Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 3

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 3

–**–**–

نماز کے بعد میں ٹوٹے قدموں سے گھر آیا تو ایک بار پھر تنہائ کاٹنے لگی- دِل کہتا تھا اُٹھ اور کچھ کر- اگر یونہی پڑا رہا تو کچھ حاصل نہ ہو گا- میں نے بستر چھوڑا ، بس پکڑی اور سسرال کے پِنڈ جا اترا-
اڈے پہ چند ایک دکانیں کھُلی تھیں- ان میں صادق کی دکان بھی تھی- وہ ایک سائیکل کا پہیہ گوڈوں میں دبائے ھینڈل کس رہا تھا- میں سلام کر کے لکڑی کے بنچ پہ بیٹھ گیا-
میرے سلام کا جواب دینے کی بجائے وہ اپنے کام میں مصروف رہا- میں کچھ دیر بیٹھا رہا پِھر اٹھ کر اس کے قریب آیا اور انتہائ مسکین صورت بنا کر کہا:
” چائے نئیں پلائے گا اُستاد –!!!”
مجھ سے نظر ملائے بغیر اس نے ادھر ادھر دیکھا- مونہہ ہی مونہہ میں کچھ بڑبڑایا- پھر کھوکھے والے کو آواز دی:
“اوئے ماجے- اِک کپ چاہ میں زھر ڈال کے لے آ- نحوست آئ ہے”
میں نے کہا دیکھ اُستاد … بھول تو انسان سے ہو ہی جاتی ہے … …. میں بھی آدم زاد ہوں- مانا … بہت بڑی خطاء ہوئ مجھ سے- ایک چھوٹی سی غلط فہمی نے میرا گھر اُجاڑ دیا- لیکن … اتنی نفرت تو ٹھیک نئیں ناں …”
وہ اوزار تگاری میں پھینکتے ہوئے بولا:
” ناں تو کیا اب تُجھے جپھی لگاؤں ؟ چُمیاں لوُں تیری ؟ … گلے میں ہار ڈال کے پوُرے پِنڈ میں پھراؤں ؟ کیا کروُں تیرا …. ؟؟”
میں کچھ دیر خاموش رہا پھر کہا:
” جو ہو گیا سو ہو گیا استاد … کوئ رستہ نکال یار … تو جانتا ہے ناں میں عالیہ سے بہت محبّت کرتا ہوں ، اس کے بغیر جی نئیں سکتا … صُلح صفائ کی کوئ صورت نکال استاد … !!! “
اس پر وہ تنک کر بولا:
” بس کر … ٹوُپ ایک دفعہ پھٹ جائے تو اس میں پنچر نئیں لگتا ….. طلاق میں کون سی صلح صفائ ؟؟ دماگ ٹھیک ہے تیرا ؟؟ “
میں نے کہا:
” دیکھ یار …. مُدعی معاف کردے تو قاتل بھی چھوٹ جاتا ہے … میں نے تو صرف طلاق دی ہے …. وہ بھی غلط فہمی میں …. عالیہ اگر معاف کر دے تو گھر بس سکتا ہے میرا … شرع متین میں ضرور اس کی کوئ گنجائش ہو گی”
وہ قمیض سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا:
” یہ مولبی کے مسئلے ہیں ویر …. میں تو بس اتنا جانتا ہوں … کمانی اک وار ونگی ہو جائے تو بھلے لَاکھ ٹانکے لگا لو — سَیکل نئیں چلتی “
میں نے کہا:
” میری زندگی کی کمانی ٹوٹ چکی ہے صادق …. خالی ھینڈل ہاتھ میں ہے … سمجھ نئیں آتی کیا کروں- توُ میرے ساتھ چل … ھم کسی وڈّے عالم فاضل سے ملتے ہیں- یار جب قاتل دیت دے کر چھوٹ جاتا ہے تو طلاق کی بھی تو کچھ دیت ہوگی ؟؟”
وہ کچھ دیر تک عجیب نظروں سے مجھے گھورتا رہا- پھر پیچ کس سے کمر کھجاتے ہوئے بولا:
” کیسٹیں تُو سنتا ہے عالموں کی اور مسئلے مجھ سے پوچھ رہا ہے- “
میں نے کہا:
” یار کیسٹیں سننے سے کون عالم بنتا ہے- یہ تو پیٹ کا کاروبار ہے- مولبی پہلے تقریر سنا کے لوٹتا ہے پھر کیسٹ وَیچ کے- اسلامی ریکارڈنگ سینٹر فی سبیل اللہ تھوڑی چل رہے ہیں- عوام کو خیالے لگایا ہوا ہے- ممبر پہ طلاق کے مسئلے چھیڑ کے مولوی اپنے پاؤں پہ کلہاڑی کیوں مارے- ایسی کیسٹ سنے گا کون ؟ خریدے گا کون ؟ “
وہ اُٹھ کر چارپائ پر میرے ساتھ آن بیٹھا اور بولا:
“اب توُ چاھتا کیا ہے ؟؟”
میں نے کہا:
” بس عالیہ واپس آ جائے ….. کسی طرح بھی !!! “
وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا:
” مقدر میں ذلالت لکھی ہو ناں تو بندہ گھر بیٹھے بیٹھے وی ذلیل ہو جاتا ہے- عالیہ کوئ روُٹھ کے پیکے نئیں آئ کہ منا کر تیرے ساتھ ٹور دیں “
میں کچھ دیر تک اپنے ہاتھوں کی لکیریں دیکھتا رہا پِھر کہا:
“ویکھ صادق !! تین گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہوا تھا … پکّی شاہی سے فارم بھرے تھے … انگوٹھے لگے تھے … چھوارے بٹے تھے …. ڈھول بجا تھا …. ویل ودھائ ہوئ تھی …”
“فیر ؟؟؟ “
” فیر یہ کہ نکاح کےلئے تو اتنی وڈّی چوڑی کاروائ …. اور طلاق کےلئے ؟؟ بس تِن لفظ ؟؟ جن کا نہ کوئ گواہ ہے نہ وکیل ؟؟ اتنی نازک ہوتی ہے یہ شادی — ؟؟ “
وہ بولا:
” ناں تو … تیرا کیا خیال ہے پٹاخے وجنے چاھئیں طلاق پہ … ؟؟ ڈھول کھڑکانا چاھئے ؟؟ ہوکا دینا چاھئے پورے پِنڈ میں کہ جوان نے طلاق دے دی ہے ؟؟ او وِیر …. یہ پُٹھے سِدھّے سوال کسی مُولبی سے جا کے کر …. وہ تیرا دماگ ٹھکانے لگائے گا- مجھے کام کرنے دے “
میں نے کہا:
” بات کی تھی میں نے مولوی نزیر سے- استغفار پڑھتا ہوا یوں بھاگا جیسے کوڑھی ہو گیا ہوں میں- ایک توُ ہی سجن تھا ، تو بھی ساتھ چھوڑ گیا- کل میری لاش کسی کھوُہ سے ملے تو سمجھ لینا …. سر سے بوجھ اتر گیا … صلّو کا … !!! “
” اچھا ٹھیک- کل سویرے سویرے میں آ جاؤں گا- نماج کے بعد جب لوگ چلے جائیں گے تو مولوی نزیر سے پوچھ لیں گے مسئلہ … کرا دیں گے تیری تسلّی … اب میرے سر سے اتر … مجھے سڑک پہ کیل بھی لگانے ہیں … سیکلیں پنچر نئیں ہوں گی تو کھائیں گے کہاں سے … !!! “
اگلے روز اذانوں کے وقت صادق میرے کوارٹر میں آن دھمکا- نماز فجر کے بعد ھم مولوی نزیر سے ملے- مسجد خالی ہو چکی تھی- سورج کی کرنیں کھڑکیوں سے چھن چھن کر صفوں پر پڑ رہی تھیں- باہر پیپل پہ غُل مچاتے پرندوں کا شور اندر تک آ رہا تھا- ننھے منے بچے قاعدے سپارے گود میں دھرے سبق دھرا رہے تھے- اس حسین منظر کا طلسم مولوی نزیر نے توڑا:
” طلاق کا لفظ کتنی وار ادا ہویا؟؟ “
میں کچھ دیر برابر سرجھکائے بیٹھا رہا پِھر دماغ پہ زور دیتے ہوئے کہا:
” ٹھیک طرع یاد نئیں پر — شاید آٹھ دس دفعہ — !!!”
وہ زیرِلب کچھ بڑبڑائے پھر کہا:
” لاحول ولا قُوّة — تم لوگوں نے طلاق کو آخر سمجھ کیا رکھا ہے ؟بچوں کا کھیل ؟؟ اتنّی وی ہوش نئیں کہ ایک محفل میں ایک سے زیادہ طلاق نئیں دی جاتی ؟؟ “
میں نے فوراً کہا :
” میں نے محفل میں طلاق نئیں دی- میرے اور عالیہ کے سوا وہاں کوئ نہ تھا — “
وہ سر پیٹ کر بولے:
” ایک نمبر چرخے ہو یار- محفل کا مطبل ہے موقع- گھڑی- وقت- او یار چنگے بھلے دیندار بندے ہو تُم ، سارا دن عالموں فاضلوں کی کیسٹیں سنتے ہو ، طلاق کا مسئلہ بھی نئیں معلوم ؟
میں نے کہا میرے اسلامی کیسٹ ہاؤس پہ ایک بھی کیسٹ طلاق کی نہیں ہے- میرے پاس تو میلاد کی کیسٹیں ہیں ، نعتیں ہیں ، مرثیے ہیں مناظرے ہیں، ایصالِ ثواب ، رفع یدین ، نور بشر …… !!”
وہ تاؤ کھا کر بولے:
” بس بس — اب تو ُیہاں کیسٹیں نہ بیچ- بندے کو پتہ نہ ہو تو کسی سے پوُچھ ہی لیتا ہے ، پاکی پلیتی ، حلال حرام ، ثواب گناہ کا علم ہر کلمہ گو کو ہونا چاھئے-
صادق نے کہا:
” دیکھئے امام صاحب — بندہ بہت پریشان ہے- میں نے وی سمجھایا پر سمجھ نئیں رہا- دو دنوں سے بُخار میں تپ رہا ہے- نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے- جو کچھ ھدیہ فدیہ بنتا ہے ، ہم دینے کو تیار ہیں – مسئلے کا حل نکالیں ! “
اس پر وہ کچھ دیر جُز بز ہوئے پھر داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے :
” طلاق تو واقع ہو چُکی- ہاں تین طلاق اکٹّھی دینے پہ جو گناہ ہوا اس پہ استغفار پڑھے یہ بندہ – معافی منگے رب سے- وہ غفور الرحیم ہے!! “
میں نے عرض کی :
” کیا رب میرا گناہ معاف کر دے گا “
وہ کسی قدر نرم ہوئے اور کہا
” کیوں نہیں- خُدا معافی کو پسند کرتا ہے- حدیث میں آیا ہے کہ ایک بندے نے 99 قتل کئے- پھر ایک عالم سے جا کر پوچھا کہ کیا رب مجھے معاف کر دیگا- اس نے کہا کبھی نہیں- اس پر اس شخص نے عالم کو بھی قتل کر دیا- پھر وہ کسی دوسرے عالم کی تلاش میں نکلا- رستے میں اسے موت آ گئ- اب جنت اور جہنم کے فرشتے اس کی بابت جھگڑنے لگے- اس پر رب تعالی نے دونوں اطراف کا فاصلہ کچھوایا- جس طرف وہ سفر کر رہا تھا اس طرف فاصلہ گَھٹ نکلا- رب تعالی کی رحمت جوش میں آئ اور زمین کھینچ کے اس طرف کے فاصلے کو کم کر دیا جدھر وہ معافی مانگنے جا رہا تھا- اس کی رحمت تو بہانے ڈھونڈتی ہے “
میں نے موقع پا کر کہا:
” رب تعالی سے معافی مانگ کے عالیہ کو لے آؤں؟؟”
” عالیہ کون ؟؟” وہ آنکھیں پھاڑ کر بولے-
” بب … بیوی میری”
وہ تڑپ کر بولے:
“شرم کر …. حیا کر …. حرام ہو چُکی وہ تیرے واسطے — !!!”
صادق نے لُقمہ دیا “اس کھڑپینچ کو میں نے وی بوہت سمجھایا کہ پہیّے سے نکلی ہوئ پھُوک اور مونہہ سے نکلی طلاق واپس نئیں آ سکتی- یہ شٍدائ کہتا ہے جب رب سو قتل معاف کر سکتا ہے تو طلاق کیوں نئیں ماف ہو سکتی ؟؟ “
مولوی صاب بولے:
” دیکھ- قتل بھلے معاف ہو جائے لیکن قتل ہونے والا بندہ تو واپس نئیں آ سکتا ناں –؟؟ مَر جو گیا –!!!
اسی طراں عالیہ وی قتل ہو گئ — مر گئ تیرے واسطے- غیر محرم ہو چکی- ہاں ایک رستہ ہے لیکن — “
” کون سا — ؟؟ ” صادق اور میں دونوں بول پڑے-
” حلالہ — !!! “
کچھ دیر ہمارے بیچ خاموشی رہی پھر صادق نے کہا :
” مطبل …. کوئ ڈنگر شنگر حلال کرنا پڑے گا ؟؟ ….صدقے شدقے کےلئے ؟؟
” خُدا کا واسطہ … ” مولوی نزیر نے ٹوکا- “حلالہ کا مطلب ڈنگر حلال کرنا کس لعنتی نے بتایا تمہیں — ؟؟ حلالہ یہ ہے کہ جس عورت کو طلاق ہوئ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے- دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں- پھر وہ مرد یا تو اس عورت کو طلاق دے- یا فوت ہو جائے- اس صورت میں وہ عورت پرانے شوھر کے پاس واپس آ سکتی ہے”
“کمال کی بات ہے ” صادق پھٹ پڑا-
” مطبل …. پہلے اُس کُڑی کو کسی مہاتڑ کے ساتھ ویاہو … پھر اس بُرچھے کے مرنے کی دُعا کرو … اب ہر کوئ صلّو تو نئیں ناں کہ اتنا جلدی طلاق دے دے … اشکے وئ … قصور کس کا اور بھگتے کون ؟؟ اُس مردود کو پتھّر مارنے کا کہیں ذکر نئیں جس نے طلاق دے کر ایک معصوم کو ذلیل کیا … ؟؟ مطبل یہ کہ … !!! “
مولوی صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا:
” او وِیر … میں مولوی ہوں کوئ دکاندار نئیں کہ تمہاری مرضی کا مال دوں …. ماتم کرنے سے مردہ زندہ نئیں ہو جاتا …. آخری حل یہ ہے کہ یہ مردود دوُجا ویاہ کر کے گھر وسا لے … اللہ اللہ خیر صلہ … چَلو اُٹھو اب … موسم خراب ہو رہا ہے … میں نے مسیت وی بند کرنی ہے– !!”
صادق اور میں بھی اُٹھ کھڑے ہوئے-
مُلاں پور کا موسم واقعی خراب ہو رہا تھا- آسمان پہ سیاہ رنگ کے بادل چھا چکے تھے- تیز ہوا کے جھکڑ آنے والے طوفان کی خبر دے رہے تھے- صادق سائیکل کھینچتا ہوا پکّی سڑک کی جانب چلا- میں بھی ساتھ ہو لیا- ہم خاموشی سے چلتے ہوئے بادلوں کی گڑگڑاھٹ سنتے رہے-
بخشوُ والے پُل پہ اسے رخصت کرتے ہوئے میں نے بڑی اداسی سے کہا:
” کتنا اچھا موسم تھا صادق- مولوی نے خراب کر دیا- مشورہ ویکھ کیڈا سوہناں دیا- حلالہ کرا لوؤ جی .. !! “
وہ بولا:
” مولوی کا کیا قصور؟ اس نے وہی کچھ بتانا ہے جو کتاب میں لکھا ہے- ویکھ میاں بیوی سیکل کے دو پہیے ہوتے ہیں- بھلے چوں چاں کرتے رہیں چلنا ساتھ ہی ہے- جب تک ساتھ چلتے ہیں سیکل کی شان بنی رہتی ہے- جب الگ ہوتے ہیں تو کباڑئے کا رزق کھُلتا ہے- فیر کوئ پہیہ کسی پتھارے کو جا لگتا ہے کوئ کسی ٹھیلے کے نیچے رُلتا ہے- عُمر بھر کےلئے-
رات بھر تیز بارش ہوئ-
خُدا بھلا کرے یار محمد کمبوہ کا جو مکئ کی نصف روٹی اور چھٹانک بھر ساگ دے گیا- دروازے پہ قندوری اور چھابہ پکڑاتے ہوئے اس نے جِھِیت سے اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ” بھرجائ کدھر ہے ؟ “
رات گزارنے کےلئے یار محمد کی یہ ضیافت اور ایک جُملہ کافی تھا- گاؤں کے لوگ روحانی طور پہ ایک دوُسرے سے جُڑے ہوتے ہیں- موت اور طلاق کی خبر پہ ٹڈّی دل کی طرح گرتے ہیں- سو اس خبر کو اب زیادہ دیر چھپائے رکھنا مشکل تھا-
میری آنکھیں بخار سے جلنے لگیں- گھر میں جو چادر ، لحاف ، کھیس میّسر ہوا ، اوڑھ لیا- عجب چسکے والی بیماری ہے یہ بخار بھی- عقل بندے کا ساتھ چھوڑ کے بخار کی غلام ہو جاتی ہے- بندہ جاگ رہا یا سو رہا ہے ، کچھ پتا نئیں چلتا- خواب اور یاد ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے سیر سپاٹےکو نکل جاتے ہیں- عالیہ خوابوں اور یادوں سے نکل کر میرے سرھانے آن بیٹھی- کبھی ماتھے پہ اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کا لمس ، کبھی بالوں میں پھرتی ملائم انگلیاں ، کبھی قہوے پلا رہی ہے تو کبھی کھچڑی کھلا رہی ہے- آنکھ کھلتی تو وہی سنسان تاریک گھر ، تنہائ اور پٹاخے مارتا ہوا بادل-
موسم کی خرابی نے زندگی مزید ابتر کر دی- پہلے ہی دُکھ کیا کم تھے کہ بخار بھی جان کو آ گیا- صحن میں پڑی لکڑیاں نہا دھو کے بال نچوڑ رہی تھیں- بجلی گھنٹوں سے غائب تھی- قہوے کی طلب نے ستایا تو کھیس کمبل اتار کے دور پھینکے- سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے سات تیلیاں ماچس کی جلائیں تو لالٹین جلی-
گھر میں نام کا باورچی خانہ تھا- ایک چھوٹی سی دو طرفہ دیوار ، اوپر بانس اور سرکنڈے کا چھپّر – ہم اسے چولھانہ کہتے تھے-
لنگری ، ملناں ، ہانڈی ، مرتبان ، کاشک ، لوُن چی ، توّا ، پرات ، چھکیر ، گڑوی ، کٹوی ، صحنک ، دھوٌکنی سب ترتیب سے رکھّے تھے- یہی عالیہ کی کُل کائنات تھی- ہر چیز کے ساتھ عالیہ کی بے شُمار یادیں جُڑی تھیں- ہائے ہائے کا وِرد کرتا میں پیڑھے پہ ڈھیر
ہو گیا-
ابھی چار دن پہلے مجھے اس چولھانے سے کوئ سروکار نہ تھا- لکڑیاں کون کاٹتا ہے ، تندور کون سیکتا ہے ، چھِٹیاں کہاں پڑی ہیں ، کون سا بھانڈا کدھر ہے کچھ پرواہ نہ تھی- عالیہ کا کام پکانا تھا اور میرا منجے پہ بیٹھ کے کھانا- آج میری حالت اس سپاہی کی سی تھی جو میدان جنگ میں ہتھیاروں کے ڈھیر کے سامنے کھڑا ہو مگر لڑنے سے قاصر ہو-
چائے کا خالی ڈبّہ ، تھوڑی سی روئ ، ایک آدھ شاپر اور دو کپاس کی سوُکھی چھِٹّیاں کام آئیں اور چُولھے کا شُعلہ بھڑکا- خُدا خُدا کر کے قہوہ تیّار ہوا- ابھی پیالی میں انڈیل ہی رہا تھا کہ دروازہ زور سے بجا- دل تیزی سے دھڑکا- اس وقت کون آگیا ؟ کہیں صادق تو نہیں ؟ مولوی صاحب نہ ہوں کیا معلوم کوئ نیا رستہ ڈھونڈ لائے ہوں- انہونی ہوتے کون سی دیر لگتی ہے- قسمت بدلنے کو ایک دستک ہی کافی ہے-
ہزاروں خدشات اور موہوم امیدیں لئے بتّی اٹھائے دروازے پہ گیا- آنے والے کا چہرہ لالٹین کی روشنی میں بھی بجھا ہوا محسوس ہوا- یہ غوث محمد تھا- سردی سے کپکپاتے ہوئے کھانس کر بولا صلّو ایک ضروری اعلان کرانا ہے-
مسجد کے کوارٹر میں رہنے کا یہی ایک نقصان تھا کہ گاؤں والے خادم مسجد سمجھتے تھے- کسی کی بکری گُم ہو جاتی ، سرکاری کھال کی کھٹّائ ہوتی ، داج کی نمائش ہوتی ، یا کوئ فوت ہو جاتا ، اعلان مجھے ہی کرنا پڑتا تھا- یہ خدمت میں مبلغ دو روپے فی اعلان ، پوری تندہی سے انجام دیتا چلا آ رہا تھا-
” غوث محمد ماشکی— اس کی بیوی — رضائے الہی سے فوت ہو گئ ہے— جنازے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا”
مسیت کا اسپیکر بند کر کے باھر نکلا تو رگ رگ سے پسینہ پھُوٹ پڑا- یوں لگ رہا تھا جیسے بخار اتر گیا ہو- دل میں ایک عجب سی امنگ جاگ اُٹھی-ہاں میری بیوی تو زندہ ہے … ہاں زندہ ہے … میں شدائیوں کی طرح بڑبڑانے لگا … میری بیوی فوت نہیں ہوئ … عالیہ تو زندہ ہے … !!!
مسجد کی چٹخنی لگا کر میں گھر کی طرف بھاگا- بابا دینہ لاٹھی ٹیکتا ہوا آ رہا تھا- اس سے ٹکرایا- ” پُت کون فوت ہوا ہے ؟؟ ” وہ میرا چہرہ ٹٹولتے ہوئے بولا- میں جان چھڑا کے بھاگا اور پکارتا چلا گیا …. غوث ماچھی کی بیوی … ستّر سے اوپر تھی …. گینٹھیا کی مریض .. اب قبر میں آرام کرے گی … میری بیوی زندہ ہے … جھوُٹ بولتا ہے مولوی … وہ مری نہیں- بھلا تین بولوں سے کون مرتا ہے ؟ نہ اعلان ہوا نہ جنازہ- بس ان تین حرفوں کی قیمت چکانی ہے مجھے- وہ واپس آ جائے گی”
بارش تھم چُکی تھی- صبح کاذب نمودار ہو رہی تھی- نماز کے بعد میں نے اڈے سے گزرنے والی پہلی بس پکڑی اور سورج نکلتے ہی پِنڈ دھوبیاں جا اُترا- اڈے پہ ہوُ کا عالم تھا- ماجے کے سوا کوئ ذی روح نہ تھی- وہ گیلی لکڑیوں میں پھونکیں مار مار کے چائے کےلئے دودھ گرم کر رہا تھا- میں سلام کر کے ہوٹل کے سامنے پھٹّے پہ جا بیٹھا-
شیشے کے گلاس میں بھاپ چھوڑتی چائے پکڑاتے ہوئے اس نے کہا ” آج خیر ہے ؟؟ سویرے سویرے ہی سوہرے پِنڈ آن پُہنچے ہو”
مجھے اس کے الفاظ نے خوشی اور غم دونوں سے لبریز کر دیا- سوہرا پِنڈ- واہ واہ … ہائے رے قسمت- ایک آنکھ خوشی سےہنس رہی ہے اور دوسری مقدر کے لکھے پہ رو رہی ہے-
” گلاب بی بی فوت ہو گئ ہے چاچا- غوث ماچھی کی بیوی- اس کے پیکے پِنڈ آیا ہوں …اعلان کرانے … !!! “
” ہک ہا … ” ماجے نے تاسف سے کہا- ” وِچاری … دن پورے کر گئ … اوکھے سوکھے … مولا پاک قبر میں سوَکھا رکھّے … غوثے کا کیا ہے … وہ پہلے وی اڈّے پہ تاش کھیلتا تھا اب وی کھیلا کرے گا “
دھوبیاں کی مسجد میں فوتگی اعلان کرا کے باھر نکلا ہی تھا کہ صادق آتا دکھائ دیا- وہ سائیکل کے پیڈل مارتا مسیت کی طرف ہی آ رہا تھا- اس نے میرے پاؤں کے پاس آ کر بریک ماری ، سائیکل کی گھنٹی بجائ اور آنکھ مارتے ہوئے بولا ” مبارک ہو شِدائیا – تیرے واسطے اک اچھی خبر ہے”
میں نے خوشی چھپاتے ہوئے کہا :
” سچ .. ابھی نہ سنانا استاد … مولبی نے سُن لیا تو غش کھا کے گر جائے گا- چل اڈّے پہ چلتے ہیں- کل رات سے ہی دل پرامید ہوا بیٹھا ہے- ہمّت بڑھنے لگی ہے- لگتا ہے مقدر کا ستارہ دکھ کے بادل سے باہر نکل آیا ہے “
اڈّے پہ پہنچ کے جیسے ہی صادق نے بریک لگائ- میں چھلانگ لگا کے کیریئر سے اترا اور سیکل کا ہینڈل پکڑ لیا-
” ہاں اب بتا …کیا خوش خبری ہے ؟ “
وہ سائیکل سے اترتے ہوئے بولا:
“چھُرّی تلے دم لے .. اڈّہ ہے … دُکانوں کے وی کان ہوتے ہیں … کسی نے سن لیا تو پورے پنڈ میں دھمال پڑ جائے گی …. “
سائیکل کو اسٹینڈ پہ کھڑا کر کے اس نے تالہ لگایا- پھر میرا ہاتھ پکڑے ماجا ہوٹل کے پچھواڑے میں لے گیا- یہاں بوہڑ کا ایک گھنّا درخت تھا جس کے نیچے کچّا تھڑا بنا ہوا تھا- آس پاس خودرو جھاڑیوں کا پردہ تھا- شام کو گاؤں کے اوباش لوگ یہاں منگ پتّہ کھیلا کرتے تھے-
ہم پھوہڑ کی صف پہ آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے- صادق نے کہا:
“دیکھ صلّوُ – کل شام میں چاچے لطیف کے ہاں گیا تھا- بڑے ہی خراب حالات ہیں- وچارہ پہلے ہی بیمار تھا ، اب اکلوتی دِھی وی طلاق لے کر بوہے پہ بیٹھ گئ ہے- تیری ساس وی منجے پہ لگی ہے- بس یوں سمجھ کہ دونوں کی موت کا اعلان تُو اسی ہفتے سنے گا- بچے گی عالیہ وی نئیں- اس سے پہلے کہ پوُرا ٹبّر مر جائے ، کچھ کر-“
” یہ خوش خبری ہے ؟؟ “
” اگلی بات وی سن موُرکھا …” اس نے ٹہوکا دیا- ” ٹوبہ چلتے ہیں .. وہاں ایک مولبی کا پتا چلا ہے … بڑا ای پھنّے خان ہے …چَٹ نکاح پَٹ طلاق … پکّا اشٹام بنا کے دے گا حلالے کا … تیرا کم وی بن جائے گا ، سوہرا گھر وی بچ جائے گا ، مولبی نزیر کا کُلنج وی دُور ہو جائے گا “
میں کچھ دیر سر سوچتا رہا پھر کہا:
” لیکن … یہ تو دو نمبری ہے صادق … مولوی نزیر نے تو کہا تھا کہ … کُڑی کا ویاہ کرانا ضروری ہے … پھر اس کا بندہ آئ موت مرے یا اپنی مرضی سے طلاق دے … کُڑی تب حلال ہو گی ؟؟ “
وہ بولا :
” کُڑی کو ہی حلال کرنا ہے تو سیدھی چھُری کیوں نہ پھیر دیں … قنون انسانوں کےلئے بنتا ہے ، انسان قنون کےلئے نئیں … اس ملک کے قنوُن پہ چلیں ناں .. تو بندے کو اپنے جَمّن کا ثبوت دینے کےلئے وی ستّر چاھئیں … یاد ہے وہ ماسٹر عزیز والا کیس ؟؟
” ماسٹر عزیز ؟؟ … وہی جو معزور ہو گئے تھے ؟”
” ہاں وُہی … ان سے میں پنج جماعت پڑھا ہوں … بعد میں معزور ہو گئے … بڈھی ماں اور لاچار پُتّر پینش پہ زندہ تھے … ان کی ہنشن سرکار نے روک لی … ہم انہیں اٹھا کے بینک لے کے گئے کہ عالی جاہ … بندہ معزور ہو گیا ہے … دستخط کے قابل نئیں رہا … انگوٹھا لگانے کی وی سکت نئیں … لیکن ہے تو ریٹائرڈ اسکول ماسٹر ناں … اس کی پینشن بحال کر دو … پتا ہے بینک مینیجر نے کیا کہا ؟؟
کہنے لگا جب تک ماسٹر اپنی مرضی سے خود انگوٹھا نئیں لگائے گا پینشن نئیں مل سکتی-
پھر ہم ماسٹر کی بُڈّھی اماں کو بینک لیکر گئے کہ ان کا انگوٹھا لگا لو- مینیجر بولا پہلے اماں کو اس کا گارڈین بنا کے لاؤ- ہم کچہری گئے تو وکیل نے کہا اماں گارڈین نئیں بن سکتی ، باپ کو لے کے آؤ – ہم نے کہا مائ باپ ، باپ تو اس غریب کا بیس برس پہلے فوت ہو چکا ؟ وہ بولا پھر اس کی فوتگی کی سند بنوا کے لاؤ-
ہم یونین کونسل گئے- انہوں نے کہا پہلے اماں کا شناختی کارڈ بنوا کے لاؤ- ہم نادرا گئٰے- انہوں نے پھر وہی بات کی کہ پہلے اماں کے شوھر کی فوتگی کی سند بنوا کے لاؤ- تیرا کیا خیال ہے … خالی اعلان کرنے سے بندہ فوت ہو جاتا ہے ؟؟ فوتگی کی سند بنوانا پڑتی ہے-
دو ہزار دئے تھے ہم نے یونین کونسل میں- تب جا کے ماسٹر کا ابّا فوت ہوا ،قنونی طور پر- اب آگے سُن- اماں کا شناختی کارڈ بنا- عدالت میں کیس گیا- دو سال تک ماسٹر کو ہاتھوں میں اٹھا اٹھا کر جج کے سامنے پیش کرتے رہے- کہ مائ باپ معزور ہے- اماں کے نام پینشن بنا دو- 28 پیشیاں بھگتیں- دو سال بعد جج نے فیصلہ دیا کہ کیس ناقابل سماعت ہے- تم لوگ ایویں ہی ذلیل ہوتے رہے-
گھوم پھر کر دوبارہ بینک مینجر کے پاس گئے- وہ تو شکر رب کا کہ اس قنونی بینک مینیجر کا تبادلہ ہوا … جان پہچان والا بندہ آیا … اس نے دوسرے بینک میں ماسٹر کا اکاؤنٹ کھلوایا- پینشن شفٹ ہوئ- تب جا کے ملا اس غریب کو اپنا حق- میری جان جس قنون کو مولویوں کی زبان میں حلالہ کہتے ہیں ناں ، وہ اسی گدڑ گھول کا نام ہے- قنون پہ چلنا ہے تو عالیہ کی امید چھوڑ دے”
میں نے بغور اس کی بات سنی اور کہا ” مطلب …. عالیہ کو اس پھنّے خان مولبی کے حوالے کرنا ہی پڑے گا ؟؟ “
” او یار نئیں … اتنی دیر سے ہِیر پڑھ رہا ہوں ، پوچھتا ہے کہ ہیر کُڑی تھی یا مُنڈا- او وِیر … شارٹ کٹ پکڑ … صرف کاغذی کاروائ ہے بس … نکاح نامہ بنے گا … مولوی اور گواہوں کے انگوٹھے لگیں گے … پکّے اشٹام پہ طلاق ہو جائے گی … اللہ اللہ خیر صلّہ … فیر کوئ مائ کا لال تجھے ہاتھ نئیں ڈال سکے گا … مولوی نزیر وی نئیں ..!! “
” خرچہ ….. کتنا آئے گا … ؟؟ “
” توُ اس کی فکر نہ کر- تین سو میں سب کام ہو جائے گا- میں نے سیکل ویچ دی ہے فیکے جٹ کو- پچاس روپے دکان میں پڑے ہیں- کرایہ خرچہ سب نکل آئے گا- ہم آج ہی ٹوبہ جائیں گے- تو حکیم صاب کی دکان پہ چل کے بیٹھ – بڑی گپ شپ والے بندے ہیں … میں فیکے کو سیکل پھڑا کے ابھی آیا-“
صادق مجھے تھپکی دے کر ہوا ہو گیا- میں کچھ دیر تھڑے پہ بیٹھا رہا پھر لاغروں کی طرح چلتا ہوا حکیم اللہ دتّہ کی دکان پہ چلا آیا-
حکیم صاحب بزرگ آدمی تھے- چِٹّی سُفید داڑھی اور مونچھ جڑ سے کتری ہوئ- نورانی چہرہ- میں سلام کر کے سامنے بنچ پہ بیٹھ گیا- وہ کچھ دیر مجھے پہچاننے کی کوشش کرتے رہے پھر بڑی شفقت سے پوچھا کس پِنڈ سے آئے ہو اور کون ہو ؟
میں نے مری ہوئ آواز میں کہا:
“صلاح الدین نام ہے- پیدائشی یتیم ہوں- ملاں پور میں رہتا ہوں- کیسٹیں بیچتا ہوں- لطیف دھوبی کا جواترا ہوں”
وہ مجھے بغور دیکھتے ہوئے بولے:
” کوئ پریشانی ہے ؟ تمہاری آواز میں دکھ اور پچھتاوا کیوں چھلک رہا ہے”
میں نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن گلہ رندھ گیا- وہ کرسی سے اٹھے اور میرے قریب آن بیٹھے- پھر بڑی شفقت سے میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے:
” کوئ مرض ایسا نہیں جس کی شفاء نہ ہو- کوئ جادو ایسا نہیں جس کا توڑ نہ ہو- کوئ درد ایسا نہیں جس کی دوا نہ ہو- سچ سچ بتا-مسئلہ کیا ہے ؟ کیا دُکھ ہے تجھے ؟؟”
میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے- پہلی بار کوئ درد آشناء ملا تھا- آنکھیں رواں ہوئیں تو زبان بھی چل پڑی- میں نے پیدائش سے لیکر اس دن ، اس گھڑی تک کے تمام حالات و واقعات حکیم صاحب کے گوش گزار کر دیے-
ان کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں-جب قصّہ تمام ہوا تو وہ میری کمر پہ ہاتھ رکھ کے بولے صلاح الدین- گھبرا نئیں پُتّر- تیرا دُکھ میں سمجھ گیا ہوں- تو خواہ مخواہ عطائ حکیموں کے پاس بھٹک رہا ہے- سالے ایک مسئلہ حل کرتے ہیں ، دس چموڑ دیتے ہیں- بخار جب رگوں میں بیٹھ جائے تو دیسی نسخے کام نہیں کرتے- تجھے ٹوبہ جانے کی کوئ ضرورت نہیں-اب غور سے میری بات سن … !!!
کوئ گھنٹے بعد صادق لوٹا تو میں ہشاش بشاش ہو چکا تھا- حکیم صاحب کو سلام کر کے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور دکان سے باہر لے گیا- سڑک پہ تانگہ بالکل تیّار کھڑا تھا- صادق جست لگا کے اگلی سیٹ پہ بیٹھا پھر مجھ سے کہا:
” دیکھتا کیا ہے ؟ بیٹھ ناں- موٹی ککّر تک جائیں گے- وہاں سے ٹوبہ کی بس پھڑ لیں گے … “
میں نے کہا :
” توُ نیچے اُتر ….. جا طِیفے سے اپنی سائیکل واپس لے کے آ … نہیں جانا مجھے ٹوبہ ٹیک سِنگھ- ھم گدڑ پنڈی جائیں گے- اپنی سائیکل پہ- وہاں اک حکیم ہے جو مُفت کی دوا دیتا ہے”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: