Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 23

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 23

–**–**–

 

کافی دیر گزر گئی مگر ڈرائیور کا کوئی نا م و نشان نہ تھا-
بے اختیار وہ سورہ طلاق کی تیسری آیت آخر سے پڑھنے لگی-جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے راستہ بنا ہی دیتا ہے-
ڈیڑھ گھنٹے سے اوپر ہونے کو آیا تھا،وہ گرمی سے نڈھال، پسینے میں شرابور کتنی ہی دیر سے دعائں کر رہی تھی-مگر جانے کیوں آج کوئی راستہ نہیں کھل رہا تھا- پھر جب سورج سر پہ پہنچ گیا اور باہر سے آتی دھوپ و گرمی میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو اس نے گھبرا کر شیشے بند کر دئیے-
اور پھر سے وہی ہوا،گھٹن زدہ اور حبس زدہ بند گاڑی جیسے ڈبہ ہو یا قبر ۔۔۔۔۔ یا سمندر میں تیرتی کسی مچھلی کا پیٹ!
مچھلی کا پیٹ؟اس نے حیرت سے دہرایا-یہ میرے دل میں کیسے خیال آیا کہ یہ مچھلی کا پیٹ ہے؟وہ الجھی اور پھر سے اسے وہ کلب کی عورتین یاد آئیں اور ان کا وہ گھمنڈی رویہ!اس کے خیال کی رو بھٹکنے لگی-پتا نہیں وہ کیوں اس رب کی بات سننا نہیں چاہتی تھیں جس کے ہاتھ میں ان کی سانسیں ہیں،اگر وہ چاہیں تو ان منکرین کی سانسیں روک دے،مگر وہ ایسا نہیں کرتا-
“کیوں؟اس نے خود سے سوال کیا-اس کی آواز بند شیشوں سے ٹکرا کر پلٹ ائی-
باہر فضا صاف دکھائی دے رہی تھی-دور سے جھلکتی اونچی عمارتیں،ان کے اوپر آسمان۔جہاں سے پرندے اڑتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے، یہ عمارتیں یہ آسمان زمین یہ اڑتے پرندے ،یہ زمین کو روندتے ہوئے چلتے متکبر لوگ ،وہ سب زندہ تھے-ان کی سانسیں اپنے انکار کے باوجود نہیں رکتی تھیں-
کیوں؟
کیونکہ ان کی سانسیں انکو ملی مہلت کی علامت ہے-محمل بی بی!کسی کے گناہ کتنے ہی شدید ہوں، اگر سانس باقی ہے تو امید ہے شاید کہ وہ لوٹ آئیں-وہ رب تو ان نافرمانوں سے مایوس نہیں ہوا،پھر تم کیوں ہوئیں؟کوئی اس کے اندر بولا تھا-
وہ جیسے سناٹے میں اگئی-
کتنی جلدی وہ نہ ماننے والوں سے مایوس ہوگئی؟
“ان پہ کڑھنے لگی؟پھر کیوں وہ کسی کی ہٹ دھرمی دیکھ کر یہ فرض کر بیٹھی کہ وہ کبھی بدل نہیں سکتیں کیوں اس نے مایوس ہوکر بستی چھوڑ دی-
اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے-بے اختیار اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے-
نہیں کوئی الہ تیرے سوا،پاک ہے تو بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں-
ندامت کے آنسو اس کے گال پہ لڑھک رہے تھے-اسے بستی نہیں چھوڑنی چاہیئے تھی-اگر کچھ لوگ قرآن نہیں سننا چاہتے تو کہیں تو ھوگا جو سننا چاہے گا-خود وہ کیا تھی؟قرآن کو اس روز چھت پر کھلتے ہی بدکنے والی،آج کدھر تھی!صرف اس سیاہ فام لڑکی کی ذرا سی کوشش ذرا سے تجسس کو بھڑکانے والے عمل سے وہ کسی نہ کسی طرح آآج ادھر پہنچ گئی تھی- کہ اللہ اس سے بات کرتا تھا،پھر اپنی پارسائی پہ غرور اور دوسرے کی تحقیر کیسی؟
اس کے آنسو ابھی بہہ رہے تھے کہ ڈرائیور سامنے آتا دکھائی دیا-اس کے دونوں ہاتھوں میں پانی کی بوتلیں تھیں-
اور جو اللہ سے ڈرتا ہے،اللہ اس کے لیے راستہ نکال ہی دیتا ہے-
بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا تھا-اسے لگا اس کی توبہ شاید قبول ہوگئی تھی-کبھی کبھی اسے لگتا تھا ایمان اور تقوی بھی سانپ سیڑھی کے کھیل کی طرح ہوتا ہے۔ایک صحیح قدم کسی معراج پہ پہنچا دیتا ہے تو دوسرا غلط قدم گہری کھائی میں،اس نے بے ساختہ سوچا تھا-
گاڑی گھر کے سامنے رکی،اور ڈرائیور نے ہارن بجایا-چوکیدار گیٹ کھول ہی رہا تھا جب اس کی نظر ساتھ والے بنگلے پر پڑی-
تم جاؤ میں آتی ہون-وہ سبک رفتاری سے باہر نکلی-
بریگیڈئیر صاحب کا چوکیدار وہی گیٹ ہی کھڑا تھا-اس نے فورا بیگ کھنگالا-
سنو یہ اپنے صاحب کو دے دینا-اور چند پمفلٹس نکال کے اس کی طرف بڑھائے-ان سے کہنا یہ امانت ہے چاہیں تو پڑھ لیں، کوئی دباؤ نہیں، مگر میں واپس ضرور لینے آؤں گی، پکڑ لو نا۔-متذبذب کھڑے چوکیدار کو پمفلٹس زنردستی تھمائے، اور واپس گھر کی جانب ہو لی-
کوئی تو ہوگا جو اسے سننا چاہے گا-آج نہیں – کل نہیں مگر کبھی تو وہ ان پمفلٹس کو کھولیں گے-
٭٭٭٭٭
کاریڈور میں لگا سافٹ بورڈ آج کچھ زیادہ ہی چمک رہا تھا یا شاید وہ اس کیلی گرافی کے کناروں پہ لگی افشاں کی چمک تھی-وہ سافٹ بورڈ کے وسط میں آویزاں تھی-وہ آہستہ آہستہ چلی ہوئی دیوار کے قریب آئی-کیلی گرافی بہت خوبصورت تھی-اس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر کہے گئے الفاظ رقم تھے-وہ گردن اٹھائے ان الفاط کو پڑھنے لگی-
“عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ بھی روتے ہیں؟آپ نے فرمایا اے ابن عوف،یہ رحمت اور شفقت ہے-اور آپ پھر سے رو پڑے اور فرمایا-
بے شک انکھ آنسو بہاتی ہے-اور دل غمگین ہے-لیکن ہم زبان سے وہی بات نکالیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو-اے ابراہیم بے شک ہم تیری جدائی پہ بہت غم زدہ ہیں-
وہ مسحور سی اسی طرح گردن اونچی اٹھائے بار بار الفاظ پڑھتی گئی-کچھ تھا ان میں جو اسے بار بار کھینچتا تھا-وہ وہاں سے جا ہی نہ پا رہی تھی-جانے کے لیے الفاظ اٹھاتی مگر وہ الفاظ اسے روک دیتے اور واقعی پھر سے رک جاتی-
جب تفسیر کی کلاس کا وقت ہونے لگا وہ بمشکل خود کو وہاں سے کھینچ لائی-قرآن کھولتے ہوئے نظر درمیاں کے کسی صفحے پر پڑی-
ہر نفس موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے-
وہ صفحے پیچھے پلٹنے لگی-انگلی سے صفحے پلتتے ہوئے ایک جگہ اور یونہی نظر پھسلی-
آج تم ایک موت نہ مانگو، بلکہ آج تم کئی موتیں مانگو،-
وہ سر جھٹک کر اپنے سبق پہ آئی-
آج کی پہلی ایت ہی یہی تھی-
اے لوگو جو ایمان لائے ہو،جب تم میں سے کسی ایک پر موت حاضر ہوجائے-
اوہو، مجھے کیا ہوگیا ہے؟وہ بے بسی سے مسکرا کر رہ گئی-آج تو ساری موت کی آیتیں پڑھ رہی ہوں،کہیں میں مرنے تو نہیں والی؟اف محمل فضول مت سوچو اور سبق پہ توجہ دو-
وہ سر جھتک کر نوٹس لینے لگی-موت کی وصیت کے متعلق آیات پڑھی جا رہی تھیں-
اسے یاد آیا، ابھی اس نے ایک حدیث بھی کچھ ایسی ہی پڑھی تھی-
اچانک لکھتے لکھتے اس کا قلم پھسل گیا-وہ رک گئی اور پھر آہستہ سے سر اٹھایا-
کیا کوئی مرنے والا ہے؟اس کا دل زور سے دھڑکا تھا-وہ جو قرآن میں پڑھتی تھی اس کے ساتھ وہ پیش آجاتا تھا،یا آنے والا ہوتا تھا-کبھی ماضی ، کبھی حال، اور کبھی مستقبل-کوئی لفظ بے معنی بے مقصد اس کی آنکھوں سے نہیں گزرتا تھا- پھر آج وہ کیوں ایک ہی طرح کی آیت پڑھی جا رہی تھی-کیا کوئی مرنے والا ہے؟کیا کوئی اسے چھوڑ کر جانے والا ہے؟کیا اسے قرآن ذہنی طور پر تیار کر رہا ہے؟اسے صبر کرنے کو کہہ رہا ہے،مگر کیوں ؟ کیا ہونے والا ہے؟
وہ بے چینی سے قرآن کے صفحے آگے پلتنے لگی-
اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-
ایک سطر پڑھ کر اس نے ڈھیر سارے صفحے پلٹے-
صبر کرنے والے اپنا صلہ۔۔۔
پورا پڑھے بغیر اس نے آخر سے قرآن کھولا-
اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہو-
اور پھر وہ صفحے تیز تیز پلٹتی ایک نظر سے سب گزارتی جا رہی تھی-
اور کوئی نہیں جانتا وہ کونسی زمین پر مرے گا-
محمل کا دم گھٹنے لگا تھا-بے اختیار گھبرا کر اس نے قرآن بند کیا-اسے پسینہ آرہا تھا-دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-کچھ ہونے والا تھا-کیا وہ برداشت کر پائے گی؟شاید نہیں اس میں اتنا صبر نہیں ہے-وہ کچھ نہ برداشت کر پائے گی-کبھی بھی نہیں-اس نے وحشت سے ادھر ادھر دیکھا-
میڈم مصباح کا لیکچر جاری تھا-لڑکیاں سر جھکائے نوٹس لے رہیں تھیں-کوئی اس کی طرف متوجہ نہ تھا-اس نے ذرا سی گردن اوپر کو اٹھائی-اوپر چھت تھی- چھت کے پار آسمان تھا-وہاں کوئی اس کی طرف ضرور متوجہ تھا مگر وحشت اتنی تھی کہ دعا بھی نہ مانگ سکی- تب ہی آیا اماں اسے دروازے میں نظر آئیں-ان کے ہاتھ میں ایک چت تھی-وہ میڈم مصباح کے پاس گئیں اور چٹ ان کی طرف بڑھا دی-میڈم نے لیکچر روک دیا اور چٹ تھامی-
محمل بنا پلک جھپکے ان کو دیکھ رہی تھی-
میڈم مصباح نے چٹ پڑھ کر سر اٹھایا،ایک نگاہ پوری کلاس پہ ڈالی، پھر چہرہ مائیک کے قریب کیا-
محمل ابراہیم پلیز ادھر آجائیں-
اور اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے سکے گی-وہ جان گئی تھی -کوئی مرنے والا نہیں تھا-اب کسی کو نہیں مرنا تھا-اس کا نام پکارا جا رہا تھا اور اس کی ایک ہی وجہ تھی-
جسے مرنا تھا ، وہ مر چکا تھا-کہیں کوئی اس کا پیارا وپر چکا تھا-
وہ نیم جاں قدموں سے اٹھی اور میدم کی طرف بڑھی-
آنکھ آنسو بہاتی ہے-
دل غمگین ہے-
مگر ہم زبان سے وہی کہیں گے جس پہ ہمارا رب راضی ہو-
اے ابراہیم- ۔۔۔۔۔۔ بے شک ہم تیری جدائی پہ بہت غمزدہ ہیں-
صدیوں پہلے کسی کے کہے گئے الفاظ کی باز گشت اسے سارے ہال میں سنائی دے رہی تھی-باقی ساری آوازیں بند ہوگئی تھیں-اس کے کان بند ہوگئے تھے- زبان بند ہوگئی تھی-
بس وہ ایک آواز اس کے ذہن میں گونج رہی تھی-
آنکھ آنسو بہاتی ہے-
دل غمگین ہوتا ہے-
دل غمگین ہوتا ہے-
دل غمگین ہوتا ہے-
وہ بمشکل میڈم مصباح کے سامنے کھڑی ہوئی-
جی میڈم؟
آپ کا ڈرئیور آپ کو لینے آیا ہے، ایمرجنسی ہے،آپ کو گھر جانا۔۔۔
مگر وہ پوری بات سنے بغیر ہی سیڑھیوں کی طرف بھاگی-ننگے پاؤں زینے پھلانگتی وہ تیزی سے اوپر آئی تھی-جوتوں کا ریک ایک طرف رکھا تھا،مگر محمل کو اس وقت جوتوں کا ہوش نہ تھا-وہ سنگ مر مر کے فرش پر ننگے پاؤں دورتی جا رہی تھی-
غفران چچا کی اکارڈ سامنے کھڑی تھی-ڈرائیور دروازہ کھولے منتظر کھڑا تھا،اس کا دل ڈوب کر ابھرا-
بی بی آپ ۔۔۔۔۔۔۔
پلیز خاموش رہو- وہ بمشکل ضبط کرتے اندر بیٹھی-اور جلدی چلو-
اس کا دل یوں دھڑک رہا تھا گویا ابھی سینہ پھاڑ کر باہر آجائے گا-
آغآ ہاؤس کا مین گیٹ پورا کھلا تھا،باہر گاریوں کی قطار لگی تھی- ڈرائیو وے پہ لوگوں کا جم غفیر اکٹھا تھا-
گاڑی ابھی گیٹ کے باہر سڑک پہ ہی تھ کہ وہ دروازہ کھول کر باہر بھاگی-ننگے پاؤں تارکول کی سڑک پہ جلنے لگے،مگر اس وقت جلن کی پرواہ کسے تھی،
اس نے رش میں گھرےآغا جان کو دیکھا،غفران چچا کو دیکھا،حسن کو دیکھا، وہ سب اس کی طرف بڑھے تھے،مگر وہ اندر کی طرف لپک رہی تھی-لوگوں کو ادھر ادھر ہٹاتی وہ ان کی آوازوں تک پہنچنا چاہتی تھی- جو لان سے آرہی تھیں-عورتوں کے بین ، رونے آہ و بکا کی آوازیں-
لوگ ہٹ کر اس سفید یونیفارن اور گلابی اسکارف والی لڑکی کو راستہ دینے لگے تھے-وہ بھاگتی ہوئی لان تک ائی اور پھر گھاس کے دہانے پہ بے اختیار رک گئی-
لان میں عورتوں کا ایک ہجوم اکٹھا تھا-درمیاں میں چارپائی رکھی تھی،اس پہ کوئی سفید چادر اوڑھے لیتا تھا- چار پائی کے چاروں طرف عورتیں رو رہی تھیں-ان کے چہرے گڈ مد سے ہو رہے تھے-ایک فضہ چچی تھیں،اور ہاں ناعمہ چچی بھی تھیں، اور وہ سینے پہ دو ہتھڑ مار کر روتی رضیہ پھپھو تھیں،اور وہ اونچی آواز میں بین کرتی تائی مہتاب تھیں-سب تو ادھر موجود تھے-
پھر کون تھا اس چارپائی پہ؟کون۔۔۔۔۔۔۔ کون تھا وہ؟
اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی،وہاں سارا خاندان اکٹھا تھا بس ایک چہرہ نہ تھا-
اماں! اس کے لب پھڑ پھڑائے-
اس نے انہیں پکارنے کے لیے لب کھولے،مگر آواز نے گویا ساتھ چھور دیا-وہ وحشت سے ادھر ادھر دیکھنے لگی، شاید اس کی ماں کسی کونے میں بیٹھی ہو،مگر وہ کہیں نہ تھیں-اس کی ماں کہیں نہ تھی-
محمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل- وہ عورتیں اسے پکار رہی تھیں-اٹھ اٹھ کر اسے گلے سے لگا رہی تھیں،کسی نے راستہ بنا دیا ،تو کوئی میت کے پاس سے ہٹ گیا،کوئی اسے ہاتھ سے پکڑ کر چار پائی کے قریب لے آیا،کسی نے شانوں پہ زور دے کے اسے بٹھایا،کسی نے میت کے چہرے سے چادر ہٹا دی-کون کیا کر رہا ہے اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا،ساری آوازیں آنا بند ہوگئیں،اردگرد کی عورتوں کے لب ہل رہے تھے،مگر وہ سن نہ پا رہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں،رو رہی ہیں یا ہنس رہی ہیں، وہ تو بس یک ٹک بنا پلک جھپکے اس زرد چہرے کو دیکھ رہی تھی جو چار پائی پہ آنکھیں موندے لیٹا تھا-نتھنوں میں روئی ڈالی گئی تھی-اور چہرے کے گرد سفید پٹی تھی-وہ چہرہ واقعی اماں سے بہت ملتا تھا-بالکل جیسے اماں کا چہرہ ہو اور شاید۔۔۔۔۔۔۔ شاید وہ اماں کا چہرہ ہی تھا-
اسے بس ایک پل لگا تھا تھا یقین آنے میں اور پھر اس نے چاہا کہ وہ بھی دھاڑیں مار کر رونے لگے،نوحہ کرے بین کرے، زور زور سے چلائے،مگر وہ رحمت العالمین کے کہے الفاظ۔۔۔۔۔۔۔
مگر ہم زبان سے وہی کہیں گے جس پہ ہمارا رب راضی ہو-
اور اس کے لب کھلے رہ گئے،آواز حلق میں ہی دم تور گئی-زبان ہلنے سے انکاری ہوگئی-
اس کا شدت سے دل چاہا کہ اپنا سر پیٹے،سینے پہ دو ہتھڑ مار کر بین کرے-دوپٹہ پھار ڈالے اور اتنا چیخ چیخ کہ روئے کہ آسمان ہل جائے،اور پھر اس نے ہاتھ اٹھائے بھی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوحہ کرنے والی اگر توبہ کیے بغیر مر گئی تو اس کے لیے تارکول کے کپڑے اور اگ کے شعلے کی قمیض ہوگی-
جو گریبان چاک کرے اور رخساروں پر طمانچے مارے اور بین کرے ہم میں سے نہیں-
یہ ہدایت تو ابد تک کے لیے تھی-
اس کے ہاتھ اٹھنے سے انکاری ہوگئے-آنکھ سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن لب خاموش تھے-
اسے رلاؤ ، اسے کہو اونچا رو لے، ورنہ پاگل ہو جائے گی-
اس سے کہو دل ہلکا کر لے-
بہت سی عورتیں اس کے قریب زور زور سے کہہ رہی تھیں-
میری بچی! تائی مہتاب نے روتے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا-وہ اسی طرح ساکت سی بیٹھی ماں کی میت کو دیکھ رہی تھی- آنکھوں سے آنسو گر کر گردن پہ لڑھک رہے تھے-اس کا پورا چہرہ بھیگ گیا تھا،مگر زبان۔۔۔۔۔۔ زبان نہین ہلتی تھی-
مسرت تو ٹھیک ٹھاک تھی پھر کیسے۔۔۔۔
بس صبح کہنے لگی سینے میں درد ہے، ہم فورا ہسپتال لے گئے مگر-
ادھوری ادھوری سی آوازیں اس کے اردگرد سے آرہی تھیں،مگر اسے سنائی نہ دے رہی تھی،اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا-اسے لگا اسے چکر آرہے ہیں،عجیب سی گھٹن تھی،اس کا سانس بند ہونے لگا تھا-
وہ ایک دم اٹھی اور عورتوں کو ہٹاتی اندر بھاگ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کسی نے دروازے پہ ہلکی سی دستک دی- ایک دفعہ، دو دفعہ ، پھر تیسری دفعہ،اس نے گھٹنوں پہ رکھا سر ہولے سے اٹھایا-دروازہ بج رہا تھا-وہ آہستہ سے اتھی،بیڈ سے اتری، سلیپر پاؤں میں ڈالے اور کنڈی کھولی،باہر فضہ چچی کھڑی تھیں-
محمل بیٹا تمہارے آغا جان تمہیں بلا رہے ہیں-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: