Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 23

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 23

–**–**–

سورج کافی چڑھ آیا تھا اور گرمی بڑھ رہی تھی- بھوک کی وجہ سے میری آنتیں سکڑنے لگیں- میں نے وضو خانہ میں جا کر خوب پانی پیا اور مسجد کے صحن میں سایہء دیوار تلے جا کر بیٹھ گیا-
اسی دوران کچھ نوجوان مسجد میں داخل ہوئے- وہ آپس میں اونچی اونچی آوازوں میں باتیں کر رہے تھے- پھر ان میں سے ایک کی نظر مجھ پہ پڑی- اس نے ساتھیوں کو آواز دی اور میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
” وہ رہے …. بابا جی … !!! “
یہ وہی لڑکا تھا جسے صبح میں نے دم کیا تھا- وہ بھاگ کر میری طرف آیا اور ہاتھوں کو بوسہ دیا- پھر اس کے باقی ساتھی بھی میری طرف چلے آئے- بڑے ادب سے سلام کیا اور میرے سامنے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے- ان میں سے ایک بولا:
“بابا جی … کہاں سے تشریف لائے ہیں آپ …؟”
میں نے کہا ” میں بابا نہیں …. سائیں ہوں … راوی پار سے آیا ہوں ..!!”
وہ بولا “ہم آپ کے احسان مند ہیں سائیں جی … ہمارا یہ بھائ کافی عرصے سے بیمار تھا … آپ کی دعا سے ٹھیک ہو گیا ہے … !!”
میں نے ملائمت سے کہا :
” یہ سب اللہ کا فضل ہے .. !!”
وہ بولا ” آج یہ پہلی بار پاؤں پہ چل کے گھر گیا ہے … یہ ہمارے لئے بہت بڑی خبر ہے … ہم سب تو شازے کو دیکھ کر حیران پریشان رہ گئے”
میں نے پوچھا “کون شازیہ ؟؟”
وہ سب شرمندگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے- پھر وہ لڑکا جسے میں نے دم کیا تھا بولا:
” بابا جی میرا نام ملک شہزاد ہے … سب شازا شازا بلاتے ہیں … یہ میرے بڑے بھائ ملک ایّوب ہیں … آج صبح آپ کی دعاؤں سے میں پاؤں پہ چل کے گھر گیا تو سب حیران رہ گئے .. ہم آپ کو لینے آئے ہیں … کیا آپ ہمارے ڈیرے پہ تشریف لا سکتے ہیں … ؟؟ “
میں نے کہا ” خلوص سے بلاؤ گے تو ہزار بار آئیں گے …. !!”
ہم اٹھنے ہی لگے تھے کہ کچھ اور لوگ بھی مسجد میں چلے آئے- وہ سب عقیدت سے مجھے سلام کر کے حلقے میں آن بیٹھے- یوں رفتہ رفتہ لوگ آتے گئے اور مسجد میں ٹھٹھ سا جم گیا-
پھر اس مجمع میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا:
” بابا جی سخت بیمار ہوں … ساری رات کھانستے گزر جاتی ہے … حکیم بتاتے ہیں کہ ٹی بی ہے … !!”
ابھی اس کی طرف متوّجہ ہی ہوا تھا کہ دوسرا کھڑا ہو گیا کہ بابا جی چِٹّا موتیا ہے سجی آنکھ میں … بائیں والی پہلے ہی ختم ہے … اس سے پہلے کہ اندھا ہو جاؤں … کوئ دم درود کر دیو-
میں نے کہا ” ذرا قریب آؤ …”
وہ آنکھ دکھانے کو آگے بڑھا ہی تھا کہ ایک اور مریض بیچ میں کوُد پڑا ” بابا جی … پہلے میرا کالا یرقان دم کر دو … میں نے بکریوں کے پٹّھے لینے جانا ہے ….. !!”
میں نے کہا ” دیکھو بھائیو .. میں کوئ ڈاکٹر یا حکیم نہیں ہوں … آپ ہی کی طرح کا بندہ ہوں … صرف دعا کر سکتا ہوں … کالے چِٹّے کو ٹھیک کرنا رب سائیں کا کام ہے … دعا تو بس ایک عرضی ہے … ایک التجاء ہے … رب کے سامنے … اس کی مرضی قبول کرے یا رد کر دے … وہ چاہے تو حکیم کی پھکّی سے آرام آ جائے اور نہ چاہے تو ولائت جا کے بھی بندہ مر جائے … شفاء اسی کے ہاتھ میں ہے … وہ سب کی سنتا ہے .. میری بھی .. تمہاری بھی … !! “
ان میں سے جو موتیا کا مریض تھا میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا ” سائیں … آپ اللہ والے ہو … آپ کو مولا پاک کا واسطہ … میری آنکھیں ٹھیک کر دو … کالا بکرا چڑھاؤں گا … اندھا ہو گیا تو میرے چھوٹے چھوٹے بچّے رُل جائیں گے … “
میں نے کہا ” تو بکرا بیچ کے آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس کیوں نئیں چلا جاتا ؟”
وہ بولا ” گیا تھا جی … ڈاکٹر نے ہی تو بتایا ہے کہ موتیا ہے … آپریشن کا ست ہزار بتاتے ہیں جی … ٹیڈی بکرا اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتا … آپ دم درود کر دو … شاید اتر جائے ..!! “
میں نے جان چھڑانے کو کہا: “ٹھیک ہے- ٹھیک ہے- سب ٹھیک ہو جاؤ گے .. اب کھڑے ہو جاؤ … میں سب کو اکٹّھے دم کرتا ہوں”
اس کے بعد میں نے سب کو سورة فاتحہ پڑھ کے دم کیا اور جھاڑ پھونک کے رخصت کر دیا-
ملک صاحب کے ڈیرے پر پورا مُحلّہ جمع تھا- کافی لمبی چوڑی حویلی تھی- ایک حصّے پہ تین بڑے کمرے اور برامدہ بنا ہوا تھا- صحن میں ایک طرف چارپائیاں بچھّی تھیں ، دوسری طرف کچھ جانور بندھے تھے- میں وہاں پہنچا تو سب نے اٹھ کر استقبال کیا- پھر شازے نے اعلان کیا ” بابا جی پہلے ناشتہ فرمائیں گے فیر آپ لوگوں کو دم کریں گے “
ناشتے میں وہ سب کچھ میّسر تھا جس سے میں ایک مدت سے محروم چلا آتا تھا- دیسی گھی کے پراٹھے ، دہی ، مکھن ، سبزی ، شہد ، اچار ، گوشت ، انڈے- صدیوں کی بھوُک جاگ اُٹھی- سب کچھ تناول کر چکا تو ایک لمبا سا ڈکار لیتے ہوئے شازے سے کہا :
” سائیں رات بھر کا جاگا ہوا ہے … تم مخلوق کو کسی طرح قابو کرو … سائیں تو اب آرام کرے گا … خبردار جو ظہر کی نماز سے پہلے کسی نے جگانے کی کوشش کی …. مریضوں کو بھی سمجھا دو کہ جو دم درود کروانا ہے عصر کے بعد کروانا … !!”
شازا فوراً خدمت پہ کمر بستہ ہو گیا- ایک کمرے میں آرام دہ بستر بچھایا- میں جو دس ماہ سے مسجد کی صف پہ سوتا آیا تھا ، نرم و گداز تلائ اور مخملی تکیہ میّسر آیا تو پل میں نیند کے مزے لینے لگا-
خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ بابا ڈاکیا مجھ پہ سخت ناراض ہیں- کہتے ہیں نوکر کا کام پیٹ بھر کے سونا نہیں ، غریب لاچار عوام کی خدمت ہے- چار ضلعوں میں کوئ ہسپتال نہیں- پولیس اپنی حفاظت نئیں کر سکتی- فوج کابل فتح کرنے نکلی ہوئ ہے- لیڈر کوڑے کھانے میں مصروف ہیں- پِیر لوُٹ گھسوُٹ میں لگے ہیں- اگر تُو بھی بے فکری کی چادر اوڑھ کے لیٹ گیا تو تُجھ میں اور ان ظالموں میں فرق کیا رہ جائے گا؟ اٹھ اور مخلوق کا درد بٹا- خبردار …. آئیندہ کچّے پیاز اور گُڑ سے روٹی کھانا اور صرف شب کو نیند فرمانا- ورنہ سائیں نوکری سے بیدخل کر دے گا-
میں ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا- مسجد سے بابا ڈاکیا کے جنازے کا اعلان ہو رہا تھا-
ظہر کی نماز پڑھ کر ھم جنازہ گاہ پہنچے- وہاں بڑا اژدھام تھا- دور دراز سے لوگ آئے ہوئے تھے- ہر شخص مرحوم کی تعریف کر رہا تھا کہ غریبوں کا بڑا ہمدرد تھا- چھپ چھپا کے ان کی مدد کرتا تھا- دو بیٹے سعودیہ میں تھے- وہ جو کچھ بھیجتے بابا ناداروں میں لٹا دیتا تھا- کئ گھروں کا چولھا اس کے دم سے روشن تھا وغیرہ وغیرہ-
جنازہ رکھا گیا تو میں بھیڑ کو چیرتا ہوا بمشکل میّت تک پہنچا- پھر شورشرابے کے بیچ چارپائ کا پایہ پکڑ کے آنسو بہانے لگا- زبانِ حال سے شکوہ بھی کر رہا تھا کہ بابا جی کدھر پھنسا دیا یہاں تو ہر دوسرا بندہ بیمار ہے … لوگ مجھ سے امید باندھ کے بیٹھ گئے ہیں … کس کس کو دم کروں … کس کس کو ٹھیک کروں؟ میرا تو کوئ بیٹا بھی سعودیہ میں نہیں ، جو پیسے بھیجے … اتنے مریضوں کا علاج کیسے کروں گا ؟ … میں تو خود دربدر ہوں … دوسروں کا سہارا کیسے بنوں گا ؟ … آج تو ملک پور والے بابا مانتے ہیں … کل چار دعائیں رد ہوئیں تو پنڈ سے نکال باہر کریں گے … مالک سے میری سفارش کر دینا بابا کہ نوکری دی ہے تو عزت بھی بنائے رکھنا … !!”
میں پایہء میّت کو چمٹا ہوا تھا کہ اوپر ہٹّو بچّو کا شور بلند ہوا- لوگ میّت سے پیچھے ہٹنے لگے- شازے نے مجھے پکڑ کے اٹھایا اور بولا :
” سائیں جی … اٹھو … پیر صاحب تشریف لا رہے ہیں … !! “
میں نے کہا ” ہیں ؟ میرے اوپر بھی کوئ پیر ہے ؟؟”
وہ مجھے کھینچتا ہوا پیچھے لے گیا پھر میرے کان میں بولا ” پیر سیّد حاکم شاہ بخاری تشریف لا رہے ہیں … “ملک پور” کے جدّی پشتی پیر – پورا پِنڈ انہی کا مرید چلا آتا ہے …. !!”
جنازہ گاہ میں ایک ہیجان برپا ہوگیا- لوگ میّت کو چھوڑ کر پیر صاحب کے گرد جمع ہونے لگے- ہر کوئ صدقے واری جا رہا تھا- کسی نے گھٹنے چھوئے ، کسی نے دست بوسی کی اور کوئ زخمی پرندے کی طرح سیدھا قدموں میں جا گرا- باقی ادب سے رستہ چھوڑنے لگے- غرض کہ ہر کوئ برکات سمیٹنے میں مصروف ہو گیا اور میں بابا کی میّت کے پاس تنہا کھڑا یہ سوچنے لگا کہ اگر پِیری پہ حاکم شاہ فائز ہے تو بابا ڈاکیا کس مرتبے پہ فائز تھا؟
جنازہ ہو چکا تو پیر صاحب نے دعا کروائ اور اعلان کیا کہ بابا غلام رسول ڈاکیا کے ذمّہ اگر کسی کا کوئ آنہ پیسہ بقایا ہو تو وہ دربار سیّداں پہ آکر وصول کر لے-
اس پر بڑے بوڑھوں نے سبحان اللہ کی صدا لگائ- کچھ لوگوں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا ” پیر بادشاہ … ساڈی ایہہ مجال نئیں” اور کچھ خاموش ہو گئے-
پیر صاحب میّت کا دیدار کر کے واپس اپنی کار میں جا بیٹھے- کچھ لوگ ادھر بھاگے اور کار پر ہاتھ پھیر کے اپنے جسم پر ملنے لگے- کچھ نے ٹائروں کی مٹّی اٹھا کر جیب میں ڈال لی- میرا “پہلا مرید” شازا بھی مجھے چھوڑ کے پیر صاحب کی گاڑی پہ جا کے لیٹ گیا-
بابا ڈاکیا کو لحد کے سپرد کر کے ہم لوٹ رہے تھے تو میں نے شازے سے پوچھا:
” میں تو سمجھ رہا تھا کہ بابا ڈاکیا ہی گاؤں کا پِیر ہے … کیا وہ نیک آدمی نہ تھا …؟؟”
وہ بولا ” بابا ڈاکیا بہت نیک بندہ تھا- لوگوں کے کام آتا تھا- گاؤں میں کئ نلکے لگوائے اس نے ، غریب بچیوں کی شادیاں کروائیں ، یہ جو اڈّے کے پاس ڈسپنسری ہے … وہ بھی بابے نے ہی بنوائ … اس جنازہ گاہ کی چار دیواری اسی نے بنوائ … لیکن وہ پیر نہیں تھا …. وہ تو ذات کا جولاہا تھا …. پیر تو سیّد حاکم شاہ بخاری ہیں … لوگ انہیں “کڑے والا پیر” بھی کہتے ہیں … ان کے بزرگوں نے گاؤں کے گرد کڑا دیا تھا … “
میں نے کہا ” یہ کڑا کیا ہوتا ہے ؟”
وہ بولا ” کڑے کا مطلب ہے پورے گاؤں کے گرد چکّر لگا کے اسے ہر بلاء سے محفوظ کر دینا … تا کہ کوئ آفت مصیبت ادھر نہ آئے … اسی لئے لوگ ان کی قدر کرتے ہیں … آٹا ، پھکّا ، بکری ، لیلا ، لکڑ ، بٹھڑی سب انہی کے دربار پہ چڑھتا ہے … رہا بابا ڈاکیا … وہ تو پیروں فقیروں کو مانتا ہی نئیں تھا … پیر صاحب جنازے کو کندھا دینے آ گئے یہ ان کا بڑا پن ہے … ورنہ بابا تو … سخت منکر تھا پیر صاحب کا … !!”
میں نے کہا ” مُنکر ؟ وہ کس لئے؟”
کہنے لگا ” بابا دربار سیّداں پر ایک آنہ تک نہ دیتا تھا … الٹا لوگوں کو بھی گمراہ کرتا تھا کہ آستانے پہ کچھ مت چڑھاؤ … ظاہر ہے یہ سخت بے ادبی تھی … خیر آپ کو اس سے کیا ؟ آپ تو خود سیّد بادشاہ ہو … شاہ تو شاہوں کے دوست ہوتے ہیں … !!”
میں نے کہا ” کس نے کہا میں سیّد ہوں؟ ، کُمہار ہوں میں … یقین نہ آئے تو راوی پار جا کے پوچھ لو اور خدا کی پناہ مانگتا ہوں میں ان شاہ سواروں سے … جو عقیدت کی لگام ڈال کے ازل سے لوگوں کے کندھوں پہ سوار ہیں … !!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: