Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 28

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 28

–**–**–

​ہم گدڑ پِنڈی سے واپس ملک پور پہنچے تو گاؤں میں کئ فتنے سر اٹھا چکے تھے- سائیں کے ڈیرے پہ ہو کا عالم تھا- سوائے ملک ایّوب کے کوئ بندہ بشر نظر نہ آیا- وہ ڈیرے پہ اکیلا بیٹھا حُقّہ پی رہا تھا-
ہم نے پوچھا:
“ملک صاحب خیریت؟ بالکل چوپٹ ویرانی؟ آج کوئ وی نئیں آیا؟”
وہ بولا:
” کمیوں والے محلّے میں چِڑّی موچی ایک قبر بنا کے بیٹھ گیا ہے- کہتا ہے رنگ شاہ کی ہے- بزرگ خواب میں اشارہ کر گئے ہیں- آدھا پِنڈ وہاں جمع ہے- باقی لوگ ملک شیر علی گھوڑی پال کے گھر کے سامنے کھڑے ہیں”
“وہاں کون سے پِیر کا ظہور ہوا ہے …؟”
” وہاں جنّات قبضہ کر کے بیٹھے ہیں جی … رضائیاں ، تلائیاں، کَھیس ، تکیے اُڑ اُڑ کے باہر آتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے … “
ہم نے کہا ” بلّے وئ بلّے ..”
” اور سُن لیں .. ملک مقصود کے ڈیرے پہ ایک بوہڑ سے اچانک پانی کے قطرے گرنے لگے ہیں … بچے کھُچے لوگ بالٹیاں لوٹے لے کر وہاں جمع ہیں … حصوُلِ برکت کےلئے … یہ حالات ہیں جی … اب پِیر سائیں کے ڈیرے پہ کون آئے گا؟”
ہم نے کہا ” سبحان اللہ … یعنی دو دن کےلئے ہم گاؤں سے گئے اور تین فتنے کھڑے ہوگئے ….. سچ فرمایا تھا پیر حاکم شاہ نے کہ وہ گاؤں سے چلے گئے تو بربادی آئے گی ….!!”
ہم نے کپڑے بدلے اور سر کے نیچے تکّیہ اڑس کر چارپائ پہ لیٹ گئے- دماغ میں خیالات کے جھکّڑ چل رہے تھے- خلقِ خُدا کو کون سمجھائے کہ پِیر کیا ہوتا ہے؟ خدمت کرنے والا جیتا جاگتا انسان یا قبر میں سویا ہوا بزرگ؟ موسی علیہ السلام کوہ طور پہ کتاب لینے گئے اور لوگ پیچھے بچھڑا بنا کر بیٹھ گئے- یہ قصّہ تقریروں میں خوب مرچ مصالحہ لگا کے سناتے ہیں مولوی صاحبان- لوگ سبحان اللہ کہتے ہیں ، استغفار پڑھتے ہیں اور باہر جا کر کسی نہ کسی بچھڑے کی پوجا شروع کر دیتے ہیں- لوگوں کو ہر وقت ایک بچھڑا چاھئے- جس کے ذریعے ان کی تمام جائز ناجائز خواہشات پوری ہو سکیں-
انہی خیالات میں غوطے کھا رہے تھے کہ پیرومرشد بابا ڈاکیا سرکار کے یہ الفاظ یاد آئے:
“مخلوق کی خدمت کر- رب کے کنبے کا خیال رکھ- بس یہی نوکری ہے اس کی … بہت کم لوگ یہ نوکری کرتے ہیں … اور جو کرتے ہیں … ہمیشہ بھلے میں رہتے ہیں … “
ہم تکیہ پھینک کے چارپائ سے اُٹھے اور کہا:
“چلیں ملک صاحب … پہلے جنّات کا موُل مِٹا کے آتے ہیں … !!”
ملک شیر علی کی حویلی کے سامنے لوگوں کے ٹھٹھ جمع تھے- بڑے بوڑھے سڑک پہ کھڑے استغفار کر رہے تھے- مائیاں توبہ تائب ہوئ جاتی تھیں- ہمیں آتا دیکھ کر مجمع میں جان سی پڑ گئ- سرگوشیاں شروع ہو گئیں- کچھ لوگ ہماری طرف دوڑے چلے آئے- ہر کوئ پھولی سانسوں میں بڑھا چڑھا کے جنّات کے کارنامے سنا رہا تھا-
ہم نے کہا ” بند کرو یہ کہانیاں ملک شیر علی کو بلاؤ …”
ایک آدمی بھاگا بھاگا گیا اور ملک صاحب کو بلا لایا- وہ بہت پریشان دکھائ دیتے تھے- مجھ سے گلے ملے اور بولے:
“دیکھ لیں سائیں جی … کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ ؟”
ہم ان کا ہاتھ تھامے مجمع سے دور لے گئے- چلتے چلتے ہم پکّے کھال کی بنیر پہ جا کھڑے ہوئے-
“ملک صاحب … سچ سچ بتاؤ .. اصل قصّہ کیا ہے ؟”
وہ بولے ” پرسوں سارا ٹبّر سویا ہوا تھا … آدھی رات کو مجھے دھویں کی بوُ آئ … آنکھ کھلی تو وِچکارلے کوٹھے سے دھوُں آ رہا تھا … بوہا کھولا تو رضائ کو اگ لگی ہوئ تھی …. باقی لوگ وی جاگ گئے …. خیر پانی شانی سَٹ کے اگ بجھائ … رات کے پچھلے پہر مُڑ دھویں کی بو آئ … ویکھا تو دُوئے کوٹھے میں اگ لگی ہوئ ہے- ہِک رضائ ، ہِک تلائ اور ہِک منجی سڑ کے چھائ ہو گئ جی … ہم سویر تک جاگتے رہے … ہر بندہ ڈر سے کمھ رہا تھا … کام آلی مائی نے بتایا کہ گھر پہ جِن بھوت قابض ہو گئے ہیں جی … کیا کرتے؟ … آپ کے ڈیرے پہ گئے تو ملُوم ہوا کہ راوی پار گئے ہیں … مُڑ نوکرانی نے ای دَسیا کہ اُس کے چَک میں ایک عامل ہے … جو جنّوں شِنّوں کا عمل شمل کرتا ہے … اج سویرے اس کو بلا کے لائے ہیں … وہ چوکاٹھ بند کر کے اندر پڑھائ کر رہا ہے جی …”
ہم نے کہا ” چلو ہمارے ساتھ … ایسی کی تیسی اس عامل کی ..!!”
گھر کا گیٹ اندر سے بند تھا- ہم نے سامنے والے گھر سے سیڑھی منگوائ اور ملک صاحب کو ساتھ لئے گھر کے اندر کود گئے- ایک کمرہ کھُلا ہوا تھا- اندر گئے تو وہ عامل پیٹیاں اور صندوق کھول کے گھر کی صفائ کر رہا تھا-
ہم نے اُسے گُدّی سے جا پکڑا اور کہا:
“عامل جنّات پالتے ہیں اور سائیں نکالتا ہے …!! “
وہ متوحش ہو کر بھاگنے لگا تو ہم نے اڑنگا دے کر گرایا- پھر جست لگا کر اس کے اوپر بیٹھ گئے- ملک صاحب ششدر کھڑے دیکھتے رہے- ہم نے کہا ” دیکھتے کیا ہیں ملک صاحب رسّی لے کے آئیے … جِن قابو آ گیا ہے ..!!”
اس دوران کچھ اور لوگ بھی دیوار ٹاپ کر اندر آ گئے- ان میں ملک ایّوب بھی تھا- ہم نے عامل کو چار لگائیں تو وہ مِنّت زاری پہ اتر آیا-
ہم نے ملک ایّوب سے کہا:
” تھانے فون کرو اور حوالدار شوکت کو بلاؤ … بتاؤ کہ سائیں نے جِن قابو کیا ہے … ویگن لے کے پہنچے فوراً …”
اس مردود کو تھانے پہنچا کر ہم اس مائی کی تلاش میں نکلے جو گھر میں کام کرتی تھی- شام تک وہ بھی پکڑی گئ- یہی چڑیل گھر میں آگ لگاتی تھی-
جنّات کی سرکوبی کے بعد ہم چڑّی موچی کے فتنہ کی طرف متوَجہ ہوئے- مغرب کے بعد شازے کو لیکر کمیّوں والے محلّے میں گئے تو ایک میلہ سا لگا ہوا تھا- ایک خالی پلاٹ پہ تازہ بہ تازہ قبر بنی تھی- اس پہ گلاب کی پتیاں ، پھول ، اگر بتیاں اور چراغ رکھّے گئے تھے- ساتھ ہی دوچار سفید کھیس بچھا کر ملک صاحبان عبادت میں مشغول تھے-
ہمیں آتا دیکھ کر چِڑی والہانہ پن سے اُٹھا گویا قلعہ فتح کر کے بیٹھا ہو- اس کا خیال تھا کہ شاید سائیں بھی زیارت کو آیا ہے- ہم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتے ہوئے زیارت گاہ سے دور لے گئے- وہاں جا کر اس کا گریبان پکّڑا اور کہا:
” یہ کیا ڈرامہ ہے چِڑّی ؟ سچ سچ بتا ورنہ ابھی قبر مسمار کرتا ہوں … !!”
وہ ہاتھ جوڑ کے بولا:
“ایسا نہ کریں سائیں سرکار … مولوی نہ بنیں … پیر تو پیر کا بھائ ہوتا ہے- آپ بھی تو کمہار ہیں- کیا موچی پِیر نہیں ہو سکتا؟”
ہم نے کہا ” ہو سکتا ہے … کھاؤ ناں پیاز کے ساتھ سوکھی روٹی اور مرغ پکا کے غریبوں کو دو … پِیر بن جاؤ گے … یہ کون سا طریقہ ہے؟ کیوں لوگوں کا ایمان بگاڑتے ہو؟”
وہ بولا :
” ایمان ؟ کون سا ایمان ؟ ان لوگوں میں ایمان ہے؟ 20 سال ان کی جوتیاں گانٹھ گانٹھ کے پیسہ جوڑا … پھر یہ پلاٹ خریدا …. یہ کچرا پھینکتے ہیں وہاں … پورا پلاٹ بھر دیا میرا گند پھینک پھینک کے … کیا نمازی کیا حاجی سب ایک جیسے ہیں … ایک ایک بُوہے پہ گیا ہوں میں .. منّت سماجت کی .. خدا رسول کا واسطہ دیا کہ کچرا مت پھینکو میرے پلاٹ میں … میرے پاس گھر بنانے کے پیسے نئیں ہیں … لیکن پلاٹ کو دیکھ کر خوش تو ہو جاتا ہوں ناں کہ اللہ کی زمین پہ میری بھی کوئ جگہ ہے … اور وہ جگہ انہوں نے کچرے کا ڈھیر بنا کے رکھ دی ہے … کیا کرتا؟ نک نک تک کر دیا ان لوگوں نے … آخر تنگ آ کر افواہ چھوڑی کہ خواب میں ایک بزرگ تشریف لائے ہیں … اور یہاں … میرے پلاٹ پہ … اپنی قبر کا نشان لگایا ہے .. بس قبر بنانے کی دیر تھی کہ سب جھاڑو اٹھائے چلے آئے …. اپنے ہاتھوں سے اپنا گند صاف کرنے لگے … دیکھو … کتنا صاف ہو گیا ہے میرا پلاٹ … کل شام سے اب تک 50 روپے نذرانہ بھی آ چکا ہے … اب آپ رنگ میں بھنگ نہ ڈالئے گا … جو کچھ آئے گا نصف آپ کو دونگا جی … آخر پیر پیر کا بھائ ہوتا ہے …. !!!”
ہم نے زور کا گھسّن اس کے جبڑے پہ مارا- وہ پھرکی کی طرح گھوم گیا اور تلملا کے بولا:
“یہ کیا جی ؟؟”
ہم نے کہا “پیر پیر کا بھائ ہوتا ہے جب دونوں اصلی ہوں … ایک اصلی اور ایک نقلی ؟ یہ پیوند نہیں چلے گا چِڑّی … دونوں نقلی ہوتے تو بات بن سکتی تھی …جا اور اسی وقت اپنے ہاتھوں سے اس قبر کو مسمار کر … میں بنا کے دونگا تجھے گھر … کل ہی اینٹیں منگواتا ہوں … تو مستری کا بندوبست کر … پلاٹ زندوں کےلئے ہوتے ہیں چِڑی … مردوں کےلئے قبرستان میں بہت جگہ ہے !!”
فتنہء چڑی موچی کی سرکوبی کے بعد اگلے روز ہم صودی کے ڈیرے پہ گئے- وہاں بوہڑ کے نیچے عورتوں کا ہجوم لگا تھا- ہمیں آتا دیکھ کر سب ایک طرف ہو گئیں-
ہم نے شازے سے کہا:
“اوپر بوہڑ پہ چڑھو … اور جہاں سے پانی رِس رہا ہے وہاں مُوت کے آ جاؤ …… !!”
وہ ہچکچایا تو ہم نے اس کی گُدّی پہ دھول جما کے کہا :
“چڑھو ….. یہ پِیر سائیں کا حکم ہے … !! “
آپریشن مکمل ہو چکا تو ہم نے خواتین سے کہا :
” ماؤں بہنوں … اس چشمے کو ہم نے ناپاک کر دیا ہے … سب کو جا کے بتا دو … اب یہ برکت والا پانی نہیں …. نرا موُت ہے … پانی دم کر کے ہم دیں گے …. شفاء اللہ پاک دے گا- خبردار جو آئیندہ کسی نے ادھر کا رخ بھی کیا … “
دو ہی روز میں تمام فتنوں کا خاتمہ ہو گیا-
انہی دنوں جمال مُسلّی کا بیٹا بیمار ہو گیا- اس کی کھانسی نہ رکتی تھی- لوگ کہتے تھے ٹی بی ہے- ایک ہی بیٹا تھا بیچارے کا- اسے اٹھا کر ڈیرے پر لے آیا-
ہم نے اسے سو روپے دئے اور کہا:
“صبح شہر جا کے ڈاکٹر چشتی کو دکھاؤ … پہلے دوا داروُ کراؤ شام کو ہم تمہارے گھر جا کر دم کر آئیں گے … !!”
مغرب کے بعد وہ ڈیرے پہ آیا اور بتایا کہ دوائ تو کر دی ہے- آپ دم کےلئے تشریف لے آئیں … !! “
ہم نے اس سے عشاء کا وعدہ کیا- نماز کے بعد ہم ڈیرے پہ آئے تو دو چار مریض اور آئے ہوئے تھے- انہیں جھاڑ پھونک کے فارغ ہوئے تو اکیلے ہی مسلّیوں والی پانڈ روانہ ہو گئے-
راستے میں بوہڑ کا ایک گھنّا پیڑ تھا- اس کے نیچے خلیل لوہار کی بھٹّی تھی اور آٹا پیسنے والی گھراس لگی ہوئ تھی- دن کو یہاں رش رہتا تھا- لوگ درانتیاں ، کسیاں ، ٹمبے ، رمبے تیز کرانے آتے تھے- عصر کے بعد گھراس پہ گندم کی پسائ ہوتی- رات کو یہ جگہ ویران رہتی تھی-
ہم درخت کے نیچے سے گزرنے لگے تو محسوس ہوا جیسے کسی نے ہمیں آواز دی ہو-
ہم چلتے چلتے رک گئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے-
آس پاس کوئ نہ تھا-
اتنے میں آواز دوبارہ آئ- یوں لگا جیسے کسی نے ہمیں نام لے کر پکارا ہو-
ہم نےکہا:
“کون ہے ؟ سامنے آؤ …!!”
اچانک بوہڑ کے بڑے تنّے کے پیچھے سے ایک بونا سا بزرگ نکل کر سامنے آ گیا- ہم خوفزدہ ہوئے کہ الہی یہ کون ہے؟ اس بزرگ کو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا- اور یہ بوہڑ کے نیچے کیا کر رہے ہیں- ان کا قد بمشکل ساڑھے تین فٹ تھا اور سفید لمبی داڑھی گھٹنوں تک آ رہی تھی-
ہم نے ڈرتے ہوئے کہا:
” جج … جی بابا جی ؟”
وہ مصافحے کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولے :
” سلیمان قادری … صدر آل پاکستان سُنّی مُسلم جنّات … !!”
ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا- دھڑام سے گرے اور بےہوش ہو گئے-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: