Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 1

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 1

–**–**–

 

سنہری صبح بھیگ رہی تھی،جب وہ سست روی سے چلتی ہوئی بس اسٹاپ تک پہنچی _کندھے پر بیگ لٹکا ئے، ہاتھ میں پانی کی چھوٹی بوتل پکڑے،چہرے پہ ڈھیروں بے زاری لیئے، وہ بینچ کے قریب آئی،جہاں بیٹھ کر وہ روز دس منٹ بس کا انتظار کرتی تھی
اس نے بیگ ایک طرف رکھا اور بینچ پہ بیٹھ گئی- پھر ایک ہاتھ سے جمائی روکتے دوسرے سے بوتل کھول کر لبوں سے لگائی-گرمی آج کل بڑھتی جا رہی تھی صبح ہی صبح اسے پسینہ آنے لگا تھا، جانے آگے کیا ہوگا، وہ گھونٹ بھرتی بے زاری سے سوچ رہی تھی، چہرے پے بھی وہی اکتاہٹ کے تاثرات تھے،جیسے دنیا بھر سے خفا ہو، سنہری پیشانی پہ مستقل پرے بل اور کانچ سی خوبصورت بھوری سنہری آنکھوں میں چھائی خفگی ،کچھ تھا اس میں جو اسے سارے میں یکتا بناتا تھا، لمبے کرتے اور جینز میں ملبوس رسی کی مانند دوپٹہ مفلر کے انداز میں گردن سے لپیٹے،ٹانگ پے ٹانگ رکھے وہ پاوں جھلاتی، تنقیدی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اور تب ہی اسے احساس ہوا کہ وہ سیاہ فام لڑکی آج بھی بینچ پہ اس کے ساتھ بیٹھی ہے،
ان دونوں کے درمیان اس کا بیگ پڑا تھا اور اس وقت وہ سیاہ فام لڑکی سرجھکائے،نگاہ ترچھی کیے اس کے بیگ کو دیکھ رہی تھی،جہاں جگہ جگہ چاک اور وائٹنر سے اس نے اپنا نام لکھا ہوا تھا
محمل ابراہیم۔۔۔۔محمل ابراہیم
آڑا ترچھا چھوٹے بڑے ہر انداز میں یہی لکھا تھا، وہ لڑکی کبھی ہی اس کے بیگ کو دیکھتی تھی مگر محمل کے تو روز کے دس منٹ اس سیاہ فام لڑکی کا جائزہ لیتے ہی گزرتے تھے_
وہ بھی عجیب پراسرار کردار تھی، یہاں اسلام آباد میں سیاہ فام نظر آ ہی جاتے تھے، مگر وہ اپنے جیسوں سے مختلف تھی سر پہ رومال باندھ کر گردن کے پیچھے گرہ لگاتی اور نیچے اوور کوٹ موٹے ہونٹ سیاہ رنگت،مگر چمکیلی آنکھیں کوئی ایسی چمک تھی ان میں کہ محمل کبھی ان آنکھوں میں دیکھ نہیں پائی تھی،ہمیشہ نظر چرا جاتی شاید ڈیڑھ مہینہ قبل وہ اسے اپنے مخصوص اوقات میں اسٹینڈ پہ دیکھتی تھی اور ان ڈیڑھ ماہ میں ان کا انداز ہمیشہ یکساں رہا تھا،
کمر سیدھی رکھے الرٹ سی بینچ بیٹھی خاموشی سے سامنے سیدھ میں دیکھتی وہ بہت چپ سی لڑکی معلوم نہیں کون تھی اور پھر اس کی وہ پر اسرار کتاب جس کا سیاہ سرورق بلکل خالی تھا اس کی گود میں دھری ہوتی اور کتاب ک کناروں پر اس کے سیاہ ہاتھ مضبوطی سے جمے ہوتے_
اس کے انداز سے کچھ خاص جھلکتا تھا،کتاب کی حفاظت کا احساس یا پھر اس کے بیش قیمت ہونے کا-
کتاب بالشت بھر موٹی تھی-صفحوں کے جھلکتے کنارے پیلے اور خستہ لگتے تھے- جیسے کوئی قدیم کتاب ہو سینکڑوں برس پرانا کوئی نسخہ ہو- کچھ تھا اس میں کوئی قدیم راز یا کوئی پراسرار کتھا،وہ جب بھی اس پراسرار کتاب کو دیکھتی، یہی سوچتی،اور آج جانے کیا ہوا،وہ اس خاموش سی لڑکی سے مخاطب ہو ہی گئی شاید تجسس عاجز کر رہا تھا-
ایکسکیوزمی-ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟
پوچھو-“سیاہ فام لڑکی نے اپنی چمکیلی آنکھیں اٹھائی،
“یہ کتاب کس کی ہے؟
“میری-
میرا مطلب اس میں کیا لکھا ہے؟
وہ چند لمحے محمل کا چہرہ دیکھتی رہی پھر آہستہ سے بولی-
میری زندگی کی کہانی
اچھا-وہ حیرت چھپا نہ سکی-“میں سمجھی یہ کوئی قدیم کتاب ہے-
قدیم ہی ہے صدیوں پہلے لکھی گئی تھی-
تو آپ کو کہاں سے ملی؟
“مصر کی ایک پرانی لائبریری سے، یہ کچھ کتا بوں کے بیچ پڑی تھی-جب میں نے اسے نکالا تو اس پے زمانوں کی گرد تھی،وہ محبت سے سیاہ جلد پے ہاتھ پھیرتے ہوے کہہ رہی تھی-اس کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ تھی “میں نے وہ گرد جھاڑی اور اسے اپنے ساتھ رکھ لیا،پھر جب پڑھا تو معلوم ہوا اسے تو کسی نے میرے لئے لکھوا کر ادھر رکھ دیا تھا
محمل منہ کھولے اسی دیکھ رہی تھی
تمہیں کیا دلچسپی ہے اس میں؟
میں اس کے بارے میں مزید جاننا چاہتی ہوں کیا میں اسے پڑھ سکتی ہوں؟وہ ہلکا مسکرائی
تم نئے دور کی نئی لڑکی ہو اس قدیم زبان میں لکھے نسخے کو کہاں سمجھو گی؟
مگر یہ ہے کیا اس میں لکھا کیا ہے؟وہ تجسس اب اسے بے چین کر رہا تھا
میرا ماضی۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی پل ہارن بجا تو محمل نے چونک کر سامنے سڑک پے آتی بس کو دیکھا-
میرا حال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سیاہ فام لڑکی کہہ رہی تھی
محمل بیگ کا اسٹریپ پکرے کھڑی ہوئی اسے جلدی کالج پہنچنا تھا-
اور میرا مستقبل بھی مجھے کیا پیش آنے والا ہے یہ کتاب سب بتا دیتی ہے-
میں چلتی ہوں وہ بس کی طرف دیکھتے معزرت خواہانہ انداز میں کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی
اس میں تمہارا بھی ذکر ہے محمل وہ الٹے پاوں مڑی-
میرا ذکر؟میرے بارے میں کیا لکھا ہے وہ ششدر رہ گئی تھی-
یہی کہ مین تمہیں یہ کتاب دے دوں-لیکن میں تو اسے تمہیں تبھی دوں گی جب تم تھک کر خود مجھ سے مانگنے آو گی کیونکہ اس میں تمہاری زندگی کی کہانی بھی ہے-جو ہو چکا ہے اور جو ہونے والا ہے سب لکھا ہے-
بس کا تیز ہارن پھر سے بجا تو وہ کچھ کہے بنا تیزی سے اس طرف لپکی راڈ پکر کر اوپر چڑھتے اس نے پل بھر کو پلٹ کے دیکھا تھا
وہ سیاہ فام لرکی اسی طرح مسکرا رہی تھی
پراسرار معنی خیز مسکراہٹ محمل کو ایک دم اس سے بہت ڈر لگا تھا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
کالج کے بعد وہ اپنی دوست نادیہ کے ابو کی اکیڈمی میں سیونتھ کلاس کے بچوں کو سائنس اور میتھس پڑھاتی تھی گھر پہنچتے پہنچتے اسے روز ساڑھے تین ہو جا تے تھے-
گیٹ عبور کر کے پورچ میں دیکھا تو تین گاڑیاں آگے پیچھے کھڑی تھیں-
دل کراہ کے رہ گیا-گھر میں گاڑیوں کے باوجود بسوں پیں دھکے کھانے پر مجبور تھی-
ہم چچاوں کے رحم و کرم پر پلنے والے یتیموں کے نصیب بھی کتنے یتیم ہوتے ہیں نا؟خود پہ ترس کھاتی وہ اندر آئی تھی-
لاونج میں خاموش دوپہر اتری تھی- وہ سب کے سونے کا ٹائم تھا آغا جان اس کے سب سے بڑے تایا اس وقت تک آفس سے لوٹ آئے تھے-اور ان کی کچی نیند کے باعث پورے گھر کو حکم ہوتا کہ پتہ بھی نہ کھڑکے ورنہ وہ ڈسٹرب ہونگے-حکم بظاہر پورےگھر کو اور در حقیقت محمل اور مسرت کو سنایا جاتا تھا-اور آخر میں جب آغا جان کی بیگم مہتاب تائی ان الفاظ کا اضافہ کرتیں،
اور مسرت اپنی بیٹی کو سمجھا دینا جب لور لور شہر پھرنے سے فارغ ہوجائے تو گھر آتی ہوئے میں گیٹ آرام سے کھولا کرے-آغا صاحب کی نیند خراب ہوتی ہے،اب میں کچھ کہوں گی تو اسے برا لگے گا-گز بھر کی تو زبان ہے اس کی-نہ چھوٹے کا کوئی لحاظ نہ بڑے کا ادب- استغفر اللہ ہماری بیٹیاں بھی کالج میں پڑھی ہیں ان کے تو انداز ایسے نہ نکلے جیسے محمل کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ تو اسے تو آگ ہی لگ جاتی تھی – ہر روز دروازہ کھولتے ہوئے یہی فقرہ سماعت میں گونجتا تو چڑنے کے باوجود دروازہ آہستہ بند کرتی-
کچن کی طرف ائی تو سنک میں جھتے برتنوں کا ڑھیر لگا ہوا تھا-ناگواری سے ناک چڑھائے اس نے بیگ سلیب پہ رکھا اور ہاٹ پاٹ کی طرف بڑھی-صبح ناشتے کے بعد اب تک کچھ بھی نہیں کھایا تھا،اور اب زوروں کی بھوک لگی تھی-
ہاٹ پاٹ کھولا تو وہ خالی تھا رومال پہ روٹی کے چند ذرے بکھرے تھے اس نے فریج کھولنا چاہا تو وہ لاکڈ تھا-مہتاب تائی اس کے آنے سے قبل فریج لاک کر دیتی تھی-مسرت اس کے لیے کھانا بچا کر ہاٹ پاٹ میں رکھ دیتی تھی-مگر جب سے مہتاب تائی نے کھانے کی خود نگرانی سٹارٹ کی تھی-ہاٹ پاٹ ہر تیسرے دن خالی ہی ملتا تھا-
تکلیف سے اس کی انکھوں میں آنسو آگئے،لیکن پھر ضبط کر ک باہر نکلی-اور آہستہ سے گیٹ عبور کر کے کالونی سے باہر نکڑ والے ہوٹل سے ایک نان اور ایک کباب لے آئی اس کے پاس اتنے ہی پیسے تھے-
واپسی پر وہ پھر پرانی محمل بن چکی تھی
لاونج کا دروازاہ کھول کے ڈھرام سے بند کیا- فرش پر پڑی فٹ بال اٹھا کے پوری قوت کے ساتھ دیوار پہ ماری اور صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھی نان کباب کا لفافہ کھولنے لگی-
لمحے بھر بعد ہی آغا جان ک کمرے کا دروازہ کھلا اور تنتناتی ہوئی تائی مہتاب باہر آئی-
محمل -وہ گرجیں،تو اس نے آرام سے سر اٹھایا-
کباب کھائیں گی تائی ماں؟
شٹ اپ ہزار بار کہا ہے دروازہ آرام سے کھولا کرو مگر تم-
آہستہ بولیں تائی جان اس وقت آغا جان سو رہے ہوتے ہیں اٹھ جائیں گے-وہ نان پر کباب رکھ کے بےنیازی سے پاؤں جھلاتی کھا رہی تھی
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احسان فراموش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں زرا بھر بھی احساس ہے کہ آغا صاحب دن بھر کے تھکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر فقرہ مکمل ہونے سے قبل ہی وہ اپنا نان کباب اٹھائے اپنے کمرے کی طرف جا چکی تھی-
تائی مہتاب تلملاتی کلیستی رہ گئی-
اندر مسرت آوازوں پہ جاگ چکی تھی-
“کیا ہوا ہے محمل بھابھی بیگم کیوں ناراض ہورہی تھی؟
“دماغ خراب ہے ان کا پیدائشی مسئلہ ہے-آپ کو نہیں پتہ؟اس نے بے زاری سے نان کباب کا لفافہ بستر پر رکھ دیا-
مگر ہوا کیا ہے؟ان کی نگاہ پھسل کر لفافے پر گئی-پھر باہر سے کھانا لائی ہو فریج میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر خود ہی خاموش ہوگئی،
آپ کے لیئے لائی ہوں آپ نے کچھ کھایا؟
میں کھا چکی،یہ تم کھاو میں جانتی ہوں تم نے کچھ نہیں کھایا،وہ تھکاوٹ سے مسکرائیں تو محمل نے لمحہ بھر کو ماں کو دیکھا،سادہ گھسے ہوئے کاٹن کے جوڑے میں سفید ہوئے بال اور جھریوں زدہ چہرے والی اسکی تھکی تھکی بے ضرر سی ماں جو واقعی اس عالی شان کوٹھی کی مالکن ہوتے ہوئے بھی ملازمہ لگتی ہے
دل برا مت کیا کرو محمل اللہ کا نام لے کر کھا لو
مجھے غصہ آتا ہے ان لوگوں پر اماں
باہر تائی مہتاب کے بہلنے کی آواز برابر آرہی تھی
وہ اب شور کر کے جانے کس کس کو بتا رہی تھی
“ناشکری مت کرو بیٹاانہوں نے رہنے کے لیے ہمیں چھت دی ہے سہارا دیا ہے-
احسان نہیں کیا میرے باپ کا گھر ہے-اسے ابا نے ہمارے لیئے بنوایا تھا،یہ بزنس یہ فیکٹریاں یہ سب ابا نے خود بنایا تھا-سب کچھ ابا نے ہمارے نام کیا تھا-
تمہارے ابا اب زندہ نہیں رہے محمل وہ اب کہیں بھی نہیں ہیں-وہ جیسے تھک کر کہہ رہی تھیں
اور وہ انہیں دیکھ کر رہ گئی-پھر اس نے سر جھٹک کر لفافہ اٹھایا نان سخت ہو چکا تھا اور کباب ٹھنڈا-وہ بے دلی سے لقمے توڑنے لگی-
٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫
یہ ٹھنڈا بے لذت کھانا کھا کے وہ کچھ دیر ہی سوئی کہ ٹھاہ کی آواز کے ساتھ کمرے ک دروازے سے فٹبال ٹکرایا-
وہ ہڑبڑا کے اٹھ گئی
باہر دیوار پر فٹ بال مارنے کی آوازیں برابر آرہی تھی
کچی نیند ٹوٹی تھی-وہ برا سا منہ بنائے جمائی روکتی اٹھی-سلیپر پہنے اور بال لپیٹتے دروازہ کھولا-
اسکا اور مسرت کا مشترکہ کمرہ دراصل کچن کے ساتھ ملحقہ اسٹور روم تھا بہت چھوٹا نہ بہت برا عرصہ پہلے اسے کاٹھ کباڑ سے خالی کروا کے ان دونوں کو ادھر منتقل کر دیا تھا،اس کے ساتھ باتھ روم نہیں تھااس لیئے انہیں لاونج سے گزر کر گیسٹ روم کی طرف جانا پڑتا تھا،
باہر لاونج میں ناعمہ چاچی کے معاز اور معیز فٹ بال سے کھیلتے دوڑتے پھر رہے تھے
تمیز نہیں ہے تم لوگوں کو دیکھ کر کھیلا کرو میں سو رہی تھی-
کچن ک کھلے دروازے پہ کھڑی اندر کسی سے بات کرتی ناعمہ چاچی فورا مڑیں-
اب میرے بچے کھیلے بھی نا؟تمہارا تو کام ہی سونا ہے نہ دن دیکھا نہ رات ہر وقت بستر ہی توڑتی رہتی ہو-
“ہاں تو میرے باپ کے پیسے سے یہ بستر آئے تھے توڑوں یا پھوڑوں میری مرضی-ابا کی ڈیتھ سے پہلے اسد چچا تو غالبا بے رزگار تھے نا؟وہ بھی محمل تھی سارے حساب فورا چکا کر بے نیازی سے باتھ روم کی طرف چلی گئی-ادھر ناعمہ چاچی بڑبڑا کے رہ گئیں۔
۔
منہ ہاتھ دھو کر اس نے اپنے سلکی بھورے بال دونوں ہاتھوں میں سمیٹ کر اونچے کیئے اور پونی باندھی-بہت اونچی سی بھوری پونی ٹیل اس پر بہت اچھی لگتی تھی-وہ زرا بھی سر ہلاتی تو اونچی پونی ساتھ ہی گردن کے اوپر جھولتی- اس کی آنکھیں کانچ سی سنہری تھی اور ہلکا سا کاجل بھی اسے دہکا دیتا تھا-وہ بلا شبہ گھر کی سب سے حسین لڑکی تھی-
اسی لئے تو جلتی ہیں یہ سب اسے ہنسی آگئی-ایک نظر خود پر ڈالی-جینز کے اوپر کھلا سا کرتا اور گردن ک گرد لپیٹا دوپٹہ’مفلر کی طرح اک پلو سامنے لٹکتا اور ایک پیچھے کمر میں وہ واقعی سب سے منفرد تھی-
کچن میں تائی مہتاب نگٹس نکال کے مسرت ک سامنے راکھ رہی تھیں جو بہت تابعداری سے ایک طرف چائے کا پانی چڑھا کر دوسری طرف تیل گرم کر رہی تھی اس پر نظر پڑی تو نگٹس رکھتے ہوئے زرا لا پرواہی سے گویا ہوئی-
یہ بچوں کے لیے فرائی کردو مسرت اب ہر کوئی باہر سے منہ مار کے تو نہیں آتا نہ
بجا فرمایا تائی اماں- یہاں تو لوگ گھر کے اندر ہی دوسروں کے مال پر منہ مارتے ہیں وہ اطمینان سے کہہ کر کولر سے پانی بھرنے لگی-
زبان کو سنبھالو لڑکی، توبہ ہے ہماری بیٹیاں تو کبھی ہمارے سامنے ایسے نہیں بولیں-
آپ برا مت مانیں بھابھی بیگم-میں سمجھا دوں گی-“گھبرا کر مسرت نے ایک ملتجی نظر محمل پے ڈالی-وہ کندھے اچکا کر کھڑے کھڑے پانی پینے لگی،
سمجھا دینا بہتر ہوگا-اس پر ایک تنفر نظر ڈال کر تائی مہتاب باہر چلی گئیں-ناعمہ چچی پہلے ہی جا چکی تھی-اب مسرت اور محمل ہی کچن میں رہ گئے تھے-
اب یقینا” برتن بھی آپ ہی کو دھونے ہونگے؟اماں
دھو بھی دوں تو کیا ہے؟ان کے احسان کم ہیں ہم پر؟وہ مصروف سی ایک ایک نگٹس کڑاہی میں ڈال رہی تھی محمل نے ایک گہری سانس لی اور آستین موڑ کر سنک کی طرف متوجہ ہوئی اسے غم تھا،کہ اگر وہ نہ کرے گی تو مسرت کو ہی کرنا ہوگا اور ابھی تو انہوں نے رات کا کھانا بھی تیار کرنا تھا
رہنے دو بیٹا میں کر لوں گی
لیکن میں بھی ان لوگوں پہ تھوڑا احسان کرنا چاہتی ہوں-وہ برتن دھو کے فارغ ہوئی تو مسرت ٹرالی بھر چکی تھی- محمل یہ باہر لے جاو،سب لان میں ہونگے وہ بنا احتجاج ٹرالی گھسیٹنے لگی،لان میں روز شام کی طرح کرسیاں لگی تھیں،
آغا کریم اخبار کھولے دیکھ رہے تھے،ساتھ ہی مہتاب تائی اور ناعمہ چاچی باتیں کر رہی تھی،ناعمی چاچی سب سے چھٹے اسد چچا کی بیوی تھی جو قریب ہی بیٹھے غفران چچا سے کچھ کہہ رہے تھے-غفران چچا اور محمل کے ابا آغا ابراہیم جڑواں تھے آغا کریم ان سے بڑے اور اسد چچا چاروں بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے-
غفران چچا کی بیگم فضہ چچی برآمدے میں کھڑی اپنی بیٹی کو اواز دے رہی تھیں اسے ٹرالی لاتا دیکھ کر مسکرائی-
ارے محمل جان تم اکیلی لگی رہی،ندا یا سامیہ کو کہہ دیا ہوتا تمہاری ہیلپ کروا دیتی-
فضہ چچی مہتاب تائی اور ناعمہ چچی کی طرح زبان کی کڑوی نا تھی بلکہ انی میٹھی تھی ک جب اپنی مٹھاس اپنے لبوں سے دوسرے کے حلق میں انڈیلتی تو وہاں کانٹے اگ جاتے-
اٹس اوکے-وہ بھی بس مسکرا کے ٹرالی آگے لے گئی اب کیا کہتی کہ ندا اور سامیہ نے پہلے کونسے کام کیئے ہیں جو آج کرتیں،اگر وہ انہیں بلاتی وہ فورا چلی آتیں،ایک دو چیزیں پکڑاتی چولہا جلاتی باتیں بگھارتیں-اور پھر آہستہ سے کھسک جاتیں،اس کے بعد لان میں فضہ چاچی ایک ایک چیز یہ چکھیں میری سامیہ نے بنائی ہے۔اور میری ندا ک ہاتھوں میں تو بہت ذائقہ ہے کہہ کر پیش کرتی،اس پر مہتاب تائی ان کی تعریف کرتی اور محمل کو کاہلی کے وہ طعنے ملتے اس سارے قصے سے بچنے کے لیئے محمل نے کبھی ان دونوں کو بلانے کی غلطی نا کی تھی،
مگر فضی چاچی کی یہ میٹھی زبان ہی ٹھیک تھی وہ کبھی ان کو پلٹ کے جواب دے سکی نہ ہی کچھ جتا سکی وہ موقع ہی نہ دیتی،
لاو لاو جلدے لاو دونوں ماں بیٹی لگتی ہیں پھر بھی گھنٹہ لگ جاتا ہے،
تائی آپ کوئی ملازمہ کیوں نہیں رکھ لیتی کم سے کم آپ کو ہم ماں بیٹی پر چلانا تو نہیں پرے گا-وہ تیزی سے کہہ کر ٹرالی چھوڑ کر واپس گئی،

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: