Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 17

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 17

–**–**–

 

تو تمہیں کب تک جانا ہوگا محمل؟
آغا جان نے پوچھا تو یکدم پھر سے ہال میں سناٹا چھا گیا-چمچوں کی آواز رک گئی-بہت سی گردنیں اس کی طرف مڑیں-اس نے سر اٹھایا-سب اس کی طرف متوجہ تھے-
اگست کے اینڈ تک-
یعنی تم ستمبر کے پہلے تک نہیں ہوگی؟
نہیں!
کیا مطلب؟آغا جان چونکے-
میں نہیں جا رہی-اس نے چمچ واپس پیالے میں رکھا اور نیپکن سے لب صاف کرنے لگی-
کیا مطلب؟
تم اتنا بڑا اسکالرشپ چھوڑ دوگی؟فضہ چاچی نے تحیر سے کہا تھا-
میں چھوڑ چکی ہوں-
مگر ۔۔ مگر کیوں؟
وہ نیپکن ایک طرف رکھ کر کھڑی ہوئی-
“کیونکہ ہر جگہ رکنے کے لیے نہیں ہوتی،اگر میں نے اس نہر سے پانی پی لیا تو میں ساری زندگی بیٹھی رہ جاؤں گی- اور طالوت کا لشکر دور نکل جائے گا-بعض حلال چیزیں کسی خاص وقت میں حرام ہوجاتی ہین-اگر اس وقت آپ اپنے نفس کو ترجیح دیں،تو خیر کا کام کرنے والے لوگ دور نکل جاتے ہیں-میں نہر پر ساری عمر بیٹھی نہیں رہنا چاہتی-مجھے وہ داؤد بننا ہے جو جالوت کو مار سکے-
وہ سوچ کر رہ گئی اور کہا تو بس اتنا،
“مجھے ابھی قرآن پڑھنا ہے اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام کتھی
ھنڈی ہوا اپنی لے پر بہہ رہی تھی-وہ ٹیرس پہ کرسی ڈالے دور آسمان کو دیکھ رہی تھی-جہاں شام کے پرندے اپنے گھروں کو اڑتے جا رہے تھے-
ٹیرس سے سامنے والوں کا گھر نظر آتا تھا-ان ہی بریگیڈیر صاحب کا گھر جن کی قرآن خوانی اس نے ایک دن دیکھی تھی-قرآن کو بھی پتا نہیں کیا کیا ہم لوگوں نے بنا دیا ہے-
اس نے کسی خیال کے تحت کپ سائیڈ پے رکھا اور اٹھی-ابھی مڑی ہی تھی کہ سامنے فواد کا چہرہ دکھائی دیا-وہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی-
وہ اندر کھلنے والے دروازے میں کھڑا تھا-سینے پہ ہاتھ باندھے لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا-
تم مجھ سے کتراتی پھر رہی ہو؟حالانکہ جانتی ہو میرا قصور نہیں ہے- وہ چپ رہی-
کل دوپہر تین بجے میں تمہارا ٹاپ پر انتظار کروں گا،مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے-آئی ہوپ کہ تم ضرور میری بات سننے آؤ گی-وہ کہہ کر ایک طرف ہوگیا-محمل کا رستہ کھل گیا-وہ بنا اسے دیکھے تیزی سے دہلیز پار کر گئی-
ایک قسم تھی جو اس نے کھا لی تھی-وہ اسے توڑ نہیں سکتی تھی-اور اس لمحے سیڑھیاں اترتے اسے محسوس ہوا کہ شاید وہ اس قسم کے بوجھ سے اب نجات چاہتی ہے-اب اس سے وہ قسم نبھائی نہیں جا رہی-بس اگر ایک دفعہ وہ فواد سے باہر مل لے تو کیا ہوجائے گا؟بس ایک دفعہ ۔ کل دوپہر تین بجے-نہیں میں قسم نہیں توڑوں گی اس نے گھبرا کر سر جھٹکا-اس کے اندر کی سوچیں اسے وحشت زدہ کرنے لگی تھیں-پھر اسے یاد آیا وہ ٹیرس سے بھلا کیوں نیچے آنے لگی تھی؟اور ہاں وہ قرآن خوانی والا گھر وہ کچھ سوچ کے گھر سے باہر آئی-
ساتھ والا بنگلہ بیلوں سے ڈھکا خوبصورت بنگلہ تھا، اس نے گیٹ کے ساتھ نصب بیل پر ہاتھ رکھا،دوپٹہ شال کی طرح کندھے کے گرد لپیٹے اونچی کسی ہوئی پونی ٹیل ادھر ادھر جھلاتی-وہ اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی-
قدموں کی چاپ سنائی دی-اور پھر گیٹ کھلا-اسی ملازم کی شکل نظر آئی-
جی؟
بریگیڑیر صاحب گھر پر ہیں؟
“نہیں آپ کون؟
میں محمل ابراہیم ہوں،ساتھ والے گھر میں رہتی ہوں،آغا ہاؤس مین-یہ کچھ پمفلٹس ہیں پریگیڈیر صاحب کو دے دینا،وہ پڑھ کر مجھے واپس کردیں،میں ان سے واپس لینے ضرور آؤں گی-یہ ذمے داری میں تمہیں دے رہی ہوں،اور ؎ذمے داری امانت ہوتی ہے-اگر امانت میں خیانت کی تو پل صراط پار نہیں کر پاؤ گے سمجھے؟
چند پمفلٹس اور کارڈ اسے تھما کر اس نے تنبیہہ کی تو ملازم نے گھبرا کر اچھا جی کہہ کر سر اندر کر لیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ شام وہ رات اور اگلی صبح بہت کٹھن تھی-وہ لمحے بھر کو بھی نہ سو سکی تھی- ساری رات بستر پر کروٹین بدلتے گزری-مستقبل بہت سے اندیشوں میں لپٹا ہوا نظر آرہا تھا-وہ کیا کرے کس سے مشورہ کرے کس سے پوچھے؟
اور جواب تو اسے سوچنے کی ضرورت ہی نہ تھی-جب صبح کے قریب اس نے قسم توڑنے کا سوچا تو بستر سے نکلی اور معاملہ اللہ پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا-
کل ان کی کلاس میں سورہ بقرہ ختم ہوئی تھی-،اور آج آل عمران شروع ہونا تھی-غالباَ پہلی گیارہ آیات پڑھنی تھیں-اسے پکا یقین تھا کہ کوئی حل آج کے سبق میں موجود ہوگا-سو اس نے آج کی ایات کھولیں-
پھر ان تمام آیات کو اس نے دو تین دفعہ پڑھا- دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی-وہاں کوئی ذکر نہ تھا-نہ قسم کا نہ قسم توڑنے کے کفارے کا-
کفارہ؟ وہ چونکی-تو کیا میں قسم توڑنا چاہتی ہوں؟
ہاں دل نے واضح جواب دیا تو اس نے خود سے نگاہیں چرا کر مصحف بند کر دیا اور اوپر رکھ دیا-
فرشتے ایک فائل پر سرسری نگاہ ڈالتے کوریڈور سے گزر رہی تھی جب وہ پھولی سانس کے تقریبا دوڑتی ہوئی اس کے سامنے آئی-
فرشتے مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے؟
فائل کے صفحے کا کنارہ فرشتے کی انگلیوں میں تھا، اس نے سر اٹھایا-
اسلام علیکم!کیا بات ہے؟
وعلیکم السلام-وہ پھولی سانسوں کے درمیان تیز تیز بول رہی تھی-وہ ایک فتو’ی لینا ہے-
میں مفتی نہیں ہوں-
مگر بس ایک فقہی مسئلہ ہے-
ضرور پوچھنا، مگر آج کی تفسیر سن لو اس میں ہے تمہارا مسئلہ-” محمل کو جھٹکا لگا-
آپ کو میرے مسئلہ کا کیسے پتا ہے؟
ارے نہین مجھے تو آج کی آیات کا بھی نہیں پتہ ،میڈم مصباح لیتی ہیں نا آج کل اپ کی کلاسز؟
پھر آپ کو کیسے پتہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ یہی ہمیشہ ہوتا ہے-تفسیر کا ویٹ کرلو،تمہارا مسئلہ کلیر کٹ لفظوں میں آجائے گا- اس نے فائل کا صفحہ پلٹا اور سرسری سا اوپر نیچے دیکھنے لگی-
مگر میں نے آج کی آیات پڑھ لی ہیں،ان میں میرا مسئلہ نہیں ہے مجھے پتا ہے-
صبر لڑکی علم صبر کے ساتھ آتا ہے-تفسیر کے بعد پوچھ لینا مگر اس کی یقینا نوبت نہیں ائے گی- وہ ہلکا سا اس کا گال تھپتھپاتی فائل دیکھتی آگے بڑھ گئی- محمل نے اپنے گال کو چھوا اور پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی-
یہ کبھی نہیں ہوا تھا وہ جو سوچے وہ قرآن میں لکھا ہوا نہ ہو-لوگ اس کی بات نہیں سنتے تھے، تو توجہ نہیں کرتے، اگر توجہ نہ بھی کرتے تو سمجھتے نہیں تھے، اور ایک قرآن تھا اسے کہنا بھی نہیں پڑھتا اور وہ دل کی بات دھیان سے سنتا توجہ کرتا،سمجھتا اور پھر دانائی اور حکمت کے ساتھ اسے سمجھاتا تھا،اور اس جیسا کوئی نہ سمجھاتا تھا-
مگر اسے لگا آج کی آیات میں ایسی کوئی بات نہیں تھی- جو اس سے متعلق ہو-
بہت بے دلی اور رنج سے اس نے سیپارہ کھولا-وہ سفید چادر پر دو زانو ھو کر بیٹھی تھی-سامنے ڈیسک پر سیپارہ کھلا پڑا تھا-ایک طرف رجسٹر تھا جس کی طرف جھکی وہ تیزی سے لکھ رہی تھی-
محکمات وہ آیات تھی جن کا مطلب ہم سمجھ سکتے ہیں،مثلا احکامات،اس دنیا کی باتیں دنیا کے کسی باغ کی مثال،تاریخی واقعات اور متشابہات وہ آیات تھیں جو ہم تصور کر سکتے ،ان پر ایمان بالغیب لانا ضروری ہے-مثلا،جنت دوزخ اللہ کا ہاتھ، فرشتوں کی ہئیت،مشابہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیئے-اور جو پڑے اس سے دور رہنا چاہیئے-میڈم مصباح یہی سمجھا رہیں تھیں-سست روی سے تمام پوئنٹ رجسٹر پہ لکھ رہی تھی-
متشابہات پر ایمان بالغیب ایسا ہونا چاہیئے جیسے ۔۔۔۔ میڈم کی آواز ہال میں گونج رہی تھی-جیسے اگلی آیات میں ذکر ہے راسخون فی العلم ان پر ایمان لاتے ہیں-اب یہ راسخون فی العلم کون ہوتے ہیں؟
ایک ہوتا ہے طالب علم ایک صاحب علم اور اس سے بڑا درجہ راسخ علم والے کو ہوتا ہےیہ کون لوگ ہوتے ہیں؟ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ راسخون فی العلم کون ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا-
وہ جو قسم پوری کرتے ہیں-
محمل کے ہاتھ سے پین گر پڑا-سیاہی کے چند چھینٹے چادر کو بگھو گئے-
میڈم آگے بھی کہہ رہی تھیں- جن کے دل مستقیم ہوں-
مگر وہ یک ٹک پھٹی پھٹی آنکھوں سے سیپارے پہ لکھے راسخون فی العلم کے الفاظ کو دیکھے جا رہی تھی- ایک ہی تکرار اس کے کانوں میں گونجے جا رہی تھی-
وہ جو قسم پوری کرتے ہیں-
وہ بس سکتہ کی کیفییت میں سیپارے کو دیکھے جا رہی تھی۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: