Muneer aur Midhat Novel by Syeda Javeria Shabir – Episode 2

0
منیر اور مدحت از سیدہ جویریہ شبیر – قسط نمبر 2

–**–**–

“مائرہ بھابھی ہماری طرف تو ساری تیاری مکمل ہے رہی بات جہیز کی تو اتنا ہی میں کیش بچوں کے ہاتھ پہ رکھ دوں گی اللہ اللہ خیر صلا ۔۔۔۔”
سمیرا نے گویا اپنی طرف سے پوری پوری تسلی تھمائی تھی ۔۔۔۔
“سمیرا تم خوامخواہ پریشان ہورہی ہو اتنا سب کچھ تم تاریخ میں دے چکی ہو اب یہ کیش کی بات کچھ درست نہیں ہے ۔۔۔”
مائرہ بیگم نے اعلی طرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خفگی سے کہا ۔۔۔۔۔
“کوئی غیر تھوڑی ہے منیر اپنا بچہ ہے گھر کی چیزیں تو مکینوں کیلئے ہی ہوتی ہیں نہ ۔۔۔۔”
اباجی پچیسویں روزے کو ہی نکاح کی تقریب منعقد کرلیتے ہیں ؟؟؟
قریب ہی بیٹھے مدثر احمد نے بھی اہم مدعا اٹھایا ۔۔۔
” بھئی تم لوگ دیکھ لو اگر دو دن میں سارے انتظامات مکمل کرسکو تو رکھ لو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔”
داجی نے اپنے تینوں بیٹوں اور داماد کو دیکھ کر کیا ؛
“تو پھر پچیس واں روزہ صحیح ہے اتفاق سے جمعہ کا دن بھی ہے ۔۔۔”
“چلو یہ تو اور اچھی بات ہے بسم اللہ کرو پھر ۔۔۔۔”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“بھائی آپ کو پتا ہے دو دن بعد آپ کی آزادی قید میں بدل جائے گی تاحیات قید ۔۔۔۔”
ریحان کا انداز اتنا پراسرار تھا کہ منیر چونکے بنا نہ رہ سکا ۔۔۔۔
کیا ضروری نہیں کہ تم انسانوں کی طرح بات کرلو۔۔۔؟
“نہیں ایسا ضروری تو نہیں ہے لیکن میں آپ کیلئے پھر بھی کرلیتا ہوں ۔۔۔”
ریحان نے ہنسی دبائی تو منیر نے مکہ اس کی کمر پہ مارا ۔۔۔
“اففففف اففف بھائی ہاتھ ہے کہ ہتھوڑا کمر کی ہڈی ہی ٹوٹ گئی ۔۔۔۔”
“بکو مت وہ بتاو جو بتانے آئے ہو ۔۔۔”
منیر نے اثر لئے بنا کہا :
“اس جمعہ کو آپ کا نکاح ہے ۔۔۔”
منیر کا وجود ساکت ہوا تھا یعنی اسے بتانا تو درکنار پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا بھائی آپ اسٹیچو کیوں ہوگئے ؟؟؟
منیر کا چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ اور پیشانی پر لاتعداد بلوں میں اضافہ ہوا ۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے اٹھا اور ریحان کی بات کا جواب دیئے بغیر لان عبور کرکے وہ گیسٹ روم کی جانب آیا جہاں مدحت اور نجمہ قیام پزیر تھیں جبکہ سمیرا اور شاہد الگ روم میں ٹہرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
دستک دے کر اندر داخل ہوا تو واحد مدحت کو روم میں پایا جو خواتین ڈائجسٹ کا مطالعہ کرنے میں اتنی غرق تھی کہ اسے داستک کی آواز بھی سنائی نہ دی ۔۔۔۔
نجمہ کی غیر موجودگی پر وہ شکر کرتا ہوا چھوکھٹ پر ہی ٹہر گیا کہ جب تک اجازت نہ ہوتی وہ اندر نہیں جاسکتا کہ یہ مینرز کہ خلاف تھا ۔۔۔۔
ایسکیوزمی مس مدحت !!!!
اس نے اپنے کا پتا دیا ۔۔۔
وہ چونک کر سیدھی ہوئی دروازے پر اسے ایستادہ دیکھ کر سائیڈ میں پڑا ڈوپتہ شانوں پر پھیلایا ۔۔۔ کھلے بالوں کو کیچر میں جکڑ کر وہ بیڈ سے اٹھی ۔۔۔
منیر چوکھٹ سے ہٹ کر نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا تھیری سیٹر صوفہ کی طرف آیا ۔۔۔
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ؟؟
وہ اجازت طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
جی کہیئے کیا کہنا چاہتے ہیں ؟؟؟
مدحت کو اس کی موجودگی ٹھٹکا گئی تھی لیکن وہ پھر بھی اس کی بات کی منتظر رہی۔۔۔۔
“دیکھیں میں بات کو گول مول گھوما کر کرنے کا قائل نہیں ہوں اس لیئے سیدھی بات کہوں گا مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے جس کا ذکر میں نے داجی کے سامنے بھی کیا تھا لیکن افسوس وہ میری بات کو مزاح کا رنگ دے گئے ۔۔۔ یقیناً آپ کی بھی کئی امیدیں ، خواب ہوں گے ۔۔ لیکن میرے ساتھ جڑ کر یہ سب ختم ہوجائیں گے ۔۔۔۔”
تو آپ کیا چاہتے ہیں وہ بتانا پسند کریں گے ؟؟؟؟
مدحت کا لہجہ سپاٹ تھا جس کا اندازہ منیر کو بھی واضح محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“آپ اس رشتے سے انکار کردیں مجھے یقین ہے داجی آپ کی بات کو رد نہیں کریں گے ۔۔۔۔”
“تو آپ کو کیا لگتا ہے منیر احمد میں نے انکار نہیں کیا ہوگا یہ آپ کی سوچ ہے کہ میں اس رشتے کے خواب سجائے بیٹھی ہوں میں تو یہاں آنا ہی نہیں چاہتی تھی لیکن !!!!
لیکن کیا ؟؟؟
منیر نے اس کے ادھورے جملہ پر سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
“لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے شادی کا یہ کڑوا گھونٹ لازمی میرے حصہ میں آئے گا ۔۔۔”
اس کے چہرے پر ناگواری اور بے زاریت جھلک رہی تھی نجانے منیر کو اس کا یہ لب و لہجہ کیوں غصہ دلاگیا جبکہ وہ خود بھی اس سے انکار ہی چاہ رہا تھا ۔۔۔
شاید اسے ذات کی نفی نے طیش دلایا تھا۔۔۔۔
“تو کس نے کہا ہے یہ کڑوا گھونٹ پیو کردو انکار اور چلی جاو واپس میں کون سا تمہاری راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھا ہوں ۔۔۔”
وہ یک دم اس کے روبرو کھڑا ہوتے ہوئے دانت پیس کر بولا مدحت ہقہ بقہ اس کے بدلتے رویہ پر دیکھتی رہ گئی۔۔۔
آر یو میڈ آپ کو ذرا تمیز نہیں ہے کہ صنف نازک سے کس طرح بات کرنی چاہیئے؟؟؟
مدحت تو تھی ہی اکھڑ مزاج اس نے منیر کو دو ٹوک کہا ؛
تم منع کررہی ہو یا نہیں !!!
منیر نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے آپ کو کمپوز کیا ۔۔۔۔
“نہیں ۔۔”
مدحت کے برجستہ کہنے پر منیر دروازے کو ٹھوکر مارتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھر کر گیسٹ روم سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔
زہنی مریض !! ایڈیٹ !!! المینرڈ!!!
وہ غصہ سے پاگل ہوتے ہوئے طرح طرح کے القابات کے ساتھ نوازتی اپنا غصہ کم کرنے لگی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پورے گھر کو برقی قمقموں سے دلہن کی طرح سجایا جارہا تھا سب کے پاس کوئی نہ کوئی کام تھا سوائے اس کے وہ تو ہاتھ پاوں جھاڑ کر ایسے بیٹھا ہوا تھا جیسے اس کی شادی نہیں بلکہ کسی غیر کی شہنائی بجائی جارہی ہو۔۔۔
آفس جاتا تو افطار کے وقت گھر آتا اور پھر کہیں غائب ہوجاتا داجی خاموشی سے اس کے بے زار رویہ کو دیکھ رہے تھے گر چھیڑنا مناسب نہ سمجھا کہ سمیرا اور شاہد کی موجودگی میں وہ کوئی بد مزگی نہیں چاہتے تھے ۔۔۔۔
آج وہ آفس جانے کی بجائے گھر میں رکا ہوا تھا کہ خود اس کی بھی طبیعیت کچھ خراب تھی ۔۔۔۔ لیکن یہاں کی ہنگامہ خیز اور ان لوگوں کے بازاروں کے چکر دیکھ کر کڑھ کر رہ گیا ۔۔۔۔
“بھائی مجھے سوٹ کی میچنگ کی سینڈل لینی ہے آج کا ہی دن باقی ہے پلیز مال لیں چلیں ۔۔۔”
منیر نے اسے سر تاپا دیکھا جو چادر اوڑھے جانے کیلئے تیاری کھڑی تھی ۔۔۔۔
“میں نہیں جارہا کسی اور سے کہو ۔۔۔”
منیر کی بے رخی سے کہنے پر رابعہ نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا :
بھائی ایسے کیوں کہہ رہے ہیں ؟؟
وہ منہ بسورتی سامنے رکھے صوفے پہ جا بیٹھی۔۔۔۔
اتنے میں مائرہ بیگم اور رخسانہ بیگم (موحد احمد
کی بیوی) شوپنگ بیگز سے لدی پھندی بڑے سے لاونج میں داخل ہوئیں ۔۔۔۔۔۔
تم لے آئیں اپنی سینڈل ؟؟؟
مائرہ نے بیٹی کا اترا ہوا منہ دیکھا تو پوچھا کل سے ہی وہ ان کے پیچھے پڑی تھی لیکن کل گھر میں کوئی مرد نہیں تھا تو وہ ٹال گئیں تھیں ۔۔۔۔۔
“میں تو کہہ رہی ہوں بھائی سے وہ لیکر ہی نہیں جارہے ۔۔۔۔”
منیر کیا بات ہے بیٹا آج تم آفس بھی نہیں گئے طبیعیت ٹھیک ہے نہ ؟؟؟
وہ ماں تھیں اولاد کی رگ رگ سے واقف ۔۔۔۔۔
آپ کو میرا خیال ہے ؟؟؟
اخر کار وہ شکوہ کرہی گیا تھا جب کہ یہ اس کی شخصیت کا خاصہ ہرگز نہیں تھا خاموش طبع اور صبر والا بچہ تھا وہ مائرہ کا۔۔۔۔۔
“لو بھلا ماں کب اپنے بچوں سے لاپرواہی برتتی ہے جو تم یوں شکوہ کررہے ہو۔۔۔۔”
مائرہ نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا :
“امی داجی کو مجھ سے پوچھنا تو چاہیئے تھا انہوں نے تو کسی قابل ہی نہیں سمجھا بس اپنا فیصلہ ٹھوس دیا مجھ پر جیسے میں کوئی کٹھ پتلی ہوں ۔۔۔۔”
مائرہ نے گھبرا کر رخسانہ کو دیکھا جو اچھنبے سے انھیں ہی دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو منیر تم حواس میں تو ہو ؟؟؟؟
” بھابھی میرا خیال ہے یہ جگہ مناسب نہیں ہے آپ کمرے میں جاکر بات کریں ۔۔۔۔۔”
رخسانہ نے انھیں بات کی نوعیت کا احساس دلاتے ہوئے اگاہ کیا ۔۔۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو منیر چلو تم روم میں ۔۔۔”
وہ منیر کو کہہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں ۔۔۔۔
“رابعہ بھائی کی بے توجیہی کا ذکر دوسرے فرد سے نہ کرنا ۔۔۔”
جی چچی نہیں کروں گی ۔۔۔ آپ میرا یہ مسئلہ تو حل کروائیں؟؟؟
“ہاں آو میں معیز سے کہتی ہوں وہ لے جائے گا ساتھ منیر کو رہنے دو۔۔۔”
رخسانہ نے اپنے بڑے بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے حل نکالا ۔۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر ان کے پیچھے ہولی۔۔۔۔
تینوں جٹھانیوں میں اس قدر صلح تھی کہ سمیرا بھی کبھی کبھی حیران رہ جاتی ۔۔۔
شائد داجی کے میانہ روی جیسا برتاو تھا کہ کسی کو یہ محسوس ہی نہ ہوا کہ کوئی دوسرے سے بڑھ کر ہے ۔۔۔ اکثر ہمارا ایک سمت جھکاو ہی جھگڑے اور اختلافات کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنتا ہے ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ریحان بھائی آپ فری ہیں ؟؟؟
نجمہ نے اس کے چت لیٹے وجود کو دیکھا جو ابھی ابھی باہر سے اکر لیٹا تھا ۔۔۔۔
ریحان جھٹکے سے سیدھا ہو بیٹھا ۔۔۔
یہ بھائی کس کو کہا ہے تم نے ؟؟؟
ریحان نے پیشانی پر بل ڈال کر بھرپور سنجیدگی سے کہا :
“ظاہر ہے آپ یہاں موجود ہیں تو آپ ہی کو کہا ہے نہ ۔۔۔”
نجمہ نے استہزائیہ انداز میں گویا اس کا مذاق اڑایا۔۔۔۔
“خبر دار آئندہ میرے نام کے اگے بھائی لگایا میں تمہارا بھائی نہیں ہوں ۔۔۔”
ریحان کی ٹانگ ایک جملہ پر اٹک گئی تھی ۔۔
ہیں !!!
تو پھر کیا ہیں ؟؟؟
نجمہ کے ہونق پن پر ریحان کی رگ ظرافت پھڑکی۔۔۔۔
سئیاں !!!
ریحان کی آنکھوں میں شرارت ناچنے لگی جبکہ نجمہ کی انکھیں باہر کو ابل پڑیں اس کو ریحان سے ایسے بے باک جملے کی توقعہ ہر گز نہیں تھی ۔۔
واٹ ؟؟؟
شاکڈ کی کیفیت میں مبتلا وہ اسی لحاظ سے بولی ۔۔۔
“میرا مطلب ہے ہونے والا سئیاں ان شاء اللہ ۔۔۔”
ریحان نے سنبھل کر کہا تو وہ اسے خائف نظروں سے دیکھتی یہ جا وہ جا ۔۔۔
ارے سنو یار !!!
وہ ہانک لگاتا ہی رہ گیا لیکن نجمہ کی پھرتی دیکھنے کے لائق تھی ۔۔۔
ریحان اپنی ہی بات پر مسرور سا بالوں میں ہاتھ چلاتا اس کی تقلید میں چلا آیا ۔۔۔۔
پھپھو آپ کو کچھ منگوانا ہے میں باہر جارہا ہوں ؟؟
وہ نجمہ کو ایک نظر دیکھ کر سمیرا سے گویا ہوا ۔۔۔
نجمہ سمیرا کی اوٹ میں چھپے چوری چوری اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
ہاں نجمہ کو مہندی کون منگوانی تھی بیٹا اگر تمھیں زحمت نہ ہو تو ؟؟؟
“ارے پھپھو کیسی زحمت آپ بس حکم کریں بندہ حاضر ہے ۔۔۔”
“ماشاء اللہ جیتے رہو ۔۔۔”
سمیرا بھتیجے کی فرمانبرداری پر نہال ہو اٹھیں ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“تم پاگل تو نہیں ہو منیر کل تمہارا نکاح ہے اور آج یہ انکار تمھیں اندازہ بھی ہے تمہارا یہ انکار بغاوت کے زمرے میں آئے گا ۔۔۔”
مائرہ کسی قدر غصہ سے بولیں ۔۔۔
امی میری زندگی پر میرا کوئی حق نہیں ؟؟
وہ خفگی سے بولا تو مائرہ نے بیٹے کی اتری صورت پر دل کو پگھلتا محسوس کیا ؛
“منیر میری جان ضروری نہیں کہ جیسا ہم بظاہر دیکھ رہے ہوں حقیقت بھی وہ ہی ہو بعض اوقات ہم سمجھتے کچھ ہیں اور ہوتا کچھ ہے ۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہے امی اگر ایسی بات ہوتی تو مجھ سے پہلے وہ انکار کرتی لیکن نہیں !!!! ہے نہ ضدی ۔۔۔ یہ عمر بھر کا ساتھ ہوتا ہے اس میں ضد اور جلد بازی نہیں چلتی ۔۔۔”
مائرہ نے کرنٹ کھاکر بیٹے کو دیکھا ۔۔۔
تم نے مدحت سے کوئی بات کی ہے ؟؟؟
“ہاں کی ہے لیکن وہ نہیں مانی اس کا کہنا ہے کہ وہ بھی ناخوش ہے اس رشتے کیلئے ۔۔۔”
تمہارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے کیا ضرورت تھی مدحت سے یہ سب کہنے کی ؟؟؟
مائرہ کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا ہوا تھا بیٹے کو طرم خان بنے دیکھ کر۔۔۔
“اس لئے کہ اسے پتا ہونا چاہیئے جس کے ساتھ وہ نکاح میں بندھنے جارہی ہے اس کے نزدیک اس کی اور اس رشتہ کی ذرا بھی اہمیت و وقعت نہیں ہے ۔۔۔”
مدحت جو رابعہ کو چائے دینے آرہی تھی دونوں کی گفت و تشنید سن کر ساکت رہ گئی ۔۔۔اور الٹے قدموں لوٹ گئی۔۔۔
“بکواس بند رکھو منیر اس معاملے میں تمہاری قطعی نہیں سنی جائے اور تم مدحت سے معذرت کرو گے اس تلخ رویہ کی ۔۔۔”
مائرہ کا لہجہ پتھریلہ تھا وہ انھیں دیکھ کر رہ گیا جو اس سمے مدحت کی ماں بنی ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔”
منیر نے صفا چٹ انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ مائرہ اپنا سر تھام کر رہ گئیں ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: