Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 10

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 10

–**–**–

 

باہر ٹیرس تھا-اور اس کی روشنیاں جلی ہوئیں تھیں-جن میں وہ بغیر دقت کے دو گن مین چوکس کھڑے دیکھ سکتی تھی-
اس نے گھبرا کر پردہ برابر کیا-
اللہ تعالی پلیز! وہ رو کر دعا کرنے لگی اور جب دعا کرتے کرتے تھک گئی تو ۔۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکھڑی ہوئی- اور اپنا علس دیکھا-
رونے سے سارا کاجل بہہ گیا تھا،آنکھیں متورم اور قدرے بھیانک لگ رہی تھیں-جوڑا ڈھیلا ہو کر گردن تک آگیا تھا اور گھنگھریالی لٹوں کے بل سیدھے ہونے لگے تھے-
محمل ایک مضبوط اعصاب کی لڑکی تھی،اس کے باوجود فواد کے اس بھیانک روپ کا صدمہ اتنا شدید تھا کہ شروع میں تو اس نے ہمت ہاردی اور اعصاب جواب دے گئے لیکن اب وہ کسی حد تک سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی تھی-فواد سے سارے بدلے تو وہ بعد میں چکائے گی ابھی اسے اس اکھڑ اور سرد مہر اے ایس پی کی قید سے نکلنا تھا-
اس نے ادھر ادھر دیکھا،کچھ خاص نظر نہ آیا- تو پھر وارڈ روب کھولا- اندر مردانہ کپڑے ٹنگے ہوئے تھے- اس نے کچھ ہینگرز الٹ پلٹ کیئے اور کچھ سوچ کر ایک کرتا شلوار نکالا-براؤن کرتا اور سفید شلوار کو پہن کر بال سیدھے کر کے بینڈ میں باندھے-اور باتھ روم میں جا کر منہ اچھی طرح دھویا-باہر نکلنے کے لیئے کسی روزن کو تلاشتی اس کی نگاہوں کو باتھ روم کی کوئی کھڑکی دروازہ نظر نہ آیا تو مایوسی سے پلٹنے ہی لگی تھی کہ ایک دم چونکی-
ایک دیوار میں شیلف تھا-اس میں شیمپو اور شیو کا سامان رکھا تھا-شیلف کے اندر کا رنگ باقی دیوار سے زیادہ چکنا سفید تھا-بھلا کیوں؟
وہ قریب آئی سارا سامان نیچے اتارا،پھر بغور اندر دیکھتے ہاتھ پھیرا تو احساس ہوا اس خانے کے پیچھے دیوار نہیںبلکہ کارڈ بورڈ کے سفید پھٹے تھے جو میخوں سے جڑے تھے-میخیں کچی اور تازہ لگ رہی تھی-
آگے کا کام بہت آسان تھا-اس نے سارے نل کھول دیئے،تاکہ آوازباہر نا جائے اور تھوڑی سی محنت کے بعد پھٹے کھینچ کر اتارت لیئے-وہ جلدی میں لگائے لگ رہے تھے،سو اسے زیادہ زور نہیں لگانا پڑا تھا-
ان کے پیچھے کھڑکی تھی- اچی خاصی چوڑی تھی-وہ اس میں سے با آسانی گزر سکتی تھی-بے حد مطمئن ہو کر محمل نے کھڑکی کھولی اور جب باہر جھانکا تو ایک لمحے کو تو سر چکرایا-کھڑکی سے دو فٹ کے فاصلے پر چار دیواری کھڑی تھی-اور چار دیواری کے درمیان صرف خلا تھا-اور نیچے بہت نیچے پکا فرش تھا-وہ اس گھر کی غالبا تیسری منزل پر موجود تھی- شاید اسی لیئے انہوں نے کچے پکے پھٹے لگا دیئے تھے-اندازہ ہو گا کہ وہ یہاں سے نہیں نکل سکتی-
اس کا ڈوب کر ابھرا-یہ آخری راستہ بھی بند ہوتا نظر آہا تھا-وہ مایوسی سے نل بند کرنے ہی لگی تھی کہ سناٹے میں ہلکی سی آواز سنائی دی تھی-
آپ صحن میں کیا کر رہی ہیں؟
باجی وہ میڈم مصباح نے کہا تھا کی ارلی مارننگ منہ پہ گلاس رکھ کر پریکٹس کروں تو آواز اچھی نکلتی ہے-وہی کر رہی ہوں-
لڑکیوں کی باتیں کرنے کیآوازیں بہت قریب نہیں تو بہت دور بھی نہیں تھی- وہ چونکی اور پھر باتھ روم کی لائت بند کی-
باہر کا منظر قدرے واضح ہوا-کھڑکی سے دیوار کا فاصلہ دو فٹ کا تھا،مگر وہ دیوار کی منڈیر تھی-اور وہ آوازیں کہیں نیچے سے نہیں برابر سے آرہی تھی-بالکل برابر یعنی اس باتھ روم کے برابر بالکل سامنے صحن تھا-
اگر وہ یہ دیوار پھاند جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔؟
اس اچھوتے خیال نے ذہن میں سر اٹھایا تو اس نے جوتے اتارے اور نیچے جھانکا- اگر گر گئی تو نہیں بچے گی-مگر موت اس ذلت سے تو بہتر ہوگی جو صبح یا اس سے بھی بدیر گھر پہنچنے پہ اسے اٹھانی پرے گی-
اس نے دونوں ہاتھ چوکھٹ پر رکھے ہی تھے- کہ کمرے کا دروازہ کسی نے زور زور سے کھٹکھٹایا-دروازے کی وہ اندر سے کنڈی لگا چکی تھی-سو وہ کھول نہ پا رہے تھے-یقینا کسی نے پھٹے اکھاڑنے کی آواز سن لی تھی-وہ لمحے بھر کو بھی نہ گھبرائی اور ہاتھ برھا کر دیوار کو ٹٹولا- وہ قریب ہی تھی-
اونہوں ۔۔۔۔ برابر والے صحن میں وہ کھنکھاری تھی-اگلے اور لمحے اس کی مدھر مگر ہلکی آواز اندھیری فضا میں گونجنے لگی-
اللھم جعل فی قلبی نورا- (اے اللہ میرے دل میں نور ڈال دے)
محمل نے دیوار پہ دونوں ہاتھ رکھے اور نیچے دیکھے بغیر دونوں پاؤن بھی رکھ دیئے
وفی بصری نورا وفی سمعی نورا-(اور میری بصارت میری سماعت میں نور ہو)
گھوڑے کی پیٹھ پر سوار سی وہ دیوار پر بیٹھی اور نیچے دیکھا- صحن کی زمین بہت قریب تھی-دیوار چھوٹی سی تھی-
وعن یمنی نورا وعن یساری نورا-(اور میرے دائیں اور بائیں جانب نور ہو)
اس نے آہستہ سے دونوں پاؤں زمین پر رکھے-وہ بالآخر برابر والی چھت پر اتر آئی تھی-لمحے بھر کو وہ پلٹ کر بے یقین سی دیوار کو دیکھنے لگی-جس کے اس پار اے ایس پی ہمایوں کا گھر تھا-بلکہ قید خانہ جس سے وہ نکل آئی تھی- اسی پل دیواد کے پار سے روشنی سی چمکی وہ ٹھٹھکی یقینا اس نے باتھ روم کی لائٹ آن کی تھی-اپنی بے وقوفی پے اسے غصہ آیا-اسے باتھ روم کا دروازہ بند کر کےنل کھول کے آنا چاہیئے تھا-
مگر عادی فراری تو نہ تھی یا پھر اس لڑکی کی آواز کے فسوں میں ایسی کھوئی تھی کہ ہوش نہ رہا تھا-
وفوقی نورا وتحتی نورا (اور میرے اوپر اور نیچے نور ہو-)
سامنے ایک برامدہ تھا- جس کے آگے گرل لگی ہوئی تھی-گرل کا دروازہ کھلا تھا اور دروازے سے کافی دور ایک لڑکی زمین پہ بیٹھی،گرل سے ٹیک لگائے-آنکھیں بند کیئے منہ پہ گلاس رکھے گنگنارہی تھی-
وہ دیوار کے ساتھ ساتھ گھٹنوں کے بل رینگتی گرل تک آئی- وہ لڑکی دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی مناجات میں گم تھی-
واجعل لی نورا- (اور میرے لیے نور بنا دے ۔۔)
محمل چاپ پیدا کیے بغیر کھلے دروازے سے اندر رینگ گئی-لڑکی اسی طرح مگن سی تھی-
اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ادھر ادھر دیکھا-لمبا سا برآمدہ خالی تھا-بس دور ایک فریج پڑی تھی- اور اس کے ساتھ ساتھ جالی دار الماری تھی-اندھیرے میں مدھم چاندنی کے باعث اسے بس اتنا نظر آیا-وہ بہت آہستہ سے اٹھی اور دبے پاؤں چلتی ہوئی فریج کے پاس آئی-
ولحمی نورا ودمی نورا-” (اور میرے گوشت اور میرے خون میں نور ہو) فریج اور الماری کے درمیان چھپنے کی جگہ تھی- وہ جھٹ ان کے درمیان آ بیٹھی- مگر سامنے ہی دروازہ تھا- وہ لڑکی واپس آتی تو سیدھی اس پر نظر پڑتی-نہیں اسے یہاں چھپنے کی بجائے نیچے جانا چاہیئے-
“وشعری نورا وبشری نورا -(اور میرے بال اور کھال میں نور ہو)
اندر جانے والا دروازہ بند تھا-اگر اسے کھولتی تو آواز باہر جاتی-وہ پریشان سی کھڑی ہوئی-تب ہی جالی دار الماری کے دروازے کے ہینڈل سے کچھ لٹکا ہوا نظر آیا-اس نے جھپت کر وہ اتارا سیاہ جاجٹ کا لبادہ-
اس نے چاند کی روشنی میں آنکھیں پھاڑ پھار کر دیکھنا چاہا
“واجعل فی نفس نورا- (اور میرے نفس میں نور ہو)
اس نے لبادہ کھولا-وہ سیاہ عبایا تھا اور ساتھ ایک گرے اسکارف-محمل نے پھر کچھ نہیں سوچا اور عبایا پہننے لگی-تبھی اسے احساس ہو وہ مردانہ کرتا شلوار میں کھڑی ہے اور ننگے پاؤں ہے-وہ عبایا بھی اسے غنیمت لگا تھا-
” واعظم لی نورا”-( اور میری ہڈیوں میں نور ہو-)
اسکارف کو اس نے بمشکل چہرے کے گرد لپیٹا-
عادت نہ تھی تو مشکل لگ رہا تھا-اب اسے کسی طرح نیچے جا کر سڑک تک پہنچنا تھا-آگے اپنے گھر کا رستہ تو آنکھیں بند کر کے بھی آتا تھا-
:الھم اعطنی نورا -” (اے اللہ مجھے نور عطا فرما-)
وہ اسی ترنم میں پڑھ رہی تھی-محمل تیزی سے عبایا کے بٹن بند کر کے اسکارف پر ہاتھ پھیر کے درست کر رہی تھی-کہ ایک دم اسے بہت خاموشی لگی-
باہر صحن بہت چپ سا پوگیا تھا-شاید اس لڑکی کی دعا ختم ہوگئی تھی-
اس نے قدرے گھبراہٹ قدرے جلد بازی میں دروازہ کھولنا چاہا-اسی پل اس لڑکی نے پیچھے گرل کی چوکھٹ پر قدم رکھا-
اسلام علیکم ۔۔۔۔ کون؟ چوکنی سی آواز اس کے عقب میں ابھری-تو اس کے بڑھتے قدم رک گئے-
دروازے پر ہاتھ رکھے رکھے وہ گہری سانس لے کر پلٹی۔۔۔۔۔
وہ سامنے شلوار قمیض میں ملبوس’سر پے دوپٹہ لپیٹے، ہاتھ میں کتاب پکڑے، الجھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی-
محمل کا دل زور سے دھڑکا تھا-وہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی جانے اب کیا ہوگا؟
وہ میں آپ ک یآواز سن کر آئی تھی بہت اچھی تلاوت کرتی ہیں آپ-
تلاوت نہیں دعائے نور تھی-میری آواز نیچے تک آرہی تھی کیا؟لڑکی کا انداز سادہ مگر محتاط تھا-محمل کا دماغ تیزی سے کال کر رہا تھا-اسے کسی طرح اس لڑکی کو باتوں میں الجھا کر وہاں سے نکلنا تھا-ایک دفعہ وہ سڑک تک پہنچ جائے گھر کے تمام راستے اسے آتے تھے-
“خوبصورت آواز ہر جگہ پہنچ جاتی ہے- میں تلاوت سمجھ کر آئی تھی معلوم نہ تھا آپ دعا مانگ رہی ہیں-
دعا مانگ نہیں یاد کر رہی تھی- آپ نے بتایا نہیں آپ کا نام؟
شائستگی سے کہتی وہ لڑکی دو قدم آگے آئی تو گرل سے چھن کر آتی چاندنی میں اس کا چہرہ داضح ہوا-
چکنی سپید رنگت-بے حد گلابی ہونٹ اور بادامی آنکھیں-جن کی رنگت سنہرے پکھراج کی سی تھی-گولڈن کرسٹل یہ پہلا لفظ محمل کے ذہن میں آیا تھا-اور اسے دیکھتے ہی وہ لمحے بھر کو چونکی تھی- بہت شدت سے محمل کو احساس ہوا تھا کہ اس نے اس لڑکی کو کہین دیکھا ہوا تھا-کہیں بہت قریب-ابھی کچھ وقت پہلے اس کے نقش نہیں یہ بھوری آنکھیں تھیں جو شناسا تھیں-
“میں محمل ہوں- جانے کیسے لبوں سے پھسل پڑا-مجھے دراصل راستے نہین پتہ تو بھٹک جاتی ہوں-
اوہ آپ ہوسٹل میں نئی آئی ہیں؟ نیو کمر ہیں؟
اور اسے امید کا ایک سرا نظر آگیا-وہ شاید کوئی گرلز ہاسٹل تھا- جی میں شام میں ہی آئی ہوں-نیو کمر اوپر آتو گئی ہو مگر نیچے جانے کا رستہ نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔۔
” نیچے آپ کے رومز تو تھرڈ فلور پر ہی ہے نا؟پھر نیچے ۔۔۔۔۔۔۔ اوہ آپ تہجد پڑھنے کے لیئے اٹھی ہوں گی یقینا – وہ خود سے ہی کہہ کر مطمئن ہوگئی-میں بھی تہجد کے لیئے پرے ہال میں جا رہی ہوں-آپ میرے ساتھ آجائیں-
اس لڑکی نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا’پھر گردن موڑ کر اسے دیکھا-
میں فرشتے ہوں-آجا ئیں- وہ دروازہ دھکیل کر آگے بڑھ گئی-تو محمل بھی متذبذب پیچھے ہو لی-
سامنے سنگ مر مر کی طویل راہداری تھی-دائیں طرف اونچی کھرکیاں تھیں جن سے چھن کر آتی چاندنی سے راہداری کا سفید مرمری فرش چمک رہا تھا-
فرشتے راہداری میں تیز تیز آگے چلتی جا رہی تھی-
وہ ننگے پاؤں اس کے تعاقب میں چلنے لگی-مردانہ کھلے پائنچے اس کے پاؤن میں آرہے تھے- مگر اوپر عباۓ نے ڈھانپ رکھا تھا-
راہداری کے اختتام پر سیڑھیاں تھیں-سفید چمکتے سنگ مر مر کی سیڑھیاں جو گولائی میں نیچے جا رہیں تھی-
اس نے ننگے پاؤں زینے پہ رکھے-رات کے اس پہر زینوں کا سنگ مر مر بے حد سرد تھا-یخ ٹھنڈا- وہ محسوس کیے بغیر تیز تیز سیڑھیاں اترنے لگی-
تین منزلوں کے زینے ختم ہوئے تو سامنے ایک کشادہ برآمدہ تھا-برآمدے کے آگے بڑے بڑے سفید ستون تھے اور سامنے لان نظر آرہا تھا-ہلکی چاندنی میں برآمدہ نیم تاریک سا لگ رہا تھا-
ایک کونے میں چوڑی بے حد چوڑی سیڑھیاں نیچے جاتی دکھائی دے رہی تھیں-فرشتے ان سیڑھیوں کی طرف بڑھی-تو لمحے بھر کو تو اسے خوف آیا-وہ بے حد چوڑی سیڑھیاں کافی نیچے جا رہی تھیں-مدھم چاندنی میں چند زینے ہی دکھائی دیتے تھے-آگے سب تاریکی میں گم تھا جانے کیا تھا نیچے؟
فرشتے کےے پیچھے وہ نیم تاریک زینے سہج سہج کے اترنے لگی-بہت نیچے جا کر فرش قدموں تلے آیا تو محسوس ہوا-کہ نیچے نرم سا قالین تھا-جس میں اس کے پاؤں دھنس گئے تھے-وہ ایک بے حد طویل و عریض کمرے میں کھڑی تھی-وہ کدھر شروع کدھر ختم ہوتا تھا کچھ پتہ نہ چلتا تھا-وہ ادھر ادھر گردن گماتی اندھرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی-
فرشتے نے دیوار پر ہاتھ مارا-بٹن دبانے کی آواز آئی-اور اگلے ہی لمحے جیسے پورا آسمان روشن ہوگیا-محمل نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا-
وہ ایک بہت بڑا سا ہال تھا-چھت گیر فانوس اور اسپاٹ لائٹس جگمگا اٹھی تھیں-ہال چھے اونچے ستونوں پہ کھڑا تھا- بے حد سفید ستون ، دیواریں رہشنیوں سے جگمگا تی اونچھی چھت اور دیواروں میں اونچی گلاس ونڈوز-
وضو کی جگہ وہ سامنے ہے-فرشتے نے اپنے دوپٹے کو پن لگاتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا-ٓ تو وہ جیسے چونکی -پھر سر ہلا کر اس طرف بڑھ گئی-
وضو کی جگی نیم تاریک تھی-سنگ مر مر کی چونکیاں اور سامنے ٹونٹیاں-ایک ایک ٹائل چمک رہی تھی-وہ ہر شئے کو ستائش سے دیکھتی ایک چوکی پر بیٹھ گئی اور جھک کر ٹونٹی کھولی-
فواد اور وہ اے ایس پی ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل ابراہیم کو سب فراموش ہو چکا تھا-
سنو کھلے دروازے سے فرشتے نے جھانکا-
بسم اللہ پڑھ کر وضو کرنا-
محمل نے یونہی سر ہلا دیا-پھر اپنے گیلے ہاتھوں کو دیکھا جن پر ٹونٹی سے پانی نکل کر پھسل رہا تھا-وہ سر جھٹک کر وضو کرنے لگی-
فرشتے جیسے اس کے انتظار میں کھڑی تھی-
محمل اس کے برابر نماز کے لیئے کھڑی ہو گئی شاید تہجد پڑھنی تھی- اس نے ہاتھ اٹھائے تو رات بھر کے تمام مناظر ذہن میں تازہ ہو گئے-درد کی ایک تیز لہر سینے میں اٹھی تھی-
دھوکہ دہی اعتماد کا خون،فراڈ بے وقوف بنائے جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا احساس ،کیا کچھ فواد نے نہیں کیا تھااس کے ساتھ؟وہ کس کس کا ماتم کرتی؟
سلام پھیر کے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے تو ساری عمر کی محرومیاں اور نا رسائیاں سامنے آگئیں-
میں کیا مانگوں؟مانگنے کی ایک طویل فہرست ہے میرے سامنے-مجھے کبھی وہ نہ ملا جس کی میں نے تمنا کی تھی-جو ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیئے انسان کے پاس ہونا چاہیئے،مجھے کبھی بھی وہ نہ ملا جو لوگ جمع کرتے ہیں-کیوں؟کیوں میرے پاس وہ سب نہیں ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں؟
اور جب کوئی جواب نہ دیا تو اس نے چہرے پر ہاتھ پھیر کے آنسو خشک کیئے اور سر اٹھایا-
سامنے ہال کے سرے پر ایک بڑا سا اسٹیج بنا تھا-درمیان میں میز اور کرسی رکھی تھی-ایک طرف فاصلے پر ڈائس بھی پڑا تھا-شاید وہاں درس و تدریس کا کام بھی ہوتا تھا-
کرسی کے پیچھے دیوار پر ایک بے حد خوبصورت خطاطی سے مذین فریم آویزاں تھا-اس پر وہ سرسری سی نگاہ ڈالتی ایک دم ٹھٹک کر رکی-
خوب صورت عربی کے نیچے اردو میں خوشخط لکا تھا-
“پس لوگوں کو چاہیئے اسی میں خوشی منائیں-
قرآن ان سب چیزوں سے بہتر ہے-جنہیں لوگ جمع کر رہے ہیں-
(یونس: 58)
وہ یک لخت چونکی-
کیا دیکھ رہی ہو محمل؟فرشتے بغور اسے دیکھ رہی تھی-
“یہی کہ میں نے بھی ابھی کچھ ایسا سوچا تھا-جو ادھر لکھا ہے کتنا عجیب اتفاق ہے نا-
اتفاق کی کیا بات ہے؟یہ فریم اسی لیئے تو ادھر لگا تھا-کیونکہ تم نے آج صبح یہی یہ بات سوچنی تھی-
مگر فریم لگانے والے کو تو علم نہیں تھا کہ میں یہی سوچوں گی-
لیکن اس آیت کے اتارنے والے کو تو تھا نا-“
وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی-کیا مطلب؟
جس نے قرآن اتارا ہے وہ جانتا ہے تم نے کب کیا سوچنا ہے اور یہ تمہاری سوچ کا جواب ہے-“
“نہیں اس نے شانے اچکائے-میری سوچ کا اس سے کوئی تعلق نہیں،میں تو بہت کچھ سوچتی رہتی ہوں-
مثلا کیاَ؟ وہ دونوں دو زانو ہو کر بیٹھی تھیں-اور فرشتے بہت نرمی سے اسے دیکھ رہی تھی-
“یہی کہ اچانک کسی بے قصور آدمی پہ مصیبت کیوں آجاتی ہے؟
غلط بالکل غلط ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں مانتی-وہ جیسے بھڑک اٹھی-ایک لڑکی کو اس کا تایا زاد پرپوز کرنے کے بہانے ڈنر کا جھانسہ دے کر خوب بننے سنورنے کا کہہ کر اپنے کسی عیاش دوست کے گھر جا کر ایک رات کے لیئے بیچ آئے یہ خواہ مخواہ کا ظلم خواہ مخواہ کی مصیبت نہیں کیا؟
نہیں-“
“نہیں؟ محمل نے بے یقینی سے پلکیں جھپکائیں-
ہاں قطعا نہیں-اسی صورت حال سے بچنے کے لیئے تو اللہ تعا لی نے بہت پہلے بتا دیا تھا-
یقینا اس لڑکی کو علم ہوگا کہ اسے ایک نامحرم کے لیئے تیار نہیں ہونا چاہیئے-اس کے ساتھ ڈنر پر نہیں جانا چاہیئے-کزن بھی تو نا محرم ہے-اور اسے یہ بھی پتہ ہوگا کہ اسے اپنا چہرہ ایسے ڈھکنا چاہیئے کہ کسی نامحرم بالفرض کزن کو بھی علم نہ ہوسکے کہ وہ اتنی خوبصورت ہے کہ وہ اسے بیچنے کا سوچے-
اب یہ بتاؤ ظلم ہے یا اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی؟
وہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ بنا پلک جھپکے فرشتے کو دیکھ رہی تھی-
اور یقینا “اپنے کزن کے جھانسے میں آنے سے پہلے اللہ کے حکم سے کسی نے اسے خبردار ضرور کیا ہوگا-اس کے ضمیر نے یا شاید کسی انسان نے مگر اس نے پھر بھی نہیں سنا اور اس کے باوجود اللہ تعالی اسے عذت اور حفاظت سے رکھے-یہ تو اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہے-ہم اتنے بے قصور ہوتے نہیں محمل جتنا ہم خود کو سمجھتے ہیں-
وہ کہے جا رہی تھی اور اس کے ذہن میں دھماکے ہو رہے تھے-
چچاؤں کا قطیعت سے فواد کے آفس میں کام کرنے سے منع کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کے الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ تنبیہہ جو سدرہ کی منگنی والے روز اس نے کی تھی-
اس نے اپنی دائیں کلائی دیکھی-اس پر ادھ مند مل ہوئے زخم کے نشان تھے-ہاں حسن نے اسے خبردار کیا تھا-
میں فرشتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔۔ واقعی مجھے-“
اپنی نادانیوں پر کسی کو گواہ نہیں بناتے محمل!
چلو فجر کی اذآن ہورہی ہے نماز پڑھتے ہیں-
آگہی کا آئینہ بہت بھیانک تصور پیش کر رہا تھا
اسے ایک ایک کر کے تمام باتیں پھر سے یاد آنے لگیں-فرشتے ٹھیک کہہ رہی تھی-سب سے زیادہ قصور تو خود اسی کا تھا-وہ آخر فواد کی گاڑی میں بیٹھی ہی کیوں تھی-اس نے دل اور مصحف میں سے دل کا انتخاب کیوں کیا تھا؟
اس نے بھیگی آنکھیں اٹھائیں- فرشتے اسی سکون سے رکوع میں کھڑی تھی- اور سامنے وہی الفاز چمک رہے تھے-قرآن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ جمع کر رہے ہیں-
اس کا دل رو دیا تھا-
کیسے ڈھٹائی سے اس نے اس سیاہ فام لڑکی کو مصحف واپس کیا تھا-اس سمے اس کی آواز میں کیسی بے رخی تھی-
ٹی وی پر اذان لگتی، یا تلاوت ہوتی تو وہ چینل بدل دیا کرتی تھی- سیپارے پڑھنا کتنا کٹھن لگا کرتا تھا-اور فجر تو سوائے پیپروں کے اس نے کبھی نہیں پڑھی تھی- اب وہی فجر پڑھنے کے لیئے وہ فرشتے کے برابر کھڑی ہو گئی تھی-
میرے اللہ مجھے گھر واپس پہنچا دے- وہ پھر سے رو دینے کو تھی- مجھے تیری قسم ہے میں پھر کبھی فواد بھائی کو کہیں بھی اکیلے نہیں ملوں گی- میں قسم کھاتی ہوں آئی سوئیر!
دعا مانگ کر قدرے پر سکون ہوئی تو چہرے پر ہاتھ پھیر کر اٹھی-
ایک بات پوچھوں فرشتے؟وہ دونوں ساتھ ساتھ ہال کی سیڑھیاں چڑھ رہیں تھیں-
پوچھو!
قسم کھانے سے اللہ مان جاتا ہے؟
“قسم نا پسندیدہ چیز ہے یہ قسمت نہیں بدلتی-جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے-
اور اگر قسم کھا لی جائے تو؟
تو مرتے دم تک اس کو نبھانا پڑتا ہے-آخری سیڑھی چڑھتے فرشتے ذرا سا چونکی-کوئی الٹی سیدھی قسم مت کھانا کہ یہاں سے رہائی ملنے پہ تم فلاں اور فلاں کام کرو گی-
رہائی؟برآمدے کی چوکھٹ پار کرتے ہوئے محمل گڑبڑا گئی-دل زور سے دھڑکا-
ہاں تمہیں گھر جانا ہے نا؟میں تمہیں چھوڑ آتی ہوں-وہ ساکت سی اسے دیکھے جا رہی تھی-
رک کیوں گئی آؤ نا؟
آپ کو ۔۔۔۔۔۔ آپ کو کیسے پتا چلا؟
بات یہ ہے محمل -اول تو تہجد کے وقت یہاں کوئی عبایا پہن کر نہیں پھرتا-دوم یہ کہ تم نے میرا عبایا اور اسکارف پہن رکھا ہے-اور سوئم میں نے تمہیں صحن پھلانگتے دیکھ لیا تھا-
محمل نے بوکھلا کر اپنے جسم پہ موجود عبایا کو دیکھا-جس سے لمبی مردانہ شلوار کے پائنچے ذرا ذرا سے جھانک رہے تھے-
وہ دراصل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہمایوں کی باتھ روم کی کھڑکی ہماری چھت پر کھلتی ہے- اس نے تمہیں باتھ روم میں بند کر دیا تھا؟میں اس سے بات کروں گی-اسے ایسے نہیں کرنا چاہیئے تھا-تھورا سا خشک مزاج ہے-مگر دل کا برا نہیں ہے-آؤ-پھر اس کی شاکڈ شکل دیکھ کر وضاحت کی- “ہمایوں میرا فرسٹ کزن ہے وہ برا آدمی نہیں ہے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی پل گیٹ کسی نے زور سے بجایا- ساتھ ہی بیل بھی دی-فرشتے نے گہری سانس لی-آؤ لڑکی – اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گیٹ تک لائی،پھر ہاتھ چھوڑ کر دروازہ کھولا-

 

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 38

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: