Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 7

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 7

–**–**–

کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنے گھر کے دروازے پر پہنچا تو ایک اور مصیبت راستہ روکے کھڑی تھی-
دروازے پہ تالہ پڑا تھا-
اس نئ الجھن نے پریشانی کو سوا سیر کر دیا-
بے شمار واہمے مجھےجکڑنے لگے-ایسا پہلے کبھی نہ ہوا تھا کہ گھر کو باھر سے تالہ لگانا پڑے- الا یہ کہ ہمیں دوسرے گاؤں جانا ہوتا- گھر میں چوری ہونے کو تھا ہی کیا کہ تالے لگائے جاتے- عالیہ کو آس پڑوس جانا بھی ہوتا تو صرف لکڑی کا ہُڑکا لگاتی تھی- یہ اندر باھر دونوں طرف سے کھُل جاتا تھا-
میں پاگلوں کی طرح دروازے کی جھیت سے جھانکنے لگا- پھر آواز لگائ عالی …. دروازہ کھولو عالی … مگر یہ ایک بے وقوفانہ حرکت تھی … عالیہ اندر ہوتی تو باھر تالہ ہی کیوں لگا ہوتا؟
مُجھے چکّر آنے لگے اور میں دیوار کو تھامتا ہوا وہیں زمین پر بیٹھ گیا- یا خُدایا- عالیہ کہاں چلی گئ ؟ ایسے تو وہ کبھی نہ کرتی تھی- کیا وہ گھر چھوڑ کر چلی گئ؟ کیوں ؟ وہ بھی اس طرح اکیلی ؟ یا خدا رحم- اگر عالیہ نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا تو یقیناً میں برباد ہو جاؤں گا-
اپنی ہی تقدیر پر خود ماتم کرنے کے سوا کیا چارہ تھا- اپنی ہی لغزشوں کا ملال جگر کو تڑپانے لگا- آنے والے ہجر کی حبس سے دل گھبرانے لگا- موہوم امیدوں کے آسماں پر دُکھ کے سیاہ بادل چھائے تو آنکھوں کا ساون جی بھر کے برسا- میں گھٹنوں میں سر چھُپا کر ترس ترس کے رویا ، رو رو کے ترسا-
یہ سچ تھا کہ جرگہ کا فیصلہ میرے حق میں آنے کی امید نہیں تھی- مگر ابھی فیصلہ آیا بھی تو نہ تھا- میری مزاحمت ابھی باقی تھی- مجھے آخر دم تک لڑنا تھا- کیا معلوم عین وقت پر کامیابی مل جاتی ؟ ساتھ رہنے کی کوئ صورت پیدا ہو جاتی- امتحان کی گھڑی ختم ہو جاتی- عالیہ نے انتظار بھی نہ کیا ؟ مجھے چھوڑ کر چلی گئ ؟ آہ …. !!!
جانے کتنی دیر میں یونہی دیوار کے ساتھ سر ٹکائے بیٹھا رہا- رو رو کر دل کا بوجھ کسی قدر ہلکا ہوا تو کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا- چٹی مسیت سے ظہر کی اذان گونج رہی تھی- میں برسوں کے بیمار کی طرح آہستہ آہستہ مسجد کی جانب چل دیا-
یہاں کسی نے میری حالت پہ غور نہ کیا- میرے لئے تو جیسے پورا پِنڈ ہی اجنبی بن چکا تھا- نماز مولوی نزیر نے ہی پڑھائ- کوئ درجن بھر بوڑھے ، دو چار نوجوان اور نصف درجن بچّوں نے صف باندھی- نماز کے بعد مولوی صاحب نے چند مخصوص عربی دعائیں پڑھیں اور مونہہ پہ ہاتھ پھیر کر چلتے بنے- نمازی بھی جوتے سنبھالتے رخصت ہوئے- آنِ واحد میں مسجد خالی ہو گئ-
یہ اپنی عرضی پیش کرنے کا بہترین موقع تھا- میں اسے کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاھتا تھا- چنانچہ ہاتھ اٹھا کے سر کو جُھکا کے رب سائیں کو پہلی بار چِٹھّی لکھنے کا ارادہ کیا:
” مولا سائیں … !!! آج پہلی بار تیرے حضور اپنی عرضی بھیج رہا ہوں- تو پاک ہے ، لجپال ہے ، گناہ گاروں خطاکاروں ، سب کا رب ہے- مانا کہ مولوی نزیر سے تیرے تعلقات زیادہ اچھے ہیں مگر میں بھی تیرا ہی بندہ ہوں- مسجد تیرا گھر ہے- ممبر تیرے خلیفہ کا تخت ہے- اس تخت پہ مولوی نزیر بیٹھا ہے تو کہیں مولوی بشیر – ایک مجھے گناہ گار کہ کر پیٹھ پہ تازیانے برساتا ہے تو دُوسرا ثواب کی بشارت دیتا ہے- ایک خدا ، ایک نبی ، ایک قران ہوتے ہوئے اتنا فرق ؟ ان دو مولویوں میں تو روزِ قیامت تک فیصلہ نہ ہو گا لیکن میرا کیا ہو گا ؟
مجھ بدحال پہ رحم کر- تو جانتا ہے کہ میں کس مشکل کا شکار ہوں- دکھ کے کس طوفان کا مجھے سامنا ہے- مجھے صحیح سلامت کنارے پہ لے آ میرے مولا- کسی تنکے کا ہی آسرا پیدا کر دے- کیا کروں ، کہاں جاؤں ؟ بجز تیرے کوئ مددگار نہیں- کوئ محرم راز نہیں جس کے سامنے دل کا بوجھ ہلکا کروں- دیوانوں کی طرح گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں سے کیسے پوچھوں کہ میری بیوی کہاں چلی گئ ؟ اپنا ہی تماشا لگے گا- لوگوں کے ٹھٹھّے سے مجھے بچا میرے مولا- تو بڑا رحیم و کریم ہے-
دعا کے بعد طبیعت کچھ ہلکی ہوئ- فیصلہ کیا کہ عالیہ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوئ ، ایک بار اسے ضرور ڈھونڈ نکالوں گا- انہی سوچوں میں ڈوبا ، خود سے باتیں کرتا ایک بار پھر اپنے گھر کے دروازے پہ جا کھڑا ہوا- گھڑی بھر یہاں لاچار کھڑا رہا- پھر اچانک نظر چٹخنی پر پڑی- دل خوشی سے دھڑکا- تالہ کھل چکا تھا- میرے مونہہ سے بے ساختہ نکلا … واہ صلّو ، توُ تو سچ میں سائیں بن گیا- رب نے سن لی تیری فریاد …… !!! “
میں نے جلدی سے ہُڑکا کھولا اور دیوانوں کی طرح گھر میں داخل ہو گیا- صحن میں آ کے زور سے آواز دی … عالی کہاں ہو عالی … میری آواز سن کر وہ کمرے سے باھر نکلی- اس کا چہرہ کسی کملائے ہوئے پھول کی طرح لٹک رہا تھا ، نیم وا آنکھوں میں اجنبیّت کے سائے تھے- اس نے کچھ دیر مجھے دیکھا جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو پھر خاموشی سے واپس کمرے میں چلی گئ-
میں اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا اور ہانپتے ہوئے پوچھا:
” تو کہاں چلی گئ تھی عالی … تالہ کیوں لگایا … کیوں پریشان کیا مجھے … کہاں تھی توُ… ؟؟ “
اس نے نیم وا ہونٹوں سے کچھ کہنے کی کوشش کی پھر پُھوٹ پُھوٹ کر رو دی- میں خاموش بیٹھا اسے دیکھتا رہا- جب اچھی طرح دل کی بھڑاس نکال چکی تو بولی:
” اڈّے پہ گئ تھی میں … پِنڈ کی بَس پکڑنے … چابی دینے آئ ہوں تجھے .. مجھے ماپوں کے گھر جانا ہے صلّو .. اب تیرے ساتھ نہیں رہنا مجھے … پورے پِنڈ کو معلوم ہے کہ تو میرا سائیں نہیں رہا … تونے دھوکا دیا مجھے … میرے ماں پیو کو دھوکہ دیا … پنڈ کی مائیاں کہتی ہیں … تو طلاقن ہے … اپنے سائیں کو بھی گناہگار کر رہی ہے …. امام صاب کی بی بی بھی یہی کہتی ہے … اس سے تو اچھا تھا مجھے مار دیتا اپنے ہاتھوں سے .. سکون سے قبر میں جا کے تو پڑ جاتی …. !! “
میں اس کے قریب بیٹھ گیا پھر بڑی ملائمت سے کہا:
“مت رو عالی … میں دنیا کے سب دکھ سہہ سکتا ہوں لیکن تیرے آنسو نہیں …. جھوٹ بولتے ہیں لوگ …. ہمارے بیچ کوئ طلاق نہیں ہوئ … ہے کوئ ثبوت ؟ کوئ کاغذ ، کوئ سند ، اشٹام ؟ کچھ نئیں … ہاں ساتھ رہنے کا ثبوت موجود ہے- ہمارا نکاح نامہ- مولوی بشیر کا فتوی بھی موجود ہے … بوہت بڑے عالم کا فتوی ہے … پکّی مُہر لگی ہے اس پہ …. لکھا ہے اس میں کہ ہمارے بیچ صرف ایک طلاق واقع ہوئ ہے … اور .. !!! “
وہ بے یقینی سے مجھے دیکھتی ہوئ بولی :
“فتوی ہے تیرے پاس تو دکھا ناں امام صاب کو؟ چھپاتا کیوں ہے ؟ امام صاب کی بیوی سکینہ آئ تھی … کہ رہی تھی کہ توُ وہابیوں سے لے کے آیا ہے فتوی؟ اور وہابی تو …. سگی دادی نانی سے نکاح کا فتوی بھی دیتے ہیں … “
میں کچھ دیر سر جھکائے سوچتا رہا پھر کہا :
” جھوٹ بولتے ہیں لوگ- آج تک کسی وہابی نے نانی دادی سے نکاح کیا ؟ سب باتیں بنا رکھی ہیں ان لوگوں نے ایک دوجے کو نیچا دکھانے کےلئے … تجھے بسانے کےلئے جو شرط مولوی نزیر نے رکھّی تھی وہ سناؤں تو تیرے ہوش اُڑ جائیں … مجبوراً لایا ہوں میں وہابیوں سے فتوی …. توُ رو مت … جب تک میں زندہ ہوں کوئ ہم کو جدا نئیں کر سکتا . … “
میری باتوں سے اسے وقتی ڈھارس ضرور ملی ، لیکن بے یقینی کا بخار نہ اتر سکا- کچھ ہی دیر بعد جب وہ چولھانے میں میرے لئے چائے بنا رہی تھی – میں پیڑھا گھسیٹتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور کہا:
” آج رب نے میری فریاد سن لی عالی .. یہ تالہ جو تو نے آج لگایا تھا کسی کا پِیو وی نہ کھول سکتا … “
وہ دیگچی میں پوّا ہلاتے ہوئے بولی:
ایک بار اس گھر کو تالہ وج گیا ناں … قیامت تک نئیں کھُلے گا- توُ امام صاب سے بات کر – وہ راضی ہوئے تو ٹھیک ورنہ یاد رکھ- بے حیاء بن کے مجھے وی نئیں رہنا تیرے ساتھ”
میرے گلے میں ایک بار پھر گرہ سی پڑنے لگئ-
اگلے روز عشاء کی اذان کے بعد وہ طوفان آ ہی گیا جس کا خطرہ تھا- پِنڈ کےچوکیدار نے اطلاع دی کہ نماز کے بعد مجھے “پرھیں” (جرگہ) کے سامنے پیش ہونا ہو گا- مولوی نزیر کی قیادت میں ایک پوری عدالت میرے خلاف بیٹھ چکی تھی- ایک ایسا جرگہ جس کا فیصلہ ازل سے ہی میرے خلاف لکھّا جا چُکا تھا-
نماز ہو چکی تو مجھے مسجد کے حجرے میں بلایا گیا- حُجرے میں مولوی نزیر کے علاوہ نمبردار اللہ یار ، سرُو سرگانا ، بالوُ ارائیں ، مہر خورشید اور گاما چوکیدار میرے منتظر تھے-
میں سلام کر کے خاموشی سے بیٹھ گیا- مولوی نزیر نے کسی سیشن جج کی طرح میرے خلاف دفعات پڑھ کر سنائیں:
” بھائیو … بات یہ ہے کہ یہ بندہ نام جس کا صلاح الدین ہے … مسجد کے کوارٹر میں رہتا ہے- اسلامی کیسٹ ہاؤس پہ بیٹھتا ہے- آپ سب اسے اچھی طراں جانتے ہو … آج کل یہ بندہ پورے پِنڈ کا دین ایمان بگاڑنے پہ تُلا ہے- اس نے پہلے ووہٹی کو طلاق دی … فیر مجھ سے مسئلہ دریافت کیا … یہ تو ہو گیا پہلا گُناہ … دُوجی چوّل اس نے یہ ماری کہ مجھ سے طلاق کی تصدیق کروا کے … پورا مسئلہ پوُچھ کے سمجھ کے مطلقہ کو گھر لے آیا … اسے کہتے ہیں رستہ پوُچھ کے کھڈّے میں گرنا … تِیسرا گُناہ … اپنے مسلک کے فتوے کو چھوڑ کے … وہابیوں کے پنڈ گیا … اور مولی بشیر سے اِک غلط فتوی لے کے آ گیا … چوتھا گُناہ … اب اسی مُطلقہ کو گھر میں بٹھا کے نہ صرف شرع کا مذاق اڑا رہا ہے … بلکہ زناء بالرضاء کا مرتکب بھی ہو رہا ہے “
میں سر جھُکائے خاموشی سے سنتا رہا- مولوی نزیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
” اب ڈھٹائ ویکھو اس شخص کی … میں نے اسے خوفِ خدا دلانے … سمجھانے کی کوشش کی تو بجائے شرمندہ ہونے کے … کہنے لگا ووہٹی تو اب واپس نہیں جائے گی مولوی صاحب … مطلب چوری اور سینہ زوری …. اب سارا دِن اس عورت کے ساتھ کبھی اِدھر مٹک رہا ہے … کبھی اُدھر جا رہا ہے …. کوئ حیاء نئیں … کوئ خوفِ خدا نئیں … یا تو آپ لوگ اس بندے کو سمجھاّؤ … یا فیر …. میں ہی مسیت چھوڑ کے چلا جاتا ہوں … جب شرع کی کوئ عزّت ہی نئیں … تو امامت کس کام کی … بند کرو یہ مسیتیں … تالے لگاؤ مدرسوں کو ..!! “
نمبردار صاحب نے کہا:
” ایک منٹ مولی صاب … کیوں وئ صلّو …. کیا مسئلہ ہے ؟؟ یار اچھّے خاصے عزّت دار بندے ہو … مسیت کے کوارٹر میں رہتے ہو … اسلامی کیسٹیں ، قیدے سپارے ویچتے ہو … اپنا نئیں تو ہماری ہی عزّت کا کچھ خیال کر لو … ھم دِھیوں بھینوں والے لوگ ہیں یار … !!! “
میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ مولوی نزیر نے تاریخ کے اوراق پلٹنے شروع کر دئے :
” مسیت کے سامنے مسکواکیں بیچتا تھا یہ بندہ …. میں نے اسے اسلامی کیسٹ ہاؤس پہ بٹھایا …. یہ ووھٹی لے کے پِنڈ آیا … سَکّے چاچے نے عاق کر دِیا … سر چھپانے کی جاء نہ تھی …. مسیت کے کوارٹر میں جگہ دی اسے …. اور اب یہ فتوے دکھاتا ہے مُجھے ؟؟ …. وہ بھی مولی بشیر کے …. بتاؤ …. رہنا حنفیوں کے پِنڈ میں ، فتوے سلفیوں کے دکھانا …. ہے کوئ بات ہے کرن والی ؟؟ “
میں نے کہا:
” سب سے پہلے میں آپ ہی کے پاس آیا تھا مولوی صاحب …. آپ نے کون سا رستہ دکھایا مُجھے ؟؟ حلالے کا ؟؟ “
وہ بولے:
” تو اور کون سا رستہ دکھاتا ؟؟ اللہ کا قران کہتا ہے … جب تک مطلقہ دوجا نکاح نئیں کرے گی … طلاق دینے والے مرد کےلئے حلال نئیں ہو سکتی … اب لوگ اسے حلالہ کہتے ہیں تو میں کیا کروں؟ “
اس پر سرگانے نے مفت مشورہ دیا:
” اپنا …. ارشاد شاہ صاحب حلالہ کرتے ہیں ناں … بتیس چک والے”
چوکیدار صاحب اور مہر خورشید نے “آہو آہو” کہ کر ان کی تصدیق کی مگر مولوی صاحب پھِر کوُد پڑے :
” لیکن شاہ صاحب … سات روز کا وعدہ کر کے … عورت کو ساٹھ روز تک گھر میں بھی رکھتے ہیں … وہ طیفا سنیار ہے ناں … سترہ چک والا .. اس کی بیوی تو اج تک واپس ای نئیں کی … “
اس پر بالُو گُجّر نے دفاع کیا:
“جرنل ضیاء صاب وی 3 مہینے کےلئے آئے تھے … 77 سے سن 86 آ گیا ہے … ہالے تک بیٹھے ہیں … جیسا حاکم ویسی عوام … !!! “
میں نے تڑپ کر کہا:
” نہیں کرانا مجھے حلالہ ولالہ … میں عالیہ کا نام بھی کسی اور کے ساتھ نئیں سننا چاھتا …. اسی لئے اپنے مسلک کا پگڑ اتار کر مولبی بشیر کے پاس گیا تھا .. کوٹاں والا …. آخر اس فتوے کو مان لینے میں مسئلہ کیا ہے ؟؟ “
مولوی صاحب بولے:
” بہت وڈّا مسئلہ ہے پُتّر .. مسلک لگام کی طرح ہوتا ہے … لگام نکل جائے تو گھوڑا بھی اڑیل ہو جاتا ہے …. مالک کی پرواہ چھوڑ دیتا ہے … ہم تو فیر بھی انسان ہیں … اشرف المخلوقات ہیں … مسلمان ہیں … اہلِ سُنّت ہیں … حنفی ہیں … بریلوی ہیں … ہمارا ایک مسلک ہے …. ایک امام ہے …. مولی بشیر کا کون امام ہے ؟؟ “
میں نے کہا:
” وہ خوُد امام ہے …. اک مینارہ مسجد میں … !! “
اس پر مولوی صاحب تڑپ اُٹھے:
” امام یا پیش امام ؟؟ … پُتّر سَت مناظرے جیتے ہیں میں نے مولی بشیر سے .. ہر بار کنڈ لگائ اوس کھسّم کی … لیکن توُ نے … توُ نے میری کنڈ لگوا دِی اوس غیر مُقلّد کے آگے … !! “
بالُو ارائیں نے تیل چھڑکا:
” صرف آپ کی نہیں مولی صاب …. پوُرے پِنڈ کی کنڈ لگوائ ہے اس نحش نے “
میں نے کہا:
” یعنی آپ لوگ صرف اپنی کَنڈ بچانے کےلئے میرا گھر توڑنے چلے ہو … ؟؟ کمال ہے ؟؟ سوچو …. میں تو مرد ہوں … اوکھی سوکھی گزار لوں گا …. عالیہ کا کیا ہوگا ؟؟ غریب ماں باپ کی بیٹی ہے … مر جائیں گے وہ لوگ … اگر بوہت ہی بڑا گُناہ ہو گیا ہے تو مجھے سنگسار کر دو …. 80 دُرّے لگا لو … میں اف بھی نئیں کرونگا … لیکن میرے گناہ کی سزا اُس غریب کو مت دو … اس کے ماپے مر جائیں گے … وہ مر جائے گی …. اگر ایک فتوی لے ہی آیا ہوں تو مان لو اسے … !! “
مولوی صاحب تاؤ کھا کر بولے:
“او پائ کیسے مان لیں …. جس بندے کا کوئ امام اِی نئیں …. کوئ آگا پیچھا نہیں … کیسے مان لیں اس کا فتوی ؟؟ کمال ہے وئ … !!!”
میں نے کہا:
” اگر اس کا کوئ امام نہیں تو آپ کا امام بھی صرف آپ کی ضِد ہے … اور اس ضد میں پِس رہے ہیں ہم غریب لوگ …. کہاں جائیں؟؟ … ہر رستے پر ایک کھڈّا کھود رکھا ہے …. پھر جب کوئ غریب اس کھڈّے میں گرتا ہے … تو بجائے اسے نکالنے کے … اوپر سے اور مٹّی ڈالنے لگتے ہو …. مانتا ہوں مجھ سے طلاق کا گناہ سرزد ہوا … یہ بھی مانتا ہوں کہ میں نے بارڈر پار جا کر دوسرے مسلک کا دروازہ کھٹکایا … میرا خیال تھا کہ میرا گھر بس جائے گا …. اللہ کے دین میں توبہ کا کوئ دروازہ کھُل جائے گا … مگر جب دروازہ کھُلا تو سامنے آپ ہی لوگ کھڑے تھے … ایک نیا کھڈّا کھود کر …. معاف کر دو بھائیو …. بخش دو مجھے …. تھک گیا ہوں میں بھاگ بھاگ کر …. “
مہر خورشید نے کاروائ سمیٹے ہوئے ارشاد کیا:
” عالیہ کو اُس کے پِنڈ چھوڑ آؤ صلّو … نہ خود گنہگار ہو …. نہ ھم سب کو گنہگار کرو … یہی دین داری کا تقاضا ہے … اگر دین دار لوگ ہی شرع کا خیال نئیں کریں گے تو باقی پِنڈ والے تو دھوتی موڈھے پہ رکھ لیں گے … !!!”
مولوی صاحب بولے:
” اور اگر ووھٹی نئیں چھوڑنی …. فیر مسلک بدل لے …. کوٹاں والے جا کے غیر مُقلّد ہو جا … فیر بھلے داڑھی دُھنّی تک بڑھا … یا شلوار گھٹنوں تک چڑھا …. ہم نئیں پوُچھیں گے تجھے … اپنی مرضی کر … !! “
میں نے جیب سے چابیوں کا گُچھّا نکال کر پھینکتے ہوئے کہا:
” یہ رہی کوارٹر اور دوکان کی چابی …. مسلک کی اجلی چادر پر لگا یہ داغ کل سویرے مِٹ جائے گا …. چھوڑ آؤں گا اس کرماں سڑی کو اس کے پِنڈ … اور واپس میں بھی نہیں آؤں گا “
اس رات سردی قدرے کم تھی- آسمان صاف تھا اور چاند پورا چمک رہا تھا- میں نے چارپائیاں باھر صحن میں نکالیں اور انہیں ساتھ ساتھ جوڑ کے اوپر بڑی مچھردانی لگا دی- پھر ٹیپ ریکارڈر اور گانوں کی کیسٹیں اٹھا کے باہر لے آیا-
یہ سب انتظام جرگے کی تلخی مٹانے کےلئے تھا- کل کیا ہو گا یہ بھول کر میں تازہ دودھ لینے بخشو دودھی کے ہاں چلا آیا-
دودھ لے کے واپس آیا تو عالیہ مچھر دانی اتار رہی تھی- میں نے کہا :
” یہ کیا کر رہی ہو عالی- مچھر تنگ کریں گے”
اس نے اپنی چارپائ مجھ سے دور گھسیٹ لی اور بولی:
” آج سے ھم الگ الگ سوئیں گے صلّو …. جب تک امام صاحب اجازت نہ دیں گے … ہم الگ الگ ہی سوئیں گے … !!!”
میں ایک ٹھنڈی سانس لے کر چارپائ پہ جا گرا اور آسمان کے تارے گننے لگا- پھر ٹیپ ریکارڈر اٹھا کر اپنے سینے پہ رکھا اور اس کے بٹنوں سے کھیلنے لگا-
ھم دونوں الگ الگ چارپائیوں پہ لیٹے اپنی اپنی سوچ کے دھاروں میں بہے جا رہے تھے- میرے کانوں میں مولوی بشیر سلفی کے الفاظ گونج رہے تھے:
” دیکھ صلاح الدین …. رب تعالی کا فرمان ہے کہ بیوی تم سے بغاوت کر کے کسی اور سے یارانہ قائم کر لے تو اسے تنبہہ کرو … پھر بھی نہ مانے تو سختی کرو … پھر بھی نہ سنے تو بستر الگ کر لو … پھر بھی وسیبا نہ ہو تو دونوں خاندانوں سے ایک ایک شخص صلح صفائ کےلئے آگے بڑھے … جہاں تک ممکن ہو تصفیے کی کوشش کرے …. پھر بھی بات نہ بنے تو مرد صرف ایک طلاق دے …. وہ بھی اس وقت جب عورت حیض و نفاس سے پاک حالت میں ہو … پھر جب دوبارہ پاک ہو تو بہتر ہے رجوع کر لے … اگر بات نہ بنے تو دوسری طلاق دے … پھر ایک حیض تک انتظار کرے … اس کے بعد یا تو احسن طریقے سے رجوع کر لے یا اچھے طریقے سے جدا کر دے- طلاق طلاق کے تین فائرکر کے عورت کو گھر سے بے دخل کر دینا جہلاء کا طریقہ ہے- ھم کیسے مسلمان ہیں کہ پہلے بنا سوچے سمجھے طلاق دیتے ہیں پھر خالی بستر پہ تڑپنے لگتے ہیں “
عالیہ کے ساتھ گزارے ہوئے خوبصورت لمحات ایک فلم کی صورت میرے دماغ کی اسکرین پہ چلنے لگے- کتنی پرسکون زندگی تھی- ھم دونوں کا بس پہ ساتھ ساتھ بیٹھ کے پنڈ دھوبیاں جانا- وہاں سے مکئ کی چھلیاں گنے اور مالٹے لے کر آنا- دن میں کئ بار دکان کا شٹر گرا کے میرا گھر میں چلے آنا- کھٹّی لسّی کے ساتھ رات کی بچی تندور کی روٹی کھانا- عالیہ کا کوئلوں پہ بھُنّے بینگن اور کچّے تربوز کا بھُرتہ بنانا اور ہمارا مل جل کے کھانا-
چھوٹی عید پر ہم امام بخش ترکھان کے ہاں سے سیویوں والی مشین لے کے آئے تھے- کتنے مزے کی سوّیاں بنی تھیں- روئ کے سیزن میں عالیہ نے مہر محمد کے ہاں کپاس کی چنائ کی تھی- بیس روپے کی پھُٹّی بیچ کر وہ کتنی خوش تھی- اس روز رات دیر تک وہ ان پیسوں کو خرچ کرنے کے منصوبے بناتی رہی-
جس روز میں سوکھی لکڑیاں کاٹنے کو سائیوں والے کیکر پہ چڑھا تھا ، وہ نیچے کھڑی کتنا ڈر رہی تھی ، میں اسے مزید ڈرانے کےلئے ٹہنے کو زور زور سے ہلا رہا تھا- اس وقت ہمارا ویاہ نیا نیا تھا- کتنی حسین خوشیاں تھیں ، کتنی مختصر خوشیاں تھیں-
میں نے ٹیپ کا بٹن دبایا تو نورجہاں کی پرسوز آواز ماحول کی خامشی کو درد سے بھرنے لگی-
بے بسوں پر یہ ستم
خوب زمانے نے کیا
کھیل کھیلا تھا محبّت کا
ادھورا ہی رہا
ہائے تقدیر کہ
تقدیر سے پورا نہ ہوا
ایسے آنی تھی جدائ
مجھے معلوم نہ تھا
آج کی رات
سازِ دلِ پُردرد نہ چھیڑ
آج کی رات …. !!!
اب ہیں ارمانوں پہ چھائے
ہوئے بادل کالے
پھوٹ کر رسنے لگے ہیں
مرے دل کے چھالے
آنکھ بھر آئ
چھلکنے کو ہیں اب یہ پیالے
مسکرائیں گے مرے
حال پہ دنیا والے
آج کی رات
سازِ دلِ پردرد نہ چھیڑ
آج کی رات …. !!!
جوں جوں رات ڈھل رہی تھی ، ہجر کا خوف دماغ کو نئے منصوبوں پہ قائل کر رہا تھا- ضمیر کی آنکھ بچا کے دل و دماغ نئے ارادوں کے تانے بانے بُن رہے تھے- مدفون امیدوں کی قبر کشائ کر کے ان میں نئے آسروں کی روح پھونکی جا رہی تھی-جس حکیم نے یہ ٹوٹا جوڑ باندھا تھا اسی سے شفاء کی کوئ امید رکھّی جا سکتی تھی- میں بے تابی سے صبحِ صادق کا انتظار کرنے لگا-
سورج نے کنّی نکالی تو میں دوسی مُسلّی کے ہاں چلا گیا- اس سے ریڑھی کے معاملات طے کئے- گھر واپس آیا تو چائے اور پراٹھوں کی مہک سے آنگن دہک رہا تھا-
عالیہ سوکھی لکڑیاں توڑ مروڑ کے چولھے میں ڈال رہی تھی- سفید دھویں میں چھلکتا اس کا سُتا ہوا چہرہ رات بھر کے جگراتے کی گواہی دے رہا تھا- میرے پیالے میں چائے انڈیلتے ہوئے وہ بولی:
” تو آج جائے گا ناں مولبی صاب کے پاس؟ … کیا پتّہ مان ہی جائیں؟”
میں نے چائے کی تلخی زبان پہ محسوس کرتے ہوئےکہا:
” مولبی صاب تو قیامت تک نئیں مانیں گے … کل ان کی طرف سے پکّی ناں ہو گئ ہے … بلکہ پورے پِنڈ کی طرف سے ناں ہو گئی ہے … مُلاں پُور کے خُدا ، کوٹاں والے خُداؤں کا فتوی ماننے سے انکاری ہیں- ان کا فیصلہ ہے کہ سورج نکلتے ہی ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں … لیکن تو فکر نہ کر … ہم ہونگے نئیں .. !!”
وہ کچھ دیر حیرت اور تاسف سے مجھے دیکھتی رہی پھر روہانسی ہو کر بولی :
” سب کچھ ملُوم ہونے کے باوجود تو گناہ کو تیار بیٹھا ہے؟ خُدا کا خوف کر …. کیوں رب سائیں کی نراضگی مول لیتا ہے؟ … اس کی بارگاہ کا رستہ بند ہو گیا تو کدھر جائیں گے ھم ؟؟”
میں نے کہا:
” تیرا کیا خیال ہے؟ اس کی بارگاہ میں جانے کا صرف ایک ہی رستہ ہے؟ … وہی جس پہ مولوی نزیر کھڑا ہے؟؟ نئیں عالی … اور بھی ہیں رستے … سًنّی ، شیعہ ، وہابی ، دیوبندی … ہر رستے پہ ایک مولبی کھڑا ہے … تا کہ بندے کو اس کی بارگاہ تک چھوڑ کے آئے … خدا ایک ہی ہے … رستے الگ الگ ہیں … ہم کوئ سَوکھا رستہ پھڑ لیتے ہیں … !!! “
وہ دھواں دھواں چہرے سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی ” تیری باتیں میری سمجھ میں نئیں آتیں .. ڈرنے لگی ہوں میں .. خود بھی کافر ہو گا اور مجھے وی کرائے گا … !! “
میں نے کہا ” میں وی ڈرنے لگا ہوں عالی … کہیں تیری محبّت میں پاگل ہو کے سائیں نہ بن جاؤں … دیکھ جب کوئ سائیں بن جاتا ہے ناں … تو اس کے دل سے عورت کی محّبت مٹ جاتی ہے …. وہ سچّے محبوب کا عاشق بن جاتا ہے ….”
وہ بولی ” تو بھلے کُش وی بن جا پر مجھے چھڈ کے آ واپس … نئیں رہنا اب اس پِنڈ میں … رب وی نراض اور جگ وی …!!”
میں نے کہا ” میں دوسی مُسلّی کو بول آیا ہوں- وہ اپنی منجیاں ، ڈبّے ، بکسے دھوبیاں پہنچا دے گا … میں آج ہی کوٹاں والا جاؤں گا … مولبی بشیر سے ملنے … اسے کہوں گا کہ فتوی دیا ہے تو اب گھر وی بسا کے دے … کوئ کاروبار دلا دے … کیسٹوں والی دکان ہی کھول کے دے دے … فیر ہم دونوں کوٹاں والا چلے جائیں گے … نیا پِنڈ … نیا گھر … نئ دوکان … وہاں جگ وی راضی ہو گا …. اور رب وی …!!”
عالیہ نے کوئ جواب نہ دیا اور خاموشی سے چولھے کی راکھ کریدنے لگی- میری طرح شاید وہ بھی راکھ سے امید کی کوئ چنگاری ہی ڈھونڈ رہی تھی-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: