Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 6

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 6

–**–**–

منگل گزرا ، بُدھ آیا ، پھر آئ جمعرات- وصل کے دِن کسی غریب کی پونجی کی طرح خرچ ہوتے چلے گئے- حالات کے سردوگرم میں تنہائ میّسر آتی تو اداسی کی چادر اوڑھ لیتا ، محفل میں مسکان کا دریچہ کھول لیتا- عالیہ کو موسموں کے جبر سے محفوظ رکھنے کی یہی سعئ لاحاصل تھی-
اس صبح بھی وہ خاموشی سے آ کر میرے سرہانے بیٹھ گئ- میں سر اس کی گود میں رکھ کر دور خلاؤں میں گھورنے لگا-
فاصلے ایسے بھی ہونگے
یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے
وہ مگر میرا نہ تھا
وہ بولی:
” اُداس کیوں ہے …. ؟؟”
میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا:
” نئیں … اداس تو نہیں … ہاں وہ کوٹاں والا پنڈ ہے ناں … وہاں سے ایک مولبی آیا تھا …. دُکان پہ … کیسٹیں خریدنے … پچاس کا نوٹ دے گیا ہے … اپنے امام صاب کہتے ہیں جعلی ہے … اب تو ہی بتا … جب مولبی ہی فراڈ کرے تو بندہ کیا کرے ؟؟”
وہ خاموشی سے اندر گئ اور کچھ دیر بعد پچاس روپے کا ایک مُڑا تُڑا نوٹ لیکر آ گئ-
میں ہنس پڑا اور کہا:
“یہ کہاں سے آیا ؟؟”
بولی “امّاں نے دِیا تھا …. آتے ہوئے … !! “
میں نے کہا :
” اماں کو تو نے میری شکیتیں لگائ تھیں ناں … گھر جا کے ؟؟”
وہ ہونٹوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ سجا کر بولی::
” نئیں …. میں تو بس روتی رہی … امّاں کے گلے لگ کے …. “
میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا:
” آئیندہ نئیں رونا ….. ویکھ چاچی نے مجھے پُرانے لٹھّے کی طرح دھویا … میں رویا ؟؟ “
وہ ہنس دی اور بولی:
” چل … نوٹ مل گیا ناں … اب چھوڑ دے اداسی .. !!”
میں نے اس کا سیُو بیر جیسا چہرہ اپنے قریب لاکر کہا:
” سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں … بس تجھے نئیں ……!!!”
یوں مولوی نزیر کی فقّہ سے ایک اور گناہ کما کے اور مولوی بشیر کے فتوی سے ڈھیروں ثواب حاصل کر کے ہم سرخرو ہوئے- اس کے بعد میں تیار ہو کے دکان پہ چلا آیا-
تھڑے پہ حیاتی سہُو میرا منتظر تھا- کہنے لگا صلّو بھائ ، آج گھر میں میلاد شریف ہے ، ہم نے نئ ٹیپ ریکارڈ وی خریدی ہے- ڈھماں ڈھم والی نعت نکال کے دو- میں نے کہا چَگل آدمی …. اسے دَف والی نعت شریف کہتے ہیں- صبر کر- اوپر پڑی ہے- کیسٹ تلاش کرنے کو سیڑھی پہ چڑھ ہی رہا تھا کہ سامنے سڑک سے یارُو گزرا- اس کے ہاتھ میں “نورانی قاعدہ” تھا-
میں نے آواز لگائ:
“اوئے چِبڑ …. ادھر آ … مولوی صاب تو “سُونڈھ” گئے ہیں … تو کدھر مونہہ اُٹھائے جا رہا ہے ؟؟”
وہ دامن سے ناک صاف کرتے ہوئے بولا:
“رات کو آگئے جی … سویرے نماج نئیں پڑھی تُو نے … ؟؟”
میرے مونہہ سے نکلا:
” دُر فِٹّے مونہہ …. کبھی اچھّی خبر نہ دینا .. !!!”
پھر حیاتی کو ایک سادہ نعت والی کیسٹ تھماتے ہوئے کہا:
“یہ لو بھائ …. ڈھماں ڈھم خود کر لینا … مجھے نِکلنا ہے.. !!!”
گاہک سے پندرہ روپے چھین کر میں نے شٹّر گرایا اور گھر کی طرف بھاگا- پاؤں من من کے ہو رہے تھے- یوں لگ رہا تھا جیسے گھر سے دکان ہزار مِیل کے فاصلے پر ہو-
گرتا پڑتا اندر داخل ہوا اور آواز لگائ:
“عالی …. کہاں ہو … عالی ؟؟”
وہ پریشان ہو کر چولھانے سے نکلی:
” ہائے اللہ جی … خیر ہے .. ؟؟”
میں نے کہا:
” ستّے خیر ہے …. وہ …. میلاد کی محفل تھی ناں تیرے پِنڈ کی مسیت میں … مجھے اس کی کیسٹ ریکارڈ کرنی ہے- چلو نکلیں دیر ہو رہی ہے- “
وہ افراتفری میں تیّار ہوئ- میں نے پانچ سو ترتالیس اُٹھائ ، ہم پِنڈ چیرتے ہوئے بس اڈہ پہنچے- ہر آن یہی کھٹکا رہا کہ مولوی نزیر کی نظر نہ پڑ جائے- خدا خدا کر کے بس آئ اور ہم ٹیپ ریکارڈر گود میں رکھ کے دو والی سیٹ پر جُڑ کے بیٹھ گئے-
عالیہ کو اس کے پیکے چھوڑ کر اور چاچی کے پاؤں چھُو کے میں سیدھا اڈّے پر چلا آیا- صادق کی دکان پر تالہ پڑا ہوا تھا-
میں نے چاچے یعقوب سے پوچھا :
“چوھری صادق کہاں گیا ؟؟”
وہ بولا:
” کمالیہ گئے ہیں .. لنگ والی سرکار پہ”
بابا ابن شاہ المعروف لنگ والی سرکار کا مزار کمالیہ سے کچھ فاصلے پر ہے- علاقے بھر کے لوگ خصوصاً خواتین کا یہاں میلہ لگا رہتا تھا- دربار کے احاطے میں بڑ کے درخت پر انسانی جنسی اعضاء سے مشابہ مٹی پلاسٹک ، کپڑے اور دھاتوں کے رنگ برنگے کھلونے لٹکے ہوئے تھے- عورتوں کا عقیدہ تھا کہ اسے ناف پر پھیرنے سے بانجھ پن دور ہو جاتا ہے*
میں نے حیرت سے کہا:
” صادق وہاں کیا کرنے گیا ہے ، وہ تو پانچ بچّوں کا باپ ہے”
وہ بولا:
” عرس شریف کا میلہ ہے … چوھری اپنی دکان اودھر ہی لے گیا ہے “
میں نے ٹیپ چاچے یعقوب کو پکڑائ اور خود کمالیہ کی بس پکڑ لی- ظہر تک میں بابا ابن شاہ پہنچ چکا تھا- دربار پہ عورتوں مردوں کا ہجوم تھا- میں نے حاضری کی گھنٹی بجا کر دس روپے نذر گزاری اور صادق کو تلاش کرنے لگا- بالاخر سائیکلوں کے ہجوم میں پنکچر لگاتے ہوئ اسے جا لیا-
وہ مجھے دیکھ کر کافی حیران ہوا اور بولا:
” خیر ہے … ؟؟ توُ کیا لینے آیا ہے ادھر …. ؟؟ “
میں نے کہا:
” میری پریشانی ختم نہیں ہوئ صادق …. مولوی نزیر ، وہابیوں کا فتوی نہیں مان رہا … کہتا ہے ایک زانی مسیت کے کوارٹر میں نئیں رہ سکتا … کہاں جاؤں یار …. کچھ سمجھ نہیں آ رہا … ؟؟”
وہ سائیکل کی ٹیوب رگڑتے ہوئے بولا:
” رگڑا تو لگنا تھا تُجھے … بھلا سیکل کی ٹوُپ ٹریکٹر میں کیسے لگ سکتی ہے …. سمجھایا وی تھا لعنتیا … ٹوبہ جا کے حلالہ کر لے … سارا سیاپا ہی مُک جاتا … تُو نے کہا رب کے ساتھ دھوکہ ہے … یہاں بندہ رب کو راضی کرے یا مولبی کو … خیر جو ہوا سو ہوا …. اب ایسا کر …. مولوی کی جیب میں سو دو سو روپیہ ڈال … مان جائے گا”
میں نے کہا:
” نہیں مانے گا … وہابی کا فتوی دیکھ کر بپھر گیا ہے … پنج سو پہ بھی نہیں مانے گا …. بچپن سے جانتا ہوں اُسے … ضِد کا بُرا ہے … مسلک کی بات پر تو سانڈ کی طرح اڑ جاتا ہے … تو چل میرے ساتھ …. کوٹاں والا چلتے ہیں … مولوی بشیر کے پاس .. !!! “
وہ کپڑے سے ہاتھ صاف کرتا ہوا بولا:
” مولی بشیر کیا کرے گا ..؟؟ اس کا کام فتوی دینا تھا … دے دیا … رینجر تھوڑی ہے اس کے پاس کہ فتوے پر عمل بھی کرائے … !!! “
میں نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا:
” دیکھ استاد … میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کوٹاں والا جا کے مولوی بشیر کا مذھب قبول کر لوں”
وہ آنکھیں نکالتے ہوئے بولا:
” تُو سو جُتیاں وی کھائے گا ، سو پیاز وی …. وہابی بنے گا تو ؟؟ پہلے گھر کا بیڑا غرق کیا … اب دین ایمان کا بیڑا غرق کر … !!! “
میں نے کہا:
” کون سی قیامت آجائے گی یار … گھر تو بس جائے گا ناں میرا … اور وہابی بھی تو کلمہ روزہ نماز کرتے ہیں … خُدا رسول کو بھی مانتے ہیں .. فرق کیا ہے ہمارے بیچ … ؟؟”
وہ تاؤ کھا کر بولا:
” فرق کیوں نئیں ہے ؟؟ ہمارے سائیں ، خواجہ ، غوث ، قطب ، ولی ، قلندر … ان کے پاس کیا ہے … ؟؟ چھنکناں ؟؟ … جب پاکستان بنا تھا ناں … تو آس پاس پِنڈوں کے جِتنے سِکھ تھے … جان بچانے کےلئے … سب کے سب وہابی ہو گئے تھے … کِیس اور لنگ کٹا کے … توُ بھی ہو جا …. !!! “
مجھے بھی غُصّہ آ گیا- میں نے کہا:
” اور ہم کیا تھے ؟؟ ھندو ؟؟ وہ کھڑے کی پوجا کرتا ہے ہم لیٹوں کی … وہ مندر کی گھنٹی بجاتا ہے ھم دربار کی … وہ پرساد چڑھاتا ہے ہم چڑھاوے .. ان کے پاس شیو لنگ ہے ہمارے پاس لنگ شاہ … بتا ناں … فرق کیا ہے ؟؟ “
اس نے آگے بڑھ کر میری ٹھوڑی مظبوطی سے پکڑ لی- پھر نفرت سے مجھے پیچھے دھکیلتے ہوئے بولا:
” بکواس بند کر …. اور اپنی منحوس شکل لے کر دفع ہو جا …. آئیندہ اپنا بوُتھا نئیں دکھانا مجھے … لعنتی کہیں کا … وَلیوں کا گُستاخ …. !!! “
رجانہ والی بس میں کافی رش تھا- بمشکل سیٹ ملی- سورج غروب ہو رہا تھا- میں بس کے شیشے سے کھلے میدان میں چرتے مویشیوں کو دیکھنے لگا- ان کی تعداد سیکڑوں میں تھی- ہر مویشی کے گلے میں ایک مخصوص گھنٹی بندھی ہوئ تھی- یہ دربار بابا شاہ عنایت کی نذر کے مخصوص جانور تھے-
مجھے لگا جیسے میں بھی نذر کا ایک مخصوص جانور ہی ہوں- جس کے گلے میں پیدائش سے ہی ایک مسلک کی گھنٹی بندھی ہے- کل تک مجھے اس گھنٹی کا احساس تک نہ تھا اور آج فتوے کی چُھری نظر آئ تو جان بچانے کو بھاگا پھرتا ہوں-
مولوی نزیر اور مولوی بشیر کے بیچ فِکر کا لامتناہی فاصلہ تھا مگر میری غرض کی چراگاہ اس سے بھی وسیع تر تھی- یہی غرض مجھے دربدر لئے پھرتی تھی- کل کلاں کسی سلفی کی چھُرّی تلے آنے کے بعد مجھے پِھر رسّی تڑا کے بھاگنا تھا- جو شخص مذھب میں محض اپنی غرض کا غُلام ہو ، اس کی بھاگتے ہی گزرتی ہے- نفس جس کا امام ہو وہ یونہی دربدر رُلتا ہے-
خُدا کو راضی کرنے کےلئے اب مولوی نزیر کو راضی کرنا ضروری تھا- یہی اس پِنڈ کا دستور تھا اور یہی آخری رستہ- طوفانِ نوح سے بچنے کےلئے مجھے اسی جزیرے پہ اترنا تھا جہاں میرے قتل کی منادی ہو چکی تھی- موافقت کی کوئ صورت اسی عدالت سے نکل سکتی تھی جس کے پھانسی گھاٹ پہ میں تنہا کھڑا تھا-
شام 6 بجے میں گاؤں پہنچ گیا- اڈّے سے ٹیپ ریکارڈر اٹھایا ، سسرال جا کر عالیہ کو لیا اور رات 10 بجے واپس مُلّاں پور پہنچ گیا- یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیلاب صرف میرے ہی گھر کی دیواریں گرانے کے درپے ہے میں خوف کی کھڑکیاں بند کر کے ، بے فکری کی چادر اوڑھ کے سو گیا-
اگلے روز کا سورج بلند ہوا تو میں مولوی نزیر کا دروازہ کھٹکا رہا تھا-
چھ سات سال کا ایک ننگ دھڑنگ بچّہ باہر نکلا- میں نے کہا ” پُتّر .. امام صاحب کو بُلا …!! ” وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا پھر اندر چلا گیا- دوبارہ آیا تو اپنے جیسے چار اور کو لے آیا- چاروں ٹک ٹک مجھے دیکھنے لگے- قد کاٹھ عمر شباہت ایک سی اور گُھورنے کا انداز بالکل مولوی نزیر جیسا-
میں نے تنگ آ کر دروازہ زور سے بجایا اور آواز لگائ ” امام صاحب … باہر آئیے گا “
اندر سے کسی کرخت مستور نے کہا:
” کون ہے .. ؟؟ “
میں نے کہا صلّوُ ہُوں … امام صاحب سے ملنا ہے .. “
” گھر پہ نئیں ہیں …. !!! “
“کہاں گئے ہیں … ؟؟؟ “
” رائیوں کے ڈیرے پہ … !!!”
میں دروازے پہ کھڑا سوچنے لگا کہ ارائیوں کے ہاں کون سا ختم شریف ہو رہا ہے کہ مولوی صاحب سویرے سویرے ہی نکل لئے- فوتگی ہوتی تو اعلان ہوتا ، میلاد ، شبرات ، عرس ، گیارہویں خرچا مانگتی ہیں- پیاز کی فصل ابھی تیار نہ تھی ، اور جو اتری تھی ، چوھدری بیچ بٹا کے بیٹھے تھے-
سامنے والے گھر سے سلیمان قصائ سائیکل لے کر نکلا- میں نے پوچھا کہاں چلے ؟ وہ بولا ” ارائیوں کے ڈیرے پہ” اور کاٹھی پکڑ کے ہوا ہو گیا – میں نے بھاگتے ہوئے آواز دی ” ٹھہر جا مانی … مجھے بھی جانا ہے … ” وہ بولا ” چکّے میں ہوا کم ہے”- میں نے اُسے جا لیا اور پچھلی کاٹھی پہ گرتے ہوئے کہا ” اچھا میں ساہ روک کے بیٹھوں گا …. “
نمبردار کے باغ تک پہنچے تو ڈھول شہنائ کی آواز کانوں تک پہنچی- حوصلہ ہوا کہ اچھا شگون ہے- تقریبِ شادی ہے- مولوی صاحب یقیناً اچھے موُڈ میں ہونگے- کھانا بھی کھا لونگا اور موقع پا کر بات بھی کر لونگا- کیا معلوم کوئ رستہ نکل ہی آئے-
موگھے کے پاس ارائیوں کی بارات مل گئ- ہر طرف دھول مٹّی کا راج تھا- سیکڑوں لوگ تھے- سجّے سنورے گھوڑے پر نو عمر دولھا سوار تھا-کمسن شہ بالے نے اسے پیچھے سے جکڑ رکھا تھا- خادُو میراثی اور دوسی مُسلّی ڈھول کے چمڑے پہ اپنا غصّہ اتار رہے تھے- شہنائ بجاتے استاد نذر کی رگیں باہر آ رہی تھیں- پوڈر سرخی میں لتھڑا ایک ادھیڑ عُمر کھُسرا پسینے سے شرابوُر دھریس ڈال رہا تھا-
گھڑی بھر کو یہ کان پھاڑ موسیقی تھمّی تو شرفاء ویل ودھائ کو آگے بڑھے- ایک ایک روپیہ ویل چڑھا کے یہ پانچ پانچ بار ہوکا دلواتے- سفید پوش چوّنیاں اٹھنیاں پھینکنے لگے اور بچّوں کا جمّ غفیر انہیں لوٹنے لگا- وہ دھینگا مشتی ہوئی کہ خدا کی پناہ- سامنے ڈیرے پر شامیانے نصب تھے- درجن بھر دیگوں میں شُپیتے چلائے جا رہے تھے-
ڈیرے کے قریب ہوئے تو آتش بازی شروع ہو گئ- چوھدریوں نے تھری ناٹ تھری کے راؤنڈ نکالے- گولے کی رسّی کو ماچس دکھا کر کھال میں پھینکا گیا- دھماکوں سے فضاء لرز اٹھی- یہ اعلان تھا کہ آج اس ڈیرے پر ایک مرد اور ایک عورت کی شادی ہے- آج کے بعد یہ میاں بیوی پکارے جائیں گے- میں نے سوچا کتنے لوگوں کی محنت صرف ہوتی ہے اس ایک شادی میں ، طلاق کے تین لفظ جس کا انت سنسکار کر دیتے ہیں-
اچانک میری نظر مولوی صاحب پر پڑی- وہ اونچی پگڑ باندھے تھڑے پر چوھدریوں کے شانہ بشانہ کھڑے تھے- چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا- ہاتھ میں دفترِ نکاح تھا- نیلے لٹھّے کے تہمند پر سفید کرتا خوب جچ رہا تھا- مجھے یقین ہو گیا کہ آج کا دن واقعی بڑا کرماں والا ہے-
اس روز اگر شُرلی نہ چلائ جاتی تو شاید میرا کام بن جاتا- مقدّر میں یہی لکھّا تھا- ہوا یوں کہ گولے پٹاخے والوں کی ایک شُرلی غلطی سے آسمان کی بجائے زمین پہ آ نکلی- گھوڑا خوف سے بدکا اور ٹیٹنے مارتا بھاگ کھڑا ہوا- ڈیرے پہ بندھے کتّوں نے جلتی پہ تیل ڈالا- شہہ بالہ گرا ، اسے معمولی چوٹ آئ- گھوڑا دولہے کو لیتا ہوا کماد کے کھیت میں جا گھُسّا- کچھ لوگ ہنسے ، باقی ڈھول شہنائ چمٹے شُپیتے چھوڑ کر کھیت کی طرف بھاگے- ہر طرف ہاہاکار مچ گئ-
بدقسمتی سے اس گھڑی مولوی صاحب کی نظر مجھ پہ پڑ گئ- وہ تھڑے پہ اکیلے رہ گئے تھے- پہلے ہی تناؤ میں تھے ، اب جو میں دکھائ دیا تو گھورتے ہوئے بولے:
“میں نحوست پہ یقین تو نہیں رکھتا تھا … مگر آج تجھے دیکھ کر خیال بدل گیا ہے … “
میں نے کہا ” اس میں میرا کیا قصور امام صاحب … منحوس تو وہ ہیں جنہوں نے پٹاخے شرلیاں چلائیں”
وہ بولے ” جو شُرلی تو نے چھوڑی ہے وہ کم ہے ؟؟ سرعام طلاق اور سرعام رجوع – جب لوگ شریعت کا سرعام کھلواڑ کریں گے اور اس پر انہیں کوئ ندامت اور پریشانی بھی نہیں ہو گی تو قوم پر اس طرح کے عذاب تو آئیں گے-
میں نے کہا ” خدا کی قسم میں تو صرف آپ کو ملنے آیا تھا … اس لئے کہ اس معاملے کی کسی کو خبر نہیں .. سوائے آپ کے … اگر آپ میرا پردہ رکھ لیں … اور اسے اللہ پہ چھوڑ دیں تو میرا گھر بس جائے گا “
وہ بولے ” تجھے کس نے کہا کہ کسی کو خبر نہیں …؟؟ جمعہ کو تُو پنڈ سے باھر تھا شاید …. میں نے تقریر کی ہے مسئلہء طلاق پہ …. تو ہی کہتا تھا ناں کہ مولوی لوگ طلاق کا مسئلہ بیان نہیں کرتے … چل خوش ہو جا … کھول کر بیان کر دیا … نام نئیں لیا تیرا پر لوگ گندم کھاتے ہیں … پِنڈ کے بچّے بچّے کو مالوم ہے کہ تو نے ووہٹی کو تین طلاق دی ہے … وہابیوں سے فتوی لے کر آیا ہے …. مطلقہ کو گھر میں وسا رکھا ہے … پُتّر اب تو پرھیں (جرگہ) ہی فیصلہ کرے گی تیرا ، ہمارے وَس سے تو بات باہر ہے”
مولوی صاحب کا بیان جاری تھا کہ کھیت کی جانب سے شوروغوغا ہوا- دولھا اور گھوڑا دونوں برامد ہو گئے تھے- دونوں بسلامت تھے- دولھے کو دوبارہ سہرا اوڑھایا جا رہا تھا- دَوسی اور خادُو ڈھول کا چمڑا کس رہے تھے- استاد نذر شہنائ تھام چکا تھا- کھُسرا دھریس مارنے کو تیّار تھا-
میں نے سلام کیا اور ٹوٹے قدموں سے واپس پِنڈ کی طرف چل دیا- شہنائ کی آواز اب بہت دُور سے آ رہی تھی ، جیسے بال کھولے کسی کی میّت پہ کوئ بین کرتا ہے-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: