Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 20

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 20

–**–**–

نجانے کتنی دیر میں تنگ و تاریک کوٹھڑی کے ٹھنڈے فرش پہ بے سُدھ پڑا رہا- جسم کا رواں رواں درد سے بے حال تھا- ملنگوں فقیروں اور تلنگوں نے دِل کھول کے مُجھے پاؤں میں روندا تھا- حالانکہ کچھ روز پہلے یہی لوگ پِیر مان کر پَیر چُھو رہے تھے میرے-
عجب دورنگی ہے زمانے کی-
بالاخر کپڑے درست کرتا ، کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا- نچلے ہونٹ سے معمولی سا خون رستا تھا، انگلی سے صاف کیا اور گردو پیش کا جائزہ لینے لگا- کوٹھڑی میں بخشُو کا مختصر سامان ، ایک چارپائ ، ایک ٹوٹی پھوٹی میز ، مٹّی کا گھڑا ، چند کپڑے اور ایک پرانا صندوق وغیرہ پڑا تھا- چھت پہ ایک زنگ خوردہ پنکھا لٹکا تھا-
برامدے کی طرف ایک پرانی سی کھڑکی کھلتی تھی- اس کے پَٹ وا کرنے کی کوشش کی مگر کھُل نہ سکی- پچھلی طرف دو روشن دان کھلے تھے مگر روشنی کا کوئ شائبہ تک نہ تھا- شاید سورج ڈوب چکا تھا- کسی نے مسجد میں اذان تک نہ دی تھی- میں نے گھڑے کے چلّو بھر پانی سے وضو کیا- وہیں کھڑے کھڑے اذان دی اور فرش پہ مغرب کی نیّت باندھ کے کھڑا ہو گیا-
نماز کے بعد میں چارپائ پہ لیٹ کر تسبیح رولنے لگا- کوئ گھنٹہ بھر بعد تالہ کھلنے کی آواز آئ- دروازے کے پٹ چرچرائے تو میں چارپائ پہ اٹھ کے بیٹھ گیا- آنے والے نے کمرے کا بلب روشن کیا تو معلوم ہوا کہ شاہ جی ہیں-
میرا دِل زور سے دھڑکا اور میں آنے والے طوفان کا مقابلہ کرنے کو چارپائ سے اٹھنے لگا- انہوں نے خلافِ توقّع انتہائ محبّت سے مسکرا کر مجھے دیکھا اور کہا:
” بیٹھو بیٹھو … زیادہ چوٹ تو نہیں آئ بیٹا …؟؟ “
میں نے غصّے کا ایک تلخ گھونٹ بھرا اور خاموشی سے سامنے والی دیوار کو گھورنے لگا- وہ چارپائ پہ میرے بالکل قریب آن بیٹھے- کسی سستے بازاری عطّر کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرانے لگی-
” معاف کر دینا بیٹا … ہم مجبوُر تھے … مجبوراً سختی کرنا پڑی … کیا کرتے … معاملہ ہی ایسا تھا … وہ ظالم اس بچّی کی جان لینے پہ تُلا تھا … تجھے دیکھ کے اور برھم ہو گیا … ہم نے جو بھی کیا … جیسا کیا … اس معصوم کی جان بچانے کے واسطے کیا … تم چاھو تو بدلہ لے سکتے ہو … ہمیں مار سکتے ہو … بھلے اُن سب کے سامنے مار لو … !! “
میں نے کہا:
“میں کیوں ماروں گا آپ کو؟ آپ چاہو تو اور مار سکتے ہو… مجھے کوئ گلہ نہیں … لیکن میں غلط کو ہمیشہ غلط ہی کہوں گا… ایک کافر جِن کے سامنے آپ کا ترلے منتیں کرنا …. دیوی دیوتاؤں کے واسطے دینا … غلط ہے … زیب نہیں دیتا ایک مسلمان کو … کیا اللہ کا قران شیاطین کو بھگانے کےلئے کافی نہیں ہے؟”
وہ کُچھ دیر سر جھکائے سوچتے رہے ، پھر بولے:
” ٹھیک کہتے ہو … ہمیں بھی اچھے نہیں لگتے یہ منتر ونتر … لیکن کریں کیا؟ … کرنا پڑتا ہے … ایک ھندو جن … جو ہمارے رب … ہمارے قران کو مانتا ہی نہیں … اسے حیلے بہانوں سے ہی اتارنا پڑتا ہے … تُم کسی ہندو کو قران سنا کر مکان کا قبضہ چھڑوا سکتے ہو؟ مسلمان نہیں چھوڑتا کافر کیا چھوڑے گا … طاق پہ قران دھرا ہوتا ہے اور نیچے رشوت لے رہے ہوتے ہیں لوگ … قران پہ ہاتھ رکھ کے عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں … جب خود مسلمان ہی قدر نہیں کرتا تو کافر کیا کرے گا؟
خیر … اب یہ باتیں کرنے کا فائدہ؟ اب تو اس کی موت واقع ہو چُکی ..!!”
“کس کی …. ؟؟” میں نے چونک کر کہا-
“پرکاش کی … مر گیا وہ … کوئ بڑا ہی نچلی ذات کا ھندو جِن تھا … !!”
” اوہ … اچّھا …. کیا وہ … رب کا قران سن کر مرا …؟؟”
” نہیں بیٹا … یہ بہت ضدّی اور اڑیل مخلوق ہے … قران سن کر اور مشتعل ہوتی ہے… میں نے کچھ منتر وغیرہ پڑھے … اسے قابو کیا .. اور قتل کر دیا… خیر … جو ہوا سو ہوا … اب وہ لڑکی بالکل ٹھیک ہے … آزاد ہو چکی وہ اس عفریت سے … ہمیشہ کےلئے … میں نے اس کے ماں باپ سے کہ دیا کہ اس کا بیاہ کر دو … ایک لڑکے کو پسند کرتی ہے وہ … ہوش میں آتے ہی اسی کا نام لے رہی تھی “
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا:
” سلطان کا نام لیا ہو گا یقیناً … منگیتر ہے اس کا … !!”
“ارے نہیں نہیں … وہ لفنگا کہاں سے منگیتر ہو گیا اس کا .. بھولے مت بنو امام صاحب … وہ تمہارا نام لے رہی تھی ….!!”
” میرا نام ؟ وہ کیوں ؟” میں نے چونک کر پوچھا-
“یہ تو ھم نہیں جانتے ” وہ معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولے- “شاید دل کا دل سے کوئ رشتہ ہو … !!”
میں نے بے یقینی سے شاہ جی کو دیکھا اور کہا:
” میں آپ کی باتوں میں نہیں آؤں گا شاہ جی … نہ ہی مجھے اس لڑکی سے کچھ لگاؤ ہے … آپ کوئ اور بات کیجئے …!!”
وہ خاموش ہو گئے-
اس دوران بخشو اسٹیل کے تاش پہ دودھ کا گلاس سجائے دروازے پہ آن کھڑا ہوا-
شاہ جی نے سر کی جنبش سے اسے آنے کی اجازت دی- وہ گلاس میز پہ دھر کے جانے لگا تو بولے:
“بخشو … یہ بتاؤ کہ وہ لڑکی … جس کا ہم نے جِن اتارا ہے … کیا کہ رہی تھی؟ ….. ہوش میں آنے کے بعد کس کا نام لے رہی تھی؟”
بخشو نے فدویانہ سی صورت بنا کر کہا:
“آپ دونوں اللہ والے ہو جی … میری کیا مجال …!!”
“ہم حکم دے رہے ہیں تمہیں … بتاؤ … کس کا نام لے رہی تھی وہ لڑکی ؟” شاہ جی نے ڈانٹ کر کہا-
بخشو نے ایک نظر مجھ پہ ڈالی ، شاہ جی کو دیکھا اور زیرلب مسکرا کے بولا:
” سائیں جی کا نام لے رہی تھیں جی … بار بار …. !!”
دَھنَک دِھن دِھن … باہر طبلے پہ کسی قوال نے تاپ لگائ- میں نے رقص پہ آمادہ دل پہ قابو پاتے ہوئے کہا:
” میرا اس سے کوئ رشتہ نہیں شاہ جی …. وہ سلطان کی امانت ہے … وہی سچّا پیار کرتا ہے اس سے … “
“سُلطان ؟ … وہ بدمعاش؟ جس نے مالٹوں کا باغ اونے پونے بیچ کر جادو کرایا اس پر؟ .. راجو بنگالی سے ؟ اسی سلطان کو تو بھگت رہی ہے وہ … سخت نفرت کرتی ہے وہ سلطان سے … اس بات کی گواہی پورا مزار دے سکتا ہے کہ اس لڑکی نے ہوش میں آتے ہی صرف ایک ہی نام لیا … سائیں صلّو … اور صلّو میرے خیال میں تیرا ہی نام ہے …!! “
شاہ جی کی آواز اونچی ہوتی گئ میں کچھ دیر گم سم ان کی صورت دیکھتا رہا پھر کہا:
“خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ….!!”
وہ مسکرائے اور بڑی شفقت سے میرا شانہ تھپتھپاتے ہوئے بولے:
” اعتبار تو کرنا ہی پڑے گا … دیکھ بیٹا … نیّتوں کا حال رب سچّا ہی جانتا ہے … لیکن ہم نے آج تک تیرے بارے میں کبھی بدگمانی نہیں کی … اس روز مسجد بھی صرف تجھے سمجھانے ہی آئے تھے … خدشہ تھا کہ تیرے دم درود کی وجہ سے وہ کافر جِن طیش میں آ کر اس لڑکی کو قتل نہ کر دے … ہمیں تیری نیّت پہ ذرا بھر شک نہ تھا … ہم جانتے تھے کہ تو سعادت مند ہے … متّقی اور پرہیزگار ہے … شاید اسی کا صلہ دیا تجھے رب سائیں نے … اس لڑکی کے معصوم دل میں تیری محبّت جگا کر … اب اس محبّت کی قدر کر … لاج رکھ اس کی … نیک کام میں دیر نہ کر … کیا پوری حیاتی مزار کی اس اجاڑ مسجد میں گزار دے گا ؟ … جو آنہ دوّانی چندہ آتا ہے وہ سجّاد شاہ کھا جاتا ہے … تجھے کیا ملتا ہے؟ مکھانے ؟ … دیکھ قسمت بار بار دروازے پہ دستک نئیں دیتی … چوبیس ایکڑ زمین کی مالکن ہے … خوبصورت ہے … جوان ہے … ماپے راضی ہیں اس کے … انہیں اپنی بیٹی کی زندگی چاھئے تھی مل گئ … ایک نیک سیرت جوائ چاھئے تیری صورت مِل جائے گا … میں نے مشورہ دیا ہے کہ جِن سے چھٹکارے کی ایک ہی صورت ہے … شادی کرا دو اس کی … سائیں سے … شریف ہے … نیک ہے … سعادت مند ہے … اللہ اللہ کرتا ہے …پوری عمر خدمت کرے گا تمہاری … وہ مان گئے ہیں …. شادی کا تمام خرچ میں اٹھاؤں گا … کپڑا لتھّا زیور بیور جو چاھئے دونگا … چل اُٹھ … دیوان میں بیٹھے ہیں وہ لوگ … اپنی ہونے والی سہاگن کو دیکھ لے ….!! “
مجھ پر شادی مرگ کی کیفیّت طاری ہونے لگی- مسکراہٹ پھسل پھسل کر ہونٹوں سے عیاں ہونے لگی-
وہ اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑے برامدے والی کھڑکی کی طرف لے آئے- میں نے پورا زور لگا کر سال خوردہ کھڑکی کھولنے کی کوشش کی- مقدر کی کھڑکی تھی، آسانی سے کیسے کھلتی؟ بالاخر دھول مٹّی اڑی اور ایک پٹ وا ہو ہی گیا-
سامنے ہی دیوان میں وہ پری پیکر اپنے ماپوں کے ساتھ بیٹھی ہنس کھیل رہی تھی- یوں لگ رہا تھا گویا جِن نے اسے چھوا تک نہیں- ہمیں کھڑکی سے جھانکتا دیکھ کر وہ تھوڑا سا شرمائ ، پھر حیاء سے چادر سمیٹی اور سرجھکا لیا- اس کی والدہ ہمیں دیکھ کر تشکّر سے مسکرائ اور دوپٹّہ درست کرنے لگی-
مزار پہ قوالی شروع ہو چکی تھی … اور میں پاؤں میں گھنگرو باندھنے کو بے تاب تھا-
خُسرو نجام کے
بل بل جائیے …
بل بل جائیے ….
بل بل جائیے …..
موہے سہاگن کی … نی رے … موسے نیناں ملائ کے … !!
چھاپ تلک سب چھین لی رے
موسے نیناں ملائ کے …
اس روز میں رات گئے تک شاہ جی کے حجرے میں بیٹھا رہا- اب مجھے اس حجرے سے کوئ خوف کوئ وہشت نہ تھی-
شاہ جی نے کہا:
” دیکھو بیٹا … رخسانہ کے ساتھ اب تو نے زندگی بتانی ہے … اس کی عزّت اور جائیداد کا خیال رکھنا ہے … ہاشم اور سلطان دونوں اس کے دشمن ہیں … اس کی جائیداد ہتھیانا چاھتے ہیں …. وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں … کسی بھی وقت کوئ نیا جِن مسلّط ہو سکتا ہے اس پر … اس لئے کہتا ہوں کہ نوری علم سیکھ کر جنات پہ حکمرانی کرو … یا پھر پوری حیاتی عاملوں کے پیچھے بھاگتے گزار دو … !!”
آج پہلی بار شاہ جی کی باتیں میرے دِل میں اتر رہی تھیں- انہوں نے کہا:
“جنّات پر کُلّی طور پہ قابو پانے اور اپنا مطیع بنانے کےلئے نوری علم سیکھنا لازم ہے …. اگر صرف قران سے جنّات مسخر ہو سکتے تو سو دو سو میں مہینہ بھر تراویح پڑھانے والے انھّے حافظوں پہ تو جِن عاشق ہوتے .. جنّات کے لشکر لئے پھرتے وہ …!!”
میں نے کہا:
“شاید آپ ٹھیک کہ رہے ہیں ..”
وہ چہرے پہ گہرا دُکھ سجا کر بولے:
” تیرا وہ دوست جانی … کہتا تھا نوری علم سیکھ کے مزار پہ واپس آؤں گا …. استاد کا دست و بازو بنوں گا …. نئیں آیا …. ویکھ لے …دھوکہ دے گیا … اب ست گھرہ میں اپنا آستانہ کھول کے بیٹھا ہے … بتا مجھے … اب کس کو سکھاؤں؟ … کس پہ اعتبار کروں؟ .. تو سیکھنے کو تیّار نئیں … اور کوئ نیک سیرت ملتا نہیں …. بڑی ذمّہ داری والا کام ہے بیٹا … !! “
میں نے کہا ” میں تیّار ہوں شاہ جی … میں نوری علم سیکھوں گا … ان شاءاللہ ضرور سیکھوں گا … آپکا دست و بازو بنوں گا … آپ مجھ پہ اعتبار کر سکتے ہیں … بس یہ بتائیے کہ چلنا کب ہے ….؟؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: