Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 2

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 2

–**–**–

 

سب باتیں چھوڑ کر اس طرف دیکھنے لگے تھے-احسان کرنے کا تو زمانہ ہی نہیں رہا،تائی نے ٹرالی اپنی طرف کھینچی،آغآ کریم نگاہیں چرا کر پھر سے اخبار میں گم ہو چکے تھے،
وہ کچن کی طرف واپس آئی تو فواد تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آرہا تھا-
چائے لگ گئی؟آخری سیڑھی پر اترتے مصروف سے انداز میں کہتے وہ کلائی پر گھڑی باندھ رہا تھا
“اسنیکس رکھ آئی ہوں،چائے لاتی ہوں،وہ زیادہ غور سے سنے بغیر نکل گیا-محمل نے لمحہ بھر کو رک کے اسے جاتے دیکھا،،،،،،،،،،،،
وہ مہتاب تائی کا برا بیٹا تھا-حنان وسیم اس کے بعد تھےاور سدرہ مہرین سب سے چھوٹی تھی،فواد آغا جان کے آفس جاتا تھا اونچا لمبا خوش شکل تو تھا ہی مگر ڈریسنگ اور دولت کی چمک دمک سے مزید پرکشش اور ہینڈسم لگتا تھا-خاندان کا سب سے ہینڈسم اور پاپولر لڑکا،جس پہ ہر لڑکی کا دل اور اور لڑکی کی ماں کی نظر تھی
ندا اور سامیہ ہوں یا ناعمہ چاچی کی مغرور نخریلی آرزو سب فواد کے آگے پیچھے پھرتیں رضیہ پھپھو تو اپنی اکلوتی فائقہ کے لیئے کبھی فواد کو دنر پر بلا رہی ہوتی۔تو کبھی فائقہ انڈوں کا حلوہ بنا کے لا رہی ہے-فواد میٹھا شوق سے کھاتا تھا سو یہ لڑکیاں ماؤں کے بنائے کو اپنا کہہ کر بہت شوق سے پیش کرتی تھیں- مگر وہ بھی سدا کا بے نیاز تھا-
اپنی اہمیت کا احساس تھا کہ بے زاری اور اتراہٹ کم نہ ہوتی تھی،ورنہ حنان تو بمشکل ایف اے کر کے دبئی ایسا گیا کہ نہ تو پھر خط پتر بھیجا نا پھوٹی کوڑی گھر بھیجی-
تعلیمی ریکارڈ اس کا اتنا برا تھا کہ تائی کڑھتی رہتی تھیں-مگر یہ وسیم تھا جس نے تائی اور آغا کریم کا ہر جگہ سر شرم سے جھکایا تھا-
نالائق نکما ایف اے میں دو بار فیل ہو کر پڑھائی چھوڑ کر آوارہ گردی میں مشغول سگریٹ کا عادی۔۔۔۔۔۔۔
اور کہنے والے تو دبے لفظوں کہہ بھی دیتےتھے-کہ ان گلیوں کا بھی پرانا شناسا ہےجہاں دن سوتے اور راتیں جاگتی ہیں-
وہ سر جھٹک کر کچن میں آئی تو مسرت جلدی جلدی کپڑے سے سلیب صاف کر رہی تھیں-ان کی پیالی میں آدھا کپ چائے پڑی تھی-ان سے کچھ کہنا بے کار تھا اس نے ٹرے اٹھا لی-
لان میں فضہ چاچی کے ساتھ والی کرسی پر فواد بیٹھا تھا-وہ اسے مسکرا ک بیت توجہ سے کچھ بتا رہی تھیں-اور وہ لاپرواہی سے سن رہا تھا-
محمل اس کے کپ میں چائے انڈیل ہی رہی تھی کہ وہ کہہ اٹھا-
میرے کپ میں چینی مت ڈالنا
نہیں ڈالی-وہ پنجوں کے بل گھاس پہ بیٹھی سب کو چائے اٹھا کر دے رہی تھی-
ارے بیٹا چینی کیوں نہیں پی رہے؟فضہ چاچی بہت زیادہ فکر مند ہوئیں-
یونہی کچھ ویٹ لوز کرنے کی کوشش کر رہا ہوں-
“اتنے تو سمارٹ ہو اور کیا لوز کرو گے؟: آرزو اسی پل سامنے والی کرسی پہ آ بیٹھی تھی اور میری چائے میں آدھا چمچ چینی محمل:
وہ فواد کے بلکل سامنے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کے بیٹھی تھی-چست سا سفید ٹراؤزر اور اوپر قدرے کھلے گلے والی ریڈ شارٹ شرٹ-کندھوں تک اسٹیپ میں کٹے بال اور گندمی عام سا چہرہ
جس کو بہت محنت سے اس نے قدرے پر کشش بنایا تھا مگر پتلی کمان سی آئی برو اس کو بہت شاطر دکھاتی تھیں-
فٹ تو رکھنا پڑتا ہے خود کو-محمل یہ کباب پکڑانا- فواد نے ہاتھ بڑھا کر کہا تو محمل نے فورا کباب کی پلیٹ اٹھا کر دینی چاہی اور دیتے دیتے اس کی انگلیاں فواد کے ہاتھ سے مس ہوئیں-
وہ چونکا تو گھبرا کر محمل نے پلیٹ چھوڑدی-وہ گر جاتی اگر وہ تھام نہ لیتا-محمل نے فورا ہاتھ کھینچ لیا-وہ پلیٹ پکڑے ٹک ٹک اسے دیکھ رہا تھا- چونک کر،سب بھول کر،جیسے اسے پہلی دفعہ دیکھا ہو-بس لمحے بھر کا عمل تھا-اس نے رخ پھیر لیا-تو وہ بھی دوسری جانب متوجہ ہوگیا-
فضہ چاچی اور آرزو کسی اور جانب متوجہ تھیں-کسی نے بھی وہ لمحی محسوس نہیں کیاتھا جو آکر گزر بھی چکا تھا اور فواد وہ وقفے وقفے سے اس پر ایک نگاہ ڈالتا تھا،جو پنجوں ک بل گھاس پر بیٹھی سب کو چائے سرو کر رہی تھی-ذرا سا سر کو جھکاتی تو بھوری پونی ٹیل اور اونچی لگتی-سر اٹھا تی پونی بھی ساتھ ہی جھولتی اور وہ کانچ سی سنہری آنکھیں ان ساری لڑکیوں کے پاس اس جیسا کچھ بھی نہ تھا-
وہ چائے کے سپ لیتا خاموشی سے اسے دیکھتا رہا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام میں وہ کمرے میں بند پڑھتی تھی پھر مغرب ڈھل گئی تو کچن میں آگئی جہاں مسرت پھرتی سے کٹنگ بورڈ پر بیاز ٹماٹر کاٹتی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں کچن میں اور کوئی نہیں تھا اور سارا پھیلاوا یقینا”انہیں کو سمیٹنا تھا-
“اماں!یہ تائی اما اور چاچیوں میں سے کوئی کھانے کی ذمے داری کیوں نہیں لیتا؟ہمیشہ آپ ہی کیوں بناتی ہیں؟ وہ یہ سب دیکھ کر ہول گئی تھی-
تو ہمارا گھر ہے بیٹا یہ کر دوں گی تو کیا ہو جائے گا؟
آپ تھکتی نہیں ہیں ان کی خدمت کرتے کرتے؟
نہیں تھکن کیسی؟وہ اب جھک کر چولہا جلا رہی تھی-
اچھا بتائیں کیا بنانا ہے؟میں کچھ کروا دوں-
بریانی تو بنانی ہی ہے-باقی مہتاب بھابھی سے پوچھتی ہوں-اور اس وقت مہتاب تائی نے کچن کے دروازے سے جھانکا-
کھانا بنانا اب شروع بھی کردو مسرت!روز دیر ہوجاتی ہے-
مسرت چولہا جلاتے فورا پلٹی-جی بھابھی بس شروع کر رہی ہوں آپ بتائے وسیم بیٹا بریانی کا کہہ گیا تھا ساتھ کیا بناؤں؟وہ دوپٹے سے ہاتھ پونچھتے ان کے سامنے جا کر پوچھنے لگیں-
ساتھ ہی مٹر قیمہ بنا دو،کباب بھی تل لینا اور دوپہر والا اروی گوشت بھی گرم کر لینا آلو کا ایک سالن بھی بنا لو سلاد بھی نہیں بھولنا-
جی اور میٹھے میں؟
دیکھ لو-وہ بے نیازی اور نخوت سے گویا ہوئیں-پڈنگ بنا لو یا ڈبل روٹی کی کھیر-اور ایک اچٹتی نظر اس پر ڈال کر پلٹ گیئں-
ایک وقت میں دیگچے بھر بھر کر آپ تین تین چار چار ڈشز بناتی ہیں مگر رات کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں ہے وہ کلستی بھی تھی اور حیران بھی ہوتی تھی
تم خود ہی تو کہتی ہو وہ ہمارا مال حرام طریقے سے کھاتے ہیں-پھر حرام میں کہاں برکت ہوتی ہے بیٹا؟ان کے لہجے میں برسوں کی تھکن تھی اور کہہ کر وہ پھر سے کٹنگ بورڈ پر جھک گئیں-
وہ بلکل چپ سی پو گئی-واقعی کیوں یہاں دیگچے کے دیگچے ایک وقت کے کھانے میں ختم ہو جاتے تھے،اس نے تو کبھی اس پہلو پر سوچا ہی نہیں تھااور اماں بھی ان کے ہر ظلم و زیادتی سے آگاہ تھیں پھر بھی چپ چاپ سہے جاتی تھیں
ہمارا مال!دل میں ایک کانٹا سا چبھا-گیارہ برس قبل ابا کی ڈیتھ سے پہلے یہ فیکٹریاں یہ جائیدادیں،بینک بیلنس،یہ امپورٹ ایکسپورٹ کی پوری بزنس ائمپائر سب ابا کا تھا اور یہ آغا کریم، یہ راجہ بازار میں کپڑوں کی ایک دکان چلاتے تھے-غفران چاچا ایک معمولی سی کمپنی میں انجینئر بھرتی تھےاور آرزو کے والد اسد چاچاوہ تو وسیم کی طرح تھے
بے روزگار،نکمے،نکھٹو اور نالائق پھر کیسے ابا کے چہلم کے بعد وہ اپنے اپنے کرائے ک مکان خالی کر کے باری باری یہاں آن بسے-
یہ آغا ابراہیم کا گھر آغا ہاؤس تین منزلہ عالی شان محل نما کوٹھی تھی،نچلی منزل پر آغا جان کی فیملی نے بسیرا جمایا بالائی پر فضہ چاچی نےاور سب سے اوپری منزل پر اسد چچا کی فیملی کا قبضہ تھا-
وہ چند دن کے لئے آئے تھے،مگر پھر وہ چند دن کبھی ختم نہ ہوئے-بات بے بات جگہ کی کمی کا رونا رویا جاتا،یہاں تک کے ماسٹر بیڈ روم سے مسرت اور محمل کو نکال کے اسٹور روم میں شفٹ کر دیا گیا-
وہ اس وقت چھوٹی تھی،شاید نو دس سال کی مگر جیسے جیسے شعور کی منزلیں طے کی تو اندر ہی اندر لاوا پکتا رہا-اب تو عرصہ ہوا اس نے دبنا چھوڑ دیا تھا- گھر کے مردوں کے سامنے تو خیر وہ زبان بند ہی رکھتی تھی- مگر تائی چاچیوں سے برابر کا مقابلہ کرتی اور کزنز تو کسے کھاتے میں ہی نہیں تھیں-لیکن اس زبان چلانے کے باعث اس پر سختیاں برھتی گئیں وہ محض زبان سے جواب دے سکتی تھی-
مگر تائی اماں وغیرہ دوسرے حربے بھی استعمال کرتے-جب اس نے اپنے ذاتی جیب خرچ کے لئے اپنی دوست کے والد کی اکیڈمی میں ٹیوشنز دینا شروع کی تھی اس کو گھر واپسی میں دیر ہوجاتیاور نتیجتا” یا قصدا” اس کے لئے دوپہر کا کھانا نہ رکھا جاتا-ایک دفعہ اماں ایک روٹی اور سالن کی پلیٹ بچا کر کمرے میں لے گئیں،مگر مہتاب تائی کی نظر پر گئی اور گھر میں بھونچال آگیا-
وہ باتیں سنائیں مسرت کو ایسے ایسے چوری کے الزامات و القابات سے نوازا کہ مسرت پھر کبھی اس کے لیئے کچھ نہ بچا سکیں-تائی یہ سب اس لیئے لرتی تھیں-
تا کہ وہ ٹیوشنز چھوڑ دےاور جو پندرہ سو روپیہ اسے ٹیوشنز کا ملتا ہے وہ نہ ملا کرے-
اور ٹیوشنز کی اجازت بھی تو اسے کتنی منتوں سے ملی تھی-جب سب کے سامنے ہی اس نے پوچھ لیا تھا تو شروع میں تو سب ہی اکھڑ گئے-لیکن اس کا فقرہ کہ ٹھیک ہے میری پاکٹ منی نکالیئے،لیکن وہ اتنی ہی ہو جتنی سدرہ اور مہرین آپی کو ملتی ہے-
کیونکہ اگر مجھے پاکٹ منی نہ ملی تو میں سدرہ اور مہرین کے ہر اچھے اور مہنگے جوڑے کو آگ لگا دوں گی-
اور وہ پہلی دفعہ اتنی جنونی ہو کر بولی تھی کہ مزید دس منٹ کی بحث کے بعد اسے اجازت مل ہی گئی تھی اور ابھی جو اماں نے یاد دلا دیا کہ وہ لوگ ان کا مال کھاتے ہیں تو وہ یہ سوچے بغیر نہ رہ سکی کہ کچھ ایسا ضرور ہے کہ آغا جان اس بیس سال کی لڑکی سےخائف ہیں-اگر کبھی وہ اپنا حصہ مانگنے کے لئے کھڑی ہوجائے تو- تو کیا ان کا کیس اتنا کمزور ہے کہ وہ عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ نا کروا سکیں گے-
اور انہیں ہر چیز محمل کے حوالے کرنی پڑے گی؟اور کیا وہ بیس سالہ لڑکی اتنی با ہمت ہے کہ وہ ان سب کو ان شطرنج کے اتنے ماہر اور چالباز کھلاڑیوں کو اپنی انگلیوں پہ نچا سکے؟
جواب ایک زور دار نہیں تھا-وہ کبھی بھی ان ک خلاف کھڑی نہیں ہوسکتی تھی،لیکن۔۔۔۔۔۔۔ اگر کبھی اس کے ہاتھ ان کی کوئی کمزوری لگ جائے،کوئی دکھتی رگ جسے دبا کر وہ اپنے سارے حساب چکتا کر سکے، تو کتنا مزہ آئے۔۔۔۔۔۔مگر ایسی کیا دکھتی رگ ہو سکتی تھی ان کی؟
بات سنو؟مہتاب تائی نے پھر سے کچن میں جھانکاتو وہ اپنے خیالات کی بہکی رو سے چونکی-
فواد کہہ رہا ہے میٹھے میں چاکلیٹ سوفلے ہونا چاہیئے یوں کرو۔ ابھی ساتھ ساتھ شروع کر دو اور ہاں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیئے بہت عرصے بعد میرے بیٹے نے کسی خاص میٹھے کی فرمائش کی ہے-بہت مان و فضر اور تنبیہہ بھرے انداز میں کہہ کر وہ بلت گئیں-اور محمل کے ذہن کی بھٹکتی رو اسی ایک نکتے پہ منجمند ہو گئی-
“میرا بیٹا۔۔۔۔ میرا بیٹا!
تو آغا جان اور مہتاب تائی کی کمزوری دکھتی رگ اور تڑپ کا پتہ سب کچھ فواد ہی تھا-
اور اگر۔۔۔۔۔۔۔۔اگر دکھتی رگ اسکی انگلی تلے آجائے۔۔۔۔۔۔ تو؟
محمل!یہ آلو کاٹ دو-میرا خیال ہے آلو انڈے کا سالن بھی بنا لیتے ہیں سب شوق سے کھاتے ہیں-
ہوں-“وہ سوچ میں گم ان کے قریب آئی اور آلو چھیلنے لگی-
مسرت نے بریانی کا مسالا بنایا،قیمہ مٹر بھی پکنے کے قریب تھا-محمل نے شامی کباب تلے،پھر آلو انڈے کا سالن سلاد رائتہ سب بنا چکی تو مسرت روٹی پکانے لگیں-
فواد کے لیئے سوفلے بنا کر فریج میں رکھ دیا تھا نا؟
جی اماں آپ فکر ہی نا کریں-وہ مسکرا کر بولی-اسے شام لان میں فواد کا خود کو چونک کر دیکھنا اور لمحے بھر کو مبہوت ہونا یاد آیا تھا-جو غلطی خاندان کی ساری لڑکیاں کرتی تھی وہ محمل کو نہیں دہرانی تھی اسے اپنی اہمیت نہیں گنوانی تھی،اس نے فیصلہ کر لیا تھا-
ذرا دیر کو وہ ہاتھ روک کر مسرت سے نظر بچا کر باہر لاؤنج میں گئی،جہاں تمام لڑکیاں اس وقت بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں آرزو اسی چست لباس میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی-
فواد کی بہنیں سدرہ اور مہرین بھی پاس ہی تھیں-سدرہ چوبیس برس کی بہت عام شکل کی لڑکی تھی اسی کمی کو پورا کرنے کے لیئے خوب سارا میک اپ اور جیولری گھر میں بھی زیب تن کیے رکھتی-سیاہ بالوں میں گولڈن اسٹریکنگ بھی کرا رکھی تھی۔پھر بھی زیادہ فرق نہیں پرا تھا-
تئیس سالہ مہرین کا البتہ قد چھوٹا تھا،کافی چھوٹا اور بال بے حد گھنگھریالے-وہ سارا سارا دن اپنے بال سیدھے کرنے یا قد لمبا کرنے کے ٹوٹکے آزماتی رہتی -فضہ چچی کی ندا اور سامیہ میں سے ندا بڑی تھی اور سامیہ چھوٹی مگر سامیہ اپنے بے حد لمبے قد کے باعث بڑی لگتی تھی-مہریں اس سے اسی باعث خار کھاتی تھی اور سامیہ بھی اپنی ماں کی طرح میٹھی میٹھی باتوں سے سارا دن مہریں کو مزید احساس دلاتی رہتی-
ندا شکل کی ذرا اچھی تھی سانولی رنگت پر بڑی بڑی آنکھیں اسے قدرے ممتاز بناتی تھی اور تبھی آرزو اسے نا پسند کرتی تھی شاید وہ جانتی تھی فواد کے لئے اس کے مقابلے پے سامیہ کمزور جبکہ ندا ایک مضبوط امیدوار تھی-
فواد کی بہنیں سدرہ اور مہرین تو بی اے کر کے ہی پڑھائی چھوڑ چکی تھی جبکہ بائیس سالہ سامیہ تئیس سالہ ندا بی اے کرنے کالج اور اتئیس سالہ آرزو ماسٹرز کے لئے یونیورسٹی جاتی تھی-آرزو مر مر کر پاس ہونے والوں میں سے تھی اور اس کی یونیورسٹی پہنچ جانے کی وجہ آغا جان کی سفارشیں تھی-یہ سفارشیں سدرہ اور مہرین کے وقت بھی کام آجاتی اگر جو انہیں پڑھنے کا رتی بھر بھی شوق ہوتا-بات سنیں-اس نے بظاہر عجلت میں سب کو مخاطب کیا-رات کھانے کے لیے سوفلے بنانا ہے آپ لوگوں میں سے کوئی ہیلپ کرائے گا؟
نہیں-
آرزو نے ریموٹ سے چینل بدلتے اسے دیکھنا گوارا نہیں کیا-
ندا اپنے ناخنوں پر کیوٹکس رگر رہی تھی،لمبی سی سامیہ فورا فون کی طرف متوجہ ہو گئی-مہرین نے چہرے کے آگے رسالہ کر لیا اور سدرہ بہت انہماک سے اسی وقت ٹی وی دیکھنے لگی-
چلیں فائن- وہ واپس کچن میں آگئی-
ڈائننگ حآل میں روز کی طرح کھانا کھایا گیا-
محمل ہمیشہ کی طرح سب سے آخری کرسی پر بیٹھی تھی جہ آغا جان کی سربراہی کرسی کے بلکل سیدھ میں تھی-مسرت ادھر ادھر چیزیں پکراتی پھر رہی تھیں-
“میٹھا لے آؤ-
کھانا ختم کر کے مہتاب تائی نے محمل کو اشارہ کر ہ کر کے کہا-مسرت ابھی جھوٹے برتن اٹھا کر کچن میں گئی تھی
میٹھا تو آج نہیں بنا-وہ بہت اطمینان سے با آواز بلند بولی تو سب چونک کر اسے دیکھنے لگے-
مگر۔۔۔۔ فواد نے الجھ کر ماں کو دیکھا- میں نے کہا تھا کہ چاکلیٹ سوفلے بنانا ہے-“
” محمل یہ کیا بد تمیزی ہے؟ تائی اماں نے گھرکا-
بد تمیزی فواد بھائی آپ یہ کھانے کی ڈشز گنیں- بریانی مٹر قیمہ اروی دوشت آلو کباب سلاد رائتہ ذرا گن کر دیکھیں،یہ سب اماں نے اکیلے بنایا ہے،میرے اگزامز ہورہے ہیں میرے پاس وقت نہیں تھا کہ بناتی آپ کی ان بہنوں سے کہا بھی کہ فواد کے لئے سوفلے بنانا ہے ہیلپ کروادو مگر سب نے انکار کر دیا-
اب اتنا سارا کرنا اور اوپر سے میٹھا بنانا ہمارے بس سے باہر تھا، سوری میں کل بنا دوں گی یا میری ماں کی تھکن سے بھڑ کر آپ کے لئے ٹیسٹ ضروری ہے تو میں انہیں کہہ دیتی ہوں-
اماں اماں اس نے آواز لگائی-اور جہاں لڑکیاں بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی اور مہتاب تائی کچھ سختی سے کہنے ہی لگی تھی کہ وہ کہہ اٹھا-
نہیں نہیں اٹس اوکے میں نے خیال نہیں کیا کی تمہارے ایگزامز ہیں اور ممی! اس نے ماں کو تنبہیی نظر سے دیکھا- کچن کا کام صرف محمل اور مسرت چچی کی ذمے داری نہیں ہے اب ساری نواب زادیوں کو بھی کہا کریں ہاتھ تو بٹ سکتی ہیں یہ-
ہاں تو کرتی تو ہیں-
ہاں ٹھیک ہے-” آغا جان نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بات ختم کرنا چاہی-جوان بیٹا جو ان سے اونچا تھا،اس کی بات کے آگے انہیں اپنی بات کمزور لگ رہی تھی- مہتاب تائی پہلو بدل کے رہ گئی،
ناعمی چاچی زیر لب کچھ بربرائی اور تو اور فضہ چاچی بھی خاموش سی ہو گئی تھیں- لڑکیاں الگ شرمندہ-
وہ اطمینان سے فواد کے اٹنے سے قبل ہی اٹھ گئی- مسرت کو برتن اٹھاتے پہلے تو علم بھی نہ ہوسکا کہ کیا ہوا ہے ااور جب ہوا تو معافی تلافی کرنے لگیں
اندر آکر محمل کو بھی ڈانٹا مگر پرواہ کئے بغیر کتابوں میں سر دئیے بیٹھی رہی- فواد کے اٹھنے کے بعد یقینا تائی نے بہت سنائی تھی مگر فواد کے الفاظ کا اثر زائل نہیں کر سکتی تھیں- اس کی گھر میں ایک مضبوط حیثیت تھی-سو بہت سی خواتین رات کو کڑھتے ہوئے سوئی تھیں-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح کالج بس کے لئے وہ اسٹاپ پہ رکھے بینچ پر آئی تو ذہن ابھی تک ادھر ہی الجھا ہوا تھا- بینچ پر بیٹھتے ہوے اس نے سرسی سا دیکھا،وہ سیاہ فام لڑکی اسی طرح بیٹھی تھی- گود میں رکھی کتاب ک کناروں پر مضبوطی سے ہاتھ جمائے خاموشی سے سامنے دیکھ رہی تھی-
وہ جمائی روکتی بیٹھ ہی گئی، اور بے دلی سے بس کا انتظار کرنے لگی- اس نے وہی کل والا اجرک کا کرتا جینز کے اوپر پہن رکھا تھا -اور بال اونچی پونی میں بندھے ہوئے تھے- سوچ وہی فواد کے گرد گھوم رہی تھی- صبح وہ جلدی نکلتی تھی تب تک وہ نیچے نہیں آیا ہوتا-
اس کا کمرہ دوسری منزل پر تھا- جو تھی تو غفران چچا فضہ چاچی کی آماجگاہ مگر وہ کنارے والا کمرہ فواد کا پسندیدہ تھا،سو وہ اس کو عرصہ پہلے الاٹ کر دیا گیا-
فضہ چاچی کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا حسن ہی تھے- سو وہ کمرہ ان کی ضرورت سے زائد ہی تھا- اور یہ تو محمل کا دل ہی جانتا تھا کہ وہ کمرہ تو ابا نے بنوایا ہی اس کے لئے تھا مگر۔۔۔۔۔
سیاہ فام لڑکی اسی خاموشی سے سامنے دیکھ رہی تھی- وہ بور ہونے لگی تو ادھر ادھر گردن گھمائی- سیاہ کتاب دیکھ کر کل کا واقعہ یاد آیا-
یہ کتاب کب ملی تھی آپ کو؟
بغیر تمہید کے اچانک سوال- اس لڑکی نے اطمینان سے گردن اس کی طرف موڑی-
دو سال پہلے-
یہ کس نے آپ کے لئے خصوصا چھوڑی تھی؟
ہے کوئی – وہ ذرا سا مسکرائی موٹی آنکھوں کی چمک اور بڑھ گئی-
آپ کو اچھا لگتا ہے ہے؟ اس نے غور سے اس چمک کو دیکھا-
بہت زیادہ-“
آپ اسے کافی جانتی تھیں؟میرا مطلب ہے یہ تو صدیوں پرانی کتاب ہے-
بس میں جانتی ہوں
اور یہ کتاب ۔۔ یہ آپ کو آپکا ماضی حال مستقبل کیسے دکھاتی ہے؟
اس میں سب لکھا ہے- گزرے واقعات اور وہ جو میرے ساتھ پیش آنے والا ہے -اور مجھے ایسے موقع پر کیا کرنا ہے سب لکھا ہے-
محمل کا دل زور سے دھڑکا- وہ سیاہ فام لڑکی اسے بہت عجیب بات بتا رہی تھی- جانے کیسے پر اسرار بھید بھری کتاب تھی وہ-
آپ کو اس سے کتنا فائدہ ہوتا ہے؟
جتنا تمہاری سوچ سے بھی اوپر ہے-
تو آپ کے تو بہت مزے ہونگے؟آپ اس کو پڑھ کر سب جان جاتی ہونگی-
ہاں مگر اس میں کچھ عمل ہیں-پہلے وہ پرفارم کرنے ہوتے ہیں پھر ہر چیز ویسے ہی ہوتی ہے جیسے اس میں لکھا آتا ہے-
عمل؟ عملیات؟ وہ چونکی اندر کوئی الارم سا بجا-
یہ تو کوئی سفلی علم کی ماہر بیٹھی ہے،اسے تھورا احتراز برتنا چاہیے-
ہاں- سیاہ فام لڑکی مسکرائی -” جو وہ عملیات کر لے، وہ اس کتاب کے ذریعے دنیا پر راج کرتا ہے،سب لوگ اس کی مٹھی میں آجاتے ہیں، اور ہر شئے اس کے لئے تسخیر ہو جاتی ہے- صرف میں نہیں اگر تم بھی اس کتاب کا خاص علم سیکھو تو تمہیں اس کے الفاظ میں اپنا ماضی حال مستقبل نظر آنے لگے گا-
اور۔۔۔۔ اور اس کے بعد؟” وہ سحر زدہ سی سوال پہ سوال کیے جا رہی تھی-
اس کے بعد تم اس کتاب کو چھوڑ نہیں سکتی،تمہیں اپنی زندگی اس سے باندھ کر ہی گزارنی ہودی-
اور اگر میں اسے چھوڑ دوں تو؟
تو تم تباہ ہو جاؤ گی تمہاری ہر چیز ہر محبت، سب تباہ ہو جائے گا- اس کو لے کر تم چھوڑ نہیں سکتیں- یہ سب اتنا آسان نہیں ہے-“
محمل گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی- میری بس۔۔۔۔۔۔”
اسی پل بس قریب آتی نظر آئی وہ دوڑ کر بس کی طرف جانے لگی-
تم ایک دن ضرور آؤ گی میرے پاس ” سیاہ فام لڑکی مسکرائی تھی- تم ایک دن ضرور گڑگڑا کر یہ کتاب مانگنے آؤ گی -میں جانتی ہوں تم لوگوں کی ستائی ہوئی ہو، تمہارا دل زخمی اور ہاتھ خالی ہہں- اور جس دن یہ دل پوری طرح ٹوٹ جائے گا میں تمہیں یہ کتاب دے دوں گی-جاؤ تمہاری بس آگئی ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: