Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 27

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 27

–**–**–

وہی کشادہ اور صاف ستھرا صحن – تازہ سفیدی نے درودیوار کو پہلے سے زیادہ نکھار دیا تھا- صحن میں روئ کا ڈھیر لگا تھا اور پُختہ شیڈ کے نیچے کھڑا ٹریکٹر بھی آج کچھ نیا نیا لگ رہا تھا-
تھڑے پہ آج بھی ویسی ہی دو رنگین چارپائیاں بچھی تھیں- ساتھ دو موُڑھے تھے اور چند کُرسیاں- تھوڑی ہی دیر میں نوکر پانی لے آیا- پھر چائے آئ- انڈے آئے، کیک آئے ، بسکٹ آئے، مٹھائ آئ مگر نہ آئ تو رخسانہ-
ہمیں قیام فرمائے نصف گھنٹہ بیت چکا تو بالاخر چوھدری صاحب سے خود ہی کہ بیٹھے کہ رخسانہ بی بی کو بلوا دیجئے … ان کےلئے ہمارے پاس ایک بڑی ہی برکت والی چیز ہے …!!
وہ اداس ہو کے بولا :
” رخسانہ دٍھی تو آج ہی گئ ہے جی … کوئ گھنٹہ پہلے …. ملنے آئ تھی …. اس وار وی آپ کو بڑا یاد کر رہی تھی … شادی ہو گئ جی اس کی .. میرے بھتیجے سلطان کے ساتھ … کُکّڑ ہٹّہ میں رہتی ہے … میں سمجھاتا ہوں جی آپ کو رستہ… یہاں سے سیدھی سڑک پکڑیں ……”
طبلے کی تھپ تھپ اچانک رُک گئ- تُنبے کے تار ٹوٹ گئے- بظاہر ہم بڑے غور سے چوھدری صاحب سے کُکّڑ ھٹّہ کا راستہ پوچھ رہے تھے ، مگر کان ہمارے بند ہو چکے تھے-
بالاخر چہرے پہ ایک مصنوعی سی مسکراہٹ سجا کر کہا:
” مبارک ہو چاچا … اچھا آدمی ہے سلطان … خیال رکھے گا تیری دٍھی کا … ہمیں آگے جانے کا حُکم نہیں …. بس .. اب چلتے ہیں … حال معلوم ہو گیا … بس … اتنا ہی بوہت ہے …چنگا رب رکھا ..!!”
وہ اٹھتے ہوئے بولا:
” وہ برکت والی چِیز ہمیں دے دیں جی … ہم پہنچا دیں گے دھِی رانی تک ….. !! “
ہم نے کہا ” بس برکت کی دعا ہی دینی تھی … مولا پاک اسے ہر بلاء سے محفوظ اور شاد و آباد رکھّے …. امین … !!”
اس نے جھک کر ہمارا ہاتھ چوما ، گوڈوں کو ہاتھ لگایا اور دروازے تک ہمیں چھوڑنے آیا-
باہر سب ہمارے منتظر تھے- سجًو نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا:
” آج تو بہت انتظار کرایا پیر سائیں …!! “
ہم نے کہا ” کوئ کسی کا انتظار نہیں کرتا سجّو … دنیا دھوکے کا سامان ہے … انتظار صرف ایک ہی ہستی کرتی ہے … رب سائیں … وہ اپنے بندے کی توبہ کا انتظار کرتا ہے …موت تک … باقی سب کہانیاں ہیں … !!”
سجًو نے “سبحان اللہ” کہا اور گاڑی بڑھا دی- مرید کی زندگی کتنی آسان ہے- جو بات پِیر کا جِگر چیر کے نکلتی ہے ، اس پہ سبحان اللہ کہ کے وہ حقِ ارادت ادا کر دیتا ہے- نہ کوئ غم نہ کوئ دُکھ- پیر کا سینہ چیر کے کوئ دیکھے کہ اس پہ کیا بجلی تو یہ فرمان جاری ہوا-
پُل باگڑ پہ پہنچے تو ہم نے کہا:
“یہاں سے بائیں مڑ جاؤ … کچھ دُور مستاں والا دربار ہے … عصر کی نماز ہم وہاں پڑھیں گے”
مزار کی رونق اسی طرح قائم و دائم تھی- وہی بھنڈارے کی دیگیں وہی خلقت کا ہجوُم- عصر کا وقت جا رہا تھا- ہم مسجد کی طرف بڑھے- پیپل کے پیڑ کے پاس تھے کہ شادا ملنگ مل گیا- اس نے حیرت سے ہمیں دیکھا اور ہماری طرف بھاگا چلا آیا:
” ست بسم اللہ … رد بلائیں … سائیں آیا … اوئے ہوئے ہوئے … خدا کا شکر جی آپ آ گئے … کدھر چلے گئے تھے ہمیں چھوڑ کے … ؟”
ہم نے اسے خوب بھینچ کے گلے لگایا اور کہا :
” بس یار … نوکری مل گئ راوی پار … ٹائم ہی نہیں ملتا … امید ہے مسجد کا خوب خیال رکھا ہو گا تو نے … پیش امام جو بن گیا ہے … !!”
وہ جھوم کے بولا ” ناں جی … میں تو مؤذن ہوں … امام تو وہی ہے … آپ کا دلبر جانی …. !!!”
ہمارا دِل دھک سے رہ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں- بے ساختہ مونہہ سے نکلا:
“جانی ؟ کون سا جانی ؟”
اس نے قہقہہ لگا کر کہا:
“اچھا تو اب جانی کو بھی بھول گئے … واہ سائیں … لگتا ہے پِیر بن گئے ہو … !!”
ہم اسے نظر انداز کرتے ہوئے تِیر کی طرح مسجد کی طرف بھاگے ، لکڑی کا کواڑ کھولا اور جانی کو صدا لگانے لگے-
بالاخر وہ نظر آ ہی گیا- ہمیشہ کی طرح کمرہء مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا- دنیا جہان سے بے خبر- قران پڑھتے ہوئے-
ھم اس کے پاس جا کھڑے ہوئے- کچھ دیر بعد اس نے نظر اٹھا کر دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا- اس کے چہرے پہ دُکھ کے آثار نمایاں ہوئے اور بمشکل ہونٹوں سے نکلا:
” تت … تُم …. تُم زندہ ؟”
ہم نے ہاتھ پکڑ کے اسے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا-
” ہاں یار … زندہ ہیں … جیسے تو زندہ ہے …. ہم بھی زندہ ہیں … بچ گئے تھے ہم بھی … جس نے تجھے بچایا … اس نے ہمیں بھی بچا لیا … ہم تو روز تیری بخشش کی دعائیں کرتے تھے … سمجھے تُو مارا گیا … رب سائیں کو تیری نشانی بتا بتا کے تھک گئے … کہ مولا … ہمارا یار … جس کی پیٹھ پہ ماتم کے نشان ہیں .. اسے ضرور بخش دینا … !!!”
اپنے مُریدوں کو ہم نے لنگرخانے بھیجا- شادا ان کی خاطر تواضع پہ مامور ہوا- عشاء کے بعد مہمانوں کو مسافر خانے ٹھہرا کر وہ ہمارے لئے رضائ اور کمبل لے آیا- اپنا اردہ مسجد میں ہی قیام کرنے کا تھا-
عشاء پڑھ کے ھم مسجد کی صفوں پہ لیٹے تو جانی نے اپنا احوال سنایا- اس کی کہانی شاہ جی کے کالے اسراروں سے پردہ اٹھانے کو کافی تھی :
وہ بولا:
” ہم نصف شب کے قریب کالے کھوُہ پر پہنچے- فاضل شاہ کی حقیقت مجھے وہاں جا کر معلوم ہوئ- جونہی اس نے سفلی عمل شروع کیا ، میرا دل مکدّر ہونے لگا اور میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا-
وہ مجھے گالیاں دیتا ہوا میرے پیچھے پیچھے بھاگا- پھر مجھ پہ خنجر پھینکا جو مجھے چھوتا ہوا ایک درخت کے تنّے میں جا پیوست ہوا- میری رفتار اس سے کافی زیادہ تھی- میں جنگل کے انجان راستوں پہ سرپٹ دوڑتا رہا- پھر اچانک ہی میرا پاؤں پھسلا اور میں لڑھکتا ہوا ایک کھائ میں جا گرا-
یہ راجباہ تھا جو خشک پڑا ہوا تھا- یہاں بڑی بڑی گھاس اُگی ہوئ تھی- مجھے کوئ خاص چوٹ نہ آئ اور میں راجباہ کی ٹھنڈی ریت پر دم سادھے لیٹ گیا- اگلے ہی لمحے شاہ کی گالیوں کی آواز میرے کانوں تک پہنچی- شاید وہ ادھر ہی چلا آ رہا تھا-
میں ریت پہ چت لیٹا رہا- پھر مجھے اس کا ہیولا نظر آیا- وہ مجھ سے کچھ فاصلے پہ راجباہ کے کنارے پہ کھڑا ہو گیا- اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا خنجر رات کی تاریکی میں چمک رہا تھا- میں دل ہی دل میں رب کو یاد کرنے لگا-
وہ کچھ دیر وہاں کھڑا گالیاں بکتا رہا ، پھر مایوس ہو کے لوٹ گیا- میں کافی دیر وہاں لیٹا رہا پھر رینگتا ہوا راجباہ سے باھر نکلا-
سمّت کا کوئ تعیّن نہ ہو رہا تھا- بس راجباہ کے کنارے کنارے چلتا رہا- آخرکار جنگل ختم ہوا اور ایک کچّی سڑک شروع ہو گئ-
میں سڑک پکڑے مسلسل چلتا رہا اور بالاخر ایک گاؤں جا نکلا-
ایک پکّی سڑک گاؤں کے ساتھ ساتھ جا رہی تھی- میں اسی پہ ہو لیا- کچھ آگے جا کر اڈے کے آثار نظر آئے- سڑک کے کنارے ایک تانگہ کھڑا نظر آیا- میں پاس گیا تو کوچوان سیٹ پہ اونگھ رہا تھا-
میں نے اسے جگایا اور کہا:
“کمالیہ جانا ہے- جتنا کرایہ مانگو گے دُونگا … “
وہ کچھ دیر اندھیرے میں مجھے گھورتا رہا- پھر جماہی لیکر بولا:
“کمالیہ تو یہاں سے بہت دور ہے- گھوڑا اتنا سفر کیسےکر سکتا ہے؟ چیچہ وطنی اڈّے تک چھوڑ آتا ہوں- وہاں سے کمالیہ کی بس پکڑ لینا- 20 روپے کرایہ ہو گا … !!”
فجر کی اذان کے ساتھ ہی اس نے مجھے چیچہ وطنی کے اڈّے پہ جا اتارا- میں نے وہاں نماز پڑھی اور چائے بسکٹ سے ناشتہ کیا- کمالیہ کی بس تیّار کھڑی تھی- صبح 8 میں کمالیہ پہنچ گیا-
یہاں میرا ایک چچیرا بھائ رہتا تھا- وہی ہمیشہ میری مدد کرتا آیا تھا- میں اس کے پاس ٹھہر گیا-
تقریباً 6 ماہ تک میں وہیں پڑا رہا- اس بھلے مانس نے میرے بھائیوں سے بات چیت کی- صلح صلاح ہوئ اور وہ جائیداد میں میرا حصّہ نکالنے پہ راضی ہو گئے- ایک دوکان میرے حصّے میں آئ اور ایک گھر- نوری سہاگ اڈّے پہ- کرائے پہ چڑھا دی ہے- آمدنی کا ذریعہ بن گیا ہے- لیکن کیا کروں وہاں دل ہی نہیں لگتا-
بالاخر مزار پہ چلا آیا- آٹھ ماہ کے بعد بھی سب کچھ ویسا ہی تھا- بس تو نظر نہ آیا- شادے سے تیری گمشدگی کی اطلاع ملی- شاہ جی کا دفتر بھی بند تھا- شادے نے بتایا کہ سائیں تو سات ماہ سے غائب ہے ، اور فاضل شاہ کا بھی کچھ پتا نہیں-
میں نے بخشو سے پوچھا مگر وہ کچھ بتانے کو تیار نہ ہوا- میں نے خیال کیا کہ شاید تو اپنے پِنڈ چلا گیا ہے- تیرا اتا پتا تو معلوم نہ تھا ، صبر کر کے واپس چلا گیا-
اس کے بعد میں ہر جمرات کو یہاں آنے لگا- دو تین راتیں ٹھہر کے واپس چلا جاتا- چار ماہ پہلے آیا تو بخشو اپنی کوٹھڑی میں بیمار پڑا تھا- کوئ اسے پوچھنے والا نہ تھا- میں یہیں مسجد میں ٹھہر گیا اور اس کا خیال رکھّنے لگا- شہر سے دوائیاں لا لا کر اسے دیتا رہا- ایک بار پِنڈ کے ڈاکٹر کو بھی لے کے آیا- اس نے بتایا کہ کالا یرقان ہے اور بچنا بہت مشکل –
بالاخر ایک رات اس کی طبیعت بگڑ گئی- شادا اس کے پاس تھا- بخشُو بار بار مجھے یاد کر رہا تھا- شادا مجھے بلانے کو مسجد چلا آیا- میں بھاگ کے اس کے پاس پہنچا تو وہ بہت کرب میں تھا-
کہنے لگا “جانی مجھے معاف کر دو .. مجرم ہوں میں تمہارا”
میں نے شادے کو کوٹھڑی سے باہر بھیجا اور پوچھا:
“کس چیز کی معافی مانگتے ہو؟ تم نے تو مجھ سے کوئ زیادتی نہیں کی ؟؟”
وہ بولا :
میں تمہارے قتل کی سازش سے آگاہ تھا- شاہ جی بوہت غلط آدمی ہے- اس کا اصل نام کالے ناتھ ہے- بھارت کا جاسوس ہے وہ- سفلی علوم کے ذریعے لوگوں کو پھنساتا ہے- روپیہ پیسہ اینٹھتا ہے- پھر اس رقم سے ملک میں دھماکے کراتا ہے- اس نے تُمہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا- سفلی عمل کےلئے اسے کالی کو بھینٹ چڑھانا تھی- ایک باشرع مسلمان کی بھینٹ- اس عمل کے بعد اسے کسی بس اڈّے پر دھماکہ کرانا تھا اور واپس ہندوستان چلے جانا تھا- مجھے معاف کر دو- مجھ سے بڑی کوتاہی ہوئ”
میں نے کہا ” تُم خود کیا ہو ؟ مسلمان یا ہندو؟
وہ بولا ” بس نام کا مسلمان ہوں- کافر کے ساتھ رہ کر میں بھی کافر ہو گیا ہوں- آج بڑا پچھتاوہ ہو رہا ہے- سخت تکلیف میں ہوں- جیسے کوئ سولی پہ لٹکا ہو- تم معاف کر دو تو شاید سکون سے مر سکوں … !! “
میں نے کہا ” مجھے میرے رب نے بچا لیا- وہ بڑا ہی کارساز ہے- میں نے تمہیں معاف کیا”
وہ کراہتے ہوئے بولا:
” تم تو بچ گئے ہو ، تمہارا دوست یقیناً نہیں بچا ہو گا- وہ اسی خبیث کے ساتھ گیا تھا … مہینوں پہلے … !!! “
مجھ پہ جیسے دُکھ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا- دل غم اور غُصّے سے بھر گیا- جی چاہا کہ بخشو کا ابھی گلہ گھونٹ دوں- لیکن میں ایسا نہ کر سکا- مردے کو کیا مارتا- اس کی آنکھیں پھیل چکی تھیں-
میں نے اس کی تدفین کرائ- پھر متوّلی سجاد شاہ کو جا کر ساری بات بتا دی- اس نے پہلے تو یقین نہ کیا- پھر کہنے لگا خاموشی بہتر ہے- خواہ مخواہ پولیس کیس بن جائے گا اور مارشل لاء والے چمڑی ادھیڑ دیں گے-
میں نے کہا خونِ ناحق ضرور رنگ لاتا ہے- ایک دن تو سرکار کو ضرور خبر ہو گی- پھر کیس بھی بڑا ہی بنے گا- ہم سب شریکِ جرم سمجھے جائیں گے- کیوں نہ ہم خود ہی پولیس کو بتا دیں-
بالاخر ہم نے پولیس کو اطلاع کر دی- انسپکٹر بھاگا چلا آیا- اس نے عامل کا دفتر کھلوایا اور سارا سامان ضبط کر کے دفتر سیل کرا دیا- ہم پولیس کی بھاری جمیعت کے ساتھ کالے کھوہ پر گئے- بہت ہی گہرا کُنواں تھا- کوئ بھی اندر اترنے کو تیّار نہ ہوا- بالاخر ایک سپاہی نے ہمّت کی- وہ بھی نصف تک ہی گیا اور چیخنے لگا کہ انسانی ہڈیاں ہیں اور ایک بڑی ہی کریہہ صورت سوختہ لاش پڑی ہے- سانپ بچھّو چمٹے ہیں- میری ہمّت نہیں-
پھر انسپکٹر نے ٹریکٹر ٹرالی اور کراہ منگوایا- کچھ گاؤں والوں نے ہمّت کی- تین دن کی مشقت کے بعد بالاخر ہم کنویں کو برابر کرنے میں کامیاب ہوئے-
اس کے بعد میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے واپس نوری سہاگ چلا گیا- کبھی کبھار یہاں آتا ہوں- پرانی یادیں تازہ کرنے کےلئے- مسجد کی امامت کرا لیتا ہوں یا کوئ پروگرام کر لیتا ہوں- اب تُم بتاؤ ، تم پہ کیا بیتی ؟”
جانی کی داستان ختم ہوئ تو میں نے کہا:
” رب سچّے نے مجھے بچا لیا اور اس وحشی کو کالے کھوہ میں جہنم رسید کیا- وہ لاش اسی خبیث کی تھی- میری کہانی بھی تیرے جیسی ہی ہے جانی- فرق یہ ہے کہ تو راوی کے اِس پار چلا گیا اور میں اُس طرف رہ گیا – شب بھر جنگل میں بھٹکنے کے بعد بالاخر میری زندگی کی سحر ہوئ- ولی ، قطب ، خواجہ یا غوث تو نہ بن سکا بس چھوٹی سی نوکری مل گئ اس بادشاہ کی جو سب جہانوں کا مالک ہے- راوی پار ملک پور میں آستانہ ہے- یہ جو لوگ میرے ساتھ ہیں ، مرید ہیں میرے- میں نے رب کے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا ہے جانی- اس نے اتنا منافع دیا کہ سنبھالنا مشکل ہے- اس کے نام پہ لٹا لٹا کے تھک گیا ہوں- سچّی یاری تو بس اسی کی ہی ہے- کبھی نہ ٹوٹنے والی- دنیا والے تو ہمیشہ دھوکا ہی دیتے ہیں- شب بھر کو رکا ہوں- کل واپس چلا جاؤں گا- تُو ساتھ چل میرے .. تجھے بھی نوکری دلاتا ہوں .. !!”
وہ بولا ” میں بھی بے روزگار نہیں ہوں سائیں- نوکری ہی کرتا ہوں اس شہنشاہ کی- مجھے بھی بہت کچھ دے رہا ہے- بس جلوہ نہیں دکھاتا- دل کی تڑپ ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی- اس کی ذات میں گُم ہونا چاھتا ہوں- کوئ رستہ بتاؤ ناں …. !!”
میں نے کہا ” گُم ہو کے کیا کرو گے ؟ مخلوق کے ساتھ رہو- لوگوں کے دُکھ درد بٹاؤ- نوکر بن کے رہو- جتنا مالک کا حکم ہے اتنا ہی کرو- جو اس سے زیادہ بے تکلّف ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، مالک ان کا بوجھ بھی بڑھا دیتا ہے”
رات بیت رہی تھی- مزار سے قوالی کی آواز آئ- میں نے کہا چل اُٹھ جانی- قوالی سن کے آتے ہیں-
ھم صحنِ مزار میں جا بیٹھے- محفل اپنے عروج پہ تھی- ملنگ بے خود ہو کر دھمال ڈال رہے تھے- آج کوئ نیا ہی کلام تھا اور نیا ہی ساز جو دل کو چھوُ کر روح کے تار چھیڑ رہا تھا:
بیخُود کِئے دیتے ہیں
اندازِ حجابانہ​
آ دل میں تجھے رکھ لوں
اے جلوہء جانانہ​
جانی میرا ہاتھ پکڑ کے اُٹھ کھڑا ہوا- ہم نے قوالوں پہ پیسے پھینکے اور دیوانوں کی طرح ناچنے لگے:
کِیوں آنکھ مِلائی تِھی
کیوں آگ لگائی تِھی​
اب رُخ کو چُھپا بیٹھے
کر کے مُجھے دِیوانہ​
اِتنا تو کرم کرنا
اے چِشمِ کریمانہ​
جب جان لبوں پر ہو
تُم سامنے آ جانا​
پینے کو تو پِی لُوں گا
پر عَرض ذرّا سی ہے​
اجمیر کا ساقِی ہو
بغداد کا میخانہ​
​کیا لُطف ہو محشر میں
شِکوے میں کیے جاوں​
وہ ہنس کے یہ فرمائیں
دیوانہ ہے دیوانہ​
​بیدمؔ میری قِسمت میں
سجدے ہیں اُسِی دّر کے​
چُھوٹا ہے نہ چُھوٹے گا
سنگِ درِّ جَانَانَہ​
آ دل میں تجھے رکھ لوں
اے جلوہء جانانہ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: