Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 14

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 14

–**–**–

 

“کیسی ہو؟ کوئی اس کے پاس ا کھڑا ہوا تھا-
اس نے ہولے سے سر اٹھایا-
ہمایوں بہت سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا-سیاہ ٹراؤزر پہ رف سی شرٹ پہنے،ماتھے کے گیلے بال اور چہرے پہ نمی پھولی سانس جیسے تیز جاگنگ کرتا ادھر آیا تھا-
کیا فرق پڑتا ہے آپ کو؟
فرق تو پڑتا ہے- تمہیں ایسے دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا ہے ک تم میرے خلاف کورٹ میں پیش ہونے کے لیئے تیار ہوگئی ہو-
“ہونا پڑے گا – مگر اب کیا کروں-
“کچھ نہ کرو-وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا-محمل چہرہ موڑ کے اسے دیکھنے لگی-جو سامنے درختوں کی بھاڑ کو دیکھ رہا تھا- جب تک تم عدالت میں جاؤ گی ہمارا پھندا فواد کی گردن کے گرد مزید تنگ ہوچکا ہوگا-بس ابھی ان کی مانتی جاؤ اور کورٹ میں سچ بول دینا-
استعمال کر لیں سب مجھے اپنے اپنے مقصد کے لیئے- وہ دکھ سے س جھٹکتی اٹھی اور زمین پر گرا بیگ اسٹریپ سے اٹھایا-
کمزور ہوگئی ہو بہت اپنا خیال رکھا کرو-
“آپ کی فکر میں بھی غرض چھپا ہے- کاش میں آپ کے خلاف بیان دے سکوں-وہ تیز تیز قدموں سے سڑک پر آگے بڑھ گئی-
وہ شانے اچکا کر گیٹ کی طرف آیا-گیٹ بند کرتے ہوئے اس نے لحظہ بھر کو مڑ کے اس کی طرف دیکھا ضرور تھا جو سر جھکائے تیز تیز سڑک کے کنارے چلتی جا رہی تھی-
ہمایوں پلٹ کر ڈرائیووے پر جا گنگ کی طرح بھاگتا ہوا اندر بڑھ گیا-
درختوں کی بھاڑ اور بینچ پھر سے ویران ہوگئے-
ہیلو!
وہ بیڈ سے ٹیک لگائے،گھٹنوں پہ پراسپیکٹس رکھے پڑھ رہی تھی جب دروازہ کھلا-آواز پہ محمل نے سر اٹھایا-
چوکھٹ پہ آرزو کھڑی تھی-ریڈ ٹراؤزر کے اوپر سلیو لیس سفید شرٹ،یہ اس کا مخصوص ایکسرسائز کا لباس تھا-کٹے ہوئے بال شانوں تک آئے تھے-پتلی کمان سی بھنوئیں اؔٹھائے وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی-
کیسی ہو؟ انداز دوستانہ تھا-محمل بمشکل سنبھل پائی-
ٹھیک ہوں آپ کیسی ہو؟وہ سیدھی ہو بیٹھی اور پراسپیکٹس نا محسوس طریقے سے ایک طرف کھسکا دیا-
فٹ! وہ بے تکلفی سے بیڈ کے کنارے ٹک گئی-اندر آتے ہوئے اس نے دروازہ پورا بند کردیا تھا-محمل بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی- جو عادتا بالوں میں انگلیاں پھیرتے بھنوئیں سکیڑتے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی-
“کتنا چھوٹا کمرہ ہے تمہارا محمل؟ایٹلیسٹ آغآ جان کو تمہیں پراپر بیڈ روم دینا چاہیئے تھا-بعد دفعہ آغا جان بہت زیادتی کر جاتے ہیں-ہے نا؟اس نے رائے مانگی-محمل نے ایک نظر دروازے کو دیکھا جو بند تھا-
معلوم نہیں-
تم کہو تو میں ابا سے کہہ کر تمہیں بڑا روم دلوا دوں؟
(یہ خیال اتنے سالوں میں تو آپ کو نہیں آیا آج کیوں؟)
اٹس اوکے-میں خوش ہوں-اس نے پھر سے بند دروازے کو دیکھا-مجھے آغا جان سے کوئی شکایت نہیں-
خیر آغآ جان کی ہی کیا بات-خود فواد نے تمہارے ساتھ کتنی زیادتی کی-کم از کم گھر کی عزت کا ہی خیال کر لیا ہوتا-
“آپ کو، آپ کو میرا یقین ہے؟اسے جھٹکا لگا تھا-
“آف کورس- فواد کو کون نہیں جانتا اور اب تو یہ لوگ تمہارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں-
“کیسی سازشیں؟وہ محتاط ہوئی-
یہ تم سے اے ایس پی کے خلاف بیان دلوائیں گے-کیا نام تھا س کا؟ہمایوں؟اس کا انداز بے حد سرسری تھا-
ہمایوں داؤد-بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آنے لگی تھی-
ہاں اس کے گھر فواد تمہیں لے گیا تھا نا؟کدھر رہتا ہے وہ ۔آرزو بہت ہی لاپرواہی سے کہتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی-
یہ تو مجھے نہیں پتہ آرزو باجی کہ وہ کس کا گھر تھا-
فون نمبر تو ہوگا تمہارے پاس؟
جی ہے-آپ کو چاہیئے؟
ہاں بتاؤ! آرزو یکدم الرٹ سی ہوئی-سارا سرسری پن اڑنچھو ہوگیا-
ون فائیو پہ کال کر لیں،یہی نمبر ہوتا ہے پولیس والوں کااس نے مسکراہٹ دباۓ پراسپیکٹس پھر سے اٹھا لیا-
خیر رہنے دو-مجھے کام ہے،چلتی ہوں-آرزو ناگواری سے کہتی ہوئی تیزی سے اٹھ کر باہر نکل گئی-
ان کا بھی کیسا دل ہے فٹ بال کی طرح فواد اور ہمایوں کے درمیاں لڑھکتا رہتا ہے-ہونہہ-اس نے استہزائیہ سر جھٹک کر پھر سے پراسپیکٹس اٹھالیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج کتنے ہی دنوں کے بعد وہ خود سے ناشتے کی میز پہ موجود تھی-کسی نے اس کو مخاطب نہیں کیا-وہ خود بھی خاموشی سے تیز تیز لقمے لے رہی تھی-سفید شلوار قمیض پہنے اور بے بی پنک اسکارف گردن میں ڈالے بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے وہ اپنی پلیٹ پر جھکی تھی-
محمل فضہ چاچی نے خود ہی اسے مخاطب کیا-
وہ بغور اسے دیکھ رہی تھی-کالج جوائن کرلیا ہے؟
توس پر جام لگاتے حس نے چونک کر اسے دیکھا جو سر جھکائے ناشتے میں مگن تھی-اونچی بھوری پونی سے ایک لٹ نکل کر گال چھو رہی تھی-فضہ کے پکارنے پر اس نے گردن اٹھائی-
نہیں ایک انسٹی ٹیوٹ میں ایڈمشن لیا ہے-
کیا پڑھتی ہو ادھر؟
میں بتانا ضروری نہیں سمجھتی-وہ کرسی دھکیلتی اٹھ گئی تھی-حسن کی نگاہوں نے دور تک اسے باہر جاتے دیکھا تھا-
اسکول کی ایک راہداری میں لگے ایک قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اسکارف کو سر پر رکھا اور چہرے کے گرد نفاست سے لپیٹ کر پن لگائی،یوں کہ دمکتی سنہری رنگت والا چہرہ بےبی پنک بیضوی ہالے میں مقید ہوگیا-اونچی پونی ٹیل کے باعث پیچھے سے اسکارف کافی اوپر اٹھ گیا تھا-
ہوں نائس- وہ خود کو سراہتی واپس برآمدے تک آئی-گھر سے اسکارف لے کر آنا اسے عجیب سا لگ رہا تھا،سو یہیں آکر اس نے اسے سر پر لیا تھا-
برآمدے سے چوڑی سیڑھی نیچے ہال تک جاتی تھیں- ساتھ ہی جوتوں کا ریک پڑا تھا-اس نے جوتے ریک پر اتارے اور ننگے پاؤں سنگ مر مر کے ٹھنڈے زینے اترنے لگی-
وسیع و عریض prayer hall بھرا ہوا تھا-قالین پر سفید چادریں بچھی ہوئی تھیں-ان سے بہت سلیقے سے صفوں میں ڈیسک لگے تھے-وہ ڈیسک زمیں سے بازو بھر ہی اونچے تھے-عموما مدرسوں میں ہوتے ہیں-
ڈیسکوں کے پیچھے سفید یونیفارن اور بے بی پنک اسکارف سے ڈھکے سروں والی لڑکیاں سفید چادروں ہی دو زانو مؤدب سی بیٹھی تھیں-
محمل نے آہستہ سے آخری سیڑھی پر پاؤن رکھا- وہ ہال کے آخر میں تھی-ان کے سامنے اب ساری صفوں میں بیٹھی لڑکیوں کی پشت تھی-سامنے اونچے پلیٹ فارم پر میڈم کی کرسی اور میز تھا-ان کے پیچھے دیوار پہ کیلی گرافی آویزاں تھی-
قرآن سب چیزوں سے بہتر ہے- جنہیں لوگ جمع کر رہے ہیں-
اسے لگا وہ ان لڑکیوں کی طرح نیچے نہیں بیٹھ سکے گی-سو ہال کے آخر میں دیوار ساتھ لگی کرسیوں کی طرف بڑھ گئی-
اس کی کتابیں خاصی انٹرسٹنگ تھیں-کتاب الطہارۃ، کتاب الزکوۃ،کتاب العلم،کتاب الصلوۃ،کتاب الصیام، کتاب الحج و عمرہ-چھوٹے چھوٹے کتابچے تھے-باقی ایک سیپارہ تھا-پہلا سیپارہ بہت بڑے سائز کا ،ہر صفحے پر بڑے بڑی پانچ عربی کی سطریں تھی-اور ہر دو کے درمیاں خالی دو لائینیں تھیں-غالبا نوٹس لینے کے لیئے- عربی کے ہر لفظ کے نیچے اس کا اردو ترجمہ ایک چوکور ضانے میں لکھا ہوا تھا-یون ہر لفظ الگ الگ نظر آتا تھا-
وہ دس منٹ لیٹ تھی-میڈم مصباح کا لیکچر شروع ہو چکا تھا-
سب سے پہلے تو آپ لوگ یہ ذہن میں رکھ لیں کہ یہاں آپ کو دین پڑھایا جائے گا-مذہب نہیں- دین اور مذہب میں بڑا فرق ہوتا ہے- دین religion کہ کہتے ہیں-اور مذہب عقیدے یا اسکول آف تھاٹ کو،
ایک بات ذہن میں نقش کر لیں اور گرہ باندھ لیں-دین میں دلیل صرف قرآن کی ؔآیت یا حدیث صلی اللہ علیہ وسلم سے دی جاتی ہے-
اب وہ سورہ فاتحہ سے آغاز کر رہیں تھی-
الحمد للہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عربی کے لفظ تین یا چار حروف سے بنتے ہیں جنہیں ہم روٹ ورڈ کہتے ہیں-الحمد میں روٹ ورد حامیم دال (ح م د) ہے- یعنی تعریف ،اسی حمد ‘سے حآمد حماد احمد محمد حمید،محمود بنتے ہیں- حامد تعریف کرنے والا،احمد تعریف والا،حمید خوب خوب تعریف والا جب آپ قرآن کو کولسٹرل ورڈ ڈفینیشن پہ پڑھیں گے تو آپ ینجوئے کریں گے کہ بس -جیسے سجدہ” کا روٹ ورڈ “سجد” ہے اس سے مسجد، ساجد بنتا ہے-
پڑھانے کا انداز دلچسپ تھا- محمل تیزی سے نوٹس لے رہی تھی–اس نے بارہا سوچا کہ یہ فیؔصلہ صحیح تھا یا غلط مگر اندر سے متذبذب ہی رہی تھی-
اگلے کچھ روز وہ پڑھائی میں اتنی مصروف رہی-فرشتے سے ملی ہی نہ سکی-تجوید تفسیر،حدیث کی پڑھائی ۔۔۔۔ پڑھائی ٹھیک تھی اور بس ٹھیک ہی تھی- کوئی غیر معمولی چیز تو اسے ابھی تک نظر نہیں آئی تھی-
البتہ اپنی راۓ اسے صحیح لگی تھی قرآن میں وہی کچھ تھا جو اس نے سوچا تھا- نماز کا حکم،زکواۃ دینا مال خرچ کرنے کی تاکید- مومن،کافر ،منافق کی تعریف وہی،مدینہ کے منافقوں کا ذکر- نھئی اب مسلمان ہیں اتنا تو پڑھ ہی رکھا ہے- ہاں وہ باتیں ہرگز نہیں تھیں جس کا ذکر وہ سیاہ فام لڑکی کیا کرتی تھی-
البتہ وہ قرآن کو بہت دھیان سے پڑھتی،الفاظ کے معنی یاد کرنے کی کوشش کرتی، نوٹس لیتی، اور روٹ ورڈ سمجھتی-آہستہ آہستہ اسے احساس ہوا وہ کتنا قرآن پڑھتی تھی-الفاظ کا مجہول ادا کرتی تھی-
مثلا ب (بازیر) بی ہوتا ہے-مگر وہ بازیر (بے) پڑھتی تھی اور یہ ساری امیاں نانیاں اور دادیاں جو ہمیں قرآن سکھاتی ہیں-س ص اور ث کا فرق ہی نہین پتا چلتا-جب ہم زیر زبر کوبہت لمبا کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم قرآن میں ایک حرف کا اضافہ کر رہے ہیں،
قرآن میں تحریف کر رہے ہیں-معانی بدل رہے ہیں- انگریزی کو تو خوب برٹش امریکن لہجے مین بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور قرآن جس کو عربی لب و لہجے میں پڑھنے کا حکم ہے اور جس زیر زبر کا اصل سے زائد کھینچنا بھی حرام درجے کی غلطی شمار ہوتا ہے،اس کے سیکھنے کو اہمیت ہی نہیں دیتے-
مسجد میں ایک اور عجیب رواج تھا-اسے شروع میں تو عیب ہی لگااور بعد میں اچھا-وہاں ہر کسی کو سلام کیا جاتا تھا-راہداریوں میں سے گزرتے،سیڑھیوں پہ اترتے چڑھتے،جو بھی لڑکی نظر آتی اس کو مسکرا کر سلام کیا جاتا-بھلے کسی کو آپ جانتے ہیں یا نہیں مگر سلام فرض تھا-کسی کو مخاطب کرنے کے لیئے بھی” ایکسکیوزمی” کی جگہ اسلام علیکم کہہ کر مخاطب کیا جاتا-
:ایکسکیوزمی کہہ کر معافی کس غلطی کی مانگیں جو ہوئی ہی نہیں؟دعا کیوں نہ دیں؟فرشتے نے بہت پہلے اسے بتایا تھا تو وہ سوچتی رہ گئی تھی-
ان تمام سوزوں کے برعکس محمل قرآن کو عزت دیتی- اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی صبح کے نوٹس پڑھ رہی تھی-جب دروازہ ہولے سے بجا-
اس نے حیرت سے سر اٹھایا-یہ کھٹکھٹآ کر کون آۓ گا بھلا اس کے کمرے میں؟
جی؟ دروازہ ہولے سے کھلا- وہ الجھ کر آہستہ آہستہ کھلتے دروازے کو دیکھے گئی-یہاں تک کہ وہ پورا کھل گیا اور لمحے بھر کو تو وہ سن سی رہ گئی-پھر جیسے بوکھلا کر نیچے اتری-
آ ۔۔۔ آغآ جان – آپ؟
وہ دہلیز میں کھڑے تھے اطراف کا جائزہ لیتے کمر پہ ہاتھ باندھے اندر داخل ہوئے-
آپ ۔۔۔۔۔۔ آپ بیٹھیں آغا جان! چھوٹا سا کمرہ تھا وہ انہیں کہاں بٹھاتی-جلدی سے سیپارہ اوپر شیلف پہ رکھا اور بیڈ کی چادر ٹھیک کی-وہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئے-
ادھر آؤ بیٹا مجھے تم سے بات کرنی ہے-
یہ اس واقعہ کے بعد پہلی دفعہ تھا جب وہ اس سے مخاطب ہوئے تھے-اور انداز میں کافی نرمی تھی-وہ کسی معمول کی طرح ان کے سامنے آبیٹھی-
جج ۔۔۔۔۔۔ جی-
محمل! وہ بغور اس کا چہرہ دیکھتے آہستہ سے بولے- محمل سانس روکے ان کو دیکھے گئی-
فواد نے تمہارے ساتھ برا کیا بہت برا-میں تم سے اس کی طرف سے معافی مانگتا ہوں-
نہیں نہیں آغا جان پلیز-
انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے-تو وہ موم کی طرح پگھلنے لگی- بے اختیار ان کے ہاتھ پکڑ لیئے-
تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں میں جانتا ہوں-اور اب میں ان کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں-
جیَ وہ کچھ سمجھ نہ پا رہی تھی-
میں جائیداد میں تمہارا حصہ الگ کرنا چاہ رہا ہوں-تا کہ تم اس کی دیکھ بھال کر سکو- ففٹی پرسنٹ کی تم مالک ہو- تم وہ حصہ لے لو-میں نے وکیل کو پیپرز تیار کرنے کا کہہ دیا ہے-
وہ حق دق ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی-
” کیا تم اپنا حصہ لینا چاہتی ہو؟
جج جیسے آپ کہیں۔۔۔ بعد دفعہ اپنے حقوق کی بات اکیلے میں کہنا آسان ہوتا ہےبہ نسبت اپنے مخالفین کے سامنے- وہ اور کچھ کہہ ہی نہ سکی بس یک ٹک انہیں دیکھے گئی جو اس کے سامنےبیڈ پائنتی پر بیٹھے تھے-
میں آج جائیداد کے کاغذ سائن کر دیتا ہوں-مگر تم میری ایک شرط ہےوہ لمحے بھر کو رکےان کی نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں وہ پلک نہیں جھپک رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے جو دم سادھے انہیں دیکھ رہ تھی-
“مگر تم فواد کے خلاف نہیں بلکہ اے ایس پی ہمایوں داؤد کے خلاف گواہی دو گی کورٹ میں-“
وہ ادھ کھلے لب اور پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھے گئی-
عدالت نے ہمیں تاریخ دے دی ہے اگلے ماہ کی تاریخ میں چاہتا ہوں تم عدالت میں اپنے بیان سے نہ پھرو- تا کہ میں جائیداد کے کاغذ تمہارے حوالے کردوں-جیسے ہی تم کورٹ مین بیان دوگی میں دستخط کر دونگا-
وہ اٹھ کھڑے ہوئے-وہ انہیں دیکھنے کے لیئے گردن بھی نہ اٹھا سکی-تمہارے پاس وقت ہے خوب اچھی طرح سوچ لو-اور اسے ایک بزنس ڈیلنگ سمجھو-یہ تمہیں آئندہ ابراہیم کی بزنس ایمپائر سنبھالنے میں مدد دے گی- وہ دروازے کی طرف بڑھے-
مجھے منظور ہے-وہ تیزی سے بولی فیصلہ کرنے میں اسے ایک پل لگا تھا-بھاڑ میں جائے ہمایوں حبس بے جا میں تو اس نے بھی مجھے رکھا تھا-
انہوں نے ذرا سا مڑ کر فاتحانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا-
تم اچھی بزنس وومن بن سکتی ہو ٹیک کئیر- اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئے-
کیا یوں ہمایوں گرفتار ہوجائے گا؟اور۔۔۔۔ اورفواد کیا گھر آجائے گا؟نہیں ۔۔۔۔۔۔ مگر جائیداد- اپنے مقام کو پالینے کی خواہش۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی وہ بھی تائی پر یونہی حکومت کرے-سب اس کی عزت کریں-اس کے حلم سے گھر میں کام ہوں اس کی موجودگی ہر جگہ ضروری سمجھی جائے-وہ الجھ کر رہ گئی تھی-
کیا اس نے صحیح کیا ؟کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح آٹھ بجے وہ مسجد کے گیٹ پر تھی-اندر داخل ہونے سے قبل اس نے بیلوں سے ڈھکے بنگلے کو دیکھا جس کا سنگی بینچ آج بھی ویران تھا-
بابا! تمہارا صاحب ہے؟کچھ سوچ کر اس نے باوردی گارڈ کو مخاطب کیا-
وہ تو شہر سے باہر گیا ہے-
کب آئے گا؟
معلوم نہیں-
“اچھا اس نے ذرا سی ایڑی اونچی کر کے گیٹ کے پار دیکھا-ہمایوں کی گاڑی کھڑی تھی-
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بی بی ! وہ جہاز پہ گیا ہے- گارد قدرے گربڑایا-
بھاڑ میں گیا تمہارا صاحب میری طرف سے-
اس سفید سر پر جھوٹ تو نہ بولو – نہیں ملنا چاہتا تو منع کردو-جھوٹ بولنا منافقت کی نشانی ہے-ایمان کی نہیں ہمایوں نے اس کے لیئے یہ کیوں کہہ رکھا تھا-
( اور پتا نہیں میں نے صحیح کیا یا غلط -مگر وہ ایسے میری جائیداد کبھی نہیں دیں گے،پھر اور کیا کرتی؟)
بے زار سا تاشر چہرے پہ سجائے،بیگ اٹھائے وہ سست روی سے برآمدے کی طرف چل رہی تھی-
(اور یہ جھوٹ تو نہیں ،اس نے مجھے حبس بے جا میں رکھا تھا-)
اس نے چپل ریک میں اتاری اور خود کو گھسیٹتی ہوئی نیچے سیڑھیان اترنے لگی-
(مگر اغوا تو نہیں کیا تھا ،میں ادھر اپنی مرضی سے ہی گئی تھی تو اس پر یوں اغواء کا الزام لگادینا جھوٹ نہیں ہوگا؟)
وہ سر جھکائے آہستہ آہستہ زینے سے نیچے اتر رہی تھی-
(نہیں جھوٹ کہاں،اس نے ڈیل تو کی تھی،اغوا اور خریدنا ایک ہی بات ہے-اگر ذرا سا لفظوں کا ہیر پھیر کردوں توکیا ہے؟)
اس نے کرسی پر بیٹھ کر کتابیں سائید ٹیبل پر رکھیں، اور ساتھ بیٹھی لڑکی کے سیپارے پہ جھا نکا اور پھر مطلوبہ صفحہ کھولنے لگی-تفسیر شروع ہو چکی تھی-وہ آج بھی لیٹ تھی-
(فواد کے خلاف گواہی نہ بھی دوں تو بھی وہ سزا پائے گا،اور وہ اتنا بڑا اے ایس پی کوئی میرے بیان سے اسے سزا تھوڑی نا ملئ گی؟بس لفظوں کوتھوڑا سا انٹر چینج کردیا جائے تو کیا ہے،میری نیت تو صاف ہے)
مطلوبہ صفحہ کھول کر اس نے پین کا کیپ اتاری اور آج کی تاریخ لکھنے لگی-
“اور تم جھوٹ کو سچ کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ تم سچ کو چھپاؤ حالانکہ تم خوب جانتے ہو-“
میڈم مصباح کی بات پہ جیسے کرنٹ کھا کر اس نے سر اٹھایا-وہ اپنی چئیر پر بیٹھی کتاب سے پڑھ رہی تھی-اس نے بے اختیار اپنے سیپارے کودیکھا-اس صفحے پر سب سے اوپر یہی لکھا تھا-
تم میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو،اور صرف مجھ سے ہی ڈرو-اور تم جھوٹ کو سچ سے نہ ملاؤ-اور نہ تم حق کو چھپاؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو-
وہ سن سی بے حد ساکت سی پھٹی پھٹی نگاہوں سے ان الفاظ کو دیکھ رہی تھی-مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا-ساری آوازیں جیسے بند ہو کر رہ گئی تھیں-وہ بنا پلک جھپکے ان ہی الفاظ کو دیکھے جا رہی تھی-
“کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے نفس کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو- کیا پھر تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے-ذرا دیر پہلے گارڈ کو کی گئی نصیحت اس کے کانوں میں گونجی- اسے لگا وہ کتاب اسے اس سے زیادہ جانتی ہے-(پھر ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ میں کیا کروں؟) اس کا دل کانپنے لگا تھا- بے اختیار اس نے رسی تھامنا چاہی-کلام کی رسی-وہ نہ جانتی تھی کہ دوسرے سرے پر کون ہے، مگر اسے یقین تھا کہ دوسرے سرے پر کوئی ضرور موجود ہے-
“صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو-بے شک وہ (نماز) سب پہ بھاری ہے- سوائے ان کے جو ڈرنے والے ہیں-“
اس نے وحشت زدہ سی ہو کے سر اٹھایا-پنک اسکارف والے بہت سے سر اپنی کتابوں پر جھکے تھے-کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہ تھا-
اس نے پھر سے ان الفاظ کو پڑھا-وہ کوئی مضمون نویسی نہ تھی-بات”او مائی گاڈ” اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-
it’s talking to me
ساتھ بیٹھی لڑکی نے سر اٹھایا-
تو یہ ٹاک ہی تو ہے-کلام-اس کو ہم کلام پاک اسی لیئے تو کہتے ہیں-وہ سادگی سے کہہ کر اپنے سیپارے پہ جھک گئی-
محمل نے سیپارہ بند کردیا،اور کچھ بھی اٹھائے بنا،تیزی سے بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھتی گئی-
فرشتے اپنے آفس میں آئی تو وہ اس کاانتظار کر رہی تھی-
محمل تم؟
میں ۔۔۔۔ میں آئندہ نہیں آؤن گی،میں مدرسہ چھوڑ رہی ہوں- وہ جو کرسی پہ بیٹھی تھی،بے چینی سے کھڑی ہوئی-اس کی آنکھوں میں عجیب سا خوف اور گھبراہٹ تھی-فرشتے نے آرام سے فائل میز پہ رکھی اور کرسی کی دوسری جانب جگہ سنبھالی،کھڑکی کے بلائنڈز بند تھے،کمرے میں چھاؤں سی تھی-
آپ میری بات سن رہی ہیں؟
بیٹھو- وہ میز کی دراز کھول کر جھکی کچھ تلاش کرنے لگی تھی-محمل بمشکل ضبط کرتی کرسی پہ ٹکی اس کا بس نہین چل رہاتھا وہ ادھر سے بھاگ جائے-
میں نہیں آؤں گی آئندہ فرشتے! اس نے دہرایا-وہ ابھی تک دراز میں مصروف تھی-
پھر کہاں جاؤ گی؟
بس قرآن چھوڑ رہی ہوں-
اسے چھور کر کہاں جاؤ گی محمل! وہ کچھ کاغذات نکال کر سیدھی ہوئی اور اسے دیکھا-
اپنی نارمل لائف میں
تمہیں یہ ابنارمل لائف لگتی ہے؟
یہ مجھ سے بات کرتی ہے فرشتے! وہ دبی دبی سی چیخی-آپ سمجھ نہیں سکتیں میں کتنے کرب سے گزر رہی ہوں-مجھ سے یہ برداشت نہیں ہورہا-آپ سمجھ نہیں سکتیں-
” مین سمجھتی ہوں -جب قرآن مخاطب کرنے لگتا ہے تو سب ہی اس کرب سے گزرتے ہیں-
نہیں-اس نے سختی سے نفی میں سر ہلایا-وہ کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا جو میرے ساتھ ہوا،آپ تصور نہیں کر سکتیں-
تمہیں لگتا ہے تم پہلی ہو؟
اس نے گہری سانس لے کر آنکھں بند کیں اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا-
ہم انسان ہی تو یہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہیں،پھر تم اتنی کمزور کیوں پر رہی ہو؟ہم پہار ہوتے تو نہ سہار سکتے دب جاتے-
وہ میری سوچیں پڑھ رہی ہے فرشتے!
وہ مخلوق نہیں ہے وہ کلام ہے -بات ہے الہ کی بات،اور اللہ ہی تو سوچیں پڑھ سکتا ہے-“
وہ گم صم سی پوگئی-
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اللہ تعالی سے بات کر رہی تھی؟
تمہین کوئی شک ہے؟
مگر یہ چودہ سو سال پرانی کتاب ہے،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاسٹ (ماضی) میں ہوکر ہم سے چودہ سو سال بعد کے فیوچر (مستقبل) سے کونٹیکٹ کرلے؟ اٹس لائیک اے میریکل-( یہ تو معجزے کی طرح ہے)-
یہی تو ہم اسے کہتے ہیں-معجزہ!
اور جب یہ ختم ہوجائے گی؟
تو پھر سے شروع کر لینا-رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا کرتے تھے،قرآن کے معجزے بار بار دہرانے سے پرانے نہیں ہوں گے-فہما” بتا رہی ہوں-
میں ۔۔۔۔۔۔ میں اسے چھوڑ دوں تو؟
فرشتے نے تاسف سے اسے دیکھا-
محمل!روز قیامت جب اللہ زمین آسمان کو بلائے گا تو ہر چیز کھینچی چلی آئے گی طوعا” یا کرہا” خوشی سے یا نا خوشی سے- جب ہم اللہ کے بلانے پر نماز قرآن کی طرف نہیں آتے تو اللہ ہمارے لیئے ایسے حالات بنا دیتا ہے-دنیا اتنی تنگ کر دیتا ہے کہ ہمیں خاموشی کے عالم میں آنا ہی پڑتا ہے-
پھر وہ مزید کوئی بحث نہ کر سکی-
اسے فرشتے کی بات سے بے حد خوف آیا تھا-اسے لگا وہ اب کبھی قرآن چھوڑ نہ سکے گی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگر اسے پتہ ہوتا اس ایک لفظ میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان چھپا ہے-تو وہ اسے کبھی مس نہ کرتی،اور نہیں تو اس کا مطلب لغت میں ہی تلاش کر لیتی- مگر جانے کیسے وہ اس سے لکھنا رہ گیا تھا-
آج کا یہ رکوع میڈم مصباح کے علاوہ کوئی اور ٹیچر پڑھا رہی تھیں-میڈم ذکیہ آیات بنئ اسرائیل کے ہیکل میں داخل ہونے کا خلاصہ بیان کر رہی تھیں-
اور دروازے میں داخل ہو جاؤ سجدہ کرتے ہوئے اور کہو حطتہ”ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے-اور عنقریب ہم محسنین کو زیادہ دیں گے-
وہ آیت پڑھ کر اب لفظوں کی گہرائی میں جا رہیں تھی-حطتہ کا مطلب گرانا مراد گناہ گرانے یعنی بخشش مانگنے سے پے، اب بنی اسرائیل نے کیا یہ کہ انہوں نے جیسا کہ اگلی آیت میں ذکر ہے منہ ٹیڑھا کرکے بات کو بدل دیا،وہ سجدہ کرتے یعنی جھک کر حطتہ” کہہ کر داخل ہونے کے بجائے حنطتہ کہہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داخل ہوئے حنطتہ کہتے ہیں-“
وہ تیز تیز قلم چلا کر لکھ رہی تھی کہ کسی نے برہمی سے پین اس کے رجسٹر پہ رکھا-اس نے ہڑبڑا کر سر اٹھایا-
ایک کلاس انچارج اس کے سر پہ کھڑی تھیں-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: