Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 16

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 16

–**–**–

 

وہ سر جھکائے خاموشی سے برتن دھو کر ریک مین لگارہی تھی- دھلی پلیٹوں سے پانی کے قطرے ٹپ ٹپ گر رہے تھے-اس کے ہاتھ سست روی سے کام کر رہے تھے-وہ کچن میں اکیلی تھی،اماں جانے کہاں تھیں-باقی لوگ تو کام کے وقت کچن میں آنا مزاج کے خلاف سمجھتے تھے،مگر خیر اس نے سر جھٹکا-وہ اب کوشش کرتی تھی کہ ایسی سوچوں کو دل میں جگہ نہ دے -اب محسوس ہوتا تھا کہ اس نے اپنے بدصورت رویئے سے اپنے اور ان کے درمیاں فرق نہ رکھا تھا، پہلے وہ ہر چیز اس دنیا میں برابر کرنے پہ تلی تھی،اب اس نے “صبر کرنا شروع کر دیا تھا-
زندگی ویسے بھی اب ٹف تھی-اب مسجد کی ٹیچرز نے اسے دیر سے آنے پر الٹی میٹم دے دیا تھا،وہ خود بھی اپنی تجوید درست کرنے فجر کے بعد آنا چاہتی تھی- کہ تب لڑکیاں اکٹھی بیٹھ کے تجوید پریکٹس کرتی تھیں-صرف یہ مسئلہ تھا فجر کے وقت فریج لاک ہوتا تھا- اس کے لاکھ کہنے پر بھی کسی پہ اثر نہیں ہوا تھا، اس کے پاس اپنے ناشتے کے پیسے نہ تھے، یا تو وہ ٹرانسپورٹ کا کریہ ادا کرتی یا اپنا ناشتہ لا کر کرتی- سو اس نے ناشتہ قربان کر کے وین والے کو فیس دے دی- اور روز صبح تہجد پہ اٹھ کر وہ آدھے گھنٹے اپنا ہوم ورک کرتی،پھر فجر پڑھ کر نکل جاتی-عصر کے قریب واپس آتی- ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے علم فقر و فاقے کے بغیر نہیں آتا،ٹھیک ہی کہتے تھے-
اس نے آخری پلیٹ ریک پہ رکھی،ٹونٹی بند کی اور ہاتھ خشک کرتی اپنے دھیان میں پلٹی تھی- کہ کچن کے کھلے دروازے مین کسی کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹکی اور پھر دوسرے ہی پل ساکت رہ گئی-
کیسی ہو؟َ فواد سینے پہ ہاتھ باندھے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا-
وہ گنگ سی بنا پلک جھپکے اسے دیکھے گئی-یہ کب واپس آیا؟
تم مجھے بہت یاد آئی محمل! میں ایک بہت بڑی سازش کا نشانہ بنا ہوں-
اماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اماں- وہ ایک دم بلند آواز میں پکارنے لگی-خون ابلنے لگا تھا، اسے محسوس ہوا اس کا جسم کپکپا رہا ہے-
کیا ہوا؟مسرت بوکھلا کر اندر آئیں،اور پھر فواد کو دیکھ کر چپ سی ہوگئیں-فواد بیٹا تم؟
چاچی – وہ ان کی طرف بے قراری سے پلٹا- میرے ساتھ بہت بڑی سازش ہوئی ہے،یہ سب اس اے ایس پی کا کیا دھرا ہے-میں بھلا محمل کے ساتھ ایسا کر سکتا ہوں؟
٭٭٭٭٭
محمل! تم – وہ اب اس کی جانب مڑا -تم جانتی ہو میں بے قصور ہوں-
ریکارڈنگ جو انہوں نے تمہیں سنائی وہ ان کے کسی فنکار کی تھی-ہم ان پولیس والوں کو بھتہ نہیں دیتے-اس لیئے انہوں نے ایسا کیا-تم یاد کرو تم نے خود کہا تھا میں سائن کروانے چلی جاتی ہوں-میں نے اگر سودا کیا ہوتا تو میں خود تجھے مجبور کرتا-
وہ ایک دم چونکی وہ ٹھیک کہہ رہا تھا مگر-
“آپ نے مجھ پر الزام لگایا کہ آپ نے مجھے رنگے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے اس سے بولا نہیں گیا-
وہ سب مجھے اے ایس پی نے رات کو کہا تھا- کہ میں تمہارے اور اس کے درمیان آنے کی کوشش نہ کروں-بھلا بتاؤ میں ایسا کر سکتا ہوں؟ پھر مجھے یقین آہی گیا تم جیسی باکردار اور پارسا لڑکی ایسا کر ہی نہیں سکتی-میں پورے گھر کے سامنے تمہارے کردار کی قسم کھانے کے لیئے تیار ہوں-چاچی آپ میرا یقین کریں-
وہ بے بس سا مسرت کے پاس جھکا اور ان کے دونوں ہاتھ پکڑ لیئے-
یقین کریں میں نے کچھ نہیں کیا،لیکن اگر آپ سمجھتی ہیں کے محمل میری وجہ سے بدنام ہوئی ہے تو میں محمل سے شادی کرنے کے لیئے تیار ہوں- آپ جب کہیں آغا جان دھوم دھام سے محمل کو اپنی بہوبنائیں گے-
آپ ہاں تو کریں-ایک دفعہ میری محمل سے شادی تو ہوجائے پھر دیکھیں ہوگی کسی میں ہمت محمل پر انگلی اٹھانے کی؟ہم وہ انگلی کاٹ دیں گے-اللہ گواہ ہے چچی ہم ایسا کریں گے-
فواد ۔۔۔۔۔! تم سچ کہہ رہے ہو؟فرط جذبات سے مسرت کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے-
وہ جہ ساکت سی سلیب کا سہارا لیئے کھڑی تھی- ایک دم بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی-
اس نے رات کا کھانا نہیں کھایا،بس سر منہ لپیٹے پڑی رہی-باہر چہل پہل کیآوازیں آرہی تھیں-
ہنسی مذاق باتیں شور قہقہے دعوت کی طرح کا سماں تھا اشتہا انگیز کھانوں کی مہک اس کے کمرے تک آرہی تھی،مگر اس کا کسی چیز کے لیئے دل نہیں چاہ رہاتھا-
وہ چت لیتی دیر تک چھت پر گھومتے پنکھے کو دیکھتی رہی تھی-تینوں پر گول گول گھوم رہے تھے-بار بار ایک ہی مدار کے گرد چکر کاٹتے،آخر میں وہی پہنچ جاتے جہاں سے چلے تھے-وہ بھی وہیں پہنچ گئی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح پرئیر ہال کی کشادہ سفید سیڑھیاں وہ ننگے پاؤں سست روی سے اتر رہی تھی-سفید شلوار قمیض کے اوپر پنک اسکارف نفاست سے اورھے ،ایک ہاتھ ریلنگ پر رکھے وہ جیسی پانی پہ چلتی غائب دماغی سے نیچے اتری تھی- اس کو آج کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہاتھا،وہ چپ چاپ اپنی جگہ پر آئی- بئگ ڈیسک پہ رکھا اور گرنے سے انداز میں بیٹھی–
اگر کالج ہوتا تو یقیناَ آج نہ آتی،اتنی ڈپریسڈ ہوگئی تھی کہ وہ پڑھ نہ سکی تھی-مگر وہ کالج نہ تھا،نہ ہی وہ پڑھنے آئی تھی-وہ تو سننے آئی تھی-
بعض چیزیں اتنی حیرت انگیز ہوتی ہیں کہ انسان ان پر حیران ہونا ترک کر دعتا ہے-معجزانہ کتاب بھی ایسی ہی تھی،عاجز کر دینے والی- وہ جو سوچتی تھی اس کتاب میں لکھا آجاتا تھا-اب محمل نے حیران ہونا ترک کر دیا تھا-اسے لگا وہ اب کبھی حیران نہیں ہو سکے گی،مگر آج کی آیات پر وہ پھر چونکی تھی-
” اور لوگوں میں سے کوئی ہے ،اچھی لگتی ہے تمہیں اس کی بات دنیا کی زندگی کے متعلق ۔۔۔۔۔ اس نے سر گھٹنوں پہ رکھ دیا اور بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹ لیئے-
اور وہ اپنی بات پر اللہ کو گواہ بنا لیتا ہے،جبکہ حقیقت میں وہ بے حد جھگڑالو ہے-
اس نے سر اٹھایا چہرہ دائیں جانب گھمایا،پنک اسکارف میں ملبوس لڑکیاں سر جھکائے تیزی سے قلم پیپر پر چلا رہی تھیں-وہاں کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے- کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے-
بس وہی جانتا تھا جس نے یہ کتاب اس کے لیے اتاری تھی-اسے کبھی کبھی لگتا تھا یہ بس اس کی کہانی ہے،کسی اور کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا-
“اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے-اس نے دونوں کنپٹیوں کو انگلیوں سے سہلایا-
اچھی لگتی ہے تمہیں-
وہ آہستہ سے اٹھی سیپارہ بند کیا اور کچھ بھی لیے بغیر سیڑھیوں کی طرف بڑھی-
اس کی بات-
وہ دھیرے دھیرے زینے چڑھ رہی تھی-
دنیا کی زندگی کے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔
وہ آخری زینہ عبور کر کے برآمدے کی طرف بڑھی-
اور وہ اپنی بات پر اللہ کو گواہ بنا لاتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہے- وہ تھکاوٹ سے باہر برآمدے کے اسٹیپس پر بیٹھ گئی-سامنے ہرا بھرا لان تھا-وہ ستون سے سر ٹکائے لان کے سبزے کو خالی خالی نظروں سے دیکھے گئی-
یہ تو اس نے اپنے دل سے بھی نہ کہا تھا کہ اسے فواد کی بات اچھی لگی تھی-اس کی آفر دلفریب تھی،دلکش تھی- وہ اپنے دل سے اقرار کرنے سے ڈرتی تھی،مگر وہ تو ہر نگاہوں کی خیانت بھی جانتا ہے،اس سے کیسے چھپ سکتی تھی کوئی بات مگر اس نے اسے ڈانٹا نہیں ذلیل نہیں کیا جیسے لوگ کرتے تھے-اس کا تماشا نہیں بنایا تھا جیسے خاندان والے بناتے تھے-اس کی بات سنی ان سنی نہیں کی جیسے نادیہ کرتی تھی،کوئی ڈانٹ ڈپٹ لعن طعن نہیں کیا- بس وہی ایک نرم مہربان انداز جس کی تڑپ میں وہ قرآن سننے آئی تھی،وہ ڈانٹتا ہی تو نہیں تھا،اس کی طرح کوئی سمجھاتا ہی نہیں تھا-کوئی اس کی طرح تھا ہی نہیں-
وہ وہی بیٹھی تھی جب ساتھ میں وہ لڑکی آ بیٹھی-غالبا مڈ بریک تھی-اور لڑکیاں اس میں بھی بیٹھ کر تجوید کرتی تھیں-
وہ ٹھڑی ہتھیلی پہ رکھے چہرہ موڑے یونہی اسے دیکھے گئی-
وہ لڑکی گھٹنوں پہ قرآن رکھے بائیں ہاتھ سے صفحے پلٹ رہی تھی،دایاں ہاتھ یونہی ایک طرف گرا پڑا تھا-مطلوبہ صفحہ کھول کر اس نے بائیں ہاتھ سے گرے ہوئے ہاتھ کو اٹھایااور گود میں رکھا،پھر ٹھیک ہاتھ سے صفحے کا کنارہ پکڑے پڑھنے لگی-
“ان المسلمین والمسلمات۔۔۔۔
وہ رک رک کر اٹک اٹک کر پڑھتی،بار بار آواز ٹوٹ جاتی-وہ پھر سے شروع کرتی،مگر ہکلاہٹ زدہ زبان پھر ساتھ چھوڑ جاتی-مخارج صحیح نہ نکل پاتے وہ بدقت تمام ایک لفظ بولتی تو ساتھ گاں گاں آواز بھی اتی-
یکدم محمل کو احساس ہوا وہ رونے لگی تھی- اس کا مفلوج دایاں ہاتھ بار بار نیچے گر جاتا، وہ بائیں ہاتھ سے اسے اٹھاتی،پھر سے تجوید سے پڑھنے کی کوشش کرتی- اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی اور آنسو ابل کر گال پہ لڑھکنے لگے-وہ بائیں ہاتھ سے آنسو رگڑتی،دبی دبی سسکیوں کے ساتھ پھر سے کوشش کرنے لگی-
محمل گم صم اسے دیکھے گئی-وہ اپاہج لڑکی اپنے اللہ سے بات کر رہی تھی، وہ اس کا بہت ہمدرد تھا-اسے محمل کی ہمدردی کی اس وقت ضرورت نہ تھی-لمحے بھر کو بھی اسے اس پر ترس نہیں آیا تھا،بلکہ رشک ہوا تھا،کوئی ایسے بھی تڑپ کر قرآن پڑھتا ہے جیسے وہ پڑھ رہی تھی؟اور ایک ہم ہیں برسوں اس مصحف کو لپیٹ کر سب سے اونچے شیلف میں سجائے رکھتے ہیں اور بس سجائے ہی رکھتے ہیں-وہ ایسے ہی ہتھیلی ٹھوڑی تلے دبا ئےگردن پوری اس کی طرف موڑے پلک جھپکے بنا اسے دیکھے جا رہی تھی-
وہ پھر سے ہکلاتی زبان میں پڑھنے لگی،مگر ٹھیک پڑھا نہ جا رہا ھا،آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے-دبی دبی سسکیوں کے درمیاں وہ مسلسل استغفراللہ کہے جارہی تھی-عام سی شکل کی اپاہج لڑکی-اسے بے اختیار وہ سیاہ فام لنگڑی لڑکی یاد آگئی-
وہ کتنوں کو سہارا دئیے ہوئے تھا،اور وہ کتنے بد نصیب ہوتے ہیں جو تلاوت کی آواز سن کر کان بند کر لیتے ہیں-کبھی میں بھی ان بد نصیبوں میں تھی-
وہ آہستہ سے اتھی اور سر جھکائے چل دی-
برآمدے کی سیڑھیون پہ بیٹھی اپاہج لڑکی اسی طرح رو رہی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ گیٹ بند کر کے اندر داخل ہوئی تو لان میں کرسیاں ڈالے تقریبا تمام کزنز بیٹھے ہوئے تھے-فواد بھی ان کے ساتھ ہی تھ-وہ کسی بات پہ ہنس رہاتھا-شرٹ کا اوپری بٹن کھولے، قیمتی رست واچ پہنے،اس کے پرفیوم کی مہک یہاں تک آرہی تھی-
وہ کرسیوں کا دائرہ بنا کر بیٹھے تھے-یہ ندا تھی جو اس کی بات دلچسپی سے سن رہی تھی،جبکہ آرزو بھی اسی دائرے میں لا تعلق سی بیٹھی تھی اور فائقہ بھی-رضیہ پھپھو کی فائقہ،وہ بھی جیسے فواد سے احتراز برت رہی تھی-جیل جانے کے بعد بھلے تائی مہتاب جتنی تادیلیں پیش کرتیں، فواد کی اہمیت اب وہ نہ رہی تھی-وہ کتابیں سینے سے لگائے سر کو جھکائے تیز تیز چلنے لگی-
محمل! وہ برآمدے کے اسٹیپ پر تھی جب فواد نے اسے بے اختیار پکارا تھا-اس نے ایک پاؤں سیڑھی پر رکھے گردن موڑی-وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا-آؤ بیٹھو-
مجھے کام ہے وہ روکھے تاثرات دے کر برآمدے کا دروازہ پار کر گئی- لان میں بہت سی معنی خیز نگاہوں کا تبادلہ ہوا تھا-
اس کی ہمت کیسے ہوئی یوں مجھے سب کے سامنے بلائے- مائی فٹ! وہ پیر پٹختی اندر آئی تھی-لاؤنج میں حسن نظر آیا تو ایک دم ٹھٹک کر رکی،پھر سر جھٹک کر اندر جانے لگی-
محمل! اس کے قدم رک گئے مگر پلٹی نہیں-
تمہیں فواد کی ہر بات پہ یقین ہے؟
مجھے آپ پہ بھی یقین نہیں ہے-اس کا گلا رندھ گیا تھا،تیزی سے کہہ کر اس نے دروازہ کھولا اور پھر دھڑام سے اپنے پیچھے بند کیا تھا-
حسن نے تاسف و بے بسی سے چند لمحے ادھر دیکھا پھر سست روی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس نے چمچہ ہلا کر پتیلی کا ڈھکن بند کیا،جھک کر چولہا قدرے آہستہ کیااور واپس کٹنگ بورڈ کی طرف آئی جہاں سلاد کی سبزیوں کا ڈھیر لگا تھا-وہ وہی کھڑے سر جھکائے کھٹ کھٹ سبزیان کاٹنے لگی-
ادھر ہو محمل! رضیہ پھپھو نے اندر جھانکا-
محمل نے سر اٹھایا- آج اس نے پونی نہیں باندھی تھی اور بھورے لمبے بال شانوں پہ گر رہے تھے جنہین اس نے کانوں کے پیچھے اڑس سکھا تھا-
جی پھپھو؟وہ آہستہ سے گویا ہوئی،یہ محمل کے اندر ایک واضح تبدیلی تھی وہ پہلے جیسی بد لحاظ نہیں رہی تھی- ورنہ پہلے تو اسے مخاطب کرتے ہوئے ڈر لگتا تھا-
میں نے سوچا تمہاری کوئی مدد کروا دوں-مسرت کو تو بھابھی نے دوسرے کاموں میں لگا رکھا ہے-کوئی تک ہے بھلا؟جب دیکھو بے چاری سے کام ہی کرواتی رہتی ہیں-
تو کوئی بات نہیں پھپھو ، ہمارا فرض ہے- وہ نرمی سے مسکرا کر پھر سے سبزیاں کاٹنے لگی تھی-
یہ فواد رہا کب ہوا؟پھپھو سامنے کاؤنٹر سے ٹیک لگائے گویا ہوئیں-
معلوم نہیں-
ہک ہا-بڑا ظلم کیا اس نے تمہارے ساتھ-میرا تو مانو اس کی شکل دیکھنے کو دل نہیں کرتا-
وہ سر جھکائے کھٹا کھٹ پیاز کاٹتے جا رہی تھی-
آنکھوں میں آنسو گرنے لگے تھے-
بڑا دل تھا میرا اپنی فائقہ کے لیے مگر دل ایسا ٹوٹا تھا کہ پھر ادھر آنے کو ہی نہیں چاہتا تھا،کتنے چہرے نکلتے ہیں نا لوگوں کے محمل!
جانے دیں پھپھو اناللہ پڑھ لیں- فائقہ باجی کوئی کم تھوڑی ہیں-وہ کسی اچھے بندے کے قابل ہیں اچھا ہی ہوا جو بھی ہوا-
اسے پھپھو کے آزردہ چہرے کو دیکھ کے دکھ ہوا تھا- یہ پہلی دفعہ تھا کہ وہ اس سے ایسے بات کر رہی تھیں-ورنہ پہلے تو محمل نے درمیاں میں اتنی دیواریں کھڑی کر رکھی تھیں کہ انہیں پاٹنا مشکل تھا، وہ اس کے ابا کی ایک ہی بہن تھی-وہ کیوں لوگوں سے شکایت کرے؟اس نے خود بھی تو کبھی بنا کے رکھنے کی کوشش نہ کی تھی-
ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔۔
اسی لمحے فواد نے کچن کا دروازہ کھولا-ان دونوں نے چونک کے ادھر دیکھا، محمل کے لب سختی سے بھینچ گئے تھے وہ تیز تیز سبزی کاٹنے لگی –
محمل! ایک کپ چائے مل سکتی ہے؟
یہ فارغ نہیں ہے- اپنی بہنوں سے کہہ دو۔۔۔۔۔۔ وہ فارغ ہی بیٹھیں تھیں باہر-پھپھو نے نہایت بے رخی سے کہا، وہ چند لمحے کھڑا رہا پھر مڑ گیا-
ہونہہ ،حکم دیکھو کیسے چلا رہاہے- تم ذرا بھی اس کی نہ سنا کرو-میرے بھی کتنے خواب تھے، ہمیں کوئی کمی تھوڑی ہے- فائقہ کے پاپا کے بزنس کا تو تمہیں پتا ہے کڑوڑوں میں کھیلتے ہیں- ان کی طرح یتیموں کا مال نہیں کھاتے،
میں یتیم نہیں ہوں پھپھو! میں بالغ ہوں- اور بلوغت کے بعد یتیمی نہیں ہوتی-
وہ اب سلاد میں لیموں نچوڑ رہی تھی-
ہاں ہاں، تمہیں پتہ ہے؟ ابھی فائقہ کے پاپا نے نیا گھر بنوایا ہے،دوسرا گھر تو پھر فرنش کرکے فائقہ کو دیں گے جہیز میں-
محمل کی لیموں نچوڑتی انگلیاں تھمیں-ایک خیال کے پیش نظر اس نے چونک کر سر اٹھایا-
پھپھو!اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا-آپ کو مدد کی ضرورت ہوگی نا-گھر شفٹ کیا ہے آپ اکیلے کیسے کریں گی سب؟نوکروں پہ بھروسہ کر ہی نہیں سکتے-میں آجاؤں آپ کے پاس ہیلپ کرادوں گی-
ہاں ہاں کیوں نہیں-پھپھو تو نہال ہوگئیں-میں تم سے کہنے ہی لگی تھی پھر سوچا تمہاری پڑھائی ہے- (تو اسی لیے اتنا پیار جتا رہیں تھیں، خیر)
کوئی بات نہیں ویک اینڈ ہے اور پھر آپ کی ہیلپ بھی تو کرانی ہے نا-
اسے فواد سے دور رہنے کا یہی طریقہ نظر آیا تھا،پھپھو نے تو فورا ہامی بھرلی-وہ جلدی سے اپنا بیگ تیار کرنے لگی-
تیاری کیا تھی دو جوڑے رکھے چند ضروری چیزیں اور پھر قرآن رکھتے رکھتے رہ گئی-
قرآن تو وہاں ترجمے والا مل ہی جائے گا،دودن کی تو بات ہے،اب ساتھ کیا رکھوں -کوئی بات نہیں اس نے بیگ کی زپ بند کردی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پھپھو کا سامان شفٹ ہوگیا تھا،بس ڈبوں میں بند تھا-وہ جاتے ہی کام میں لگ گئی فائقہ تو ٹی وی میں ہی مگن تھی-ڈش بھی لگ گئی تھی اور وہ بہت شوق سے کچھ دیکھ رہی تھی-پھپھو نے اس سے کچھ نہ کہا،محمل ہی ساری چیزیں نفاست سے سیٹ کرتی رہی –
رات بارہ بج گئے جب اس نے آج کے لیے بس کی- اور پھر نہا کر نیا سوٹ پہنا- پھر نئے سرے سے وضو کیا،اور دوپٹہ سر پر لپیٹے وہ پھپھو کے پاس چلی آئی-پھپھو آپ کے پاس ترجمے والا مصحف ہوگا؟
کیا ترجمے والا؟وہ اپنے کپڑوں کی الماری سیٹ کر رہی تھیں-
قرآن ۔۔۔۔۔ قرآن ہوگا- اس نے جلدی سے وضاحت کی-
ترجمے والا تو فائقہ کی دادی کا تھا پچھلے گھر مین-مگر وہ کسی نے مانگ لیا تھا،ترجمے بغیر والا ہوگا-اچھا چلیں وہی دے دیں-
کتابوں کے ڈبے سے نہیں نکلا؟
نہیں تو میں نے خود ساری کتابیں ادھر رکھی ہیں-
پھر شاید کہیں مس پلیس ہوگیا ہو، فائقہ سے پوچھ لو-وہ پھر سے کام میں مگن ہوگئیں-
وہ بے دلی سے فائقہ کے پاس آئی-
فائقہ باجی آپ کے پاس قرآن ہوگا؟
میرے پاس؟مجھے کیا کرنا ہے؟وہ الٹا حیران ہوئی- اماں سے پوچھو ان کو ہی پتا ہوگا-
وہ مایوس سی خود ہی ڈھونڈنے لگی- کتابوں کے ریک کو پھر سے دیکھا، ایک ایک چیز چھان ماری مگر قرآن نہ تھا نہ ملا-
وہ اپنے کمرے میں ائی اور اپنا بیگ پھر سے کھولا- شاید کوئی معجزہ ہوجائے اور شاید اس نے قرآن رکھ دیا ہو،سارے کپڑے اوپر نیچے کیے مگر وہ ہوتا تو ملتا-
وہ پھر سے لاؤنج میں آگئی-
فائقہ باجی آپ کے پاس کوئی کیسٹ ہوگی تلاوت کی؟
نہیں فائقہ نے لاپرواہی سے شانے جھٹکے-
کوئی چینل ہوگا جس پہ تلاوت آتی ہو؟
تنگ مت کرو محمل میں مووی دیکھ رہی ہوں-
وہ اکتا کر رخ پورا ٹی وی کی طرف کر کے بیٹھ گئی-
محمل تھکے تھکے قدموں سے واپس آئی اور پھر بیڈ پر گر کر نہ جانے کیوں رونے لگی تھی-
رات وہ بے چین سی نیند سوئی-اگلادن کام کرواتے وہ مغموم، بے چین رہی،کھانے کے بھی چند لقمے لے سکی-اس سے کھایا ہی نہیں جا رہا تھا-
ہفتے اور اتوار کے وہ دودن جیسے اس کی زندگی کے بدترین دن تھے-اس کا بس نہیں چلتا تھا وہ اڑ کر گھر پہنچ جائے اور اپنا قرآن تھام لے- کوئی ایسا اتفاق تھا کہ رضیہ پھپھو کا ڈرائیور چھٹی پہ چلا گیا،وہ اب ان کے میاں نفیس انکل سے کہہ بھی نہیں سکتی تھی-گھر سے بھی کوئی دے کر نہیں جائے گا وہ جانتی تھی-
اللہ اللہ کر کے اتوار کی رات گھر سے گاڑی اسے لینے آئی-
پھر جس لمحے وہ گھر آئی بجائے کسی سے ملنے کے بجائے کہیں اور جانے کے وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی- شیلف پہ بیگ ایک طرف ڈالا اور شیلف پر سے قرآن اٹھا کر سینے سے لگا لیا- اسے لگا اب وہ زندگی بھر قرآن کے بغیر کہیں نہ جا سکے گی- لوگ چابی بٹوہ اور موبائل کے لیے آتے ہیں، قرآن کے لیے کوئی واپس نہیں اتا نہ جانے کیوں-
محمل! اماں پکارتی ہوئی آئیں تو اس نے آنسو خشک کیئے اور اپنے مصحف کو احتیاط سے شیلف پر رکھا-
محمل- یہ لو-اماں نے دروازہ کھولا اور ایک خط کا لفافہ اس کی طرف بڑھایا-تمہاری ڈاک آئی تھی-کل-
میری ڈاک ؟اس نے حیرت سے لفافہ تھاما- مسرت جلدی میں اسے لفافہ دے کر پلٹ گئی-اس نے الجھتے ہوئے لفافہ چاک کیا اور اندر موجود کاغذات نکالے-
وہ اسکالر شپ تھا جو اس کو دیا گیا تھا-انگلینڈ میں اعلی تعلیم کا اسکالر شپ-
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محمل تمہاری ڈاک ائی تھی کیا یہ وہ اسکالر شپ تھا؟
کھانے کی میز پر آغا جان نے پوچھا تو یکدم سناٹا چھا گیا-محمل نے جھکا ہوا سر اٹھایا-سب ہاتھ روکے اسے ہی دیکھ رہے تھے-
جی- اسے اپنی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی-خوشی یا جوش سے خالی آواز-
ہوؐ-تو کلاسز کب اسٹارٹ ہونگی؟آغآ جان بات کرنے کے ساتھ ساتھ چمچہ کانٹا پلیٹ میں چلا رہے تھے-باقی سب دم سادھے محمل کو دیکھ رہے تھے-بلا شبہ وہ ایک بڑی خبر تھی-
ستمبر میں-
تمام اخراجات وہی اٹھائیں گے؟
جی-وہ بھی جواب دینے کے ساتھ ساتھ کھانے لگی تھی-ڈائننگ ہال میں اب اس کے چمچے کی آواز بھی آرہی تھی-
ویری گڈ-
انگلینڈ میں؟
اسکالر شپ؟
محمل انگللینڈ چلی جائے گی؟
سرگوشیاں چہ میگوئیاں شروع ہوچکی تھیں-اس نے سر جھکائے خاموشی سے کھانا ختم کیا،پھر کرسی کھسکا کر اٹھی اور بنا کچھ کہے ڈائننگ ہال سے چلی گئی-
اسے نہیں معلوم تھا وہ خوش تھی یا نا خوش-اسے ایک نئی زندگی گزارنے کا موقع مل رہا تھا،اسے خوش ہونا چاہیئے-لیکن پھر یہ ناخوشی؟دل ڈوبنے کا یہ احساس؟شاید یہ اس لئیے تھا اس صورت میں اسے علم الکتاب اور مسجد چھوڑنی پڑے گی-قرآن کی تعلیم ادھوری رہ جائے گی-لیکن وہ تو میں بعد میں بھی کر سکتی ہوں-انگلینڈ جانے کا موقع بعد میں نہیں ملے گا-
ان ہی سوچوں میں گم نیند نے اسے آلیا-
٭٭٭٭
صبح کلاس میں سیپارہ کھولتے وقت اسے امید تھی کہ آج کے سبق میں اس کے اسکالرشپ کے بعد کے خیالات کے متعلق آیات ضرور آجائیں گی،لیکن آج کی آیات سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کے کسی قدیم قصے کی تھیں-
یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ اسے اس کا جواب نہیں مل رہا تھا-اور وہ واقعہ جو بیان کیا جا رہا تھا وہ بھی قدرے ناقابل فہم تھا-بلکہ تھا نہیں اسے لگا تھا-وہ اسکالر شپ بھلا کر اس واقعے میں ہی الجھ گئی-
واقعہ کچھ یوں تھا کہ جب طالوت کا لشکر جالوت سے مقابلے کے لیے نکلا،تو راستے میں آنے والی نہر میں ان کے لیے آزمائش ڈال دی گئی-اللہ نے اس نہر کے پانی کو سوائے ایک چلو کے پینے سے منع کیا،تو جو لوگ پانی پینے گئے اور جنہوں نے چلو سے زیادہ نہ پیا،وہ آگے نکل گئے اور انہیں میں حضرت داؤد علیہ السلام تھے، جنہوں نے جالوت کو قتل کر کے اسے اس کے انجام تک پہنچایا-
پوری تفسیر سن کے بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ نہر کا پانی کیوں نہیں پینا تھا؟ پانی تو حرام نہیں ہوتا پھر کیوں؟وہ پورا دن یہی سوچتی رہ گئی تھی،یہاں تک کہ رات جب میٹھا لینے کچن میں آئی تب بھی یہی سوچ رہی تھی-
کچن خالی تھا،اس نے فریزر کا ڈھکن کھولا،سویٹ ڈش کے ڈونگے نکالے،ٹرے میں رکھے اور ٹرے اٹھا کر باہر آئی-
پھر جب طالوت اپنے لشکر کے جدا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹرے اٹھائے ڈائننگ ہال میں آئی-اونچی پونی جھکے سر سے اور اٹھ جاتی تھی-کندھوں پر پھیلایا دوپٹی،اور شفاف چہرے پہ سنجیدگی لیے اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھی-سب وقفے وقفے سے اسے ہی دیکھ رہے تھے- متاثر جلن زدہ نگاہیں-
اس نے کہا بے شک اللہ تمہیں آزمانے والا ہے ایک نہر کے ساتھ-
وہ خاموشی سے ٹرے سے ڈونگے نکال رہی تھی-
پہلا ڈونگا اس نے آغآ جان کے سامنے رکھا-
تو جو کوئی اس نہر سے پئیے گا وہ مجھ سے نہیں ہے-
دوسرا ڈونگا دونوں ہاتھوں سے ہی اٹھا کر اس نے ٹیبل کے وسط میں رکھا-
اور جو کوئی اس نہر سے نہیں پئیے گا،سوائے اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پینے کے،وہ بے شک مجھ میں سے ہے-
اس نے آخری ڈونگا ٹیبل کے آخری سرے پہ رکھا اور واپس اپنی کرسی پر آگئی-
تو سوائے چند ایک کے انہوں نے اس (نہر میں) سے پی لیا-
سب سویٹ ڈش شروع کر چکے تھے-شیشے کے پیالوں اور چمچوں کے آوازئں وقفے وقفے سے آرہیں تھیں، ان آوازوں کے درمیان وہ مدھم نرم آواز بھ اس کے کانوں میں گونج رہی تھی-اور وہ تو ابھی دور کہین اس آواز میں کھوئی ہوئی تھی-
تو سوائے چند ایک کے انہوں نے اس میں سے پی لیا-
اس نے پیالہ آگے کیا، اور تھوڑی سی کھیر اپنے پیالے میں ڈالی-
تو سوائے چند ایک کے انہوں نے اس میں سے پی لیا-
وہ اب آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے چمچ لے رہی تھی-
تو تمہیں کب تک جانا ہوگا محمل؟

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: