Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 11

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 11

–**–**–

 

فرشتے ادھر وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم اور یہ کیا غلط حرکت ہے؟تمہیں مسئلہ اس کے کزن کے ساتھ ہے تو اس کو کیوں باتھ روم میں بند کیا تھا؟
” بالکل ٹھیک کیا تھا ہے کدھر وہ؟ وہ جوابا بگر کر بولا تھا-
محمل سہم کر قدرے اوٹ میں ہوگئی-یہ تو وہی تھا وہ اس کی آواز پہچانتی تھی-
وہ میرے ساتھ ہے-مگر تمہیں اس س عزت کے ساتھ پیش آنا چاہیئے تھا-فرشتے کے لہجے میں دبی دبی سختی تھی-
جو بھی ہے تم اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں ہمایوں! تم اسے مجرم کی طرح ٹریٹ مت کرو-اس کا کیا قصور ہے؟وہ تو اپنے بھائیوں جیسے کزن پر ٹرسٹ کر کے معصومیت میں چلی آئی تھی-
وہ حق دق سنے جا رہی تھی-ابھی تو فرشتے کو بالواسطہ ساری کتھا سنا آئی تھی-اور تب فرشتے فواد کو نا محرم کہہ رہی تھی-اور اب ہمایوں کے سامنے اس کی نادانیوں پر کیسے پردہ ڈال رہی تھی-
اس کا قصور یہ ہے کہ یہ فواد کریم کی کزن ہے-
اسے لے کر آؤ-اب کے ہمایوں داؤد کا لہجہ متوازن تھا-فرشتے اسے راستہ دینے کے لیئے چوکھٹ پار کر کے باہر چلی گئی تو وہ دھڑکتے دل کے ساتھ گیٹ کی اوٹ سے نکلی-
سامنے ہی وہ کھڑا تھا-یونیفارم میں ملبوس’مکمل طور پر تیار،اکھڑ تیور اور ماتھے پر بل لیے-
جب میں نے بکواس کی تھی کہ وہاں رہو تو تم نے قدم کیوں باہر نکالا؟
نوکر نہیں ہوں میں آپ کی، جو آپ کا حکم مانوں- آپ ہے کون مجھے حکم دینے والے،ہاں؟وہ بھی جوابا غرائی تھی-
وہاٹ؟تم-“
زبان سنبھال کر بات کریں اے ایس پی صاحب!
میں مسجد میں کھڑی ہوں اور اب آپ کا مجھ پر کوئی زور نہیں ہے-اس نے گیٹ کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا-
تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ سخت کہتے کہتے ضبط کر گیا-پھر فرشتے کی طرف پلٹا جو خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی-
اس سے کہو میرے ساتھ آئے میں اس کا دشمن نہیں ہوں-
فرشتے نے خاموشی سے ہمایوں کی بات سنی اور جب وہ چپ ہوا تو وہ محمل کی طرف مڑی-
اس کے ساتھ چلی جاؤ یہ تمہارا دشمن نہیں ہے-
مجھے ان پر رتی برابر بھروسہ نہیں ہے-
ہونا بھی نہیں چاہیئے مگر تمہارے تنہا گھر جانے اور پولیس موبائل میں جانے میں فرق ہوگا-آگے تم اپنے فیصلوں میں آزاد ہو-
بات کچھ ایسی تھی کہ وہ خاموش سی ہو گئی-
ٹھیک ہے آئیں- اس نے باہر قدم رکھے،پھر پلٹ کر فرشتے کو دیکھا جو گیٹ کے ساتھ سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑی تھی-
اس کی پشت پر وہ عالیشان تین منزلہ عمات تھی- جس کے اونچے سفید ستون بہت وقار سے کھڑے تھے-جیسے کوئی بلند و بالا سفید محل ہو- اس کا گنبد نہ تھا مگر فرشتے اسے مسجد کہہ رہی تھی-
اس سے متصل بنگلہ اپنی خوبصورت آرائش کے ساتھ وہیں موجود تھا-جہاں اس نے رات میں دیکھا تھا-
تھینکس وہ کہہ کر رکی نہیں-
ہمایوں سامنے کھڑی پولیس موبائل کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا-وہ اعتماد سے چلتی ہوئی آئی اور فرنٹ ڈور کھول کر نشست سنبھالی-
آپ مجھے میرے گھر لے کے جا رہے ہیں؟
نہیں-سرد سا کہہ کر وہ گاڑی سڑک پر ڈال چکا تھا-
پھر؟پھر ہم کہاں جا رہے ہیں؟
تھانے!
مگر مجھے گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی مجھے بحث پسند نہیں ہے خاموش رہو-
اس کو جھڑک کر ہمایوں نے سپیؔڈ اور بڑھا دی-
وہ نم آنکھوں سے سامنے سڑک کو دیکھنے لگی-
جانے اس کی قسمت اس کو کیا کیا دکھانے والی تھی ؟
____________
آج آغا ابراہیم کی عالیشان محل نما کوٹھی کے لان میں صبح سے ہی سب جمع تھے-
آغا جان چہرے پہ ڈھیروں غیض و غضب لیے پر رعونت انداز میں کرسی پر برا جمان تھے- مہتاب تائی فضہ چاچی اور ناعمہ چاچی بھی پاس ہی کرسیوں پر بیٹھی معنی خیزی سے مدھم سرگوشیاں کر رہی تھیں- غفران چچا اور اسد چچا بھی پاس ہی پریشان بیٹھے تھے-
برآمدے کئ مختصر زینے پر آرزو بیٹھی تھی- گھٹنوں پہ پلیٹ رکھے، وہ اپنی ازلی بے نیازی سے توس پر جیم لگا رہی تھی-
اس کے پیچھے برآمدے میں بچھی کرسیوں پہ باقی لڑکیاں بیٹھی کھسر پھسر کر رہی تھیں-
حسن مضطرب سا گھاس پر ٹہل رہا تھا-بار بار اپنے سیل پر کوئی نمبر پریس کرتا وہ جھنجھلا رہا تھا-وسیم اپنے کمرے میں تھا اور ۔۔۔۔۔۔۔
فواد آغا جان کے برابر کرسی پر بیٹھا سرسری سا اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا- گاہے بگاہے سر اٹھا کر سب کے چہروں کے تاثرات دیکھتا-اس کے انداز میں اطمینان و سرشاری تھی-
بس ایک مسرت تھی جو کچن میں کرسی پر بیٹھی خاموش آنسو بہا رہی تھی- اس کی ساری زندگی کی ریاضت رائیگاں گئی تھی-محمل کل اکیڈمی کا کہہ کر باہر نکلی تھی اور جب شام تک واپس نہ آئی تو ان کا دل بیٹھنے لگا تھا- کتنے نوافل پڑھ ڈالے کتنی دعائیں کی مگر وہ واپس نہیں آئی-
یہ بات چھپنے والی کہاں تھی بھلا؟سب کو خبر ہو ہی گئی-آغا جان تو سراپا غیض و غضب بن گئے-تھانے جانے کی بات کی تو فواد نے ہی انہیؔؔں سمجھایا کہ گھر کی عزت داؤ پر لگانے کا فائدہ تھوری دیر مزید انتظار کر لیتے ہیں-
حسن اور اسد چچا ساری رات اسے ہسپتالوں ،مردہ خانوں اور سڑکوں پر تلاشتے رہے تھے-مگر جب تین بجے کے قریب ناکام گھر واپس لوٹے تو گھر میں جیسے صف ماتم بچھ گیا تھا-
عورتوں کی معنی خیز نگاہیں،مردوں کے ملامت بھرے فقرے مسرت کو اپنی روح میں گڑتی محسوس ہوئی تھی- وہ اسی وقت سے روئے چلی جا رہی تھی- کوئی صفائی کوئی دہائی نہیں ،بس لبوں پر ایک دعا محمل کی لاش کسی ندی نالے کسی ہسپتال سے مل جائے-وہ نہ ہو جو ان کی ساری محنت ساری ریاضت رائیگاں جائے-
بھاگ گئی کسی کے ساتھ،ارے میں تو پہلے ہی کہتی تھی-صبح کا سورج طلوع ہونے لگا تھا-جب تائی مہتاب کی آواز کچن میں سنائی دی تھی-
شک تو مجھے بھی یہی ہے-ناعمہ چاچی نے بلند سر گوشی کی-وہ سب رات سے جاگ رہے تھے- البتہ حسن کے علاوہ دوسرے لڑکے لڑکیاں بھر پور نیند لے کر ابھی بیدار ہوئے تھے-
“بس ! آغآ جان ایک دم دھاڑے اندر کچن میں روتی مسرت نے ایک دم دہل کر بھیگا چہرہ اٹھایا-
سب نے چونک کر آغآ جان کو دیکھا جن کا سرخ و سفید چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا-
“اب اگر وہ زندہ اس دہلیز پر آئی تو میں اسے زندہ یہی گاڑھ دوں گا سن لیا سب نے۔۔۔۔
ارے ایسی بیٹیوں کا تو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ دینا چاہیے-ابراہیم اس کو بھی ساتھ لے کر مرتا ہماری عزت داغ دار کرنے کے لیئے چھوڑ گیا اسے توبہ توبہ-
ضرور کسی کے ساتھ چکر تھا-قرآن اٹھا کر چھت پر جاتی تھی-تا کہ ہمیں اس پر شک نہ ہو-اسی لیئے تو میں نے اس دن کہا تھا-مگر کوئی سنے تو نہ- تائی مہتاب کو اپنا غم یاد آگیا تھا-
مسرت کا دل ڈوبتا چلا گیا-
“تم مر جاؤ محمل خدارا مر جاؤ مگر واپس نہ آؤ-ان کا دل درد سے چلا اٹھا-
آج کے بعد کوئی اس کا نام اس گھر میں نہیں لے گا اور اگر ۔۔۔۔۔۔ آغآ جان کی بات ادھوری رہ گئی-
کسی نے زور سے گیٹ پر دستک دی تھی-
سب نے چونک کر گیٹ کو دیکھا،یہاں تک کہ برآمدے کے زینے پر بیٹھی آرزو نے بھی اپنا سر اٹھایا-
مسرت دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی-صبح کے سات بجے پہلے تو کبھی ایسے دستک نہیں ہوئیں تھی-
حسن دروازہ کھولو- اسد چچا نے کہا تو حسن نے آگے بؔڑھ کر گیٹ کے چھوٹے دروازے کا ہک کھولا اور پیچھے ہوا-
دروازہ کھلتا چلا گیا-ایک مرمریں سپید ہاتھ دروازے پہ دھرا اور پھر چوکھٹ پہ اندر آتے سپید ننگے پاؤں دکھائی دیئے-
آغا جان بے چینی سے اٹھ کھڑے ہوئے-باقی سب بھی ساتھ ہی اٹھے سب کی نظریں گیٹ پر جم تھیں جہاں چھوٹے دروازے کو کھول کر وہ اندر داخل ہورہی تھی-
سیاہ پاؤن تک آتا عبایا اور چہرے کے گرد سختی سے لپیٹا سرمئی اسکارف،ننگے پاؤں ،سر جھکائے محمل ابراہیم نے قدم اندر رکھا-
حسن اس سے کہو یہاں سے دفعہ ہو جائے،ورنہ میں اس کا خون کر دونگا-آغآ جان زور سے دھاڑے تھے-ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ بے شرم لڑکی ورنہ -“
آپ کے باپ کا گھر ہے جو نکل جاؤں؟
وہ جو سر جھکائے اندر داخل ہوئی تھی ایک دم سر اٹھا کر بے خوفی سے غرائی کہ لمحے بھر کو سب بھونچکا رہ گئے-تائی مہتاب نے تو ششدر سی ہو کر منہ پر ہی ہاتھ رکھ لیا-
حسن الجھ کر محمل کو دیکھ رہا تھا اور فواد ۔۔۔
فواد اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا-
وہ اب پلٹ کر گیٹ کھول رہی تھی-
دوسرے ہی لمحے زن سے پولیس موبائل آگے پیچھے ڈرائیووے پہ اندر آئیں-کھٹا کھٹ دروازے کھلے اور سپاہی اتر کر تیزی سے اردگرد پھیلتے چلے گیے- پورے گھر کی تلاشی لو- بلند حکمیہ کہتا وہ ڈرائیونگ سیٹ سے نیچے اترا-یونیفارم میں ملبوس ،چہرے پر مدھم سی فاتحانہ مسکراہٹ لیئے وہ گھاس پہ کھڑے ان پتھر ہوئے لوگوں کے پاس آیا
وہ سب اتنا اچانک اور غیر متوقع تھاکہ کوئی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا-فواد کو ہی سب سے پہلے ہوش آیا-اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگائی جا رہی تھی-
کیا بکواس ہے؟اس نے غرا کر ہاتھ پیچھے کرنا چاہے-
اس بکواس میں لکھا ہے کہ تمہاری ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہو چکی ہے-اور یہ کہ تمہیں فوری گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے-
مسئلہ کیا ہے آفیسر؟کیا کیا ہے میرے بیٹے نے؟
آغا صاحب آپ کے بیؔٹے نے اپنی کزن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمایوں نے ایک نگاہ محمل پہ ڈالی جو گیٹ کے ساتھ سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑی نفرت بھری نظروں سے فواد کو دیکھ رہی تھی-محمل ابراہیم کو اپنی ایک پھنسی ہوئی فائل نکلوانے کے عوض ایک رات کے لیئے بیچا اور ابھی ناشتا کرتے ہوئے وہ غالبا اسی فائل کے اپروو ہونے کا انتظار کر رہے تھے-
آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے سر میرا بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:آپ کا بیٹا شمالی علاقہ جات کی لڑکیوں کے اغوا اور خریدو فروخت میں ملوث ہے،یہ آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی- اس دفعہ انہوں نے چالاکی کی اپنی کزن کا سودا کر کے انہیں متعلقہ پارٹی کے پاس بھیجا البتہ آپ کی بھتیجی پولیس کی حفاظت میں ہی رہی-کیونکہ وہ سب پولیس کے پلان کے تحت تھا-آغا فواد نے گینگ کو منظر عام پہ نہ لانے کے لیئے چال تو اچھی چلی تھی-مگر ہر چال کامیاب نہیں ہوتی-
محمل کا اس اے ایس پی کے ساتھ چکر تھا-فواد خاموشی سے سن کر آرام سے بولا” میں نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا ہے-اب اپنے کرتوت پر پردہ ڈالنے کے لیئے یہ مجھے پھنسا رہے ہیں تا کہ-
خاموش ہو جائیں- وہ پھٹ پڑی تھی-ایک لفظ بھی آپ نے میرے متعلق بولا تو منہ نوچ لوں گی آپ کا-آپ نے میرے ساتھ کیا کیا،آپ کو اندازہ ہے؟
ارے یہ کیا چپ رہے میں بتاتی ہوں تائی مہتاب کو جیسے ہوش آیا تھا-ایک دم سینے پر ہاتھ مارتی سامنے آئیں- سارا فساد اسی لڑکی کا مچایا ہوا ہے-یہ میرے بیٹے کو پھنسا رہی ہے-تا کہ اس کے کرتوت نہ کھلیں،آغا صاحب- انہوں نے تائید طلب نظروں سے آغا جان کو دیکھا اور پھر ادھر ادھر گردن گھمائی-سب خاموش کھڑے تھے- کسی نے ہاں یا ناں نہیں کی-
لڑکی کا نام محمل ابراہیم ہے- ہمایوں نے موبائل کا بٹن دبا کر ان کے سامنے کیا-اسپیکر سے آواز گونجنے لگی-فواد کی ؔآواز- جو بنا دقت پہچانی جاتی تھی-
” تین تاریخ،ہفتے کی شام وہ آپ کے پاس ہو گی- معصوم ان چھوئی اور نوجوان ہے- آپ کی ڈیمانڈ پہ پوری اترتی ہے– اور قہقہہ ۔۔۔۔۔۔
محمل کو اپنا چہرہ تمتماتا ہوا محسوس ہوا-
ذرا سے وقفے سے مختلف آوازیں گونجی تھیں-
فواد بھائی یہ لوگ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں-
“فواد بھائی یہ لوگ میرے ساتھ کچھ غلط کر دیں گے-
بکواس بند کرو اور میری بات غور سے سنو-
تمہں وہ ڈائمنڈ رنگ چاہیئے ہے نا؟ تو جیسے وہ کہیں کرتی جاؤ-بس ایک رات ہی کی تو بات ہے-صبح تمہیں ڈرائیور لینے آجائے گا-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: