Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 4

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 4

–**–**–

صادق کچھ دیر خاموشی سے مجھے گھورتا رہا ، پھر تانگے سے نیچے اتر آیا- میری کمر پہ پہ اپنا بھاری ہاتھ جماتے اس نے کہا:
” اِک بات میری پلّے باندھ لے وِیر … اگر کام نا بنا ناں … فیر پوُری حیاتی متھے نئیں لگنا میرے … !!! “
میں نے کہا :
” بے فکر رہ اُستاد- جب انسان کسی چیز کی نیّت باندھ لیتا ہے ، رب سائیں خود اس کے رستے سیدھے کرتا ہے “
” لیکن گدڑ پنڈی میں ہے کون ؟؟ کون سا مولبی تاڑ لیا تو نے جو مفتو مفتی حلالے کرتا پھرتا ہے ؟ … “
میں نے کہا:
” گدڑ پنڈی میں کوئ مولوی نہیں استاد …. مستاں والی سرکار کا دربار ہے … پچھلے دو دنوں سے وہ میرے خواب میں آ رہے تھے … اسی لئے میں نے صبح مسیت کے سامنے تجھے کہا کہ دل بڑا پرامید ہے … مقدر کا ستارہ دُکھ کے بادل سے نکل رہا ہے … ابھی جب میں حکیم صاب کے پاس بیٹھا تھا تو آنکھ لگ گئ … ایک بار پھر مستاں والی سرکار کی زیارت ہوئ … کہنے لگے ٹوبہ مت جا … تیری مُراد وہاں پوری نئیں ہو گی …. گدڑ پِنڈی سے آگے جا ، کوٹاں والے اڈّے پہ .. !! “
صادق کچھ دیر مجھے بے یقینی سے دیکھتا رہا پھر بولا:
” کوٹاں والا اڈّہ …؟؟ وہابی سے حلالہ کرائے گا توُ . …؟؟
میں نے معصومیت سے کہا:
” مستاں والی سرکار کا یہی حُکم ہے اُستاد …. اللہ کے ولیوں کے اپنے اسرار ہوتے ہیں … ان کی بات نہ مانیں تو بندے کا موُل مِٹ جاتا ہے … “
تیر نشانے پہ لگا اور صادق خاموشی سے میرے ساتھ چل پڑا- ھم دونوں فیکے جٹ کے ڈیرے پہ گئے- منت سماجت سے سائیکل واپس کروائ- صادق نے بسم اللہ پڑھ کے کاٹھی سنبھالی اور میں ٹانگیں لٹکائے کیرئیر پہ ہچکولے کھانے لگا-
“جامن والے کھوہ” پر اچانک سیکل کی چین اتر گئ- اگلا پہیہ کھڈّے میں گیا اور ھم دونوں ایک دوسرے کے اوپر گرے- سائیکل ہمارے اوپر تھی- اڈّے پر بیٹھے لوگوں کا ہاسا نکل گیا-
صادق کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھا اور بولا :
” اس کھسماں کھانڑی سیکل کو کیا ہو گیا … ؟؟ منحوس ماری صبح تک تو بالکل ٹھیک تھی “
وہ سائیکل وہیں چھوڑ کے کافی دور جا کھڑا ہوا- شاید عزیمت اور شرمندگی سے بچنا چاھتا تھا- میں نے خاموشی سے کھڑی کی- کاٹھی کو جھاڑا اور چین درست کرنے لگا- کچھ دیر ہاتھ کالے کرنے کے بعد آواز دی:
“آ جا استاد !!! چڑھ گیا ہے چین … “
قسمت شاید آج رسواء کرنے پر تُلی ہوئ تھی- “کھِڈّی والا” کے قریب تھے کہ صادق ہوا میں پیڈل چلانے لگا اور سائیکل سُستی و کمزوری کا شکار ہوتی چلی گئ-
” اب کیا ہوا اُستاد !!” میں نے ایک بار پھر چھلانگ لگاتے ہوئے پوچھا-
” تیری ماں کا کھسم ہوا ہے … ” وہ پھٹ پڑا- “بندہ کسے کُتّے کو سیکل پہ بٹھا لے پر طلاقی کو دفعہ دور کرے …. قسمے … بڑا ہی نحش بندہ ہے وئ تو … !! “
“ہوا کیا ہے ؟؟” میں نے اس کے الفاظ کا نشتر سینے پر برابر جھیلتے ہوئے پوچھا-
” کُتّے فیل ہو گئے ہیں … سمجھ نئیں آتا کہ فیکے بدماش نے کون سا سیہہ کا کنڈا دب دیا اس کی گدّی میں … ہتھ ہی نئیں آ رہی !! “
میں نے کہا ” ضرور اس نے بھینس کے پٹھّے ڈھوئے ہونگے اس پہ- یہ جٹ لوگ سیکل کو وی کھوتی سمجھتے ہیں- اچھا کیا جو واپس لے آیا- پتہ نئیں کیا کیا ظلم کرتا بے زبان پہ … سیکل مجھے دے اُستاد … تو یہیں ٹھہر …. میں کرتا ہوں کُتّوں کو سیدھا ….. !!! “
صادق کو وہیں سڑک پہ کھڑا کر کے میں سائیکل کو ایک جھاڑی کی اوٹ میں لے گیا- کچھ دیر بعد ازار بند اور سیکل سنبھالتا ہوا واپس آیا اور کہا:
” آ جا اُستاد ہو گئے تیرے کُتّے پاس !!”
خدا خدا کر کے عصر تک ہم ” کوٹاں والا اڈہ ” پہنچے- مسیت کی تلاش میں پھر رہے تھے کہ ایک لحیم شحیم مولوی پر نگاہ پڑی جو پائنچے خوب چڑھائے ٹانگیں کھولے چوک میں کھڑا تھا-
میں نے کہا ” صادق … دیکھ وہ بندہ شکل سے مولوی نئیں لگ رہا ؟؟ … “
صادق نے بریک لگائ اور بولا:
” تو خود ہی جا کے نمٹ … میں یہیں کھڑا ہوں “
میں ڈرتا جھجھکتا اس بغیر ٹوپی والے مولوی کے پاس پہنچا- دونوں ہاتھ مصافحے کو بڑھائے تو اس نے بمشکل ایک ہاتھ آگے کیا- اس کی خشک طبیعت تر کرنے کو میں نے اپنا اسلامی کیسٹ ہاؤس والا بیس سالہ تجربہ آزمانے کا فیصلہ کیا اور کہا :
” سبحان اللہ … اس فتنوں کے دور میں …. جب اللہ والوں پہ زمین تنگ ہو چکی … آپ کا یوں ٹانگیں پھیلا کر کھڑا ہونا …. بڑے ہی دل گردے کی بات ہے … !!! “ِ
اس پر وہ ذرا کو مسکرایا اور بولا:
” بندے کو صادق سلفی کہتے ہیں ، کہاں سے تشریف لائے آپ لوگ … !!!”
میں نے کہا مُلاں پوُر سے آئے ہیں- ایک مسئلہء شرعی درپیش ہے- بہت پریشان ہیں-کسی اچھے عالم کی تلاش ہے-
وہ بولا : ضرور مسئلہ طلاق ہو گا- نکاح کےلئے تو آپ لوگ ہمارے پاس آنے سے رہے-
میں نے کہا واللہ آپ نے تو دِل کی بات جان لی- شاید آپ کے فتوی سے ایک غریب کا بجھا ہوا چُولھا پھر سے جل اٹھے …. !!”
وہ بولا:
” ست بسم اللہ !! وہ سامنے اِک مینارہ مسجد ہے … وہاں درس چل رہا ہے مولوی بشیر سلفی کا … ماموں کانجن سے لیکر ٹوبہ ٹیک سنگھ تک کے بُجھے چولھے وہی جلاتے ہیں … جو مسئلہ پیر فقیر حل نئیں کر سکتا … مولوی بشیر حل کرتا ہے … درس کے بعد مِل لینا ان شاءاللہ فائدہ ہو
گا ….. !!! “
ھم اس شخص کے پیچھے چلتے چلتے ” اِک مینارہ مسجد” پہنچے- مولوی بشیر کادرس ختم ہو چُکا تھا- صادق سلفی نے ہمارا تعارف کرایا- مولوی صاحب نے توجّہ سے ہمارا پورا کیس سُنا پھر دریافت کیا:
وقوعے کو کتنا ٹائم ہوا … ؟؟
ہم دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا- پھر صادق بول اُٹھا :
” وقُوعہ ؟؟ … کون سا وقوعہ مولوی صاحب … ؟؟”
وہ بولے:
“او یار میں طلاق کی بات کر رہا ہوں … ڈاکہ مار کے تھوڑی آئے ہو تم لوگ ….. مطلوُق نے …. مطلقہ کو … کب طلاق دی ..؟؟ “
” اِس نے دی ہے جی …. چار پانچ دن پہلے کی بات ہے ” صادق نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-
مولوی صاحب داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ سوچنے لگے- گھنّی ، طویل سفید براق داڑھی نے ان کی پوُری قمیض ڈھانپ رکھّی تھی- اس کے بعد وہ خاموشی سے اُٹھے اور اندر حجرے میں چلے گئے- پھر کچھ دیر بعد ہمیں بھی اندر ہی بلوا لیا-
“دیکھو بیٹا جی … طلاق دینا کوئ چنگا فعل نئیں ہے … معمولی بات پہ طلاق ، طلاق کہہ دینا عزت دار لوگوں کا کام نئیں … یہ واحد جائز عمل ہے جس پر ابلیس شیطان خوش ہو کے لُڈیاں ڈالتا ہے … اسلام نے طلاق کا دروازہ تو بند نئیں کیا … لیکن بوہت ہی مشکل حالات میں … مطبل جب بندہ ، بُڈھّی اک دوجے سے نکّو نک ہو جائیں … اکٹّھے رہنے کی کوئ صورت باقی نہ رہے … تب جا کے … خوب سوچ وچار کے دیتے ہیں طلاق … لیکن اس کا وی اک طریقہ ہے …. اک وقت میں صرف اِک طلاق … دوسری طلاق اگلی وار عورت کے پاک ہونے پہ … ٹھیک ہے ناں … اس دوران دونوں کو سوچنے کا … اور اپنے فیصلے پہ دوبارہ غور کرنے کا وقت ملتا ہے …. عزیزوں رشتہ داروں کو صلح صلاح کا موقع ملتا ہے … رب تعالی کا فرمان ہے …. الطلاق مرتن …. مطلب طلاق 2 وار ہے … مطبل یہ کہ … تیسری طلاق کے بعد رجوع نئیں ہو سکتا “
یہ سن کر ہمارے چہروں پر مایوسی چھا گئ- میں نے کہا:
” یعنی ہمارے لئے اب کوئ گنجائش نئیں ہے … ہم تو بڑی امید لے کے آئے تھے”
مولوی بشیر نے کہا :
” گنجائش کیوں نئیں … گنجائش ہی گنجائش ہے … آپ کی صرف اک طلاق واقع ہوئ ہے ..!!! “
اس سے پہلے کہ میرا دل سینہ توڑ کر باہر آجاتا صادق بول اٹھا:
“لیکن مولبی صاب … ایس بے غیرت نے اک وار نئیں …. اَٹھ وار طلاق دی ہے ووہٹی کو …. !!!”
مولوی بشیر نے مسکراتے ہوئے کہا:
” اگر سَٹھ وار وی دیتا … فیر وی ایک ہی گِنّی جاتی … اِک محفل میں صرف اِک طلاق … ہاں اگر 3 حیض تک یہ بندہ رجوع نئیں کرے گا …. مطلب بُڈھی کو واپس نئیں لائے گا تو فیر نکاحِ جدید ہوئے گا …. اُسی بُڈھی سے … نویں حق مہر کے ساتھ .. !!! “
میں ھونقوں کی طرح کچھ دیر مولوی صاب کی شکل دیکھتا رہا پھر کہا :
“اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟؟ “
” فوراٌ رجوع کرو … بُڈّھی کو گھر لے کے آؤ … رب تعالی راضی ہوئے گا …. گھر وچ برکت آئے گی …. بس آئیندہ محتاط رہنا … اک موقع گزر گیا … دو موقعے باقی ہیں !!”
میں مولوی بشیر کو گلے لگانے کےلئے اٹھنے ہی لگا تھا کہ صادق نے ہاتھ پکڑ کر مجھے نیچے بٹھا لیا-
” یہ سب کچھ آپ ہمیں … کاگت پہ لکھ کے دے سکتے ہیں … ؟؟ “
“کیوں نئیں ….. شرع میں شرم کیسی … اوئے اقبال …. جا اندر سے فتوے والا پیڈ اور اسٹیمپ لے کے آ .. “
کچھ ہی دیر بعد ھم ایک مجلّد فتوی لیکر مسجد سے نکل رہے تھے- مولوی بشیر ہمیں دروازے تک چھوڑنے آیا- میں نے جھُک کے اس بزرگ کے گھٹنوں کو چھونا چاھا تو اس نے ہاتھ پکڑ کے کہا ” بدعت ہے پُتّر … مصافحہ … بس مصافحہ کرو .. !!!”
میں نے مصافحہ کرتے ہوئے سو روپے نزر کرنے چاھے تو وہ بولے ” ہم مسئلہ بتانے کے پیسے نئیں لیتے … آپ لوگ مہمان ہو … روٹی شوٹی کھا کے جانا”
میں نے کہا ” شکریہ امام صاب ، روٹی تو اب ووہٹی کے ساتھ ہی کھاؤں گا … “
مسجد سے باہر آ کر میں نے صادق سے کہا:
“اب سائیکل میں چلاؤں گا …. دیکھتا ہوں کیسے فیل ہوتے ہیں اس کے کُتّے “
وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا:
” چھُرّی تلے دَم لے …. ٹھنڈی کر کے کھا … کسی ٹانگے میں نہ وج جانا “
میں نے کہا:
” بس …. اب اور صبر نہیں …. میں ابھی جاؤں گا پِنڈ دھوبیاں …. ووھٹی کو لے کے آؤں گا …. رب نے میری فریاد سن لی ہے … !!! “
وہ ٹوکتے ہوئے بولا:
” نئیں …. پہلے مستاں والے دربار پہ جائیں گے … جن کی برکت سے یہ کام ہوا … “
مستاں والا دربار پہ میلے کا سماں تھا- ایک طرف دھول کی تاپ پہ گھوڑے کا ناچ ہو رہا تھا ، دوسری طرف قوال طبلے اور ہارمونیم پہ قوالی پیش کر رہے تھے- مجھے اس شور و ہنگامے ، لنگر ، روٹی میں اب کوئ دلچسپی نہ تھی- میرا دل تو بس ووہٹی ووہٹی کر رہا تھا-
صادق لنگر سے دوُدھ جلیبی کے دو پیالے لیکر آیا- دربار کے پیچھے ایک اونچا پیپل کا پیڑ تھا- لوگ یہاں منتوں مرادوں کے دھاگے باندھ ریے تھے- ہم پیالے لیکر وہیں آ بیٹھے-
صادق نے کہا:
” یار پتا نئیں … مجھے تو بار بار ڈر ہی لگ رہا ہے … مستاں والی سرکار بڑی ڈاڈھی ہے … یہ جو تو اس پیڑ کے نیچے اس وہابی کا فتوی کھِیسے میں ڈال کے بیٹھا ہے ناں …. اپنے ساتھ مُجھے وی مروائے گا … !!! “
میں نے کہا :
” بے فِکر ہو جا اُستاد … ناروال میں پیر عبدالواحد کے مزار پہ برگد کا ایک گھنّا پیڑ تھا …. خلیفے کا دعوی تھا کہ پیڑ سے لکڑی توڑنے والے کو بابا تہش نحش کر دیتا ہے …. نہر کی کھُدائ تک منسوخ ہو گئ اس پیڑ کی وجہ سے …. سب بلڈوزر ٹریکٹر وہاں آ کر بند ہو جاتے تھے …. پھر اک روز وہابیوں کا ایک جتّھہ کلہاڑیاں کسّیاں لیکر آیا …. اس پیڑ کے ٹوٹے ٹوٹے کئے اور ٹرالیوں پہ لاد کے لے گیا- خلیفہ وچارہ دیکھتا ہی رہ گیا …. استاد …. یہ اپنے پِیر فقیر ولی قلندر کتنے ہی ڈاڈھے کیوں نہ ہوں … وہابی وی گھَٹ اتھرے نئیں ہیں … اللہ ہی بچائے دونوں سے … خیر ہمیں کیا …. آپس میں نبڑ لیں گے … ہمارا تو کام بن گیا ناں … چل استاد اب اُٹھ …. دھوبیاں کا رستہ پکڑتے ہیں”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: