Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 29

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 29

–**–**–

ہمیں ہوش آیا تو مریدوں کے نرغے میں چارپائ پہ چت پڑے تھے- کوئ پاؤں کی تلیاں مَلتا ، کوئ ہاتھ مسلتا تو کوئ سر کی مالش کرتا تھا- ہماری آنکھ کھُلتے ہی سرہانے بیٹھے سجّو نے نعرہ لگایا “حق حق … پِیر سائیں حق حق …!!”
باقی لوگ بھی اس کی دیکھا دیکھی نعرے لگانے لگے-
ہم نے دماغ کی بتّی روشن کی اور ٹارچیں مار مار کے یاداشتیں کھنگالنے لگے- ذھن میں کچھ نقشے ابھرتے پھر مٹ جاتے- ہم کہاں تھے ؟ کل عشاء کی نماز کے بعد کیا ہوا تھا؟؟
شاید ہم کسی کو دم کرنے جا رہے تھے- کس کو …؟؟ ہاں ہاں … ہم مسلّیوں کی پانڈ جا رہے تھے … جمال کے بیٹے کو دم کرنے … اس کے بعد کیا ہوا تھا …؟؟
پھر اچانک بوہڑ کا درخت یاد آ گیا … پھر اس کے نیچے کھڑا وہ بونا بزرگ؟؟ اوہ میرے خدایا .. !!”
ہم کسی مردے کی طرح کفن پھاڑ کے اُٹھ بیٹھے- مُریدوں کا تراہ نکلا اور وہ اچھل کے پیچھے ہو گئے-
ہم نےکہا:
” کیا ہوا تھا ہمیں . …؟”
باقی لوگ تو چُپ گھڑُپ ہو گئے شازا بولا :
“سائیں آپ خیل لوہار کی بوہڑ تلے بے ہوش پڑے تھے- نمبردار کا نوکر رات کو درانتیاں لینے گیا تو اس نے دیکھا- پھر ہمیں خبر کی- شکر ہے وہ اس طرف چلا گیا ورنہ رات کو لوگ ادھر نہیں جاتے- وہاں سے کترا کے گزرتے ہیں- پہلے بھی کئ لوگوں کو وہاں جنّات نظر آ چکے ہیں جی … وہ بوہڑ بہت بھاری ہے سائیں … !!”
ہم نے تاسف سے کہا :
“بوہڑ بھاری نہیں شازے … ہم ہلکے ہو چکے ہیں … آج ایک بوہڑ بھاری ہوئ … کل ٹاہلی، کیکر، کریر ….. توُت ، دھریک ، بکین ، سب بھاری ہو جائیں گے- انسانوں کا رستہ روک کے کھڑے ہو جائیں گے یہ درخت- کس کس پیڑ سے کترا کر گزریں گے؟؟ انسانوں کی بستی میں جنّات کا کیا کام؟ غلطی ہماری ہے شازے- خدمتِ خلق میں ایسے مصروف ہوئے کہ قران کی تلاوت ہی چھوڑ دی؟ وہ جو قاری صاحب ڈیرے پہ آتے تھے … قران پڑھانے .. وہ کیا ہوئے؟ وہ ذکر کی محفلیں کیا ہوئیں ، وہ حفظ کے دورے کیا ہوئے؟ بات یہ ہے کہ تم سب اوّل درجے کے لفنٹر ہو چکے ہو اور پِیر سائیں کو بھی لفنٹر بنا کے رکھ دیا ہے …!!”
اسی دوران ڈاکٹر چشتی مع سازو سامان آن پہنچے- کہنے لگے سائیں جی لوگوں کو دم کرتے کرتے خود بے دم ہو گئے ہو- اپنی صحت کا خیال رکھا کرو- بڑا سخت موسم ہے- پھر میرا ٹمپریچر دیکھا- بلڈ پریشر ملاحظہ کیا اور موسمی بخار تشخیص فرما کر کچھ ادویات لکھیں اور پرہیز کا مشورہ ارشاد کیا-
تین روز بخار میں کٹ گئے- ساتھ ساتھ پچھتاوے کا دُکھ- میں اتنا کمزور کب سے ہو گیا کہ ایک جِن کا سامنا تک نہ کر سکا؟ میں تو اس مخلوق کو تڑیاں لگایا کرتا تھا؟ میں نے تو کالے کھوہ پہ انہیں شکست فاش دی تھی؟ اس وقت میں نہتّا تھا- آج مریدوں کے جلو میں چلتا ہوں- میں اتنا کمزور ، اتنا بددِل کیسے ہو گیا کہ ایک نوّے سالہ بزرگ جِن نے مجھے چاروں شانے چِت کر دیا؟
چوتھے روز بخار اترا- ہنوز کمزوری باقی تھی- ہم نے شازے سے کہا بستر ہمارا بوہڑ کے نیچے لگا دو- آج رات سے ہم چلّہ کریں گے- اس نے بہتیرا روکا کہ پِیر سائیں سردی ہے- بیمار پڑ جاؤ گے مگر ہم اڑ گئے کہ چِلّہ ہو گا اور ضرور ہو گا-خلیل مستری کی بوہڑ کا بھاری پن دور کرنا ہم پہ قرض ہے-
اگلی شب بعد نمازِ عشاء بوہڑ کے نیچے ہمارا بستر لگا دیا گیا- ساتھ ایک چھوٹا میز دھرا گیا جس پر لالٹین ، پانی کا جگ اور کلام پاک رکھّا گیا- ہم نصف شب تک تلاوت میں مشغول رہے- پیڑ کی ٹہنیوں پہ وقتاً فوقتاً سرسراہٹ تو ہوتی رہی- رب جانے پرندے تھے یا جِنّات ، مگر سامنے کوئ نہ آیا-
اسی طرح دو راتیں مزید گزر گئیں- تیسری شب تلاوت میں مشغول تھے کہ سفید روئ جیسے ہیولے بوہڑ سے اترنے لگے- ہمارے آس پاس چہل پہل شروع ہو گئ مگر ہم نے نگاہ تک نہ کی اور مسلسل سورہء بقرہ پڑھتے رہے-
تلاوت مکمّل ہو چکی تو ہم نے پورے اطمینان سے مصحف سمیٹی اور سامنے متوجہ ہوئے- کیا دیکھتے ہیں کہ سفید لباس اور سفید براق داڑھیوں والے درجن بھر بزرگان ہمارے سامنے زمین پہ چوکڑی مارے تشریف فرماء ہیں-ان کی گول گول سرخ آنکھیں اندھیرے میں دہک رہی ہیں- ایک جیسا حلیہ اور ایک جیسا لباس- گویا کہ سب ایک دوسرے کی فوٹو کاپی ہوں- وہ ہمیں ٹکٹکی باندھ کے دیکھنے لگے اور ہم انہیں-
بالاخر ہم نے خفیف سا سلام کیا تو سب نے با آوازِ بلند کہا:
“وعلیکم سلام”
اس کے بعد وہ پھر ہمیں ٹکٹکی باندھ کے دیکھنے لگے ، اور ہم انہیں-
بالاخر ھم نے ایک گلاس پانی پیا اور کہا:
” جی فرمائیے … ؟؟”
ان میں سے ایک بونا بزرگ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی چار انگلیوں سے ہماری طرف اشارہ کر کے بولا:
” اے ہمارے مربّی و محسن !!
ہم آپ کے سپاس گزار ہیں- اس رات کالے کھوہ پہ آپ کی سنگ باری نے تہلکہ مچایا ، اور اس تہلکے نے دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھّ دی- آل پاکستان ھندومسلم جنّات کا اجلاس تتّر بتّر ہوا- پھر بحثیں ہوئیں ، ہنگامے ہوئے ، فساد ہوئے ، جھگڑے ہوئے ، بلوے ہوئے- اڑھائ کروڑ ہندو اور سوا دو کروڑ مسلم جنّات ان فسادات کی نظر ہوئے- بالاخر آزادی کا سورج طلوع ہوا- برہمن اپنا سامان سمیٹے بارڈر پار چلا گیا اور ایک آزاد مسلم جنّاتی ریاست کا حصوُل ممکن ہوا سرحدیں جس کی چیچہ وطنی سے لیکر کمالیہ تک پھیلی ہوئ ہیں- ھم اپنے قائدکو ہدیہء تہنیّت پیش کرتے ہیں- آپ کی ولولہ انگیز قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے جِنّانِ راوی کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کیا-
یوں دی ہمیں آزادی
کہ پریاں ہوئیں حیران
اے سائیںِ اعظم
تیرا احسان ہے احسان !!”
اس پر زمین پہ چوکڑی مارے بزرگان نے تالیاں بجائیں اور سائیں زندہ باد کے نعروں سے فضاء گونج اُٹّھی –
ہم نے انہیں خاموش کرایا اور کہا :
” سنو … یہ سب میرے مالک کا کرم ہے- بے شک آزادی اس کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی قدر جِن و انس دونوں پر فرض ہے- آزادی مبارک- لیکن اتنے آزاد مت ہو جاؤ کہ دوسروں کی آزادی سلب کرنے لگو- اس بوہڑ پہ آپ کا رہنا اور آتے جاتے لوگوں کو ستانا کون سی مسلمانی ہے- ایسی اوچھّی حرکات مسلم جنّات کو بالکل زیب نہیں دیتیں … !!”
وہ بولا:
“قائد محترم .. !! ہم کیا کریں؟ کدھر جائیں؟ آزادی کے بعد ایک سال تو ہم بھائ بھائ بن کے رہے- پیار محبّت ، امن امان ، اور رواداری ہمارا شعار تھا- پھر رفتہ رفتہ ہم فرقہ فرقہ ہو گئے- شیعہ ، بریلوی، دیوبند ، وہابی جِن بن گئے- ایک دوسرے کو بدعتی ، مشرک ، گستاخ اور کافر جِن کہنے لگے- بات مناظروں سے بڑھ کے ہاتھا پائ تک جا پہنچی- پھر نعرہء تکبیر لگا کر ایک دوسرے پہ ٹوٹ پڑے- ہمارے بیچ خونی فسادات ہوئے- کروڑوں جنّات اس جنگ میں کام آ چکے ہیں-
کہیں کھُوہ پہ قبضہ جمانے پہ جھگڑا
کہیں پیڑ پر گھر بنانے پہ جھگڑا
کھنڈر پہ جھگڑا، ٹھکانے پہ جھگڑا
کسی سوہنی کُڑی کو چمٹ جانے پہ جھگڑا ؟
پیرومُرشد !! سندھیلیاں والی میں ہمارے کھوہ پہ غیر مسلک جنّات قابض ہو چکے ہیں- ہم دربدر ہیں- آپ کے پاس مدد کےلئے آئے ہیں- آپ ہمارے ہم مسلک بھائ ہیں- ہماری مدد کیجئے- ہمارا کھوُہ ہمیں واپس دلا دیجئے … !!”
یہ کہ کر وہ پرامید نظروں سے ہمیں دیکھنے لگا-
ہم کچھ دیر ششدر ہو کے انہیں دیکھتے رہے پھر کہا:
“مبارک یا جنّات- بالاخر ترقی کرتے کرتے تم بھی ہمارے برابر آ ہی گئے- ہماری طرح فرقہ فرقہ ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے- اچھی بات ہے- اب انسانوں کی بجائے ایک دوسرے کو چمٹا کرو گے اور ہم تماشا دیکھیں گے- ہم بھی اسی طرح ایک دوجے کو چمٹے ہوئے ہیں اور دشمن ہمارا تماشا دیکھتا ہے-
رہی بات مدد کی تو میں فرقوں سے بیزار ہوں اور تمہاری اس مسلک پرستی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نفرین کرتا ہوں- میرا مسلک محبّت ہے جبکہ تم نفرتوں کے امین بن چکے ہو- میں تمہارے کسی کام کا نہیں ہوں- کسی فرقہ پرست مولوی سے رجوع کرو ، بہتیرے پھرتے ہیں- ایک انگلی پہ ہزار سما سکتے ہیں- شاید وہ کوئ رستہ نکال دیں ہاں اس برگد کے پیڑ کو ضرور خالی کر دو- اس کے نیچے ہماری گھراس ہے- لوگ آٹا پیستے ہیں- درانتیاں رنبے اور ٹمبے تیز کرواتے ہیں”
انہوں نے مایوسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا- پھر وہ بزرگ بولے:
“تو پِھِر ہم آپ کی طرف سے چِٹّا اِنکار سمجھیں؟”
ہم نے کہا ” بالکل تیرے لباس جیسا چِٹّا ، تیری داڑھی اور تیرے خُون جیسا چِٹّا- کل ظہر تک یہ پیڑ خالی نہ ہوا تو فرقہء مخالفہ کے جنّات کرائے پہ منگوا کے یہاں ان کا جلسہ کرواؤں گا اور تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دوں گا”
وہ خاموشی سے اٹھے اور اندھیرے میں غائب ہو گئے- ہم نے بھی اپنا بستر سمیٹا اور ڈیرے پہ چلے آئے- اس روز کے بعد ملک پور میں کسی کو جنّات نظر نہ آئے-
ایک روز شام کو کرم علی میراثی اپنے بارہ سالہ بچّے کو لیکر آستانے پہ آیا- بچّہ دھاڑیں مار مار کےروتا تھا اور باپ بیچارہ اس کے آنسو پُونچھتا تھا-
ہم نے پوچھا کیا ہوا ہے ؟
کرم علی بولا : “رب جانے جی .. کچھ بتاتا بھی نہیں … سائیوں والے کھوہ پہ گیا تھا … کئ بار موڑا ہے کہ مت جایا کر … کوئ جِن بھوت چمڑ گیا ہے جی … بس روئے ہی جا رہا ہے .. !!”
ہم نے بچّے کو پاس بٹھایا- اس کو دلاسا دیا ، پانی پلایا اور پوچھا “بتاؤ بیٹا کیا ہوا ؟”
وہ جواب دینے کی بجائے پھر ہچکیاں لینے لگا- اس کے آنسو ہمارے دل پہ گرنے لگے- ہم نے حوصلہ دینے کو اس کی پیٹھ تھپتھپائ تو وہ تڑپ اٹھا اور مزید زور سے چیخنا شروع کر دیا-
ہم نے اس کےلئے دودھ پھل اور فروٹ منگوایا- کوئ گھنٹے بعد اس کا مزاج کچھ بہتر ہوا- پھر ہم اسے لئے جانوروں کے واڑے میں چلے گئے- اسے گھوڑے خچّر مرغ اور کبوتر دکھائے- جب وہ اچھی طرح ہم سے مانوس ہو چکا تو ہم نے پوچھا:
“سچ سچ بتاؤ بیٹا ، تمہیں کس نے مارا ؟ ہم اس کو ضرور سزا دیں گے”
وہ کچھ دیر چپ رہا پھر بولا:
” اڈّے کے پاس جو باغ ہے .. اس کے مالی نے … !!”
“کس لئے … ؟؟”
وہ سر جھکا کے خاموش ہوگیا-
ہم نے کہا ” چکوترا توڑا تھا ناں … باغ سے ؟؟”
وہ بولا ” جی بس ایک ہی توڑا تھا …. دیکھنے کےلئے کہ کیسا ہوتا ہے … کبھی کھایا نئیں تھا ناں جی .. !!”
ھم نے بندہ بھیج کر فوراً مالی کو بلوایا- وہ آیا تو بچّے کی پیٹھ اسے دکھا کر پوچھا ” کیا تُم نے یہ ظُلم کیا ہے ؟”
وہ بولا: “سائیں جی کیا کروں ؟ ان بچّوں نے باغ اجاڑ کر رکھ دیا ہے میرا- 90 ہزار میں لیا تھا- 20 ہزار کا پھل بکا ہے- 70 ہزار ابھی تک پھنسے ہیں- کچھ طوطے اجاڑ رہے ہیں … کُچھ بچّے ..!!”
ھم نے کہا : ” بچے تو فرشتے ہوتے ہیں- فرشتوں کا حصّہ نہیں نکالو گے تو ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہو گے …. !!!”
وہ ڈھٹائ سے بولا: ” آپ خرید کر فرشتوں میں بانٹ دو ، میں تو گھاٹا برداشت نہیں کر سکتا”
ہم نے کہا “بتاؤ کتنے میں بیچتے ہو ؟ 90 ہزار کافی ہیں …؟؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے شازے سے کہا:
“اس کو 70 ہزار دے دو ابھی- باقی پرسوں تک دے دینا- آج سے یہ باغ خلقِ خدا کےلئے وقف ہے- جو جتنا چاھے توڑ کے کھا سکتا ہے-
پھر ہم کرم علی اور اس کے بیٹے کو لیکر باغ میں گئے-
ہم نے کہا “بیٹا اب جتنے چاہو چکوترے توڑو- یہ باغ آج سے تمہارا ہے”
وہ کھلکھلا کے ہنسا اور دوڑ کے چکوترا اتار لایا-
اس کی کھلکھلاہٹ میں ہمیں رب سائیں کی مسکراہٹ دکھائ دی- ہاں وہی رب جسے کبھی ہم چٹھیاں لکھّا کرتے تھے- جس سے گلے شکوے کیا کرتے تھے ، نظامِ کار چلانے کےلئے اپنے تئیں بڑی بڑی تجاویز دیا کرتے تھے- آج کل وہ ہمارے آس پاس ہی رہتا ہے- اسے ہنسانے کو ہم نت نئ ترکیبیں سوچتے ہیں-
محبوب کو ہنسانے میں ، اسے خوش رکھنے میں کیا لطف ہے یہ دنیادار کیا جانیں؟ یہ تو صرف سچّے عاشق ہی جانتے ہیں-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: