Muneer aur Midhat Novel by Syeda Javeria Shabir – Last Episode 5

0
منیر اور مدحت از سیدہ جویریہ شبیر – آخری قسط نمبر 5

–**–**–

اوہ ہیلو میڈم تم نے سمجھا کیا ہے مجھے ہاں !!
ذرا وضاحت کرو گی ؟؟؟
منیر کی آنکھوں میں ایک دم اجنبیت در آئی ۔۔۔۔
“جو تم سمجھا رہے ہو وہیں سمجھ رہی ہوں اور ذرا مجھ سے فاصلہ پہ رہ کر بات کرو گر نفرت کا اظہار کرنا ہے تو ایمان داری کے ساتھ کرو ۔۔۔۔”
مدحت نے اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بے خوفی سے کہا ؛
تم اپنے آپ کو کوئی حور پری سمجھ رہئ ہو تو یہ سراسر تمہارے زہن کا فتور ہے مدحت ۔۔۔ مجھے تم میں کوئی دلچسبی نہیں !!! نہ رتی برابر بھی نہیں !!!
وہ نفی میں سر ہلاتا گویا اس کی حیسثیت گرانتا ہوا بولا۔۔۔۔
سبکی اور ذلت کا احساس شدت سے ہوا تھا یعنی وہ جو شادی سے پہلے اس کا موقف تھا وہ ہی شادی کے بعد ایک انچ کا بھی فرق نہیں محسوس ہوا ۔۔ کیا وہ اتنی ہی آرزاں تھی اس کی نظر میں ۔۔۔
رخ موڑ کر انکھوں کی نمی کو اندر اتارا وہ اس شخص کے اگے اپنے آپ کو ہلکا نہیں کرسکتی ۔تھی ۔۔۔۔
منیر اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر چلا گیا ۔۔۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی اس کے برعکس منیر لمبی تان کر پر پرسکون نیند سویا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
مرد حضرات عید کی نماز پڑھنے گئے تو مائرہ بیگم نے اسے عید کے موقع پر کھیر بنانے کا کہا ۔۔۔۔ وہ بھی تیار ہوکر خوشی خوشی کچن میں چلی آئی اب ایک فرد کیلئے سب سے تو خفا نہیں ہوسکتی تھی ۔۔۔۔
مامی میٹھا چیک کرلیں صحیح ہے نہ ؟؟؟
پاس کھڑی مائرہ بیگم سے کہا اور ساتھ بھگونے میں چمچہ چلانے لگی ۔۔۔۔
“ہاں کرتی ہوں تم ایسا کرو کہ یہ بادام پستے کاٹ لو باقی میں دیکھ لوں گی ۔۔۔۔۔”
مائرہ بیگم اس کے ہاتھ سے کفگیر لیتے ہوئے بولیں تو وہ دوسری سائیڈ پر ہوگئی ۔۔۔
ارے واہ آج تو کچن میں خوب رونقیں لگی ہوئی ہیں کیا بات ہے بھئی !!!!
عروج جو میٹھے کی حد درجے شوقین تھی خوشبو سونگھتی ہوئی وہیں آپہنچی ۔۔۔۔
مائرہ بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔۔
“عید مبارک بوتھ آف یو ۔۔۔”
وہ چوکھٹ پہ کھڑے ہانق لگاتی بولی ۔۔۔۔
“خیر مبارک عروج بہت پیاری لگ رہی ہو ان کپڑوں میں۔۔”
مدحت نے اس کی روئل بلو میکسی میں کھلتی ہوئی رنگ دیکھ کر کہا یہ رنگ اس پر جچ بھی بہت رہا تھا۔۔۔
آپ بھی آچھی لگ رہیں ہیں بس ایک کمی ہے ؟؟ عروج کی بات پر مدحت نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
“اپ کے ہاتھ میں مہندی نہیں لگی ہوئی نہ تو ایسا لگ ہی نہیں رہا کہ آپ نئی نویلی بھابھی ہیں ہماری ۔۔۔۔”
عروج کے کہنے پر اسے رات کا واقعہ ازبر ہوا ۔۔۔
ارے ہاں میرا تو اس طرف دھیان ہی نہیں گیا مدحت کل تم گئیں نہیں منیر کے ساتھ ؟؟؟
“جی وہ میں ۔۔۔۔۔ ہاں گئی تو تھی لیکن پارلر میں رش اتنا تھا کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اسی لئے واپس اگئی ۔۔۔۔ “
“اچھا چلو کوئی بات نہیں ایسے موقعوں پر واقعی بہت رش ہوتا ہے ۔۔۔ اور ان دنوں تو منیر بھی احتیاط ہی برتتا ہے بازار آنے جانے سے ۔۔۔ اسے سخت قسم کی کوفت ہوتی ہے ۔۔۔۔”
“خیر اب تم اگئی ہو تو سب کرنے لگے گا۔۔۔”
مدحت بیگم نے محبت سے کہا تو وہ بے دلی سے مسکرادی۔۔۔۔
“کرہی نہ لے سب میسنا ہے پورا اسے تو حکم چلانا آتا ہے ۔۔۔۔ “
من ہی من سوچتی کٹے ہوئے بادام پستوں سے کھیر کو گارنش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ کیا بھائی صرف تین سو آپ ہر بار بس اسی پہ ٹرخادیتے ہیں ۔۔؟؟
رابعہ نے خفگی سے منیر کو دیکھا :
“ارے یار اب تو کنجوسی چھوڑ دے اب تو شادی شدہ ہوگیا ہے ۔۔۔ ہاتھ کو کھلا رکھنے کی عادت بنا ۔۔۔۔”
داجی نے ہلکے پھلکے لہجہ میں کہا جس پر زبردست قہقہہ پڑا۔۔۔۔
“داجی تین سو بھی بہت ہوتے ہیں ۔ ۔”
وہ منہ بنا کر بولتا پانچ سو کا نوٹ وائلٹ سے نکال کر رابعہ کے ہاتھ میں رکھا ۔۔۔۔۔
یا ہو !!!
رابعہ خوشی سے نعرہ لگاتی ہوئی بولی ۔۔۔
پھر عروج ، نجمہ اور تقریباً سبھی چھوٹوں کو عیدی دی ۔۔۔۔
بھابھی آپ کی عیدی تو ہم سب سے زیادہ ہی ہوگی آخر کو نصف بہتر ہیں آپ بھائی کی!!!
براون کھدر کے قمیض شلوار میں ملبوس منیر کی نگاہیں مدحت کی جانب اٹھیں جو ابھی ابھی کچن سے نکلی تھی ہاتھ میں کھیر کا باول تھاما ہوا تھا ۔۔۔۔
مدحت کی زخمی نگاہیں منیر کو اپنے اندر تک اترتی محسوس ہوئیں جس نے عیدی دینا تو درکنار مبارک باد بھی نہیں دی تھی ۔۔۔۔
کیوں مدحت بھابھی ریحان صحیح کہہ رہا ہے بھائی آپ کے معاملے میں تو کنخوسی سے کام نہیں لے رہے نہ ؟؟؟؟
منیر نے گھور کر ریحان کو دیکھا جب کہ رابعہ کے سوال پر وہ سٹپٹا کر داجی کو دیکھنے لگی ۔۔۔
“چلو بھئی شروع کرو آج بچی نے محبت سے پہلی دفعہ کوئی ڈش بنائی ہے باتیں تو چلتی رہتی ہیں ۔۔۔”
مائرہ بیگم می مداخلت پر مدحت نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔
منیر کی نگاہیں مدحت کے سراپے میں الجھی ہوئی سوچوں کے تانے بانے بننے لگیں ۔۔۔۔۔۔
“بھابھی رات کو ہم سب ریسٹورینٹ جارہے ہیں آپ بھی ساتھ ہی چلیئے گا ۔۔۔۔”
معیز نے رات کا پلان بتایا تو ایک بار بھی سب خوش ہو اٹھے ۔۔۔۔۔
“ہاں ہاں اچھا ہے منیر تم بھی ساتھ ہی چلے جانا بچوں کے ۔۔۔”
مائرہ بیگم نے کہا تو منیر نے حامی بھرلی جبکہ اس کا اپنا پلان بنا ہوا تھا دوستوں کے ساتھ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گیلے بالوں کو اگے کیے برش سے سلجھا رہی تھی تبھی دروازہ کھول کر منیر کمرے میں آیا ۔۔۔
ایک نظر اسے آئینہ سے دیکھ اور دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔۔۔
سفید کرتی جس پر گولڈن کام تھا زیب تن کیے وہ نازک اندم چھوٹی سی لگی ۔۔۔
منیر نے وائلٹ میں سے کئی ہزار ہزار کے نیلے نوٹ نکالے اور مدحت کا ہاتھ تھام کر اس کی ہتھیلی پر رکھے ۔۔۔
مدحت نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
“رلھ لو باہر جارہے ہیں ضرورت پڑھ سکتی ہے ۔۔۔”
منیر نے اس کی سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہا :
گویا یاد آہی گیا تمھیں !!!!
وہ سوچتی ہوئی مٹھی دبا گئی ۔۔۔
تھوڑا جھک کر وہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔۔۔
“پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔”
حیران کن نگاہیں اٹھیں ۔۔۔۔۔
“کیا ہی بات ہے جو اسی طرح خاموشی سے میری ہر بات مانو۔۔۔۔”
منیر کا لہجہ شرارت پر مبنی اس کی کان کی لو پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
جبکہ منیر چھپاک سے واش روم میں گھس گیا ۔۔۔
“بدتمیز ، اچٹ گوار ، جاہل ۔۔۔۔”
وہ اس کی آخری بات پر غصہ سے بیچ و تاب کھاتی زور سے بولی ۔۔۔
سیم ٹو یو !!!!
وہ تھوڑی سی گردن نکال کر بولا مدحت نے ہاتھ میں پکڑا برش اس کی جانب اچھالا لیکن وہ جو دروازہ بند کرچکا تھا بچت ہوگئی۔۔۔۔ وہ اپنی لو کو مسلتے ہوئے جلدی جلدی بال بنانے لگی ۔۔۔۔
عید کا پہلا دن تھا سارے ریسٹورینٹ کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے بڑی مشکل سے انھیں کوئی ٹیبل ملی وہ بھی ہال کے کونے پر ۔۔۔
اسی کو غنیمت جان کر وہ لوگ آبیٹھے ۔۔۔۔
“ہاں بھئی جلدی جلدی اپنے آرڈر لکھواو پھر دوسری جگہ چلتے ہیں ۔۔۔۔ “
منیر کے کہنے پر سب نے ہی اکتفا کیا ۔۔۔
زیادہ لوگوں کے موجودگی کے باعث کافی شور و غل مچا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
“بھائی آپ کی اور بھابھی کی پہلی عید ہے اس لئے آپ بھابھی کو زبردست پروپوز کریں گے وہ بھی یہاں ۔۔۔”
یہ انوکھا آئیڈیا اور کسی کا نہیں ریحان کا تھا ۔۔۔
“دماغ ٹھیک ہے تماشہ بنواو گے میرا !!! خاموشی سے کھانا کھاو اور چلنے کی کرو۔۔”
منیر نے سخت لہجے میں ٹوکا تو وہ منہ بنا کر رہ گیا ۔۔۔۔
ڈیڑھ گھنٹے میں وہ لوگ وہاں سے نکلے ۔۔۔۔
گرمی کی راتوں میں ٹھنڈی ہوا اچھی لگ رہی تھی۔۔۔
“معیز یہ لو گاڑی کی چابی اور ان سب کو آئس کریم کھلا کر گھر لے جاو ۔۔۔۔”
اور آپ کیسے آئیں گے ؟؟
معیز نے کی چین لیتے ہوئے کہا :
“ہم کیب کروا کر آجائیں گے ۔۔ چلو مدحت ۔۔۔”
وہ معیز کو جواب دے کر مدحت سے بولا۔۔۔
“میں کہیں نہیں جارہی آپ کے ساتھ ان لوگوں کے ساتھ گھر جاوں گی ۔۔۔”
مدحت انکار کر کے گاڑی میں بیٹھنے لگی تبھی منیر نے بروقت اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔۔
اوئے ہوئے!!!!!
ریحان نے معنی خیزی سے کہا تو لڑکیوں نے مارے خوشی کے تالیاں پیٹ دیں۔۔ آتے جاتے لوگ مڑ مڑ کر انھیں دیکھنے لگے۔۔۔۔۔
منیر اس کو اپنے ساتھ لگا کر وہاں سے واک کرتا ہوا لے گیا۔۔
“تم میرے ساتھ جانے سے ڈر رہیں تھیں نہ ۔۔۔۔”
منیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا وہ دونوں سامنے بنے بڑے سے گرین ویلی میں داخل ہوئے ۔۔۔۔۔
“ڈروں گی اور تم سے !!! کوئی تُک کی بات کرو منیر احمد ۔۔۔۔”
اچھا یہ ہی بات میری انکھوں میں ڈال کر کہو ؟؟؟
منیر ایک دم اس کے سامنے اکر بولا۔۔۔
“منیر تم بھول رہے ہو اپنی ہی باتیں ۔۔۔”
“یاد ہے مجھے سب لیکن اگر ان ہی باتوں کو تم سامنے رکھو گی تو ہم کبھی نارمل زندگی نہیں گراز پائیں گے ۔۔۔”
تو اب کیا چاہتے ہو تم ؟؟؟؟،
مدحت نے سینے پہ بازو باندھ کر براہ راست پوچھا ۔۔
“تمہارا ساتھ ۔۔۔۔ “
مدحت جو پورے اعتماد کے ساتھ کھڑی تھی یوں اچانک منیر کے نرم اور میٹھے لہجے پر گڑبڑا گئی۔۔۔۔۔۔
بولو مدحت کیا تم ان سب باتوں کو بھول کر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرسکتی ہو ؟؟؟
مدحت نے اس پر بھرپور نگاہ ڈالی ۔۔۔
بلیک پینٹ شرٹ میں صاف رنگت مخصوص اسٹائل میں بنے بال وہ وجیہ اور پرکشش لگ رہا تھا ۔۔۔
“میں تو اس رات سے ہی سب بھول کر زندگی کا آغاز کرنا چاہتی تھی لیکن تم نے ہی بات کو بڑھایا چڑھایا ۔۔۔”
“ہاں میں مانتا ہوں کیوں کہ مجھے لگتا تھا تم اسی طرح ضدی ، اکھڑ مزاج کی ہو جس طرح پہلے تھیں ۔۔ جبکہ شریک حیات کو لے کر میرا انتخاب کچھ اور تھا۔۔۔”
منیر نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا :
کیا انتخاب تھا تمہارا۔۔۔ ؟
وہ دونوں چل کر واٹر پول کی جانب آگئے یہاں بھی سیاحوں کا خاصہ رش لگا ہوا تھا ۔۔۔۔
“میری نظر میں وہ عورت احترام کی حامل ہے جو سوفٹ اسپوکن ہو ۔۔ لڑے بھی جھگڑے بھی لیکن اس طرح کے سننے والے کو لگے کہ وہ بات کررہی ہے میری خواہش خوبصورتی کبھی نہیں رہی۔۔۔”
مدحت دم سادھے اس کی پسند سن رہی تھی۔۔۔۔
میری ہمراہی میں رہو گی تو سیکھ جاو گی جان منیر !!
وہ اس کا ہاتھ تھام کر ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
مدحت اس کے طرز مخاطب پر پزل سی ہوئی اور ارد گرد دیکھنے لگی۔۔۔
“منیر نے جیب میں سے چھوٹا مخملی کیس نکالا گولڈ کا نازک بریسلٹ اس کی مرمری کلائی میں پہنایا ۔۔
” اپنی تمام تر بدتمیزی اور مس بی ہیو کی میں معافی چاہتا ہوں امید ہے کہ تم بھی میری طرف سے اپنا دل صاف کرلوگی ۔۔۔۔۔ “
عید مبارک جان عزیز !!!!!!!
مدحت نے شرما کر سر جھکایا تو منیر کی ہنسی بے ساختہ تھی ۔۔۔۔ آج تو آسمان پر چمکتے ستارے بھی عجب منظر دکھلا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Parishay Novel by Nazia Shazia – Episode 7

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: