کوئ بڑی اہم خبر دینے آ رہا ہے- پاس آیا تو میں نے کہا ہاں اقبال خیریت ؟؟
کہنے لگا آج والدہ کا چالیسواں ہے- واگی اڈّہ سے مفتی شیر علی شاہ صاحب تشریف لا رہے ہیں- مقامِ والدین پر خطاب رکھا ہے- شام کو کیسٹ ریکارڈ کرنے پہنچ جانا-
میں نے کہا ضرور آؤنگا- لیکن پہلے میرے ایک سوال کا جواب دے- 6 ماہ پہلے تیری بیوی کا انتقال ہوا تھا- اس موقع پر تونے ” مقامِ بیوی” کا بیان کیوں نہ رکھوایا تھا ؟؟
وہ کچھ دیر مجھے حیرت سے گھورتا رہا پھر کہا استغفراللہ- دماغ تو ٹھیک ہے تیرا ؟؟ یہ کیسی بے حیاؤں والی بات کر رہا ہے ؟؟
میں نے کہا معاف کرنا یار – رات سے کچھ بخار والی طبیعت ہے- نیند بھی نہیں آئ- دماغ میں عجیب عجیب خیالات آ رہے ہیں- پتا نئیں کیوں محسوس ہوتا ہے کہ عورت ہی اللہ پاک کی سب سے خوبصورت تخلیق ہے- اور انسان کی سب سے قیمتی متاع حیات اس کی بیوی ہے-
اس نے غُصّے سے مجھے دیکھا اور کہا ایسی شوھدوں والی باتیں مردوں کو زیب نئیں دیتیں- ایک مؤمن کی یہ شان نہیں کہ عورت کو اپنی کمزوری بنا لے- ہر چِیز کا اپنا مقام ہے- تیری نویں نویں ہے اسی لئے لُدھڑ بنا پھرتا ہے- کوئ اور یہ بات کرتا تو چنڈ مار کے بوُتھا بھَن دیتا-
میں حسرت و یاس کی تصویر بنا اپنے کواٹر میں آ گیا- کاش اقبال چنڈیں مار مار کے واقعی میرا بوُتھا بھًن دیتا- مجھے مُڈھّی کی طرح بیلوں کے پیچھے باندھ کے کھیت میں گھسیٹتا- ترینگل چبھو چبھو کے مجھے چھلنی کر دیتا- میں اسی قابل تھا- اپنے ہاتھوں سے اپنا گھروندہ جلا کے اوروں کو گرہستی کی تعلیم دینے چلا تھا ؟؟
اس رات مجھے زور کا بخار ہوا- نہ کوئ سر دبانے والا تھا نہ پانی پلانے والا- گھر سلگتی ہوئ قبر بن کر رہ گیا- ایک ایسی قبر جس میں طلاق دینے والے ظالم مرد پر عذاب کے فرشتے مسلط ہوتے ہیں- کس کو آواز دیتا ؟ کون مدد کو آتا ؟ رات تڑپتے پھڑکتے گزر گئ-
صبح ہوتے ہی میں نے اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کر لیا- مجھے عالیہ کو بہرصورت واپس لانا تھا- ہر قیمت پر اپنا ٹوٹا ہوا گھروندہ پھر سے بسانا تھا- چاہے اس کےلئے جو بھی قربانی دینا پڑے- اذانِ فجر کے ساتھ ہی میں کلانچ بھر کے منجے سے اترا اور مولوی نزیر سے بھی پہلے مسیت پہنچ گیا-!!
تھوڑی دیر میں مولوی نزیر صاحب کی آمد ہوئ- مجھے وضو خانے میں بیٹھا دیکھ کر رُک گئے- کچھ بصارت کمزور تھی اور کچھ اندھیرا بھی قدرے زیادہ تھا-
میں نے کہا:
” کیا دیکھتے ہیں امام صاب — میں صلاح الدین ہوں — صلوّ — “
وہ لوٹا اُٹھائے ، ہاتھ سے تہمد سمیٹتے قریب ہوئے اور بولے:
” اج خیر تو ہے — ؟؟ اذان سے بھی پہلے آ گیا تو –؟؟
میں نے کہا ایک مسئلہء شرعی درپیش ہے- سوچا اکیلے میں آپ سے بات کر لوُں — ؟؟”
” اتنی سویر سویر –؟؟ رب خیر کرے- کسی سے مناظرہ تو نئیں کھڑکا لیا توُ نے — ؟؟
میں نے کہا نہیں ، مناظرے تو علماء کو ہی زیب دیتے ہیں- بات یہ ہے کہ دو روز پہلے میرا اپنی ووہٹی عالی کے ساتھ جھگڑا ہوا — بات بڑھ گئ — اور — شدید غُصّے میں — میرے مونہہ سے لفظ طلاق — “
” تیرا بیڑہ غرق — ” مولوی صاحب کے ہاتھ سے بھرا ہوا لوٹا چھوُٹ کے گرا اور وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئے- اس کے بعد انہوں نے تہمد سمیٹتے ہوئے لوٹا اٹھایا اور چل دئے- پھر مسیت کی کھُوہی کے پاس کھڑے ہو کر مجھے یوں گھورنے لگے گویا میں کوئ بدروح ہوں-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: