Muneer aur Midhat Novel by Syeda Javeria Shabir – Episode 3

0
منیر اور مدحت از سیدہ جویریہ شبیر – قسط نمبر 3

–**–**–

نکاح کا دن بھی آپہنچا ۔۔۔۔۔
لان میں ہی مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا لڑکوں نے اسٹیج کو لال گلاب اور موتیئے کے پھول سے سجایا ہوا تھا ۔۔۔۔
مہمانوں کی آمد شروع ہوئی تو پہلے منیر کو ڈوپٹہ کی چھاو تلے اسٹیج پر لایا گیا پھر سجی سنوری مدحت کو اسٹیج تک پہنچایا گیا ۔۔۔۔
منیر کا چہرہ سپاٹ تھا کسی قسم کی نرمی کے تاثر سے پاک وہ تو مارے بندھے مجبوراً یہاں کھڑا تھا
ورنہ دل تو چاہ رہا تھا سب کچھ بھاڑ میں بھیج کر خود راہ فرار اختیار کرلے ۔۔۔
پہلو میں کھڑی مدحت دلفریب خوشبووں میں مہکتی وہ اسے زہر سے کم نہ لگی دوسری طرف بھی حال کچھ ایسا ہی تھا دو فٹ کے فاصلے پر کھڑی ناک تک آتا گھونگھٹ میں کڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
مولوی صاحب کے آتے ہی نکاح پڑھایا گیا۔۔۔
” مولوی صاحب اس کے بعد آپ میرا نکاح پڑھانے آئیں ۔۔۔۔ سب بولو آمین !!!!
ریحان کی بات پر زبردست قہقہ گونجا ۔۔۔
“دھیرج رکھیئے ریحان میاں ابھی تو رابعہ، عروج اور معیز باقی ہیں ابھی تو تمہارے کھیلنے کے دن ہیں موج بناو ۔۔۔”
داجی کی بات پر سبھی نے ہاں میں گردن ہلائی جبکہ ریحان کا منہ لٹک گیا ؛
“رابعہ اب یہ گھونگھٹ ہٹا دو ۔۔۔”
مائرہ بیگم نے پاس کھڑی رابعہ سے کہا جس نے دھیرے سے اس کا جالی دار سرخ رنگ کا دوپٹہ ہٹا دیا ۔۔۔
“واو بیوٹیفل برائیڈ ۔۔۔”
عروج کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔۔
چاند سا چمکتا چہرہ نفاست سے کیا گیا میک اپ تیکھے نقوش کو اور واضح کررہا تھا ۔۔۔۔
بلڈ ریڈ رنگ کا شرارہ زیب تک کئے وہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
“ماشاء اللہ کہتے ہیں بیٹا ۔۔۔”
مائرہ بیگم نے دھیرے سے کہہ کر اس کی بندیا سے سجی پیشانی چومی ۔۔۔۔۔
“اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے آمین”
وہ دعا دیتی دور ہٹیں۔۔۔
منیر تو ایسے کھڑا تھا جیسے وہاں موجود ہی نہ ہو اسے اس سب سے کوئی سروکار نہیں تھا۔۔۔۔
“بھائی آپ بھی دیکھ سکتے ہیں اب تو پکا سرٹیفکٹ ہے آپ کے پاس ۔۔۔”
ریحان کی رگ ظرافت ایک بار پھر پھڑکی ۔۔۔۔۔
منیر نے اسے گھورنے پر ہی اکتفا کیا کہ اکیلے میں اس کی درگت بنانے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔۔
مدحت نے ذرہ کی ذرہ لانبنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا :
وائٹ شیروانی پر گولڈن کلہ پہنے وہ کسی ریاست کا مغرور شہزادہ لگا ۔۔۔
کمال مغروریت اور بے زاریت کے باوجود وہ مدحت کے دل کی ایک بٹ مس کرگیا ۔۔۔۔
“یہ میں کیا سوچنے لگی اچھے کپڑے پہن کر تو لنگور بھی اچھا لگتا ہے مت بھولو مدحت یہ وہی ہے جس نے تمہاری بے وقعتی کی تھی ۔۔۔”
وہ اپنے دل کو ڈپٹتی ہوئی بیدار ہونے والے احساسات کو جھٹک گئی ۔۔۔۔
کھانے کے بعد تمام مہمان رخصت ہوئے تو اسے منیر احمد کے وسیع و عریض روم میں بٹھادیا گیا :
مکین کے ذوق کے حساب سے کمرہ سجا ہوا تھا ہر چیز نفاست سے سجی اپنی جگہ پر رکھی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ پہلی دفعہ اس کی آرام گاہ میں آئی تھی اور دیکھ کر متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔۔
“اففف یہ کیا میں روایتی دلہن کی طرح اس لنگور کا انتظار کررہی ہوں ۔۔۔”
یک دم ہی اس کو اپنی جگہ کا احساس ہوا تو اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
“تو منیر مدثر احمد میں اتنا آسان حدف نہیں ہوں کہ تمہاری تلخ کلامی سننے کے بعد تمہاری سیج سجاوں ۔۔ تمھیں اس کا پورا پورا حساب دینا ہوگا۔۔۔”
وہ شرارہ سنبھالتی کارنر پر بنے دروازے میں داخل ہوئی ۔۔ اندازے کے مطابق وہ ڈریسنگ روم ہی تھا ۔۔۔۔
بھاری بھرکم لباس تبدیل کرکے وہ آرام دہ سوٹ میں ملبوس اے سی آن کرتی ہوئی بیڈ کی دائیں جانب پاوں پسار کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔
آج صبح سے وہ اتنی مصروف تھی کہ فیسبک کھول کر بھی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔ اب موقع ملا تو موبائل لے کر نیوز فیڈ اسکرول کرنے لگی۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“عجیب دولھا ہے یار تو اس وقت تجھے بھابھی کے پاس ہونا چاپیئے اور تو ہے کہ یہاں بیٹھ کر کش پہ کش لگا رہا ہے ۔۔۔”
جمال اور وہ گاڑی کے بونٹ پر بیٹھے سیگریٹ پھونک رہے تھے ۔۔۔
ساحل سمندر کی خنک ہوا اس کے اٹھتے اشتعال پر پھوار کا کام کرنے لگی ۔۔۔۔
وہ جمال کی بات کو نظر انداز کرکے ہنوز سگریٹ سلگاتا رہا۔۔۔
تو نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے ؟؟؟،
“جمال تو جانا چاہتا ہے تو چلا جا مجھے یہاں کچھ دیر اور بیٹھنا ہے ۔۔۔”
وہ سامنے سمندر میں اٹھتی گرتی لہروں کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
جبکہ جمال نے بھی خاموشی اختیار کرلی وہ جانتا تھا کرنا تو ویسے بھی اپنے دل کی ہے ۔۔۔۔۔
پھر جب تک وہ وہاں رہا جمال بھی اس کے ساتھ ساتھ تھا۔۔۔۔۔
نجانے رات کا کون سا پہر تھا جب وہ گھر پہنچا ۔۔۔
سامنے داجی کو دیکھ کر جہاں تھا وہیں تھم گیا ۔۔۔
داجی کا اتنی رات کو جاگنا ٹھٹکا گیا ۔۔۔
داجی آپ ابھی تک سوئے نہیں ؟؟
اپنے آپ کو کمپوز کرتا ہوا استفسار کرنے لگا ۔۔۔۔
“برخوردار جب اولاد سر پہ مٹی ڈالوانے پر تلی ہوئی ہو تو کیسی نیند اور کیسا سکون ۔۔۔”
داجی کا اشارہ کس طرف تھا وہ بخوبی سمجھ گیا ۔۔۔
“سوجائیں داجی مجھے بھی نیند آرہی ہے ۔۔۔”
گڑے مردے اکھڑتے اس سے پہلے ہی وہ وہاں سے واک آوٹ کرگیا ۔۔۔
دروازے کا ناب گھمایا تو گلاب کی بھینی بھینی خوشبو اس کے اعصاب کو کشیدہ کرگئی ۔۔۔
“اففف یہ کیا بچکانہ حرکت ہے پتا بھی ہے ان گدھوں کو مجھے یہ سب چیزیں نہیں پسند ۔۔۔۔”
یہ حرکت ریحان کی بجائے اور کس کی ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔
اپنے جہازی سائیذ بیڈ پر کسی اور کو براجمان دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا ۔۔۔
وہ وقت اور دن کی نوعیت کا لحاظ کئے بنا تن فن کرتا بیڈ تک پہنچا ۔اور کمفرٹر کھیچ کر کارپیٹ پر پھینکا ۔۔۔
وہ جو پرسکون اور مٹھی نیند سوئی ہوئی تھی اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
اٹھو یہاں سے فوراً ؟؟؟؟؟
وہ چیخا تھا مدحت نے بوکھلا کر اس کے خطرناک تاثر ملائحظہ کئے ۔۔۔۔۔
“سنا نہیں تم نے اٹھو یہاں سے ۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولتا مدحت کے اوسان خطا کرگیا ۔۔۔۔
مدحت چہرے پہ آئے بال ہٹا کر بیڈ سے اتری ۔۔۔۔
“ایک بات کان کھول کر سن لو میں اپنی چیزیں کسی سے بھی شئیر نہیں کرتا لحاظہ اپنا وجود اپنے تک ہی رکھو میرے سر پر سوار ہونے کی غلطی نہیں کرنا ورنہ اس کا خامیازہ تمھیں بھگتا پڑے گا ۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا اسے تپا گیا ۔۔۔
“اپنی آواز نہچے رکھو منیر احمد چلانا مجھے بھی آتا ہے اور رہی بات اس بیڈ کی تو تم سمیت اس پر لعنت بھیجنا بھی گوارہ نہ کروں ۔۔۔”
وہ نھی دوبدو ہو کر بولی ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر ۔۔۔۔
“جبھی کچھ دیر پہلے یہاں سو رہیں تھیں ۔۔۔”
منیر کا لہجہ اہانت سے بھرپور تھا مدحت کو اس کا انداز مزاق اڑاتا ہوا لگا جس سے اس کے گال سرخ ہوگئے ۔۔۔
“بھاڑ میں جاو میری بلا سے ۔۔۔”
وہ بھی اپنا بدلہ چکا کر کمرے سے نکل گئی ۔۔۔ منیر کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا ہوا تھا اس لئے اس کے جانے پر اس نے اسے روکا تک نہیں ۔۔۔
صوفہ پہ بیٹھ کر جوتے اتارتا وہ اپنے غصہ پہ قابو پانے لگا ۔۔۔۔۔
اسے یہاں محض تین گھنٹے ہی ہوئے تھے لیکن اسکی مخصوص خوشبو اس کمرے میں رچ بس گئی تھی۔۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل سے روم اسپرے اٹھا کر پردے ہٹا ہٹا کر گویا اس کا سراغ ختم کرنا چاہ تھا جو کہ ناممکن سی بات تھی ۔۔۔
ان دنوں میں وہ اس کے ذہن پر کسی چمکاڈر کی طرح چمٹ گئی تھی یہ اسی کا نتیجہ تھا جو آج وہ اس قدر زہنی ٹینشن کا شکار ہورہا تھا ۔۔۔
اعصاب ڈھیلے ہوئے تو دماغ نے کام کیا اسے کمرے سے گئے قریب آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا آذانوں کی آواز پر اسے وقت کے گزرنے کا احساس ہوا ۔۔۔۔ تو پیروں میں چپل اڑس کر کمرے سے نکلا۔۔۔۔۔
اب نجانے کہاں چھب کر بیٹھ گئی یہ نئی مصیبت !!!
وہ جھنجھلایا ہوا تھا ۔۔۔۔
پورا گھر دیکھنے پر وہ اسے کہیں نظر نہ آئی تو بلا ارادہ ہی نجمہ کے روم کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔
کمرے سے باہر کھڑا وہ جائے کہ ناجائے کی گردان کے بیچ پھنسا ایک فیصلے پر پہنچتا ہلکی سی دستک
دینے لگا۔۔۔۔
“لو دیکھ لو آگئے آپ خوامخواہ پریشان ہورہیں تھیں ۔۔”
نجمہ جو اسکے اس طرح آنے پر سوال و جواب لینے بیٹھ گئی اب دستک پر پ پُر یقین لہجے میں بولی ۔۔۔
جاو دیکھو جاکر ۔۔!!!
نجمہ کو بھیج کر وہ کمفرٹر میں گھس گئی ۔۔۔۔
وہ نجمہ یہاں مدحت آئی ہے ؟؟؟
بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ اپنی خفت مٹانے لگا بڑا ہی اکورڈ سین تھا کوئی بڑا اسے یہاں دیکھ لیتا تو نجانے کیا تصور کرتا ۔۔۔۔۔
“جی جی آپ کی زوجہ یہیں قیام پزیر ہیں ۔۔”
“اسے بھیج دو بولو میں لینے آیا ہوں ۔۔۔”
وہ اس کا آدھا سر کمفرٹر سے نکلتا دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔
“لوگو سے بول دو نجمہ میں ان کی غلام نہیں ہوں ۔۔۔”
“بھائی اس وقت آپی غصہ میں ہیں میں تھوڑی دیر میں بھیجتی ہوں ۔۔”
خفت مٹانے کیلئے وہ جبراً مسکراتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گھر میں چہل پہل محسوس ہوئی تو موقع کا لحاظ کئے وہ دل پر پتھر رکھ کر اس کے کمرے میں چلی آئی ۔۔۔ اسے نہ پاکر وہ پرسکون ہوئی تھی لیکن ہائے رے قسمت وہ کسی دیو کی طرح ڈریسنگ روم سے نمودار ہوا ۔۔
مدحت نے اس نگاہیں آٹھا کر دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا اور ایک طرف رکھے سوٹ کیس کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔
کل رات کیا تماشہ لگایا تھا تم نے ؟؟؟
اس کا موڈ ہنوز خراب تھا ۔۔۔
وہ نظر انداز کرکے کام میں لگی رہی ۔۔۔
“محترمہ تمھیں سے بات کررہا ہوں ۔۔۔”
وہ اس کے قریب بیٹھ کر بازو جکڑتا بولا۔۔۔ گرفت میں سختی اسے کر اہنے پر مجبور کرگئی۔۔۔ لیکن منیر بے حس اس کے چہرے پر نگاہیں گاڑھے اپنے جواب کا منتظر تھا۔۔۔۔
“پہلے میں سمجھتی تھی آپ بد تمیز ہیں لیکن آپ تو انتہا کے بد اخلاق اور المینرڈ شخص ہیں ۔۔۔۔”
مدحت نے اس کی مضبوط گرفت سے ہاتھ چھڑانے کی سعی کی جو ناممکن سی تھی ۔۔۔۔
“اپنی رائے اپنے پاس رکھو جو پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دو ۔۔۔۔”
وہ جواب دیتی کہ عین اسی وقت دروازے پر ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
منیر نے کینہ توز نگاہوں سے اسے دیکھا اور دروازہ کھول دیا ۔۔۔
داجی آپ یہاں ؟؟؟
وہ جتنا حیران ہوتا کم تھا آج سے پہلے کبھی داجی یوں کسی کے کمرے میں نہیں آئے تھے ۔۔۔
سامنے سے ہٹو!!!
داجی نے کڑکے آواز میں کہا تو وہ میکانکی انداز میں سائیڈ پر ہوگیا ۔۔۔۔۔
“اسلام و علیکم نانا جان ۔۔”
سر پر ڈوپٹہ لیتی وہ ان کے اگے سر جھکا گئی ۔۔ داجی نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔
منیر احمد یہاں آو؟؟؟؟
منیر بھی ان کے قریب ہی اکھڑا ہوا ۔
کل رات تم کہاں گئے تھے ؟؟؟
داجی کی غیر متوقہ بات پر منیر نے بے ساختہ مدحت کو دیکھا:
“داجی ایک کام سے گیا تھا پھر جلد ہی آگیا تھا ۔۔۔۔۔”
وہ بہانہ گھڑتا صفائی سے جھوٹ بول گیا :
کیا یہ ہی بات ہے مدحت؟؟؟
منیر نے مدحت کو دیکھا ۔۔۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس کی بات رکھ لے گی ۔۔۔
اور پھر مدحت کے لب ہلے اور منیر کو پتھر کرگئے۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 16

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: