Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 26

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 26

–**–**–

تین سال بیت گئے-
ہماری شہرت ملک پور سے نکل کے چہارسوُ پھیل چکی تھی- دور دراز سے لوگ ہماری زیارت کو آ رہے تھے- ڈیرے پہ بسوں ، کاروں ویگنوں اور رکشوں کا اژدھام رہنے لگا تھا-
ایک روز بھٹّے والا پٹھان بھی ادھر آ نکلا اور پانچ ہزار نقد چڑھائے- اس کی بیٹی عفریت سے آزاد ہو چکی تھی اور وہ مُدّت سے ہمیں ڈھونڈ رہا تھا- ڈیرہ غازی خان سے نواب رئیس بھی تشریف لائے اور دس ہزار لنگر کےلئے ھدیہ کیا- اس کے بعد تو جیسے روپے پیسے کی بارش شروع ہو گئ-
ہم نے ایک روپیہ نہ رکھّا اور خلقت میں بانٹتے چلے گئے- غریب بچیوں کی شادیاں کرائیں ، موتئے والوں کے آپریشن کرائے ، درد سے کراہتے مریضوں کی شہر کے بڑے ہسپتالوں سے رسولیاں نکلوائیں- غریب غرباء کے علاج معالجے کےلئے ٹوکن کا نظام متعارف کرایا- یہ ٹوکن دکھا کر وہ قریبی شہر کے ڈاکٹر سے نہ صرف مفت علاج کروا سکتے تھے بلکہ ادویات بھی خرید سکتے تھے-
سردیوں کی ایک خُنک دوپہر تھی- سفید بادلوں نے سورج کا چہرہ ڈھک رکھّا تھا اور ٹھنڈک بڑھ گئ تھی- ہم مریضوں کو دم کر رہے تھے کہ شازا کپڑوں کی ایک پَنڈ لئے ہمارے سر پہ آن کھڑا ہوا-
ہم نے کہا یہ کیا ہے ؟
وہ اپنی لمبی زلفوں کو سنوارتے ہوئے بولا:
” آپ نے فرمایا تھا ناں کہ آپ کے نئے پرانے سب کپڑے صدقہ کر دئے جائیں … میں نکال لایا ہوں … آپ ایک نظر دیکھ لیں”
ہم نے کہا ” بس دیکھ لئے- انہیں ملک آصف کے بھٹّے پہ بھجوا دو- بتانا کہ پیر صاحب نے بھیجے ہیں … مزدوروں کےلئے … !!”
وہ کپڑوں کی پَنڈ اُٹھائے ڈیرے سے باھر نکل گیا-
اچانک ہی ہمیں کچھ یاد آیا- ہم مریضوں کو چھوڑ کر دروازے کی بھاگے- شازہ ڈاٹسن اسٹارٹ کر چکا تھا- ہم نے آواز دی-
“رُکو …. !! “
وہ گاڑی بند کر کے بولا ” جی بابا جی ؟”
” وہ کپڑوں کی پنڈ … اتارو ذرا … اندر لے کے آؤ … !!”
وہ گٹھڑی اٹھا کے اندر لے آیا اور ہمارے سامنے چارپائ پہ آن دھری- ہم نے اسے کھولا اور تمام کپڑے ایک ایک کر کے دیکھنے لگے- پھِر کاٹن ، کے ٹی ، فلیٹ ، اور ٹیراویرا کو الگ کیا اور سیاہ ملیشیا کی ایک پرانی سی قمیض نکال کر کہا:
” بس یہ رہنے دو … باقی سب لے جاؤ … !!”
وہ چلا گیا تو ہم کن اکھیوں سے مریضوں کی طرف دیکھتے ہوئے کمرے میں چلے آئے- پھر اندر سے کنڈی لگائ اور بلب جلا کر اس قیمتی لباس کو دیکھنے لگے-
ملیشیا کی اس پرانی قمیض سے ہماری بہت سی یادیں جُڑی تھیں- ہماری اصل اوقات یاد دلانے کو یہ قمیض بہت ضروری تھی-
تین سال پہلے تن ڈھانپنے کو ہمارے پاس یہی ایک کپڑا تھا- یہ وہی قمیض تھی جسے پہن کر ہم اس رات درگاہ سے نکلے تھے ، اور کالے کھوہ سے ہوتے ہوئے ملک پور تک پہنچے تھے-
ہم نے قمیض کو سونگھا ، آنکھوں سے لگایا اور بے خیالی میں اس کی جیبیں ٹٹولنے لگے- اچانک ہی ہمارا ہاتھ کسی نرم و نفیس شے سے ٹکرایا- ایک مخملی سی پوٹلی ہمارے ہاتھ لگی- اس کے ساتھ ایک سنہری ڈور بندھی ہوئ تھی- ہم نے تجسس سے اسے کھولا تو اندر سے چاندی کی چمکتی ہوئ چھاپ نکل آئ-
ہمارا دِل بڑی شدّت سے دھڑکا اور ہم اس چھاپ کو ہاتھوں میں لے کے غور سے دیکھنے لگے-
یادوں کے صحرا سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہمیں چھو کر گزر گیا-
رخسانہ …. !!!
کیا وہ ایک سراب تھی ؟
یا محض ایک خواب ؟ جو ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور پھر سو گئے ؟؟
لاحول ولا قوة الا باللہ … !!!
یہ ہم کیا سوچ رہے ہیں ؟؟
یہ عورت کا خیال بھی کیسے آ گیا ہمارے دِل میں؟
الّھُمَّ اِنّی اَعُوذُبِکَ مِن فِتنَةُ النِساء
ہم نے انگوٹھی واپس قمیض کی جیب میں رکھّی اور باھر آ گئے- چارپائ پہ بیٹھے مریضوں کے چہرے ہمیں دیکھ کر خوشی سے دمک اُٹّھے-
ہم دم کرنے کی غرض سے ایک مریض کے پاس جا کھڑے ہوئے- اسے جنّات کا وہم لاحق تھا-
کہنے لگا:
” ایسا چمٹا ہے کہ جان ہی نہیں چھوڑتا … نڈھال کر دیا مجھے تو …!!”
ہمارے مونہہ سے بے ساختہ نکلا:
” چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو ، مجھ کو نڈھال کر دیا”
وہ حیرت سے ہمیں دیکھنے لگا- ہم بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگے اور کہا:
“جو دشتِ عشق میں بچھڑے وہ عمر بھر نہ ملے
یہاں دھواں ہی دھواں ہے قریب آ جاؤ”
کچھ سجھائ نہ دیتا تھا کہ ہوش و خرد میں ہیں یا دیوانے ہو چکے ہیں؟ کسی سے ہم کلام ہیں یا زیرلب خود سے سرگوشیاں کر رہے ہیں-
ایک ہی ملاقات ہوئ تھی اس سے ؟
صرف ایک مُلاقات ؟
اس روز یہ چھاپ ہم نے اسے کیوں نہ پہنائ تھی ؟؟
ہم خیالات کو جھٹک کر دوسرے مریض کی طرف پلٹے- اس کا جِگر ختم ہو چکا تھا اور بچنے کی کوئ امید نہ تھی-
کہنے لگا:
” گھبراہٹ ہوتی ہے سائیں ..!!”
ہم نے اس کے سینے پہ تھپکی دی اور کہا :
“طولِ شبِ فراق سے گھبرا نہ اے جِگر
ایسی بھی کوئ شام ہے جس کی سحر نہیں ؟”
کیا ہمارے عشق کی بھی کوئ سحر ہو گی؟ “
وہ بولا ” جی …..؟؟؟”
ہم نے چونک کر کہا ” کچھ نہیں … اللہ پاک شفاء دے گا … اب جاؤ … !!”
ہم جتنا خیالات کو جھٹکتے اتنے ہی سوالات دماغ کو جکڑتے جا رہے تھے-
ہم اس سے دوبارہ ملنے کیوں نہ گئے ؟؟
ہمیں یہ چھاپ پہنانی چاھئے تھی- ایک ملاقات تو کرنا چاھئے تھی- اک ملاقات جو شاید بہت ضروری تھی-
رخسانہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح ہمارے چاروں طرف رقص کر رہی تھی- ہم محفل میں کھڑے تھے مگر یادوں کے صحرا میں بھٹک رہے تھے-
” بخار جان نہیں چھوڑ رہا جی … دُعا کر دیں سرکار …!!”
ہم آنکھیں بند کئے مریض کو دم کر رہے تھے مگر لائن … مالک کی بجائے کہیں اور مل رہی تھی-
لوحِ مزار پہ آنکھیں بند کئے وہ دعا کر رہی تھی اور ہم ستون کے پیچھے چھپ کے اسے دیکھ رہے تھے-
” ڈاکٹر کہتے ہیں اپینڈیکس ہے … گھڑی گھڑی پیٹ میں وَٹ پڑتا ہے جی …!!”
ہم نے چونک کے کہا :
“کون سی گھڑی ….؟؟”
ہم یہاں موجود ہی کب تھے- ہم تو وسیع و عریض حویلی کے صحن میں کسی کی مرمریں کلائ میں گھڑی پہنا رہے تھے:
“دم کی ہوئ گھڑی ہے- اس سے تمہاری حفاظت ہو گی- جنّات اس کی ٹِک ٹک سے دور بھاگیں گے …. !!!”
ہم مریضوں کو چھوڑ چھاڑ کے نلکے پہ گئے- ملک فیصل نے ہمیں وضو کرایا- ہم نے کہا ” کمرے میں مُصلّہ بچھا دو- ہم نوافل پڑھیں گے … !!”
کمرہ بند کیا تو بخشو کے قید خانے میں پہنچ گئے- سامنے ہی شیطان ہاتھ جوڑے کھڑا تھا:
” آزاد ہو چکی وہ اس عفریت سے … میں نے اس کے ماں باپ سے کہ دیا کہ اس کا بیاہ کر دو … ایک لڑکے کو پسند کرتی ہے وہ … ہوش میں آتے ہی اسی کا نام لے رہی تھی …!!”
ہم مُصلّہ بچھانے لگے تو ہر طرف سے ایک ہی آواز آنے لگی …. !!
“بھولے مت بنو امام صاحب … وہ تمہارا نام لے رہی تھی ….!!”
“بھولے مت بنو امام صاحب … وہ تمہارا نام لے رہی تھی ….!!”
ہم نے نماز کا ارادہ ترک کیا- کیا فائدہ.اس نماز کا جو پڑھی تو خدا کےلئے جائے رکوع و سجود میں کسی اور کا خیال ہو-
ہم نے مصلّہ سمیٹا اور ملیشیا کی قمیض سے چھاپ نکال کر بیٹھ گئے-
شاید کسی کو ہمارا آج بھی انتظار ہو …. !!
ہم باہر نکل آئے- سورج نکل آیا تھا اور موسم کی خُنکی قدرے کم ہو چکی تھی- صحن میں مریضوں کا رش پہلے سے بڑھ چکا تھا-
ہم نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائ اور بڑبڑائے:
“دو دن کی چھٹّی چاھئے مالک … بس دو دِن کی… بھلے تنخواہ کاٹ لینا … پہلے اس عشق کا قلعہ قمع کر لیں … پھر دھیان سے کریں گے تیری نوکری ….!!”
شکور اور جیدا صحن میں چارپائیاں بچھا رہے تھے-
ہم نے کہا ” شازا کہاں ہے ؟”
انہوں نے سر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور ادب سے کھڑے ہوگئے-
ہم چلائے:
“شازا کہاں ہے …؟؟”
شکور بولا ” وہ تو شاید … بھٹّے پہ گئے ہیں جی … آپ نے بھیجا ہے”
ہم نے کہا ” اتنی دیر ہو گئ ابھی تک آیا نہیں … موٹر سیکل لے کے جاؤ … اس کے پیچھے … بولو کپڑے چھوڑ کے فوراً واپس آئے”
وہ بھاگتا ہوا باہر نکل گیا-
تھوڑی ہی دیر میں شازا پہنچ گیا- ” جی بابا جی … کوئ کام ہے؟؟”
ہم نے کہا ” ہاں … بوہت ضروری کام ہے … گاڑی نکالو … فوراً … ہمیں نوُری سہاگ جانا ہے … !!”
“نوری سہاگ … یہ کہاں ہے جی؟”
” راوی پار … رستہ ہم سمجھائیں گے … سب کو لے چلو ساتھ … ہمیں ابھی نکلنا ہے !! “
وہ جلدی سے دوسرے احاطے میں گیا اور ساتھیوں کو آواز لگانے لگا:
“فیصل … سجّو … جیدے … پِیر سائیں راوی پار جا رہے ہیں … گاڑی تیّار کرو … جلدی .. !!”
ہم جب بھی دم کرنے دور دراز شہروں میں جاتے ، یہ سب لوگ ساتھ ہوتے تھے- جو مریض سفر کے قابل نہ ہوتا ہم اس تک خود پہنچتے تھے- اس کو دم کرتے ، ڈھارس بندھاتے اور زندگی کا حوصلہ دیتے- مریض کے لواحقین متموّل ہوتے تو سفر خرچ کی صورت کچھ نہ کچھ ھدیہ کرتے- غریب ہوتے تو ہم ھدیہ دے کے آ جاتے-
تھوڑی ہی دیر بعد ہم جی ٹی روڈ پر تھے- ہمارے بائیں طرف چیچہ وطنی کا مشہور جنگل تھا- یہ وہی تاریک جنگل تھا جہاں تین سال پہلے ایک شب ہم بھٹک رہے تھے- اگر رب سائیں اس رات ہمارا ہاتھ نہ پکڑتا تو شاید آج بھی ہم بھٹک ہی رہے ہوتے-
ھم نے راوی کا پل پار کیا اور کمالیہ روڈ پر چڑھ گئے- جمال پہاڑ سے ہم نے ایک ذیلی سڑک پکڑی اور چلتے رہے- جگہ جگہ گاڑی روک کر ھم نے رستہ پوچھا- اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر دھول مٹّی اڑاتے بھاگتے رہے-
تین گھنٹے کے جان لیوا سفر کے بعد بالاخر ہم ایک گاؤں پہنچ ہی گئے- چوک پر کچھ لوگ خوش گپیوں میں مشغول تھے- ہم نے گاڑی رکوائ اور شیشہ گِرا کے پوچھا :
” وِیر جی … نوری سہاگ یہی ہے ؟
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو ہم نے دوسرا سوال کیا:
“.چوھدری رمضان کا گھر کِدھر ہے ؟”
اس شخص نے ہماری رہنمائ کی- تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے بالاخر ہم چوبارے والے گھر کے سامنے جا رُکے-
ہم نے ساتھیوں کو گاڑی میں ہی رہنے کی تاکید کی اور خود اتر کر دروازے پہ جا کھڑے ہوئے- دستک دی تو دِل طبلے کی طرح دھک دھک کر اٹھا- سانس تُنبے کے تار کی طرح بجنے لگی-
گھڑی بھر کے انتظار کے بعد دروازہ کھُلا اور کمسن نوکر نے جھانک کر پوچھا کون؟
ہم نے کہا ” چوھدری صاحب کو بلائیے …. بولئے سائیں صلّو آئے ہیں …. ملک پور سے …!!”
تھوڑی ہی دیر بعد چوھدری رمضان بھاگتا ہوا آگیا- ایک نظر گاڑی پہ ڈالی اور سائیں سرکار کہتا ہوا سیدھا قدموں پہ آن گرا-
ہم نے کہا ” کیا کرتے ہو چاچا- اٹھئے … آپ بڑے ہیں … گلے ملئے ہم سے”
وہ ڈرتے جھجھکتے ہم سے گلے ملا- اور اکھڑتی سانسوں میں بولا:
” آپ کہاں چلے گئے تھے سائیں سرکار … مڑ کے خبر ہی نہ لی ہماری … ہماری دھِی رخسانہ تو شام سویر آپ ہی کو یاد کرتی ہے … !!”
ہم نے مسکرا کر کہا:
“ہماری نکیل کسی اور کے ہاتھ میں ہے چاچا … آج ایک دن کی چھٹی لے کر آئے ہیں تیرے پاس .. بتا … جِن اترا کہ نہیں …؟؟”
وہ بولا ” مولا کا شکر ہے سائیں-آپ کی دعا سے سب بلائیں ٹل گئیں … اس روز مزار پہ جو کچھ ہوا … بڑا افسوس ہے … اس عامل نے برا کیا آپ کے ساتھ … وہ جُھوٹا تھا ، مکّار تھا ، فریبی تھا … اس لئے مزار چھوڑ کے بھاگ گیا … آپ سچّے ہیں … کھّرے ہیں … اسی لئے آج یہاں کھڑے ہیں … آپ اندر آئیے ناں … !!”
ہم مسکراتے ہوئے اندر داخل ہو گئے- شب فراق کی سحر قریب تھی یا پھر کوئ نیا سراب درپیش؟ یہ وہی جانتا تھا جس سے چھُٹّی لے کر آئے تھے-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: