Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 13

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 13

–**–**–

 

پہلی گھنٹی پوری بھی نہ گئی تھی کہ چوکنی سی ہیلو سنائی دی-
اے ۔۔۔۔ اے ایس پی صاحب؟اس کی آواز لڑکھڑائی-
کون؟ وہ چونکا تھا-
مم ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔ محمل – اسے اپنا گھمنڈی انداز یاد کر کے رونا آیا-
محمل کدھر ہو تم خیریت ہے؟
وہ چپ رہی آنسو اس کے چہرے پہ لڑھکتے گئے-
محمل بولو-
مجھے ۔۔۔۔مجھے انہوں نے ٹارچر کیا ہےمارا ہے-“
اوہ- وہ چپ ہوگیا- پھر آہستہ آہستہ بولا-اب کیسی ہو؟
مجھے نہیں پتہ- وہ رونے لگی تھی- مجھے بتائیں فواد بھائی جیل میں ہیں؟
ہے تو سہی مگر شاید جلد اس کی ضمانت ہو جائے وہ لوگ عنقریب تمہیں میرے خلاف گواہی دینے پہ اکسائیں گے-
پھر میں کیا کروں؟
مان جاؤ-
کیا؟اس نے بے یقینی سے فون کو دیکھا-عجیب سر پھرا شخص ہے-
تم جھوٹا وعدہ کر لو کہ تم میرے خلاف گواہی دو گی-ورنہ یہ تمہیں کورٹ میں نہین پہنچنے دیں گے-
اور کورٹ میں جا کر مکر جاؤں؟
ہاں وہاں سچ بتا دینا-
اور وہ اس دھوکے پے میرا کیا حشر کریں گے آپ کو اندازہ ہے؟
تم اس کی پرواہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب مجھے اپنے اپنے مقصد کے لیئے استعمال کر رہے ہو- آپ کو مجھ سے کوئی سچی ہمدردی نہیں ہے-
چندلمحے خاموشی چھائی رہی،پھر ہمایوں نے ٹھک سے فون بند کر دیا- وہ دکھی سی فون ہاتھ میں لیئے بیٹھی رہ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مسرت اگلی صبح ہی آگئی تھی-انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا- کوئی جواب نہ مانگا-بس اسے دیکھ کر ایک جامد سی چپ ہونٹوں پہ لگ گئی-بہت دیر بعد آہستہ سے بولی تو بس اتنا کہ
تم فواد کے خلاف ضرور گواہی دوگی-انہوں نے میری بیٹی کے ساتھ اچھا نہیں کیا- اور پھر چپ چاپ کام میں لگ گئیں-
پورے گھر کا اس سے سوشل بائیکاٹ تھا-وہ کمرے میں کھانا کھاتی اور سارا دن اندر ہی بیٹھی رہتی- باہر نہ نکلتی- اگر نکلتی بھی تو کوئی اس سے بات نہ کرتا تھا-
اس روز بہت سوچ کے وہ فرشتے سے ملنے مسجد چلی آئی-
کالونی کی سڑک گھنے درختوں کی باڑ سے ڈھکی تھی-
درختوں نے سارے پہ ٹھنڈی چھایا کر رکھی تھی- آہنی گیٹ کے سامنے رک کر اس نے گردن اوپر اٹھائی-
سفید اونچےستونوں والی وہ عالیشان عمارت اپنے ازلی وقار و تمکنت کے ساتھ کھڑی تھی- برابر میں سبز بیلوں سے ڈھکا بنگلہ تھا جس کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک خالی سنگی بینچ نصب تھا-محمل جب بھی ادھر آتی وہ بینچ ویران نظر آتا- اسے بے اختیار ہی بس اسٹاپ کا بینچ اور وہ سیاہ فام لڑکی یاد آئی تھی-نہ جانے کیوں-
سفید سنگ مر مر کی لش پش چمکتی راہداریاں آج بھی ویسے ہی پر سکوں تھیں جیسی وہ ان کو چھوڑ کے گئی تھی-
باب دجال مدینہ طیبہ میں نہ آ سکے گا-
آخری کھلے دروازے سے اسے فرشتے کی آواز سنائی دی- اس نے ذرا سا جھانکا-
وہ کتاب ہاتھ میں لیئے منہمک سی پڑھا رہی تھی
سیاہ عبایا کے اوپر سرمئی اسکارف میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا-اور وہ سہری چمکدار کرسٹل سی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔ اس نے کہیں دیکھ رکھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کہاں؟
وہ ان ہی سوچوں میں گھری دروازے کی اوٹ میں کھڑ تھی جب فرشتے باہر آئی-
ارے محمل اسلام علیکم-
اور اسے دیکھ کر خود وہ بھی بہت خوش ہوئی تھی-
تم کیسی ہو محمل؟آؤ بلکہ یوں کرو میرے ساتھ اندر آفس میں چلتے ہیں-فرشتے نے اس کا ہاتھ ہولے سے تھاما اور پھر اسے تھامے ہی مختلف راہداریوں سے گزرتی اپنے آفس تک لائی-
اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے؟
پتا نہیں- اس نے بیٹھتے ہوئے میس کے شیشے کی سطھ میں اپنا عکس دیکھا- بھوری اونچی پونی ٹیل سے نکلتی لاپروا لٹیں،آنکھوں تلے گہرے حلقے، ماتھے اور گال پہ گہرے نیل اور ہونٹون کے سوجے کنارے-
یکدم روشنی اس کے چہرے پہ پڑی تو اس نے آنکھیں چندھیا کر چہرہ پیچھے کر لیا- فرشتے اپنی کرسی کی پشت پہ کھڑکی کے بلائنڈز کھول رہی تھی-
ہمایوں نے بتایا تھا تم نے اسے کال کی تھی؟
وہ ذرا سی چونکی-ہمایوں ہر بات کیوں اسے بتاتا تھا؟
اسے نہیں بتانا چاہیئے تھا-
ہمایوں کو تمہاری بہت فکر تھی-وہ واپس کرسی پہ آ بیٹھی تھی-
انہیں میری نہیں اپنی فکر ہے-بہت خود غرض ہیں آپ کے کزن-
جانے دو وہ نرمی سے مسکرائی-کسی کے پیچھے اس کا برا ذکر نہیں کرتے-
جو بھی ہے اس نے شانے اچکائے-وہ یقینا اپنے کزن کی برائی نہیں سن سکتی تھی-
اچھا یہ بتاؤ-وہ ذرا کرسی پہ آگے کو ہوئی-آگے پڑھائی کا کیا پروگرام ہے؟
ستمبر میں یونیورسٹی جوئن کرنی ہے-
تو ابھی گرمیوں کی چھٹیوں میں ادھر اسکول آجاؤ-
قرآن پڑھنے ۔۔۔۔۔۔۔
آ ۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایکچوئلی ۔۔۔۔۔ میرے پاس قرآن ہے ترجمے والا گھر میں پڑھ لوں گی-
بی ایس سی میں کون سا سبجیکٹ تھا؟
میتھس-
کس سے پڑھا تھا؟
کالج میں پروفیسر سے اور شام میں ایک باجی کے پاس ٹیوشن جاتی تھی-
میتھس کی بک تھی تو تمہارے پاس پھر دو دو جگہ سے کیوں پڑھا؟گھر بیٹھ کر پڑھ لیتی؟
گھر میں خود سے کہاں پڑھا جاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر رک گئی اور جیسے سمجھ کر گہری سانس لی-قرآن اور نصابی کتابوں میں فرق ہے-
اس لیئے ہم چار سال کی عمر سے گھنٹوں نصاب کو پڑھتے رہتے ہیں،اور قرآن کو اللہ نے آسان بنا کر اتارا ہے تاکہ ہر کوئی سمجھ سکے-میتھس ٹیچر کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا-قرآن آجاتا ہے سمجھ؟
ہاں کیوں نہیں-
فرشتے نے گہری سانس لیاور جھک کر دراز سے ایک سیاہ جلد والی دبیز کتاب نکالی-
یہ انجیل مقدس کا ایک عظیم حصہ ہے-اس میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی پیش گوئی ہے-کافی دلچسپ ہے یہ پڑھو- اس نے ایک صفحہ کھول کر اس کے سامنے کیا- محمل نے کتاب اپنی جانب کھسکا لی-
اس کی امت کی انا جیل ان کے سینوں میں ہوں گی-وہ بے اختیار رکی- اناجیل؟ اس نے پوچھا-
انجیل کی جمع-مراد ہے قرآن مجید- یہ یہاں سے پڑھو-فرشتے نے ایک جگہ انگلی رکھی-مخروطی سپید انگلی جس کا ناخن نفاست سے تراشیدہ تھا-اس نے انگلی میں زمرد جڑی چاندی کی انگوٹھی پہن رکھی تھی-
اوہ اچھا-وہ ادھر سے پڑھنے لگی-
وہ بازاروں میں شور کرنے والا ہوگا،نہ بے ہودہ گو ۔ نام احمد ہوگا-وہ آفتاب کے سایوں پر نظر رکھنے والا ہوگا-اس کے ازان دینے والے کی پکار دور تک سنی جاۓ گی-وہ رک کر جیسے الجھ کر پھر سے شروع سے پڑھنے لگی-
“ملک شام ہوگا؟
بعد میں مسلمانوں کی حکومت شام تک پھیل جاۓ گئی تھی اسی طرف اشارہ ہے ۔۔۔۔
اور آفتاب کے سایوں پر نظر رکھنا ۔۔۔۔۔۔؟
نمازوں کے اوقات کے لیئے۔۔۔
اور اذان دینے والا ۔۔۔۔ ؟
بلال ۔۔ فرشتے جواب دیتے ہوئے مسکرائی-
گھر بیٹھ کر پڑھو گی تو یہ سوال کس سے پوچھو گی؟
قرآن کی تفاسیر بھی تو پڑھی جا سکتی ہے ۔۔۔
علم پڑھنے سے نہیں سمجھنے سے آتا ہے-
آخر گھر بیٹھ کر پڑھنے میں کیا ہے؟
موسی کو خضر کے پاس جانا پڑتا ہے میری جان،خضر موسی کے پاس نہیں آتے ۔۔۔اچی کوالٹی کے علم کے لیئے اتنا ہی سفر کرنا پڑتا ہے-
آپ ۔۔۔۔ آپ کی ساری باتیں ٹھیک مگر، مگر میری بات بھی ٹھیک ہے- مذبذبین بین ثالک،لاالی ھولاء ولاالی ھولاء-
فرشتے پین کو انگلیوں کے درمیان گھماتی مسکرا کر گہری سانس لے کر بولی-وہ ان کے دریاں تذبذب میں ہیں،نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں-
آپ نے عربی میں کچھ کہا نا؟اب عام بندے کو عربی کہاں سمجھ میں آتی ہے؟قرآن اردو میں کیوں نہیں اترا؟
اچھا سوال ہے-وہ اپنی نشست سے اٹھی اور سامنے کتابوں کے ریک کی طرف گئی-پھر سیدھی کھڑی کتابوں کی جلد پر انگلی گزارتی کسی کتاب کی تلاش کرنے لگی-
تو تمہارا نقطہ یہ ہے کہ صرف خالی محاورتا’ترجمہ دیکھ کر قرآن پڑھنا بھی کافی ہے- اس نے ایک کتاب پر انگلی روکی اور اسے کھینچ کر باہر نکالا-
یہ سورۃ بنی اسرائیل میں ابلیس کے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرنے کا قصہ ہے-یہاں ابلیس نے اولاد آدم کے لیئے کیا لفظ استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔ یہ پڑھو اس نے بڑا سا ترجمے والا قرآن اس کے سامنے کھول رکھا اور اپنی زمرد جڑی انگوٹھی والی انگلی ایک لفظ پر رکھی-مؔحمل بے اختیار قرآن پر جھکی-
لاحتنکن’ البتہ میں ضرور قابو کروں گا-اس نے لفظ اور ترجمہ دونوں پڑھے-
رائٹ- اگر البتہ اور ضرور کے ضمائر کو نکا؛ دو تو تین حرفی لفظ رہ جاتا ہے-ح ن ک یعنی حنک’ حنک کے تین معنی ہیں-کسی چیز کو خوب باریکی میں سمجھنا’ ٹڈیوں کے کھیت کا صفایا کرنا اور گھوڑے کے جبڑوں کے درمیان سے لگام گزار کر گھوڑے کو قابو کرنا اردو میں بس اتنا لکھا ہے قابو کرنا-
جسے انگریزی میں کنٹرول کہتے ہیں- جبکہ عربی کی وسعت ہمیں بتاتی ہے- کہ شیظان کس طرح ہماری نفسیات سمجھ کر،ہمارے ایمان کا صفایا کر کے ہمیں لگام ڈالتا ہے اور وہ لگام عموما منہ کے راستے ڈالی جاتی ہے اور قرآن اسی لیئے عربی میں اترا اور ۔۔۔۔ تم میری بات سے بور ہورہی ہو- چلو جانے دو- ابھی تمہارے پاس ٹائم ہے،اس لیئے کہہ رہی تھی،ورنہ بعد میں دنیاوی تعلیم میں کھو کر تمہیں اس کا ٹائم نہیں ملے گا-
“یعنی آپ بھی ٹیپکل مولویوں کی طرح دنیاوی تعلیم کو گناہ سمجھتی ہیں؟
میں دنیاوی تعلیم میں کھو کر مادہ پرست بننے کو گناہ سمجھتی ہوں-
ہاں- تمہیں دیر ہو رہی ہے،گھر میں سب پریشان ہورہے ہونگے-
پریشان وریشان کوئی نہیں ہوتا،یتیموں کی پرواہ کسی کو نہیں ہوتی-
کون یتیم؟
میں! میرے ابا نہیں ہیں-
عمر کیا ہے تمہاری؟
بیس سال-
پھر تو تم یتیم نہیں ہو- یتیم تو اس نابالغ بچے کو کہتے ہیں جس کا باپ فوت ہوجائے،بلوغت کے بعد کوئی یتیمی نہیں ہوی-اپنی اس خود ترسی کو اپنے اندر سے نکال دو محمل!
آپ کیا کہہ رہی ہیں؟محمل بے یقینی سے پیچھے ہٹی اور چند لمحے اسے یونہی بے اعتبار نگاہوں سے دیکھ کر بنا کچھ کہے تیزی سے بھاگ گئی-
فرشتے کی بات نے ایک دم اسے بہت ڈسٹرب کردیا تھا-
“بھاڑ میں گئی ڈکشنری،میں یتیم ہوں! وہ تیزی سے راہداری عبور کر کے برآمدے میں آئی-آگے نکل ہی نا پائی تھی کہ ریسپشنسٹ نے روک لیا-
اسلام علیکم- یہ آپ کا ایڈمیشن فارم،فرشتے باجی نے کہا تھا آپ کو اس کی ضرورت ہے-
اف! وہ گہری سانس بھر کر ڈیسک کے قریب آئی-
دکھایئے-
بس دیکھ کر واپس کر دوں گی مجھے مولوی نہیں بننا۔ماسٹرز کرنا ہے اس نے سوچا-
نیا بیچ کونسا ہے؟وہ اب پراسپیکٹس کے صفحے پلٹ کر دیکھ رہی تھی-
علم الکتاب پرسوں پہلی کلاس ہے-
میں فرشتے کو صاف انکار کردونگی،بھلے وہ برا منائے،بس پورا دیکھ کر واپس کر دونگی-وہ سوچ رہی تھی-
اور یہ فارم فل کر کے کدھر دینا ہے؟
اسی ڈیسک پر-
اور فیس؟
علم کی فیس نہیں ہوتی-
پھر بھی کچھ چارجز تو ہونگے-
ہم قرآن پاک کے چارجز نہیں لیتے-
تو نہ لیں،مجھے کونسا ادھر داخلہ لینا ہے-میں تو پورا دن اسکارف لپیٹ کر قرآن نہیں پڑھ سکتی-آئی ایم سوری فرشتے،مگر میں یہ نہیں کروں گی-اس نے خود کلامی کی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ بیگ کو اسٹریپ سے تھامے ہاتھ گرائے یوں تھکے تھکے قدموں چل رہی تھی کہ بیگ لٹکتا ہوا رمیں کو چھو رہا تھا-کالونی کے گھنے درخت خاموشی سے جھکے کھڑے تھے-وہ آہستہ سے بینچ پہ جا بیٹھی جو آج بھی اداس تھا-وہ فارم جمعع کروا کے فرشتے سے ملے بغیر وہاں سے نکل تھی،تب ہی کسی کے دوڑتے قدم اس کے قریب آ کے سست پڑے-
“کیسی ہو؟ کوئی اس کے پاس ا کھڑا ہوا تھا-
اس نے ہولے سے سر اٹھایا-

 

Read More:  Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: