Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 15

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 15

–**–**–

 

وہ تیز تیز قلم چلا کر لکھ رہی تھی کہ کسی نے برہمی سے پین اس کے رجسٹر پہ رکھا-اس نے ہڑبڑا کر سر اٹھایا-
ایک کلاس انچارج اس کے سر پہ کھڑی تھیں-
” بعض لوگ قرآن پڑھتے ہیں ،اور قرآن ان کے لیئے دعا کرتا ہے-اور بعض لوگ قرآن پڑھتے ہیں تو قرآن ان پر لعنت کرتا ہے-
“کیا ہوا میم؟
“آپ رجسٹر قرآن پر رکھ کر لکھ رہی ہیں-انچارج نے صدمے سے اسے دیکھاتو اس نے گھبرا کر قرآن نیچے سے نکالا-یہ اس کا تجوید کا قرآن تھا-سمپل آف وائٹ جلد والا-
سوری میم-اس نے قرآن احتیاط سے ایک طرف رکھا اور رجسٹر پر جھک گئی- پھر ادھر ادھر ساتھ والی لڑکیوں کے رجسٹر پہ جھانکا تا کہ دیکھ سکے حنطتہ کا کیا مطلب میڈم نے لکھوایا ہے- مگر اس نے کچھ نہ لکھا تھا-قرآن کی کلاس تھی وہ بول نہ سکتی تھی- سو مایوسی سے واپس اپنے نوٹس کو دیکھا-صفحے کی لائن یہاں ختم ہوتی تھی،وہاں اس نے لکھا تھا حنطتہ” یعنی گند ۔۔۔۔۔۔ گند کے دال کے ؟آگے صفحہ ختم تھا-
بعض دفعی ہم میکانکی انداز میں کچھ لکھتے ہوئے جب صفحہ ختم ہوجاۓ تو آگے جو بھی چیز ہو بھلے نیچے رکھی ہوئی کتاب ہو یا ڈیسک کی لکڑی اس پر لکھ دیتے ہیں اور بعد میں یاد ہی نہیں آتا-
“گند” اس کا مطلب ہے؟وہ اس ادھورے لفظ پہ حیران ہوئی- کوئی سینس نہ بنتا تھا،مگر خیر وہ آگے لکھنے لگی-سوچا بعد میں کسی سے پوچھ لے گی-مگر بعد میں یاد ہی نہیں رہا-
چھٹی کے وقت اس نے ہمایوں کو اپنا گیٹ بند کرتے دیکھا-وہ ہک چڑھا کے پلٹا ہی تھا کہ وہ سامنے آکھڑی ہوئی-
پنک اسکارف میں مقید چہرہ کندھے پہ بیگ،سفید یونیفارم اور سینے پہ ہاتھ باندھے وہ تیکھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی-
یہ تبدیلی کیسے آئی؟وہ بے اختیار مسکرا دیا- غالبآ اچھے موڈ میں تھا-محمل اسی طرح تیکھی نظروں سے اسے دیکھے گئی-
خیریت؟ وہ دو قدم آگے بڑھا-اس کے پیچھے سیاہ گیٹ کے باہر اس کا مستعد چوکیدار کن اکھیوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا-جو آمنے سامنے کھڑے تھے-ہمایوں جیبوں میں ڈالے اور وہ سخت تیوروں ساتھ سینے پہ بازو لپیے-
آپ کو مسئلہ کیا ہے فواد بھائی ساتھ؟
شاطر مجرم کسی بھی پولیس آفیسر کے لیئے چیلنج ہوتا ہے-اور مجھے چیلنج لینے میں مزہ آتا ہے-
اس مزے میں آپ الٹا پھنس گئے تو؟
میں کیوں پھنسوں گا؟تم نے کورٹ میں مکر جانا ہے نا؟
آپ کو کس نے کہا کہ میں مکر جاؤں گی؟
کیا مطلب وہ یک لخت چونکا-
وہ اسی طرح اسے چبھتی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی پلٹی اور سینے پہ بازو لپیٹے سر جھکائے سڑک پر چل دی- عقل کے سارے راستے دھوئیں میں گم ہوتے تھے،وہ کچھ سمجھ نہ پا رہی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کتنے دنوں بعد وہ شام کی چائے سرو کرنے ٹرالی دھکیلتے لان میں لائی تھی-لان میں سب سے بڑے یونہی بیٹھے تھے-ادھر ادھر کی خوش گپیاں تبادلہ خیال چل رہے تھے
محمل، آغآ جان نے اسے مسکرا کر دیکھ کے غفران چچا سے بات کرنے میں مصروف ہوگئے،ناعمہ اور فضہ نے معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسرے کودیکھا-جب سے فواد جیل گیا تھا ان دونوں کاالائنس (اتحآد) تائی مہتاب سے ہٹ کر بن چکا تھا-دونوں کے خواب اسے داماد بنانے کے چکنا چور ہوچکے تھے-اور وہ اب مزید تائی کی خوشامدیں کرنے کی بجاے انہیں بے رخی دکھانے لگی تھیں-
یہ لیجئے آغآ جان-اس نے بھی پورے اعتماد سے کپ انہیں تھمایا اور پھر تائی مہتاب کو جو الگ سی گم صم سی بیٹھی تھیں-
تھنک یو محمل-جانے انہوں نے کس دل سے بظاہر مسکرا کر کہا-فضہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ناعمہ کو ہلکا سا اشارہ کیا،ناعمہ نے ہونہہ کہہ کے سر جھٹکا-ان کی سجھ میں نہیں ارہا تھا کہ یہ اچانک وہ اس پے اتنی مہربان کیوں ہورہے ہیں-
وہ خالی ٹرالی لیئے اندر آئی تو سیڑھیوں سے اترتا حسن جو شرٹ کے کف بند کر رہا تھا-اسے دیکھ کے لمحے بھر کو رک گیا-محمل!”
ایک پرانا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا-فواد کا یوں اترنا پھر اس کا اسے چائے دینا اور وہ انگلیوں کا ٹکرانا-
منظر وہی تھا، بس چہرہ بدل چکا تھا اس کی آنکھوں کرچیاں سی چبھنے لگیں-
مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا-وہ تیزی سے کچن کی طرف آئی-محمل رکو سنو- وہ سرعت سے اس کے پیچھے لپکا-اور کچن کے دروازے پہ ٹھہر سا گیا-
اندر مسرت کپڑے سے سلیب صاف کر رہی تھی- محمل ساتھ ہی کرسی پر رخ موڑے بیٹھی تھی- اونچی بھوری پونی ٹیل جس سے اس کی گردن پیچھے سے جھکتی تھی اور کرتے کے اوپر دوپٹے کو شانوں پہ ٹھیک سے پھیلائے،ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے وہ چہرہ موڑے بیٹھی تھی-اس کے اس سائیڈ پوز سے بھی حسن کو اس کے جھکی آنکھون کا سوگوار سا رنگ دکھائی دیا تھا ،اسے وہ بہت بد ل گئی ہے-
محمل ! مجھے تم سے بات کرنی ہے-مسرت کاسلیب کو رگڑتا ہاتھ تو رک گیا ،انہوں نے حیرت سے گردن موڑی-
حسن-
چچی محمل کو کہیں ذرا میری بات سن لے-
انہوں نے اسے دیکھا جو بے تاثر سی لب بھینچے سر جھکائے کرسی پہ بیٹھی تھی-
محمل حسن بلا رہا ہے-
میں ان کے باپ کی نوکر ہوں جو آؤں – اس کا دل چاہا وہ یہ کہہ دے، مگر صبح ہی تو فرشتے نے اسے کچھ کہا تھا-
محمل- مسرت نے پھر پکارا-
انہیں جو کہنا ہے یہیں کہہ لیں-منظور نہیں ہے تو بے شک نہ کہیں” وہ سر جھکائے ٹیبل کو دیکھ رہی تھی،وہ قسم اسے اب آخری سانس تک نبھانی تھی-
“محمل تم سمجھتی کیوں نہیں ہو”- وہ بت بس سا اس کے سامنے آیا-وہ تمہیں فواد کے لیئے استعمال کر رہے ہیں-تم خود کو اس کیس میں مت الجھاؤ-اس نے گردن اٹھائی-وہ سامنے کھڑا فکر مندی سے اسے دیکھ رہا تھا-
محملا چہرہ بے تاثر تھا،بالکل سپاٹ-
آپ نے کہہ لیا جو کہنا تھا؟ اب آپ جا سکتے ہیں-
اس نے آلوؤن کی ٹوکری قریب کھسکا کر چھری اٹھا لی،وہ چند لمحے بے بس سا اسے دیکھتا رہا پھر تیزی سے باہر نکل گیا-مسرت الجھی سی اس کے قریب آئیں-
کس کیس کی بات کر رہا ہے حسن؟
آلو گوشت میں بناؤں گی،آپ قورمہ دیکھ لیجیئے گا اور کھیر بھی،کیونکہ میں نہیں چاہتی کسی کوکوئی شکایت ہو-وہ اب مگن سی الو چھیل رہی تھی-
مسرت گہری سانس لے کر سلیب صاف کرنے لگیں – وہ جانتی تھیں اب وہ نہیں بتائے گی-
اور وہ چھیلتے اس عجیب بات کے بارے میں سوچ رہی تھی جو صبح اس کو فرشتے نے کہی تھی- جب وہ رشتے داروں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی آ یتیں پڑھ کر تڑپ گئی تھی-اور پوچھا تھا کہ جو لوگ یتیموں کامال کھاتے ہیں ان کے لیے کیا سزا بتائی گئی ہے-
یتیموں سے پہلے قرابت داروں کا ذکر ہے محمل- میں اور میری ماں ان قرابت داروں کی جیسے خدمت کرتی ہیں آپ سوچ بھی نہیں سکتیں-
“تو اس خدمت کا کبھی ان کو احساس بھی دلایا؟
اماں تو ہر وقت جتی رہتی ہیں،مگر میں ادھار رکھنے کی قائل نہیں ہوں،وہ ایک کہیں تو میں دس سناتی ہوں-ایک ایک آئٹم گنواتی ہوں جو بناؤں-
اس نے فخر سے کہا اور پھر فرشتے کا سنجیدہ چہرہ دیکھا تو لگا کچھ غلط کہہ دیا ہے-
“یعنی سب کیا کرایا ملیا میٹ کر دیتی ہو،یہ تو ان پہ ظلم ہے-
“ظلم؟میں ظلم کرتی ہوں ان پہ؟ وہ شاکڈ رہ گئی-ظلم کی تعریف کیا ہوتی ہے؟کسی کے حق میں کمی کرنا -ایک کی ایک سنانا برابر کا بدلہ ہے،مگر نواد پر سنانا زیادتی ہے ان کے حق میں کمی ہے-
وہ مجھے جو بھی بول دیں اور میں آگے سے چپ کر جاؤں؟ایک بھی نہ سناؤں؟
تم اگر سنا دوگی تو سب برابرکر دو گی،پھر تم ان کے کیے کا شکوہ کسی سے کرنے کی حق دار نہیں ہوگی-معاف کر دیا کرو-اور جانتی ہو-معاف کرنا کیا ہوتا ہے؟
اس کا سر خود بخود نفی میں ہل گیا –
اس کو دکھ نہ دینا جس نے آپ کو دکھ دیا ہو،ان کو ان کے رویئے کا احساس تک نہ دلانا- کچھ نہ بتانا- یہ معاف کرنا ہوتا ہے-تم معاف کر دیا کرو صبر کیا کرو-
“ساری زندگی صبر ہی تو کیا ہے میں نے-
وہ صبر نہیں ہوتا جو تم کرتی ہو-صبر وہ ہوتا ہے کہ اگر سر بھاری پتھر لگ جائے تو لبوں سے اف تک نہ نکلے صبر وہ ہوتا ہے جو تمہاری ما ں کرتی ہے-
صبر اور معاف کرنے کے بعد ان کے برے رویئے کے جواب میں اچھا رویہ دو-
میں کیوں کروں یہ سب وہ کیوں نہیں کرتے؟رشتے داروں کے ساتھ ویسا ہی رویہ رکھنا چاہیئے جیسا وہ ہمارے ساتھ رکھتے ہوں-
مگر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرتے تھے کہ بدلے کی صلہ رحمی کرنے والا صلہ رحمی نہیں کرتا-اس پر تو آپ کو اجر ہی نہیں ملے گا-اجر تو تب ملے گا جب آپ برے کے جواب میں اچھا کریں-تم انہیں معاف کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو-
انہوں نے میری جائیداد کھائی ہے-وہ چیخ پڑی تھی “ابا اپنی ساری پراپرٹی میرے نام کر کے گئے تھے-
بہت غلط کر کے گئے تھے پھرانہیں حق ہی تہیں تھا کہ ساری پراپرٹی وصیت کرتے-ان کا حق تو بس ایک تہائی پہ تھا اس کو بے شک تمہارے نام وصیت کر جاتے مگر باقی دو تہائی حصے کی شرعا تقسیم کی اجازت دے جاتے،تو شاید تمہارے چچا لوگ اپنے حصے پر قناعت کر لیتے-وارث تو اللہ تعالی نے بنائے ہیں جانے والے کو برا بھلا نہیں کہہ رہی،مگر ایک غلط فیصلہ بہت سو کی زندگی برباد کر دیتا ہے- محمل! تم کچھ لوگوں کے غلط فیصلوں کو بنیاد بنا کر اپنے رشتے داروں پر ظلم کرو گی تو یہ مت بھو لو کہ پل صراط پہ رحم اور امانت کے کانٹے ہمارا انتظآر کر رہے ہونگے،ہر خائن اور قطع رحمی کرنے والے کو وہ پل صراط سے نیچے جہنم میں گرائیں گے-اور ہر صلہ رحمی کرنے والا اور امانت دار پل پار کر جائے گا،تم وہ پل پار نہیں کرنا چاہتیں؟
وہ سر جھٹک کر تیزی سے آلو چھیلنے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میڈم مجھے ایک بات پوچھنی ہے؟جی ضرور پوچھیئے-
وہ میم-مجھ سے نماز پڑھی نہیں جاتی،تو خیر ہے؟
ہاں کیوں نہیں خیر ہے-اٹس اوکے،اگر آپ نہیں پڑھ سکتیں تو-محمل کو لگا منوں بوجھ اس کے کندھے سے اتر گیا ہو-وہ ایک دم کسی قید سے آزاد ہو گئی تھی-
وہی تو میم!میں باقی نیکیاں کرلوں ،قرآن پڑھ لوں،ٹھیک ہے نا نماز پڑھنا بہت ضروری تو نہیں ہے؟
نہین اتنا ضروری تو نہیں ہے-اگر آپ نہین پڑھنا چاہتیں تو نہ پڑھیں-
میم کوئی فرق تو نہیں پڑے گا نا؟
قطعاَ فرق نہیں پڑے گا-یہ بالکل آپ کی اپنی مرضی پہ ہے-
اوہ اوکے-وہ بے حد سی آسودہ سی مسکرائی-مگر – میڈم مصباح کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی- یقین کریں محمل کوئی فرق نہیں پڑے گا اسے-آپ بے شک نماز نہ پڑھیں بے شک سجدہ نہ کریں-جو ہستیاں اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتیں-اگر آپ کر لیں اسے کیا فرق پؔڑے گا-اس آسمان کا بالشت بھر بھی حصہ خالی نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ سجدہ نہ کر رہا ہو-اور فرشتہ جانتی ہو کتنا بڑا ہو سکتا ہے؟جب اس پہاڑ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےجبرائیل علیہ السلام کے پکارنے پر پلٹ کر دیکھا تھا،تو جبرائیل علیہ السلام کا قد زمیں سے آسمان تک تھا-اور ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمان نظر نہیں آرہا تھا-ایسے ہوتے ہیں فرشتے-70 ہزار فرشتے کعبہ کا طواف کرتے ہیں یہ تعداد عام سی لگتی ہے مگر جانتی ہو،جو 70 ہزار فرشتے روز طواف کرتے ہین ان کی باری پھر قیامت تک نہیں ائے گی- اس رب کے پاس اتنی لاتعداد ہستیاں ہیں عبادت کرنے کے لیئے،آپ نماز نہ بھی پڑھیں تو اسے کیا فرق پڑے گا؟
میڈم مصباح جا چکی تھیں اور وہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ کتابیں سینے سے لگائے ساکت سی کھڑی تھی-اس کو لگا وہ اب کبھی نماز چھوڑ نہ سکے گی-
٭٭٭٭٭٭
شام میں اس نے بہت اہتمام کے ساتھ نماز عصر پڑھی-پڑھ کے لاؤنج میں فون اسٹینڈ کے ساتھ بیٹھی ہی تھی کہ نادیہ کو فون کرے-ناعمہ چاچی معاذ کو کان سے پلڑے بے بس سی ڈانٹ رہی تھیں-اور وہ کان چھڑا کر چھپاک سے منہ چڑاتا بھاگ گیا تھا-
اتنا شیطان ہوگیا ہے یہ لڑکا، کیا کروں میں اس کا- وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کے پریشانی سے بولیں اور محمل کی فون نمبر پریس کرتی انگلیاں رک گئیں-
شیطان ہوگیا ہے یہ لڑکا ! اس نے زیر لب دہرایا-
لفظ شیطان کا روٹ ورد کیا تھا؟شین طا نون (ش ط ن )شطن-یعنی رحمت سے دور،اللہ کی رحمت سے دور،دھتکارا ہوا-اوہ گاڈ،انہوں نے اپنے بچے کو اللہ کی رحمت سے دور ہوا کہہ دیا؟
چچی – اس نے ہولے سے انہیں پکارا فون کا رسیور ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا-
ہاں؟ناعمی چاچی نے پریشانی سے چونک کر اسے دیکھا-
معاذ کو شیطان تو نہ کہیں-چچی اللہ! نہ کرے وہ شیطان ہو-شیطان تو اللہ کی رحمت سے دور ہونے کو کہتے ہیں-
اچھا چھا ۔۔۔۔ بس کرو دو سیپارے کیا پڑھ لیئے اب ہمیں سیکھائے گی یہ-ہونہہ ان کا تو قبلہ ہی بدل گیا ہے-وہ استہزائیہ کہتی باہر نکل گئیں اور وہ جہان تھی وہی سن سی بیٹھی رہ گئی-
ان کا تو قبلہ ہی بدل گیا ہے-وہ تکرار اس کے ذہن میں گونج رہی تھی-
بہت پہلے ملنے والی سیاہ فام لڑکی ایک دم اسے یاد آئی تھی-
اس میں تمہارا ماضی ہے،حال ہے اور مستقبل لکھا ہے-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: