Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 18

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 18

–**–**–

 

وہ بس سکتہ کی کیفییت میں سیپارے کو دیکھے جا رہی تھی-
راسخون فی العلم-سیپارے کے الفاظ دھندلا گئے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے تھے-
صدیوں پہلے عرب کے صحراؤں میں کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا کہ پختہ علم والے کون ہوتے ہیں-اور تب انہوں نے بتایا تھا کہ وہ جو قسم پوری کرتے ہیں-اسے لگا صدیوں پہلے کہی گئی بات کسی اور کے لیے نہیں صرف اسی کے لیے تھی-وہ انگلیوں کے پوروں سے ان تین الفاظ کو بار بار چھو رہی تھی- انہیں محسوس کر رہی تھی- آنسو اس گالوں سے لڑھک کر گردن پہ پھسل رہے تھے-
ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی-اس نے ہتھیار ڈال دئیے تھے-قسم کھانا نا پسندیدہ تھا مگر اب وہ اسے ہمیشہ نبھانی تھی-اور جانتی تھی کہ یہی اس کے لیے بہتر ہے-
اس روز وہ تین بجے سے پہلے ہی گھر آگئی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ صبح بہت زرد سی طلوع ہوئی تھی-آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی-آج اس نے اونچی پونی کی بجاے سادہ سی چوٹی بنائی تھی- شفاف سے چہرے پہ ذرا سی یژمردگی چھائی تھی- وہ چند لمحے خود کو دیکھتی رہی پھر سیاہ چادر سر پر رکھی کیوں-
ھڑی تک لپیٹ کے بکل دوسرے کندھے پہ ڈالی-آج اسے گواہی دینی تھی-فواد کے خلاف یا اپنے خلاف۔۔۔
لاؤنج میں تینوں چچا انتظآر کر رہے تھے-کلف لگے سفید شلوار قمیض میں آغآ جان کمر پر ہاتھ باندھے ادھر ادھر بے چینے سے ٹہل رہے تھے-اسے راہداری سے آتے دیکھا تو رک گئے-
چلیں-وہ سپاٹ چہرہ لیے ان کو دیکھے بغیر دروازے کی طرف بڑھی اور اسے کھول کر باہر نکلی- وہ سب اکٹھے باہر نکلے-
گیٹ کھلا یکے بعد دیگرے دونوں گاڑیاں پورچ سے باہر سڑک پہ رواں دواں تھیں- اس اونچے گھر کی بہت سی کھڑکیوں سے بہت سی عورتیں انہیں جاتا دیکھ رہیں تھیں-گاڑیاں گم ہوگئیں تو لڑکیوں نے پردے چھوڑدئیے-
زرد سی راہداری میں وہ سمٹی سمٹائی نگاہیں نیچی کیے آغآ جان کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی-ادھر ادھر پولیس والے وکلاء اور کتنے ہی لوگ گزر رہے تھے- بہت ؤحشت ناک چ جگہ تھیوہ-اس سے سر نہیں اٹھایا جا رہا تھا-بس لمحے بھر کو اس نے چہرہ اوپر کیا تو کاریڈور کے اختتام پہ وہ کھڑا تھا،اپنے کسی سپاہی کو اکھڑتے تیور لیے غصے سے کچھ کہتا یونیفارم میں ملبوس، سر پہ کیپ-وہ بہت وجیہہ تھا-اور زندگی میں پہلے دفعہ محمل کو اس پہ غصہ نہیں آیا تھا-اسے تمام لوگوں میں ایک وہی اپنا ہمدرد لگا تھا-
اس نے نگاہیں جھکا لیں،کاریڈور کے موڑ کے قریب ہی تھی جب ہمایوں کی نگاہیں اس پر پڑی اور وہ ٹھہر گیا-آغآ کریم کے بائیں کندھے کے پیچھے چھپی ہوئی گردن جھکائے آئی سیاہ چادر میں لپٹی لڑکی جس کے چہرے پہ زمانوں کی تھکن رقم تھی-اس نے سر نہیں اٹھایا-وہ اسے دیکھتا رہا،یہاں تک کے وہ اس کے قریب سے سر جھکائے گزر گئی-
ہاں آغآ کریم نے ایک متنفر نگاہ اس پر ضرور ڈالی تھی-
وہ اب گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا- شاید وہ اس کی آنکھیں دیکھنا چاہتا تھا-انہیں پڑھنا چاہتا تھا-کاریڈور کے درمیاں میں اچانک اس سیاہ چادر والی لڑکی نے گردن پیچھے موڑی-دونوں کی نگاہیں لمحے بھر کو ملیں، محمل کی آنکھوں میں زمانے بھر کی تھکن اور دکھ تھا، پھر اس نے چہرہ موڑ لیا – اور اسی طرح سر جھکائے اپنے چچاؤں کے ترغے میں آگے چلی گئی-
کمرہ عدالت میں وہ قطار کے بائیں نشست پر سب سے آخر میں بیٹھی تھی-آغآ جان اس کے دائیں طرف تھے اس کے بائیں طرف کچھ نہ تھاقطار خالی تھی-وہ سر جھکائے ساری کاروائی سنتی رہی اس سے نظر تک نہ اٹھائی جاتی تھی-یوں جیسے ہر کوئی اسے ہی دیکھ رہا ہو-
اور پھر ایک ساعت کو اس نے جیسے ہی سر اٹھایا- وہ دوسرے اسٹینڈ میں بیٹھا گردن ترچھی کیے اسے ہی دیکھ رہا تھا-وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے-ہمایوں کی نگاہوں میں سوال تھے-چبھتے ہوئے،
پریشان کن سوال-اس سے زیادہ دیر دیکھا نہین گیا-وہ گردن موڑ کر آغآ جان کو دیکھنے لگی جو لب بھینچے وکلاء کے دلائل سن رہے تھے-نگاہوں کے ارتکاز پر چونک کر محمل کو دیکھا-
کیا؟وہ جس طرح انہیں دیکھ رہی تھی، وہ ذرا سے الجھے-
“جائیداد میں میرا حصہ مجھے مل جائے گا؟اس نے سرگوشی کی نگاہیں ان پر سے ہٹئے بغیر-
ہاں کیوں نہین؟
یہیں اگر میں پوچھتی کہ کیوں نہیں تو؟
کیا مطلب؟
میں ابھی جا کر ہمایوں داؤد کے خؒلاف بیان دوں تو کیا گارنٹی ہے کہ آپ مکر نہیں جائیں گے؟
تمہیں مجھ پر شک ہے؟
اگر ہے تو؟
آغآ جان کے ماتھے پر غصے کی لکیر ابھری جسے وہ ضبط کرگئے-تم اب کیا چاہتی ہو؟
یہ! اس نے کالی چادر میں سے بیگ نکالا زپ کھولی اور ایک کاغذ اور پین نکال کر ان کی طرف بڑھائے-
میری صرف فیکٹری میں شئیر کی قیمت نو کڑور کے لگ بھگ ہے-باقی کا حساب میں ابھی نہیں مانگ رہی-یہ آپ کی چیک بک کا چیک ہے رقم میں نے بھر دی ہے آپ سائن کر دئں- اس نے پین ان کے سامنے کیا،وہ کبھی اس کو دیکھتے کبھی پین کو-
آغآ جان! محمل بچی نہیں ہے-آپ مجھ سے میری آخرت خرید رہے ہیں-اگر میں نے جھوٹی گواہی دی تو پل پار کرنے سے پہلے ہی گر جاؤں گی-اگر گرنا ہے تو کچھ ورتھ تو ہونا چاہیئے نا؟آپ یہ سائن کریں-میں ابھی جا کر جھوٹی گواہی دیتی ہون-
اس نے پین اور چیک ان کے ہاتھ پہ رکھا-
اس ہال میں کوئی میرے اشارے کا منتظر ہے، میں چیک سائن کروا کر ابھی اسے بینک بھیجتی ہوں، جیسے ہی چیک کیش ہوگا،وہ مجھے سگنل کرے گا تب میں گواہی دے دوں گی ورنہ نہیں-
انہوں نے چیک کو ایک نظر دیکھا-اور پھر پین کو- دوسری طرف محمل کا نام پکارا گیا-وہ انہیں متنبہ نگاہوں سے دیکھتی اٹھی اور سر اٹھائے پورے اعتماد سے کٹہرے کی طرف بڑھی-
آغآ کریم کبھی چیک کو دیکھتے اور کبھی اسے جو کٹہرے میں کھڑی تھی-اور اس کے سامنے غلاف میں لپٹا قرآن لایا گیا تھا- وہ نگاہیں ان پہ جمائے پلک جھپکے بغیر قرآن پہ ہاتھ رکھ کر چند فقرے دہرا رہی تھی-
انہوں نے آخری بار چیک کو دیکھا اور پھر طیش میں اکر اسے مڑور کر دو ٹکڑے کیے-
محمل تلخی سے مسکرئی،سر جھٹکا اور وکیل کی طرف متوجہ ہوئی-وہ اس سے کچھ پوچھ رہا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فواد کی ضمانت منسوخ ہوگئی،اس کے خلاف ثبوت بہت سے تھے-وہ واپس جیل بھیج دیا گیا-
واپسی کا سفر بہت خاموشی سے کٹا- آغآ جان کی لینڈ کروزر کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی وہ بہت خاموشی سے سارا رستہ باہر دیکھتی آئی تھی–جب گاڑی پورچ میں رکی تو وہ سب سے پہلے اتری-
لان میں بہت سی عورتیں ان کی طرف بڑھی تھیں-
کیا ہوا؟وہ کسی کو دیکھے بغیر تیزی سے اندر چلی گئی-
اس احسان فراموش لڑکی نے فواد کے خلاف گواہی دے دی-
ذلیل نہ ہو تو-
مگر فکر کی بات نہیں ہے-وہ جلد باہر آجائے گا،کیس اتنا مضبوط نہیں ہے-
غفران چچا اور اسد چچا انہیں تسلی دینے لگے،مگر تائی مہتاب کا چہرہ سفید بڑ گیا-
ہائے میرا فواد- وہ سینے پہ دو ہتڑ مار اونچا اونچا رونے لگیں،روتے روتے وہ لڑھکنے کو تھیں کہ فضہ اور ناعمہ نے بڑھ کر انہیں سہارا دیا- پل بھر میں لان میں کہرام مچ گیا تھا-اپنے کمرے میں پردے کو ہاتھ میں پکڑ کر ذرا سی جھری سے دیکھتی وہ پر سکون کھڑی تھی-کالی چادر سر سے پھسل کر پیچھے گردن پہ پڑے بالوں پہ پھسل گئی تھی-بھورے بال چہرے کے اطراف میں گرے تھے-وہ کانچ سی سنہری آنکھیں سکیڑے پر سوچ نگاہوں سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ستون سے ٹیک لگائے ننگے پاؤں گھاس پہ رکھے بیٹھی تھی-جوتے ساتھ اترے پڑے تھے-سفید شلوار قمیض اور سر پر پنک اسکارف کس کر باندھے وہ گردن جھکائے دونوں ہاتھوں میں چھوٹا قرآن لیے پڑھ رہی تھی-اسے سورہ کہف پڑھنی تھی آج جمعہ تھا-
السلام علیکم-سارہ آہستہ سے آئی اور اس کے ساتھ پاؤں لٹکا کر سیڑھی پہ بیٹھی- اس نے صفحے کا کنارہ پکڑے سر کے اثبات سے جواب دیا اور صفحہ پلٹا-ربیعہ اپنی گود میں رکھی اسائنمنٹ کمپلیٹ حل کرنے لگی-گیٹ کے قریب فرشتے کھڑی ایک لڑکی سے بات کر رہی تھی-وہ لڑکی منمنتاے ہوئے کچھ کہہ رہی تھی-،مگر فرشتے نفی میں سر ہلا رہی تھی- اس کا ازلی پر اعتماد مضبوط اور دو ٹوک مگر نرم انداز-
کیا کر رہی ہو سارہ؟
فرشتے باجی کی اسائنمنٹ کر رہی ہوں-فرشتے باجی نے دی ہے؟الجھ کر سر اٹھایا-یہ دین اور مذہب میں کیا فرق ہوتا ہے؟
دین ریلجن کو کہتے ہیں، جیسے اسلام اور مذہب کسی بھی دین کے کسی اسکول آف تھاٹ کو کہتے ہیں- مسلک کسی دین مذہب کے اندر کسی طریقے کا نام ہوتا ہے،مثلاَ فقہی مسالک جیسا کہ شافعی، حنفی وغیرہ-آئی سمجھ؟
ہوں- تمہارا فہم اچھا ہے محمل!
“فرشتے نے سمجھایا تھا اس دن-اس نے ذرا سی گردن موڑی-فرشتے اسئ طرح اس سے بات کر رہی تھی-سارہ بھی اس کی نگاہوں کے تعاقب میں اسے دیکھنے لگی-
فرشتے کی آئیز (آنکھیں) مجھے بہت پسند ہیں-
محمل کے لبوں سے پھسلا-
ہاں بہت مشابہت ہے آئی نو-وہ بری طرح چونکی-
مشابہت؟وہ ایک دم بہت پرجوش ہوکر اس کی طرف مڑی-مشابہت ہے نا سارہ! مجھے ہمیشہ فرشتے کی آنکھیں دیکھ کر لگا ہے کہ یہ کسی سے ملتی ہیں؟
تو تمہیں نہیں پتہ؟ربیعہ حیران ہوئی-
کیا ان کے کزن سے؟
کزن کون؟
چھوڑو تم بتاؤ کس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس سے ملتی ہیں؟
ربیعہ کچھ دیر حیرت سے اسے دیکھتی رہی،پھر ہنس پڑی-
تم سے ملتی ہیں محمل ۔۔۔ بالکل تمہارے جیسی ہیں- کیا تم آئینہ نہیں دیکھتی؟
مجھ سے؟محمل ساکت رہ گئی-اپنا چہرہ ہر وقت نگاہوں کے سامنے نہیں رہتا شاید اس لیئے وہ اتنے عرصے میں اندازہ نہ کر سکی-
اس لڑکی کی کسی بات پہ فرشتے ذرا سا مسکرائی-اس کی آنکھیں مسکراتے ہوئے کناروں سے “ذرا سی چھوٹی ہوجاتیں-بالکل اس کی اپنی طرح-ہوبہو-وہ پلک جھپکے بنا اسے دیکھے گئی-
وہ میڈ کراؤن سے ٹیک لگاے گھٹنوں پہ کتاب رکھے سوچ میں گم تھی-بھورے بال کھلے شانوں پر گرے تھے-مسرت اندر داخل ہوئیں-تو وہ اسی طرح خلاء میں گھور رہی تھی-آہٹ پہ چونکی-
اماں۔۔۔۔۔۔۔۔ بات سنیں-
ہاں بولو-مسرت الماری کھول کر کچھ تلاش کر رہی تھیں-
آپ ماموں لوگوں سے پھر کبھی نہیں ملیں؟
نہیں- ان کے ہاتھ لمحے بھر کو رکے،پھر دوبارہ کپڑے الٹ پلٹ کرنے لگے-
ماموں کی ایک ہی بیٹی ہے نا؟
ہاں شاید-
اس کا کیا نام ہے؟
پتہ نہیں وہ میری شادی کے بعد ہوئی تھی-وہ مطلوبہ کپڑا نکال کر کھلے دروازے سے باہر چلی گئیں-
اور یہ تو وہ جانتی تھی کہ اماں شادی کے بعد ماموں سے کبھی نہیں ملی تھیں-اور نہ ہی وہ خود ملی تھی-اس نے تو ان کو دیکھا تک نہیں تھا،اماں اور ابا کی پسند کی شادی تھی-اور اماں کے خاندان والوں نے پھر کبھی کوئی رابطہ نہ رکھا تھا-آج فرشتے کی آنکھیں دیکھ کر اسے یوں نہیں کچھ لگا تھا کہ شاید ۔۔۔۔۔ مگر خیر ۔۔۔۔
ہم نے فیصلہ کر دیا ہے-باہر تائی کے زور سے بولنے کی آواز پہ یکدم اس کا دل دھڑکا- وہ کتاب بند کیے لحاف اتار کر تیزی سے ننگے پاؤں باہر آئی-اس نے دروازہ کھول کر دیکھا-
آغآ جان اور تائی مہتاب بڑے صوفے پہ رعونت بھرے انداز میں بیٹھے تھے- اور مسرت ان کے سامنے جیسے بے بس سی کھڑی تھی-دروازہ کھلنے کی آواز پہ مسرت نے اسے دیکھا-بے بسی آنکھوں میں آنسو-
اپنی بیٹی کو بھی بتا دینا-تائی نے ایک تنافر بھری نگاہ اس پہ ڈالی ہم اس کو بہو بنا رہے ہیں ہمارا احسان ساری زندگی بھی تم دونوں چاہو تو نہیں اتار سکتیں-
وہ جہاں تھی وہی کھڑی رہ گئی-تو کیا فواد واقعی جیل سے باہر آجائے گا؟
مگر بھابھی- مسرت کی آنسوؤں میں ڈوبی آواز آئی-محمل ۔۔۔۔۔۔ محمل کبھی نہیں مانے گی وسیم کے کیے –
وسیم؟وہ جھٹکے سے دو قدم پیچھے ہٹی-
اور چند دنوں پرانی ہی تو بات ہے جب فریدہ پھپھو نے گھر آکر خوب مزے لے کر وسیم کے آنکھوں دیکھے قصے سنائے تھے-فریدہ پھپھو محمل کے ابا کی کزن تھیں-اور ہر خبر پورے خاندان میں سب سے پہلے ان کے پاس پہنچتی تھی-گھر میں تو چلو تائی نے انہیں چپ کرا دیا تھا- مگر ہفتے بعد ایک شادی کی تقریب میں انہوں نے وہی قصے پھر سے چھیڑ دیئے- ابھی فواد کی گرفتاری کے چرچے پرانے نہیں ہوئے تھے کہ خاندان والوں کے ہاتھ ایک اور شوشہ لگ گیا-
پوری تقریب گویا اکھاڑہ بن گئی- تائی مہتاب ان عورتوں کو جتنا لعن طعن کر سکتی تھیں کیا، مگر وہ اکیلی تھیں اور مقابل پورا جتھا تھا-معنی خیز نگاہیں اور طنزیہ انداز-
برا نہ ماننا مہتاب بھابھی! مگر وسیم کو میرے سمیع نے ہی نشے کی حالت میں رات کو دو بجے سڑک سے اٹھا کر تمہارے گھر پہنچایا تھا
“ہان تو سمیع خود اس وقت وہاں کیا کر رہا تھا؟تائی ہاتھ نچاتے ہوئے غصے سے بے قابو ہو کر بولیں تھیں-
وسیم کی بات بچپن سے آغآ جان کے چچا زاد آغآ سکندر کی بیٹی سے طے تھی- کچھ عرصہ سے آغآ سکندر کی فیملی کھنچی کھنچی سی رہنے لگی تھی- اور جب یہ باتیں سامنے آئیں تو انہوں نے فون پر ہی دوٹوک رشتہ ختم کردیا-
گزرے برسوں کی ایک نادانی تھی،وہ مہتاب بھابھی! بھلا کیسے ہم اپنی بیٹی کو اس لڑکے سے بیاہ دیں جسے پورے خاندان میں کوئی رشتہ دینے کو تیار نہین؟
اور میں بھی آپ کو خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی وسیم کی دلہن بنا کے دکھاؤں گی- تائی نے بھی کھولتے ہوئے فون پٹخا تھا-
محمل کو قابو کرنے اس کی جائیداد پر قبضہ کرنے اور وسیم کی شادی کر کے خاندان میں گردن اونچی کرنے کا بہترین حل تائی مہتاب کو مل ہی گیا تھا-انہوں نے ایک تیر سے تین شکار کرکیے تھے-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ سر جھکائے تیز تیز سڑک کے کنارے چلتی جارہی تھی-آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے- لمبے لمبے بھورے بال شانوں پر پھیل کر کمر پہ گر رہے تھے،کہاں کدھر اسے کچھ پتہ نا تھا-
زندگی اس کے ساتھ یوں بھی کر سکتی ہے اس نے سوچا بھی نہ تھا ایک تنگ پھندا تھا جو اسے اپنی گردن کے گرد کستا ہوا محسوس ہورہا تھا-
اداس درختوں کی گھنی بھاڑ آج بھی ویسے ہی کھڑی تھی-شام کے پرندے شاخوں پہ لوٹ آئے تھے-وہ راستہ جانا پہچانا تھا-وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی- جب اس کی سماعتوں نے وہ آواز سنی-
محمل ۔۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔
مگر وہ نہیں رکی، اسے رکنا نہیں تھا،وہ رکنے والا راستہ تھا ہی نہیں-
محمل! وہ تیز دوڑتا اس کے ساتھ آملا- بات تو سنو-
پھولی سانسوں سے اس کے بائیں جانب اس کی رفتار سے بمشکل مل پاتا وہ ہمایوں تھا،ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ شاید جاگنگ سے آیا تھا-
کیا ہو محمل؟ مجھے بھی نہیں بتاؤ گی؟
اس کے قدم تھمے،بہت آہستہ سے اس نے گردن اٹھائی، بھیگی سنہری آنکھوں سے مسلسل آنسو گر رہے تھے-
میرا اور آپ کا کیا رشتہ ہے جو میں آپ کو بتاؤں؟
کیا انسانیت کا رشتہ کچھ نہیں ہوتا؟
کچھ نہیں ہوتا- وہ تیزی سے چلنے لگی تھی-
مگر ہوا کیا ہے؟
میری تائی نے میرا رشتہ اپنے آوارہ بیٹے سے طے کر دیا ہے،
تو تم رو کیوں رہی ہو؟
پھر کیا خوشی مناؤں؟وہ پوری اس کی طرف گھومی-غصہ بہت شدت سے ابلا تھا-یہی شخص تھا اس کی ہر مشکل کا ذمے دار-
ٹھیک ہے تم صاف انکار کر دو-کچھ اور کر لو، لیکن اگر یونہی اپنے آپ پر ظلم سہتی روتی رہوگی تو گھٹ گھٹ کر مر جاؤگی-اس نے بھیگی آنکھوں سے ہمایوں کا چہرہ دیکھا مغرور مگر فکر مند چہرہ-
” میں مروں یا جیؤں آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟
اس کے انداز پہ وہ چند لمحے لب بھینچے خاموش کھڑا رہا،پھر گہری سانس اندر کو کھینچی-ہاں مجھے نہیں فرق پڑتا-اور واپس پلٹ گیا-
ہونہہ! محمل نے استہزائیہ سر جھٹکا-آپ وہ ہی ہیؔں نا بیچ راہ میں چھوڑنے والے-وہ جیسے چونک کر پلٹا-
اسی پل ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا تھا اس کے بھیگے چہرے اطراف میں گرنے والے بال پیچھے کو اڑنے لگے تھے-
اور آپ کو پتہ ہے ہمایوں اس لیے آپ سے کبھی میں نے امید ہی نہیں لگائی تھی،پھر کیا میں نہ روؤں-وہ کہہ کر واپس پلٹ گئی،ہوا بھی پلٹ گئی شام کے پرندے بھی پلت گئے-
وہ ساکت سا تارکول کی ویران سڑک پہ کھڑا رہ گیا-
درختوں کی بھاڑ اب بھی اداسی سے سر جھکائے کھڑی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس نے اسٹاف روم کے دروازے پہ ہلکی سی دزتک دی-چند لمحے منتظر سی کھڑی رہی،پھر جواب نہ پاکر اندر جھانکا اسٹاف روم خالی تھا-
وہ کتابیں سینے سے لگائے متذبذب سی واپس پلٹ گئی-اسی پل سامنے سے ایک گروپ انچارج آتی دکھائی دی-
السلام علیکم ، باجی میم فرشتے کہاں ہیں؟
فرشتے باجی ہاسٹل میں لائبریری میں ہوں گی ان کو کوئی کام تھا آج اس لیے نہیں آسکیں-
اچھا- وہ تیزی سے سیڑھیاں پپھلانگنے لگی-
لائبریری کا گلاس ڈور کھلا تھا-اس نے قدرے جھجھکتے ہوئے اندر قدم رکھا-
کتابوں کے اونچے ریکس، اور دیوار گیر فرینچ ونڈوز لائبریری کا مخصوص خاموش ماحول-
فرشتے؟اس نے ہولے سے پکارا-خاموش لائبریری کا تقدس زخمی ہوا تو وہ گڑبڑا کے چپ ہوگئی-
ادھر-لائبریرین کسی کونے سے نکل آئی اور ایک طرف اشارہ کیا ، وہ شرمندہ سی ادھر لپکی-
چند ریکس سے گزر کر اس نے دوسری طرف جھانکا-
وہ کتاب اٹھائے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی- ہلکئ گلابی شلوار قمیض پہ گرے دوپٹہ شانوں کے گرد لپیٹے ،فرشتے کی اس کی طرف پشت تھی، محمل کو اس کی کمر پر گرتے سیدھے بھورے بال دکھائی دئیے تھے-
وہ ذرا سی حیران ہوئی تھی-اس نے ہمیشہ حجاب میں ملبوس فرشتے کو دیکھا تھا-سر ڈھکے بغیر تو وہ قطعا مختلف لگ رہی تھی-
فرشتے؟وہ جیسے چونک کر مڑی اسے دیکھا تو مسکرا دی-ارے ماشاءاللہ آج تو لوگ لائبریری آئے ہین-
مگر صرف آپ سے ملنے-
بیٹھو-وہ کھڑکی سے لگی کرسی پہ آ بیٹھی،جس کے سامنے میز تھی-میز کے اس طرف ایک خالی کرسی رکھی تےتھی-وہ محمل نے سنبھال لی اور کتابیں میز پر رکھ دیں-
مجھے ہمایوں نے کچھ بتایا تھا-وہ کہنے لگی تو محمل خاموشی سے اسے دیکھے گئی-
لمبے سیدھے بھورے بال جو اس نے کانوں کے پیچھے کر رکھے تھے-دمکتی رنگت والا چہرہ اور کانچ سی سنہری آنکھیں، اس کے نقش مختلف تھے،مگر آنکھئں اور بال یوں تھاے جیسے آئینہ دیکھ رہی ہو-
تو تمہارا رشتہ انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ طے کر دیا ہے؟
محمل نے اثبات مین سر ہلایا-
تو تم انکار کر دو-
کس کے لیے انکار کروں؟ اس کے لیے جو بیچ راہ میں چھوڑ جاتا ہے؟وہ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی-یہ تو ابھی اس نے اپنے دل سے بھی نہیں کہا تھا،فرشتے سے کیسے کہتی؟
میں کیوں انکار کروں؟کیا میں صبر کر کے اضر نہ لون؟
محمل ! مظلومیت اور صبر میں فرق ہوتا ہے-اور وہ فرق احتجاج کرنے کا حق رکھنے کا ہوتا ہے-بجائے اپنی زندگی خراب کرنے کے،تم ایک بہتر راستہ چن لو،صاف صآف انکار کر دو-
مجھے ان کے ری ایکشن سے ڈر لگتا ہے-
اس پہ تم صبر کر لینا-وہ ہلکی سی مسکرائی-رشتے داروں ساتھ بہت صبر سے گزارہ کرنا پڑتا ہے لڑکی-
آپ کرتی ہیں صبر؟
کیا مطلب؟
آپ کے رشتے دار ہیں فرشتے؟آپ کے پیرنٹس؟اور ہمایوں کے پیرنٹس-اس نے سواک ادھورا چھوڑ دیا-جانتی تھی فرشتے کو ادھورے سوال پڑھنے ؟آتے ہیں-
میری امی کی ایک ہی بہن تھی-ہمایوں ان کا بیٹا ہے-ان کی ڈیتھ کے بعد امی نے ہمایوں کو گود لے لیا تھا-بہت پرانی بات ہے- ڈیڑھ سال پہلے میری امی کی ڈیتھ ہوگئی- پھر میں نے اور ہمایوں نے فیصلہ کیا کہ گھر میں ہمایوں رہے اور میں ہاسٹل میں رہوں-
اور آپ کے ابو؟
میں میٹرک میں تھی جب ان کی ؔڈیتھ ہوگئی تھی-
آپ کے ابو کی کوئی بہن تو ہوگی؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا-
ہاں ایک بہن ہیں-فرشتے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی-
کدھر رہتی ہیں؟
یہیں اسی شہر میں-
وہ آپ سے ملتی ہیں؟
نہیں کچھ پرابلمز کی وجہ سے وہ لوگ مجھ سے نہیں ملتے-
اور آپ؟”
میں کوشش تو کرتی ہوں ہر عید پر ان کے گھر ہو آؤں،لیکن وہ میرے اوپر دروازے بند کر دیتے ہیں-
پھر؟وہ بنا پلک جھپکے اس کو دیکھتی آگے ہوئی-پھر میں کیک اور پھول دے کے واپس آجاتی ہوں-میری اتنی ہی استطاعت ہے آگے کیا کر سکتی ہوں؟ وہ سادگی سے مسکرائی-
(کیک اور پھول؟عید پہ بہت سی جگہوں سے مٹھا ئی اور کیک پھول وغیرہ آتے تھے،کیا وہ بھی بھیجتی تھی؟)
آپ کی پھپھو کے کتنے بچے ہیں؟
ایک ہی بیٹی ہے-اور اسے پتہ تھا فرشتے جھوٹ نہیں بولتی،اس کا تجسس تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا-
کیا عمر ہوگی اس کی؟
مجھ سے تو چند سال چھوٹی ہی ہے-
نام کیا ہے؟
یہ ضروری تو نہیں ہے محمل!فرشتے ذراسی مضطرن ہوئی تھی-
” ہوسکتا ہے میں آپکی فیمیلز کو لانے میں مدد کر سکوں؟
نہیں-فرشتے نے بغور اسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا-تم میری پھپھو کی بیٹی کو نہیں جانتیں-
پھر بھی۔۔۔۔۔
کیا ہم ٹاپک چینج کر سکتے ہیں؟
اس کے ٹھوس ازلی اور قطعی انداز پہ وہ گہری سانس لے کر رہ گئی-
“یہ کھڑکیاں بہت خوبصورت ہیں-وہ کہہ کر پر سوچ انداز میں کھڑکی کے باہر اترتی صبح کو دیکھنے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کھانے کے بعد اس نے سب کے کمروں میں چلے جانے کا انتظآر کیا،یہاں تک کہ لاؤنج میں ٹی وی کے سامنے جمی بیٹھی لڑکیاں بھی اٹھ اٹھ کے جانے لگیں،اور لاؤنج خالی رہ گیا تو وہ دبے قدموں باہر نکلی-آج اسے آغآ جان کو صاف انکار کرنا تھا-
لاؤنج اندھیرے میں ڈوبا تھا-آغآ جان کے بیڈ روم کے دروازے سے روشنی کی لکیر آرہی تھی-وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی دروازے تک آئی-قریب تھا کہ دستک دیتی اندر سے آتی آوازوں نے اس کا ہاتھ روک لیا-
کون فرشتے؟تائی کا حیران کن لہجہ-پھر وہی پرانی بات کرنے کہ محمل کی جائیداد میں اس کا بھی حصہ نکالیں؟
محمل کو لگا پوری چھت اس پر آن گری ہے-
ہاں، آج وہ آفس آئی تھی، اور یہ بھی کہہ رہی تھی اگر ہم نے وسیم سے محمل کا رشتہ کرنے کی کوشش کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تایا جان کچھ کہہ رہے تھے اور چند دن پہلے کی پڑھی حدیث اس کے کانوں میں گونج رہی تھی-جس کا فہم کچھ اس طرح تھا، ک اگر کوئی تمہارے گھر میں جھانکے اور تم پتھر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں-
نہیں- وہ گھبرا اٹھی اسے نہیں دیکھنا چاہیئے-وہ غلط کر رہی ہے،وہ کسی کی پرائیویسی میں جھانک رہی ہے-اگلے ہی لمحے وہ واپس کمرے کی طرف بھاگی تھی-
دروازے کی کنڈی لگا کر وہ پھولی سانسوں کو قابو کرتے بیڈ پہ گر سی گئی، او دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا-
محمل کی جائیداد میں فرشتے کا حصہ؟
گوکہ اسے شک تھا فرشتے کا اس سے تعلق ضرور ہے اور شاید بلکہ یقینا وہ اس کے ان ننھیالی رشتہ داروں میں سے ہے جو ان سے قطع تعلق کیے ہوئے ہیں،لیکن پھر بھی تائی کے منہ سے اس کا نام سن کر اسے بہت بڑا جھٹکا لگا تھا-اس سے بھی بڑا جھٹکا فرشتے کا مطالبہ جان کر،کیا فرشتے نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمل کے حصے میں سے اسے بھی کچھ دیا جائے؟مگر کیوں؟فرشتے ایسے کیوں کرے گی؟
اس کی نگاہوں میں ایک سراپا لہرایا-
سیاہ عبایا میں ملبوس گرے اسکارف میں ملائم چہرے کو مقید کیے سنہری آنکھین جھکائے دونوں ہاتھوں میں چھوٹا قرآن پکڑے بال پوائنٹ سے صفحے پہ کچھ مارک کرتی فرشتے-
وہ کون تھی؟اس کا پورا نام کیا تھا؟وہ ہمایوں سے زیادہ ملتی تھی-مگر محمل کے متعلق ہر خبر اس کے پاس ہوتی تھی-اور وہ کیوں آغا جان سے ملتی تھی؟
بہت سی الجھنوں کے سرے وہ سلجھا نہ پا رہی تھی-لیکن ایک بات طے تھی فرشتے کا عطمت بھرا وہ تصور جو اس نے ذہن میں بنا رکھا تھا گر کر پاش پاش ہوگیا تھا،پتا نہیں کیوں-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: