Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 24

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 24

–**–**–

ملک پور میں میرا قیّام طویل ہوتا چلا گیا- سائیں کے ڈیرے پر دِن بدن رش بڑھنے لگا- کرامت پرستوں کے ہاں میری فقیری کا ایک ہی چلتا پھرتا ثبوت تھا- شازا .. !!
وہی میرا پہلا خلیفہ بنا- اس کے دوست فیصل ، اجّو ، شکورا اور جیدا بھی میرے جانثاروں میں شامل ہو گئے- میٹرک فیل بے روزگاروں کو مشغلہ ہاتھ آیا اور دیکھا دیکھی انہوں نے بھی اپنی زلفیں بڑھانا شروع کر دیں-
مریدوں نے میرے بہت سے نام تجویز کئے- ملنگ بابا ، سائیں بابا ، اللہ لوک ، راوی والا بابا ، زلفاں والی سرکار- مگر میں نے خود کو مُلاں پور کا سائیں کہلوانا پسند فرمایا- رفتہ رفتہ ہماری شہرت آس پاس کے پِنڈ ، دیہات تک جا پہنچی اور صبح شام یہاں لوگوں کا ٹھٹھ جمنے لگا-
میں نے دم کے اوقات اور اصول مرتب کر دئے- فجر سے لیکر ظہر تک سائلین کی آمد رہتی- اس کے بعد تھوڑا آرام اور عصر کے بعد پھر کام شروع- ڈیرے کا ایک کمرہ قران خوانی کےلئے مختص کر دیا گیا- امام مسجد سے بات کر کے عصر تا مغرب یہاں درسِ قران کا بندوبست بھی ہو گیا-
مریضان صبح تڑکے ہی صحن میں میں آ کے بیٹھ جاتے- اشراق سے فارغ ہو کر میں ایک ایک مریض کے پاس جا کر اسے دم کرتا ، پھر اس کا سینہ ٹھونک کے کہتا ” اللہ کے فضل سے آج سے تم بالکل ٹھیک ہو … بس نماز پڑھو …. اور اللہ کو یاد کرو … ” شازا پیتل کا لوٹا اٹھائے میرے ساتھ ساتھ چلتا اور ہر جھاڑ پھوُنک کے بعد میرے ہاتھ دھلواتا اور یوں ساری بیماری مریض کے سامنے ہی پانی میں بہہ جاتی-
بہت جلد دم کے آثار ظاہر ہونے لگے- ڈاکٹروں ، حکیموں ، عطائیوں اور پِیر زادوں کا ڈالا ہوا وہم چَھٹّنے لگا- وہم کے مریض سب سے پہلے تندرست ہوئے- جو واقعتاً بیمار تھے انہیں بھی کسی قدر آرام نصیب ہوا- مایوسی کے بادل چھٹّنے لگے اور خلقِ خُدا پُکار اُٹھی ” ڈاکٹر بیماری ڈالتا ہے … سائیں کھینچ نکالتا ہے … حق سائیں …واہ سائیں … !! “
کبھی کبھار کوئ ڈھیٹ قسم کا مریض ، ٹھیک ہونے سے انکار کر دیتا تو میرے مرید آگے بڑھ کے صورت حال سنبھال لیتے- اسے سمجھاتے کہ ساری بات یقین کی ہے … پہلے سائیں پہ یقین تو پختہ کر … پھر مولا شفاء دے گا … !!!”
لوگوں کا یقین پُختہ ہوا یا نہیں ، میرا یقین اپنے سائیں پہ دن بدن پختہ ہونے لگا-
بعد مریض شفایابی کے بعد روپیہ پیسہ ھدیہ کرنا چاہتے تو میں سختی سے انکار کر دیتا اور کہتا ” میں پِیر نہیں ہوں کہ تمہاری کھال اتاروں … اللہ نے شفاء دی ہے … جاؤ اس کے نام پہ کسی غریب کو صدقہ دو” شازا بے چارہ مریضوں کو گھر سے دودھ پتیاں پلا پلا کر ہانپ گیا-
ڈیرے پہ خواتین کی آمد شروع ہوئ تو میں نے شازے سے کہ کر قنات منگوا لی- یوں عورتوں کےلئے پردے کا انتِظام بھی ہو گیا اور فتنوں کے آگے بند بھی بندھا- میں قنات کے پیچھے کھڑے ہو کر ایک ایک خاتون کا مسئلہ سنتا ، وہیں سے دم چھوُ کرتا اور بی بی کو صبر اور حوصلے کی تاکید کر کے رخصت کرتا-
اس طرح ایک مہینہ خیر خیریت سے گزر گیا-
ایک روز فجر کے بعد مریضوں کو دم کر رہا تھا کہ ایک مریض اکڑ گیا- کہنے لگا :
“ہمیں دم شم کی ضرورت نہیں سائیں … ہم خود پِیروں فقیروں والے لوگ ہیں … !! “
میں نے ملائمت سے کہا:
“ٹھیک ہے … پھر آپ یہاں کیسے تشریف لائے ہیں؟ “
وہ بولا ” تمہیں سمجھانے آئیں ہیں سائیں …. اِس گاؤں میں اگر دم درود کرنا ہے تو پہلے دربار سیّداں جا کر وہاں کی مٹّی چاٹو …. !!”
میں نے کہا :
” کیوں جی ؟ میں کوئ گڈویا ہوں جو مٹّی چاٹوُں؟ میں تو آٹا پَھکتا ہوں اس رب سائیں کا جو سارے جگ کا داتا ہے … !!”
وہ وجد میں آ کر بولا ” جاگ بنا دُدھ نئیں جمدے ، پاویں لال ہوون کڑھ کڑھ کے …. پیر حاکم شاہ حسنی حسینی سیّد ہے … غوث پاک کا پڑپوتا ہے …. توُ کیا ہے … ؟؟”
میں نے کہا ” میں آدم کا بیٹا ہوں- پیغمبر تھا وہ “
بالاخر شازے نے مداخلت کی ، اسے سمجھایا اور ڈیرے سے باہر لے گیا-
اگلے روز ہم عصر پڑھ کے بیٹھے تھے کہ اچانک ڈیرے پہ شور برپا ہوا- کچھ لوگ ویگن پر ایک شخص کو رسیوں سے باندھ کے لائے تھے- وہ شخص سخت وحشی دکھائ دیتا تھا اور بار بار اپنا سر ویگن کی چھت سے ٹکرا رہا تھا- اس کا مونہہ کپڑے سے بندھا ہوا تھا اور وہ رسّیاں تڑانے کو بے تاب تھا-
میری نظر پڑی تو کہا ” چھوڑ دو اسے … کھول دو اس کی رسّیاں کچھ نئیں کہتا یہ … !!! “
یہ کہنا تھا کہ ساتھیوں نے واقعی اس کی رسیاں کھول دیں- ڈیرے پہ بھگدڑ سی مچ گئ- جس کا جدھر مونہہ آیا بھاگ کھڑا ہوا- میں اکیلا ہی میدان میں کھڑا رہ گیا- وہ شخص چھلانگ مار کے ویگن سے اترا- مونہہ سے کپڑا اتار کے دور پھینکا- اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں- وہ کف اُڑاتا ہوا وہ میری طرف بڑھا-
بے اختیار میرے مونہہ سے نکلا:
” قُلْنَا یَا نَارُ کُونِیْ بَرْدًا وَسَلَامًا عَلٰی إِبْرَاهِیْمَ “
اس کے بعد میں نے اپنے دونوں بازو کھول دئے- وہ کچھ دیر وحشیوں کی طرح مجھے دیکھتا رہا ، پھر سیدھا میرے گلے آن لگا- نجانے کس رنج و الم کا مارا ہوا تھا کہ پُھوٹ پُھوٹ کے رونے لگا- محبّت کی ایک جپھّی نے اس کی ساری وحشت اتار دی اور وہ برف کی طرح پگھل کے رہ گیا-
میں نے صافے سے اس کا مونہہ صاف کیا ، ماتھے پہ بوسہ دیا اور کہا:
” تیرے دکھ درد سب تکلیفیں آج سے ختم ہو گئیں- اپنے رب کا بندہ بن جا- وہ تجھ سے بہت محبّت کرتا ہے- تو بھی اسے یاد کیا کر- اب جا … آرام سے چارپائ پہ جا کے بیٹھ اور ایک سو ایک بار استغفراللہ کا ورد کر”
وہ خاموشی سے چارپائ پہ جا کے بیٹھ گیا اور انگلیوں پہ ذکر کرنے لگا-
مریدین اور بیماران دیواروں کے پیچھے سے جھانک جھانک کر یہ منظر دیکھ رہے تھے- اس قصّے کی شہرت پورے گاؤں میں پھیل گئ اور میرے مریدوں نے خوب ڈھول پِیٹا- معلوم ہوا کہ یہ شخص ایک عرصہ سے سیّد حاکم شاہ کے دربار پہ بندھا ہوا تھا- پیر صاحب نے شاید میرا امتحان لینے کو ہی اسے میرے اوپر چھوڑا تھا-
اس واقعے سے دربار سیّداں پہ کھُلبلی مچ گئ- حاکم شاہ کے نصف مرید تو اسی روز ٹوٹ کر مجھ سے آن ملے- باقیوں نے اسے دو پیروں کا ذاتی معاملہ قرار دیکر خاموشی اختیار کر لی-
دو روز بعد پیر حاکم شاہ کا خلیفہ خاص ملک الہی بخش مجھ سے ملنے آیا- میں اس وقت کمرے میں اکیلا پیاز کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا- وہ کچھ دیر خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا پھر نہایت ادب سے بولا:
” سائیں جی … وڈّے پیر صاحب کا پیغام ہے … آپ کےلئے “
میں نے کہا ” وڈّا پِیر ؟ کیا رب سائیں کا پیغام لائے ہو ؟”
وہ شرمندگی چھپاتے ہوئے بولا:
“پیر سیّد حاکم شاہ بخاری کا پیغام لایا ہوں جی … آپ کےلئے … !!”
میں نے کہا ” کہو؟”
وہ بولا ” بزرگ فرماتے ہیں کہ آپ دم درود کرنے سے پہلے دربار پہ آکر ان کا اذن حاصل کر لیں … “
میں نے کہا ” اِذن ؟ وہ کس لئے ؟”
بولا ” مجھے تو جو پیغام ملا تھا آپ تک پہنچا دیا جی ..!! “
میں نے چارپائ کے پائے پہ ایک بڑا سا پیاز توڑتے ہوئے کہا:
” پیر صاحب سے عرض کر دینا کہ سائیں اذن لے چُکا … بابا ڈاکیا سے … یہ پیاز دیکھ رہے ہو … ؟؟ یہی اذن ہے ڈاکیا سرکار کا … اب مزید کسی اذن کا مجھ میں حوصلہ نہیں …. !!”
وہ خاموشی سے اُٹھ کر چلا گیا-
کچھ ہی روز بعد گاؤں بھر میں مشہور ہو گیا کہ سائیں صلّو ، پیر حاکم شاہ کے اذن سے یہاں بیٹھا ہے- اور پیر صاحب جب چاہیں گے اسے ڈیوٹی سے ہٹا دیں گے- شاید یہ افواہ ملک الہی بخش نے ہی اڑائ تھی- اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ مجھ سے دم درود کروا کے نذرانے پیر صاحب کو جا کے دینے لگے- میں حالات کو اس نہج پہ نہیں لے جانا چاھتا تھا کہ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو- سو خاموش رہا اور پیر صاحب کا مقابلہ کرنے کی بجائے رب کی مخلوق پہ توّجہ دینے لگا-
پیر صاحب سے ہمارا مُلاکھڑا ولی محمّد کی وجہ سے ہوا- وہ تاپ کا مریض تھا اور ڈاکٹروں ، حکیموں ، اور عطائیوں سے لٹتا لٹاتا آخر پیر صاحب کے آستانے پر جا پڑا- زندگی کی کوئ صورت باقی نہ رہی تو پیر صاحب نے کہا “اس کا وقت آن پہنچا- اسے اٹھا کے گھر لے جاؤ”
لوگ ولی محمّد کو اٹھا کر ہمارے ڈیرے پہ لے آئے-
میں نے شازے سے کہا :
” جو اصیل مرغ تو نے لڑائ کے واسطے پالا ہوا ہے ، اس کی قربانی چاھئے …. !!!”
وہ حیرت سے میرا مونہہ دیکھنے لگا- میں نے کہا ” ہم وہ مرغ ذبح کر کے ولی محمّد کو کھلائیں گے … اس بے چارے کی رگ رگ میں بھوُک کُنڈلی مارے بیٹھی ہے … بھوک کا تاپ ہے یہ .. اصیل کُکّڑ سے ہی اترے گا”
شازے نے میرے حکم کی تعمیل کی- میں نے اپنے ہاتھوں سے مرغ ذبح کیا اور خود ہی ہانڈی میں پکایا- پھر ایک پلیٹ سالن کی نکال کے شازے کو دی اور کہا:
” یہ پلیٹ گاؤں کے اس گھرانے میں دے کر آؤ جہاں عید کے روز بھی گوشت نہیں پکتا …!!”
رب کے بینک میں یہ چھوٹی سی نیکی جمع کرا کے میں مصلّے پہ جا کھڑا ہوا-
رات بھر میں مصلّے پہ رہا اور شازا ولی محمّد کو بچے کھچے مرغ کی یخنی پلاتا رہا- اسے اتنا پسینہ آیا کہ رضائ بھیگ گئ- صبح دم رب سائیں کا چیک وصول ہوگیا اور ولی محمّد کا تاپ ٹوُٹ گیا-
میں نے اس کی بارگاہ میں سجدہء شکر ادا کیا پھر اشراق پڑھ کے چارپائ پہ جا گرا-
ادھر مرید میرے ڈھول بجانے گاؤں میں نکل کھڑے ہوئے- جگہ جگہ میرے اور حاکم شاہ کے مریدوں میں بحث چل نکلی- وہ کہتے کہ ولی محمّد پیر صاحب کے آستانے پہ ٹھیک ہوا ہے ، یہ کہتے کہ پیر صاحب نے تو شام کو ہی جنازہ اٹھا دیا تھا ، ٹھیک تو وہ سائیں کی دعا سے ہوا ہے-
بات بڑھی تو دربار والوں نے ولی محمّد سے صدقے کا بکرا مانگ لیا- وہ غریب بھاگا بھاگا میرے پاس آیا اور بولا:
“سائیں جی بکرا کِس کو چڑھانا ہے؟ آپ کو یا پِیر صاحب ؟”
میں نے کہا:
“خبردار – سادات پر اُمّت کا مال کھانا حرام ہے- اگر زیادہ ہی فالتو مال ہے تو بڑی عید پر قربانی کر دینا- حاکم شاہ کی بھینٹ مت چڑھانا- واپس لے جاؤ اسے …!! “
میرے اس بیان کو پیر صاحب کے سامنے توڑ موڑ کر پیش کیا گیا- کہا گیا کہ میں سادات کا منکر ہوں اور ان کی شان میں سخت گستاخی کرتا ہوں- حاکم شاہ کے مریدوں نے آسمان سر پہ اٹھا لیا اور دن رات میری بربادی کے منصوبے بنانے لگے-
بالاخر ایک روز یہ دشمنی رنگ لے آئ اور پولیس پارٹی نے ڈیرے پہ چھاپا مار دیا- میں عصر پڑھ کے تسبیح کر رہا تھا کہ شازا ہانپتا کانپتا کمرے میں آیا-
” سائیں جی … بب … باہر پولیس آئ ہے … وہ آپ کو بلاتے ہیں جی … آپ پچھلے دروازے سے نکل جائیں “
میں نے کہا ” کیوں ؟ سائیں نے کسی کا مال کھا رکھّا ہے کہ نکل جائے؟ … تم لوگ یہیں بیٹھو … میں کرتا ہوں بات ان سے … !!!”
شازا مجھے روکتا ہی رہ گیا اور میں گیٹ کھول کے باھر نکل آیا- سامنے گلی میں کیکر کے سائے تلے پولیس کی ویگن کھڑی تھی- ایک حوالدار بونٹ سے ٹیک لگائے سگریٹ پھونک رہا تھا- مجھے آتا دیکھ کر اس نے سگریٹ بجھائ اور رعونت سے بولا:
“سائیں کو بھیجو … باہر .. !!”
میں نے قریب جا کر سلام کیا اور کہا ” جی فرمائیے … سائیں حاضر ہے … !!”
اس نے حیرت سے مجھے سر تا پاؤں گھوُرا اور بولا:
” ہم نے سنا ہے آپ کے ڈیرے پہ پیپل پالٹی کا جھنڈا لہرایا جاتا ہے؟ جئے بھُٹّو کے نعرے لگتے ہیں؟ وی سی آر پہ بھارتی فلمیں چلتی ہیں …!!”
میں نے کہا ” جھنڈا تو فی الحال اُسی کا ہے جس کے ہاتھ میں ڈنڈہ ہے … ھمارے پاس تو صرف تسبیح ہے …. وی سی آر کیا یہاں ریڈیو بھی نہیں بجتا … اور بھٹّو صاب کو عرصہ ہوا ہم نے نہیں دیکھا …!!”
وہ بولا ” ہمیں یہی خبر ملی ہے- تلاشی لینا پڑے گی ہمیں ڈیرے کی”
میں نے کہا ” تشریف لائیے”
پولیس ڈیرے پہ داخل ہو گئ- پندرہ بیس مریض چارپائیوں پہ موُدھے سیدھے پڑے تھے- ان پہ ایک نظر ڈالی پھر کمروں میں جا کے الٹ پلٹ کرنے لگی- تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک سپاہی کسی کمرے سے پرانا سا اخبار لیکر باھر نکلا اور حوالدار سے کہا:
“سر رونامہ مُساوات مِلا ہے .. بھُٹّو کی فوٹو بھی ہے اس میں … !!”
حوالدار نے میری طرف دیکھا- میں نے کہا ” لے جاؤ مساوات کو اور تندور میں ڈال دو … تین دن تک مسلسل آگ جلانا … پھر جو راکھ بچے … اسے راوی کے پُل سے بہا دینا … اگر پھر بھی بھُٹّو زندہ رہا تو سمجھ لینا سرکار کو واقعی خطرہ ہے … مساوات سے …. !!!”
وہ شرمندہ ہوا- اس نے اخبار لپیٹ کر سپاہی کو دی اور خاموشی سے رخصت ہو گیا-
دوسرے روز اشراق کے بعد صحن میں مریضوں کو دم کر رہا تھا کہ وہی پولیس حوالدار اندر آگیا- وہ سِوّل لباس میں تھا- میں نے اس کی طرف کوئ توّجہ نہ کی اور برابر مریضوں کو دم کرتا رہا- کام ختم کر کے میں خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا آیا-
کچھ ہی دیر بعد شازا اسے ساتھ لئے میرے کمرے میں آیا اور بولا:
“حوالدار شوکت صاحب آئے ہیں جی … معافی مانگنے ..!!”
میں نے ڈانٹ کر کہا:
” میری اجازت کے بغیر کیوں لائے ہو اسے …؟ سارا دِن دم دروُد کر کے شیطانوں کو بھگاتا ہوں .. تو پکڑ پکڑ کے میرے کمرے میں لا رہا ہے ؟؟ “
حوالدار ہاتھ جوڑ کر میرے پاؤں میں بیٹھ گیا- اور بولا:
” خُدا کا واسطہ … معاف کر دیو سائیں … میرے باپ کی بھی توبہ کہ آئندہ ادھر کا رخ کروں … کل واپس جاتے ہوئے ویگن کا ٹائر پھٹ گیا … تین مرغیاں تھیں … رات بِلّے نے مار دیں … آج صبح تھانے پہنچا تو معلوم ہوا کہ قتل کے ایک کیس میں غلط تفتیش کرنے پر معطّل ہو رہا ہوں … میری بیلٹ بچا لو سائیں جی …!!”
میں نے کہا ” اس بیلٹ سے کتنے مظلوموں کی پیٹھ ادھیڑی ہے تو نے ؟ کتنی ماؤں کا کلیجہ دکھایا ہے ؟ کسی اور کی آہ لگی ہو گی … سائیں کا تو نے کیا بگاڑا ہے ؟”
وہ بولا ” آپ پولیس اسٹیشن جا کر پوچھ لو … آج تک یہ ہاتھ کسی بے گناہ پر نہیں اٹھا .. آج تک ایک آنے کی رشوت نہیں لی .. ہمیشہ بچّوں کو حلال کھلایا ہے .. پوری تفتیش کر کے اصلی قاتل پکڑا تھا ، اس نے اپروچ کر کے معطّل کرا دیا ہے …جو آئے روز بے گناہوں کا چمڑا ادھیڑتے ہیں وہ ترقیّاں بھی پاتے ہیں اور ان کا نقصان بھی نہیں ہوتا … !!”
میں نے کہا ” اگر توُ واقعی ایمان دار ہے اور میری وجہ سے تیرا نقصان ہوا ہے تو میں رب تعالی سے استغفار کرتا ہوں .. دعا کرونگا تیرے لئے”
اس نے باھر کسی کو آواز دی- ایک شخص کے-ٹی کا تھان اٹھائے اندر آیا اور اسے پکڑا دیا-
میں نے کہا ” یہ کیا ہے ؟”
بولا ” آپکےلئے تحفہ لایا ہوں-
میں نے کہا ” میں تحفے اور نذرانے قبول نہیں کرتا”
وہ بولا “یہ حلال کمائ کا ہے- کسی کا تحفہ نہیں ٹھکرانا چاھئے- میں آپ کی نذر کرتا ہوں- آپ بھلے کسی اور کو بخش دیں”
میں خاموش ہو گیا-اس نے اٹھ کر عقیدت سے سلام کیا اور خاموشی سے رخصت ہو گیا-
کوئ مہینہ بعد ایک نئ یلغار کا سامنا ہو گیا- مغرب سے پہلے ہم عموماً دم درود بند کر دیا کرتے تھے- اس روز ڈیرے پہ سائلوں کا رش تھا- ہم نے مغرب کے بعد بھی کام جاری رکھّا- عشاء سے کچھ دیر پہلے ملک سہیل باہر سے بھاگتا ہوا آیا اور شور کیا کہ پیر حاکم شاہ کے لوگ ڈنڈے سوٹے لیکر آ رہے ہیں … کمریں کس لو-
مریدوں نے فوراً اٹھ کر گیٹ بند کیا پھر کمروں سے اپنے اپنے ڈانگ سوٹے نکالنے لگے-
میں نے کہا:
” یہ کیا کر رہے ہو ؟ یہی سکھایا ہے میں نے تمہیں … خبردار ..کوئ لڑائ نہیں کرے گا …. گیٹ کھول دو … آنے دو انہیں … میں نمٹ لیتا ہوں ان سے … !! “
انہوں نے گیٹ کھولا تو آٹھ دس لٹھ بردار اندر چلے آئے- میرے مرید ہتھیار بند ہو کر میرے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے-
میں نے کہا ” خبردار … کوئ لڑائ نہیں ہو گی یہاں … مجھ سے بات کرو … کیا کہتے ہو ؟”
ان میں سے ایک جو قدرے ادھیڑ عمر تھا بولا:
“آپ نے سادات کی شان میں گستاخی کی ہے …. دربار پہ جا کے معافی مانگو یا گاؤں چھوڑ کے چلے جاؤ … ورنہ ہم خود نمٹ لیں گے تُم سے …!!”
میں نے کہا ” گاؤں تو کسی صورت نئیں چھوڑوں گا …. رہی بات گستاخی کی تو پہلے یہ بتاؤ کہ کیا گستاخی کی ہے میں نے ؟؟”
وہ بولا ” آپ نے پیر سیّد حاکم شاہ بخاری کو جعلی سیّد کہا ہے؟ یہ گستاخی نئیں تو کیا ہے؟”
میں نے کہا ” سیّد کی تعریف جانتے ہو ؟”
وہ بولا ” ہاں جانتا ہوں … آلِ رسوُل ، اولادِ علی رض کو سیّد کہتے ہیں … “
میں نے کہا ” اب یہ بتاؤ کہ مولا علی شیرِ خدا رض ، سیّدنا حسن رض اور سیّدنا امام حسین رضی اللہ تعالی .. آلِ رسول تھے ناں ؟؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے کہا:
” اب یہ بتاؤ کہ سیّدین کونین لوگوں میں خیرات بانٹا کرتے تھے یا ان سے خیرات وصول کیا کرتے تھے …. ؟؟ “
وہ کچھ دیر چُپ ہوا اور بولا :
“یہ بات آپ پیر صاحب سے خود جاکے پوچھیں … !!!”
میں نے کہا ” میں کیوں پوچھوں؟ تین پشتوں سے لٹتے تم چلے آ رہے ہو …. پوچھوں میں؟ جاؤ اور پوچھو اپنے پیر صاحب سے کہ اہلِ بیت اطہار کون تھے؟ تین روز تک مسلسل بھوکے رہ کر فقیروں کو کھانا کس نے کھلایا تھا ؟؟ دروازے پہ آئے ہوئے سائل کو بکریوں کا ریوڑ کس نے بخشا تھا؟ … صبح سے شام تک سونے چاندی کے سکّے غریبوں میں کس نے بانٹے تھے؟ قاتل کو شربت کس نے پلایا تھا ؟ چکّی پیس پیس کر کس ہستی کے مبارک ہاتھوں میں آبلے پڑ گئے تھے؟ اصلی ہونگے تو جواب ضرور دیں گے … جواب مل جائے تو مجھے بھی آ کے بتا دینا “
وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے- مجمع سے اٹھ کر کچھ بزرگوں نے انہیں سمجھایا بجھایا تو واپس لوٹ گئے-
شام کو پیر صاحب کا وزیر خاص الہی بخش بھاگتا ہوا آیا-
“پیر صاحب اپنے مریدوں کی حرکت پہ سخت رنجیدہ ہیں … اور آپ سے معزرت کرنے کو دربار پہ بلا رہے ہیں …!!”
میں نے کہا ” حملہ سائیں کے ڈیرے پہ آ کے کرتے ہیں اور صلح کےلئے دربار پہ بلاتے ہیں ؟ سائیں صرف اپنے مالک کے دربار پہ جاتا ہے … نئیں جاؤں گا … بتا دو جاکے کہ سائیں نے انکار کر دیا ہے ….!! “
وہ خاموشی سے چلا گیا-
دو روز بعد ایک شب میں ڈیرے کے پچھلے احاطے میں مریدوں کی محفل سجائے بیٹھا تھا- مُرید چارپائیوں کے بیچ آگ کا بھانبھڑ جلا کے مکئ کے بھُٹّے بھون رہے تھے-
اچانک ملک ایّوب میرے پاس بھاگا بھاگا آیا اور بولا:
” پیر صاحب آئے ہیں … دوسرے احاطے میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں … خدا کےلئے کوئ گستاخی نہ کیجئے گا … آخر سیّد ہیں … پانی گدلا بھی ہو جائے تو آگ پہ حاوی رہتا ہے”
میں خاموشی سے اُٹھا اور دوسرے احاطے میں چلا آیا- پیر صاحب عصاء تھامے بڑی سی آرام کرسی پر تشریف فرماء تھے- یہ کرسی بھی ان کے مُرید دربار سے ہی ساتھ لائے تھے- دو کمزور سے مُرید ان کی مُٹھی چانپ میں مصروف تھے-
مجھے آتا دیکھ کر انہوں سے سر اٹھایا اور مریدوں کو باہر جانے کا حکم دیا-
میں سلام کر کے پیڑھا گھسیٹ کے ان کے پاس جا بیٹھا- وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے:
” نام کیا ہے تیرا ….؟؟”
” میں نے کہا ” صلاح الدین …!! “
“کہاں سے آئے ہو ؟؟”
میں نے کہا “راوی پار سے !!”
” قوم کیا ہے تیری ؟؟”
کہا ” کمہار ہوں”
انہوں نے بڑی سی ہونہہ کی اور بولے:
” مالک کی مرضی …. فقر کا خزانہ اسی کا ہے … جسے چاہے بخش دے … چاہے تو چوروں کو قطب بنا دے … کون پوچھ سکتا ہے اس سے؟؟ … مانا کہ بخت تیرا عروج پہ ہے … جوانی میں فقیری وی مل گئ … مرید وِی … اور ملک پور جیسا زرخیز پِنڈ وِی … خیر جو مرضی مالک کی … ہم کیا کہ سکتے ہیں … ہم تو صرف سمجھانے آئے ہیں کہ فقیر بن گیا ہے تو فقیری کا طریقہ وِی سیکھ …. پیری فقیری کے کچھ اصول ہوتے ہیں … کوئ قاعدے ہوتے ہیں ، کچھ قانون ہوتے ہیں …!! “
میں نے کہا ” مجھے سمجھا دیجئے میں نے کون سا قاعدہ قانون توڑا ہے ؟”
وہ بولے:
“دیکھ … مولوی مولوی کا ویری ہوتا ہے … اس کے ساتھ لڑتا ہے … بھڑتا ہے .. مناظرے کرتا ہے … اس کے رد میں تقریریں کرتا ہے … کتابیں چھاپتا ہے …. لیکن پِیر ایسا نئیں کرتے … پِیر تو پِیر کا بھائ ہوتا ہے …. کبھی تو نے قادری ، سہروردی ، نقش بندی اور چشتی کو آپس میں سینگ پھنسائے دیکھا ہے؟ لڑتا کون ہے؟ شیعہ ، بریلوی ، دیوبند ، وہابی … ہر وقت ایک دوسرے پہ کیچڑ پھینکیں گے … اسی لئے تو وہ کیچڑ میں لت پت رہتے ہیں اور پِیر کا مزار بھی اگر بتیوں سے مہکتا رہتا ہے … اسی لئے مسجدوں سے عوام کنارہ کر گئ ہے اور آستانوں پہ بیٹھنے کو جگہ نئیں ملتی … اسی لئے مولوی تنگ دست رہتا ہے اور پیر کا لنگر سال بھر چلتا ہے- دیکھ صلاح الدین … لڑائ کریں گے تو دونوں تنگ دست رہیں گے … مل جل کر رہیں گے تو خدا شان بنائے رکھّے گا … ہماری تیسری پیڑھی چل رہی ہے اس پِنڈ میں … مُدتوں پہلے یہاں اولے پڑے تھے … ڈنگر ، وچّھے ، کُکّڑ ، بٹیرے سب مر گئے تھے … فصلیں تباہ ہو گئ تھیں … پھر ہمارے پردادا سائیں …. سیّد بودلے شاہ بخاری نے فصلوں کو کڑا دیا … ذمّہ واری اٹھائ کہ آئیندہ اس پِنڈ میں اولہ نہیں پڑے گا …. فصلیں تباہ نہیں ہونگی … آج تک اولے نہیں پڑے … ہم اسی کڑے کا صدقہ لیتے ہیں … یہاں سے چلے گئے تو بربادی آئے گی … لیکن تیرے جانے سے کوئ نقصان نہ ہو گا … نہ پِنڈ کا … نہ تیرا … یہ ہماری گارنٹی ہے … یہاں سے صرف تین مِیل دور چار چَک ہے … اسے راجوں والا پِنڈ بھی کہتے ہیں … میں نے بات کی ہے وہاں … راجہ افتخار سے … وہ تجھے ڈیرہ بھی دے گا …. اور مرید بھی … تیری ٹہل سیوا بھی یہاں سے زیادہ ہو گی …. تو راجوں کے پِنڈ چلا جا … ملک پور کو ہمارے ہاتھ میں رہنے دے …!!”
میں کچھ دیر آنکھیں بند کئے بیٹھا رہا پِھر کہا :
” پیر سائیں … میں یہاں اپنی مرضی سے نہیں بیٹھا … بابا ڈاکیا سرکار نے بٹھایا ہے مجھے … فقیری کا چارج بھی میں نے انہی سے لیا ہے … مانا کہ سیّد نہیں ، کمّی کمین ہوں … نہ بارش کو روک سکتا ہوں نہ اولوں کو … میں تو امریکن سنڈی کو بھی نہیں روک سکتا جو ہر سال ان غریبوں کی فصل اجاڑ دیتی ہے … ہاں میں ٹوٹے دِلوں کو ضرور جوڑ سکتا ہوں … بہتے آنسوؤں کے آگے ڈھارس کا بند باندھ سکتا ہوں … رب سائیں سے ان کےلئے دُعا کر سکتا ہوں … یہی نوکری ہے میری … اور یہ نوکری میں کرتا رہونگا … اسی پِنڈ میں ….!!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: