Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 8

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 8

–**–**–

میں اسی روز عالیہ کو لیکر پِنڈ دھوبیاں چلا گیا- عالیہ کے گھر والوں نے بڑی حیرت سے ہمارا استقبال کیا- سوائے خاموشی کے ہمارے پاس کوئ عذر نہ تھا- دوپہر تک دوسی گھر کا سامان بھی لے آیا- حالات ایسے تھے کہ کسی کو کچھ بتانا بھی مشکل تھا اور چھپانا بھی-
میں نے عالیہ کو حوصلہ دیا کہ ” کوٹاں والا ” پِنڈ جا رہا ہوں- اللہ نے چاہا تو گھر اور کاروبار دونوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا- پھر ہم بھی وہیں شفٹ ہو جائیں گے- تو نے کسی کو کچھ نئیں بتانا … ان شاءاللہ شام تک خوش خبری سناؤں گا تجھے …. “
میں نے اڈے پہ جا کے ماموں کانجن کی بس پکڑی اور دو گھنٹے بعد کوٹاں والا جا اترا- پنڈ میں کوئ جاننے والا تو تھا نہیں ، سیدھا اک مینارہ مسجد جا پہنچا- گیٹ پر بھاری بھر کم تالہ لٹک رہا تھا- میں نے جھِیت سے اندر جھانکنے کی کوشش کی تو پیچھے سے آواز آئ:
” پائ … استنجہ خانہ دوسری طرف ہے … !!!”
میں فوراً پلٹا اور مسجد کے پیچھے سے ہوتا ہوا بازار کی طرف نکل گیا- اکا دکا دکانیں کھُلی تھیں- گلیوں میں آوارہ گردی کے سوا کوئ چارہ نہ تھا- ظہر کی نماز سے پہلے مسجد کھلنے کے امکانات صفر تھے اور نماز میں ابھی تین گھنٹے باقی تھے-
کچھ دیر بازار میں مٹر گشت کے بعد ایک شناسا چہرہ نظر آ ہی گیا- مولوی شریف سلفی- کمالیہ کے ایک مناظرے میں اس سے ملاقات ہوئ تھی-
شریف بڑے تپاک سے مِلا- دکان سے اٹھ کر مجھ سے بغل گیر ہوا- اور چائے وغیرہ کا آرڈر کیا- بازار میں اس کی اسلامی کیسٹوں اور کتابوں کی دکان تھی- ساتھ میں ٹوپی ، تسبیح ، اجوہ ، کلونجی، شہد ، سرمہ اور عطر بھی سجا رکھا تھا- کافی بڑی دکان تھی-
شریف بڑا ہی گپ باز مولوی تھا- کچھ دیر ادھر ادھر کی ہانکنے کے بعد کہنے لگا :
” خیر تو ہے ؟ اج سویرے سویرے؟ … مطبل کوٹاں والا میں کیا کر رہا ہے تو ؟”
میں نے دکان کے سامنے کرسی پہ ڈھیر ہوتے ہوئے کہا:
” فضیلة الشیخ جناب بشیر سلفی مد ظلہ سے ملنے آیا تھا- مسیت ہی بند ہے تمہاری”
” خیریت ؟ … کوئ ریکارڈنگ شیکارڈنگ ہے ؟ ٹیپ کیسٹ کدھر ہے تیری …؟؟ “
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا ” بس یار …. مقدر کی کیسٹ ہی الجھ گئ ہے اپنی … گھر اجاڑ کے بیٹھا ہوں … رب ہی کوئ آسرا کرے …”
وہ معنی خیز نظروں سے مجھے گھُورتے ہوئے بولا:
” خیر ہے ؟ .. مطبل …. کوئ طلاق شلاق کا کیس تو نئیں ہے ….؟؟ “
میں نے کہا: “ہاں یار … طلاق کا ہی کیس ہے … لیکن کیس بگڑ گیا ہے … کچھ میرےپِنڈ کے مولوی نے بگاڑا …. کچھ تیرے پِنڈ کے مولوی نے … اب نہ ادھر کا ہوں نہ اُدھر کا … !!!”
وہ میرے پاس بیٹھتے ہوئے بولا:
” بات کیا یے ؟ صاف صاف بتا”
میں نے چائے کی پیالی رکھتے ہوئے کہا:
” غُصّے اور غلط فہمی میں طلاق دے بیٹھا ہوں اپنی ووہٹی کو … ہفتہ پہلے … شیخ بشیر صاحب سے فتوی لیکر گیا تھا کہ صرف ایک طلاق واقع ہوئ ہے … امید تھی گھر بس جائے گا … لیکن ابھی تک در بدر پھرتا ہوں ..”
وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا :
“مطبل … لڑکی والے نئیں مان رہے یا …. لڑکے والے ؟؟ “
میں نے کہا ” پنڈ کا مولوی نہیں مان رہا ….. باقی تو سارا جگ راضی ہے … !!”
وہ ایک قہقہہ لگا کے بولا :
” اِک لطیفہ ہے کہ جنگل میں گیدڑ کو اخبار کا ٹکڑا مل گیا …. اس نے تمام گیدڑوں میں جا کے اعلان کیا کہ مبارک ہو سجنو … آج سے ہمیں پِنڈ میں داخلے کا پرمٹ مل گیا ہے … میرے پیچھے پیچھے قطار بنا کے چلے آؤ … تو جناب گیدڑوں کا غول اس کے پیچھے چل پڑا- اب جو گاؤں کے قریب ہوئے تو لوگوں نے اُٹھا لئے سوٹے … یہ ویکھ کے گیدڑ واپس بھاگا …. سجنوں نے کہا استاد بھاگتا کیوں ہے ؟؟ پرمٹ دکھا ناں … کہنے لگا بے وقوفو … یہ سب انگوٹھا چھاپ ہیں … ان پڑھ جاھل ہیں … مطبل .. پڑھا لکھا تو ان میں ہے کوئ نئیں … کس کو دکھاؤں پرمٹ … ؟؟ تیرے ساتھ بھی وُہی ہوئ ہے … گیدڑ والی … مطبل … جاہل کیا جانیں شیخ بشیر کے فتووں کو … خیر تو فکر نہ کر … میرے پاس مسئلہ تین طلاق پر مستند کتابیں موجود ہیں …. گارنٹی دیتا ہوں- اللہ قسم ایسے ایسے دلائل ہیں کہ تیرے مولبی کی ماں ہی مر جائے گی … !!”
میں نے کہا:
” دیکھ شرِیف- مجھے مولوی کی ماں نہیں مارنی- میں تو پہلے ہی پنڈ سے بھاگ چکا ہوں- اب گیدڑ کہو یا شیر- مجھ میں اس مولبی کا مقابلہ کرنے کی ہمّت نہیں”
وہ بولا ” ہمّت نئیں تو فیر کرا لے حلالہ … کر دے اپنے مولبی کی چاہ پوُری … او وِیر … جب تک کلمہء حق لے کے باطل کے سامنے کھڑے نئیں ہو گے ناں … یونہی خوار ہوتے رہو گے- اچھا اگر توُ خود نئیں بول سکتا ناں … شیخ بشیر سلفی کو لے جا … مناظرہ کرا لے اپنے مولبی سے … مطبل کیسٹ وی ریکارڈ ہو جائے گی … اور تیرے مولبی کا ریکارڈ وی وَج جائے گا … !!”
میں نے کہا:
” دس سال ہو گئے مناظروں کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے … آج تک میں نے کسی مولوی کا ریکارڈ وجتے نئیں دیکھا- ہارے گا تو ریکارڈ وجّے گا ناں ؟؟ ریکارڈ تو ہمارا وجتا ہے … جیسے میرا وج رہا ہے … او بھائ … تو جلتی پہ تیل نہ ڈال … میرا گھر بسنے دے … میں سلفی مسلک اختیار کرنا چاھتا ہوں … اسی لئے آیا ہوں مولوی بشیر کے پاس”
اس کے چہرے پہ چمک بیدار ہوئ- وہ کرسی سے اٹھ کر میرے گلے لگ گیا اور کافی دیر تک میری پیٹھ تھپتھپاتا رہا- پھر چھوٹے کو آواز دی اور پیسے پکڑا کے کہا :
” شوکی … او سامنے جیدے کی دکان سے پاؤ جلیبی اور دو سیون اپ پھڑ کے لے آ … “
میں نے کہا ” کیوں گلہ خراب کرتا ہے بھائ … رہنے دے … پوری بات تو سُن لے میری …. !!”
وہ میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا:
” کُبڑے کو لت وجّی اور اس کا کُب نکل گیا … ماشاءاللہ … سینے میں ٹھنڈ ڈال دی یار توُنے … رب کا شکر ادا کر جس نے تجھے ھدایت بخشی … !!”
میں نے کہا :
“بس شکر ہے اس کی ذات کا … اب اگر کوٹاں والا میں ایک چھوٹا سا گھر اور دوکان مل جائے تو پوری عمر شکر گزار رہونگا … مولوی صاب کا … !!! “
وہ کرسی پہ بیٹھتے ہوئے بولا:
“پیسہ کتنا ہے تیرے پاس ؟؟”
میں کچھ دیر چُپ ساندھے انگلیوں کے پٹاخے نکالتا رہا پھر کہا:
” فی الحال تو جیب میں ساڑھے سات روپے کرایہ ہے واپسی کا”
اس نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور بولا:
” او ویر … میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کاروبار کےلئے کتنا پیسہ ہے؟ مطبل جب تو نے گاؤں چھوڑ دیا تو جائیداد تو بیچی ہی ہو گی … چار پانچ لاکھ کا بندوبست کر .. میں دلا دیتا ہوں گھر بھی اور کاروبار بھی”
میں نے کہا ” گاؤں میں تو کوئ گھر نئیں تھا میرا- مسجد کے کوارٹر میں رہتا تھا- دکان بھی مسجد کی ہی تھی … اگر شیخ بشیر کچھ مدد سیوا کر دیں تو …. !!”
وہ میری بات کاٹ کے بولا:
” شیخ بشیر نے کون سی اسٹیٹ ایجنسی کھول رکھی ہے ؟؟ وہ تو خود مسجد کے کوارٹر میں رہتے ہیں- مسجد کی ہی ایک دکان میں پنسار کی ہٹّی کھول رکھّی ہے- کشتہ مل سکتا ہے تُجھے … گھر کہاں سے دیں گے وہ؟ … او ویر … ہر مہینے آٹھ دس کیس آتے ہیں ان کے پاس …. طلاقِ ثلاثہ کے …. طلاقوں پہ گھر ملنے لگیں ناں تو پورا پاکستان بڈھیوں کو طلاقیں دے کے کوٹاں والا آ کے بیٹھ جائے … مطبل … فیر … کوٹاں والا تو نہ ہوا … طلاقاں والا ہو گیا … !!! “
اس کے چہرے سے دکانداروں والی مسکراہٹ غائب ہو گئ اور اجنبیّت در کر آئ گویا میں خواہ مخواہ اس کی دکان پہ آ بیٹھا ہوں- اس نے چھوٹے کو آواز دی:
” شوکی …. رہن دے جلیبی … ایویں بھائ کا گلہ خراب ہو گا”
اس کے بعد وہ دکان میں آنے والے ایک گاہک کی طرف متوجہ ہو گیا اور میں انگلیوں کے پٹاخے نکالتا رہ گیا-
سورج کافی چڑھ آیا تھا- بازار میں رش بڑھنے لگا- پھل سبزیوں والے اپنے اپنے پتھاروں پہ پانی چھڑکنے لگے- بچوں کی اسکول سے چھٹی کا وقت ہو چلا تھا- بازار میں ان کی کلکاریاں گونجنے لگیں- پکوڑے ، سموسے ، چاٹ والے ہاہاکار مچانے لگے- مولوی شریف اپنے گاہک کو گھیرنےکےلئے شہد اور کلونجی کے فضائل سنا رہا تھا- میں کرسی پہ ٹیک لگا کے اونگھنے لگا-
اِک مینارہ مسجد سے اللہ اکبر کی صدا گوُنجی تو میں کسی روزہ دار کی طرح تڑپ کر اٹھا- مولوی شریف گدّی پہ بیٹھا اوُنگھ رہا تھا- میں نے اسے جھنجھوڑ کے جگایا- آنکھیں ملتے ہوئے اس نے دستی گھڑی دیکھی اور اُٹھ کر دوکان کا شٹر گرانے لگا-
مسجد قریب ہونے کی وجہ سے کمسِن مؤذن کی تیکھی آواز کانوں کے پردے چِیر رہی تھی- مذاھب کے بیچ ضِد اور رَد کی جنگ کا ایک ہتھیار یہ بھی تھا کہ فرقہء مخالفہ کےکھانستے ہوئے بزرگ مؤذنوں کا مقابلہ کمسِن مؤذنوں سے کرایا جا رہا تھا-
ھم وضو کر کے مسجد کے کھلے صحن میں پہنچے- خاطر خواہ نمازی جمع تھے- مصلّہءامامت پر مولوی بشیر سلفی جلوہء افروز تھے- دیکھ کر طبیعت بحال ہوگئ کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے-
جماعت کھڑی ہوئ تو کندھوں سے کندھے اور پاؤں سے پاؤں جُڑ گئے- خوش قسمتی سے درمیانی صف کے عین بیچ جگہ میّسر آئ- میں جو حالات کے دباؤ سے پہلے ہی پسا ہوا تھا ، صالحین کے دوطرفہ دباؤ سے مزید پِس کر عین الف ہو گیا-
طوِیل قیام ، لمبے رکوع ، دراز سجدوں اور فیاض جلسوں سے ہوتی ہوئ طویل نماز جانے کب جا کر تمام ہوئ- سلام کے بعد نمازی آہستہ آہستہ اُٹھ کے جانے لگے- میں دُعا کے انتظار میں انگلیوں کے پٹاخے نکال رہا تھا کہ مولوی شریف سر پہ آن کھڑا ہوا:
“چل بدعت چھوڑ اور امام صاب کے قریب ہو ….. !!! “
مسجد میں دوچار نمازی ہی رہ گئے تھے- ایک بچّے نے حقّہ نماء مائک امام صاحب کے سامنے آن دھرا- میں صف پہ تقریباً گِھسٹتا ہوا قریب ہوا- ھم سے پہلے ایک شخص بکری کا مسئلہ پوچھ رہا تھا- اس کے ہاں جڑواں میمنوں کی پیدائش ہوئ تھی- مسئلہ یہ تھا کہ ایک میمنا مخنّث یعنی ہیجڑا معلوم ہوتا ہے- نہ بکری ہے نہ بکرا- اسے حلال کر کے گوشت صدقہ کیا جائے یا بیچ کر رقم مسجد کو دے دی جائے-
امام صاحب نے مائک سیدھا کیا- فلک بوس مینار کے سروں پر نصب جہازی سائز اسپیکرز کھڑکھڑا اُٹھّے- مقصود تھا کہ گاؤں کا ہر باشندہ مسئلے سے آگاہ ہو جائے- فرمایا جانور میں جنس کا تعیّن نہ ہو سکنا عیب شرعی ہے اور عیب شدہ جانور کی قربانی جائز نہیں- صدقے میں بھی احتمال ہے کہ جو چیز اللہ کی بارگاہ میں پیش کی جائے نقص سے آزاد ہو- بیچنے کا ارادہ ہو تو عیوب و صفات مشتری سے کھل کر بیان کی جاویں کہ لاعلمی میں قربانی یا صدقہ نہ کر بیٹھے … “
میں جو بڑی دیر سے صبر کئے بیٹھا تھا بلاوجہ بول اُٹھا:
“کیوں نہ اس بکرے کو ناچنا سکھا کر سرکس والوں کو بیچ دیا جائے …. انسانوں کے ساتھ بھی تو ہم یہی کرتے ہیں … !!””
سائل اور مسؤول دونوں نےچونک کر مجھے دیکھا- مولوی بشیر نے اسپیکر بند کرتے ہوئے کہا ” توُ کون ہے بھائ ؟
میں نے کہا ” انسانوں کی بستی کا عیب شدّہ جانور- نہ قربانی لائق ہوں نہ صدقہ کے- آپ کے پاس آیا ہوں- کسی کشتے کی تلاش میں … !!”
اس سے پہلے کہ کوئ کھلواڑ ہوتا مولوی شریف کھسک کر آگے ہوا ، مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور گویا ہوا:
“یہ صلاح الدین ہے امام صاحب- مُلّاں پُور سے آیا ہے وِچارہ- عورت کو طلاق دے بیٹھا ہے- آپ سے فتوی لیکر گیا تھا اب اس کے پِنڈ والے مان نہیں رہے”
“اچھا اچھا … ” مولوی بشیر نے مجھے پہچانتے ہوئے کہا- ” ظاہر ہے پِنڈ والے کیسے مانیں گے ؟ اور منوانے کی ضرورت بھی کیا ہے ؟ چُپ کر کے بی بی کے ساتھ رہ لے- یہاں کیا لینے آیا ہے ؟”
مولوی شریف بولا:
“یہ سلفی مسلک اپنانا چاھتا ہے- اللہ نے ھدایت دے دی ہے”
فرمانے لگے : ” اچھا؟؟ ماشاءاللہ بھائ سبحان اللہ- ھدایت تو رب کی طرف سے ہے- البتہ کبھی کوئ حادثہ بھی ھدایت کا بہانہ بن ہی جاتا ہے- مبارک ہو”
میں نے کہا ” خیر مبارک- اس حادثے نے سچ میں میری زندگی بدل دی ہے- آپ کے مبارک ہاتھ پہ سلفی مسلک قبول کرنا چاھتا ہوں- داڑھی بھی بڑھانے کا ارادہ ہے اور ان شاءاللہ کل سے پاجامہ بھی کٹوا دوں گا- بس یہاں اس پِنڈ میں ٹھکانہ اور کاروبار مِل جائے … بس –
انہوں نے پہلے میری طرف دیکھا پھر مولوی شریف کی طرف- پھر بولے:
” کون سا کاروبار کرتے ہو ؟ “
میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ شریف بول پڑا:
“مُلّاں پور والی مسجد مارکیٹ میں کیسٹوں کی دکان کرتا تھا یہ- مسجد کے ہی کوارٹر میں رہتا تھا- وہاں کے مولوی نے آپ کا فتوی دیکھ کر بے دخل کر دیا ہے- اب مارا مارا پھرتا ہے … “
میں نے کہا:
“حضرت کاروبار ٹھکانہ سب برباد ہو گیا ہے- بالکل قلاش ہوں- بیوی کو اس کے سسرال چھوڑ کے یہاں آیا ہوں- بس سر چھپانے کو جگہ چاھئے اور ساتھ کوئ چھوٹی سی دُکان- باقی کام میں خود سنبھال لونگا … ان شاءاللہ قسطوں میں رقم لوٹا دونگا … !!”
وہ داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے:
” دیکھو بیٹا جی- ھم تو خود مسجد کے کوارٹر میں رہتے ہیں اور مسجد کی ہی ایک دکان میں پنسار کی ہٹّی چلاتے ہیں- ایسا کوئ وعدہ ہم نہیں کر سکتے- ویسے بھی مذھب کے بدلے گھر اورکاروبار دلانا قادیانیوں کا شیوہ ہے اور توُ جانتا ہی ہے کہ وہ جھوُٹے اور مُرتد ہیں”
میں نے تڑپ کر کہا ” تو کیا سچے مذھب میں ایک بے آسرے کو چھت دینے کا کوئ رواج نہیں ؟ ایک غریب کو حلال روزگار دلانے کا کوئ وسیلہ نہیں ؟ “
وہ کچھ گڑبڑائے پھر فوراً ہی سنبھل کر بولے:
“نہیں صلاح الدین بیٹے … یہ بات نہیں ہے- میرا مطبل یہ ہے کہ بیٹھے بٹھائے گھر اور کاروبار کون دیتا ہے؟ وہی دے گا ناں جسے غرض ہو گی- سچے دین میں داخلے کےلئے شرائط نہیں رکھی جاتیں- انعامی ٹوکن تو جعلی کمپنیاں دیتی ہیں ناں- بہرحال تو پریشان نہ ہو- جلد یا بدیر اللہ کوئ رستہ ضرور نکالے گا- اس کی رحمت سے مایوس مت ہو”
اس کے بعد وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولے ” یہ اقبال سلفی کدھر چلا گیا ؟ ذرا بُلانا اس کو”
ایک چھوٹا سا لڑکا جو صحن میں کوُد رہا تھا مسجد کے اندر بھاگ گیا- کچھ ہی دیر بعد لوٹا تو ایک لمبے تڑنگے مولوی کو لے آیا- امام صاحب نے کہا:
“اقبال ، یہ نوجوان اللہ کے فضل سے سلفی مسلک قبولنا چاھتا ہے- اسے مولانا سیالکوٹی کی صلواة الرسول اور مولانا چنیوٹی کی حاشئے والی تفسیر کا ایک سیٹ دے دو- اس کے علاوہ مسئلہ طلاق پر جو میں نے دو کتابچے لکھے ہیں وہ … اور میرے خطبہء جمعہ کی چار پانچ کیسٹیں بھی نکال لانا …. خصوصاً امین بالجہر اور فاتحہ خلف الامام والی .. !! “
اقبال آرڈر لے کر مسجد کے کتب خانے کی طرف بھاگا- میں نے مایوسی سے کہا:
“تو اب میرے لئے کیا حُکم ہے ؟ “
وہ جھٹ بولے :
“واپس اپنے پِنڈ جاؤ- حق سچ کی تبلیغ کرو- دیکھو دین میں تکلیفیں تو آتی ہی رہتی ہیں- یہی ایمان کی جانچ ہے- ان تکلیفوں کا مقابلہ کرو- حق پہ ڈٹ جاؤ “
میں نے کہا ” گاؤں سے تو بے دخل کیا جا چُکا- دھوبیاں پِنڈ میں پڑا ہوں”
وہ بولے:
“اچھا … وہ شبیرشاہ والا پِنڈ ؟ وہاں تو محنت کی بڑی سخت ضرورت ہے- شبیر بدعتی کا موُل اکھاڑنا تو بہت ضروری ہے- لیکن پہلے توُ اپنے گھر والوں پر محنت کر- یہ بہت اھم ہے- تیرا ایمان دیکھ کر ان کا دل ضرور پگھلے گا- یہ دھن ، دولت ، مال ، دنیا ، ان کی کوئ حیثیّت نہیں بیٹا- سب دھوکے کا مال ہے- اصل چیز ھدایت ہے- جو رب کی طرف سے ہے- چراغ جل اٹھے تو اندھیرے خودبخود بھاگ اٹھتے ہیں- کیا پتا تیری وجہ سے ایک دن مُلاں پور بھی سلفی پور بن جائے”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: