Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 21

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 21

–**–**–

 

اے ایس پی صاحب کے ساتھ آپ ہیں؟ آواز پہ ان دونوں نے چونک کے سر اٹھایا- سامنے یونیفارم میں ملبوس نرس کھڑی تھی-
جی- محمل اس کے گھٹنوں سے ہاتھ ہٹاتی بے چینی سے اٹھی-
ان کو ہوش آگیا ہے، اب خطرے سے باہر ہیں۔آپ ان کی؟
میں۔۔۔۔ میں ان کی فرینڈ ہوں-اس نے جلدی سے فرشتے کی طرف اشارہ کر کے بتایا یہ ہمایوں صاحب کی بہن ہیں-
بہن؟اس نے چونک کر محمل کو دیکھا، مگر وہ نرس کی طرف متوجہ تھی-بہن؟وہ ہولے سے زیر لب بڑبڑائی- پھر ہلکا سا نفی میں سر ہلایا-وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر محمل نرس کے پیچھے جارہی تھی- اس نے کچھ بھی نہ سنا-
وہ خالی ہاتھ بیٹھی رہ گئی-اس کی سنہری آنکھوں میں شام اتر آئی تھی، محمل وہ شام نہ دیکھ سکی تھی-وہ دروازہ کھول کر ہمایوں کے کمرے میں داخل ہورہی تھی-
وہ بیڈ پہ آنکھ موندے لیٹا تھا، اور چادر منہ پہ اوڑھی تھی –
آہٹ پہ قدرے نقاہت سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ کر حیران رہ گیا-
محمل!
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے سامنے جا رکی-
بھورے سلکی بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے فیروزی شلوار قمیض ہم رنگ دوپٹہ شانوں پہ پھیلائے وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی-
آئی ایم سوری ہمایوں! آنسو آنکھوں سے پھسل پڑے تھے-وہ بدقت مسکرایا-
ادھر آؤ-
وہ چند قدم آگے برھی- اتنی غصے میں کیوں تھیں-
مجھے معاف کردیں پلیز-اس نے بے اختیار دونوں ہاتھ جوڑ دئیے- ہمایوں نے بایاں ہاتھ اٹھایا اور اس کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو تھام لیا-
تم نے کیوں کہا، تمہیں مجھ سے کوئی امید نہیں؟
تو کیا رکھتی؟اس کے دونوں ہاتھ اور ہمایوں کا ہاتھ اوپر تلے ایک دوسرے میں بند ہوگئے تھے-
تمہیں لگتا ہے میں بیچ راہ میں چھوڑ دینے والوں میں سے ہوں؟
کیا نہیں ہیں؟آنسو اسی طرح اس کی آنکھوں سے ابل رہے تھے-
کیوں اتنی بدگمان رہتی ہو مجھ سے؟
بدگمان تو نہیں بس۔۔۔۔
پھر چھری کیوں لائی تھیں؟تمہیں لگتا تھا تم میرے گھر غیر محفوظ ہوگی؟ وہ نرمی سے کہہ رہاتھا-
آپ مجھے معاف کردیں پلیز،آپ نے معاف کردیا تو اللہ بھی مجھے معاف کردے گا-
کہہ کہ وہ لمحے بھر کو خود بھی چونک گئی- آخری فقرہ ادا کرتے ہوئے دل میں عجیب سا احساس ہوا تھا-ایک دم اس نے اپنے ہاتھ چھڑاۓ تھے،یہ سب ٹھیک نہیں تھا-
آپ آرام کریں، مجھے مدرسہ بھی جانا ہے-وہ دروازے کی طرف لپکی تھی-
مت جاؤ-وہ بے اختیار پکار اٹھا تھا-
میں گھر سے مدرسہ کا کہہ کر نکلی تھی،اگر نہ گئی تو یہ خیانت ہوگی اور پل صراط پہ خیانت کے کانٹے ہوں گے،مجھے وہ پل پار کرنا ہے-
تھوڑی دیر رک جاؤ گی تو کیا ہوجائے گا؟وہ جھنجھلایا تھا-
یہ حقوق العباد کا معاملہ اور ۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ٹھیک ہے مادام آپ جا سکتی ہیں-
وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تو اسے لگا وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی ہے-
سوری-ایک لفظ کہہ کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی-
فرشتے اسی طرح بینچ پہ بیٹھی تھی-آہٹ پر سر اٹھایا-
میں چلتی ہوں فرشتےمجھے مدرسے جانا ہے،نا محسوس انداز میں اس نے اپنا ہاتھ دوپٹے کے اندر کیا کہ اس پہ وہ کسی کا لمس نہ دیکھ لے-
مل لیں ہمایوں سے؟اس کی آواز بہت پست تھی–ہاں اس نے بے اختیار نگاہیں چرائیں فرشتے اسی طرح گردن اٹھا کر اسے دیکھتی جانے اس کے چہرے پہ کیا کھوج رہی تھی- وہ جیسے گھبرا کر جانے کو پلٹی-
محمل سنو!” وہ جیسے بے چینی سے پکار اٹھی اور اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی اس نے نفی میں سر ہلاتے دھیرے سے کہا-نہیں کچھ نہیں جاؤ-
جاؤ تمہیں دیر ہورہی ہے-
اوکے السلام علیکم -وہ راقداری میں تیز تیز قدم اٹھاتی دور ہوتی گئی-فرشتے نے پھر سے سر ہاتھوں میں گرا لیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس کا دل بہت بوجھل سا ہورہا تھا-مدرسہ آ کر بھی اسے سکون نہ مل رہا تھا-اسے تھوڑی دیر ہوگئی تھی-اور تفسیر کی کلاس وہ مس کر چکی تھی-سارا دن وہ یونہیں مضحل سی پھرتی رہی-بریک میں سارہ نے اسے جا لیا-وہ برآمدے کے اسٹیپس پہ بیٹھی تھی-گود میں کتابیں رکھے چہرے پہ بیزاری سجائے-
تمہیں کیا ہوا ہے؟سارہ دھپ سے ساتھ آ بیٹھی-
پتا نہیں-وہ جھنجھلائے ہوئے گود میں رکھی کتاب کھولنے لگی-
پھر بھی کوئی مسئلہ ہے؟
ہاں ہ-
کیا ہوا ہے؟
اللہ تعالی۔۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سر جھٹک کر صفحے پلٹنے لگی-
بتاؤ نا؟
اللہ تعالی ناراض ہیں،دیٹس اٹ!زور سے اس نے کتاب بند کی-
اوہو – تم خواہ مخواہ قنوطی ہورہی ہو-اللہ تعالی کیوں ناراض ہونگے بھلا؟
بس ہیں نا!
اتنی مایوسی اچھی نہیں ہوتی- تمہیں کیسے پتہ کہ وہ ناراض ہیں؟
ایک بات بتاؤ!وہ جیسے کوفت زدہ سی اس کیطرف گھومی-اگر تم چوبیس گھنٹے کسی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہو،گھر میں داخل ہوتے ہی تمہیں اس شخص کا موڈ دیکھ کر پتہ نہیں چل جاتا کہ وہ ناراض ہے؟
بھلے وہ منہ سے کچھ نہ کہے،بھلے تمہیں اپنی غلطی بھی سمجھ میں نہ آرہی ہو مگر تم جان لیتی ہو کہ ماحول میں تناؤ ہے اور پھر تم دوسروں سے پوچھتی پھرتی ہو کہ اسے کیا ہوا ہے؟اور پھر تم اپنی غلطی سوچتی ہو-میں بھی اس وقت یہی کر رہی ہوں سو مجھے کرنے دو!
مگر محمل”
تمہیں پتا ہے اتنے عرصے سے میں روز ادھر آکر قرآن سنتی تھی-آج میری تفسیر کی کلاس مس ہوگئی ہے-آج میں قرآن نہیں سن سکی-تمہیں پتہ ہے کیوں؟کیونکہ اللہ تعلی مجھ سے ناراض ہیں،وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے- سو ابھی مجھے اکیلا چھوڑ دو!
سارہ کے جواب کا انتظار کیا بغیر وہ کتابیں سنبھالتی اٹھی اور تیز تیز قدموں سے چلتی اندر آگئی-
پرئیر ہال خالی پڑا تھا-بتیاں بجھی تھیں-وہ کھڑکی کے ساتھ آ بیٹھی-کھڑکی کے شیشے سے روشنی چھن کر اندر آرہی تھی-اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے-
اللہ تعالی۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ لبوں پہ ٹوٹ گئے-آنسو ٹپ ٹپ گالوں پہ گرنے لگے-اس نے دعا کے لیے اٹھتے ہاتھوں کو دیکھا-یہ ہاتھ چند گھنٹے پہلے ہمایوں کے ہاتھ میں تھے-لڑکے لڑکی ہاتھ پکڑنا تو اب عام سی بات ہوگئی تھی-مگر قرآن کی طالبہ کے لیے وہ عام سی بات نہ تھی -وہ جیسے جذبات کے ریلے میں بہہ ئی کہ خیال ہی نہ آیا کہ اسے یوں تنہا کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیئے-ہمایوں نے خود کو کیوں نہ روکا؟ مگر نہیں وہ ہمایوں کو کیوں الزام دے؟وہ تو قرآن کا طالب علم نہ تھا،طالبہ تو وہ تھی-سمعنا واطعنا (ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی)کا وعدہ تو اس نے رکھا تھا-پھر؟
آنسو اسی طرح اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے-وہ سر جھکائے آج کا سبق کھولنے لگی
اللہ تعالی پلیز مجھے معاف کردے ۔ مجھے ہدایت پہ قائم رکھ
وہ دل ہی دل میں دعا مانگتے ہوئے مطلوبہ صفحہ کھولنے لگی
کس طرح اللہ اس قوم کو ہدایت دے سکتا ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر کریں
اس کے آنسو پھر سے گرنے لگے ۔ اس کا رب اس سے بہت ناراض تھا اسکی معافی کافی نہ تھی ۔ وہ سسکیوں کے درمیان پھر سے استغفار کرنے لگی
اور انہوں نے رسول کے برحق ہونے کی گواہی دی تھی اور انکے پاس روشن نشانیاں آئی تھیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
وہ جیسے جیسے پڑھتی جارہی تھی اس کا رواں رواں کانپنے لگا تھا ۔ قران وہ آئینہ تھا جو بہت شفاف تھا ۔ اس میں سب کچھ صاف نظر آتا تھا ۔ اتنا صاف کہ کبھی کبھی دیکھنے والے کو خود سے نفرت سی ہونے لگتی تھی ۔
ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ بے شک ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب کے سب لوگوں کی ۔ ہمیشہ رہنے والے ہیں اس میں ، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی وہ مہلت دیے جائیں گے ۔
اس نے قران بند کردیا ۔ یہ خالی زبانی استغفار کافی نہ تھا ۔ اس نے نوافل کی نیت باندھی اور پھر کتنی ہی دیر وہ سجدے میں گر کر روتی رہی۔ جس کے ساتھ ہر پل رہو جو رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہو اسکی ناراضی دور کرنے کے لیے اتنا ہی کوشش کرتا ہے جتنی وہ اس سے محبت کرتا ہے
جب دل کو کچھ سکون آیا تو اس نے اٹھ کر آنسو پونچھے اور قران اٹھا کر ٹھیک اسی آیت کو کھولا جہاں سے چھوڑا تھا ۔ آیت روز اول کی طرح روشن تھی ۔ مگر اس کے بعد جن لوگوں نے توبہ کرلی۔۔۔۔۔ (اسکا دل زور سے دھڑکا ) اور انہوں نے اصلاح کرلی تو بے شک اللہ بخشنے والا ، مہربان ہے
بہت دیر سے روتے دل کو ذرا امید بندھی ۔ ذرا قرار آیا
یہ توبہ کی قبولیت کی نوید تو نہ تھی ، مگر امید ضرور تھی ۔ اس نے آہستہ سے قران بند کیا ۔ میڈم مصباح کہتی تھیں اگر قران کی آیات میں آپ کے لیے ناراضی کا اظہار ہو تو بھی بخشش کی امید رکھا کریں کم از کم اللہ آپ سے بات تو کررہا ہے ۔
وہ ٹھیک ہی کہتی ہیں ۔ محمل نے اٹھتے ہوئے سوچا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہتاب تائی نے کمرے کے کھلے دروازے سے اندر جھانکا
محمل سے کہو شاپنگ کے لیے چلے ۔ اس کے جوتے کا ناپ لینا ہے ۔ ورنہ بعد میں کہے گی کہ پورا نہیں آتا
وہ بیڈ پر کتابیں کھولے بیٹھی تھی، جبکہ مسرت الماری سے کچھ نکال رہی تھیں ۔ تائی کی آواز پر دونوں نے بری طرح چونک کر انہیں دیکھا تھا جو اسے نظر انداز کیے مسرت سے مخاطب تھیں ۔ ( تو وسیم والا قصہ ابھی تک باقی ہے ؟ ) اس نے کوفت سے سوچا
پچھلے کچھ دنوں میں پے در پے ہونے والے واقعات نے وقتی طور پر اسے وہ معاملہ بھلا دیا تھا ۔ یہ بھی کہ حسن کی مخالف ابھی برقرار تھی ۔
مگر تائی میں انکار کرچکی ہوں
لڑکی میں تمہاری ماں سے بات کررہی ہوں
مگر میں آپ سے بات کررہی ہوں ۔ اس کا لہجہ نرم مگر مضبوط تھا
مسرت اس سے کہو تیار ہوجائے ، میں گاڑی میں اس کا ویٹ کررہی ہوں ۔ وہ کھٹ کھٹ کرتی وہاں سے چلی گئیں ۔ اس نے بے بسی سے ماں کی طرف دیکھا وہ اس سے بھی زیادہ بے بس نظر آرہی تھیں
اماں آپ ۔۔۔۔۔۔۔
ابھی چلی جاؤ محمل ورنہ وہ ہنگامہ کردیں گی ۔
یہ سمجھتی کیوں نہیں ہیں ۔ وہ زچ سی ہوکر کتابیں رکھنے لگی ۔
شاید حسن کچھ کرسکے۔ مجھے حسن سے بہت امید ہے
اور مجھے اللہ سے ہے ۔ وہ کچھ سوچ کر عبایا پہننے لگی ۔ پھر سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیٹا اور پن لگائی ۔ خوامخواہ ہنگامہ کرنے کا فائدہ نہ تھا ۔ چلی ہی جائے تو بہتر ہے ۔ باقی بعد میں دیکھا جائے گا ۔
لاوئج میں سیڑھیوں کے پاس لگے آئینے کے سامنے وہ رکی۔ ایک نظر اپنے عکس کو دیکھا ۔ سیاہ حجاب میں سنہری چہرہ دمک رہا تھا ۔ اونچی پنی ٹیل سے حجاب پیچھے سے اٹھ سا گیا تھا اور بہت اچھا لگ رہا تھا
وہ ہونہی خود کو دیکھتی پلٹی ہی تھی کہ آخری سیڑھی اترتے حسن پہ نظر پڑی
کدھر جا رہی ہو تم
تائی اماں کے ساتھ ، شادی کی شاپنگ پہ
تم راضی ہو محمل ؟ وہ بھونچکا سا اس کے قریب آیا ۔ وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹی ۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: