Muneer aur Midhat Novel by Syeda Javeria Shabir – Episode 4

0
منیر اور مدحت از سیدہ جویریہ شبیر – قسط نمبر 4

–**–**–

“نانا جان آج صبح ہی میں نے انھیں کمرے میں دیکھا ہے ۔۔۔۔”
اسے ہر گز ہر گز مدحت سے اس حرکت کی امید نہیں تھی وہ بے وقوف تھی یا چالاک ۔۔۔۔
منیر نے کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھا :
اب بتاو منیر احمد کیا جواز دو گے اپنے گھڑے جانے والے جھوٹ کا ؟؟؟؟
داجی کا لہجہ پہلے زیادہ سخت تھا ۔۔۔۔
“داجی مجھے معاف کردیں میں واقعی آج صبح ہی آیا ہوں ۔۔۔۔”
مدحت کی نگاہیں بے ساختہ اس کی جانب اٹھیں ۔۔۔ وہ تو سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنے جھوٹ پر قائم رہے گا ۔۔۔ لیکن یہ کیا وہ تو اس کے جھوٹ کو تسلیم کرگیا آخر کیوں ؟؟؟
منیر کا چہرہ سلیٹ کی مانند سپاٹ اور پتھریلہ تھا ۔۔۔۔
“منیر اب جب تم ہمارے فیصلہ پر سر جھکا ہی چکے ہو تو نبھا بھی کرو ۔۔۔ بے شک اس فیصلے میں تم دونوں کی ہی رضا مندی شامل نہیں تھی لیکن اب جو ہوگیا اس پر ماتم کرنے کی بجائے نئے سرے سے زندگی کو جیو ۔۔۔۔”
سمجھ رہے ہو نہ تم دونوں ؟؟؟
جی داجی !!!
منیر نے جھکے سر کے ساتھ کہا ۔۔۔
“اور مدحت اپنے مزاجی خدا کی باتوں کا پرچار تیسرے فریقین سے کرنا بے وقوفی کے زمرے میں آتا ہے مجھے امید ہے تم سمجھ گئی ہو گی جو میں کہنا چاہ رہا ہوں ۔۔ “
“بے شک ابھی تو میں نے پوچھا تھا لیکن بہت سے آیسے لوگ ملیں گے جو کرید کرید کر تمہاری ذاتی میں دخل اندازی کریں گے ۔۔۔ “
مدحت کو شدید شرمندگی نے اپنے گھیرے میں لیا ۔۔۔ وہ واقع غلطی کرگئی تھی یہ بات کہہ کر ۔۔۔۔
“اللہ تم دونوں میں اتفاقی قائم فرمائے ۔۔۔”
آمین !!
منیر کے لب ہلے تھے شاید داجی کی بات اس کو قائل کرگئی ۔۔۔۔۔۔
داجی کے جاتے ہی منیر نے چبھتی ہوئی نگاہ سے اس کا سرخ چہرہ دیکھا اور وارڈ روب کی جانب بڑھ گیا :
جبکہ وہ اپنے آپ کو زمین میں گڑا محسوس کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ دونوں تیار ہوکر لاونج میں آئے تو سب ہی وہاں پہلے سے موجود تھے البتہ داجی اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ۔۔۔
پھول نظاروں مست بہاروں گاتے پنچھیوں!!
یہ ہے بھائی کی دلہن سب ان سے ملو وووو!!
ریحان الٹی سیڈھی ٹانگ اڑا کر گانے کی سر تان کھینچ کھینچ کر گانے لگا تبھی پاس بیٹھے معیز نے اسے یاد دلایا کہ اس کا روزہ ہے تو کانوں کو ہاتھ لگاتا توبہ توبہ کرنے لگا۔۔۔۔
وہ سب کو سلام کرتی ہوئی مائرہ بیگم کے پاس جا بیٹھی۔۔۔
ارے رے بھائی کہاں کی تیاری ہے ؟؟
وہ منیر کو لاونج سے نکلتے دیکھا تو پوچھنے لگا ۔۔۔
مدحت نے بھی سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔
ایک کام سے جارہا ہوں آتا ہوں ابھی !!!
وہ کہتے ساتھ ہی انٹیرینس عبور کر گیا ۔۔۔
“ولیمہ رمضان کے بعد ہی رکھ لیتے ہیں ویسے بھی اب دو تین دن تو رہ گئے عید میں ۔۔”
ہاں یہ بھی ٹھیک ہے ابھی بلکہ اچھا فیصلہ ہے مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔!
مدثر کی بات پر شاہد نے بھی اکتفا کیا ۔۔۔
مدحت کیا تم خوش نہیں ہو؟؟؟؟
وہ دونوں کمرے میں اکیلی بیٹھی تھیں جب سمیرا نے بیٹی کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا :
امی محض ایک رات میں کیسے اندازہ ہوسکتا ہے ؟؟
“ایک چاول سے اندازہ لگا لیا جاتا پے کہ بریانی کو دم صحیح لگا ہے یا کسر باقی ہے ۔۔۔”
سمیرا کی بات پر وہ سر جھٹک کر رہ گئی ۔۔۔
“اگر آپ کو اس جملے سے طمانیت ہوگی تو ہاں میں خوش ہوں ۔۔۔”
داجی کی بات ابھی تک اس کے ذہن میں تھی اب جب شادی ہو ہی گئی تو افسردگی کا ڈھونگ رچا کر تماشہ بنوانے کا کیا فائدہ جب رہنا ہی ساتھ تھا۔۔
سمیرا نے اس کا موڈ دیکھ کر پھر کوئی بات نہیں کی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ تراویح ادا کرکے کمرے میں آیا تو مدحت ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی جبکہ گھر کی تمام خواتین نماز ادا کررہیں تھیں ۔۔۔
تم نے نماز پرھ لی ؟؟؟؟
یہ ان دونوں کی پہلی نارمل گفتگو تھی ۔۔۔
مدحت نے چونک کر سر اٹھایا ۔۔۔
نہیں !!
ایک لفظی جواب دے کر وہ ٹی وی کا ولیوم بڑھا گئی۔۔۔
منیر سوئچ بورڈ کی جانب آیا اور پلگ نکال دیا ۔۔۔۔
وہ سوالیہ انداز میں اس کی حرکت پر دیکھنے لگی ۔۔۔
“نماز ضروری ہے ٹی وی دیکھنے کیلئے ساری رات پڑی ہے ۔۔۔”
منیر کا لہجہ سادہ تھا ۔۔۔ لیکن مدحت کو تحکم بھرا لگا ۔۔۔
“یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے آپ اس میں مداخلت نہ ہی کریں تو بہتر ہے”
“اگر یہ انسان اور اللہ کا ہی معاملہ ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار نماز ادا کرنے کی تاکید نہ کرتے اور نہ ہی والدین کو حکم دیتے کہ جب تمہارا بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز سیکھاو اور جب بالغ ہو جائے تو مار کر نماز پڑھاو۔۔۔”
وہ منیر کی بات پر لاجواب تو ہوئی تھی لیکن ٹس سے مس نہ ہوئی ۔۔۔
“مدحت نماز اور روزہ کے معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا اور نہ ہی کوئی بحث کروں گا ۔۔۔”
مدحت کو صبح والی بحث ازبر تھی اسی لیے چپ چاپ اٹھ گئی ۔۔۔۔
نماز ادا کرکے اٹھی تو منیر موبائل میں لگا ہوا تھا۔۔۔۔
ایک بات پوچھوں ؟؟؟؟
ہمممم !!!
سر اٹھائے بنا ہنکارہ بھرا ۔۔۔
ایٹیٹیوڈ تو دیکھو ذرا لنگور کے ایک بات مان لی تو زیادہ ہی فری ہورہا ہے ۔۔۔!!!!
وہ سوچ کو جھٹک کر کرب سے کلبلانے والے سوال کو زبان پر لائی ۔۔۔۔
آپ نے نانا جان کے سامنے میرے جھوٹ کی تردید کیوں نہیں کی ۔؟؟؟
وہ اسکی بات پر اسے بغور دیکھنے لگا۔۔۔
کیا اب بھی تمھیں یہ بات پوچھنی چاہیئے جبکہ داجی تفصیل سے بتاگئے تھے ۔۔؟
“یہ سب ان کے زمانے کی باتیں ہیں جیسا تمہارا رویہ ہوگا میری طرف سے ریکشن بھی اتنا ہی ملے گا یہ مت سمجھنا کہ تم جو کہوگے وہ ڈرپوک بیوی کی طرح سن لوں۔۔ ایک سناو گے تو چار سن بھی لو گے ۔۔۔”
وہ صبح کی کھولن نکالتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔
منیر کندھے اچکا کر دوبارہ موبائل میں مصروف ہوگیا جیسے اس سب سے اسے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔۔
وہ پیر پٹخ کر کمرے سے نکل گئی منیر کی نگاہوں نے پیچھا کیا تھا اس کے اوجھل ہونے تک ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رمضان کے اٹھائیس روزے گزرے تو انتیس ویں شب بھی آپہنچی ۔۔۔ عید کا چاند دکھا تو ایک دم ہل چل مچ گئی۔۔۔
عروج ، رابعہ اور نجمہ نے پہلی فرصت میں بازار کا چکر لگایا ۔۔۔۔
جبکہ مدحت منیر کا انتظار کرنے لگی جو تراویح پڑھننے گیا ہوا تھا ۔۔ چونکہ چاند خاصی تاخیر سے نظر آیا اس لیے مسجدوں میں تراویح پڑھانا شروع کردی گئیں تھیں ۔۔۔۔
دس سے ساڑھے دس کا وقت ہوا تو وہ چادر اور پرس لیے کمرے سے نکل آئی اس کا ارادہ فوراً جانے کا تھا ۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں منیر بھی لاونج میں آیا سوائے مدحت کے اور کوئی وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔
‘مجھے مارکیٹ لے چلیں عید کا چاند نظر آگیا ہے ۔۔۔’
منیر کمرے میں جارہا تھا جب اس کی بات پر رکا ۔۔۔
“میں ابھی تھکا ہوا آیا ہوں تم کسی اور کے ساتھ چلی جاو۔۔۔ “
اس کا جواب سنے بغیر وہ سیڑھیاں چڑھ گیا ۔۔۔
وہ جو کب سے اس کی راہ دیکھ رہی تھی منیر کے انکار پر غصہ کے ساتھ رونا بھی آیا ۔۔۔۔
پھر گیارہ سے بارہ بج گئے لیکن مدحت جو نجمہ کے کمرے میں گھسی تو کھانے کی ٹیبل پر بھی نہ آئی ۔۔۔ سب پوچھ پوچھ کر تھک گئے لیکن منیر کا ایک ہی جواب تھا” مجھے نہیں پتا “
جب تک وہ کھانا کھاتا رہا داجی کی سرد نگاہیں اسکا حصار کئے رکھیں ۔۔۔
مائرہ مدحت سے کہو میں نے بلایا ہے ؟؟؟
“جی ابا جی ۔۔۔۔۔ “
وہ تینوں لڑکیاں اب شاپنگ کرکے پارلر پہنچی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔ اور ریحان جو ان کے ساتھ ہی تھا اتنا عاجز آیا کہ انھیں چھوڑ چھاڑ اپنی شاپنگ کرنے نکل کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
مدحت کیا بات ہے تم کھانے کی ٹیبل پر کیوں نہیں آئیں ؟؟؟
انہوں نے اس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھا تو منیر پر طیش آیا ۔۔۔۔
“کچھ نہیں نانا جان بس تھوڑی طبیعیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔”
نانا جان اس کے جواب سے غیر مطمئن ہوئے
“تم نے بازار نہیں جانا وہ تینوں تو کب کی چلی گئیں ۔۔۔”
مدحت کو منیر کا جواب یاد آیا تو ڈھیر سارا رونا آیا ۔۔۔۔۔
“نہیں نانا جان منیر تھکے ہوئے ہیں کوئی بات نہیں ابھی ہیں میرے پاس کپڑے۔۔۔۔ “
نانا جان جو مسلسل اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے لمحوں میں ساری بات سمجھ گئے تھے۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ تینوں مارکیٹ اے لدی پھندی آئیں چمکتے لشکارے مارتے چہروں سے ہی پتا چل رہا تھا کہ بیوٹی پارلر کا کمال ہے ۔۔۔۔
ہاتھوں میں بھر بھر کر مہندی لگوائی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اور اب سب اپنی ایک ایک چیز مدحت کو دیکھانے لگیں ۔۔۔۔۔
“آپی آپ ہمیں کال ہی کردیتیں ہم ریحان کو بھیج دیتے لینے ۔۔۔”
عروج کو اس کے نہ جانے پر افسوس ہوا۔۔۔ انہوں نے تو کہا تھا لیکن مدحت نے کہہ دیا تھا کہ منیر کے ساتھ جائیگی ۔۔۔۔
“آپ رکھ لو آپی آپ پر اچھا لگے گا یہ سوٹ ۔۔۔”
وہ لون کا پرنٹڈ سوٹ دیکھ رہئ تھی نجمہ نے فراغ دلی کا مظاہرہ کیا ؛
“چلو اٹھو مارکیٹ جانا ہے ۔۔۔”
منیر نے براہ راست مدحت سے کہا لہجہ سخت تھا ۔۔۔
مدحت چونکی تھی لیکن اظہار نہیں کیا:
“نہیں اب نہیں جانا مجھے ۔۔۔۔”
وہ اٹھ کر اپنے اور اس کے مشترکہ کمرے میں چلی آئی۔۔۔۔
کیا کہا ہے تم نے کہ میں تمھیں عید کی شاپنگ نہیں کروا رہا ؟؟؟
“ہاں بلکل ایسا ہی کہا ہے میں نے ۔۔۔”
وہ شانِ بے نیازی سے بولی ۔۔۔
“یہ جو تم داجی کی شئہ پر اتنا اکڑ رہی ہو یاد رکھو تمہاری لگامیں کھیچنے میں ذرا دیر نہیں کروں گا ۔۔۔”
وہ شعلہ جوالہ بنا دیوار کے مانند اس کا راستہ روکے ہوئے تھا۔۔۔
“منیر احمد یہ بھڑکیں اپنے پاس رکھو میں تمہاری گیڈر بھبھکیوں سے ڈرنے والی نہیں ۔۔۔۔”
“بہت جلد ان گیڈر بھبھکیوں سے پناہ مانگو گی مدحت منیر ۔۔۔۔”
وہ معنی خیزی سے کہتا اسے ٹھٹکا گیا ۔۔۔۔
اور قریب سے قریب تر ہوا ۔۔۔ اتنا کہ ہاتھ بھر کا فاصلہ رہ گیا تھا دونوں کے بیچ ۔۔۔۔۔
وہ تو اس کی حرکت پر ساکت رہ گئئ منیر جو لئے دیئے انداز میں رہتا تھا آج کیا ہوا تھا اسے ۔۔۔
“دور رہ کر بات کرو ۔۔۔”
وہ اپنے آپ کو کمپوز کرتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
اگر تم تیار نہیں ہوئیں تو انجام کی ذمہ دار خود ہوگی ۔۔۔
گر اتنی ہی اکڑ دکھانئ تھی تو داجی کے سامنے ٹسوے کیوں بہائے تھے؟؟؟
“میں نے نانا جان سے کچھ نہیں کہا انہوں نے پوچھا تو بتادیا ۔۔۔”
صفائی میں بول کر فاصلہ قائم کرگئی۔۔۔
“اپنی صفائی اپنے پاس رکھو میں تو تمھیں میچیور سمجھتا تھا لیکن یہ بچکانہ حرکتیں کرکے تم نے ثابت کردیا کہ تم ابھی بھی امیچیور ہی ہو ۔۔۔”
وہ اس کا بازو دبوچے خاصہ غصہ سے بولا
“منیر احمد تم میری توہین نہیں کرسکتے ۔۔۔ اور نہیں جانا کہیں تمہارے ساتھ ۔۔۔ “
وہ اس کی بات پھڑک اٹھی اور جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔۔۔
“میری بلا سے لیکن آئندہ اگر کسی دوسرے فرد نے اکر میری ذمہ داری یاد کروائی تو تم اپنی خیر منانا ۔۔۔۔”
“تو موقع ہی کیوں دیتے ہو کسی دوسرے کو بات کرنے کا ۔۔۔ اپنی ذمہ داری کو صحیح سے نبھاو گے تو کوئی کچھ کیوں کہے گا بھلے ۔۔۔”
دو بدو ہو کر گویا اس نے اس کی کوتاہی یاد دلائی جو وہ اول دن سے برت رہا تھا۔۔۔۔
ذمہ داری تو اور بھی کچھ ہے کہو تو وہ بھی پوری کردوں !!!
منیر کا لہجہ یک دم بدل گیا انکھوں میں مخصوص قسم چمک مدحت کو بھڑکا گئی ۔۔۔
“منہ بند رکھو تم مردوں کو اس کے علاوہ اور آتا ہی کیا ہے ۔۔۔۔”
مدحت کی بات پر منیر بھونچا سا اسے دیکھے گیا وہ اسے کیا سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 15

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: