Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 5

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 5

–**–**–

رات 9 بجے ہم “پنڈ دھوبیاں” پہنچے- بجلی ہمیشہ کی طرح غائب تھی مگر چاند نکلا ہوا تھا- پِنڈ کے کُتّوں نے بھونک بھونک کر آسمان سر پہ اُٹھا لیا-
صادق نے کہا “ویکھ تیرے باراتی آ گئے !!”
گاؤں کی تاریک گلیوں سے گزرتے بالاخر ھم لکڑ والے بوُہے پر جا رُکے جس کے سامنے بیری کا چھتریلا پیڑ تھا- سائیکل کھڑی کر کے صادق اترنے لگا تو میں چھلانگ لگا کر کنڈی کھٹکانے کو دوڑا- اس نے پیچھے سے آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا-
” پچھے ہٹ شدائیا !!! مروائے گا مُجھے وی … !!! “
میں نے ہڑبڑا کر کہا :
” کیوں استاد ؟؟ دروازے میں کرنٹ ہے کیا …. ؟؟”
وہ بولا:
” توُں یہاں سے دفعہ دوُر ہو جا .. وہ گلی کی نُکّر پہ جا کے کھڑا ہو .. میں کروں گا بات ، جب بلاؤں تب آنا.. !!”
کسی سعادت مند بچّے کی طرح میں دروازے سے کچھ دور جا کھڑا ہوا اور آنے والے حالات کا وِچار کرنے لگا-
صادق نے کُنڈی کھٹکائ- کچھ دیر تک خاموشی رہی پھر اندر سے کھانستے ہوئے نقاہت بھری آواز میں پوچھا گیا:
“کون آں ….. ؟؟”
” چاچا میں صادق …. صادق سیکلاں والا”
تھوڑی سی کھڑل پڑل کے بعد دروازہ کھل گیا- صادق کچھ دیر دروازے پر کھڑا میرے سُسّر سے کھُسر پُسر کرتا رہا پھر سائیکل سمیت اندر چلا گیا-
میں باہر سردی میں اکڑنے لگا- ایک آوارہ کُتّا لُوس لوُس کرتا ہوا میرے قریب آیا اور بغور میرا مشاھدہ کرنے لگا- شاید میری طرح وہ بھی حالات کا ستایا ہوا تھا-
تقریباً دس منٹ بعد دروازے پر کھڑ پڑ ہوئ- پھِر صادق نے سر نکالا اور گلی میں ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا:
” آ جا …. صلّو .. !!! “
میری سانس گلے میں اٹکنے لگی- یوں لگا جیسے پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوں- بالاخر الھم افتح لی ابواب رحمتک پڑھتا گھر میں داخل ہو گیا-
کپڑے دھونے والے گھاٹ سے گزرتے ہوئے ہم ایک کوٹھڑی میں پہنچے جو صحن سے بھی ایک فٹ نیچے تھی- لالٹین کی مدھم روشنی یہاں زندگی کا احساس دلا رہی تھی- چاچی زینت مجھے دیکھ کر آنسُو ضبط کرتی ، مونہہ لپیٹ کر اُٹھی اور ساتھ والی کوٹھڑی میں چلی گئ- چاچے لطیف نے دمّے والی نلکی کے دو تین کش لگا کر سانس بحال کی اور ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا-
اخلاقی لحاظ سے کئ گنا طاقتور لوگوں کے سامنےمیں خود کو ہیچ تصوّر کر رہا تھا- مجھے اپنا گلہ سوُکھتا ہوا محسوس ہوا- صادق کو کہنی مارتے ہوئے میں نے سرگوشی کی :
” اُستاد ….. تھوڑا … پپ .. پانی تو پلا دے !!! “
وہ کونے میں رکھّے کچّے گھڑے کی طرف بڑھا تو چاچے لطیف نے آواز لگائ:
“زینتے ….. کِتّھے مر گئ ایں …. پانی دے مُنڈے کو … !!! “
اندر سے چاچی کی آواز آئ :
“زھر نہ دوُں مُنڈے کو …. !!! “
کوٹھڑی میں ایک دم خاموشی چھا گئ- چاچے لطیف کے پھیپھڑوں سے نکلتی سِیٹی جیسی آواز ماحول کو مزید بوجھل کر رہی تھی- میں نے خود کو آنے والے حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا اور بے سدھ ہو کر بیٹھا رہا-
بالاخر وہ طوفان آ ہی گیا جس کا انتظار تھا- کمرے کی حبس زدہ خاموشی کو چاچی نے آ کر توڑا- دوپٹّے سے آنسُو صاف کرتے ہوئے اس نے کہا:
” کون سا چن چڑھایا مُنڈے نے کہ پانی دوں ؟؟ میری سونے ورگی بیٹی اس لعنتی کے گلے ڈالی تو نے صادق … ستّر رشتے آئے تھے میری پُھولوں ورگی دِھی رانی کے … صرف یہی ذلیل ملا تھا تمہیں عالیہ کےلئے ؟؟ بولتا کیوں نئیں ؟؟ زندہ درگور کر دیا اس نے میری شہزادی کو … پوچھ ناں اس سے … طلاق دے کے اب کس مونہہ سے آیا ہے ووہٹی کو لینے ..!!!”
صادق نے اٹھ کے چاچی زینت کے آگے ہاتھ جوڑے- اور کہا :
” کوئ طلاق شلاق نئیں ہوئ چاچی … جھگڑا لڑائ تھا ، ختم ہوا … سائیں کے دربار پہ نک رگڑوا کے لایا ہوں اس کی … تو بھی معاف کر دے … آئیندہ رولا نئیں کرے گا … کرے گا تو مونہہ کالا کر کے پھراؤں گا پورے پِنڈ میں .. سوالی بن کے آیا ہے … اس کی جھولی میں خیرات ڈال دے … !!!”
میری نگاھیں تو جیسے زمین میں گڑ گئیں- کاٹو تو جسم میں لہو نہیں- پہلی بار احساس ہوا کہ عالیہ محض میری بیوی ہی نہیں کسی کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی چاہے امیر کی ہو یا غریب کی سونے ورگی ، پھول ورگی شہزادی ہی ہوتی ہے-
بہرحال چالیس بار ناک رگڑوا کر ، 70 بار کان پکڑوا کر اور سو بار توبة کروا کر رات ساڑھے دس بجے عالیہ کو ہمارے حوالے کیا گیا-
صادق اڈّے سے یکّہ لے آیا- میں ایک بار پھِر دولھا بن کر یکّے پر جا بیٹھا- عالیہ چادر کا پلّو سنبھالتی سکڑتی سمٹتی پچھلی نشت پر رونق افروز ہوئ- جاڑے کی چاندنی میں اس کا وجود اوس کی مانند جگمگا رہا تھا-
یکّہ سمندری روڈ پر بگٹٹ بھاگ رہا تھا- وصل کا سرور میرے رگ و پے میں سرایت کرنے لگا- میری کیفیّت کبڈّی کے اُس کھلاڑی کی سی تھی کہ سانس ٹوٹنے سے گھڑی پہلے جسے فتح میسّر آئ ہو- عالیہ اب میری تھی اور دنیا کی کوئ طاقت اسے مجھ سے چھین نہ سکتی تھی-
تانگہ ” برُود والے پُل” سے گزر رہا تھا- ھمارے بیچ اگرچہ خامشی کی دیوار حائل تھی لیکن تانگے کی ٹک ٹک پہ وصل کےلئے تڑپتے دِل دھک دھک ضرور کر رہے تھے- کوچوان رات کی مہیب تاریکی کو “سیف الملُوک” کی تانوں سے روشن کئے ہوئے تھا-
سُفنے دے وِچ ماہی مِلیا
میں گھُٹ گھُٹ جپھیاں پاواں
ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں
کتھّے فیر وِچھڑ نہ جاواں
“سلونی جھال” سے گزرے تو گھنّے درختوں پر پرندوں نے غُل مچا رکھا تھا- عالیہ نے ڈر کر اپنی چوڑیوں والی کلائ میرے کندھے پر آن دھری اور سرگوشی کی :
” یہ پکھُّو شور کیوں کرتے ہیں ؟؟”
میں نے فرطِ محبّت سے اس کا ہاتھ چوم کر کہا :
” شاید ہمارے ملنے کی خوشی میں پاگل ہو رہے ہیں …. “
وہ کھکھلا کر ہنس دی-
شب بارہ بجے ھم مُلاں پور پہنچ گئے- پنڈ خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہا تھا- رات کے ستارے ڈھلنے کو تیار تھے جبکہ میری قسمت کا سورج طلوع ہو رہا تھا- میں ایک بار پھر خاوند سے عاشق بننے جا رہا تھا- وہ رات زندگی کی حسین ترین رات تھی-
ملاں پور کے لاؤڈ اسپیکروں پر فجر کی اذانیں بلند ہوئیں تو ہمیں صبح کا احساس ہوا- میں غسل کر کے مسجد پہنچا اور پہلی صف میں کھڑے ہو کر نمازِ فجر ادا کی- واپس گھر آیا تو عالیہ نے سُرخ قہوے کی پیالی چٹائ پر آن دھّری-
میں نے حیرت سے پوچھا:
” وہ گھر سے جو دودھ لائ تھی ختم ہو گیا …. ؟؟”
وہ گھبرا کر بولی:
” ڈولی میں رکھا تھا .. شاید … رات کو بِلّا پی گیا …. !!”
میں زیرِ لب مسکرایا تو وہ شرما کے چولھانے میں چلی گئ- میں کڑوے سیاہ قہوے کو آبِ شیریں سمجھ کر پینے لگا- خیال ہوا کہ ایک اچھّے جیون ساتھی سے بڑی کوئ نعمت نہیں – آفرین ان لوگوں پہ جو اس رشتے کی قدر کرتے ہیں اور نفرین اس سماج پہ جو زن کی خدمت کرنے والوں کو زن مرید کہتا ہے-
اپنی قسمت پر رشک کرتے کرتے جانے کب میں سو گیا-
سورج کافی بلند ہوا تو عالیہ نے مُجھّے جھنجھوڑ کر جگایا- باہر دروازے پہ دستک ہو رہی تھی- میں نے اٹھ کر چپل پہنی اور گنگناتا ہوا دروازے تک پہنچا- کنڈی کھولی تو باہر مدرسے کا ایک کمسن طالب علم یارُو کھڑا ہوا تھا-
میں نے کہا:
“ہاں یارُو …. خیریت ؟؟”
وہ بولا:
” امام صاب نے بلایا ہے … !!!”
میں نے کہا:
“کیوں ….. ؟؟”
وہ کندھے اچکا کر بولا:
” رب جانے … !!”
میں نے ہُڑکا چڑھایا اور بال جھاڑتے ہوئے صحن میں آ گیا- پھر اچانک ٹھٹھک کر رُکّا اور کسی ان دیکھی پریشانی نے آن گھیرا- کچھ دیر سوچوں کے سمندر میں غوطے کھانے کے بعد میں نے عالیہ کو آواز دی:
” عالی …. میری رات والی قمیض کہاں ہے … ؟؟ “
وہ پریشان ہو کر بولی:
” کہاں جا رہے ہو ؟؟ ناشتہ تو کر کے جاؤ …. !!! “
میں نے کہا ” بس ابھی آیا … امام صاحب نے بُلایا ہے .. شاید دُکان کا کرایہ مانگتے ہوں “
گھر سے باھر نکل کر میں نے چٹخنی چڑھائ اور اپنی جیبیں ٹٹولتے ہوئے مسجد کی جانب چل دیا-
دل میں سو وسوسے سر اٹھا رہے تھے- مسجد پہنچا تو مولوی نزیر بچّوں کو درس دے رہے تھے- 9 سے 12 سال کے بچّے لہک لہک کر قران پڑھ رہے تھے- میں نے پاس جا کر سلام کیا-جواب دینے کی بجائے انہوں نے سبق سناتے ہوئے “یارُو” کی کُھتّی میں زور کی چپت لگائ اور دھاڑے:
“کھڑی زبر …حرام دِیا کھڑّی زبر .. !!”
یارُو 12 سال کا تھا- اسکول میں چل نہ سکا اور اب 5 سال سے نوارانی قاعدہ بھگت رہا تھا- اس نے سسکتے ہوئے ” ہے کھڑی زبر ہا” کا ورد شروع کیا- مولوی صاحب گھڑی بھر کو میری طرف متوّجہ ہوئے اور کہا:
” تو کیوں کھڑا ہے .. ؟؟ بیٹھ جا “
اس سے پہلے کہ میں پوری طرح بیٹھتا انہوں نے یارو ُ کے ایک اور چپت لگائ اور میری طرف کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے بولے :
” نلیق آدمی … مولوی کا مغز وی کھاتے ہو … سدھرتے وی نئیں ہو … !!”
بالاخر یہ متشدّد محفل برخواست ہوئ- بچّے قاعدے سپارے اٹھائے یوں اُڑے جیسے پنجرہ توڑ کے قیدی چڑیاں – مسجد خالی ہوئ تو وہ میری جانب متوجہ ہوئے:
” صلّو ..؟؟ تو نے …. دُوجا ویاہ کر لیا یا مجھے وہم ہو رہا ہے ….؟؟ “
میرے رگ و پے میں سردی سرایت کرنے لگی-آنے والے طوفانوں کا اندیشہ ضرور تھا ، لیکن موسم اتنا جلد خراب ہو گا اس کا اندازہ نہ تھا-مولوی نزیر کی نظریں میرے چہرے پر گڑی تھیں اور میں مسجد کی صفّوں کے تِنکے گن رہا تھا-
وہ دوبارہ گویا ہوئے:
” میں نے فارسی بولی ہے یا کاَن بند ہیں تیرے … ؟؟ بولتا کیوں نئیں ؟؟ “
میں نے ہمّت مجتمع کی ، اور کان کھُجاتے ہوئے کہا :
” جج …..جی …. ویاہ تو نئیں کیا اُسی ووہٹی کو واپس لایا ہوں ..!!”
وہ کچھ دیر داڑھی کُھجاتے ہوئے مجھے گھورتے رہے پھر کہا :
” سچ سچ بتا …. توں نے ووھٹی کو طلاق دِی تھی یا مذاق کیا تھا … ؟؟”
میں نے کھنگار کر گلہ صاف کیا ، اور اپنی جیب ٹٹولتے ہوئے کہا:
” اِک وار طلاق … دی تھی جی .. اب رجوع فرما لیا ہے .. !! “
ان کے ماتھے پر حیرت کی شکنیں ابھریں اور بولے:
“فیر شاید میرے کَن بند ہیں …. اس روز تُو ہی بکواس کر رہا تھا کہ آٹھ وار دی ہے طلاق … ؟؟ “
میں اس سوال کےلئے تیّار تھا- فوراً جیب سے فتوی نکال کر سامنے رکھا اور قدرے اعتماد سے کہا:
” مولوی بشیر سَلفی ، اک مینارہ مسجد ، کوٹاں والے کا فتوی ہے کہ اک محفل میں چاہے سَٹھ وار طلاق دو ، نشانے پر صرف اِک ہی لگتی ہے .!! “
ان کی آنکھوں سے حیرت غائب ہوئ اور غّصّہ در کر آیا- کانپتے ہاتھوں سے سرسری انداز میں فتوی دیکھا پھر کاغذ تہہ کر کے میری طرف پھینکتے ہوئے بولے:
” لعنت بھیجتا ہوں میں مولی بشیر اور اُس کے فتوؤں پہ …. بُڈھی کو واپس چھوڑ کے آ …. کوٹاں والے کا سالا …. !!”
میں بھی تاؤ کھا گیا- فوراً اُٹھتے ہوئے کہا:
” بُڈھی تو اب واپس نہیں جائے گی امام صاحب … چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے … !!! “
وہ بھی اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے:
” جان توُ سنبھال کے رَکھ … اوکھے سوکھے ویلے کم آئے گی … پر اِک بات میری وی پلّے باندھ لے … اِک زانی کو مسیت کے کوارٹر میں ٹھہرا کے ہم نے وی شِرع کا جنازہ نئیں پڑھانا …!! “
میرا گلہ سوُکھنے لگا- بغیر سلام کئے وہاں سے رُخصت ہوا اور تیز تیز قدم اٹھاتا گھر کی جانب چل دیا-
پھس گئ جان شکنجے اندر
جُوں ویلن وِچ گنّاں
رؤ نوں کہو ، ہُن روہ محمّد
ہُن رہوے تے منّاں
گھر آ کر میں خاموشی سے منجے پر گر گیا- دماغ میں جزبات کی تیز آندھیاں چل رہی تھیں- امام صاحب کا رویہ ناقابلِ برداشت تھا- اندیشے اب مجھے چاروں طرف سے گھیرنے لگے تھے-
دِل میں بے شمار منصوبے بننے اور ٹوٹنے لگے- کبھی سوچتا کہ آج اور اسی وقت مسیت کا کوارٹر خالی کر دوں ، اسلامی کیسٹ ہاؤس کو تالہ لگاؤں ، چابی مولوی نزیر کے گھر میں پھینکوں اور عالیہ کو لے کر پِنڈ سے بھاگ جاؤں-
لیکن جاؤں گا کہاں ؟ اس سے آگے اندھیرا ہی اندھیرا تھا- سسرالی پِنڈ میں مولوی شبیر کی حکومت تھی- اس میں اور مولوی نزیر میں صرف نون اور شین کا فرق تھا- مولوی بشیر سلفی کا فتوی یہاں بھی جعلی نوٹ ہی ثابت ہونا تھا- ہائے کاش اُمّت ایک دین پر ہوتی تو بندہ کڑوے کسیلے مسئلوں پر صبر شکر ہی کر لیتا- میری طرح نکاح اور زنا کے بیچ نہ پھنسا ہوتا-
ایک سوچ یہ آئ کہ دُکان کا سامان بیچ کر ایک مریل سا کھوتا خریدوں اور چاچے خورشید کی بھٹّی پر قبضہ جما لوں- مٹّی کے بھانڈے بنا کر پِنڈ پِنڈ بیچوں اور باعزّت روٹی کماؤں-مولوی نزیر کا بھوُت بھی سر سے اتر جائے گا اور کارِ روزگار بھی ہاتھ آئے گا-
مگر اس منصوبے میں بھی کئ خامیاں تھیں- میرے پاس کون سی راج دَل تھی کہ اتنا بڑا قدم اٹھاتا-
اور لامحالہ ایسا کر بھی لیتا تو مولوی نزیر کے ساتھ ساتھ چاچا خورشید بھی میرے خلاف مورچہ سنبھال لیتا- وہ تو پہلے ہی میری پسند کی شادی پر خار کھائے بیٹھا تھا-
میں تکئے پہ داھنی کروٹ لیٹا عالیہ کو دیکھنے لگا- وہ معصوم آنے والے طوفانوں سے بے خبر ، بڑے سکون سے “کھُرّے” میں بھانڈے مانجھ رہی تھی- اس غریب فاختہ کو کیا علم تھا کہ بے خبری میں وہ کس توپ کے دہانے میں آشیانہ بنا بیٹھی ہے-
بائیں ہاتھ سے جیب ٹٹول کر گھر کی معیشت کا جائزہ لیا- کُل سولہ روپے آٹھ آنے ہاتھ آئے- دو دن کی ھانڈی بخیرو خوبی چل سکتی تھی- دکان تین روز سے بند تھی اور مزید وہاں بیٹھنا فضول تھا- ایک باطل شخص سے علمائے حق کی کیسٹیں کون خریدے گا ؟ مولوی نزیر نے دیکھ لیا تو ہنگامہ کھڑا کر دیگا ؟
اچانک ہی دروازے پر دستک ہوئ- میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا- حالات اس نہج پر تھے کہ دروازے کی دستک بھی سیدھا ٹخنے پر لگتی تھی- ننگے پاؤں بلّی کی طرح چلتا ہوا بوہے تک آیا پھر دروازے کی جھریٹ سے جھانک کر باہر کے حالات کا جائزہ لینے لگا-
باہر دو باریش نوجوان کھڑے تھے-
میری چوٹی سے ایڑھی تک پسینہ بہہ نکلا- یہ “ریش” ضرور کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی- کہیں مولوی نذیر کے بھیجے ہوئے “فرشتے” تو نہیں – کوارٹر خالی کرانے تو نہیں آ گئے- یا اللہ خیر-
میں نے خفیف سی آواز میں پوُچھا:
“کون ہے ؟”
باہر سے آواز آئ:
” بھائ صاحب .. ذرا دکان پہ تشریف لائیے گا … مفتی ” سمیع سواتی” کا بیان چاھئے …. سماعِ موتی والا “
میں نے سُکھ کی ایک طویل سانس لی- دل میں مُفتی سمیع کو ہزارہا دعائیں دیں جنہوں نے سماعِ موتی پہ روشنی ڈال کر مجھ غریب کو وقتی طور پہ ہی سہی ، موت کے مونہہ سے تو نکالا-
میں نے کہا:
“اجی بس آیا …. ذرا چپل پہن لوں ..”
دکان پر پہنچا تو چار پانچ گاہک اور چلے آئے- ان میں سے ایک کو مولانا رجانوی کی ” شرک و بدعت” ، دوسرے کو مفتی کمالوی کی ” برکات گیارہویں” ، تیسرے کو رمضان سلفی کا مناظرہ ” آمین بالجہر ” ، چوتھے کو ذاکر قریشی کے گلہائے عقیدت اور پانچویں کو عباس جعفری کے “حسینی دوھڑے” تھمائے- پھر دکان بند کر کے سیاہی سے ایک چٹ لکھ کر شٹر پر چپکا دی:
“دکان عارضی طور پر بند ہے”
جیب میں 100 روپے آنے کے بعد خیالات میں واضح تبدیلی محسوس ہونے لگی- سوچا فرقہ پرستی اتنی بُری چیز بھی نہیں- اختلاف چھوڑ کر لوگ اگر ایک دین پر آ گئے تو ہماری کیسٹیں کون خریدے گا ؟ ؟؟ مناظروں کے میدان ٹھنڈے پڑ گئے تو ہمارا چولھا کیسے گرم ہو گا- پس “مسئلہء طلاق” کو چھوڑ کے باقی سب اختلاف تو رحمت ہی رحمت ہے-
اسی وقت ارادہ کیا کہ ظہر کے بعد مولوی نذیر کے پاؤں پکڑ وں گا اور گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ کر التجاء کروں گا کہ بے شک حشر میں میری شکایت لگا دینا ، فرشتوں سے اٹھوا کر دوزخ میں پھینکوا دینا مگر فی الحال پنڈ والوں کے سامنے میری پوٹلی مت کھولیو- رب تجھے دائمی جنّت بخشے ، میری اس عارضی جنّت کو مت اجاڑیو … !!!
مگر یہ منصوبہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا- ظہر کی نماز میں مولوی صاحب تشریف نہ لائے اور خادم مسجد نے امامت کرائ- نماز کے بعد میں نے ڈرتے جھجھکتے اس سے امام صاحب کا پوچھا تو بولا:
” چھوٹی بی بی کو ملنے کے واسطے “سوُنڈھ” تک گئے ہیں ، جمعے کو واپس آئیں گے … !!!”
میں نے سُکھ کی ایک طویل سانس لی کہ اگلے 3 روز تک تو چین میّسر آیا- بازار سے گھر کا سودا سلف لیا اور ھنستا مسکراتا گھر آ گیا-
اگلے روز میں نے سر چُپڑ کے ، کنگھی کر کے عطر پھلیل لگا کے اور آنکھوں میں پوری سرُمہ دانی الٹ کے دکان کا رُخ کیا- شٹر پر سے پرچی اتار کے پرے پھینکی اور پورے جاہ و جلال سے کاؤنٹر پہ رونق افروز ہو گیا-
اس روز ماسٹر خداداد صاحب میری دکان پر تشریف لائے- وہ گاؤں کے پرائمری اسکول ماسٹر تھے اور بڑے سیانے بندے سمجھے جاتے تھے- میں نے ماسٹر صاحب کو بٹھایا اور سیڑھی لگا کر ان کےلئے “مولوی بغدادی” کا “قِصّہ یوسف زلیخا” تلاش کرنے لگا-
وقت گزاری کےلئے میں نے کہا:
“ماسٹر صاحب … ایک مسئلہ پوُچھنا ہے آپ سے … میرے دور پار کے ایک رشتہ دار نے اپنی بیوی کو طلاق دے رکھّی ہے …. اب وہ رجوع کرنا چاھتا ہے … ایک مسلک کے مولوی کا کہنا ہے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے اور بیوی کو گھر میں رکھنا زناء کے مترادف ہے جبکہ دوسرے مسلک کے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک ہی طلاق واقع ہوئ ہے ، اور رجوع کرنا کارِ ثواب ہے …. اب بندہ کس مسلک کے مولوی کا فتوی مانے؟؟؟ “
ماسٹر صاحب کچھ دیر سوچتے رہے پھر فرمایا:
” میرے خیال میں تو جس مسلک کے مولوی نے اس کا نکاح پڑھایا ہے ، طلاق کا فتوی بھی اسی کا ہی چلے گا … !!”
میں نے کہا:
“اور اگر اپنے مسلک کے مولوی کا فتوی سمجھ نہ آئے تو پھر کیا کرے ؟؟”
وہ بولے:
” دیکھو اگر فتوی سمجھ نہ آئے تو سوال کرے … حوالہ مانگے اگر پھر بھی تسلی نہ ہو تو خود دین کا علم حاصل کرے … اور اگر یہ سب کچھ نہیں کر سکتا تو چپ چاپ مولوی کی مانتا رہے … باقی لوگ بھی تو مان رہے ہیں ناں … !!! “
میں نے کہا:
“اگر اپنے مولوی کے فتوی پر عمل کرنے سے اس کا گھر اجڑ رہا ہو ، اور دوسرے کے فتوے سے آباد ہو رہا ہو تب بھی …؟؟ “
وہ بولے:
” ہاں تب بھی- دیکھو مسلک ایک مذھبی سوسائٹی کا نام ہے- بدقسمتی سے ھم مسلکی اختلافات کو مخالفت کی سطح پر لے آئے ہیں …. بات آگے بڑھ کر جھگڑے تک جا پہنچی ہے …. ان حالات میں … محض اپنا الوّ سیدھا کرنے کےلئے ، دوسرے مسلک سے ایسا فتوی لے کر آنا جو اپنے مسلک سے ٹکراتا ہو اکثر فساد کا باعث ہی بنتا ہے … ذاتی غرض کےلئے کسی دوسرے مسلک کا دروازہ کھٹکانا شرعاً جائز ہو یا ناجائز … سوسائٹی اسے قبوُل نہیں کرتی …. اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اپنے گھر میں دال پکّے تو بندہ دشمن سے قورمہ مانگنے نکل کھڑا ہو …. ظاہر ہے معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا … یوں آسانیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان بعد اوقات بڑے خسارے کا سودا کر بیٹھتا ہے”
میں نے چونک کر پوُچھا:
” خسارا …؟؟ کیا مطلب … ؟؟ “
وہ کچھ توقف سے گویا ہوئے:
” تقسیم سے پہلے کی بات ہے …. یہ اپڑیں گجرات کے کسی گاؤں میں ایک میاں بیوی رہتے تھے …. ان کے بیچ طلاق ہو گئ … بعد میں دونوں بہت پچھتائے …. ادھر ادھر مولویوں کے پاس بھاگے … عالموں فاضلوں سے بات کی …. سب نے کہا طلاق ہو گئ … وہ مرد اپنے نفس کے بہکاوے میں آ گیا اور اس عورت کو اپنے گھر لے آیا … اس پر پِنڈ والوں نے شور مچایا … شرم اور غیرت دلائ …. یوں دونوں کو گاؤں چھوڑنا پڑا … لیکن یہ جہاں جاتے … ان کی کہانی بھی وہاں پہنچ جاتی … دربدر ہو کر رہ گئے وچارے …. یوں پِنڈ پنڈ بھاگتے بالاخر سکھّوں کے پِنڈ جا پہنچے …. اس دور میں سکھّوں کا عروج تھا …. وہ مسلمانوں کو تھلّے لگانے کا کوئ موقع نہ چھوڑتے تھے …. ان بد نصیبوں کو پناہ ملی بھی تو اس شرط پر کہ سکھ مذھب قبول کر لیں … معاشرے کے ستائے ہوئے تو تھے ہی …. جھٹ سکھ دھرم اپنا لیا …. بدنصیبی صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئ … آس پاس کے پنڈوں تھاؤں میں بات مشہور ہوئ … ہر کوئ لعنت ملامت کرنے لگا … مولویوں نے تقریریں کیں دوسری طرف وہ مرد عورت بھی اپنا ساڑ نکالنے اور سکھّوں کی ھمدردی حاصل کرنے کےلئے اسلام کے خلاف بکواس بازی کرنے لگے ….
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مولویوں نے انہیں “گستاخِ رسول” قرار دے دیا …. ایک روز جب یہ دونوں میاں بیوی …. شکر دوپہری …. جوّی کا کھیت کاٹ رہے تھے … ایک غازی …. ٹوکا لئے وہاں پہنچا … اور دونوں کا گاٹا کاٹ کر لے آیا ….
یہ ہے خسارے کا سودا … !!! “
میں سیڑھی پر کھڑا کانپ گیا اور ہاتھ میں پکڑی “یوسف زلیخا” نیچے گر کر پاش پاش ہو گئی-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: