Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 9

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – قسط نمبر 9

–**–**–

اکثر لوگ قسط پڑھنے کے بعد خاموشی سے گزر جاتے ہیں اس لیے اب اگلی 100 لائک مکمل ہونے کے بعد آئے گی….
👈میں کتابوں اور کیسٹوں کی ایک بھاری گھٹڑی سر پہ اٹھائے کوٹاں والا اڈّہ پہ کھڑا تھا- بس کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا …
مولوی بشیر نے میرا بوجھ کیا اٹھانا تھا ، اُلٹا اپنا بوجھ میرے سر پہ آن دھرا- اس وقت یہی بوجھ مجھے ہلکان کئے ہوئے تھا- اس کے مسلک کا ایجنٹ بن کر اب مجھے پنڈ پِنڈ پھرنا تھا- یقیناً یہ بھڑوں کے چھتے میں بار بار پتھّر پھینکنے والی بات تھی-
استاد نے بدلے میں کوئ رعایت بھی نہ دی تھی- نہ کوئ تنخواہ مقرّر ہوئ نہ کمیشن- ہاں مرنے کے بعد محل اور حور کا وعدہ ضرور تھا- میں اڈّے پہ کھڑا سوچ رہا تھا کہ جو شخص دنیا میں مجھے ایک گھر نہ دلا سکا ، میری کھوئ ہوئ بیوی نہ لوٹا سکا اس سے موت کے بعد محل اور حور کی امید رکھنا یقیناً رِسک والی بات ہے-
اس بار نہ تو مولوی صاحب نے چائے پانی کا پوچھا ، نہ ہی اڈے تک چھوڑنے آئے- انہیں کسی جلسے میں جانے کی جلدی تھی یا شاید وہ ہچکچا رہے تھے کہ ڈوبتے کو اُنگلی پکڑائ تو ہاتھ پکڑ لے گا- اگرچہ میرا ان کےلئے مستقل بوجھ بننے کا کوئ ارادہ نہ تھا مگر خطرہ مول لینے کو وہ بھی تیار نہ تھے-
رہا مولوی شریف ، وہ تو پہلے ہی طویلے کی بلاء مولوی بشیر کے سر ڈال کر جان چھڑا چکا تھا- چائے البتہ اس نے ضرور پلائ تھی- میں بھی اپنی پریشانیوں میں الجھا یہ بھول گیا کہ سوائے چائے کی پیالی کے صبح سے اندر کچھ گیا ہی نہیں-
اڈّے پر ایک ریڑھی والا پکوڑے تل رہا تھا- خوشبو نتھنوں سے ٹکرا کر حلق میں جا اتری- پیٹ میں بھوک کا طوفان اٹھا تو ہاتھ خودبخود جیب میں چلا گیا- کُل ساڑھے سات روپے زرِ نقد ہاتھ آیا- بمشکل بس کا کرایہ تھا- خالی پیٹ سفر کیسے کٹے گا ؟ بھوک کی بے تابی مجھے آہستہ آہستہ ریڑھی والے کے پاس کھینچ لے آئ-
میں اس کے پیچھے جا کر تیل میں تلتے ہوئے پکوڑوں کو دیکھنے لگا- وہ شخص چھاننی سے انہیں الٹ پلٹ رہا تھا- ساتھ ساتھ وہ کبھی ہوائ چولھے کو پمپ مارتا ، کبھی سفید مُولیوں کو کدّوکش کرتا اور کبھی مٹّی کی ھانڈی میں لکڑی کی ڈوئ چلانے لگتا ، جس میں پودینے کی سبز چٹنی تیار ہو رہی تھی-
آس پاس کوئ گاہک موجود نہ تھا- موقع غنیمت جان کر میں قریب ہوا- گھٹڑی بنچ پہ رکھی اور اس بھائ کے کان میں کہا:
” بھائ مسافر ہوں- پیسے نہیں ییں- ایک پلیٹ پکوڑوں کی مل جائے گی ؟”
وہ یکدم پلٹا جیسے بچھّو نے کاٹ لیا ہو ، پھر ناگواری سے بولا:
” ابھی نکالے بھی نہیں ، اور مُفت خورے پہلے ہی آگئے”
میں نے گٹھڑی کھولی- پھر ایک کیسٹ نکال کر اسے دکھائ اور کہا:
” بھائ میں مفت خورہ نہیں ہوں- کیسٹوں کا کاروبار ہے- آج دھندہ نہیں ہوا- تُم یہ کیسٹ رکھ لو- بالکل اصلی TDK کی ہے- بازار میں 15 سے کم نہ ملے گی-
اس نے کیسٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور بولا ” اس کا کیا کروں ؟؟”
میں نے کہا: ” اس میں مولوی صاحب کی تقریر ہے- سنو گے تو یقیناً ثواب پاؤ گے”
وہ لاپرواہی سے بولا: ” کسی ٹیپ والےکو دو ، میرے پاس تو ریڈیو ہے”
میں نے کہا ” اچھا چلو … تُم کسی ٹیپ والے کو بیچ دینا- دس روپے تک نکل ہی جائے گی- مجھے بس ایک پکوڑوں کی پلیٹ دے دو- چٹنی ذرا کم ڈالنا …. !!!”
وہ کیسٹ ہاتھ میں پکڑے سوچ و بچار کرنے لگا- میں اس کی مذھبی غیرت جگانے کے واسطے بولا ” دیکھو بھائ- سوچو مت- مولانا صاحب کا بیان ہے- دین ایمان کا مسئلہ ہے … ٹھکراؤ گے تو گناہ ہو گا … !!”
یہ خفیہ سودا شاید کسی انجام تک پہنچ ہی جاتا لیکن اچانک ایک مولوی پکوڑوں کی ساندھ لئے سر پہ آن کھڑا ہوا-
” ذرا مجھے دکھانا حضرت- کون سے مولانا کا بیان ہے ..؟؟”
پکوڑے والے نے جھٹ کیسٹ اس مولوی کو تھما دی- کیسٹ دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ کچھ متغیّر ہوا ، اور وہ بولا:
” کہاں سے ملی تمہیں یہ کیسٹ؟”
میں نے کہا : ” دُکان ہے اپنی- اسلامی کسیٹیں بیچتا ہوں- اور بھی ہیں میرے پاس- چاھئیں آپ کو ؟؟ “
وہ ناک سکوڑ کے بولا ” قیمت کیا ہے اس کی ؟”
میں نے کہا ” بس … پکوڑے کھلا دیجئے … ایک پلیٹ … !!!”
وہ تاؤ کھا کے بولا:
انتہائ شرم کی بات ہے- شیخ بشیر سلفی کا بیان جو اک مینارہ مسجد سے فی سبیل اللہ ملتا ہے- بیچتے پھرتے ہو تُم ؟ پکوڑوں کے عوَض ؟؟ وہ بھی کوٹاں والا اڈّے پہ ؟
میں نے کہا ” آرام سے بھائ- یہ میرا اور اس ریہڑی والے کا معاملہ ہے- تُم کیوں بیچ میں ٹانگ اڑاتے ہو ؟”
وہ طیش میں آ کے بولا:
“شیخ کے شاگروں کو پتا چل جائے تو چوک میں جوتے ماریں تُجھے …. معلوم ہے تمہیں کیا رتبہ ہے شیخ کا اور کیا قدر ہے اس کیسٹ کی ؟؟ جاھلِ مُطلِق … !!”
میں نے کہا: ” حضرت جو کیسٹ ایک غریب کا پیٹ نہ بھر سکے ، جس کے عوض دو پکوڑے نہ آ سکیں ، کیا قدر ہو گی اس کی؟ “
اس کا موُڈ خراب ہوا اور وہ تندی سے بولا:
” کس مسلک سے ہو ؟ دیوبندی ، بریلوی ، یا شِیعہ ؟؟ “
میں نے کہا ” بھوُکا ہوں اور مسلک میرا پکوڑا ہے- اور آپ کا ؟”
وہ ہاتھ نچا کے بولا: ” میں بدعتیوں کے مونہہ نئیں لگتا- اور تُم تو شکل سے ہی جاسوس لگتے ہو-“
میں نے کہا:
” سچ کہا- میں جاسوس ہوں- دِلّی سے آیا ہوں کوٹاں والا پہ بم گرانے … برزنیف نے بھیجا ہے مُجھے جو ببرک کارمل کے ساتھ مِل کر تمہارے پِنڈ پہ قبضہ کرنا چاھتا ہے”
اس پر وہ تلملا اٹھا اور پکوڑوں والی چھاننی تیل سے نکالتے ہوئے بولا ” دفع ہوتے ہو یا کھولوں سر … لعین کہیں کا”
میں بچنے کو پیچھا ہٹا اور تھوڑا پرے جا کر کہا:
” سُنو- یہ دھن ، دولت ، مال ، دنیا، سموسہ ، پکوڑا ، چٹنی ، پودینہ سب دھوکہ ہے- فانی دنیا پہ کیا اترانا؟ اصل چیز تو ھدایت ہے- اس کی فکر کرو”
وہ بولا: “یہ تُم کہ رہے ہو ؟ جس کا اپنا کوئ دین ایمان نہیں”
میں نے کہا: “میں نہیں کہ رہا- مولوی بشیر صاحب نے فرمایا ہے اس کیسٹ میں- میرے پاس دھن نہیں تو پکوڑوں کو ترستا ہوں- تمارے پاس ھدایت ہے مگر بھوکے کو کھلانے سے عاجز ہو- ھم دونوں کنگلے ہیں بھائ- کنگلا کنگلے سے کیا لڑے گا ؟”
وہ ہاتھ میں چھاننی پکڑے ششدر مجھے دیکھنے لگا- اتنے میں بس آ گئ- کنڈکٹر “موٹی ککّر ، موٹی کِکّر” کی صدا لگانے لگا- میں بھاگ کر بس میں سوار ہو گیا اور کتابوں کیسٹوں کی گھٹڑی وہیں پڑی رہ گئ-
مُلاّں پوُر کا سائیں 22– ظفرجی
بس پر چڑھتے ہی کنڈیکٹر نے مجھے پچھلی سیٹ کی طرف کھسکا دیا- چار پانچ مسافر وہاں پہلے ہی براجمان تھے- انہوں نے مجھے کونے کی طرف دھکیلا اور یُوں میں کنارے لگتا لگتا شیشے والی سیٹ تک پہنچ گیا- نشست ملی تو میں سر ٹکائے ، آنکھیں موندے اب تک پیش آنے والے واقعات کا ادراک کرنے لگا-
دنیا ایک لگے بندھے نظام پہ چل رہی تھی اور اس نظام میں میری حیثیّت محض ایک بے کار پرزے کی سی تھی- کارآمد بننے کےلئے مجھے کسی اصلاح کار کی تلاش تھی- اب تک جو اصلاح کار میّسر آئے تھے وہ یا تو میری مجبوریاں سمجھنے سے قاصر تھے یا ان مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے کام کا پرزہ بنانا چاھتے تھے-
میں خیالات کے جزیرے پر خالی شکم اٹھائے پھرتا تھا کہ پکوڑوں کی دلفریب خوشبو ایک بار پھر نتھنوں سے ٹکرائ- شاید بس میں کوئ پکوڑے بیچنے والا آیا تھا یا کوئ مُسافر پیٹ کاجہنم بھر رہا تھا-
میں نے خواہشات کے گھوڑے کو لگام دینے کےلئے مونہہ پہ رومال رکھ لیا- اچانک ہی کسی نے کہنی مار کے مجھے متوّجہ کیا- آنکھ کھولی تو ایک ملنگ مجھے اخبار میں لپٹے ہوئے پکوڑے پیش کر رہا تھا-
اس کی سیاہ و سفید زلفیں کسی مخمور سانپ کی طرح بل کھاتی تھیں- اس کے گلے میں رنگ برنگی مالائیں تھیں اور ہاتھ میں قسم قسم کے کڑّے اور مُندریاں- نجانے وہ کہاں سے بس میں سوار ہوا اور میرے ساتھ آ کے بیٹھ گیا- اس کے پاس پکوڑے تھے اور وہ میری تواضع کا طالب تھا-
میں نے مروّتاً انکار کیا تو اس کے چہرے پہ جلال کے آثار نمایاں ہوئے- کہنے لگا:
” مولا پنجتن پاک کا صدقہ ہے- ٹھکرا نئیں …. کھا لے .. !!!”
اس دوران کنڈکٹر سر پہ آن کھڑا ہوا اور کرایہ مانگنے لگا- میں نے اسے سات روپے پکڑانا چاھے تو ملنگ غضب ناک ہوگیا- پھر کنڈکٹر کو ڈانٹ کے کہا:
” سخی جیون شاہ کے غلاموں سے کرایہ مانگتا ہے؟ شرم کر- پرسوں ہی بنگلہ گوگیرہ پہ بس اُلٹی ہے ، مِنکا ٹوٹا ہے کنڈکٹر کا- پتا ہے کیوں ؟ اس بدبخت نے ایک حُسینی قلندر سے کرایہ مانگا تھا- محض چار پیسوں کی وجہ سے اپنا ایمان خراب نہ کر- جان بھی جائے گی اور ایمان بھی”
کنڈکٹر نے بحث کی تو وہ بولا:
” پًتّر یہ دھن مال ، روپیہ ، پیسہ سب ادھر ہی رہ جانا ہے- اصل چیز ایمان ہے- اور جس کا ولیوں پر ایمان نئیں ناں ، اس کا فیر مِنکا ہی ٹوٹتا ہے- چل اب واپس کر پیسے- یہ شخص فقیروں کی پناہ میں ہے …. !!! “
بالاخر کنڈکٹر سہم گیا اور چپ چاپ سات روپے مجھے لوٹا دئے- پکوڑوں سے انکار کی اب کوئ صورت نہ تھی- میں بسم اللہ پڑھ کے سخیوں کا دستر خوان اجاڑنے لگا- ملنگ میری پیٹھ ٹھونک کر بولا :
” غم نہ لگا- سب ٹھیک ہو جائے گا …. سخی جیون شاہ کو سب خبر ہے … ھم آتے نہیں … بھیجے جاتے ہیں … ماموں کانجن میں تھے تو اشارہ ہوا کہ … وابیوں کے اڈّے پہ ہمارا ایک غلام پریشان کھڑا ہے …. وہ بھوکا ہے … دیکھ کیسے پہنچے ہیں ہم ؟؟”
مجھ پہ اس فقیر کی دھاک بیٹھ چکی تھی- میں اس نگاہ کرم پہ فخر کرنے لگا جو سخی لجپال نے مجھ پر فرمائ تھی-
میں نے کہا ” بے شک رب تعالی ہی محتاجوں غریبوں مسکینوں کا والی ہے … وَلی قلندر فقیر سب اسی کی ڈیوٹی کرتے ہیں … تا کہ مجبوروں بے کسوں کی مدد کریں … میں واقعی بوہت بھوکا تھا … بہت مزے کے ہیں پکوڑے … میرا نام صلاح الدین ہے … میں شاہ عنایت لجپال کا غُلام ہوں … ان کی تربت گِدڑ پنڈی کی طرف ہے … !!!”
اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
” شاہ عنایت ؟؟ مِل چکے ہیں ہم شاہ عنایت سے … خواجہ خضر کے ساتھ آیا تھا … ہمارے پاس … کہتا تھا سخی جیون شاہ کی سفارش کرا دو …. اڑھائ سو سال سے ولی کے مقام پہ کھڑا ہے وِچارہ …. ولی سے آگے قُطب ہے …. قطب سے آگے خواجہ …. خواجہ سے آگے غوث … غوث سے آگے قلندر- اڑھائ ہزار سال لگتے ہیں قلندر بنتے ہوئے …. کوئ کوئ بنتا ہے … اسی لئے تو اڑھائ قلندر سارے جگ پہ حکومت کرتے ہیں …. !!”
آگلی سیٹ پہ بیٹھا ایک مسافر بڑی دلچسپی سے ملنگ کی گفتگو سن رہا تھا- مُڑ کر کہنے لگا:
” بابا جی …. پاکستان میں تو جنرل ضیاء حکومت کرتا ہے- کیا وہ بھی قلندر ہے ؟”
ملنگ اس کی گدّی پہ دھول جما کے بولا ” وہ وہابڑا کہاں سے قلندر ہو گیا ؟ میں روحانی دنیا کی بات کرتا ہوں اور تو پاکستانی دنیا میں دھکّے کھاتا ہے”
کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کا اثر تھا یا اس فقیر کی مخمور باتوں کا نشہ ، مجھ پہ سرور طاری ہوا- میں نے جماہی لی تو وہ سیاہ پوش بولا:
” آسمان پہ بادل چھا چکے ہیں- جھڑی لگنے کو ہے- تجھے نیند آ رہی ہے ؟ چل اُٹھ- سیر کو چلتے ہیں”
یکایک بس کی چھت ہوا میں اڑ گئ- باہر سے تیز ہوا ، کسی آندھی کی طرح اندر آنے لگی- مسافر خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے- اس بزرگ نے میرا ہاتھ زور سے پکڑا اور مُجھے ساتھ لئے یکلخت ہوا میں اڑ گیا- مجھ پر حیرت و وہشت کا غلبہ طاری ہوا- ہم آسمان کی وسعتوں میں پہنچے تو آہستہ آہستہ میرا خوف دور ہوا اور مستی و سرشاری غالب ہوتی چلی گئ-
ھم نیلے آسماں پہ کسی پنچھی کی طرح پرواز کر رہے تھے- میں اس فقیر کے کندھوں پہ سوار تھا- سفید روئ جیسے بادل میرے پاؤں چھو رہے تھے- سورج ، چاند ، ستارے کھلونوں کی طرح میرے چہار سو بکھرے تھے-
نجانے کتنی دیر ہم محوِ پرواز رہے- بالاخر وہ بزرگ ایک خوب صورت مرغزار میں جا اترے- یہاں دِیر ، چیڑ ، بیار اور چنار کے اونچے پیڑ تھے اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ – قریب ہی ایک صاف ستھری نیلگوں جھیل تھی جس کے کنارے پہ ایک سجی سجائ کشتی کھڑی تھی-
اس ملنگ نے جھیل کے دوسری طرف ایک خوبصورت سفید محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“وہ رہا تیرا گھر …. وہاں عالیہ تیری منتظر ہے …. تیرے دکھ ختم ہوئے اور ہماری ڈیوٹی بھی …. جا … جاکے کشتی میں بیٹھ … چپّو پکڑ اور چلاتا جا … تو پُہنچ اپنی دلربا کے پاس ھم چلتے ہیں اپنے بابا کے پاس … پنج پنج نعرہ پنجتنی دم دم نعرہ حیدری- یا علی … !!!”
اس کے بعد وہ ملنگ نیلے آسمان کی طرف پرواز کر گیا- میرے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی- اک عجب سحر انگیز ویرانہ تھا- بارش کی ہلکی ہلکی پھوار اور مست ہوا میں جھومتے سرسبز درختوں کی بہار- جنگل میں ناچتے مور اور جھیل کے کناروں پہ اچھلتے پانی کا شور-
میں کشتی کے پاس آیا- اس پر ایک مخملی گاؤ تکیہ دھرّا تھا- میں نے سوار ہو کر چپّو سنبھالے اور کشتی کو جھیل میں اتار لیا- ایک ماہر پیراک ہونے کے سبب مجھے گہرے پانیوں سے کوئ خوف نہ تھا-
کشتی عین منجدھار میں تھی کہ موسم اچانک خراب ہونے لگا- بادلوں کی گڑگڑاھٹ اور تیز ہواؤں کا شور برپا ہوا- جھیل کے پانی میں طلاطم بپا ہوا اور کشتی بری طرح لڑکھڑانے لگی- میں نے سخی لجپال کا نعرہ لگایا اور پوری قوّت سے کشتی کو سنبھالنے کی کوشش کی- بالاخر وہ میرے قابو سے باھر ہوتی گئ اور اچانک ہی الٹ گئ-
اب میں جھیل کے ٹھنڈے پانی میں تیر رہا تھا- چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا- ایک ماہر تیراک ہونے کے باوجود میرے ہاتھ پاؤں شل ہونے لگے- جسم کی طاقت جواب دینے لگی- پھر ہلکی بارش شروع ہو گئ اور میں جھیل کی سطح پر چت لیٹ گیا- اچانک وہی ملنگ آسمان پہ ظاہر ہوئے اور آواز دی :
“جاگ بھئ جاگ … اُٹھ … ہوش میں آ … کب تک بے ہوش رہیگا “
آنکھ کھُلی تو نہ جنگل تھا ، نہ سبزہ ، نہ جھیل تھی ، نہ کشتی- میں بان کی چارپائ پہ چت لیٹا ہوا تھا- چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا- ایک ہیولہ مجھ پہ جھُکا ہوا تھا اور میرے چہرے پہ پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے پکار رہا تھا ….
“جاگ بھئ جاگ … اُٹھ … ہوش میں آ … کب تک بے ہوش رہیگا”
میں نے کہا ” ملنگ بابا … مجھے کنارے لگا دو … !!! “
وہ ہیولہ تیزی سے پیچھے ہٹّا- پھر اس کی آواز گونجی”غلام رسول اُستاد جلدی آ … بندے کو ہوش آ گیا ہے”
ایک شخص لالٹین لیکر بھاگتا ہوا ادھر آیا- مٹّی کے تیل کی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائ اور آنکھیں روشنی سے چندھیانے لگیں-
وہ شخص بڑبڑایا ” شکر ہے یار- ہوش آ گئ اسے- میں تو ڈر رہا تھا کہ پولیس کیس ہی نہ بن جائے- جب سے سالا مارشل لاء آیا ہے ، پولیس والے وی بگھیاڑ بن گئے ہیں- سلیمان تو سامنے ہوٹل سے دودھ کا گلاس لیکر آ پُتّر …. چل چھیتی کر … دوکان وی بند کرنی ہے …. !!”
میں نے کہا “کون ہو تُم لوگ ؟ اور ملنگ بابا کدھر ہیں؟”
ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا- پھر ان میں سے ایک جس کا نام غلام رسول تھا کہنے لگا:
“کون سا ملنگ بابا ؟ ہم نے تو کوئ ملنگ نئیں دیکھا”
دوسرا شخص بولا:
“ضرور اسے کسی ملنگ نے نشّے والی چیز کھلائ ہے- کیا کھایا تھا تونے ؟ کچھ یاد ہے ؟؟”
میں نے کہا “پکوڑے …. !!! “
کچھ ہی دیر میں سلیمان دودھ کا گلاس لئے آگیا- میں چارپائ پہ بیٹھ کے گرم گرم دودھ پینے لگا- ہم ایک چھپّر کے نیچے تھے- سرکنڈے والی چھت سے ٹپ ٹپ گرتا پانی کچھ دیر پہلے برسنے والی شدید بارش کی گواہی دے رہا تھا-
غلام رسول بولا:
“کدھر کا رہنے والا ہے تو ؟ کچھ یاد ہے ؟”
میں نے کہا ” موٹی کِکّر”
وہ بولا ” شکر کر- کنڈکٹر نیک نیّت تھا- موٹی ککّر پہ ہی اتارا تجھے- ورنہ تیری آنکھ تو فیصلا باد جا کے کھلنی تھی- پِنڈ کون سا ہے تیرا ؟؟”
میں نے کہا “دھوبیاں والا … !!”
اس نے سلیمان سے پوچھا یہ دھوبیاں والا کدھر ہے ؟
سلیمان بولا : “اودھر نہر والی سائیڈ پہ ہے- چار پنچ میل کا فاصلہ ہے- ریہڑی پہ چھوڑ آئیں گے اسے …. “
غلام رسول میرے پاس گیا اور بولا:
“اچھا یہ بتا … حلیہ یاد ہے کچھ اس ملنگ کا”
میں نے کہا ” حلیہ پوچھ کے کیا کرو گے- ہاں اتنا یاد ہے کہ بڑا ہی نیک دل انسان تھا … میرے خالی پیٹ کی فکر تو تھی اسے “
وہ بولا: ” اللہ معاف کرے- فقیروں کے روپ میں کیسے کیسے شیطان پھرتے ہیں- اپنی جیبیں دیکھ لے پُتّر- نقصان تو نئیں ہوا ؟”
میں نے جیب ٹٹولتے ہوئے کہا:
” کوئ نقصان نئیں ہوا … سات روپے تھے … کنڈکٹر کی بجائے ملنگ لے گیا …. سیر بھی تو کر آیا ہوں … آسمانوں کی … کاغان ناران پتہ نئیں کیا کیا دکھایا اس نے … “
وہ بولا ” آہو آہو … ست روپے میں تو بندہ کمالیہ نئیں جا سکتا … تو ست آسمان پھِر آیا ہے … چل اُٹھ ریڑھی آ رہی ہے … تجھے دھوبیاں چھڈ کے آتے ہیں”
میں نے اٹھتے ہوئے کہا:
” آپ لوگوں کی مہربانی- اب میں ٹھیک ہوں … تم لوگ مزید تکلیف نہ کرو … میں خود ہی چلا جاؤں گا اپنے پِنڈ … رستہ یاد ہے مجھے”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: