Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Last Episode 31

0
ملاں پور کا سائیں از ظفر اقبال – آخری قسط نمبر 31

–**–**–

امّاں جی کی سسکیوں کی آواز نے ماحول کو اور بوجھل کر دیا-
ہم دروازے کی مُہاٹھ چھوڑ کر آگے بڑھے اور کہا:
“امّاں … تم جاؤ … چولھانے میں جا کے سونف ، اجوائن کا کاڑھا بناؤ … ہم عالیہ کو دم کرتے ہیں … فکر نہ کرو … ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا …..!!”
اماّں جی سامنے سے ہٹیں تو ہم عالیہ کے قریب ہوئے- اس کے چہرے سے رضائ ہٹائ- بس وجود باقی تھا اور سانسیں- باقی کچھ نہ بچا تھا- رنگ ، روپ ، حسن ، جوانی سب اُجڑ چکا تھا- آخر حوّا کی بیٹی تھی- نہ سائیں بن سکتی تھی ، نہ رب سائیں کو چٹھیاں لکھ سکتی تھی- نہ اسے نیا عشق رچانا آتا تھا ، نہ ملنگ بن کے دربار پہ ناچ گانا-
غم اسے اندر ہی اندر کھاتا رہا اور وہ موم کی طرح پگھلتی ہی چلی گئ-
ھم نے اسے جھنجھوڑ کر کہا:
“عالیہ … آنکھیں کھولو … ہم آئے ہیں … پِیر صلاح الدین .. تمہیں دم کرنے …!!”
ایک ہلکی سی بڑبڑاھٹ کے سوا کوئ جواب نہ آیا- زندگی کا احساس دلانے کو یہ بڑبڑاھٹ ہی کافی تھی- روح کا پنچھی ابھی تک جسم کے پنجرے میں قید تھا اس سے بڑی خوش خبری بھلا کیا ہو سکتی تھی ؟
ہم نے اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا- اس کے جسم کی حدّت کے آگے ہمارے ہاتھوں کی ٹھنڈک ماند پڑ گئ- ہم تڑپ کر پیچھے ہٹے- پھر مُڑ کر شازے کو آواز دی-
وہ باہر صحن میں تھا- آواز سن کر بھاگا آیا “جی پِیر سائیں ؟”
ہم نے کہا:
” شازے … اس کو تو تاپ ہے !!”
وہ ہونقوں کی طرح ہمارا چہرہ دیکھنے لگا اور بولا:
“فیرررر ؟”
ہم نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
” تیرے پاس اصیل کُکّڑ ہے ناں؟”
اس کا مونہہ بن گیا اور وہ بولا:
” بخش دو سائیں ؟ اب راوی پار بھی میرا ہی کُکّڑ چلے گا ؟؟ صبح ادھر سے ہی پکڑ لیں گے کوئ کُکّڑ …!!”
ہم نے کہا:
“ارے او پگلے … تو کیا جانے یہ کون ہے ؟ بیوی ہے یہ ہماری … سائیں صلّو کی بیوی … اسی کی وجہ سے تو آج ہم پِیر بنے بیٹھے ہیں … ورنہ کون جانتا تھا صلّو کُمہار کو؟ اسے بچانے کےلئے اپنے گلے پہ بھی چھرّی چلانا پڑی تو ہم چلا دیں گے … لیکن مرنے نہیں دیں گے اسے … یہ مر گئ تو سائیں بھی زندہ نہیں رہے گا …. مر جائے گا تیرا مُرشد .. !!!”
ہم جوش میں جانے کیا کیا بولتے چلے گئے- اچانک شازے نے ہمیں اشارہ کیا-
ہم نے کہا ” کیا ہے …؟؟؟”
وہ بولا ” پیچھے دیکھو پیر سائیں پیچھے …!!” “
ہم نے فوراً پلٹ کے دیکھا-
عالیہ بستر سے اُٹھ بیٹھی تھی-
ایک لمحے کو تو ہم چونک سے گئے اور ششدر کھڑے اسے دیکھتے رہے- پھر لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے ہوئے قریب ہوئے اور چارپائ کی ہِینہہ پہ اس کے بالکل سامنے جا بیٹھے-
کچھ دیر خاموشی سے اس کی اجڑی صورت دیکھنے کے بعد ہم نے کہا:
” … دیکھ عالی … ہم … ہم آئے ہیں … دیکھ … پپ … پِیر بن گئے ہم … پیر سائیں … ہم نے کہا تھا ناں … تیری محبّت میں پاگل ہو کے سائیں بن جائیں گے … دیکھ بن گئے ہم … اب لینے آئے ہیں تجھے ….!! “
وہ کچھ دیر دیوانوں کی طرح ہمیں دیکھتی رہی پھر اپنے کمزور ہاتھوں سے زور کی چنڈ ہمارے مونہہ پہ ماری اور روتے ہوئے نقاہت سے بولی:
“اب آیا ہے ؟ اب کیا بچا ہے مجھ میں؟؟ … دفنانے آیا ہے ؟؟ “
ہم نے گال ملتے ہوئے کہا:
“نہیں عالی … ہم زندگی لوٹانے آئے ہیں … مانگیں گے تجھے رب سائیں سے … پہلے بھی مانگا تھا … لیکن اب … لائن سیٹ ہے اس کے ساتھ … نئیں مرے گی توُ … زندگی تو اب شروع ہو گی پگلی … وہ جینا بھی کوئ جینا تھا ؟ اب ہم کیسٹیں بیچنے والے صلّو تھوڑی ہیں … دیکھ روٹھی تقدیر کو مناتے مناتے کیا سے کیا بن گئے؟ مقدر کی سیاہی کو دھوتے دھوتے اپنا تن من سب کچھ دھو ڈالا- پاک پوتّر ہو گئے ہم … پہلے فتووں کےلئے مولبیوں کے پیچھے بھاگتے تھے … اب وڈے وڈے مولوی ہمارے پاس آتے ہیں … دم کرانے ….. ہم ملنگ بنے … عاشق بنے … عامل بنے … سائیں بنے … اور اب پیر بنے بیٹھے ہیں … رب سائیں نے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا عالی … ہم نوکر ہیں اس کے … اسی نے زندہ رکھا … ہمیں بھی اور تجھے بھی … کیوں بھلا ؟ … دوبارہ ملانے کےلئے … آج رات ہم اپنے آستانے کی سب سے قیمتی چیز قربان کریں گے … اس کے نام پہ … صدقہ اتاریں گے تیرا ..!!”
شازا آگے بڑھ کے بولا:
” جج … جی سائیں میں قربان کر دونگا … اپنا کُکّڑ .. !!”
ہم نے کہا :
” غم نہ کر عالی … سب ٹھیک ہو جائے گا …. سچّے سائیں کو سب خبر ہے … ھم آئے نہیں … بھیجے گئے ہیں … تا کہ ایک بار پھر نکاح کریں … تجھ سے … اک بار پھر تجھے دلھن بنائیں … چلے گی ناں ہمارے ساتھ … راوی پار ؟ … دیکھ ھم کیا لائے ہیں تیرے لئے؟”
اس کے بعد ہم نے جیب سے ریشمی پوٹلی نکال کر کھولی اور چاندی کی چھاپ نکال کے اسے دکھانے لگے- وہ کچھ دیر بغیر آنکھیں جھپکائے اسے دیکھتی رہی بالاخر مسکرائ اور اپنا کمزور سا ہاتھ آگے بڑھا دیا-
سُفنے دے وِچ ماہی مِلیا
میں گھُٹ گھُٹ جپھیاں پاواں
ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں
کتھّے فیر وِچھڑ نہ جاواں
ہم اسی رات عالیہ اور امّاں جی کو ملک پور لے آئے-
عالیہ کے مکمّل علاج میں چھ سے سات ماہ لگ گئے- ہماری دعائیں اور ڈاکٹر چشتی کی دوائیں آخر کام کر ہی گئیں- بخار تو ہفتوں میں اتر گیا البتہ نقاہت دو ماہ تک قائم رہی- دودھ ، جوس ، شہد اور تازہ پھلوں کی فروانی نے اس کا رنگ روپ حسن جوانی سب کچھ لوٹا دیا- چھ ماہ بعد ایک بار پھر عوام میں چھوارے بٹّے ، آستانے کے باہر گولے پھٹّے اور ہم پیر سائیں سے دولھا سائیں بن گئے-
ہم ملّاں پور کبھی لوٹ کر نہ گئے- ویسے بھی ان دنوں پورا ملک ہی مُلاں پور بنا ہوا تھا- حکمران کوڑوں سے قوم کی مرمت کرکے انہیں اچھا مسلمان بنانے میں مصروف تھے اور ہم زخموں پہ مرہم رکھنے میں مگن – ھم نہیں جانتے ان کا خدا کیسا تھا اور کہاں رہتا تھا ، ہمارے خدا کا مزاج تو ہم جیسا تھا اور وہ دکھی دلوں میں رہتا تھا- ہم خلقت کے دٌکھ دور کرنے ، اسےخوش کرنے ، اور ہنسانے کو ہی خدا کی عبادت سمجھتے تھے-
کبھی ہم اس کو چٹھیاں لکھتے تھے اب ھم اس کے چیک کا انتظار کرتے ہیں- بلینک چیک … جو برکت کی صورت ملتا ہے- برکت جو ہماری دعاؤں کو مقبول کر دیتی ہے- اور دعائیں جو لوگوں سے کہلوا دیتی ہیں کہ بڑا پہنچا ہوا پّیر ہے … بڑا ہی کرنی والا بزرگ ہے … !!
اسے ناراض کرنے والے تو بہت ہیں- شرک کرنے والے ، بے گناہوں کا خون بہانے والے ، ماں باپ کا دل دکھانے والے ، بھائیوں رشتہ داروں کا حق مارنے والے ، دوسروں کی عزتیں لوٹنے والے ، ملاوٹ کرنے والے ، مہنگا بیچنے والے ، مسکین کو دھتکارنے والے ، تکبّر کرنے والے، بغض رکھنے والے ، حسد کرنے والے ، نفس کی غلامی کرنے والے-
ہے کوئ جو اسے ہنسائے ؟ اسے خوش کر کے کچھ نہ کچھ وصول کر لے؟ وصولی جو ہماری فقیری کا اصل راز ہے-
ہم مُلاں پور کے سائیں ہیں اور مرید ہمارے راوی کے دونوں اطراف بستے ہیں-

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: