Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 25

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 25

–**–**–

گاؤں میں ہر روز کئ اخبارات شائع ہوتے تھے- یہ اخبارات کسی کاغذ پہ نہ لکھّے ہوتے بلکہ گپ شپ کی صورت ہوتے تھے- ان کی شہہ سرخیاں اڈّے پر بیٹھے ہوئے جواری مُرتّب کرتے، ان کے اداریے گاؤں کے حجام لکھتے اور بڑی بوڑھیاں سر جوڑ کر ان پہ کالم نگاری کرتی تھیں-
پیر صاحب کی ہم سے خفیہ ملاقات بہت جلد طشت ازبام ہو گئ- گاؤں کے اخبارات نے رنگا رنگ سرخیاں جمائیں- کسی نے لِکھّا ” سائیں چل کے پِیر کے پاس آیا ” تو کسی نے سرخی جمائ “سیّد چل کے سائیں کے پاس گئے”- ان حالات میں ایک عام آدمی سخت تذبذب کا شکار ہو گیا- حالات بہتری کی بجائے بدتری کی طرف جانے لگے-
مجھے مریضوں کو دم کرنے اکثر دور دراز گاؤں پنڈوں میں جانا پڑتا تھا- حالات اس نہج پہ آ گئے کہ ادھر میں گاؤں سے نکلتا ادھر سرخی لگ جاتی کہ سائیں گاؤں چھوڑ کر چلا گیا ہے- اسی طرح پیر صاحب کسی مرید کی دعوت پہ دوسرے گاؤں چلے جاتے تو خبر لگ جاتی کہ ” بالاخر پیر صاحب نے گاؤں چھوڑ دیا …!!”
اگلا معرکہ مسجد چوک پہ پیش آیا- اس روز نمازِ جمعہ کے بعد میرے ایک مرید کو پیر صاحب کے مُرید نے اچھی طرح پھینٹ ڈالا- جھگڑا “کمہار کا مُرید” ہونے کے طعنے پہ شروع ہوا تھا- جواباً اس نے اسے “ڈاکو کا مُرید” کہ کر بھڑکا دیا- دونوں طرف گریبانوں کی دھجیّاں اڑ گئیں- خیر بڑے بوڑھوں نے آگے بڑھ کر مداخلت کی اور کوئ بڑا نقصان نہ ہوا لیکن تعصّب کی آگ پورے گاؤں میں پھیل گئ-
شام کو دربار سیّداں سے ایک نئ تجویز آگئ-
الہی بخش نے آ کر کہا:
“پیر صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کمّیوں والی پانڈ چلے جائیں- نائ ،موچی ، دھوبی ، کمہار ، ماشکی ، وگاری، مُسلّی سب وہاں رہتے ہیں- اگر آپ واقعی انسان کی برابری کے قائل ہیں تو کمیوں کی پانڈ جا کر رہیں اور ان کے پِیر بن جائیں”
میں نے کہا ” یہ کیا بات ہوئ؟ کیا رب تعالی نے کمیوں اور دوسرے انسانوں کےلئے الگ الگ پیغمبر اتارے؟ کیا حضرت نوح لکڑی کا کام نہ کرتے تھے؟ حضرت ادریس کپڑے نہ سیتے تھے؟ حضرت داؤد نے لوہا نہ کوُٹا تھا؟ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلّم اپنے نعلین مبارک خود نہ مرمّت فرماتے تھے- پیر صاحب سے کہیں آپ سیّدوں والے پِنڈ چلے جائیں تاکہ عام انسانوں کے کندھوں سے بوجھ اترے اور وہ سُکھ کا سانس لے سکیں … !!”
گندم کی کٹائ عروج پہ تھی کہ موسم کے تیور بگڑنے لگے- پہلے آندھیاں آئیں ، پھر صبح شام بارش برسنے لگی- کسانوں کے کھلواڑے بھیگ گئے- ایک روز اچانک ژالہ باری شروع ہو گئ- اتنا موٹا دانہ برسا کہ لوگ پناہ پناہ کر اُٹھے- موسم تو دو روز بعد اچھا ہو گیا لیکن پیر صاحب کا کڑا ، کڑکڑا کے ٹوُٹ گیا-
لوگ مایوس ہو کر میرے پاس دوڑے آئے کہ آپ ہماری فصل کو تازہ کڑا دیں تاکہ گندم برباد ہونے سے بچ جائے-
میں نے کہا :
“بھائیو … گرمی ، سردی ، بہار ، خزاں ، آندھی طوفان یہ سب اللہ تعالی کی قدرت ہے- موسم پہ انسان کا کیا اختیار؟ ہاں رب تعالی نے انسان کو عقل ضرور دی ہے کہ نقصان سے بچنے کی تدبیر کرے- سب سے بہتر تدبیر صدقہ ہے- جو نذر نیاز تُم پیر صاحب کو چڑھاتے ہو ، وہی اگر رب کے بینک میں جمع کرا دو تو انہی بھیگے ہوئے کھلواڑوں سے تمہارا سال بھر کا رزق نکل سکتا ہے- ضمانت میں دیتا ہوں … بتاؤ کون کون تیّار ہے …؟؟”
” کیا مطلب؟ یہ رب کا بینک کہاں ہے؟” ایک بابے نے پوچھا-
” آسمانوں میں … ” میں نے کہا-
” اور آسمان پہ چڑھے گا کون؟” میں نے کہا ” آسمان پہ چڑھنے کی ضرورت نہیں … زمین پہ کسی نادار کا ہاتھ پکڑ لو ، آسمان پہ رزق کا دروازہ خودبخود کھُل جائے گا … سب سے زیادہ منافع وہی دیتا ہے … اور اس اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے صدقہ و خیرات … اگر ہر زمیندار یہ نیّت کر لے کہ وہ ایک بوری گندم ہمارے ڈیرے پہ بھجوائے گا ناداروں کےلئے تو ان شاءاللہ انہی کھلواڑوں سے صحت مند دانے نکل آئیں گے- بودلے شاہ کا کڑا تو تم لوگوں نے دیکھ ہی لیا اب سائیں کا کڑا بھی آزماء کے دیکھ لو …!!”
” ٹھیک ہے … ہم دیں گے … ہم سب دیں گے ” وہ یک زبان ہو کر بولے-
میں نے کہا ” تین روز بعد جا کر اپنا کھلواڑہ کھول لینا … ان شاءاللہ صاف گندم نکلے گی”
اللہ پاک نے فضل کیا اور یہ کڑا واقعی کارگر رہا- اگلے کچھ روز خوب دھوپ نکلی اور گندم کی گہائ شروع ہو گئ- ہفتہ بھر میں ہمارے ڈیرے پہ گندم کے ڈھیر لگ گئے- ہم نے مریدوں کو دانے صاف کرنے پہ لگا دیا- منڈی سے خالی بوریاں منگوائیں پھر غریبوں کی پانڈ میں تقسیم کرنے نکل کھڑے ہوئے-
ایک روز ہم گندم تقسیم کرنے کو اڈّے کی طرف جا رہے تھے کہ پیر صاحب کی گاڑی آتی دکھائ دی- شاید وہ شہر سے واپس آ رہے تھے- ملک فیصل نے بتایا کہ پیر صاحب کچھ روز سے بیمار ہیں اور علاج کی غرض سے آج کل شہر جاتے رہتے ہیں-
میں نے کہا ” ان شاءاللہ شام کو ہم ان کی عیادت کےلئے ضرور جائیں گے”
مغرب کے بعد ہم فیصل اور شازے کو ساتھ لئے پہلی بار پیر صاحب کے آستانے پہ گئے-
دروازہ الہی بخش نے کھولا- وہ کچھ دیر ہمیں حیرت سے دیکھتا رہا پھر بولا:
“خخ … خیریت ؟؟”
میں نے کہا ” گھبرائیے مت- ہم صرف پیر صاحب کا حال پوچھنے آئے ہیں … جائیے اور اجازت لے کر آئیے …!!”
وہ بھاگا بھاگا اندر گیا- کافی ساعتوں کے بعد لوٹا اور ہانپتے ہوئے بولا:
“آپ اکیلے کو بلا رہے ہیں جی .. باقیوں کےلئے اجازت نہیں …!!”
میں نے شازے اور فیصل کو باہر کھڑا کیا اور الہی بخش کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا-
پیر صاحب کی حویلی تقریباً ڈیڑھ ایکڑ پہ پھیلی ہوئ تھی- صحن میں ایک پکّی تُربت تھی جسے سفید سنگ مرمر نے برف کی طرح ڈھانپ رکھا تھا- اس پہ چراغ اور اگر بتیاں روشن تھیں- قیمتی پتّھر پر پڑنے والی روشنی نے پورے صحن کو بقعہء نور بنا رکھّا تھا- کچھ زائرین صحن میں لیٹے ہوئے تھے اور کچھ تربت پہ بیٹھے قران مجید پڑھ رہے تھے-
کچھ آگے بڑھے تو ایک خوبصورت پنگھوڑے پہ نظر پڑی- کچھ زائرین اس کا محاصرہ کئے بیٹھے تھے- ایک بارہ تیرہ سالہ سرخ و سفید لڑکا ماحول سے بے نیاز پنگھوڑے پہ آرام فرما رہا تھا- ہم قریب سے گزرے تو الہی بخش نے کہا:
“حضرت جی کے صاحبزادہ شریف … نِکّے شاہ جی …. سلام کرتے جائیے …!!”
ہم نے اسلام علیکم کہا لیکن نِکّے شاہ جی نے کوئ توجّہ نہ کی اور ہاتھوں میں پکڑی پلاسٹک کی ایک گڑیا سے کھیلتے رہے-
اچانک ہی طبلے پہ تاپ پڑی اور سامنے بیٹھے قوالوں نے مصرعہ اٹھا دیا …
تیرا چاندی دا جھولا
تیرا سونے دا پلنگ
نکّا بابا ملنگ …
میرا بابا ملنگ …!!
تان اچھّی تھی مگر رقص کی خواہش دم توڑ چُکی تھی- نگاہوں میں ٹاٹ سے بنے وہ جھولے گھوم گئے جن میں غریبوں کے بچّے سارا دن چیختے چلاتے تھے- مکھیاں جن پر دِن بھر بھنبھناتی تھیں اور مائیں جِن کی سارا دن گندم کاٹتی تھیں-
سامنے تین اطراف میں برامدوں کی قطار تھی جن پر شیشے سے خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے تھے- ایک طرف بڑا گودام تھا جہاں گندم کی بوریاں رکھّی ہوئ تھیں-
الہی بخش ہمیں مختلف برامدوں میں گھماتا پھراتا بالاخر آخری کمرے تک لے گیا- پھر ایک دروازے پہ کھڑے ہو کر دستک دی اور اندر چلا گیا- ہم باہر کھڑے دیواروں کے نقش و نگار دیکھنے لگے-
کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا اور الہی بخش نے جھانک کر کہا-
“حضرت صاحب اکیلے ہی ہیں جی … آپ جوتے اتار کر اندر تشریف لے آئیں …!!”
میں نے جوتے اتارے اور اندر چلا گیا- پیر صاحب ایک وسیع و عریض پلنگ پر نیم دراز تھے- میں نے سلام عرض کیا ، انہوں نے خفیف سی آواز میں جواب دیا اور کرسی کی طرف اشارہ کر دیا-
میں کچھ دیر کرسی پہ خاموش بیٹھا رہا- انہوں نے الہی بخش کو چائے کا کہا- جب وہ چلا گیا تو بولے:
” خیریت ؟ آج کیسے رستہ بھول پڑے؟”
میں نے کہا:
“آپ کی بیماری کی اطلاع موصول ہوئ- سوچا خیر خیریت دریافت پوچھ لوں- کیسی ہے اب آپ کی طبیعت ؟”
وہ بولے : “طبیعت تو وہی ہے جو دیکھ رہے ہو … افسوس تو نے ہماری کوئ بات نہ مانی … فساد ہم چاھتے نہ تھے … پیار سے تو نئیں مانتا … مولویوں والی ضد لگا رکھّی ہے … چاھتا کیا ہے آخر توُ ……؟؟ “
میں نے کہا ” چاھت تو اسی دن رخصت ہو گئ جس روز ناک میں فقیری کی نکیل پڑی تھی .. بخدا میں نے کبھی آپ کا برا نہیں چاہا … آپ کی نسبت کا احترام کرتا ہوں … میں تو بس ان انسانوں کےلئے فکرمند ہوں جنہیں آپ نے نسبت کی اس نکیل سے باندھ رکھّا ہے … حسب نسب تو دنیاداری کا تماشا ہے پیر جی .. نوح کا بیٹا ہو یا خلیل اللہ کا باپ … رب کے ہاں اس کی کوئ حیثیّت نہیں … وہاں صرف اچھّا عمل ہی معتبر ہے …..!!”
وہ بولے:
“یہ بات نہیں صلاح الدین … ہم نے کسی کو نسبت سے نہیں باندھا … حسب نسب کی وجہ سے کوئ عقیدت رکھتا ہے تو اس کی مرضی … کوئ نہ رکھّے تو زبردستی تھوڑی ہے؟”
میں نے کہا:
“رزق پہ سب انسانوں کا حق ہے … جو چڑھاوے دربار سیّداں پہ چڑھتے ہیں کیا ان پر غریبوں مسکینوں کا کوئ حق نہیں ؟؟”
وہ بولے:
” ہمارے ہاں جو رزق آتا ہے وہ غریبوں پہ ہی خرچ ہوتا ہے … عرس ، گیارہویں ، کونڈے مخلوقِ خدا ہی کھاتی ہے … دو مربع زمین ہماری اپنی ہے … ہم کسی پہ بوجھ نہیں … تُم خوامخواہ لوگوں کا دماغ کیوں خراب کر رہے ہو ؟؟”
میں نے کہا :
“میں نے کسی کا دماغ خراب نہیں کیا … ہاں وہ غریب جسے دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں اسے روکا ضرور ہے … کہ آپ کے دربار پہ کچھ مت چڑھائے ..!!”
وہ بولے:
“دیکھو صلاح الدین …. کئ سال سے ہم بیمار چلے آتے ہیں … شوگر نے جسم کا جوڑ جوڑ تباہ کر دیا ہے … ایک ہی صاحبزادہ ہے ہمارا … نِکّے شاہ … عقل سے بھی بودلہ ہے … نہ پڑھ سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے … نہ ہی کسی کام کے قابل ہے … ہمارے ہوتے ہوئے بادشاہوں والی زندگی گزاری ہے اس نے … وہی ہماری گدّی کا تنہا وارث ہے … تمہاری وجہ سے لوگ ہم سے ٹوٹ رہے ہیں … سوال کرنے لگے ہیں … گستاخ ہو رہے ہیں … اس سال بمشکل سال بھر کی گندم جمع ہوئ ہے … اگلے سال شاید یہ بھی نہ ملے … اگر یہی سلسلہ رہا تو گدّی نہیں رہے گی …. گدّی نہ رہی تو نکّے شاہ رُل جائے گا … !!”
اس کے بعد انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور آسمان کی طرف دیکھ کر بھرّائ ہوئ آواز میں کہا:
“واہ میرے مولا تیرے رنگ … آج ایک سیّد زادہ …. ایک کمہار کے سامنے بیٹھا اپنی گدّی کی بھیک مانگ رہا ہے ؟”
میں نے کہا ” ضرور سیّد زادوں سے کوئ بھول ہوئ ہے …. ورنہ آپ سے گدّی چھین کر وہ ہم کمینوں کو کیوں دیتا؟ کہاں آپ اور کہاں ہم … جب شاہ اپنے فرائض سے غافل ہو جائیں تو پیچھے کُمہار اور جولاہے ہی بچتے ہیں … وہ مالک ہے … جسے چاھے نوکری پہ رکھّ لے … بہرحال آپ فکر نہ کریں … آپ کی گدّی سلامت رہے گی … میری اس طرف کوئ نگاہ نہیں …اس گدّی پہ نکّے شاہ ہی بیٹھے گا … مجھ سے آئیندہ آپ کو کبھی کوئ رنج کوئ تکلیف نہ پہنچے گی … آپ اپنے دربار پہ خوش رہیں … ہمیں اپنے ڈیرے پہ خوش رہنے دیں …. اپنے مریدوں کو سمجھا دیجئے … پھڈّے کرنا چھوڑ دیں …ہم بھی سمجھا دیں گے … آج کے بعد کوئ جھگڑا ، کوئ لڑائ نہ ہو گی .. !!”
پِیر صاحب نے غیر یقینی نظروں سے مجھے دیکھا- اس دوران الہی بخش چائے لیکر آگیا اور ہم خاموش ہو گئے-
میں نے کہا:
“اگر آپ اجازت دیں تو شازے کو بلوا لوں … کچھ نزرانہ لایا تھا آپ کےلئے …!!”
وہ مسکرائے اور سر ہلا کر اجازت دی- میں نے الہی بخش کو بھگایا- تھوڑی ہی دیر میں شازا کے- ٹی کا تھان لیکر حاضر ہو گیا-
میں نے کہا ” یہ قبول کیجئے .. اور غلطی کوتاہی معاف کر دیجئے … آئیندہ سے آپ کے بھائ بن کے رہیں گے “
پیر صاحب نے الہی بخش کو اشارہ کیا- کچھ دیر میں وہ بھی ایک کپڑے کا تھان لیکر آ گیا- پیر صاحب اٹھے اور اپنے ہاتھوں سے ہمارے سر پہ پگ باندھنے لگے-
پیر صاحب سے جنگ بندی کا معاملہ بڑا کارگر رہا- گاؤں والوں نے بھی سکون محسوس کیا اور ہم پر بھی برکت کے چشمے پھوٹ پڑے-ھم جتنا خرچ کرتے گئے ، مالک ستر سے ضرب دے کر لوٹاتا رہا- ڈیرے پہ ٹیلی فون لگ گیا ، شازے نے دور دراز کے مریدوں کو دم کروانے کےلئے ڈاٹسن خرید لی- پھر کرولا چھیاسی آ گئ – آہستہ آہستہ ہم بھی سائیں سے پیر بنتے چلے گئے-
ھم نے پیر حاکم شاہ کے ساتھ کئے معاہدے کا پورے چھ ماہ تک پاس رکھا- نہ ہم ان کے ہاں گئے نہ وہ ہماری طرف آئے لیکن ہر ماہ انہیں کچھ نہ کچھ ھدیہ ضرور بھجواتے رہے- تاھم اس یادگار معاہدے کے چھ ماہ بعد ہی پیر صاحب دنیا کی عارضی گدّی چھوڑ کے دار بقاء تشریف لے گئے-
ہم نے خود جا کر نِکّے شاہ کی نذر اتاری- اسے سادات کی دائمی گدّی پہ بٹھایا جس کا وہ اصل وارث تھا- ہمارا کیا ہے؟ ہم تو عارضی نوکر ہیں- کیا معلوم کب مالک نوکری سے برخواست کر کے دوبارہ کمہاروں والی بھٹّی پہ بٹھا دے-
ہم پیر صاحب کے جنازے میں مع مریدوں کے اسی طرح شریک ہوئے جس طرح وہ سال پہلے بابا ڈاکیا کے جنازے میں شریک ہوئے تھے- وہی ہٹّو بچّو کا شور ، وہی سفید رنگ کی گاڑی ، اور جنازے کے بعد وہی محبّت بھرا اعلان کہ پیر صاحب کے ذِمّہ کسی کا قرض یا بقایا ہو تو ہم دینے کو حاضر ہیں ….!!”
ہم مولوی تھوڑی ہیں جو ٹکّے ٹکّے کے مسئلوں پہ ایک دوسرے کو پچھاڑتے رہیں- ہم پیر ہیں اور پیر ہمیشہ بانٹ کے کھاتے ہیں- اسی لئے خوشحال رہتے ہیں- بقول پیر حاکم شاہ بخاری مرحوم … مولوی مولوی کا ویری ہوتا ہے اور پِیر پِیر کا بھائ …. !!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: