Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 20

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 20

–**–**–

 

یہاں پہ یقین سے مراد یقین نہیں بلکہ موت ہے- سو اس طرح کے الفاظ کا من چاہا مطلب نکالنا انسان کو بھٹکا سکتا ہے-اینی کوئسچن؟انہوں نے رک کر ایک گہری نظر ہال پہ ڈالی-محمل نے ہاتھ ہوا میں بلند کیا-
یس؟انہوں نے سر کے اشارے سے اجازت دی، وہ ہاتھ میں قرآن پکڑے اپنی نشست سے اٹھی-
سر مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آئی میرے پاس بغیر ترجمے والا مصحف ہے، اس میں مذکورہ آیت میں واقعتا “یقین” کا لفظ استعمال ہوا ہے-سو اس کا مطلب موت کیسے ہوا؟دونوں الفاظوں میں خاصآ فرق ہے-“
س کا مطلب موت ایسے ہے کہ-وہ ذرا دیر کو رکے،اور بغور اسے دیکھا”میں نے اس کا مطلب موت نکالا ہے-
جی سر میرا یہی سوال ہے کہ کیسے؟اس کی دلیل کیا ہے؟
“دلیل یہ ہے کہ میں نے ڈاکٹر سرور مرزا نے اس کا مطلب موت نکالا ہے-میں اس ملک کا سب سے بڑا اسلامی اسکالر ہوں- آپ میرے کیڈنشلز اٹھا کے دیکھیں،میری ڈگریز دیکھیں-کیا میری بات بطور ایک ٹھوس دلیل کے کافی نہیں؟
اگلی صفحوں میں بیٹھی لڑکیاں اسے گردنیں موڑ کر دیکھنے لگیں- جو ہاتھ میں چھوٹا قرآن پاک پکڑے کھڑی تھی-
سر آپ کی بات یقینا اہم ہے مگر قرآن کا بعض اس کے بعض کی تفسیر کرتا ہے،حدیث بھی یہ کرتی ہے-کیا قرآن حدیث میں کہیں یہ ذکر ہے کہ یہاں یقین سے مراد موت ہے؟وہ بہت شائستگی و لحاظ سے مؤدب سی پوچھ رہی تھی-ڈاکٹر سرور کے چہرے پر واضح ناگواری ابھری-
یعنی اگر میں آپ کو اس بات مطلب کی دلیل نہ دوں تو اسے محض میری بات سمجھ کر جھٹلا دیں گی؟
یعنی آپ کو میری بات کے مزید دلیل چاہیئے؟
جی! اس نے ہولے سے سر ہلا دیا-
پورے ہال میں ایک اضطراب کی لہر دوڑ گئی-
لڑکیاں قدرے پریشان ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں-
“یعنی آپ ایک دینی اسکالر کو چیلنج کر رہی ہیں؟
” سر میں بہت ادب سے صرف دلیل مانگ رہی ہوں-
اگر اس کی دلیل قرآن حدیث میں نہ ہو تو کیا آپ یقین کا مطلب “موت تسلیم کریں گی؟
نہیں سر کبھی بھی نہیں-
ہوں ڈاکٹر سرور نے ایک گہری سانس لے کر ہال پر نظر دوڑائی،کیا کوئی اور بھی ہے جہ اپنی عمر سے زیادہ طویل تجربے کے حامل ایک اسکالر کو چیلنج کرے؟
کسی اور کو بھی دلیل چاہیئے؟
بہت سے سر نفی میں ہل گئے، وہ اکیلی کھڑی تھی-
یعنی تین سو لڑکیوں میں سے ایک کو دلیل چاہیئے،یہی پڑھا رہے ہیں آپ لوگ اس مسجد میں؟کون ہے آپ کی کلاس انچارج؟
میڈم مصباح کھڑی ہوئیں-
کیا آپ اس ناکام کلاس رپورٹ کی ذمے داری لیتی ہیں؟ ون آؤٹآف تھری ہنڈرٹ کی؟
جی سر! میڈم مصباح کا سر قدرے جھک گیا-ڈاکٹر سرور نے محمل کو دیکھا-کیا آپ کو ابھی بھی دلیل چاہیئے؟
جی سر!
وہ کچھ دیر خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتے رہے،پھر ہلکے مسکرائے-
المدثر آیت 47-43 میں یقین کا لفظ موت کے لیے استعمال ہے،وہاں سے ہم دلیل لیتے ہیں کہ یہاں بھی یقین سے مراد موت ہی ہے-مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مرعوب ہوئے بغیر ادب کےدائرے میں رہ کر مجھ سے دلیل مانگی،اور مجھے افسوس ہے کہ صرف ایک بچی نے یہ جرآت کی باقی سب خاموش رہیں-دو سو ننانوے لڑکیوں میں یقینا ابھی یہ کمی موجود ہے- جو کہ ایک قرآن کلاس کی ناکام کار کردگی کا ثبوت ہے-
کیا کوئی شخص ڈگریوں کا پلندہ لے کر آپ کے پاس آئے- خود کو سب سے بڑا مذہبی اسکالر بتائے-تو آپ اس کی بات کو بطور دلیل مان لیں گے،کیا آپ کو پہلے ہی دن نہیں بتایا گیا تھا کہ دلیل صرف قرآن یا حدیث ہوتی ہے؟کسی عالم کی بات دلیل نہیں ہوتی پھر؟
بہت سے گلابی اسکارف میں لپٹے سر جھک گئے-
محمل سرخرو سی اپنی نشست پہ بیٹھی گئی-
ڈاکٹر سرور اور بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے،مگر وہ سورہ المدثر کھول کر اس آیت کو کاؤنٹر چیک کر رہی تھی-
(سورہ المدثر کی 43-47 تک کا ترجمہ ڈاکٹر سرور کی تصدیق کر رہا تھا)
٭٭٭٭٭
محمل!
لیکچر کے بعد کاریڈور سے گزر رہی تھی-جب فرشتے نے پیچھے سے اسے پکارا-اس کے قدم وہیں تھم گئے-مگر وہ مڑی نہیں-فرشتے تیز تیز چلتی اس کے قریب آئی-
آئی ایم پراؤڈ آف یو محمل!وہ یقینا بہت خوش تھی-گرے اسکارف میں مقید اس کا چہرہ دمک رہا تھا-
محمل اجنبی نظروں سے اسے دیکھتی رہی-
ڈاکٹر سرور تم سے بہت خوش ہیں،انہوں نے ایک سیمینار کے لیے تمہارا نام دے دیا ہے،اور تم میرے ساتھ جا کر ادھر اسپیچ کروگی،
آپ کے ساتھ؟وہ بولی تو اس کی آواز میں خزاؤں جیسی خشکی تھی،پھر مجھے نہیں جانا-
کیا مطلب؟فرشتے کی مسکراہٹ پہلے مدھم ہوئی پھر آنکھوں میں حیرت ابھری-
مجھے جھوٹے لوگ سخت ناپسند ہیں!
محمل ! وہ ششدر رہ گئی،میں نے کون سا جھوٹ بولا ہے؟
یہ سوال آپ خود سے کیوں نہیں کرتیں؟
تم سے کسی نے کچھ کہا ہے؟
میں بچی نہیں ہوں فرشتے- وہ گویا پھٹ پڑی تھی- اندر ابلتے لاوے کو باہر کا راستہ مل گیا تھا-
آپ کیوں گئی میرے آغآ جان کے پاس ؟کیا لگتے ہین وہ آپ کے؟میں ایک یتیم لڑکی ہوں،کیا آپ کو یتیم کے مال میں سے حصہ چاہیئے؟کیوں کی آپ نے ایسی حرکت؟آپ کو جانے کس اونچی مسند پہ بٹھا رکھا تھا میں نے،بہت بری طرح گرایا ہے خود کو آپ نے-
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی آپ ایسے کریں گی،کیا رشتہ ہے آپ کا مجھ سے؟آپ جھوٹ نہیں بولتیں مگر سچ چھپانا بھی تو جھوٹ ہی ہوتا ہے؟میں نے پوچھا آپ کی پھپھو کی بیٹی کا کیا نام ہےآپ نے نہیں بتایا آخر کیوں؟
فرشتے کا چہرہ سفید پڑگیا تھا-جذبات سے عاری بالکل ساکت ،جامد وہ بنا پلک جھپکے محمل کو دیکھ رہی تھی-کتنی ہی دیر وہ کچھ کہہ نہ سکی پھر آہستہ سے لب کھولے-
کیونکہ میری پھپھو کی بیٹی کا نام فائقہ ہے-
جی؟اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا-
میں نے کہا تھا نہ کی تم نہیں جانتیں-میری پھپھو کی بیٹی کا نام فائقہ ہے- میں فرشتے ابراہیم ہوں، آغآ ابراہیم کی بیٹی جاؤ اپنے گھر میں سے کسی سے بھی پوچھو،مگر وہ کیوں بتائیں گے؟وہ مجھے تسلیم نہیں کرتے تو کیسے بتائیں گے-
وہ تھکے تھکے انداز میں کہہ کر اس کے ایک جانب سے نکل کر چلی گئی- محمل مڑ کر اسے جاتا بھی نہ دیکھ سکی -اسے تو جیسے ادھر ہی کسی نے برف بنا دیا تھا-وہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ بیچ کاریڈور می بت بنی کھڑی تھی-
فرشتے ابراہیم-
آغآ ابراہیم کی بیٹی-
اسے پوری مسجد میں ان الفاظ کی گونج پلٹ پلٹ کر سنائی دے رہی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسے نہیں معلوم وہ کن قدموں پہ چل کر مسجد کے گیٹ تک آئی تھی-بس وہ پتھر کا بت بنی خود کو گھسیٹتی ہر شے سے غآفل چلتی جارہی تھی- اس کا بیگ اور کتابیں کلاس میں رہ گئیں تھیں-اس نے انہیں ساتھ نہیں لیا تھا-اسے لگا تھا اس کا بہت کچھ مسجد میں کھو گیا ہے وہ کیا کیا سمیٹتی؟
برابر والے بنگلے ساتھ نصب بینچ پر وہ گر سی گئی-
آغآ ابراہیم کی بیٹی-فرشتے ابراہیم-
اس کا دماغ انہیں دو جملوں پہ منجمد ہوگیا تھا-آگے بڑھتا تھا نہ پیچھے-
دور کہیں یاد کے پردے پر آغا جان کی آواز لہرائی-
اس لڑکی سے کچھ بعید نہیں آج پھر میرے آفس میں آگئی تھی-
پھر آگئی تھی-اس کا ذہن جیسے چونک کر بیدار ہونے لگا تھا-پھر کا مطلب تھا،وہ پہلے بھی ادھر جاتی رہتی تھی-وہ سب اس کو جانتے تھے-اور شاید اس سے خائف بھی تھے- تو کیا وہ واقعی آغا ابراہیم کی بیٹی تھی؟
نہیں! اس نے تنفر سے سر جھٹکا ” آغا ابراہیم کی صرف ایک بیٹی ہےاور وہ ہے محمل ابراہیم-میری کوئی بہن نہیں ہے-میں نہیں مانتی-
وہ زور زور سے نفی میں سر ہلا رہی تھی-اسے لگ رہا تھا آج اس کے دماغ کی رگ پھٹ جائے گی-غصہ تھا کہ اندر ہی اندر ابلا جا رہا تھا-
کیا واقعی وہ ابا کی بیٹی ہے؟مگر اس کی ماں کون ہے؟ میری اماں ۔۔۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے کون بتائے گا؟آغا جان اور تائی تو کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اماں کو تو شاید پتہ بھی نہ ہو! پھر کس سے پوچھوں؟
وہ چکرا کر رہ گئی اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا دیا- مگر اگلے ہی لمحے جیسے جھٹکے سے سر اٹھایا-
ہمایوں! اور پھر اس نے کچھ نہیں سوچا اور گیٹ کی طرف لپکی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صاحب اندر ہیں؟ مجھے اندر جانا ہے-
” جی آپ چلی جاؤ- چوکیدار فورا سامنے سے ہٹا-وہ اندر کی طرف دوڑی-شاہانہ طرز کا لاؤنج خالی تھا-وہ ادھر ادھر دیکھتی آگے بڑھی پھر کچن کے کھلے دروازے کو دیکھ کر رک گئی- کچھ سوچ کر وہ کچن میں آئی-
ماربل فلور کا چمکتا صاف ستھرا کچن خالی پڑا تھا- چمچوں کا اسٹینڈ سامنے ہی تھا-اس نے لپک کر ایک بڑی چھری نکالی اور آستین میں چھپا کر باہر آئی-
ہمایوں؟لاؤنج میں کھڑے ہو کر گردن اوپر کر کے اس نے پکارا-آواز گونج کر لوٹ آئی- اس کا کمرہ اوپر تھا – اسے یاد تھا-وہ تیز تیز سیڑھیاں چڑنے لگی-سیاہ ماربل کی چمکتی سیڑھیاں گولائی میں اوپر جا رہیں تھیں-وہ بالائی منزل پر رکی،ادھر ادھر جھانکا،پھر تیسری منزل کی سیڑھیوں کی طرف جانے لگی-دفعتا سامنے والے کمرے سے اس کی آوازآئی-
بلقیس؟وہ اندر سے غالبا ملازمہ کو آواز دے رہا تھا-وہ دوڑ کر اس کمرے کے دروازے تک آئی-
دروازہ کھولیں!اس نے دروازہ زور سے بجایا اور پھر دھرا دھر بجاتی چلی گئی-
کون؟ہمایوں نے حیران سا ہوکر دروازہ کھولا-اسے دیکھ کر وہ بری طرح چونکا تھا-
تم خیریت؟
مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے،ٹھیک ٹھیک بتائیے گا- ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا!
وہ اتنے جارحانہ انداز میں غرائی تھی کہ وہ پریشان ہی ہوگیا-
کیا ہوا محمل؟
میری بات کا جواب دیں-
اچھا اندر آجاؤ-وہ اسے راستہ دیتے ہوئے پیچھے ہوا-بلیک ٹراؤزر پر گرے آدھے بازوؤں والی شرٹ پہنے،ہاتھ میں تولیہ پکڑے وہ غالبا ابھی نہا کر نکال تھا- ماتھے پہ بکھرے گیلے بالوں سے پاتی کے قطرے ٹپک رہے تھے
وہ دو قدم اندر آئی،یوں کہ اب دروازے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی-
آپ فرشتے کے کزن ہیں؟
ہاں کیوں؟
فرشتے کس کی بیٹی ہے؟اس کا باپ کون ہے؟
باپ؟وہ ذرا سا چونکا،اس نے تم سے کچھ کہا ہے؟
میں نے پوچھا ہے-فرشتے کس کی بیٹی ہے؟وہ دبی دبی سی غرائی تھی-
ادھر بیٹھو، آرام سے بات کرتے ہیں-وہ اس کو راستہ دیتا اس کی بائیں طرف سے قریب آیا-
میں بیٹھنے نہیں آئی مجھے جواب چاہیئے؟
ادھر بیٹھو تو سہی،ٹھنڈے دماغ سے میری بات سنو-وہ بچوں کی طرح اسے بہلاتے ہوئے آگے بڑھا- اور نرمی سے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا-
ہاتھ مت لگائیں مجھے-وہ بدک کر پیچھے ہٹی-
محمل ادھر آؤ-وہ دو قدم آگے اس کے قریب آیا ہی تھا کہ محمل نے اچانک آستین میں چھپی چھری نکال لی-
مجھے آپ پہ ذرا بھروسہ نہیں ہے-دور رہیں – وہ چھری کی نوک اس کی طرف کیے مزید دوقدم پیچھے ہٹی تھی-
چھری کیوں لائی ہو؟مجھے مارنے؟اس کے ماتھے پہ بل پڑے اور آنکھوں میں غصے کی لہر ابھری-وہ تیزی سے بڑھا اور محمل کا چھری والا ہاتھ مڑورا-
چھوڑیں مجھے، ورنہ میں آپ کو مار دوں گی-وہ اس کی مضبوط گرفت کے باوجود کلائی چھروانے کی کوشش کر رہی تھی-دوسرے ہاتھ سے اس نے اس کے کندھے کو پیچھے دھکیلنے چاہا-ہمایوں اس کے چھری والے ہاتھ کا رخ دوسری طرف موڑ رہا تھا،اور پھر اسے پتہ بھی نہیں چلا چھری کی تیز دھار گوشت میں گھسی چلی گئی-
محمل کو لگا وہ مرنے والی ہے-اس نے خون ابلتے ہوئے دیکھا-اور پھر اپنی چیخ سنی-مگر نہیں اسے چھری نہیں لگی تھی- پھر؟
وہ کراہ کر پیچھے ہٹا تو محمل کی کلائی آزاد ہوگئی-ہمایوں کے دائیں پہلو میں سے خون ابل رہا تھا-وہ چھری پہ ہاتھ رکھے لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹا تھا-
اوہ میرے خدا یہ میں نے کیا کر دیا- خوف سے اس کی آنکھیں پھٹ گئیں-
چھری پہ رکھا ہمایوں کا ہاتھ خون سے سرخ پڑنے لگا تھا-وہ درد کی شدت سے دیوار کے ساتھ بیٹھتا چلا گیا-
وہ وہشت زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی- اس کا پورا جسم کانپنے لگا تھا-یقین ہی نہیں آرہا تھا یہ سب اس نے کیا ہے خدایا یہ اس نے کیا کر دیا تھا-
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھتی قدم قدم ہٹنے لگی اور پھر ایک دم مڑی اور سیڑھیاں پھلانگتی گئی- پوری قوت سے لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر بھاگی تھی-
چوکیدار گیٹ پہ نہیں تھا،کہاں تھا اسے پرواہ نہیں تھی-وہ تیز دوڑتی ہوئی مسجد میں داخل ہوئی تھی-
فرشتے فرشتے کدھر ہیں؟ پھولی سانسوں کے ساتھ درمیان پوچھتی وہ ذرا دیر کو ریسپشن پہ رکی تھی-
فرشتے باجی لائبریری میں ہونگی یا
اس نے پوری بات نہیں سنیں اور راہداری میں دوڑتی گئی-
لایبریری کے اسی کونے میں وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بیٹھی تھی–وہ بدحواس سی بھاگتی ہوئی اس کے سامنے جا رکی-
آہٹ پر فرشتے نے چہرے سے ہاتھ ہٹائے اسے دیکھ کر اس کی نگاہیں جھک گئیں-
میں جانتی ہوں تم ہرٹ ہوئی ہو- ایک گہری سانس لے کر وہ اپنی رو میں کہنے لگی تھی-اور میں اسی ڈر سے تمہیں یہ پہلے نہیں بتا رہی تھی-کہتے کہتے فرشتے نے نگاہیں اٹھائیں اور پھر اگلے الفاظ اس کے لبوں پہ دم توڑ گئے-
محمل کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں-
“محمل کیا ہوا؟” وہ پریشان سی کھڑی ہوئی-
فرشتے- فرشتے-۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہمایوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رو دینے کو تھی-
کیا ہو ہمایوں کو؟ بتاؤ محمل؟،اس نے فکر مندی سے محمل کو دونوں شانوں سے تھام کر پوچھا،
وہ ہمایوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمایوں مر گیا”
محمل کے شانوں پہ اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی-
اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی-
یہ کیا کہہ رہی ہو؟
میں نے جان۔۔۔۔۔۔ جان بوجھ کے نہیں ۔۔۔۔۔۔ ہمایوں کو- وہ اسے چھری لگ گئی-میں نے غلطی سے اسے میری-
وہ کدھر ہو ابھی ؟فرشتے نے تیزی سے بات کاٹی-
اپنے گھر بیڈ روم میں-
فرشتے نے اگلا لفظ نہیں سنا اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگی تھی-وہ کہیں بھی جاتی تھی تو ہمیشہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر جاتی تھی-آج اس نے اس کا ہاتھ نہیں تھا تھاما-آج وہ اکیلی بھاگی تھی-
اسے خود بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، بس وہ بھی فرشتے کے پیچھے لپکی تھی-
ہمایوں—— ہمایوں- وہ محمل کے آگے بھاگتی ہوئی ہمایوں کے لاؤنج میں داخل ہوئی تھی-اور اسے آوازیں دیتی سیڑھیاں چڑھنے لگی-
ہمایوں؟
وہ آگے پیچھے گول سیڑھیوں کے دہانے رکی تھیں- ہمایوں کمرے کی بیرونی دیوار کے ساتھ لگا زمین پہ بیٹھا تھا-خون آلودہ چھری اس کے ایک طرف رکھی تھی-ہمایوں تم ٹھیک ہو؟ وہ پریشان سی گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھی ، اس نے جیسے چونک آنکھیں کھولیں-
تم ادھر۔۔۔۔۔۔۔۔؟اپنے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی فرشتے سے اس کی نظر کے پیچھے کھڑی محمل پہ جا رکی-
مجھے محمل نے بتایا کہ-
فرشتے تم جاؤ اس بے وقوف لڑکی کو بھی لے جاؤ-
مگر ہمایوں-
میں نے احمر کو کال کر دیا ہے، پولیس پہنچنے والی ہے،تم دونوں کی ادھر موجودگی ادھر ٹھیک نہیں ہے، جاؤ۔۔۔۔
درد کی شدت سے بدقت بول پا رہا تھا-
مگر ۔۔۔۔۔ فرشتے نے تذبذب سے گردن موڑ کر محمل کو دیکھا جو سفید پڑتا چہرہ لیے ادھر کھڑی تھی-اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا-وہ اس وقت کیا کرے-
میں نے کہا نہ جاؤ-وہ گھٹی گھٹی آواز میں چلایا تھا-
اچھا وہ گھبرا کر کھڑی ہوئی-
نہیں میں نہیں جاؤں گی-بے شک مجھے پولیس پکڑ لے مگر میں-
محمل جاؤ!!!!!!! وہ زور سے چیخا تھا-
چلو محمل-“فرشتے نے جیسے فیصلہ کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیاں اترنے لگی-
ہمایوں میں نے جان بوجھ کے نہیں کیا آئی ایم سوری-۔۔ آئی ایم رئیلی- فر شتے اس سے آگے اس کا ہاتھ کھینچتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی-مگر وہ اسی طرح گردن موڑ کر ہمایوں کو دیکھتی روہانسی سی کہے جا رہی تھی-
جسٹ گو!وہ وہی سے جھنجھلا کر بولا تھا – وہ اب سیڑھیوں کے درمیان میں تھی-وہاں اسے ہمایوں کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا، آنسو اس کی آنکھوں سے ابل پڑے تھے – فرشتے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے باہر لے آئی تھی-
تم کیوں گئی اس کے گھر محمل؟مجھے بتاؤ، ادھر کیا ہوا تھا ؟مسجد کے گیٹ پر فرشتے نے پوچھا تو اس نے اپنا ہاتھ زور سے چھرایا-
محمل ! ناراض مت ہو- ابھی وہاں میری اور تمہاری موجودگی ٹھیک نہیں ہے-
وہ ادھر مر رہا ہے اور آپ۔ اس کی آنکھوں سے متواتر آنسو گر رہے تھے-
وہ ابھی اسے ہسپتال لے جائیں گے- زخم بہت زیادہ نہیں تھا، وہ ٹھیک ہو جاۓ گا مگر تم نے کیوں مارا اسے؟
بھلا یوں ہمایوں کو مار سکتی ہوں-میں کر سکتی ہوں ایسا؟وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی-فرشتے بری طرح چونکی تھی-محمل کے چہرے پہ چھایا حزن ملال اور آنسو-وہ عام آنسو نہیں تھے-میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ایسا-آئی سوئیر-
اچھا اندر آؤ،آرام سے بات کرتے ہیں-اس نے خود کو سنبھال کر کہنا چاہا مگر وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی-
انہوں نے بھی یہی کہا تھا- میرا قصور نہیں تھا- وہ اسی طرح گیٹ پہ کھڑی روۓ چلی جا رہی تھی- ، وہ ٹھیک تو ہو جائے گا فرشتے؟
ہوں-فرشتے نے شاید اس کی بات نہیں سنی تھی بس گم صم اس کی آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ رہی تھی-وہ واقعی عام آنسو نہیں تھے-
میں گھر جا رہی ہوں پلیز-آپ مجھےہمایوں کے بارے میں بتاتی رہیئے گا-
اچھا-اس نے غائب دماغ سے سر ہلا دیا-
محمل اب درختوں کے باڑ کے ساتھ دوڑتی ہوئی دور جا رہی تھی- وہ جیسے نڈھال سی گیٹ سے لگیا یک ٹک اسے دیکھے گئی–
ہاں وہ آنسو بہت خاص تھے-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہسپتال کا ٹائلز سے چمکتا کاریڈور خاموش پڑا تھا-
کاریڈور کے اختتام پر وہ بینچ پہ سر جھکائ بیٹھی تھی-
محمل جو دوڑتی ہوئی ادھر آرہی تھی-
اسے بیٹھے دعکھی کر لمحے بھر کو ٹھٹکی رکی،پھر بھاگتی ہوئی اس کے قریب آئی-
فرشتے-فرشتے-“
فرشتے نے ہاتھوں میں گرا سر اٹھایا”وہ کیسا ہے؟
محمل اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھی اور دونوں ہاتھ اس کے گھٹنوں پہ رکھے-
بنائیں نا، وہ کیسا ہے؟وہ بے قراقری سے اس کی سنہری آنکھوں میں دیکھتی جواب تلاش کر رہی تھی،
ٹھیک ہے – زخم زیادہ گہرا نہیں ہے-وہ بھی محمل کی بھوری آنکھوں میں کچھ تلاش کر رہی تھی-
میں اس سے مل سکتی ہوں؟
ابھی وہ ہوش میں نہیں ہے-
کیوں؟وہ تڑپ کر بولی تھی،وہ فجر کا وقت تھا،اور جیسے ہی فرشتے نے اسے اطلاع دی تھی-وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی-
ڈاکٹرز نے خود اسے سلایا رکھا ہے-وہ ٹھیک ہوجائے گا محمل تم پریشان نہ ہو-
میں کیسے پریشان نہ ہوں؟َ میں نے ان کو چھری ماری ہے- میں ۔
ایسا کیا ہوا تھا محمل؟تم نے کیوں کیا ایسے؟
میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا- میں ان سے پوچھنے گئی تھی-وہ لب کچلتی ڈبڈباتی آنکھوں سے کہتی چلی گئی-فرشتے اسی تھکے تھکے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی-
تم مجھ سے پوچھ لیتی محمل! اس کو۔۔۔۔۔۔۔ خیر چھوڑ دو کوئی بات نہیں-
چند لمحے یونہی سرک گئے وہ اسی طرح فرشتے کے سامنے فرش پر دوزانوں بیٹھی تھی-اس کے ہاتھ ابھی تک فرشتے کے گھٹنوں پر تھے-بہت دیر بعد اس نے خاموشی کو چیر دیا-
آپ نے کہا آپ آغآ ابراہیم کی بیٹی ہیں؟
ہاں میں آغآ ابراہیم کی بیٹی ہوں-
میرے ابا کی،،،،،،،، اس کا گلا رند گیا-
تمہیں یہ انہونی کیوں لگتی ہے؟سوائے تمہارے، تمہارے سب بڑوں کو علم ہے-تمہاری امی کو بھی-
امی کو بھی؟اسے جھٹکا لگا تھا-
ہاں-ابا مجھ سے ملتے تھے–میری امی ان کی فرسٹ وائف تھیں- ڈائیورس کے بعد امی اور ابا الگ ہوگئے تھے- پھر انہوں نے تمہاری امی سے شادی کی- دونوں ان کی پسند کی شادیاں تھیں،ہے نا عجیب بات؟خیر مجھ سے وہ ہر ویک اینڈ پہ ملنے آتے تھے، میں اپنے چچاؤں سے متعارف تو نہ تھی مگر وہ سب جانتے تھے کہ میں کون ہوں، کدھر رہتی ہوں مگر ابا کی ڈیتھ کے بعد انہوں نے مجھے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا میں بہت دفعہ اپنا حق مانگنے گئی- مگر وہ نہیں دیتے- ابا کی پہلی شادی خفیہ تھی، سواۓ ہمارے بڑوں کے خاندان میں کسی کو علم نہ تھا تم سے بھی چھپا کر رکھا گیا کہ کہیں تم میرے ساتھ مل کر حصہ نہ مانگنے کھڑی ہوجاؤ-
آپ نے کیس کیوں نہیں کیا ان پہ؟َبہت دیر بعد وہ بول پائی تھی-
مجھے جائیداد سے حق نہیں رشتوں سے حق چاہیئے-محمل میں بہت دفعہ تمہارے گھر پہ گئی ہوں مگر اندر داخلہ – خیر یہ لمبی کہانی ہے،کئی برسوں سے اپنے حق کی جنگ لڑ رہی ہوں- وارث اللہ نے بناۓ ہیں، میں ابا کی وارث ہوں-یہی سوچ کر اب میں جائیداد سے حصہ مانگتی ہوں، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑ گئی-
آپ کو پتہ تھا میں آپ کے بارے میں نہیں جانتی؟
ہاں مجھے پتہ تھا-میں نے جب بھی تم سے ملنے کی کوشش کی، کریم تایا نے یہی کہہ کر روک دیا کہ محمل ذہنی طور پہ ڈسٹرب ہوجائے گی اور ابا سے نفرت کرے گی،پھر میں نے صبر کر لیا- میں جانتی تھی جو رب بن یامیں کو یوسف علیہ السلام کے پاس لا سکتا ہے وہ محمل کو بھی میرے پاس لے آئے گا- وہ ہلکا سا مسکرائی تھ- محمل کو لگا اس کی سنہری آنکھیں ببھیگنے لگی تھیں-
فواد بھائی ان کا کیس-
ہمایوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے کزن فواد نے اس کے ساتھ کسی لڑکی محمل کا معاملہ طے کیا ہے -کم عمر ہے اور خوبصورت بھی- میرا دل تب ہی سے کھٹک گیا تھا-مگر ہمایوں ماننے کو تیار نہیں تھا کہ فواد تمہارے ساتھ یہ کر سکتا ہے، اسے گمان تھا وہ کوئی اور لڑکی ہوگی مگر جس لمحے میں نے مسجد کی چھت پہ تمہیں دیکھا تھا میں تمہیں پہچان گئی تھی-
آپ نے تو مجھے کبھی نہیں دیکھا تھا ،پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھا تھا، ایک دفعہ تمہارے اسکول آئی تھی تم سے ملنے-بینچ پہ بیٹھتی تمہیں دیکھتی ہی رہی، تم الجھی الجھی چڑچڑی سی لگ رہی تھی- مجھ سے تمہیں مزید ذہنی ازیت نہیں دی گئی، سو واپس پلٹ گئی-
فرشتے تھک کر چپ ہوگئی-شاید اب اس کے پاس کہنے کو کچھ نہ بچا تھا، وہ یاسیت سے اسے دیکھے گئی جو بہت تھکی تھکی نظر آرہی تھی، بہت دیر بعد اس نے پھر لب کھولے-
تم خوش قسمت ہو محمل!کہ تم رشتوں کے درمیاں رہی ہو-تم یتیم نہیں رہی ہو- یتیموں والی زندگی تو میں نے گزاری ہے-اس کے باوجود میں نے کبھی یتیمی کا لیبل خود پہ نہیں لگایا- میری خالہ اور ہمایوں یہی تھے میرے رشتے اور اب میرے پاس کھونے کو مزید رشتے نہیں بچے ، ایک چیز مانگوں تم سے؟کبھی مجھے اس آزمائش میں مت ڈالنامیں مزید رشتے کھونا-
اے ایس پی صاحب کے ساتھ آپ ہیں؟آواز پہ ان دونوں نے چونک کے سر اٹھایا- سامنے یونیفارم میں ملبوس نرس کھڑی تھی-
جی- محمل اس کے گھٹنوں سے ہاتھ ہٹاتی بے چینی سے گھبرا کے اٹھی-

 

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 22

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: