Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 22

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 22

–**–**–

پیپل کے اونچے پیڑ سے اُلوؤں کا شور بلند ہوا تو وہ شیطان میرے سر سے ٹلا- میں نے بمشکل سر اٹھایا- وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر اندھیرے میں زمین پر جھُکا ہوا کچھ ٹٹول رہا تھا- شاید قران پاک تلاش کر رہا تھا-
میں نے پوری ہمّت جمع کر کے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا- کمر کے نچلے حصّے میں کسی اینٹ کی نوک بُری طرح چُبھی تھی- اس چوٹ نے نچلے دھڑ کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا-
اس نے قرانِ پاک اٹھایا اور حوض کی طرف بھاگا- میں سر اٹھائے اس خبیث کی حرکات دیکھتا رہا- اندھیرے میں کچھ واضح نہ تھا- پھر کاغذ پھاڑے جانے کی آواز سنائ دی- شاید وہ مردود قران پاک کے صفحات پھاڑ رہا تھا-
میں چلایا ” مت کرو ایسے … مت کرو …” لیکن وہ میری صدا سے غافل اپنے سفلی عمل میں مشغوُل رہا-
اس کے بعد وہ کنویں کی منڈیر پہ جا کھڑا ہوا- تاریکی میں صرف اس کا ہیولہ نظر آ رہا تھا- وہ بلند آواز سے منتر پڑھنے لگا- ساتھ ساتھ وہ ہاتھوں میں پکڑے متبرک صفحات پھاڑ پھاڑ کر کنویں میں پھینکتا جا رہا تھا-
میں نے ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا- بمشکل چلا کے کہا ” خُدا کا خوف کرو … مت کرو ایسے … یہ اللہ کا کلام ہے … کچھ تو حیاء کرو … ” مگر اس نے کوئ توّجہ نہ کی اور برابر اپنے کام میں مشغول رہا … !!
مجھے اپنی موت کا یقین ہو چلا تھا- میں اس جاھل کے کسی کام کا نہ تھا- سوائے اس کے کہ دیوی کو خوش کرنے کےلئے میری بھینٹ چڑھا دی جاتی- مجھ سے پہلے وہ جانی کو اسی طرح شکار کر چکا تھا- مجھ پہ بے بسی کی کیفیّت طاری ہوئ اور میں حسرت سے تاروں بھرے آسمان کو دیکھنے لگا- مایوسی حد سے بڑھی تو رب سائیں کو آخری چٹھّی لکھنے بیٹھ گیا:
“واہ سائیں واہ … پھر مروا دیا ناں … مجھے اپنے پاس ہی بلا لے … گلے مل کے رو تو لوں تیرے … کچھ دل کی باتیں ہی کر ہوں … تجھ سے پوچھ تو لوں کہ باطل کو تو نے اتنا طاقتور کیوں بنایا اور حق کو اتنا کمزور کیوں ؟ … باطل اتنا چالاک کیوں ہے اور حق اتنا سادہ کیوں؟ … باطل کے ہاتھ لوہے جیسے سخت اور حق کا چہرہ شیشے جیسا نازک؟ ساری طاقت اپنے دشمن کو دے دی … اور جو تیرے سجن ہیں … یار ہیں … بیلی ہیں … شانوں پہ تیرا حکم ، تیری رضاء کا بوجھ اٹھائے ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں؟ … باطل جب چاھتا ہے ان پہ چڑھ دوڑتا ہے … انہیں چھید کے رکھ دیتا ہے اور وہ بے بس … بس تیرے نام پہ شہید ہو جاتے ہیں؟ یہی خلافت ہے؟ بس شہید ہونے کےلئے بنایا تھا مجھے اپنا خلیفہ؟ …. یہ کیسی خلافت ہے کہ شیطان کے ہاتھوں نِت پٹتا رہوں؟ … ٹکّے ٹکّے کے شتونگڑے مجھے گھسیٹتے پھریں؟ کیا صرف دھکّے کھانے کےلئے ہی بنایا تھا مجھے اپنا خلیفہ؟ آئے روز رسوا ہوتا ہوں، باطل کب رسواء ہو گا؟ اس کے چودہ طبق کب روشن ہوں گے؟ میرے تو کئ بار ہو چکے … کیا حق کو بھی سربلندی عطاء ہو گی یا اس کا سر ہمیشہ نیزے پر ہی بلند ہو گا؟ اگر میری قربانی ہی تیری منشاء ہے تو اپنے نام پہ قربان کر … دیوی کے چرنوں میں کیوں ڈالتا ہے؟ … کفر مجھ سے ہونا نہیں .. اور حق پہ اس ظالم نے جینے نہیں دینا … آہ … فرقہ پرستوں سے بچ کے بھاگا تھا مالک … توھم پرستوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہوں … بچا میرے مولا …. بچا ..!!!”
میں کافی دیر رب سائیں سے شکوے شکایات کرتا رہا- بالاخر دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا- میرا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا- کمر کا درد بھی ہلکا ہونے لگا اور جسم کی طاقت بھی بحال ہونے لگی- میں نے ٹانگوں کو ہلایا جلایا- ہاتھ ، گردن اور بازوؤں کو اچھی طرح ہلا جلا کر دیکھا- کوئ بڑی چوٹ نہ آئ تھی-
میں نے ہمّت کی اور اٹھ کے بیٹھ گیا- کالے کھوہ کی منڈیر پر کالے شاہ کا کالا منتر جاری تھا- میں نے سوچا میں کیوں چُپ رہوں- ابھی شہادت سے سرفراز تو نہیں ہوا- زندہ ہوں- جو دم باقی ہے اللہ کا کلام پڑھنے میں کیوں نہ گزار دوں-
میں نے اعوذو باللہِ من الشیطن الرجیم پڑھی اور بلند آواز میں سورہء بقرہ پڑھنے لگا …
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ
کالے شاہ اچانک خاموش ہوا- پھر مجھے غلیظ گالیاں دینے لگا- میں نے اس کی گالیوں کی پرواہ نہ کی اور تلاوت جاری رکھی-
وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ
وہ منتر چھوڑ کر گالیاں بکتا ہوا میری طرف بڑھا- قریب آکر اس نے خنجر نکالا- اب موت یقینی تھی- میں قربان گاہ پہ آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا-
اس نے جھُک کر مجھے بالوں سے پکڑا اور خنجر میرے ہونٹوں پہ پھیرتے ہوئے بولا:
“جانی کی آخری خواہش تھی کہ رخسانہ کی شادی سائیں صلّو سے ہو جائے .. بول … بول … اب صلّو کی آخری خواہش کیا ہے؟”
ایک ٹوٹی ہوئ اینٹ میرے ہاتھ آئ اور میں نے پوری قُوّت سے اس کی کنپٹی پہ دے ماری-
وہ بھونچکا کر بائیں جانب گرا- میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے ایک اور اینٹ اسے کس کے ماری جو اس کے پیٹ میں لگی- اس کے بعد میں کسی جوان کی طرح اٹھ کھڑا ہوا- وہ زمین پہ چت لیٹا ابھی تک مغلطات بک رہا تھا-
میں نے اسے زور کی ٹھوکر ماری اور ٹانگ سے پکڑ کے گھسیٹتا ہوا کنویں کی منڈیر تک لے آیا- اس کے مونہہ سے ڈکراتے ہوئے بیل جیسی آواز نکل رہی تھی- میں کچھ دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا- مجھ میں کسی انسان کو قتل کرنے کی ہمّت نہ تھی- بالاخر اسے وہیں چھوڑا اور اینٹوں کے ڈھیر کے پاس آن کھڑا ہو گیا-
وہ کچھ دیر بے حس و حرکت پڑا رہا پھر اٹھ کر بیٹھ گیا- کچھ دیر وہیں منڈیر پہ سر جھکائے بیٹھا رہا پھر ہمّت کر کے اٹھا اور کسی شرابی کی طرح لڑکھڑاتا ہوا میری طرف چلنے لگا-
اس نے نعرہ لگایا:
“جئے بھوانی ….. !!!”
میں نے ” اللہ اکبر” کا نعرہ لگایا اور ایک ثابت اینٹ اٹھا کر پوری قوّت سے اسے دے ماری- وہ لڑکھڑاتا ہوا پیچھے ہٹّا اور ایک دلدوز چیخ مارتا ہوا کالےکھوُہ میں جا گرا-
“جھماک” کی آواز آئ اور اِک تہلکہ سا مچ گیا- بے شمار چمگادڑیں کنویں سے پھڑاپھڑا کے نکلیں اور فضاء میں غائب ہو گئیں- بے شمار اُلّو شور کرتے ہوئے درختوں سے اڑے اور نامعلوم سمت پرواز کر گئے-
مجھ میں ایک عجب طاقت اور ولولہ جاگ اُٹھا تھا- میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر کنویں میں پھینکنے لگا- ساتھ ساتھ سورۃ بقرہ بھی پڑھتا جا رہا تھا- ہر اینٹ پر کنویں سے دھماکے جیسی آوز آتی گویا بم پھٹ رہے ہوں- میں نے تلاوت جاری رکھی اور اینٹیں اٹھا اٹھا کر کنویں میں پھینکتا رہا-
جب خوب سنگ باری کر چکا تو کنویں کی منڈیر پہ کھڑے ہو کر کہا :
“بتاؤ …. طبیعت درست ہوئ یا اور پھینکوں؟ … بلاؤ ناں اپنی بھوانی کو …. آل پاکستان ھندو مُسلم جنّات؟ یہ ھندو کیا رہا ہے پاکستان میں؟ تمہارے باپ تو چلے گئے تھے سالوں پہلے …. تُم یہاں کیا کر رہے ہو؟ جاؤ ناں اپنے ہندوستان میں … وہاں جا کر سازشوں کے جال بنو …. عاملوں کی بیگار کیوں کرتے ہو؟ مُسلم جنّات کو بھی بگاڑ دیا ہے تم نے … تم کافروں کے ساتھ رہ کر یہ بھی کافر ہو گئے ہیں … نبی کا پڑھا ہوا کلمہ بھول گئے ہیں … کیا اثر لیا تھا تمہارے بزرگوں نے قرآن سن کر جس کا ذکر سورہء جن میں آیا ہے؟ کیا کہا تھا جا کر اپنی قوم سے تمہارے آباء نے … کچھ یاد ہے؟ یا بھول گئے سب کُچھ … خبردار … آج ہی یہ کنواں چھوڑ کر دفع ہو جاؤ … بارڈر پار چلے جاؤ … ورنہ اس کی منڈیر پہ بیٹھ کے پورا قران پڑھوں گا … روز دھواں نکالوں گا تمہارا …. ابنِ آدم ہوں میں … جسے روزِ ازل سے تم پہ فوقیّت حاصل ہے .. محمّد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلّم کا اُمتّی ہوں … جن کے بعد کوئ نبی نہیں … کوئ رسول نہیں … لا الہ الا اللہ محمّد رسول اللہ”
ہر سو خاموشی چھا چکی تھی- میں واپس ہونے لگا تو حوض پہ کٹّا پھٹا قران نظر آیا- میں نے اٹھا کر چوُما اور آنکھوں سے لگا لیا- پھر اسے سینے سے لگائے تیز تیز چلتا ہوا ویران اور تاریک جنگل میں اتر گیا-
اکیسویں شب کا چاند تھک ہار کے غروب ہو چکا تھا- چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا- شیشم ، سفیدے اور کیکر کے طویل قامت درخت بھوتوں کی طرح مجھے گھیرے ہوئے تھے- میں چیچہ وطنی کے تاریک جنگل میں بھٹک رہا تھا-
آس پاس کوئ سڑک یا پگڈنڈی نہ تھی- اس حالت میں نہ تو سمت کا تعیّن ہو رہا تھا نہ ہی کسی منزل کا سراغ ہاتھ آ رہا تھا- پیاس سے میری حالت غیر ہو رہی تھی- پپڑی جمّے ہونٹوں پہ صرف ایک ہی دعا تھی:
“یا رب العالمین- اھدنا الصراط المستقیم”
دُور سے کہیں ریل گاڑی کی کوُک سنائ دی- پرسکوت ویرانے میں اس سے خوبصورت آواز کوئ نہ تھی- حوصلہ ہوا کہ اللہ کی زمین پر تنہا نہیں ہوں- بے شمار مسافر سوئے منزل جا رہے ہیں- میں بھی تو ایک مسافر ہی ہوں- برسوں سے بھٹکتا مسافر- رب تعالی جلد یا بدیر منزل تک ضرور پہنچائے گا-
کچھ ہی دیر میں ریل گاڑی کا شور سنائ دیا- گاڑی کافی دور سے گزری تھی- میں نے آواز کی سمت کان لگا دئے- پھر خوب جانچ کر اسی سمت قدم بڑھا دئے- کانٹے دار جھاڑیوں سے الجھتے الجھتے بالاخر ایک ٹوٹی پھوٹی پگڈنڈی میّسر آ ہی گئ- تاروں کی لو میں گرتا پڑتا اسی پر چلتا رہا-
کوئ نصف گھنٹہ چل چکا تو کسی بس یا ٹرک کا ہارن سنائ دیا- شاید سڑک بھی اسی طرف ہی تھی- درختوں پہ کال کلچھّی نے شور کیا اور گیدڑوں کا ایک غول اچانک ہی سامنے سے نکل کر دوسری طرف جھاڑیوں میں گم ہو گیا- مزید چلنے کی اب مجھ میں سکت نہ تھی- مایوس ہو کر بیٹھنے لگا تو ایک بار پھر ریل گاڑی کی کوک سنائ دی-
اس بار ٹرین زیادہ دور سے نہ گزری تھی- اندازاً نصف کلومیٹر کا فاصلہ تھا- میں نے دوبارہ ہمّت پکڑی – آہستہ آہستہ چلتا رہا- نصف گھنٹہ مزید چلنے کے بعد بالاخر اس ہولناک جنگل کا احتتام ہوا اور میں پٹڑی تک جا پہنچا-
پٹڑی کے ساتھ ساتھ پختہ سڑک چلتی تھی- شاید جی ٹی روڈ تھا- رات کے اس حصّے میں سڑک بھی بالکل سنسان پڑی تھی- میں نے سڑک پار کی تو گھنّے درختوں کے نیچے پانی کی جھلملاہٹ دکھائ دی- یہ نہری پانی کا ایک کھال تھا- میں اس کے کنارے پہ جا بیٹھا- پہلے وضو کیا پھر جی بھر کے گدلا پانی پیا ، اور رب تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا-
کچھ دیر سستانے کے بعد میں اٹھ کھڑا ہوا- جسم کی توّانائ کسی قدر بحال ہو چکی تھی- میں اللہ کا نام لے کر سڑک پر اندازاً مغرب کی سمت چل پڑا- تھوڑا آگے گیا تو بائیں طرف ایک پُلیا نظر آئ- یہاں سے ایک پختہ سولنگ جنوب کی طرف جا رہی تھی- میں نے وہی پکڑ لی اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے چلتا رہا- نجانے کتنی دیر یونہی چلتا رہا بالاخر وہ سولنگ ایک گاؤں میں داخل ہو گئ-
گاؤں میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا- شب بھر بھونکنے والے کُتّے بھی تھک ہار کے سو چکے تھے- سولنگ ایک چوک پہ جا کر ختم ہو گئ- قریب ہی ایک مسجد تھی- اس کا مرکزی دروازہ بند پڑا تھا- فجر کی اذان میں شاید ابھی کچھ وقت باقی تھا-
میں نے لکڑی کے گیٹ کو ذرا سا دھکیلا تو وہ کھُلتا ہی چلا گیا- دل کو تسلّی ہوئ کہ ٹھکانہ تو میّسر آیا- صحن کا بلب روشن تھا اور ایک ضعیف العمر بابا وہاں تہجّد پڑھنے میں مشغول تھا-
میں قرانِ پاک رکھنے کو کوئ رحل وغیرہ تلاش کرنے لگا- جب کچھ میّسر نہ ہوا تو مصحف کو گود میں رکھ کے بیٹھ گیا- تھکاوٹ سے بدن چُور ہو رہا تھا- وہیں بیٹھے بیٹھے اشاروں سے دو نفل ادا کئے- پھر آنکھیں بند کر کے رب سائیں کو چٹّھی لکھنے لگا :
” تجھے چٹھیاں تو بوہت لکھیں رب سائیں … آج پہلی بار ایک پارسل بھیجنے کی جسارت کی ہے … اس پارسل میں ایک شاہ ہے … اور تو جانتا ہے یہ کتنا ظالم شاہ ہے … تو یہ بھی جانتا ہے کہ میرا اسے مارنے کا کوئ ارادہ نہ تھا … میں نے تو بس اپنی جان بچائ ہے … تیری حکمت ہے … کبھی چڑیوں کے پیچھے باز لگا دیتا ہے … کبھی چڑیوں کے ہاتھ باز مروا دیتا ہے … تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ تو نے میری جان بچائ …. اور اس ظالم کو نیست و نابود کیا … جو یقیناً تیری زمین پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا … میں پھر بھی استغفار کرتا ہوں اور اپنی تمام بری خواہشات اور شرور سے تیری پناہ چاھتا ہوں … اور ہر اس خیر کا طالب ہوں جو تو مجھے عطاء کرے … رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌا …!!”
اس کے بعد میں پرسکون ہو کر بیٹھ گیا اور آنکھیں موند لیں- ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کندھے پر کسی نے دستِ شفقت آن رکھّا- سر اٹھا کے دیکھا تو وہی تہجد گزار بابا میرے سر پہ کھڑا تھا-
کہنے لگا:
” چڑیوں کے ہاتھ صرف باز نئیں مرواتا … کبھی کبھی ہاتھی بھی مروا دیتا ہے”
میں نے چونک کر اسے دیکھا- اس کی عمر ستّر اسی برس کے قریب تھی- سفید براق داڑھی – سر پہ پرانا سا پٹکا- صاف ستھرا سفید کُرتا اور نیچے نیلے رنگ کی تہمند-
مجھ پہ خوف طاری ہو گیا- میں نے سہم کر کہا :
” آپ نے میری دعا سُن لی ؟”
وہ ہنس کر بولا :
” دعائیں تو رب تعالی ہی سنتا ہے … ہاں جب تیری چٹّھی وہاں پہنچی تو ہم بھی اس کی بارگاہ میں کھڑے تھے … !!”
میں نے کہا:
” پھر تو یقیناً آپ اللہ کے ولی ہیں …!!”
وہ میرے پاس بیٹھتے ہوئے بولا:
” میں تو نوکر ہوں اس کا … اگر تو راوی پار سے آیا ہے تو تیرے لئے بھی ایک نوکری ہے … !!”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“نوکری ؟ کیسی نوکری …؟؟”
وہ ہنس کر بولا:
“اسی کی نوکری … جسے تو چٹھیاں لکھتا ہے…. پہلا عاشق دیکھا ہے ، محبوب پاس ہے اور پھر بھی چٹّھیاں لکھتا جا رہا ہے ….. !!”
میں نے کہا ” کیا کروں بابا … جب بہت ہی مایوس ہو جاتا ہوں تو لکھ بیٹھتا ہوں چٹّھی ..اس کی مرضی جواب دے یا نہ دے !!”
وہ میری پیٹھ تھپتھپا کر بولا:
” تیری تمام چٹھیوں کے جواب آئے ہوئے ہیں پُتّر … دیکھ تیری گود میں پڑے ہیں …. !!”
میں نے بے یقینی سے اپنی گود میں رکھّے قران پاک کو دیکھا اور نا سمجھی میں سر ہلا دیا- اس نے میری گود سے قران پاک اٹھایا اور بولا :
” یہ صرف دم درود اور جنّ بھوت بھگانے والی کتاب نئیں … رب تعالی کی لکھی ہوئ چِٹّھی ہے … انسان کے نام …. لوگ اسے کپڑے میں لپیٹ کے طاق پہ دھر دیتے ہیں … پھر جب کوئ تکلیف آتی ہے … تو اس کے سامنے شکوے کھول کے بیٹھ جاتے ہیں … اسے ترجمے سے پڑھا کر … جوں جوں سمجھ آئے گا … تیرے ہر خط کا جواب ملتا جائے گا …!! “
میں نے کہا ” میں ضرور پڑھوں گا بابا جی … ترجمے سے پڑھوں گا … کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کا رتبہ کیا ہے؟ آپ غوث ہیں ، خواجہ یا قطب … ؟؟”
وہ ہنس کر بولا:
” عہدہ پوچھ کے کیا کرے گا- یہ عہدے تو دنیا والوں نے گھڑ رکھّے ہیں- فلاں غوث ہے فلاں قطب- اصل میں سب نوکر ہی ہیں اس ذات کے- کوئ وڈّا نوکر کوئ نِکّا نوکر- غلام رسول نام ہے میرا … لوگ بابا ڈاکیا کہتے ہیں …!!”
پھر وہ بزرگ چوکڑی مار کے میرے سامنے بیٹھ گئے اور بولے:
” 30 سال تک اسی گاؤں میں ڈاک تقسیم کرتا رہا ہوں … خط … منی آرڈر رجسٹریاں … گرمی سردی دھوپ بارش ہر آن ڈیوٹی نبھائ … یہاں ایک غریب بڑھیا تھی … ست جوائ نام تھا اس کا … ایک ہی بیٹا تھا اس کا جو شہر میں نوکری کرتا تھا … اسے ہر مہینے منی آرڈر بھیجتا تھا … وہ لڑکا باغی ہو گیا … وہیں شہر میں کہیں شادی کر لی اور ماں کو بھول گیا … ست جوائ وِچاری رُل گئ … ہر مہینے مجھ سے پوچھتی …. نورمحمّد کا کوئ منی آرڈر آیا ؟… میں جُھوٹ مُوٹ کہتا … ہاں بی بی آیا ہے … پھر اپنی تنخواہ سے کچھ نہ کچھ پیسے اسے پکڑا دیتا اور جھوٹ موٹ اس کا انگوٹھا لگواتا … جب تک وہ زندہ رہی …. اس کی مدد کرتا رہا … بس اتنی سی بات پہ رب سائیں نے نوکر رکھ لیا … اچھی بھلی تنخواہ دیتا ہے … ضرورت سے کہیں زیادہ … واپس اسی کے بینک میں ڈال دیتا ہوں … تو کرے گا اس کی نوکری ؟ … ایک سیٹ آج ہی خالی ہو رہی ہے؟؟ “
میں نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا ” کیا نوکری ہے بابا جی؟”
وہ بولا ” مخلوق کی خدمت- اس کے کنبے کا خیال رکھنا- بس یہی نوکری ہے اس کی … بہت کم لوگ یہ نوکری کرتے ہیں … اور جو کرتے ہیں … ہمیشہ بھلے میں رہتے ہیں … یہاں سے بہت اوپر … آسمانوں پہ اس کا بینک ہے … بے شمار لوگوں نے وہاں اکاؤنٹ کھول رکھّے ہیں … ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائ سب کے اکاؤنٹ ہیں وہاں … ان کے بھی جو اسے مانتے تک نہیں … سب کو برابر نفع دیتا ہے وہ لیکن … ایمان والوں کو سب سے زیادہ دیتا ہے … ستّر گُنا …. دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی !!”
میں نے مایوسی سے کہا:
” میرا اکاؤنٹ کیسے کھل سکتا ہے بابا … میرے پاس تو پھوٹی کوڑی نہیں …؟”
وہ بولا ” جو شخص دوسروں کا دکھ درد محسوس کرتا ہے … اس کا اکاؤنٹ آپو آپ ہی کھل جاتا ہے … تم اس کی مخلوق کا درد رکھتے ہو … بس ٹوٹے دلوں کو ڈھارس دو … وہ رزق بڑھا دے گا … پھر جو منافع ملے … اسی کے نام پہ لٹا دو … وہ اور زیادہ دے گا … یوں منافع کا یہ چکر چلتا رہے گا … باقی یہ کلمہ … نماز … روزہ … زکواة … حج … یہ صرف اشٹام ہے … تیری مسلمانی کا … لوگ اشٹام تو لئے پھرتے ہیں … اکاؤنٹ خالی ہے … اصل زر تو انسانیت کی خدمت ہے …. !!”
اسی دوران مؤذن نے فجر کی اذان دے دی- بابا نے مجھ سے ہاتھ ملایا پھر خاموشی سے اٹھا اور اگلی صف پہ جا کے سنتیں پڑھنے لگا-
نماز کے بعد میں کافی دیر مسجد میں بیٹھا رہا کہ شاید بابا سے دوبارہ ملاقات ہو- لیکن وہ نہ آیا- شاید خاموشی سے کھسک گیا تھا- آہستہ آہستہ نمازی اٹھتے گئے اور مسجد خالی ہو گئ-
میں ستون سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا- شب بھر کا جاگا ہوا تھا بہت جلد آنکھ لگ گئ- نجانے کتنی دیر سویا رہا- پھر اچانک محسوس ہوا جیسے کسی نے مدد کےلئے پکارا ہو-
میری آنکھ کھل گئ- آواز باھر سے آئ تھی- بھاگ کے صحن میں پہنچا تو ایک نوجوان وضوخانے کے پاس گرا پڑا تھا- میں اس کی مدد کو آگے بڑھا-
وہ بولا ” مجھے بس میری بیساکھیاں پکڑا دو …. وضو کرتے ہوئے گر گیا ہوں … “
میں نے اسے بیساکھیاں پکڑائیں اور پوچھا “کیا ہوا ہے تمہیں”
وہ بولا ” گینٹھیا کا مریض ہوں … نماز کو دیر ہو رہی تھی … وضو کرنے لگا تو پاؤں پھسل گیا …. خدا کا شکر کہ کوئ چوٹ نہیں آئ …!!”
میں نے اسے سہارا دیا اور مسجد کے اندر لے آیا- پھر اسے نماز والی کرسی پہ بٹھا کر کہا ” سورج نکلنے میں دس پندرہ منٹ باقی ہیں .. آرام سے پڑھ لو .. میں رب تعالی سے تمہاری صحت یابی کی دعا کرتا ہوں …”
وہ نوجوان نماز پڑھ چکا تو میں اس کے قریب ہوا اور کہا:
” تم آنکھیں بند کر کے درود شریف پڑھو … میں تمہیں دم کرتا ہوں “
اس نے میری ھدایت پہ عمل کیا اور آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا- میں اس کے گھٹنوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے سورہ فاتحہ کا دم کرنے لگا-
تھوڑی دیر بعد میں نے کہا:
” آنکھیں کھول لو … اب تم بالکل ٹھیک ہو … گھٹنوں پہ آہستہ آہستہ وزن ڈالو …کھڑے ہونے کی کوشش کرو … !!”
وہ بولا ” میں گر جاؤں گا”
میں نے کہا ” ان شاءاللہ بالکل نہیں گرو گے … یقین رکھو”
اس نے کوشش کی اور آہستہ آہستہ اٹھ کھڑا ہوا- پھر حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا:
” درد تو واقعی نہیں ہو رہا … آپ ہاتھ پکڑو …. میں چلنے کی کوشش کرتا ہوں”
میں نے کہا ” ہاتھ پکڑنے کی اجازت نہیں … تم بالکل ٹھیک ہو … بیساکھیاں ادھر ہی چھوڑو … اور گھر چلے جاؤ”
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے ڈر ڈر کے چلنے لگا- میں نے اس کی کمر تھپتھپائ اور کہا ” چلو چلو … شاباش … جلدی چلو”
اس نے قدم اٹھائے اور قدرے بہتر چلنے لگا- پھر مڑ کر مجھے حیرت سے دیکھا اور مسجد سے باہر نکل گیا-
سورج نکل آیا تھا- میں نے وضو کر کے اشراق پڑھی اور وہیں مسجد کی صف پہ لیٹ گیا- ابھی آنکھ ہی لگی تھی کہ اسپیکر کی ٹھک ٹھک سے پھر کھل گئ- خادم مسجد مائک تھامے “ایک ضروری اعلان” کر رہا تھا …..
” غُلام رسول ڈاکیا … رضائے الہی سے فوت ہو گیا ہے … جنازے کا اعلان بعد میں کیا جائیگا …!! “
اب سونا فضول تھا- بابا ڈاکیا اپنی سیٹ چھوڑ کر رب کی جنّتوں میں جا چکا تھا- اب اس سیٹ پر مجھے بیٹھنا تھا- یہ نوکری مجھے ہی کرنا تھی- ایک بہت بڑا بوجھ میرے سر پہ آن پڑا تھا- ایک ایسا بوجھ جسے موت تک مجھے بخوشی اٹھانا تھا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: