Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 22

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 22

–**–**–

 

کدھر جا رہی ہو تم
تائی اماں کے ساتھ ، شادی کی شاپنگ پہ
تم راضی ہو محمل ؟ وہ بھونچکا سا اس کے قریب آیا ۔ وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹی ۔
اس گھر میں مجھے اپنی رضا سے اس فیصلے کا اختیار نہیں ملا حسن بھائی ۔
وہ کتنے ہی لمحے خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر آہستہ سے لب وا کیے
ہم کورٹ میرج کرلیتے ہیں
اور محمل کو لگا کہ اس نے تھپڑ دے مارا ہے
آپ کو پتہ ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ، وہ بمشکل ضبط کرپائی تھی ۔
ہاں میں تمہیں اس دلدل سے نکالنے کی بات کررہا ہوں ۔
آپ کورٹ میرج کی بات ۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ مجھ سے یہ بات کریں گے ۔
تمہیں اعتراض کیوں ہے محمل ۔ یہ تمہاری شادی زبردستی وسیم سے کردیں گے اور تم ۔
حسن بھائی پلیز آپ کو پتہ ہے کورٹ میرج کیا ہوتی ہے ۔ سرکاری شادی ، کاغزوں کی شادی ۔ میں ایسی شادی کو نہیں مانتی جس میں لڑکی کے ولی کی مرضی شامل نہ ہو ۔
اور میں کیوں یوں چھپ کر شادی کروں گی ؟ نہ آپ سے نہ وسیم سے ۔ میرا راستہ چھوڑیں ۔ وہ بے بس سا سامنے سے ہٹا تو وہ تیزی سے باہر نکل گئی ۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھی مہتاب تائی اسکا انتظار کر رہی تھیں ۔ وہ اندر بیٹھی اور دروازہ ذرا زور سے بند کیا ۔
اسی پل ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر کوئی اندر بیٹھا ۔ اس نے ڈرائیور سمجھ کر یونہی بیک ویو میں دیکھا تو جھٹکا سا لگا ۔ وہ وسیم تھا
اپنے ازلی معنی خیز انداز میں مسکراتے،وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا-اسے لگا اس سے غلطی ہوچکی ہے،مگر اب کیا کیا جا سکتا تھا،،؟
لب کچلتی وہ کھڑکی سے باہع دیکھنے لگی-
تائی مہتاب منگنی کی شاپنگ کر رہین تھیں یا شادی کی،وہ کچھ نہ سمجھ سکی-بس چپ چاپ ان کے ساتھ میٹرو میں چلی آئی-وہ جہاں بیٹھی ان کے ساتھ بیٹھی گئی-
سنا ہے تم نے بہت شور ڈالا تھا-تائی اٹھ کر ایک شو کیس کے قریب گئیں تو وہ اس کے ساتھ صوفے میں دھنس کر بیٹھا- محمل بدک اٹھی-
ارے بیٹھو بیٹھو تم سے بات کرنی ہے-
شاپ کی تیز پیلی روشنیاں وسیم کے چہرے پہ پڑ رہی تھیں،گریبان کے کھلے بٹن ، گردن سے لپٹی چین،اور شوخ رنگ کی شرٹ اف،اسے اس سے کراہت آئی تھی-
تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو کس سے کرنا چاہتی ہو؟ وہ استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ پوچھ رہا تھا- اس کے ذہن کے پردے پہ ایک چہرہ سا ابھرا-
ایک اندرونی خواہش-ایک دبتی دباتی محبت کی ادھوری داستان،اس نے بے اختیار سر جھٹکا-
نہ اپ سے نہ کسی اور سے-آپ میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟
ایسے نہیں محمل ڈئیر،ابھی تو ہم نے بہت وقت ساتھ گزارنا ہے،وہ کھڑے ہو کر اس کے قریب ایا-وہ پھر دو قدم پیچھے ہتی دکان لوگوں سے بھری ہوئی تھی-پھر بھی محمل کو اس کے بے باک انداز سے خوف اتا تھا-نہ معلوم وہ کیا کر ڈالے-
اچھا ادھر آؤ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے-وہ قدم اٹھاتا اس کے نزدیک ارہا تھا”ادھر آئس کریم پارلر میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں-
تائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تائی اماں- بے بس سی وہ بھیڑ میں تائی مہتاب کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھنے لگی-
تمہاری تائی کو ان کی کوئی فرینڈ مل گئی ہے-وہ ابھی نہیں ائیں گی-تم ادھر قریب تو آؤ نا محمل ڈئیر-وسیم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی تھامنا چاہی،اس کی انگلیاں اس کے ہاتھ سے ذرا سی مس ہوئیں- محمل کو جیسے کرنٹ لگا تھا،ہاتھ میں پکڑا ہینڈ بیگ اس نے پوری قوت کے ساتھ وسیم کے منہ پر دے مارا-
بیگ اس کی ناک پہ زور سے لگا تھا،وہ بلبلا کر پیچھے ہٹا-شور کی آواز پر بہت سے لوگ ادھر متوجہ ہوئے، سیلز بوائے کام چھوڑ کر ادھر لپکے-
یو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یو بچ ۔۔۔! وسیم غصۓ سے پاگل ہوگیا-ناک پہ ہاتھ رکھے وہ جارحانہ انداز میں اس کی طرف لپکا ہی تھا کہ ایک لڑکے نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا-
کیا تماشا ہے؟ کیوں بچی کو تنگ کر رہے ہو؟
میڈم کیا ہوا ہے؟یہ بندہ تنگ کر رہا تھا آپ کو؟
بہت سی اوازیں آس پاس ابھریں-کچھ لڑکون نے وسیم کو بازوؤں سے پکڑ رکھا تھا-
یہ مجھے تنگ کر رہا تھا اکیلی لڑکی جان کر-اس نے بمشکل خود کو سنبھالا اور کہہ کر پیچھے ہٹ گئی-اسے معلوم تھا اب کیا ہوگا-اور واقعی وہی ہوا،اگلے ہی لمحے وہ لڑکے وسیم پر پل پڑے-وہ گالیاں بکتا خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا،مگر وہ سب بہت زیادہ تھے-مارو اسے اور مارو شریف لڑکیوں کو چھیڑتا ہے-
ایک عمر رسیدہ صاحب ہجوم کے پاس کھرے غصۓ سے کہہ رہے تھے-
زور سے مارو اسے عبرت کی مثال بنا دو-
اپنے گھر ماں بہن نہیں ہے کیا۔۔۔؟
اور وہ ماں جب تک دوکان میں لگے ہجوم تک پہنچی،وہ وسیم کو مار کر ادھ پوا کر چکے تھے- تائی اس کی طرف لپکیں-تھوڑی ہی دور صوفے پر محمل بیٹھی تھی-ٹانگ پہ ٹانگ رکھے مطمئن سی وسیم کو پٹتے دیکھ رہی تھی-
محمل یہ اسے کیوں مار رہے ہیں؟
کیوں کہ اس کے باپ کے کہنے پر کبھی مجھے ایسے ہی مارا گیا تھا-
بکواس مت کرو-
بڑی دلچسپ بکواس ہے یہ،آپ بھی انجوائے کریں نا۔۔۔۔ وہ محفوظ سی وسیم کو پٹتے دیکھ رہی تھی- شاپ کا بوکھلایا ہوا مینجر اور سیلز بوائز،مشتعل نوجوانوں کو چھروانے کی کوشش کر رہے تھے-
سر پلیز- سر دیکھیں-سیلز بوائز کی منت کے باوجود لڑکے ان کو دیکھنے کی ذحمت ہی نہیں کر رہے تھے-حواس باختہ سی تائی مہتاب ان کی طرف دوڑیں-
میرے بیٹے کو چھوڑو، پڑے ہٹو مردودو! وہ چلا چلا کر ان لڑکون کو ہٹانے کی سعی کر رہی تھیں-
صوفے پہ بیٹھی محمل مسکراتے ہوئے چپس کا پیکٹ کھول رہی تھی-
اب یہ مرتے دم تک مجھے ساتھ نہین لائیں گی-ساری صورتحال سے لطف اندوز ہوتی وہ چپس نکال کر کترنے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس نے دروازہ ہولے سے بجایا- مدھم دستک نے خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا-
آجاو محمل! اندر فرشتے کی تھکن زدہ مسکراتی آواز آئی اس نے حیرت دروازہ کھولا-
السلام علیکم- اور آپ کو کیسے پتہ یہ میں ہوں؟
میں تمہاری چاپ پہچانتی ہوں-وہ بیڈ ہر بیٹھی تھی-گھٹنوں پہ لحاف پڑا تھا-ہاتھ میں کوئی کتاب تھی-بھورے سیدھے بال شانون پہ تھے-اور چہرے پہ ذرا سی تکان تھی- محمل اندر داخل ہوئی تو فرشتے نے کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی-اور ذرا سا کھسک کر جگہ بنائی- آؤ بیٹھو-
نائس روم فرسٹ ٹائم ائی ہوں آپ کے ہاسٹل ! محمل ستائشی نظریں اطراف میں ڈالتی بیڈ کی پائنتی کے قریب بیٹھی-وہ اسکول یونیفارم میں ملبوس تھی-، جبکہ فرشتے بالکل مختلف گھر والے حلیئے میں تھی-
پھر کیسا لگا ہاسٹل؟
بہت اچھا اور آپ آج اسکول کیون نہیں ائیں؟
یونہی طبیعت ذرا مضحل سی تھی- وہ تکان سے مسکرائی-اس کا چہرہ محمل کو بہت ذرد سا لگا تھا- شاید وہ بیمار تھی-
اپنا خیال رکھا کرین-پھر قدرے توقف سے گویا ہوئی،آپ ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں جا کر کیوں نہیں رہتیں؟وہ آپ کا بھی گھر ہے آپ کا حق ہے اس پہ،آپ کو اپنے اس گھر میں سے حصہ مانگنا چاہیئے-
تو ان پر زور دیں نا-
کوئی اور بات کرو محمل!
اف! وہ ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی- مجھے علم ہی نہیں تھا کہ میری ایک بہن بھی ہے اور ساری عمر میں بہن کے لیے ترستی رہی-
ہم لوگوں کے ساتھ کے لیے نہیں ترستے محمل، ہم لوگوں کے ساتھ کی چاہ کے لیے ترستے ہیں، اور اسی چاہ سے محبت کرتے ہیں-وہ لوگ مل جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ تو کچھ نہ تھے-سب کچھ تو وہ چاہ تھی جس کی ہم نے صدیوں پرستش کی تھی-
آپ بیمار ہو کر کافی فلسفی ہوگئی ہیں،سو پلیز، اچھا سنیں، ایک بات بتاؤں-وہ پر جوش سی بتانے لگی-کل تائی اماں مجھے وسیم کے ساتھ شاپنگ پہ لے گئیں،اور میں نے اسے شاپ میں لوگوں سے پٹوایا-
بری بات-قرآن کی طالبہ ایسی ہوتی ہے کیا؟
ارے اس نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی،، اور اسے سبق سکھانے کے لیے یہ ضروری تھا ، یو نو سیلف ڈیفنس! ہمایوں کیسا ہے؟ایک دم اس نے پوچھا اور خود بھی حیران رہ گئی-
اب بہتر ہے-
اوہ شکر الحمد اللہ-وہ واقعتا خوش ہوئی تھی-چہرہ جیسے کھل اٹھا تھا-فرشتے بغور اس کے تاثرات جانچ رہی تھی-
تم اسے پسند کرتی ہو رائٹ؟
اس کی نگاہیں بے اختیار جھک گئیں-رخسار گلابی پڑگئے-اسے توقع نہ تھی کہ فرشتے اتنےآرام سے اسے پوچھ لے گی-
بتاؤ نا-فرشتے ٹیک چھوڑ کر سیدھی ہوئی اور غور سے اس کا چہرہ دیکھا- پتا نہیں!
مجھے سچ بولنے والی محمل پسند ہے-
ہاں شاید-اس نے اعتراف کرتے ہوئے پل بھر کو نگاہیں اٹھائیں-فرشتے ہنوذ سنجیدہ تھی-
“اور ہمایوں؟
ہمایوں؟ اس کے لب مسکرا دئے-وہ کہتا ہے وہ بیچ راہ میں چھوڑ دینے والون میں سے نہیں ہے-
وہ سر جھکائے مسکراتی ہوئی بیڈ شیٹ پہ انگلی پھیر رہی تھی-دوسری طرف دیر تک خاموشی چھائی رہی و اس نے چونک کر سر اٹھایا-
فرشتے بالکل خاموش تھی-اس کے دل کو یونہی شک سا ہوا”کہیں فرشتے تو ہمایوں سے ۔۔۔۔۔۔؟آخر وہ دونوں ساتھ پلے بڑھے ہیں-اس کا دل زور سے دھڑکا-
کیا سوچ رہی ہیں؟
یہی کہ جب میں ہمایوں کے لیے تمہارا رشتہ لینے جاؤں گی تو کریم چچا مجھے شوٹ تو نہین کر دیں گے؟آخر میں ہمایوں کی بہن ہوں نا!
اور محمل کھلکھلا کر ہنس دی-سارے وہم شک و شبے ہوا ہو گئے-فرشتے بھلا ایسی فیلنگز کیسے رکھ سکتی تھی؟وہ عام لڑکیوں سے بہت مختلف تھی-
اچھا یہ دیکھو- اس نے کتاب میں سے ایک لفافہ نکالا- ایک لنچ انوی ٹیشن ہے- مجھے انوائٹ کیا ہے نسیم آنٹی نے-وہ اماں کی ایک پرانی فرینڈ ہیں،ان ہی کے کلب میں ہ اس سنڈے کو – تم چلوگی-؟
مگر ادھر کیا ہوگا؟
یہ تو مجھے نہیں پتہ-صرف لنچ ہے آنٹی نے کہا اگر میں آجاؤن تو اچھا ہے،اماں کی کچھ پرانی فرینڈز سے بھی مل لوں گی-تم چلوگی؟
شیور! وہ پورے دل سے مسکرائی، اور پھر کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلی آئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭
اتوار کی دوپہر مقررہ وقت پہ مدرسے کے برآمدے میں کھڑی تھی-سیاہ عبایا میں ملبوس سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیٹے، وہ کھڑی بار بار کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھتی تھی-عبایا وہ اب کبھی کبھی باہر پہنتی تھی-، ہاں نقاب نہیں کرتی تھی، صرف حجاب لے لیا کرتی تھی-
دفعتا اوپر سیڑھیوں پہ آہٹ ہوئی-محمل نے سر اٹھایا-
فرشتے تیزی سے زینے اتر رہی تھی-ایک ہاتھ سے چابی پکڑے دوسرے سے وہ پرس میں کچھ کنگھال رہی تھی-
“السلام علیکم،تم پہنچ گئیں، چلو! عجلت میں کہتے ہوئے اس نے پرس بند کیا، اور برآمدے کی سیڑھیاں اتر گئی-محمل اس کے پیچھے ہو لی-
ہمایوں گھر میں ہی ہوگا مل نہ لیں؟وہ گیٹ کے باہر رک کر بولی تو محمل مسکرا دی-
شیور!
وہ لاؤنج میں ہی تھا، صوفے پہ بیٹھے پاؤں میز پہ رکھے،چند فائلز کا سرسری سا مطالعہ کر رہا تھا-انہین آتے دیکھا تو فائلز رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا-
خوش آمدید! فرشتے کے پیچھے محمل کو اتا دیکھ کر وہ مسکرا دیا تھا-اس کا چہرہ پہلے سے قدرے کمزور لگ رہا تھا، مگر ہسپتال میں پڑے ہمایون سے وہ خاصا بہتر تھا-
میں ہمایوں کو اتنے سالوں میں بھی السلام علیکم کہنا نہیں سکھا سکی، محمل ! اور کبھی تو مجھے لگتا ہے میں اسے کچھ بھی نہ سکھا سکوں گی-
“اچھا بھئی السلام علیکم – وہ ہنس دیا تھا- بیٹھو-
وہ اس کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گئی مگر فرشتے کھڑی رہی-
نہیں ہمایوں ہمارے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں ہے-
مگر تمہاری بہن تو بیٹھ گئی ہے-
فرشتے نے مڑ کر محمل کو دیکھا جو آرام سے صوفے پہ بیٹھی تھی-
بہن! اٹھو ہم بیٹھنے نہیں آئے-
محمل ایک دم گڑبڑا کر کھڑی ہوگئی-
فرشتے ہمایون کی طرف پلٹی-
ہم بس تمہارا حال پوچھنے آئے تھے-تم اب ٹھیک ہو؟
میں ٹھیک ہوں ، مگر بیٹھو تو سہی-
” نہیں ۔۔۔۔ ہمیں لنچ پہ جانا ہے،نسیم آنٹی کی طرف-
اماں کی کچھ فرینڈز سے بھی مل لیں گے-
اور محمل؟اس نے سوالیہ ابرو اٹھائی-
محمل ظاہر ہے میری بہن ہے تو میرے ساتھ ہی رہے گی نا-
وہ بے اختیار مسکرا دیا- عبایا میں ملبوس وہ دونوں دراز قد لڑکیاں اس کے سامنے کھڑی تھیں- سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیتے دونوں کی ایک جیسی سنہری آنکھیں تھیں، یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے کون زیادہ خوبصورت ہے-ہاں فرشتے دو انچ زیادہ لمبی ضرور تھی-اس کے چہرے پہ ذرا سنجیدگی تھی- جبکہ محمل کے چہرے پہ کم عمری کی معصومیت برقرار تھی-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ وہ محمل تو نہ تھی جس سے وہ پہلی بار اس لاؤنج میں ملا تھا-سیاہ مقیش کی ساڑھی،چھوٹی آستینوں سے جھلکتے گداز بازو، اور اونچے جوڑے سے نکللتی گھنگھریالی لٹوں والی-اسے اس کا ایک ایک نقش یاد تھا-وہ کوئی اور محمل تھی،اور یہ عبایا اور حجاب والی کوئی اور تھی-
ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟
یہی کہ تم نے محمل کو اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے-
یہ میرا رنگ نہیں ہے یہ صبغت اللہ ہے ،اور اللہ کے رنگ سے بہتر کون سا رنگ ہوسکتا ہے-چلو محمل-اوکے ہمایوں اپنا خیال رکھنا- السلام علیکم- وہ محمل کا بازو تھامے مڑی ہی تھی کہ وہ پکار اٹھا-
سنو فرشتے! ہاں! وہ دونوں ساتھ ہی پلٹیں-
تم بولتی بہت ہو،اور تم نے محمل کو ایک لفظ بھی نہیں بولنے دیا-تمہیں معلوم ہے؟
” مجھے معلوم ہے اور تم نے ساری عمر تو اسی کو سننا ہے،یہ کم ہے کہ میں نے تمہیں اس سے ملوا دیا ہے؟
مگر نہیں- بے شک انسان بہت ناشکرا ہے، چلو محمل! وہ محمل کو بازو سے تھامے اسی عجلت میں واپس لے گئی-اور وہ حیرتوں میں گھرا کھڑا رہ گیا-
پھر سر جھٹک کر مسکرا دیا تھا-یہ فرشتے کو کس نے بتایا؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس گول میز کے گرد دونوں اپنی نشستوں پہ بور سی بیٹھی تھیں-
باقی کرسیوں پر آنٹی ٹئپ کچھ خواتین جلوہ افروز تھیں-محمل بار بار کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتی-وہ واقعی بہت بور ہو رہی تھی-
فرشتے ہی تھی جو اپنے ساتھ بیٹھی نسیم آنٹی سے کوئی نہ کوئی بات کر لیتی تھی، ورنہ وہ تو مسلسل جماہی روکتی بے زاری سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی-
اس ملک میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو مردوں کو ہیں- وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسز رضی کی طرف متوجہ ہوگئی جو ناک چڑھائے اپنا انگوٹھیوں سے مزین ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھیں-
اور یہ اس صدی سب سے بےوقوفانہ بات ہے، اگر کوئی کہے کہ مرد عورت سے برتر ہے-میں تو نہیں مانتی ایسی باتوں کو!
بالکل!وہ سب غرور و تفاخر میں ڈوبی عورتیں ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملا رہیں تھی-محمل کا پرس میز پہ رکھا تھا-اس نے اس کو اٹھا کر گود میں رکھا پھر اندر سے اپنا سفید کور والا قرآن نکالا جو ہمیشہ ساتھ رکھتی تھی-
یہ سب جہالت کی باتیں ہیں مسز رضی،جب تک اس ملک میں تعلیم عام نہیں ہوگی،لوگ عورتوں اور مردوں کے برابر حقوق تسلیم نہ کر سکیں گے-
اور نہیں تو کیا اسی قدامت پرستی کی وجہ سے ہم آج یہاں ہیں- اور دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے-
اس نے سر اٹھایا اور ذرا سا کھنکاری-
مجھے آپ لوگوں سے اتفاق نہیں ہے-
تمام خواتین چونک کر اسے دیکھنے لگیں-
اور میرے پاس اس کے لیے دلیل بھی ہے ، یہ دیکھیں-اس نے گود میں رکھا قرآن پاک اوپر کیا،”ادھر سورہ نسا میں-
نہیں پلیز!
اف نہیں! ناٹ اگین-
اوہ پلیز ڈونٹ اوپن اٹ،
ملی جلی ناگوار،مضطرب سی آوازوں پہ رک کر ناسمجھی کے عالم میں انہیں دیکھنے لگی-
جی؟
خدا کے لیے اس کو مت کھولیں-
وہ کہہ رہی تھی اور وہ حق دق بیٹھی رہ گئی-
یہ مسلمان عورتیں تھیں؟یہ واقعی مسلمان عورتیں تھیں؟ان کو آسمانی کتابوں پہ ایمان نہ تھا؟یہ قرآن کو نہیں سننا چاہتی تھیں جس نے ان کو ان کا مال اور حسن دیا تھا۔۔۔؟جو چاہتا تو ان کی سانسیں روک دیتا،ان کے دل بند کر دیتا-مگر اس نے ان کو ہر نعمت دے رکھی تھی-پھر بھی وہ اس کی بات نہیں سننا چاہتی تھین؟
یہ تو قرآن کی بات ہے اللہ کا کلام ہے آپ سنیں تو سہی، یہ تو-اس نے کہنا چاہا-
پلیز آپ ہماری ڈسکشن میں مخل نہ ہوں-
اور وہ خاموش ہوگئی-اتنی ہٹ دھرمی-شاید وہ بد نصیب عورتیں تھیں،جب کو اللہ اپنی بات سنوانا نہیں چاہتا تھا- اور ہر وہ شخص جو روز قرآن نہین پڑھتا وہ بد نصیب ہوتا ہےاللہ اس سے بات کرنا بھی پسند نہین کرتا-
پھر وہ ادھر نہیں بیٹھی،تیزی سے اٹھی قرآن بیگ میں رکھا اور فرشتے سے میں گھر جارہی ہوں کہہ کر بغیر کچھ سنے وہاں سے چلی ائی، اس کا دل جیسے درد سے پھٹا جا رہا تھا-آنسو ابلنے کو بے تاب تھے- سمجھ میں نہیں ارہا تھا وہ کیسے اس غم کو قابو کرے،کیسے-کیسے مسلمان ہوکر وہ یہ سب کہہ سکتی تھیں؟اسے ابھی تک یقین نہیں ارہا تھا-
دل بہت بھر آیا تو آنسو بہہ پڑے، وہ چہرہ پھیرے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی-سڑک کے ایک جانب درخت پیچھے کو بھاگ رہے تھے،گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا جسے وہ ساتھ لے کر آئی تھی-تائی مہتاب کی بہو بننے پہ اعزاز تو اسے ملنا ہی تھا-اور روک ٹوک بھی قدرے کم ہوگئی تھی-مگر ابھی وہ ان باتوں کو نہیں سوچ رہی تھی-اس کا دل تو ان عورتوں کے رویوں پہ اٹک سا گیا تھا- اسے لگا-
ایک دم گاڑی جھٹکے سے رکی-وہ چونک کر آگے دیکھنے لگی-
کیا ہوا؟
بی بی! گاڑی گرم ہوگئی ہے ،شاید ریڈی ایٹر میں پانی کم ہے،میں دیکھنا بھول گیا تھا-ڈرائیور پریشانی سے کہتا باہر نکلا-وہ گہری سانس لے کر رہ گئی-
سڑک سنسان تھی گو وقفے وقفے سے گاڑیاں گزرتی دکھائی دیتی تھیں مگر ارد گرد آبادی کم تھی-وہ کوئی انڈسٹریل ایریا تھا-بہت دور اونچی عمارتیں دکھائی دیتی تھیں-ڈرائیور بونٹ کھول کر چیک کرنے لگ گیا تو وہ سر سیٹ سے ٹکائے، آنکھں موندے انتظآر کرنے لگی-
بی بی!تھوڑی دیر بعد اس کی کھڑکی کا شیشہ بجا-
اس نے چونک کے آنکھیں کھولیں-باہرڈرائیور کھڑا تھا-
کیا ہوا؟ اس نے شیشہ نیچے کیا-
انجن گرم ہوگیا ہے،میں کہیں سے پانی لے کر آتا ہوں،آپ اندر سے سارے دروازے لاک کر لیں،مجھے شاید تھوڑی دیر لگ جائے-
ہوں ٹھیک ہے جاؤ- اس نے شیشہ چڑھایا،
سارے لاک بند کیے اور چہرے پہ حجاب کا ایک پلو گرا کے آنکھیں پھر سے بند کر لیں، ادھیڑ عمر ڈرائیور چھے سات برسوں سے ان کے ہاں ملازمت کر رہا تھا،اور خاصا شریف النفس انسان تھا سو وہ مطمئن تھی-
وہ گرمیوں کی دوپہر تھی-تھوڑی ہی دیر میں گاڑی حبس زدہ ہوگئی-گھٹن اور حبس اتنا شدید تھا کہ اس نے شیشہ کھول دیا- ذرا سی ہوا اندر آئی مگر گاڑی کے ساکن ہونے کی وجہ سے ماحول پہلے سے زیادہ گرم ہوگیا-
وہ تھوڑی ہی دیر میں پسینہ پسینہ ہوگئی-بے اختیار سیٹ پر تہہ کر کے رکھا دوپٹی اٹیا اور اس سے ہوا جھلنے لگی-گرمی اتنی شدید تھی کہ اسے لگا وہ بھٹی میں جل رہی ہے-
کافی دیر گزر گئی مگر ڈرائیور کا کوئی نامو نشان نہ تھا-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: