Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 21

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 21

–**–**–

کالے کھوُہ کا سفر نوری عِلم کی پہلی سیڑھی تھی- اپنی روانگی کو خفیہ رکھّنا ازحد ضروری تھا- چنانچہ شاہ جی شام کو ہی نکل کھڑے ہوئے اور میں عشاء کے بعد سامان باندھے چوروں کی طرح مزار سے باہر آیا-
پُل باگڑ پر وہ یکّہ لئے میرے منتظر کھڑے تھے- یکّہ بان ایک مقامی شخص تھا جو شاہ جی کا پرانا مرید چلا آتا تھا- ہم بیٹھ چکے تو اس نے گھوڑے پہ چھانٹا برسایا- یکّہ پکّی سڑک پہ بگٹٹ بھاگنے لگا- پتلی سی یہ سڑک نہر کنارے چلتی ہوئ راوی کے پتّن تک جاتی تھی-
ہمیں دریا پار کر کے جنگل کے بیچ ایک اجاڑ کنویں پہ جانا تھا- عامل لوگ اسے کالا کھوُہ کہتے تھے- شاہ جی کے بقول یہاں ہر چاند کی اِکیس تاریخ کو جنّات کا ایک خصوصی اجلاس ہوتا تھا جس میں بیروزگار جِنّات نئے عاملین کے سپرد کئے جاتے تھے- ہندو مسلم دونوں مذاھب کے جنّات اس اجلاس میں شریک ہوتے تھے-
عاملوں کی روایت کے تحت ہم میزبانوں کےلئے تحفے تحائف بھی لئے جا رہے تھے- ان میں مسلم جنّات کےلئے قران پاک اور حلال گوشت نیز ہندو جنّات کےلئے گوگل ، ماش کی دال ، انڈے ، سپاری، ناریل، زعفران، دھتورا، مور کے پر، آک کا پودا، کوّے کے سیدھے بازو کا پر، گیدڑ کی دم اور الو کی بیٹ خاص طور پر پیک کی گئ تھی- ان تمام چیزوں کو جمع کرنے میں ہمیں کئ روز لگے تھے-
اس روز سوموار تھا- اگلے روز یعنی منگل کے دن کسی بھی وقت یہ اجلاس شروع ہو سکتا تھا-
آل پاکستان ہندو مسلم جنّات کے اس اہم اجلاس میں بطور زیرِ تربیّت نوری عامل میرے انتخاب کا فیصلہ ہونا تھا-
یہ سفر میرے لئے بڑا اہم تھا- شاہ جی نے مجھے اس بات پہ قائل کر لیا تھا کہ مجھے جنّات کے ان رازوں سے واقف ہونا ہے جو عام لوگوں سے مخفی ہیں- مجھے عامل بن کر اس مخلوق پہ حکومت کرنی ہے-
یہ میری چالیس روزہ ریاضتوں کی پہلی رات تھی ، اور میں پرامید تھا کہ اس کے بعد ایک کامیاب اور پرلطف زندگی میری منتظر ہو گی-
کوئ گھنٹہ بھر کی مسافت کے بعد کوچوان نے سڑک چھوڑی اور ایک کچّے رستے کی طرف مڑ گیا- یہ رستہ کافی ناہموار تھا- نصف گھنٹہ مزید ہچکولے کھانے کے ہم ایک گھنّے جُھنڈ کے پاس جا رکے- جھاڑیوں کے پیچھے دریا کا پانی جھلملا رہا تھا-
کوچوان چھلانگ مار کے اترا اور گھوڑے کی لگام تھام لی- اس کے بعد ہم اترے- میں نے سامان کا بورا وغیرہ اتارا اور کندھے پہ رکھ لیا- شاہ جی نے یکّے والے کو بخشیش دیکر رخصت کیا- وہ نگاہوں سے اوجھل ہوا تو ہم خاردار جھاڑیوں سے ہوتے دریا کی سمت بڑھنے لگے-
جھُنڈ کے اس پار ریت کے ٹیلے تھے جو دریا کے ساتھ ساتھ چلتے تھے- ہم ایک ٹیلے پہ چڑھنے لگے- ساحل کی ٹھنڈی ریت ہماری جوتیوں میں بری طرح گھُسنے لگی- کچھ ہی دیر میں ہم ٹیلے کے عین اوپر پہنچ چکے تھے- دریا اب بالکل سامنے تھا- تیز ہوا اور دریائ لہروں کے شور کے سوا یہاں کوئ آواز نہ تھی- چاند ہماری بائیں جانب غروب ہونے جا رہا تھا اور اس کی چاندنی دریا کی لہروں پہ سنہرے نقوش بنا رہی تھی-
شاہ جی کچھ دیر ہاتھ باندھے خاموش کھڑے رہے پھر کہا:
” یہاں سے انسانوں کی عملداری ختم ہوئ اور جنّات کی شروع- اب جو کچھ بھی ہو گا تمہارے وہم و ادراک سے اوپر ہو گا- بس دیکھتے جاؤ- اور سنتے جاؤ- کوئ سوال نہیں – کوئ کلام نہیں-جو سنو اس پہ یقین رکھو جو دیکھو اسے برداشت کرو …. مجھ سے پانچ قدم پیچھے رہو … اور ہاتھ باندھے کھڑے رہو … !!”
اس کے بعد وہ عجیب سی زبان میں کوئ منتر پڑھنے لگے-
اس حال میں کئ ساعتیں گزر گئیں- شاہ جی برابر منتر جاپ رہے تھے- تیز ہوا ان کی داڑھی اور زلفوں کو ادھر ادھر اُڑا رہی تھیں-
میں پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا- کبھی ایک ٹانگ پہ ، کبھی دوسری پہ ، کبھی جماہی لیتا تو کبھی ذہن بٹانے کو کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگتا-
نصف گھنٹہ کی مشقّت کے بعد بالاخر منتر تمام ہوا- شاہ جی مجھے وہیں رکے رہنے کا اشارہ کر کے پتن کی طرف بڑھ گئے-
اسی دوران سامنے سے ایک کشتی آتی دکھائ دی- میں برابر اسے دیکھنے لگا- وہ لحظہ بہ لحظہ قریب ہوتی جا رہی تھی- کوئ ملاح چپوؤں کی مدد سے اسے بہت تیز چلاتا آ رہا تھا-
کشتی پتّن پہ آئ تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا- اسے ایک خوش پوش عورت چلا رہی تھی- اس نے گہرا نیلا لباس زیب تن کر رکھا تھا- وہ زیورات سے لدی پھندی تھی جو چاندنی میں دور سے جگمگا رہے تھے-
شاہ جی پانی میں اترے اور گھٹنوں گھٹنوں چلتے کشتی کے قریب ہوئے- اس ملاحن کا ہاتھ پکڑا اور کشتی سے اترنے میں مدد کی- بالاخر وہ پانی سے باہر آئ اور دریا کے کنارے پہ آکر اپنی ساڑھی نچوڑنے لگی-
اتنی دور سے اس عورت کے خدوخال پوری طرح واضح تو نہ تھے لیکن ٹیلے پہ کھڑا میں یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ یقیناً بہت خوبصورت ہے- وہ دراز قد تھی- اس کا لباس بھڑکیلا تھا اور نصف سے زیادہ پیٹ ننگا- کٹی ہوئ آستینوں سے اس کی گوری گوری باہیں جھلک رہی تھیں- سنہری زیور نے اس کے حسن کو دوبالا کر رکھا تھا-
دریا کے کنارے وہ شاہ جی سے خوب گلے ملی- میں کسی فلم کی طرح بڑی محویّت سے یہ نظارہ دیکھنے لگا- میرے دِل میں شدید حسرت پیدا ہونے لگی کہ قریب جا کر اس عورت کو دیکھوں-
کچھ دیر وہ دونوں آپس میں بات چیت کرتے رہے- دور ہونے کی وجہ سے میں ان کی گفتگو سننے سے قاصر تھا-
پھر شاہ جی نے میری طرف اشارہ کر کے اس عورت سے کوئ بات کی- اس نے بھی میری طرف دیکھا- پھر فضاء میں اس کے نقرئ قہقہے کی آواز گوُنجی- اس کے بعد شاہ جی نے اس حسینہ کو بازوؤں میں اٹھا لیا اور دریا میں اتر گئے- پھر بڑی محبّت سے اسے کشتی پہ سوار کرایا-
اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور آوازلگائ:
” آ جاؤ سائیں …..!!”
میں بھاگ کر ان کی سمّت گیا ، پھر شلوار خوب چڑھا کر ٹھنڈے پانی میں جا اترا اور کشتی کے قریب ہوا- یہ ایک چھوٹی سی کشتی تھی اور اس میں بیٹھنے کو تین چوڑے تختے لگے ہوئے تھے- شاہ جی نے مجھے پیچھے والے تختے پر بٹھایا اور خود اس عورت کے سامنے والے تختے پہ بیٹھ گئے- ملاحن نے چپّو سنبھالے اور کشتی چلا دی-
میں کچھ دیر دریائ لہروں کے حُسن سے خود کو بہلاتا رہا- میرا بچپن اسی دریا میں تیرتے ہوئے گزرا تھا- میں نے ہاتھ بڑھا کر چلّو بھر پانی پیا جو خوب میٹھا اور ٹھنڈا تھا- پھر اچانک میری نظر اس عورت پر پڑی اور پڑی ہی رہ گئی- میرا دِل اچھل کر حلق میں آ گیا-
وہ واقعی کوئ اور ہی مخلوق تھی- اس کی آنکھیں کوئلے کی طرح دھک رہی تھیں – آنکھوں کے گرد سیاہ رنگ کے گہرے حلقے تھے اور چہرے پہ برص کے لاتعداد سفید داغ- گویا گندھا ہوا آٹا مَلا ہو- اس کے سینے اور بازوؤں پر بھی چکنا آٹا ہی مَلا ہوا تھا- وہ ایک کریہہ صورت چڑیل تھی- اس کی حرکات کسی مُردے کی طرح تھیں اور وہ ایک طرف سر جھکائے کسی مشین کی طرح چپّو چلا رہی تھی-
مجھے پہ خوفِ خدا کا غلبہ ہوا- اور زیرِلب سورة الناس پڑھنے لگا- اچانک کشتی ڈگمگائ اور وہ عورت زور سے چیخی:
” چھوکرے کُوں ڈَک ….. کلام پڑھدا پئے ……. !!”
شاہ جی نے فوراً مُڑ کر مجھے گھورا اور تڑخ کر کہا:
“بند کر یہ کلام .. کشتی الٹ رہی ہے … کہا جو ہے خاموش ہو کے بیٹھو .. !!”
میں ڈانٹ سن کر فوراً چپ ہو گیا-
تقریباً دس منٹ بعد ہم بخیریت کنارے پہ جا لگے- شاہ جی نے مجھے کشتی سے اترنے کا اشارہ کیا- میں تھیلہ اٹھائے گھٹنوں گہرے پانی میں اترا اور شلوار بھگوتا ہوا قریب ہی ریتیلے کنارے پہ آن کھڑا ہوا-
شاہ جی نے اس چڑیل سے کہا:
“مُڑ کداں مِلسو …. ؟؟”
اس نے اپنی سانپ جیسے زلفوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“تُساں وی تاں آؤ ناں کدی شجاع باد … !!”
وہ بولے “ٹائم کتّھاں ملدائے … !!”
خود کو مصروف ظاہر کرنے کےلئے میں دریا کنارے بورے کا مونہہ کھول کے بیٹھ گیا- مقصد ان دونوں بزرگوں کی بات چیت سننا تھا جو تیز ہوا کی وجہ سے کچھ واضح تو نہ تھی مگر میری دلچسپی کا ساماں ضرور کئے ہوئے تھی-
شاہ جی اسے اپنی مصروفیات کی روئیداد سنا رہے تھے اور وہ چڑیل کسی نخریلی محبوبہ کی طرح نئے نئے تقاضے کر رہی تھی- پِھر کسی لکشمن جِن کا ذکر ہوا جسے وفاق میں کوئ بڑا عہدہ چاہئے تھا- اس کےلئے شاہ جی کی سفارش درکار تھی-کسی لاجونتی کی بات ہوئ جو چناب سے اپنی ٹرانسفر راوی کروانا چاھتی تھی- جنّات کی بیروزگاری اور چڑیلوں میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجعان پر بھی بات ہوئ-
کچھ دیر کی فضول بات چیت کے بعد بالاخر شاہ جی نے اس بلاء کو جپھّا لگا لیا- یقیناً وہ ایک بلند حوصلہ عامل تھے جو بلاؤں کو جپھّا لگا سکتے تھے- خدا خدا کر کے وہ بلاء سر سے ٹلی اور کشتی چلاتی ہوئ نظروں سے اوجھل ہو گئ-
میں کنارے پہ منتظر کھڑا تھا- شاہ جی کپڑے نچوڑتے ہوئے میرے پاس آئے اور مجھے پیچھے پیچھے آنے کو کہا-
“دیکھو صلّو …. سمجھایا بھی ہے … یہاں کے قوانین کچھ اور ہیں … جب کلام پڑھنے کا کہا جائے تب پڑھو … خود سے کچھ نہ پڑھو … ورنہ عمل الٹ ہو جاتا ہے … ذرا سی غلطی کا نتیجہ یہاں موت ہے … !!!”
شاہ جی مجھے نصیحتیں کرتے رہے اور میں خاموشی سے ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا-
ہم ایک طویل پگڈنڈی کا سفر کر کے جنگل میں داخل ہو گئے- بیچ میں کہیں کہیں کھیت بھی تھے- مختلف پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے بالاخر ہم ایک جھنڈ کے پاس جا رکے-
یہاں پیپل کے اونچے درختوں کے بیچ ایک پرانا کھوہ تھا- اس کے ساتھ سیمنٹ کا ایک پرانا حوض بھی بنا ہوا تھا- شاید کسی زمانے میں ٹیوب ویل وغیرہ کےلئے استعمال ہوتا ہو- ایک طرف پرانی پختہ اینٹوں کا بڑا سا ڈھیر بھی لگا ہوا تھا-
شاہ جی حوض پر بیٹھ گئے اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا- کچھ دیر ہمارے بیچ خاموشی کی چادر تنی رہی ، پھر وہ بولے:
“دیکھو صلاح الدین .. آج سے تم ایک نئ زندگی شروع کرنے والے ہو … تمہارا واسطہ اس قوم سے پڑنے والا جو انسان سے ہزاروں سال پہلے اس جہان میں اتاری گئ تھی … اندر سے یہ ہمارے کھلے دشمن ہیں … ہم سے بغض رکھتے ہیں … ہمارے اور ان کے بیچ پاک امریکہ جیسے تعلقات ہیں …. دونوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں … ظاہر ہے جو زیادہ طاقتور ہو گا … وہی زیادہ فوائد بھی سمیٹے گا … کمزور بس اپنی غرض پوری کرتا ہے …. یہ آگ سے بنے ہیں ، ہم مٹّی سے … یہ اڑ سکتے ہیں …. صورت بدل سکتے ہیں .. خود کو پوشیدہ رکھ سکتے ہیں .. آسمان سے خبریں لا سکتے ہیں …. انسانی دل و دماغ پہ حاوی ہو سکتے ہیں … ہم یہ سب نہیں کر سکتے… سمجھا کہ نہیں؟ ہم حیلے کے ذریعے ان سے کام لیتے ہیں … اور بدلے میں ان کے کچھ کام بھی کر دیتے ہیں … ان سے اچھّے تعلقات کےلئے بنیادی شرط ڈپلومیسی ہے- وہی ڈپلومیسی جو ہمارے حکمران طاقتور قوموں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں سمجھا کہ نہیں؟ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں … انہیں خوش رکھنے کو اپنے عوام کا کچومر نکال دیتے ہیں … ان کی ثقافت کی حوصلہ افزائ کرتے ہیں … ان کی خاطر پرائ جنگ میں کود جاتے ہیں سمجھا کہ نہیں؟ جو حاکم ڈپلومیسی نہیں جانتا وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے … یہی بات عامل پر بھی صادق آتی ہے … جو عامل ڈپلومیسی نہیں جانتا وہ جنّات کیا ، ایک شتونگڑا قابو نئیں کر سکتا سمجھا کہ نہیں؟ یہ ڈپلومیسی کیا ہے آؤ تمہیں سکھلاتا ہوں ..!!”
یہ کہ کر وہ اٹھے اور مجھے ساتھ لئے کنویں کی منڈیر پہ قبلہ رو جا کھڑے ہوئے- پھر صدا لگائ … ” بھوانی کی جے ہو … کالی کی جے ہو … لکشمی کی جے ہو !!”
اس کے ساتھ ہی آس پاس کے درختوں سے الوّوں کا شور بلند ہوا- جنگل سے گیدڑوں نے کوُکیں ماریں ، ہرطرف اک شور سا برپا ہو گیا- شاہ جی نے قمیض کا اگلا سرا اوپر اٹھا کر دانتوں میں دبایا ، شلوار کا ازاربند کھولا اور کنویں میں پیشاب کرنے لگے-
میں کراہت سے پیچھا ہٹا اور کہا ” کیا کرتے ہیں … اس طرف قبلہ شریف ہے … !!”
انہوں نے ہنستے ہوئے مجھے دیکھا اور دبی دبی آواز میں کہا:
“ڈپلومیسی …!!”
میں دل ہی دل میں استغفار پڑھتا ہوا واپس ہوا اور حوض پہ آ کر بیٹھ گیا-
کچھ ہی دیر میں وہ ازار بند باندھتے ہوئے پلٹے اور کہا:
“صلّو … وہ قران نکالنا تھیلے سے ….. جلدی …!!”
میں نے کہا ” آپ پہلے وضو تو کر لیں … “
وہ تلخی سے بولے ” چھوڑ وضو شُضو کو … قران نکال قران … “
میں نے تھیلے سے قران نکالا اور دونوں ہاتھوں سے سینے پہ چپکا کے کہا:
“میں پڑھتا ہوں جی … وضو سے ہوں میں …. !!”
وہ بولے ” بے وقوف … پڑھنا شڑنا نئیں ہے … پھاڑ کے کنویں میں …….. دو مُجھے .. !!”
” کبھی نہیں …!!” میں نے دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ” خدا کا خوف کرو شاہ جی … یہ کون سا نوری علم ہے؟ یہ تو شیطانی عمل ہے …؟؟ “
” دیکھ ضِد نہ کر … ہم کچھ غلط نہیں کر رہے … یہاں ہر شخص شیطانی عمل ہی تو کر رہا ہے … کوئ رشوت دے کے … کوئ زنا کر کے … کوئ دوسروں کا حق مار کے … تھانوں ، کچہریوں ، دفتروں ، عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے؟ شیطانی عمل …!!! لوگ اپنی غرض کےلئے کرتے ہیں … ہم خدمتِ خلق کےلئے کریں گے … توُ ڈر مت … کچھ نہیں ہونے والا … یہ سب نہ کریں گے … تو بہت کچھ ہو جائے گا … چل دیوی انتظار کر رہی ہے … شگن بڑا اچھا ہے … خراب نہ کر … دے مُجھے … اپنے ہاتھوں سے .. ایک ایک ورق پھاڑ کے … جلدی کر … ورنہ نقصان ہو جائیگا … گناہ نہیں ، ڈپلومیسی ہے یہ …. !! “
میں دو قدم مزید پیچھے ہٹّا اور پورے عزم سے کہا:
” بھاڑ میں گئ تمہاری ڈپلومیسی کُچھ بھی ہو جائے … میں تمہیں قران کی ناموس خراب نہیں کرنے دوں گا … جا رہا ہوں میں یہاں سے … !!”
یہ کہ کر میں واپس مُڑا تو شاہ جی نے پیچھے سے میرا گریبان پکڑ لیا-
” کہاں جاتے ہو ؟ واپسی کا کوئ رستہ نہیں ہے … دو مُجھے یہ کتاب … !!”
میں نے اُس کے گھٹنے پہ زور سے پاؤں مارا ، وہ درد سے کلبلایا اور ایک زور کا گھونسا میرے سینے پہ رسید کیا- قران مجھ سے چھوُٹ کر دور جا گرا- میں نے گھٹنوں کے بل گھسٹ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس نے اپنا پاؤں میرے ہاتھ پہ رکھ دیا- میں درد سے تلملا اُٹھا اور دوسرا ہاتھ پوری قوّت سے اس کی پنڈلی پہ مارا- اس کا توازن بگڑا تو میں نے اٹھ کر قران اٹھانے کی کوشش کی-
اس نے زور کی لات ماری جو میری پسلی میں لگی اور میں لڑکھڑا کر اینٹوں کے ڈھیر پہ جا پڑا-
اگلے ہی لمحے وہ شیطان میرے سر پہ کھڑا تھا- اس کے ہاتھ میں بالشت بھر لمبا خنجر جگمگا رہا تھا- میں نے اٹھنے کی کوشش کی اور کراہتے ہوئے کہا :
“خدا کےلئے …. جانے دو مجھے … نہیں سیکھنا مجھے یہ عمل”
وہ خنجر لہرا کر بولا:
” مت سیکھ … ہم کسی اور کو سکھا دیں گے … اسی طرح ضِد کی تھی جانی نے بھی … کاٹ کے پھینک دیا تھا سالے کو اسی کالے کھوہ میں … بات نہیں مانو گے تو ٹوٹے کر کے تمہیں بھی بھوانی کی بھینٹ چڑھا دیں گے … ایمان کی بھینٹ نہ سہی جان کی بھینٹ تو چڑھا سکتے ہیں … دیکھ رہے ہو یہ خنجر …… !!!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: