Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 30

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 30

–**–**–

ایک روز عصر کے بعد سیاہ بادل امڈ آئے- دور دراز سے آنے والے زائرین نے موسم کا مزاج دیکھتے ہی اپنی اپنی گاڑیوں کو چابیاں لگائیں- مُرید چارپائیاں اٹھا اٹھا کر اندر رکھنے لگے- تھوڑی ہی دیر میں مونسلادھار بارش شروع ہو گئ-
مغرب کے بعد ھم بڑے ورانڈے میں آگ کا ڈاڈھ جلا کے بیٹھ گئے- جھڑی منانے کو مریدوں نے سونف الائچی اور گُڑ والی چائے بنائ- شکر قندی اور انڈے ابالے گئے- سجّو تھال پہ ڈھولک بجانے لگا اور جیدا اپنی پرسوز آواز میں عنایت حسین بھٹّی کا رنگ جمانے لگا:
پُچھ پُچھ ہاریاں
اکھیاں دِل توُں
ہوسی کدُوں دِیدار
ڈھولا مِلسی کہڑے وار
ماہی مِلسی کہڑے وار
محفل شباب پہ تھی کہ اچانک شازا باہر سے بھیگتا ہوا آیا اور بولا:
” دوپہر کو راوی پار سے کچھ عورتیں آئیں تھیں جی … کچھ تو بارش کے آثار دیکھ کر واپس چلی گئیں … ایک امّاں ادھر ہی رُکی ہوئ ہے … کہتی ہے سائیں سے مل کر جاؤں گی … !!”
ہم نے کہا ” ٹھیک ہے ، زنان خانے میں ٹھہرا دو- صبح ملوا دینا “
وہ بولا : “وہ بہت پریشان ہیں جی … کہتی ہیں سائیں سے ابھی ملنا ہے اور ابھی واپس جانا ہے …!!”
ہم نے جھنجھلا کر کہا:
“ابھی کیسے واپس جائے گی؟ یہ موسم اور اتنا پینڈا …؟؟”
” وہ کہتی ہیں جی … گھر میں بیمار بچّی اکیلی ہے ….!!”
ہم نے کہا:
” تو بچّی کو ساتھ کیوں نہ لائیں؟ .. چلو ٹھیک ہے … بلا لو انہیں … آ رہے ہیں ہم … !!”
ہم اٹھے اور ٹہلتے ٹہلتے اس طرف چلے آئے جہاں خواتین کےلئے قنات لگی تھی- یہاں قدرے اندھیرا تھا- تھوڑی ہی دیر میں شازا دوسرے احاطے سے اس خاتون کے ساتھ آتا ہوا دکھائ دیا-
چال ڈھال سے وہ کوئ ادھیڑ عمر بی بی نظر آتی تھیں-
وہ ہم سے کچھ فاصلے پہ آ کے کھڑی ہو گئیں- شازا چلا گیا تو ہم نے کہا ” جی امّاں جی ؟”
وہ جانگلی لہجے میں بولیں:
“سائیں جی … میری دِھی بوہت بیمار ہے … ڈاکداروں کو بھی وِکھایا ہے … پر سمجھ کسے کوُں نئیں آئی … سُک سُک کے تِیلا ہو گئ ہے جی … کھاتی پیتی بھی کوئ نئیں جی …”
ہم نے پوچھا ” کتنی عمر ہے؟”
وہ بولیں: ” جوان ہے جی چھبی ستائ ورہے کی …!!”
” ویاہ ہوا ہے اس کا …؟؟”
میرے سوال پہ وہ کچھ دیر خاموش رہیں پھر بولیں:
“ویاہ ہوا تھا جی … تِن چار سال پہلے … مُڑ سائیں نے طلاق چا دِتّی … مُڑ دوجا نکاح امام صیب نال کیتا .. وہ بھی کوئ چنگا بندہ نئیں نکلا جی … تنگ کرتا تھا … طعنے دیتا تھا وچاری کو .. فیر وہ بھی فوت ہو گیا جی .. کالا نصیب ہے جی اس کرماں سڑی کا … کیا کروں؟ … دِھی جو ہے … کوئ دُعا پناہ چاء کرو … چنگی ہو جاوے … تُساں فقیر ہو … !!”
ہم نے دھڑکتے دِل سے پوچھا:
“پِنڈ کون سا ہے امّاں تیرا ؟”
وہ بولی:
“راوی پار ہے جی دھوبیاں والا”
ہمارے سر پہ زور کی بجلی کڑکی اور کلیجے کو چیر کے گزر گئ-
کانپتی ہوئ آواز میں پوچھا:
“عا… عالیہ نام ہے ناں .. اس کرماں سڑی کا ….؟؟”
اس نے حیرت سے ہمیں دیکھا پھر روتے ہوئے بولی:
” تُساں اکھّیاں والے ہو جی … سب خبر ہے تُساں کوں … اس بختاں ماری نوں ٹھیک چاء کرو جی … او مر گئ تو اس کی امبڑی وی مر جائے گی … !!”
ہم نے کہا :
“نہیں مرے گی وہ … ان شاءللہ نہیں مرے گی … زندہ رہے گی عالیہ .. جب تک سائیں صلّو زندہ ہے … عالیہ کیسے مر سکتی ہے؟”
وہ کچھ دیر اندھیرے میں ہمیں گھورتی رہی گویا پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو- پھر بولی:
” صلّو تو اس کو چھوڑ گیا تھا جی … کئ سال پہلے !!”
ہم چپ ہو گئے اور مفلر سے چہرے کو ڈھانپ لیا- پھر رخ پھیر کر اپنے آنسوصاف کرنے لگے … آسمان پہ بادل زور سے گرجا اور ورانڈے سے اٹھتی بھٹّی کی تان نے دِل کے سب زخم کھول کر رکھ دئے:
کی جاناں کیوں دوری ہوئ
مَندڑا تے نئیں بولیا کوئ
کردے رہے ہاں پیار
ماہی مِلسی کہڑے وار
ڈھولا مِلسی کہڑو وار
ہم نے آواز لگائ …
“شازے …….. !!!”
وہ بھاگتا ہوا ورانڈے سے باہر نکلا-
“جی سائیں جی …؟؟”
” گاڑی نکالو … فوراً ہمیں دھوبیاں جانا ہے … ابھی !!”
“دھوبیاں؟ … یہ کہاں ہے جی؟”
” راوی پار .. رستہ میں سمجھاؤں گا … سجّو کو لے لو ساتھ ہمیں ابھی نکلنا ہے … !! “
وہ بھاگ کر گیا اور آواز لگانے لگا:
“فیصل … سجّو … جیدے …. پِیر سائیں راوی پار جا رہے ہیں … گاڑی تیّار کرو … جلدی .. پِیر سائیں راوی پار جا رہے ہیں … !!”
جیدا اپنی دھُن میں مست تھا-
بے پرواہ دے صدقے جائیے
کول نئیں آؤندا کیویں بلائے
کیتے جتن ہزار
ماہی ملسی کہڑے وار
دلبر ملسی کہڑے وار
ہم ماں جی کی طرف مُڑے اور کہا:
“امّاں جی … ہم ہی صلّو ہیں … عالیہ کے پہلے سائیں … خوب پہچان لو … بس اک ذرا سی بھوُل ہوئ تھی ہم سے اور … جنگل جنگل رُل گئے … اور جب رُل رُل کے چٹّو کی طرح گول ہو گئے تو رب سائیں نے گلے لگا لیا … وہی سچّا مالک ہے … ہمارا سچّا محبوب … پیار بھی بہت کرتا ہے … اور آزماتا بھی بوہت ہے … ہم مانگیں گے اس سے … پہلے بھی مانگا تھا … پھر مانگیں گے … عالیہ کو …. اس بار وہ ہمیں خالی نہیں لوٹائے گا ..!!”
انہوں نے حیرت سے ہمیں دیکھا اور چادر میں مونہہ چھپا کے رونے لگیں- ہم ڈھارس بندھانے کو آگے بڑھے تو ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے- ہم نے انہیں گلے لگا لیا اور خود بھی زور زور سے رونے لگے-
بارش نے اب ہلکی پھلکی پھوار کا روپ دھار لیا تھا- ہم کمالیہ روڈ پہ بھاگے چلے جا رہے تھے- ہم نے سِیٹ سے ٹیک لگائ اور آنسوؤں کا ہار لئے رب سائیں کے در پہ سائل بن کے کھڑے ہو گئے-
اسے خوش کرنے کو اپنی نیکیوں کی چھوٹی سی پوٹلی کھولی تو کچھ بھی نہیں تھا- اس کے نام کی ایک بھی نیکی نہ مل سکی- سارا اکاؤنٹ ہی اپنے نام ہو چکا تھا- سائیں کا لنگر ، سائیں کی دعوت ، سائیں کی عنایت ، سائیں کا صدقہ ، سائیں کا دَم ، سائیں کا بکرا ، سائیں کا کُکّڑ-
ہم لوگوں کو رب سے کیا جوڑتے؟ اس کے نام نہاد مینیجر بن کے اپنا ہی سکّہ چلانے بیٹھ گئے تھے-
ڈھونڈ ڈھانڈ کے بس ایک ہی چِیز ہاتھ آ سکی- کچھ پرانے خواب- خواب بھی تو اسی کی ڈاک ہوتی ہے ناں-
ہم وہ سب خواب کھول کے بیٹھ گئے جو سالوں سے دیکھتے آ رہے تھے- ہر خواب میں عالیہ تھی- کبھی دلھن بن کر سامنے آتی اور چولھانے کے دھویں میں گُم ہو جاتی- کبھی ووہٹی بن کے روٹی پکاتی اور خود ہمارا بچا کھچا کھاتی- ہم سینے پہ ٹیپ رکھ کے ماہئے سن رہے ہوتے اور وہ کمر پہ منجی لادے ویہڑے میں لا بچھاتی- ہم کیکر پہ چڑھ کے اس کا ٹہنا ہلاتے اور وہ زمین پہ کھڑی ڈر جاتی-
موٹی کِکّر پہ جا کے ہم نے سڑک چھوڑ دی اور نہر والی سولنگ پکڑ لی- سولنگ جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئ تھی- ہماری رفتار سست ہونے لگی- چار سال کتنی جلدی گزر مگر آج ایک سولنگ گزارنا مشکل ہو رہا تھا-
دھوبیاں پہنچتے پہنچتے گہری رات ہو گئ- موسم صاف ہونے لگا تھا اور بادلوں کی قید سے چاند رفتہ رفتہ آزاد ہو رہا تھا-
گاؤں میں وہی کُتّوں کی بھونکاڑ جسے سن کر کبھی صادق نے کہا تھا ” ویخ تیرے باراتی آ گئے..” گلیوں میں اکّا دُکّا لوگ بھوتوں کی طرح نظر آئے جو جھانک جھانک کے ہماری گاڑی کو دیکھ رہے تھے- ہم سجّو کو برابر رستہ سمجھاتے رہے- تاریک گلیوں کو ہیڈ لائٹس سے روشن کرتا ہوا وہ بالاخر ھمیں لکڑ والے بوُہے پہ لے ہی آیا سامنے جس کے بیری کا چھتریلا پیڑ تھا-
ہم سب گاڑی سے نیچے اترے- پھر امّاں جی کو اتارا- وہ نقاہت سے چلتی ہوئ بوہے تک گئیں اور اس دروازے کو کھولنے لگیں جو چار سال پہلے ہم پہ بند ہوا تھا-
دھڑکتے دل کے ساتھ سچّے رب کو یاد کرتے ہوئے ہم اندر چلے آئے- وہی کپڑے دھونے والی گھاٹ اور وہی کوٹھڑی جو آج بھی صحن سے ایک فٹ نیچے تھی- لالٹین کی مدھم روشنی یہاں آج بھی زندگی کا احساس دلا رہی تھی-
ہم دروازے کی مُوہاٹھ پکڑ کے کھڑے ہو گئے- امّاں جی آگے بڑھیں اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر عالیہ کو جگانے لگیں-
” اُٹھ عالی … اٹھ میری دھی رانی … ویکھ کون آیا اے … اکھ تے کھول … اٹھ میرا پُتر … ویکھ کون آیا … اُٹھ !!”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: