Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 12

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 12

–**–**–

 

تو جیسے وہ کہیں کرتی جاؤ-بس ایک رات ہی کی تو بات ہے-صبح تمہیں ڈرائیور لینے آجائے گا-
ہمایوں نے بٹن دبایا،اور موبائل نیچے کیا- فواد نے سر جھٹکا-
آڈیو قانون کی عدالت میں قابل قبول نہیں ہوتا اے ایس پی صاحب-“
گھر کی عدالت میں تو ہوتا ہے-
اور وہ ٹھیک کہہ رہا تھا-ان سب کو سانپ سونگھ گیا تھا-ہر شخص اپنی جگہ ساکت و متاسف کھڑا تھا-
دیکھ لوں گا میں ایک ایک کو دیکھ لوں گا-
فی الحال تو تمہیں ایک لمبے عرصے تک جیل کی دیواروں کو دیکھنا ہوگا-
اسی دن کے لیئے-حسن ایک دم تیزی سے سامنے آیا اسی دن کے لیئے کہتا تھا کہ اس سے دور رہو،ساری دنیا جانتی ہے یہ کس قماش کا آدمی ہے-لڑکیوں کا کاروبار کرتا ہے-اسی لیئے تمہیں منع کرتا تھا-
مجھے منع کر سکتے تھے اس کے ہاتھ نہیں توڑ سکتے تھے؟ میری جگہ اپنی بہن ہوتی تو بھی کچھ نہ کرتے؟وہ جوابا ایسے تڑخ کر بولی کہ حسن کھڑا کا کھڑا رہ گیا-محمل کبھی ایسے نہ بولی تھی-
محمل ۔۔ میں-
مجھے آپ کی کوئی وضاحت نہیں چاہیئے- سب ایک سے ہیں-اس نے منہ پھیر لیا تھا-تب ہی اس نے برآمدے کے ستون کے ساتھ نڈھال سی مسرت کو دیکھا- جو جانے کب ادھر آکھڑی تھی-
ان کے قریب برآمدے کی سیڑھی پہ بیٹھی ؟آرزو بنا پلک جھپکے مبہوت سی اس مغرور اور وجیہہ سے اے ایس پی کو دیکھ رہی تھی-توس کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں رہ گیا تھا-
ؔآغا صاحب ! انہیں روکیں یہ میرے بیٹے کو کدھر لے جا رہے ہیں-وہ فواد کو لے جانے لگے تو تائی مہتاب آغا جان کا بازو جھنجھور کر رو پؔڑی تھیں-آغا جان چپ کھڑے تھے،بالآخر غفران چچا آگے بڑھے-
بھابھی بیگم! حوصلہ کریں ان شاءاللہ فواد شام تک گھر ہوگا-ان کی بات پر ہمایوں نے استہزائیہ سر جھٹکا اور پلٹا-
ایک منٹ) اے ایس پی صاحب-
آغا جان ٹھہرے ہوئے انداز مین مخاطب ہوئے تھے-وہ چونک کر پلٹا-
“یہ لڑکی رات باہر گزار آئی ہے-ہم شریف لوگ ہیں اسے قبول نہیں کر سکتے-آپ اسے بھی بھلے ساتھ ہی لے جائیے-
محمل ساکت رہ گئی-اسے لگا وہ کبھی اپنی جگہ سے ہل نہیں پائے گی-
واقعی ہمایوں نے ابرو اٹھائی-برآمدے کے ستون سے لگی محمل کے آنسو پھر سے ابل پڑے ۔۔۔۔۔۔۔
“جی واقعی! ان کے چبا کر کہنے پہ وہ مسکرایا-
“ٹھیک ہے محمل بی بی ! تھانے چلیئے آپ سلطانی گواہ ہیں،گواہی دیں اور فواد کریم کو ساری زندگی جیل میں سڑتا دیکھیں- میں نے تو سوچا تھا گھر کی بات گھر میں رہ جائے،لیکن اگر آپ چاہتے ہو کہ ساری دنیا کو علم ہو کہ فواد نے گھر کی بچی کا سودا کیا ہے تو ٹھیک ہے،ہم اس سلطانی گواہ کو ساتھ لے چلتے ہیں نہ آپ اس بچی کو سمجھا بجھا کر چپ کرا سکیں گے،نہ ہی کبھی باہر آئے گا- چلو محمل-
ارے نہیں اے ایس پی صاحب محمل ہماری بچی ہے-بھائی صاحب بس یونہی ناراض ہیں،ہمیں یقین ہے کہ یہ پولیس کی حفاطت میں رہی ہے-عزت سے گھر آئی ہے-غفران چچا نے بوکھلا کر بات سنبھالی-
نہ بھی یقین کریں ،تو بھی ہم نے محمل کو مسجد بجھوا دیا تھا-عورتوں کی مسجد ہے- میری بہن ادھر پڑھاتی ہے- اس نے آغا جان کو بغور دیکھتے ہوئے بہن پر زور دیا اور ایک سخت نظر ڈالتا ہوا پلٹ گیا-
وہ ابھی تک ویسے ہی شاکڈ ساکت کھڑی تھی-جیسے اسے آغا جان کے الفاظ کا ابھی تک یقین نہیں آیا تھا-
گاڑیاں گیٹ سے باہر نکل گئیں ۔۔۔۔ غفران چچا موبائل پر کوئی نمبر ملانے لگے- تائی مہتاب زور زور سے رونے لگیں-
یہ سارا اسی منحوس کا کیا دھرا ہے-اسے گھر سے نکالیئے آغا صاحب،کمبخت نے میرے بچے کو پھنسا دیا- اپنے باپ کے ساتھ کیوں نہیں مر گئی؟
وہ جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھی مگر حسن درمیان میں آگیا-
کیا کر رہی ہیں آپ تائی اماں؟ان کے دونوں ہاتھ گرفت میں لیئے اس نے بمشکل انہیں باز رکھا-
“بھلا ایک لڑکی کے کہنے پر فواد کریم جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے آدمی کے اریسٹ وارنٹ جاری ہو سکتے ہیں؟
یہ جھوٹ بکتی ہے میں اسے جان سے مار دوں گی-
محمل اندر جاؤ – فضہ چاچی نے آہستہ سے کہا تو وہ چونکی پھر اندر کی طرف دوڑی-
فضہ اور ناعمہ نے معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا-آغا جان ڈرائیووے کی طرف بڑھ گئے تھے-تائی اماں ابھی تک حسن کے بازوؤں میں رو چیخ رہی تھیں-
وہ بھاگتی ہوئی برآمدے کے سرے پر رکی ستون سے لگی کھڑی مسرت نے منہ پھیر لیا- اسے دھکا سا لگا-
اماں ۔۔۔۔۔ ! اس کی آنکھوں میں مرچیں سی چبھنے لگیں-
اے محمل ۔۔۔۔۔! آرزو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ذرا سا چونکی-
یہ ہینڈسم آفیسر کون تھا؟
یہ ہمایوں تھا ہمایوں داؤد-
ہوں نائس نیم-کدھر رہتا ہے؟
جہنم میں-ایڈریس چاہیئے؟وہ زہر خندہ ہوئی تو آرزو نے منہ سا بنا لیا- محمل اس کا ہاتھ جھٹک کر ایک شکوہ کناں سی نظر ماں پر ڈال کر اندر بھاگتی گئی-
ہمایوں داؤد ۔۔۔۔۔۔۔ ! آرزو زیر لب مسکرائی- اور پھر توس کھانے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گھر میں اگلے کئی روز تک خاموشی چھائی رہی-بس ایک حسن تھا جو ہر وقت ہر ایک کے سامنے اس کا دفاع کرتا نظر آتا تھا-
اگر محمل کی جگہ آرزو ہوتی تو بھی آپ یہی کہتی چچی؟وہ ناعمہ کی کسی بات پر بھڑک کے بولا – تو وہ جو سر منی لپیٹے اندر پڑی تھی-جھٹکے سے اٹھی اور تیزی سے باہر آئی-
آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے ہر ایک کے سامنے میری صفائی دینے کی-وہ لاؤنج میں آ کر ایک دم چکا کر بولی تو سب چونک کر اسے دیکھنے لگے-
مگر محمل!
اگر ان لوگوں نے یونہی مجھے پورے خاندان میں بے عزت کرنا ہے تو ٹھیک ہے-اگر عزت ایک دفعہ چلی گئی تو میں کس عزت کو بچانے کے لیئے کورٹ میں چپ رہوں گی؟ میں بھی بھری عدالت میں پورے شہر کو بتاؤں گی سن لیں آپ سب-
اپنے پیچھے دھاڑ سے دروزہ بند کر کے اس نے پھر سے خود کو کمرے میں بند کر لیا-
اندر مسرت بستر کی چادر درست کر رہی تھیں-
اسے آتا دیکھ کر لمحے بھر کو سر اٹھایا،پھر واپس کام مصروف ہوگئیں-
” آپ بھی مجھ سے ناراض ہیں اماں؟ مسرت خآموشی سے تکیئے پہ غلاف چڑھاتی رہی-
“اماں ! اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے- وہ تکیئے درست کر کے دروازے کی طرف بؔڑھی-
میں نے کیا کیا ہے اماں؟وہ رو پڑی تھی-
دروازے کی طرف بڑھتی مسرت نے گردن موڑی-
“تم نے اچھا نہیں کیا محم- وہ بہت دنوں بعد بولی تھیں-
اماں- وہ تڑپ کر ان کے قریب آئی- فواد بھائی نے مجھےفنکشن کا کہہ کر ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے پتا ہے-
پتہ ہے مگر یقین نہیں ہے؟
” میں برسوں ان کی خدمت کرتی رہی کہ شاید کبھی یہ ہمیں کچھ عزت دیں، مگر میری بیٹی ان ہی کے بیٹے کو پکڑوا کر کورٹ کچہری میں گواہی دیتی پھرے ۔۔۔۔۔۔ پہلے زندگی کم مشکل تھی محمل جو تم نے اور مشکل بنا دی؟ وہ تھکی تھکی سی پلٹ گئی-
وہ نم آنکھوں سے انہیں جاتے ہوئے دئکھتی رہی-
ایک غلط قدم اسے یہاں لا پہنچائے گا اس نے سوچا بھی نہ تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پھر کتنے ہی دن وہ ماتم کرتی رہی، اس کے پاس رونے کو بہت کچھ تھا- پھر کئی دنوں بعد اسے عبایا اسکارف اور مردانہ شلوار قمیض کا خیال آیا تو دہنوں کو الگ الگ شاپر میں ڈال کر فرشتے کو واپس کرنے نکلی-
کوئی ضرورت نہیں ہے ہمایوں داؤد کے منہ لگنے کی فرشتے کو واپس کر دوں گی-وہی آگے پہنچا دے گی-اس نے سوچا تھا-
بس اسٹاپ کا بینچ اب ویران ہوتا تھا-وہ سیاہ فام لڑکی مڑ کر کبھی واپس نہیں آئی تھی-جانے کون تھی کہاں سے آئی تھی وہ اکثر سوچتی رہ جاتی-
بس سے اتر کر اس نے سڑک پر کھڑے گردن اونچی کر کے یکھا-وہ دونوں عمارتیں ساتھ ساتھ تھیں-ہمایوں داؤد کا کا بنگلہ سبز بیلوں سے ڈھکا تھا اور ساتھ موجود سفید ستونوں والی عمارت کوئی انسٹیٹیوٹ تھا شاید-
کوئی ضرورت نہیں ہے اس فضول انسان کا دروازہ کھٹکھٹانے کی-میں مسجد میں ہی چلی جاتی ہوں- وہ مسجد کے سیاہ گیٹ کے سامنے آئی-گیٹ کا سیاہ لوہا چمک رہا تھا-اسے اس چمکتے لوہے میں اپنا عکس نظر آیا-
بلیو جینز کے اوپر گھٹنوں تک آا کرتا’گردن سے لپٹا دوپٹہ،اونچی بھوری پونی ٹیل بانھے ماتھے پر بل ڈالے وہ اپنے مخصوص حلیئے میں تھی-
گیٹ کے اس طرف ایک بورڈ لگا تھا جس کو وہ پہلے نہ دیکھ سکی تھی- اس پر واضح لکھا تھا-
No men Allowed (مردوں کا داخلہ ممنوع ہے)
ساتھ باوردی گارڈ بیٹھا تھا- اس نے گہری سانس لے کر اندر قدم رکھا-
بڑا سا سر سبز کال- سامنے سفید سنگ مر مر کا چمکتا برآمدہ -برآمدے کے کونے میں ریسپشن ڈیسک کے پیچھے کھڑی لڑکی’ جو سیاہ عبایا کے اوپر سرمئی اسکارف میں ملبوس فون کان سے لگائے محو گفتگو تھی-
سامنے سے سفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک لڑکی چلی آرہی تھی-اس نے عنابی اسکارف لے رکھا تھا-جیسے یونیفارم ہو-محمل کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے مسکرا کر اسلام علیکم کہا ۔۔۔۔۔
“جی؟” وہ چونکی-وہ لرکی مسکرا کر اس کے پاس سے گزرتی چلی گئی-
ہیں اس نے مجھے سلام کیں کیاَ؟کیا یہ مجھے جانتی ہے؟ وہ الجھ ہی رہی تھی کہ ریسپشنسٹ کی آواز آئی-
اسلام علیکم کین آئی ہیلپ یو؟
جی- مجھے فرشتے سے ملنا ہے- وہ ڈیسک کے قریب آئی-
فرشتے باجی کلاس میں ہونگی-اندر کاریڈور میں رائٹ فرسٹ ڈور ۔۔۔۔۔۔۔
اچھا-
وہ ادھر ادھر دیکھتی سنگ مر مر کے فرش پر چلتی جارہی تھی–
مرتین سے مراد بنی اسرائیل میں ہونے والا دو مرتبہ کا فساد ہے-مفسر کے مطابق پہلی دفعہ سے مراد ثکریا کا قتل، جبکہ دوسری دفعہ سے مراد عیسی علیہ السلام کے قتل کی سازش مراد ہے-
اس نے کھلے دروازے سے گردن اندر کی-سامنے بنے پلیٹ فارم پہ کرسی پہ کرسی پہ وہ بیٹھی اپنے آگے میز پر کتاب کھولے مصروف سی پڑھا رہی تھی-اس کے سامنے قطار در قطار لڑکیاں کرسیوں پہ بیٹھئی تھیں- عنابی اسکارف میں لپٹے بہت سے جھکے سر اور چلتے قلم-وہ واپس پلٹ گئی-
برآمدے میں ریسیپشن ڈیسک کے سامنے دیوار سے لگے کاؤچ پہ بیٹھی کے وقت کاٹنا اسے بہتر لگا،سو کتی ہی دیر وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی پاؤں جھلاتی چیونگم چباتے ہوئے تنقیدی نگاہوں سے اردگرد گزرتی لڑکیوں کا جائزہ لیتی رہی-
وہاں ایک منظم سی چہل پہل ہمہ وقت ہورہی تھی-وہ جیسے کوئی اور ہی دنیامیں تھی- یونیفارم میں ملبوس ادھر ادھر تیزی سے آتی جاتی لڑکیاں-وہاں ہر طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں-اسٹوڈنٹس کی شلوار قمیض اور اوپر کسی رنگ کا اسکارف تھا،جبکہ تمام ٹیچرز اور آفیشلز کے سیاہ عبائے اور سرمئی اسکارف تھے – ان کئ عبائے اور اسکارف لینے کا انداز بے حد نفیس تھا-
بہت پر اعتماد ،ایکٹو اور مصروف سی لڑکیاں جیسے وہ الگ سی دنیا لڑکیاں ہی چلا رہی تھیں-کچھ تھا اس مسجد میں جو محمل کو کہیں اور نظر نہیں آیا
٭٭٭٭٭
ا سلام علیکم- اگر آپ بور ہورہی ہیں تو اس کا مطالعہ کرلیں-
شیور- اس نے شانے اچکا کے اس ریسپشنسٹ کے ہاتھ سے وہ دبیز کتاب لے لی-
چند صفحے پلٹتے ہی اسے وہ شام یاد آئی جبآغا جان نے اسے ٹیرس پہ اس سے وہ سیاہ جلد والا مصحف چھینا تھا-
وہ قرآن کی سادہ ٹرانسلیشن تھی-
وہ یونہی درمیان سے کھول کر پڑھنے لگی-
اور اس نے ہی غنی کو اور مالدار بنایا ہے-اور وہی ہے جو شعری(ستارے) کا رب ہے اور بلا شبہ اس نے ہی پہلی قوم عاد کو ہلاک کیا اور قوم ثمود کو بھی-باشبہ یہ سب انتہائی ظالم و سرکش لوگ تھے اور اسی نے پلٹا الٹی ہوئی بستیوں کو- پھر ان پر چھا گیا جو چھانا تھا-تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں پہ جھگڑو گے؟یہ تو تنبیہہ تھی- پہلی تنبیہات میں سے-آنے والی قریب آگئی-اللہ کے علاوہ! کوئی ظاہر کرنے والا نہیں تو کیا تم اس قرآن سے تعجب کرتے ہو ہنستے ہو،روتے نہیں اور کھیل تماشا کر رہے ہو؟
محمل؟ ارے ۔۔۔۔۔ !
وہ جو بالکل کھو کے پڑھتی جا رہی تھی،بری طرح چونکی –
فرشتے سامنے کھڑی تھی-اس نے قرآن بند کیا اور میز پہ رکھ کر کھڑی ہوئی-
اسلام علیکم کیسی ہو؟
فرشتے اس کے گلے لگ کر الگ ہوئی اور اسے شانوں سے تھام کر مسکرا کر دیکھا-وہ محمل سے دو انچ لمبی تھی-شفاف سپید چہرہ سرمئی اسکارف میں مقید اور وہ کانچ سی بھوری آنکھیں-
میں ٹھیک ، آپ کیسی ہیں؟
الحمد للہ- اتنے دنوں بعد تمہیں دیکھ رہی ہوں،گھر میں سب ٹھیک ہے؟
جی- اس نے نگاہیں جھکائیں اور بہت سی نم اپنے اندر اتاری-
چلو کوئی بات نہیں،سب ٹھیک ہوجائے گا-
آپ کی چیزیؔں تھی میرے پاس- اس نے شاپر اوپر کیا-
“میں سمجھی، تم میرے لیئے کوئی گفٹ لائی ہو- “وہ ہنسی اور شاپر لے لیا- کوئی تکلف نہیں کوئی خالص سا اندازہ – سچا اور خالص-
لیکن اگر تم یہ رکھنا چاہو تو ۔۔۔۔۔۔
نہیں میں یہ عبایا وغیرہ نہیں لیتی –
نو پرابلم دین – بہت شکریہ -وہ خوش دلی سے مسکرائی تو محمل کو اچھا لگا-
بہت مذہبی لوگ عموما اتنے سنجیدہ اور سخت نظر آتے ہیں کہ جیسے ایک وہی نیک مومن ہوں اور باقی سب گناہگار کافر -اسے ایسے لوگوں سے شدید چؔڑ تھی-جن کے سامنے اسے لگے کہ وہ بہت گناہگار سمجھ رہا ہے-مگر فرشتے اور اس کی مسجد کی لڑکیاں اس روایتی امیج سے بہت مختلف تھیں-
یہ ان کا ہے-اس نے دوسرا شاپر آگے کیا-ہمایوں کا ؟
جی-
“اچھا ہمایوں کبھی شہر میں ہوتا ہے کہیں نہیں-
میرا اس سے ایزسچ کونٹیکٹ نہیں رہنا- میں بھول بھی جاتی ہوں بہت اگر تم یہ اس کے چوکیدار کو دے دو تو وہ پہنچا دے گا-
فرشتے انہوں نے آپ کو اپنی اور فواد بھائی کی ڈیل کے بارے میں بتایا تھا؟
ڈیل نہیں ،وہ دراصل آغا فواد سے بہت تنگ تھا- اور اسے اس کی گینگ کی کسی لڑکی کے ذریعے پلڑنا چاہتا تھا-
وہ گینگ کی لڑکی کی توقع کر رہے تھے تو آپ کو کیسے علم ہوا کہ ان کی کزن ہوں؟
تم نے خود بتایا تھا جب ہم پرئیر ہال میں تہجد پڑھ رہے تھے-
اوہ کئی دن کی الجھن سلجھ گئی-میں تو گینگ کی لڑکی نہیں تھی،پھر انہوں نے فواد بھائی کو کیسے اریسٹ کرلیا؟
یہ تو تم ہمایوں سے پوچھنا- میری تو عرصے سے اس سے بات نہیں ہوئی-
ٹھیک دو بجنے کو ہیں فرشتے میں پھر آؤں گی-
اور وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا ہمایوں سے زیادہ رابطہ نہیں رہتا،مگر اسے فواد کے کیس کی ہر بات معلوم تھی-
عجیب بات تھی-
اور میں دعا کروں گی کہ کبھی تم ہمارے ساتھ آ کر قرآن پڑھو-
معلوم نہیں-شاید میں کچھ عرصے تک انگلینڈ چلی جاؤں-
اوہ فرشتے کے چہرے پر سایہ سا لہرایا-
آپ مسجد میں قرآن پڑھاتے ہیں؟
ہاں،یہ در اصل ایک اسلامک اسکول ہے-ہوں میں چلتی ہوں-وہ اسے لان تک چھوڑنے آئی-
تمہیں کبھی کسی نے اس کتاب کی طرف نہیں بلایا محمل؟ جاتے سمے اس نے پوچھا تو اس کے قدم رک گئے- یادوں کے پردے پر ایک سیاہ فام چہرہ لہرایا تھا-
بلایا تھا، مگر میں نے دل کا انتخا ب کیا اور میں خوش تھی-اس نے کہا تھا یہ کتاب سحر کر دیتی ہے-اور مجھے مسحور ہونے سے ڈر لگتا ہے-
“کتاب سحر نہیں کرتی پڑھنے والا خود سحر زدہ محسوس کرتا ہے-ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
“بہت سے لفظوں کو الگ الگ پرکھنا سیکھو نہیں تو زندگی کی سمجھ نہیں آئے گی-
فرشتے چلی گئی اور وہ شاپر اٹھائے خود کو گھسیٹتی ہوئی باہر نکلی-
ساتھ والے گیٹ میں اندر جاتی گاڑی لمحے بھر کو رکی- شیشہ نیچے ہوا-سر پر کیپ اور وجیہہ چہرے پر ڈارک گلاسز لگائے اس نے اسے دیکھا تھا جہ گیٹ کے سامنے کھڑی تھی- وہ چوکیدار کو کچھ کہہ کر گاڑی زن سے اندر لے گیا-
چوکیدار بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا-
صاحب کہہ رہے ہیں آپ کو اندر ڈرائنگ روم میں بٹھایئں وہ آتے ہیں-
تمہارے صاحب نے سوچا بھی کیسے کہ میں اس سے ملنے آئی ہوں-مائی ٖفٹ- یہ پکڑو اور اپنے صاحب کے منہ پر مارنا-غصے سے اس کی آواز بلند ہونے لگی- سارا کیا دھرا اس شخص کا تھا-اسے اس پے بے طرح غصہ ایا تھا- اس نے شاپر اسے تھمایا-
اسی پل وہ کیپ ہاتھ میں لیئے تیزی سے چلتا ہوا اس تک آیا-
“خان گیٹ بند کردہ اور بتول سے کہو چائے پانی کا بندوبست کرے- مہمان ہیں-اور آپ پلیز اندر آجائیں- شائستہ و ہموار لہجہ وہ قطعا مختلف لگ رہا تھا-
مجھے اندر آنے کا کوئی شوق نہیں ہے-“لیکن آغا فواد کے باہر آنے کی خبر سننے کا ہوگا؟
وہ متذبذب سی سوچتی رہ گئی تو ہمایوں نے مسکراتے ہوئے راستہ چھوڑ دیا-
دن کی روشنی میں اس کا لاؤنج اتنا ہی نفیس جتنا اس دن رات کو لگا تھا-
اونچی دیوار گیر کھڑکیوں کے ہلکے پردے نفاست سے بندھے تھے’سنہری روشنی چھن کر اندر آرہی تھی- کونوں میں نفاست سے لگے مغلیہ دور طرز کے سنہری گملوں میں لگے پودے بہت ترو تازہ لگ رہے تھے-
بہٹھیے-وہ ہاتھ سے اشارہ کرتا سامنے صوفے پر بیٹھا-اس کے چہرے پہ کھڑکی سے روشنی سیدھی پڑ رہی تھی-
تھینک یو-وہ ذرا تکلف سے بیٹھی-اس کا صوفہ اندھیرے مین تھا-ہمایوں کو اس کا وجود بھی اسی تاریکی کا حصہ لگا تھا-
آپ نے جو بھی کہنا ہے ذرا جلدی کہیئے؟
ڈر گئی ہیں؟ وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے ٹیک لگائے محفظ سا مسکرایا-
میں ڈرتی نہیں ہوں- بلکہ آپ کو بے حد نا قابل اعتبار سمجھتی ہوں-
شوق سے سمجھیں-مگر میں نے آپ کو اغوا نہیں کیا تھا-آپ کورٹ میں میرے خلاف بیان نہیں دے سکتیں-
آپ کو کس نے کہا کہ میں آپ کے خلاف بیان دے رہی ہوں-
آپ کے تایا نے-
محمل نے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا- بات کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی تھی-
وہ کہتے ہیں آپ کورٹ مین یہ بیان دیں گی کہ میں نے آپ کو حبس بے جا میں رکھا تھا-اور یقینا وہ اس کے لیئے آپ پر دباؤ ڈالیں گے-
آپ کو کیوں لگا کہ انہین مجھ پر دباؤ ڈالنا پڑے گا؟وہ اب مطمئن سی ٹانگ پہ ٹانگ رکھے جھلا رہی تھی- انداز میں ہلکا سا طنز تھا-ہمایوں ذرا چونک کر سیدھا ہوا- کیا مطلب؟
حبس بے جا میں تو آپ نے مجھے رکھا تھا اے ایس پی صاحب ۔۔۔۔۔
مس محمل ابراہیم اتنی آسانی سے اتنے بڑے بیان نہیں دیئے جا سکتے-حالانکہ اپ جانتی ہیں کہ میں بے قصور ہوں-
بے قؔصور؟اگر آپ مجھے گھر جانے دیتے تو مین یوں بدنام نہ ہوتی-
پہلے آپ بے ہوش ہوئیں،حالانکہ آپ اس وقت ایک اے ایس پی کی تحویل میں تھیں- ہمایوں داؤد کی نہیں-اگر آپ دیوار نہ بھلانگتی تو میں رات میں ہی اپ کا بیان لے کر آپ کو اکیلے گھر چھور آتا-
مجھے کمرے مین بند کرتے وقت تو آپ نے کسی بیان کا ذکر نہیں کیا تھا-
مجھے قانون مت سکھائین-وہ میرا تفتیش کا طریقہ تھا-
اور آپ کے اس طریقے میں بھلے کوئی بدنام ہو جائے؟
تو ہوجائے مجھے پرواہ نہیں-
آپ ۔۔۔۔۔۔ اس کا دل چاہا وہ گملے اس کے سر پر پھوڑ دے-
“میم اس وقت آپ کو آپ کے گھر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا-ہم فواد کو ڈھیل دے رہے تھے-میں جانتا تھا آپ مسجد گئی ہیں- اور فجر سے پہلے مسجد کے دروازے نہیں کھلتے-سو میں اذان سنتے ہی آپ کو لینے آیا تھا-
مجھے آپ کی کہانی نہیں سننی -وہ پیر پٹختی اٹھی-وہ ابھی تک تاریکی میں تھی-جس سے اس کے چہرے کے نقوش مدھم پڑ گئے تھے-
نہ سنیں مگر میرا کارڈ رکھ لیں-ہوسکتا ہے آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑے ۔۔۔۔
اس نے ایک کارڈ اس کے ہاتھ میں گویا زبردستی رکھنا چاہا-
مجھے ضرورت نہیں ہے-اس نے پکڑ تو لیا مگر جتانا نہ بھولی اور پھر اسی طرح کارڈ پکرے باہر نکل گئی-
وہ لاؤنج میں تنہا کھڑا رہ گیا-کھڑکی سے چھن کر اتی روشنی ابھی تک اس کے چہرے پپ پر رہی تھی-
٭٭٭٭٭
لاؤنج میں سب بڑے موجود تھے-وہ سر جھکائے کارڈ کو احتیاط سے پاکٹ میں چھپا کر اندر جانے لگی-
محمل! غفران چچا نے قدرے رعب سے پکارا-
آغا جان نے تو اسے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا تھا-وہ اس دن سے اس سے مخاطب نہیں ہوئے تھے-
جی؟ وہ ناگواری سے رکی ۔۔۔۔
کدھر سے آرہی ہو؟
پرچہ کٹوانے گئی تھی تھانے!
واٹ؟ غفران چچا غضب ناک سے اس کی طرف بڑھے-
” جی آپ کے فواد آغا کے خلاف پرچہ کٹوانے گئی تھی- کیوں؟نہیں کٹوا سکتی؟وہ ان کے بالکل سامنے کھڑی بلند آواز میں بد لحاظی سے بول رہی تھی- اور مجھ سے آئندہ سوال جواب مت کیجیئے گا،میں جدھر بھی جاؤں میری مرضی-آپ لوگ ہوتے کون ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔۔
چٹاخ کی آواز کے ساتھ اس کے منہ پر تھپڑ لگا تھا-
وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹی تھی- اور چہرے پہ ہاتھ رکھے بے یقینی سے غفران چچا کو دیکھا-
پرچہ کٹواؤ گی تم؟ہاں؟ انہوں نے اس کو بالوں سے پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا-
ہاں ہاں کٹواؤں گی- مجھے نہیں روک سکتے آپ لوگ-وہ حلق پھاڑ کے چلا ئی تھی-
دوسرے ہی لمحے اسد چچا اٹھے اور پھر ان دونوں بھائیوں نے کچھ نا دیکھا-تابڑ توڑ اس پر تھپڑوں کی برسات کردی ۔۔۔۔
آغاجان بڑے صوفے پر آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے اسے پٹتے دیکھتے رہے تھے- تائی مہتاب ناعمہ اور فضہ بھی قریب ہی بالکل خاموش بیٹھی تھیں- سامیہ کچن کے کھلے دروازے میں کھڑی تھی-اوپر سیڑھیوں سے ندا جھانک رہی تھی-
وہ اسے بری طرح گالیاں بکتے مارتے چلے گئے-وہ صوفے پر بے حال سی گری چیخ چیخ کر رو رہی تھی،مگر ان دونوں نے اسے نہیں چھوڑا-
بول کٹوائے گی پرچہ؟وہ دونوں بار بار یہی پوچھتے، یہاں تک کے نڈھال سی محمل میں جواب دینے کی سکت نہ رہی تو انہوں نے ہاتھ روک لیا- صوفے کہ ایک ٹھوکر مار کر غفران چچا باہر چلے گئے-
امی امی- وہ صوفے پر گری منہ پہ بازو رکھے گھٹی گھٹی سسکیوں سے رو رہی تھی-مسرت ادھر کہیں بھی نہیں تھی-آہستہ آہستہ سب بڑے ایک ایک کر کے اٹھ کر باہر چلے گئے-سیڑھیوں سے لگی تماشا دیکھتی لڑکیاں بھی اپنے کمروں کو ہو لیں-
” مر جاؤ تم سب اللہ کرے تم سب کے بچے مر جائیں،چھت گرے تم لوگوں پر -گردن کاٹ دوں میں تمہارے بچوں کی ۔۔۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی گھٹ گھٹ کے بد دعائیں دیئے جا رہی تھی-
کتنی ہی دیر بعد لاؤنج کا دروازہ کھلا اور دن بھر کا تھکا ہارا حسن اندر داخل ہوا- کوٹ بازو پر ڈالے ٹئی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ ممی ممی پکارتا ذرا آگے آیا تو ایک دم ساکت رہ گیا-
کارپٹ پہ بکھرے کشن اور ایک صوفہ جسے ٹھوکر مار کر جگہ سے ہٹا دیا گیا تھا- اس پے عجیب طرح سے گری محمل ۔۔۔۔۔۔ بکھرے بال چہرے پر نیل ۔۔ باذوؤں پر سرخ نشان ۔۔۔ وہ بازوؤں سے آدھا چہرہ چھپائے سسکیوں سے رو رہی تھی-
وہ متحیر سا چند قدم آگے آیا-
محمل! وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا کس نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس نے کیا یہ سب؟
مر جاؤ تم ! ایک دم بازو ہٹا کر اس نے حسن کو دیکھا اور پھر چلائی تھی-خدا کرے تم سب مر جاؤ،یتیموں پر ظلم کرتے ہوخدا کرے تمہارے بچے مر جائیں – سب کے-
محمل مجھے بتاؤ یہ کس نے کیا ہے میں-
مرجاؤ تم سب وہ پوری قوت سے چلائی اپھر یکدم بلک کر رودی اور اٹھ کر لڑ کھڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کا تیسرے پہر اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا-مدھم سی چرچراہٹ سنائی دی اور پھر خاموشی چھا گئی-لاؤنج سنا ٹے اور تاریکی میں ڈوبا تھا-
وہ دکھتے جسم کو زبردستی گھسیٹتی ٹی وی لاؤنج تک لائی-ساتھ ہی فون اسٹینڈ رکھا تھا-اس نے لارڈ لیس نکالا اور ادھر ادھر احتیاط سے دیکھتی واپس آئی-
مسرت آج گھر پے نہ تھی-صبح جب وہ مسجد جانے کے لیئے نکلی تھی تب مسرت گھر میں ہی تھی-مگر شاید اس کے جاتے ہی ان کو کہیں بھیج دیا گیا تھا-غالبا رضیہ پھپھو کے گھر-
وہ دروازے کی کنڈی لگا کر بیڈ پر بیٹھی تھی-لایٹ آن کر رکھی تھی-سامنے دیوار پر آئینہ لگا تھا-اسے اپنا عکس سامنے ہی دکھائی دے رہا تھا-
لمبے بال چہرے کے اطراف میں گرے سوجے ہونٹ- ماتھے اور گال پہ سرخ سے نشان جو نیلے پر رہے تھے-اس نے بے اختیار بال کانوں کے پیچھے اڑسے-وہ کارڈ ابھی تک جینز کی جیب میں تھا-اس نے مڑا تڑا سا وہ کارڈ نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگی-
پہلی گھنٹی پوری بھی نہ گئی تھی کہ چوکنی سی ہیلو سنائی دی-
اے ۔۔۔۔ اے ایس پی صاحب؟اس کی آواز لڑکھڑائی-
کون؟ وہ چونکا تھا-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: