Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 19

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 19

–**–**–

 

وہ چینی کی پلیٹیں احتیاط سے کیبنٹ سے نکال کر کاؤنٹر پہ رکھ رہی تھی-جب آہٹ پہ چونک کر پلٹی-کچن کے کھلے دروازے مین فضہ چاچی کھڑی اس کو بغور دیکھ رہی تھیں-
جی چچی؟وہ قدرے الجھی-پھر ایک نظر خود پہ ڈالی،سادہ سی شلوار قمیض پر سیاہ دوپٹی کاندوٓھوں پہ لپیٹے سلکی بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں مقید کیےوہ ہر دن کی طرح ہی لگ رہی تھی،پھر چچی کو کیا ہوا تھا؟
کچھ چاہیئے چچی؟اس نے پھر پوچھا-ان کی نطریں اب اس کو پریشان کرنے لگی تھیں-
ہوں نہیں-فضہ چچی نے سر جھٹکا اور واپس چلی گئیں- جاتے سمے اسے ان کے چہرے پہ ہلکا سا تنفر نظر آیا تھا-
ان کو کیا ہوا ہے؟وہ پلیٹیں کپڑے سے صاف کرتے ہوئے سوچنے لگی،پھر شانے اچکا کر کام میں مصروف ہوگئی-ڈنر کا ٹائم ہونے والا تھا اور اسے میز لگانی تھی–سب آتے ہی ہونگے-
” میں نے اور مسرت نے وسیم اور محمل کا رشتہ طے کردیا ہے-آپ سب کو یقینا علم ہوگا-وہ رائتہ کا ڈونگا میز پر رکھ رہی تھی-جب آغا جان نے سب کو مخاطب کیا-
ڈائننگ ہال میں سناٹا چھاگیا-گو کہ سب کو معلوم ہی تھا- پھر بھی سب چپ تھے-وہ سر جھکائے اپنی آخری کرسی پر آبیٹھی اور پلیٹ اپنی جانب کھسکائی-
یہ فیصلہ آپ نے بالا ہی بالا کر لیا مسرت چاچی سے پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی؟حسن کے طنزیہ لہجے نے سب کو چونکا دیا تھا-وہ بھی بے اختیار سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی،جو اکھڑے تیوروں کے ساتھ آغا جان کو دیکھ رہا تھا-
کیا مطلب؟مسرت کی مرضی سے ہوا ہے رشتہ-آغا جان برہم بھی ہوئے اور حیران بھی-
کیوں چچی؟اس نے خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی مسرت کو مخاطب کیا-آپ کو اس وسیم کا رشتہ منظور ہے جس خاندان میں کوئی بیٹی دینے کو تیار نہیں ہے؟
مسرت کا جھکا سر مزیڈ جھک گیا،فضہ نے ناگواری سے پہلو بدلا-
بتائیے چچی!اگر آپ خاموش رہیں تو اس کا مطلب آغا جان نے آپ کے ساتھ زبردستی کی ہے-
کیا بکواس ہے یہ حسن؟
آغآ جان مجھے مسرت چچی سے بات کرنے دیں-حسن کی آواز بلند ہونے لگی تھی-سب دم بخود اسے دیکھ رہے تھے-بتائیے چچی آپ کو یہ رشتہ منظور ہے؟
نہیں! محمل نے قطعی انداز میں کہا-اسے معلوم تھا اس کی ماں کچھ بھی نہ بول سکے گی-
سب نے چونک کر اسے دیکھا-خود حسن بھی قدرے ٹھٹکا-
تم بیچ میں مت بولو-آغآ جان برہم ہوئے-
” ابھی نہیں بولی تو نکاح کے وقت انکار کردوں گی-
یہ حق مجھے میرے دین نے دیا ہے-آپ نے میرے ساتھ زبردستی کی تو میں کورٹ تک چلی جاؤں گی-
مگر تمہیں کیا مسئلہ ہے وسیم سے؟غفران چچا جھنجھلائے-ایسی ہی جھنجھلاہٹ فضہ چچی کے چہرے پر بھی تھی-
“اگر وسیم اتنا ہی اچھا ہے تو غفران چچا آپ ندا یا سامیہ باجی کا رشتہ کیوں نہیں کر دیتے اس کے ساتھ؟
بہت دنوں بعد پورے گھر نے پرانی محمل دیکھی تھی-
شٹ اپ!
میں انکار کر چکی ہوں،اگر آپ لوگوں کو اپنی بے عزتی کروانے کا شوق ہے تو میں نکاح والے دن اس سے بھی زور دار انکار کروں گی-
“ارے شکر کرو ہم تمہیں اپنی بہو بنا رہے ہیں-بہت دیر سے خاموش بیٹھی تائی مہتاب ضبط نہ کر پائیں- جو لڑکی ایک رات گھر سے باہر رہ چکی ہو اسے کوئی نہیں قبول کرتا،ہم بہو نہ بنائیں تو کون قبول کرے گا تمہیں-
میں!حسن جیسے بھڑک کر بولا تھا-میں قبول کروں گا محمل کو-وہ وسیم سے شادی نہیں کرنا چاہتی میں اپنا نام مسرت چچی کے سامنے رکھ رہا ہوں اور چچی!میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گاا-
ہرگز نہیں فضہ پھٹ پڑیں-میں اس لڑکی کو کبھی قبول نہیں کروں گی جو کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی-
ممی! وہ زور سے چیخاتھا-
اس سے مزید کچھ سنا نہیں گیا، وہ کرسی دھکیل کر بھاگتی ہوئی ڈائننگ ہال سے باہر نکل گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بریگیڈئیر فرقان کا بنگلہ،جس کے ٹیرس پہ بوگن ویلیا کی بیلوں کا راج تھا،آج بھی اسے ویسا ہی اداس اور ویران لگا تھا،بلکہ وہ شاید ہمیشہ ہی ایسا ہوتا تھا-مکین کے خود قرآن پڑھنے اور مکان کو محض سنوانے میں بہرحال فرق تو ہوتا ہے-
آج پھر وہ چند پمفلٹس ہاتھ میں پکرے ان کے گیٹ پہ کھڑی تھی-
بیل پر ملازم نے بھاگ کے چھوٹا دروازہ کھولا-
جی بی بی اس نے سر باہر نکالا-
“مجھے بریگیڈئیر فرقان سے ملنا ہے وہ اندر ہیں؟
جی وہ کام کر رہے ہیں-
ان سے کہو محمل آئی ہے!قدرے تحکم سے کہہ کر وہ سینے پہ ہاتھ باندھے وہی کھڑی ہوگئی-فورا ملازم اندر کو دوڑا-چند لمحے ہی بعد اس کی واپسی ہوگئی-صاحب کہہ رہے ہیں آپ اپنے یہ کاغذ لے لیں-اس نے پرانے پمفلٹس اس کی طرف بڑھائے-
انہوں نے پڑھ لیے ہیں؟
نہیں جی وہ مصروف تھے-
اپنے صاحب کو بولو یہ ان پر میری امانت تھی- جب انہوں نے لیے تھے تو ان پر سونپی گئی میری ذمے داری بھی انہیں نبھانی تھی،ورنہ لینے سے انکار کر دیتے-انہوں نے خیانت کر کے یہ لوٹائے ہیں اور اگر میں نے معاف نہیں کیا تو انہیں معافی نہیں ملے گی-ملازم ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگا اور پھر اندر کی طرف لپکا-
صاحب آپ کو اندر بلا رہے ہیں-وہ پیغام دے کر جلد ہی اندر آیا تھا-
شکریہ- وہ پورے اعتماد سے اندر چلی آئی-
اسٹڈی کا دروازہ کھلا تھا-محمل نے چوکھٹ پہ کھڑے کھڑے دروازہ انگلی سے بجایا-
اسٹڈی ٹیبل کے پیچھے ریوالونگ چئیر پہ بیٹھےبریگیڈئیر فرقان نے کتاب پہ جھکا سر اٹھایا اور عینک کے پیچھے سے اسے دیکھا جو دروازے کے بیچ کڑی تھی-
یونیفارم کی سفید قمیض اور چہرے کے گرد نفاست سے لپیٹا تروتازہ گلابی اسکارف جہ پیچھے سے جو پیچھے سے اونچی پونی کے باعث ذرا سا اٹھ گیا تھا-ہاتھ میں چند پمفلٹس پکڑے وہ دراز قد سنہرئ آنکھوں والی لڑکی منتظر کھڑی تھی-
کم ان-بریگیڈئیر فرقان نے چشمہ اتار کے میز پہ رکھا،کتاب بند کی اور کرسی پہ قدرے پیچھے کو ٹیک لگائی-
میں کچھ پمفلٹس دے کے گئی تھی-
اور میں نے واپس کر دیے تھے،اور کچھ؟ان کے بارعب چہرے پہ قدرے ناگواری تھی-
“جی یہ کچھ اور ہیں-وہ آگے بڑھی اور چند پمفلٹس ان کی میز پر رکھ دئیے-یہ آپ پڑھ کر مجھے واپس کر دیجیئے گا-
مگر مجھے یہ نہیں چاہیئے-وہ بے زار سے بولے-
میں نے آپ کو چوائس تو نہیں دی سر!آپ کو یہ لینے پڑئں گے،میں کچھ عرصہ بعد آ کے لے جاؤں گی- پڑھ کر سنبھال لیجیئے گا- ان پر اللہ کا نام لکھا ہے،امید ہے آپ پھینکیں گے نئیں، وہ کھڑی کھڑی کہہ کر واپس پلٹ گئی-
برگیڈئیر فرقان نے تلملا کر ایک نظر ان پمفلٹس کو دیکھا،پھر دراز میں ڈال کر اپنی عینک اٹھائی اور کچھ بڑ بڑاتے ہوئے کتاب کھول لی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اپنی دھن میں راہداری میں چلتی جارہی تھی-کہ اچانک دوسری طرف سے آتی فرشتے پر نگاہ پڑی،اس کے لب بھینچ گئے،بے اختیار ہی وہ پیچھے ہوئی تھی-
فرشتے نے اسے نہیں دیکھا تھا-وہ اپنے ساتھ ساتھ چلتی ٹیچر سے کچھ فکر مندی سے کہتی جا رہی تھی–محمل الٹے قدموں واپس ہوئی اور برآمدے میں رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی-توقع کے عین مطابق فرشتے نے اس کی موجودگی نوٹ نہیں کی-ساتھی ٹیچر کے ساتھ پرئیر ہال کی سیڑھیاں اترتی چلی گئی تھی-
پرئیر ہال میں ملک کے نامور مذہبی اسکالر ڈاکٹر سرور مرزا کے لیکچر کا انعقاد تھا-وہ بھی سست روی سے چلتی ہوئی ایک درمیانی نشست پہ آبیٹھی-ابھی لیکچر شروع نہیں ہوا تھا-محمل نے ہاتھ مین پکڑا پاکٹ سائز قرآن کھولا اور یونہی پڑھنے کے لیے صفحے پلٹنے لگی-
فرشتے نے ایسا کیوں کیا؟یہ سوال مسلسل اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا-
اس نے آغا جان سے محمل کی جائیداد میں سے حصہ کیوں مانگا؟فرشتے جیسی لڑکی اتنی مادہ پرست ہوسکتی ہے؟وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی-
اس نے مظلوبہ صفحہ پلٹا اور وہ آیات نکالیں جو آج پڑھائی جانے والی تھی- مگر ڈالٹر سرور کے لیکچر کے باعث آج تفسیر کی کلاس نہیں ہونا تھی-
” اور ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کرو جو اگر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں-
اوہ!گہری سانس لے کر محمل نے قرآن بند کر دیا-
میرا کچھ بھی پرائیویٹ نہیں ہے-اس نے آہستہ سے گردن اوپر کو اٹھائی، اور پھر اوپر دیکھتے ہوئے مسکرا کر سر جھٹکا، جب بھی اایسا کچھ ہوتا ہے قرآن پر بے حد پیار آتا تھا-اسے لگتا تھا دنیا میں اس سے بڑا کوئی کمیونیکیشن ایجاد نہیں ہوا تھا-
مگر ایسا کیا ہے جو مجھے اس سوال کا جواب برا لگے گا؟
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھر سے سوچنے لگی تھی-
ڈاکٹر سرور لیکچر شروع کر چکے تھے پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، دور دور تک پنک اسکارف سے ڈھکے سر دکھائی دے رہے تھے-اسٹیج کے قریب چئیرز پر اسٹاف موجود تھا-فرشتے بھی وہی ایک کرسی پہ بیٹھی تیز تیز ڈائری پہ لیکچر نوٹ کر رہی تھی- اسے نوٹس لیتے دیکھ کر وہ بھی چونک کے ڈاکٹر سرور کی طرف متوجہ ہوئی جو روسٹرم پہ کھڑے تھے- سر پہ جناح کیپ، سفید داڑھی، شلوار قمیض اور واسکٹ میں ملبوس وہ خاصے منجھے ہوئے اسکالر تھے وہ اکثر ان کو ٹی وی پہ دیکھتی رہتی تھی-
اپنی سوچوں کو جھٹک کر وہ بغور لیکچر سننے لگی-
بعض لوگ قرآن پر کر بھٹکتے ہین-واقعی ایسا ہوتا ہے-وہ اپنے مخصوص انداز میں کہہ رہی تھے
“اس لیے بہتر ہے کہ قرآن کسی اچھے غیر متعصب عالم سے زندگی میں ایک بار ضرور پڑھ لینا چاہیئے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کسی کا دامن پکڑنا ضروری ہے-نہیں- بلکہ کسی غیر متعصب تفسیر کو پڑھ کر بھی کسی حد تک قرآن کی سمجھ بوجھ پیدا کی جا سکتی ہے-؎
قرآن کو پڑھ کر ہم ہر آیت کے اپنے حالات کے مطابق کئی مطلب نکال لیتے ہیں، وہ مطلب نکالنا غلط نہیں ہے،مگر ظآہر کو باطن سے تشبیہہ دینا قطعا غلط ہے-
مثلا بنی اسرائیل کو جو گائے ذبح کرنے کا حکم اللہ سبحآنہ و تالی’ نے موسی ؐ کے ذریعے دیا تھا،وہ ہم سب جانتے ہیں-اس واقع سے ہم یہ سبق تو نکال سکتے ہیں کثرت سوال سے حکم مشتبہہ ہوجاتا ہے-مگر اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا کہ وہاں گائے سے مراد ایک صحابیہ ہیں نعوذ باللہ،معض لوگوں نے واقعتا یہاں گائے سے مراد صحابیہ کو لیا ہے-ایک اور مثال سورہ ہجر کی آخری آیات میں ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرو، یہاں تک کے تمہارے پاس یقین آجائے-
اب یہاں یقین سے مراد موت ہے-یعنی موت آنے تک عبادت کرتے رہو-مگر بعض لوگ یہاں یقین سے مراد belief لے کر اپنی عبادت کو کافی سمجھ کر بس کر دیتے ہیں کہ جی، ہمیں اپنی عبادت پر یقین آگیا ہے تو سب عبادتین بس ختم!
سورہ حجر کہاں تھی بھلا؟اس نے آہستہ سے اپنا چھوٹا قرآن کھولا اور صفحے پلٹنے لگی-سورہ حجر ملی تو اس نے اس کی آخری آیات کھولیں-آیت وہی تھی جو وہ کہہ رہے تھے- مگر آخر تین الفاظ حتی یاتی الیقین تھے-
(حتی کہ یقین آجائے)
یقین؟ اس نے الیقین پہ انگلی پھیری، پھر الجھ کر ڈاکٹر سرور کو دیکھا- وہ کہہ رہے تھے-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: