Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 24

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 24

–**–**–

 

محمل بیٹا تمہارے آغا جان تمہیں بلا رہے ہیں-
آتی ہوں-اس نے ہولے سے کہا تو فضہ چچی پلٹ گئیں-وہ کچھ دیر یونہی ادھر کھڑی رہی،پھر باہر آگئی-
سیڑھیوں کے قریب لگے ہوئے آئینے کے پاس سے گزرتی ہوئی وہ پل بھر کو رکی،اس کا عکس بھی رک کر اسے دیکھ رہا تھا-
ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہ سفید ململ کا دوپتہ سر پہ لیے وہ کمزور یژمردہ سی محمل ہی تھی؟ہاں شاید وہ ہی تھی-سفید دوپٹے کے ہالے میں اس کا چہرہ کملایا ہوا لگ رہا تھا-آنکھوں کے گرد گہرے حلقے تھے،وہ سر جھتک کر آگے بڑھ گئی-
آغا جان کے کمرے میں سب چچا اور چچیاں موجود تھیں، وسیم بھی ایک طرف کھڑا تھا-
آؤ محمل! اسے آتے دیکھ کر آغا جان نے سامنے صوفے کی طرف اشارہ کیا- آج اماں کو گزرے چوتھا دن تھا، اور گھر والوں کا رویہ پہلے کی نسبت اب کافی نرم تھا-
وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گئی-
اس صبح جب مسرت کی ڈیتھ ہوئی ، اس نے درد شروع ہوتے ہی یہ کچھ چیزیں وصیت کی تھیں تمہارے لیے-( اسے لگ رہا تھا وہ اب مزید نہیں جی پائے گی)ہم نے سوچا کہ تمہیں دے دی جائیں-انہوں نے ایک طرف رکھا ڈبہ اٹھایا-محمل نے سر اٹھا کر ڈبے کو دیکھا-یہ ڈبہ اماں کے زیورات کا تھا-وہ ہمیشہ اسے تالا لگا کر الماری کے نچلے حصے میں رکھا کرتی تھیں-
یہ ایک ڈبہ تھا اس کی یہ چابی ہے،تم خود دیکھ لو اور ساتھ یہ کچھ رقم تھی،اس کی جمع پونجی، اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں تمہارے اکاؤنٹ میں جمع کروا دوں مگر میں نے سوچا یہ تمہارے حوالے ہی کر دوں، تم بہتر فیصلہ کر سکتی ہو-
انہوں نے ایک پھولا ہوا لفافہ ڈبے کے اوپر رکھا-محمل نے آہستہ سے لفافہ اٹھایا اور کھول کر دیکھا-اندر ہزار ہزار کے کئی نوٹ تھے-شاید اماں نے اس کے جہیز کے لیے رکھے تھے-اس کا دل بھر ایا-اس نے لفافہ ایک طرف رکھا اور چابی سے کاسنی ڈبے کا تالا کھولا-
اندر کچھ زیورات تھے-خالص سونے کے جڑاؤ زیورات،اس نے ڈبہ بند کردیا-معلوم نہیں اماں نے کب سے سنبھال کر رکھے تھے-
وسیم سمیت تمام لوگ اس وصیت کے وقت موجود تھے،تم سب سے پوچھ سکتی ہو میں نے تمہارا حق پورا ادا کر دیا ہے، یا نہیں-
اس نے بھیگی آنکھیں اٹھائیں،سامنے صوفوں اور کرسیوں پہ بیٹھے تمام نفوس کے چہرے مطمئن تھے،مطمئن اور بے نیاز-
چیزیں تو آپ نے ادا کر دیں ہیں آغآ بھائی،مگر مسرت کی وصیت ؟ دفعتا فضہ چچی نے اضطراب سے پہلو بدلا-
اوہو فضہ ! ابھی اس کی ماں کو گزرے دن ہی کتنے ہوئے ہیں-تائی مہتاب نے نگاہوں سے تنبیہہ کی-
مگر بھائی مسرت نے کہا تھا جلد از جلد-
رہنے دو فضہ !ہم اس کا فیصلہ محمل پہ چھوڑ چکے ہیں-اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا-
مگر ایٹ لیسٹ اسے بتا تو دیں-
ابھی اس کا غم ہلکا تو ہونے دو پھر۔۔۔۔۔
ان کی دبی دبی سرگوشیاں اسے بے چین کر گئیں-
تائی اماں! کیا بات ہے؟اماں نے کچھ اور بھی کہا تھا؟
سب ایک دم خاموش سے ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے-
محمل میں تمہیں کچھ دن تک بتاؤں گی، ابھی اس قؔصے کو چھوڑ دو-
پلیز تائی اماں مجھے بھی بتائیں-
مگر تمہارا غم ابھی۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں مجھے بتائیں-اس نے بے چینی سے بات کاٹی-
تائی مہتاب نے ایک نظر سب کو دیکھا،پھر قدرے ہچکچا کر گویا ہوئیں،
بات یہ ہے کہ مسرت نے مرنے سے پہلے وسیم کو بلوا کر سب کے سامنے تمہارے آغا جان سے کہا کہ اگر وہ بچ نا سکی تو جلد از اجلد محمل کو وسیم کی دلہن بنا کر سہارا دیں،اس کو بے آسرا نہ چھوڑیں،اور تمہارےآغآ جان نے وعدہ کر لیا کہ وہ ایسا ہی کریں گے،
وہ اپنی جگہ سن سی ہوگئی،زمین جیسے قدموں تلے سے سرکنے لگی تھی- اور آسمان سر سے ہٹنے لگا تھا-
اماں نے یہ سب کہا؟
ہاں یہ سب لوگ جو یہاں ہیں اس بات کے گواہ ہیں،تم کسی سے بھی پوچھ لو-
وہ ایک دم بالکل چپ سی ہوگئی-عجیب سی بات تھی اسے یقین نہ ارہا تھا-
لیکن محمل! ہم نے یہ فیصلہ تم پہ چھوڑ دیا ہے،تم چاہو تو یہ شادی کرو چاہو تو نہ کرو،ہم نے اس لیے تمہیں آگاہ کر دیا کیونکہ یہہ تمہاری ماں کی آخری خواہش تھی-
یہ تم پر منحصر ہے تم اس کی بات رکھتی ہو کہ نہیں-ہم میں سے کوئی تم پر زور نہیں ڈالے گا-
وہ سر جھکائے کاسنی ڈبے کو دیکھ رہی تھی-ذہن میں جیسے جھکڑ چل رہے تھے-
مگر یہ ڈبہ اور یہ لفافہ ثبوت تھا کہ یہ وصیت واقعی اس کی ماں نے کی تھی-
اگر تمہین منظور ہے تو ہم اگلے جمعے نکاح رکھ لیتے ہیں کہ مسرت کی خواہش تھی یہ کام جلد از جلد کیا جائے،اگر نہیں تو کوئی بات نہیں، تم جو چاہو گی وہی ہوگا-تائی مہتاب اتنا کہہ کر خاموش ہوگئیں-
اس نے ہولے سے سر اٹھایا-سنہری آنکھیں پھر سے بھیگ چکی تھیں-کمرے میں موجود تمام نفوس دم سادھے اسے دیکھ رہے تھے-
میں اپنی ماں کی بات کا مان رکھوں گی-آپ جب کہیں گی میں شادی کے لیے تیار ہوں-
پھر وہ رکی نہیں،ڈبہ اور لفافہ اٹھا کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ کچن میں کرسی پہ بیٹھی تھی،ہاتھ میں صبح و شام کی دعاؤں اور اذکار کی کتاب تھی،اور وہ منہمک سی پڑھ کر دعا مانگ رہی تھی-
ہم نے صبح کی فطرت اسلام پہ
اور کلمہ اخلاص پہ
اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پہ
اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پہ
جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے”-
محمل۔! کسی نے زور سے کچن کا دروازہ کھولا-
اس نے چونک کر سر اٹھایا-سامیہ عجلت میں اندر داخل ہوئی تھی-
تم سے کوئی ملنے آیا ہے ڈرائنگ روم میں ہے جاؤ مل لو-
کون ہے؟
وہی پولیس والا! وہ کہہ کر پلٹ گئی-
ہمایوں آیا ہے؟وہ کتنی ہی دیر کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھی رہی،پھر آہستہ سے اسے بند کیا،سلیب پہ رکھا، لباس کی شکنیں درست کیں اور سیاہ دوپٹہ ٹھیک سے سر پہ لے کر باہر آگئی-
ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز ارہی تھی جیسے دو لوگ گفتگو میں مشغول ہوں-یہ ہمایوں سے کون باتین کر رہا ہے؟وہ الجھتی ہوئی اندر آئی ڈرائنگ روم اور ڈائننگ ہال کے درمیان سفید جالی دار پردہ تھا-وہ پردے کے پیچھے ذرا دیر کو رکی-
سامنے بڑے صوفے پہ ہمایوں بیٹھا تھا-اس کے بالکل مقابل سنگل صوفے پے آرزو بیٹھی تھی-ٹانگ پہ ٹانگ رکھے،آدھی پنڈلی تک ٹراؤزر پہنے وہ اپنے مخصوص بے نیاز حلیے میں تھی-کٹے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ ہنس ہنس کر ہمایوں سے کچھ کہہ رہی تھی-
جانے کیوں اسے یہ اچھا نہ لگا-اس نے ہاتھ سے پردہ سمیٹا اور اندر قدم رکھا-
وہ جیسے اسے دیکھ کر کچھ کہتے کہتے رکا اور پھر بے اختیار کھڑا ہوگیا-بلیو شرٹ اور گرے پینٹ میں ملبوس وہ ہمیشہ کی طرح بہت شاندار لگ رہا تھا-آغا جان اسے پسند نہیں کرتے تھے،مگر پھر بھی اسے اندر آنے دیا گیا-شاید اس لیے کہ اب وہ ان کی بہو بننے والی تھی- اور اس کو وہ ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے-
السلام علیکم-وہ آہستہ سے کہہ کر سامنے صوفے پہ بیٹھی گئی-آرزو کے چہرے پہ ذرا سی ناگواری ابھری-، جسے ہمایوں نے نہیں دیکھا تھا،وہ پوری طرح محمل کی طرف متوجہ تھا-
مجھے مسز ابراہیم کی ڈیتھ کا پتہ بہت دیر بعد چلا ، میں کراچی گیا ہوا تھا، آج ہی آیا ہوں،فرشتے نے جیسے ہی بتایا میں آگیا،آئی ایم ویری سوری محمل! واپس صوفے پہ بیٹھتے ہوئے وہ بہت تاسف سے کہہ رہا تھا-
محمل نے جواب دینے سے پہلے ایک نظر آرزو کو دیکھا-
آرزو باجی !آپ جا سکتی ہیں، اب میں آگئی ہوں-
ہاں شیور- آرزو اٹھ کھڑی ہوئی-مگر جاتے ہوئے ان کو شادی کا کارڈ دے دینا-استہزائیہ مسکرا کر وہ گویا جتا گئی تھی-محمل کے سینے میں ہوک سی اٹھی-
کس کی شادی وہ چونکا تھا-
محمل کی شادی وسیم کے ساتھ آپ کو نہیں پتا اے ایس پی صاحب؟اسی فرائیڈے ان کا نکاح ہے،آپ ضرور آئیے گا میں آپ کا کارڈ نکلوا دیتی ہوں، زراٹھہریے ! وہ خوشدلی سے کہتی باہر نکل گئی-
کتنے ہی لمحے خاموشی کی نظر ہوگئے-
یہ کیا کہہ رہی تھی؟وہ بولا تو اس کی آواز میں حیرت تھی- بے پناہ حیرت-
ٹھیک کہہ رہی تھی-وہ سر جھکائے ناخن کھرچتی رہی
٭٭٭٭٭
مگر کیوں محمل؟
آپ غالبا تعزیت کے لیے آئے تھے-
پہلے میری بات کا جواب دو،تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟
میں آپ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں-اس نے تلملا کر سر اٹھایا-یہ میری ماں کی آخری خواہش تھی-مرتے وقت انہوں نے یہی وصیت کی تھی-
تمہیں کیسے پتہ تم تو ان کی ڈیتھ کے وقت مدرسے میں تھی،
ہاں مگر انہوں نے اغا جان سے کہا تھا،سب لوگ وہاں موجود تھے سب گواہ ہیں۔۔۔
تم! وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا-اس کا بس نہین چل رہا تھا،وہ کیا کر ڈالے-تم انتہائی بے وقوف اور احمق ہو-
میں اپنی ماں کی بات کا مان رکھنا چاہتی ہوں،اس میں کیا حماقت ہے؟وہ چڑ گئی-
نادان لڑکی!تمہیں یہ لوگ بے وقوف بنا رہے ہیں،استحصال کر رہے ہیں-
کرنے دیں آپ کو کیا ہے؟وہ پیر پٹخ کر کھڑی ہوگئی-آپ میرے کون ہو جو مجھ سےپوچھ گچھ کر رہے ہو؟
میں جو بھی ہوں مگر تمہارا دشمن نہیں ہوں-وہ بھی ساتھ ہی کھڑا ہوا،اس کی آواز میں بے بسی تھی-کبھی یہی بات اس نے بہت اکھڑ لہجے میں بھی کہی تھی-جب وہ مدرسے کے باہر اسے لینے آیا تھا، اس رات کی صبح جو اس کی زندگی اجار گئی تھی-
اگر آپ کے دل میں میری ماں کا ذرا سا بھی احترام ہے تو مجھے وہ کرنے دیں جو میری ماں چاہتی تھی- ماں باپ کبھی اولاد کا برا نہیں چاہتے-اسی میں کوئی بہتری ہوگی، آپ جا سکتے ہیں-وہ ایک طرف ہٹ کر کھڑی ہوگئی-
اسی پل پردہ ہٹا کر آرزو نمودار ہوئی-
آپ کا کارڈ،آائیے گا ضرور-اس نے مسکرا کر کارڈ ہمایوں کی طرف بڑھایا-ہمایوں نے ایک قہر آلود نظر محمل پہ ڈالی، اور دوسری محمل پہ اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا-
نو پرابلم- آرزو شانے اچکا کر کارڈ لیے واپس مڑگئی-
اماں ! وہ کراہ کر صوفے پہ گر سی گئی-یہ اماں اسے کس منجھدھار میں چھوڑ کے چلی گئی تھیں؟کیوں کیا انہوں نے یہ فیصلہ؟کیوں اماں؟دونوں ہاتھوں میں سر جھکائے وہ سوچتی رہ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سارے گھر میں دبا دبا سا شادی کا شور اٹھ چکا تھا،گو کہ ابھی ؟صرف نکاح تھا،مگر مہتاب تائی بھرپور تیاریاں کر رہی تھیں-شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فواد جلد ہی گھر واپس آرہا تھا-اس خبر سے محمل پہ تو کوئی اثر نہ ہوا،البتہ مہتاب تائی اپنی اندرونی خوشی چھپائے سب کچھ محمل پہ ڈال گئی تھیں،
سوچ رہیں ہیں تھوڑا سا گہما گہمی والا فنکشن رکھیں، تاکہ محمل کا دل بہل جائے،ورنہ سچ پوچھو تو مسرت کے جانے کے بعد وہ بجھ سی گئی ہے-اب ہمارا دل نہیں چاہتا کہ شور ہنگامہ ہو۔مگر بس محمل اچھا محسوس کرے ، اس لیے-
وہ کسی نہ کسی کو ہر وقت فون پہ وضاحتیں دے رہی ہوتی تھیں-
محمل چپ چاپ کچن میں کام نمٹا تی رہتی،جیسے وہ خاموش ماتم کر رہی تھی،نمازیں، تسبیحات ، دعائیں،وہ سب کر رہی تھی،ہاں مدرسے وہ ابھی نہیں جا رہی تھ،وہ صرف اور صرف ماتم چاہتی تھی-مسر ت کا یا شاید اپنا،وہ نہیں جانتی تھی-
فون کی گھنٹی بجی تو وہ جو رومال سے میز صاف کر رہی تھ،آہستہ سے رومال چھوڑ کے اٹھی-
اسٹینڈ پہ رکھا فون مسلسل بجے جا رہا تھا-وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی قریب آئی اور رسیور اٹھایا-
السلام علیکم!
وعلیکم السلام، محمل؟نسوانی آواز رسیور میں گونجی،وہ لمحے بھر میں ہی پہچان گئی-
فرشتے کیسی ہیں آپ؟
میں ٹھیک ہوں،ہمایوں نے مجھے بتایا ہے کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرشتے قدرے پریشانی سے کہہ رہی تھی کہ اس نے تیزی سے بات کاٹی-
ہمایوں ہر بات آپ کو کیوں جا کے بتاتے ہیں؟ان سے کہیں ایسا مت کیا کریں-
مگر محمل تم اس طرح سے کیسے؟
آپ لوگ مجھے احمق کیوں سمجھتے ہیں؟کیوں میرے لیے پریشان ہورہے ہیں؟میری ماں میرے لیے کچھ غلط نہیں سوچ سکتی،پلیز مجھے میری زندگی کے فیصلے خود کرنے دیں-
محمل اب میں تمہیں کیا کہوں!اچھا ٹھیک ہے جو کرنا ، سوچ سمجھ کے کرنا، اوکے،چلو اب ہمایوں سے بات کرو-
ارے نہیں-وہ روکتی رہ گئی،مگر فرشتے نے فون اسے پکڑا دیا تھا-
” اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے اور تمہارے وہ فیری ٹیل سسرال والے اجازت دیں تو کیا میں اور فرشتے تمہاری شادی کے فنکشن میں آ سکتے ہیں؟
اونہوں ہمایوں! پیچھے سے فرشتے کی تنبیہی آواز ابھری-
ہاں شیور کیوں نہیں-جمعہ کو رات آٹھ بجے فنکشن ہے-ضرور آئیے گا اللہ حافط-
اس نے کھٹ سے فون بند کردیا-غصہ اتنا ابل رہا تھا کہ فرشتے سے بھی بات کرنے کو جی نہیں چاہا تھا-
فون کی گھنٹی پھر سے بجنے لگی،مگر وہ سر جھٹک کر میز کی طرف بڑھ گئی جہاں جھاڑ پونچھ کا رومال اس کا انتظار کر رہا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیوٹیشن نے کام دار دوپٹہ اس کے سر پہ رکھا۔اور پھر اسے ایک ہاتھ سے پکڑے،وہ جھک کر ڈریسنگ ٹیبل سے پنیں اٹھانے لگی-محمل بت بنی اسٹول پہ بیٹھی سامنے آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی،بیوٹیشن اس کے پیچھے کھڑی اس کا دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی-
وہ کام دار شلوار قمیض گہرے سرخ رنگ کی تھی- جس پہ سلور سلمہ ستارے کا کام تھا-دوپٹے کے بارڈر پہ بھی چوڑی پٹی کی صورت میں سلور کام کیا گیا تھا-ساتھ میں نازک سا وائٹ گولڈ اور روبی کا نیکلس تھا اور ایک خوبصورت قیمتی سا ٹیکہ جس میں بڑا سا سرخ روبی جڑا تھا،اس کے ماتھے پہ سجا تھا-جانے تائی نے کب یہ سب بنوایا تھا،وہ بھی چپ چاپ ہر چیز پہنتی گئی-
گھر میں ہونے والے ہنگاموں سے کہیں نہیں لگتا تھا کہ مسرت کو مرے ابھی بیس دن بھی نہیں ہوئے،
مگر وہ شکوہ کس سے کرتی؟مسرت کی زندگی میں بھی ان کی اتنی اہمیت کہاں تھی کہ مرنے کے بعد کوئی انہیں یاد رکھتا؟اور سنا تھا آج تو فواد بھی گھر آگیا تھا،پھر کاہے کا ماتم؟
وہ اپنے کمرے کی بجائے تائی کے کمرے میں تھی، تاکہ وہ ٹھیک سے تیار ہو جائے-اسے تیار کرنے کے لیے تائی نے وہ ماہر بیوٹیشن بلوائی تھی جو کافی دیر سے اس پہ لگی ہوئی تھی-
دقعتا باہر لاؤنج سے چند آوازیں گونجیں-وہ ذرا سی چونکی، کیا فواد آگیا تھا؟مگر نہیں، یہ آواز تو ۔۔۔۔۔۔
سنو،یہ دروازہ تھورا سا کھول دو-بے چینی سے اس نے بیوٹیشن سے کہا،تو وہ سر ہلاتی آگے بڑھی اور لاؤنج میں کھلنے والا دروازہ آدھا کھول دیا-
سامنے لاؤنج کا منظر آدھا نظر آرہا تھا اور اس کا شک درست تھا-
تم ۔۔۔۔۔۔۔ تم ادھر کیوں آئی ہو؟تائی مہتاب کی تلملاتی بلند آواز اندر تک سنائی دے رہی تھی-
فکر مت کریں میں رنگ میں بھنگ ڈالنے نہیں آئی،محمل کی شادی ہے میرا آنا فرض بنتا تھا- وہ اطمینان سے کہتی باہر صوفے پہ بیتھ گئی تھی-ادھ کھلے دروازے سے وہ محمل کو صاف نظر آرہی تھی-
سیاہ عبایا کے اوپر سیاہ حجاب ک تنگ ہالے کو چہرے کے گرد لپیٹے وہ اب بے نیازی سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی اطراف کا جائزہ لے رہی تھی-
محمل نے لمحے بھر کو محسوس کرنا چاہا کہ اسے فرشتے کے آنے کی خوشی ہوئی ہے-،مگر اسے اپنے محسوسات بہت جامد لگے تھے،برف کی طرح ٹھنڈے-
اندر باہر خاموشی ہی خاموشی تھی،فرشتے آئے یا فواد اب اسے کوئی فرق نہ پڑتا تھا-
مگر ہم تمہارا اس گھر سے کوئی رشتہ تسلیم نہیں کرتے-
نہ کریں مجھے پرواہ نہیں ہے-وہ اب ہاتھ میں پکڑے موبائل کے بٹن دباتی اس کی طرف یوں متوجہ تھی جیسے سامنے غصے سے بل کھاتی تائی مہتاب کی کوئی اہمیت نہ ہو-فرشتے کے پاس موبائل نہیں تھا،وہ شاید ہمایوں کا موبائل لے کر آئی تھی-
دیکھو لڑکی تمہارا محمل سے کوئی تعلق نہیں ہے،بہتر ہے کہ تم چلی جاؤ اس سے پہلے کہ میں گارڈ کو بلواؤں-
پھر آپ گارذ کو بلوا لیں،کیونکہ میں تو ایسے جانے والی نہیں ہوں، سوری-
مسز کریم! میں موبائل پہ بزی ہوں،آپ دیکھ رہی ہیں،مجھے ڈسٹرب مت کریں،اور پلیز محمل کو بلا دیں-
وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی مو بائل پہ چہرہ جھکائے ہوئے مصروف تھی،محمل کے لبوں کو ہلکی سی مسکراہٹ چھو گئی-فرشتے بدتمیز یا بد لحاظ نہ تھ، بلکہ ازلی ٹھنڈے اور باوقار انداز میں تائی مہتاب کو بہت آرام سے جواب دے رہی تھی-البتہ محمل بدتمیزی کر جاتی تھی،اسے لگتا تھا وہ کبھی بھی فرشتے کی طرح پر اعتماد اور باوقار نہیں بن سکے گی-
محمل تم سے نہیں ملے گی، تم جا سکتی ہو-
آغآ جان کی آواز پہ موبائل پہ مصروف فرشتے نے چونک کر سر اٹھایا-وہ سامنے سے چلے آرہے تھے-کلف لگے شلوار قمیض میں ملبوس کمر پہ ہاتھ باندھے وہ غیض و غضب کی تصویر بنے ہوئے تھے-
السلام علیکم چچا! وہ موبائل رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی-چہرے پر ازلی اعتماد اور سکون تھا-
فرشتے تم یہاں سے جا سکتی ہو-
آپ مجھے نکال سکتے ہیں؟ وہ ذرا سا مسکرائی-آپ کو لگتا ہے کریم چچا کہ آپ مجھے نکال سکتے ہیں؟
میں نے کہا یہاں سے جاو-وہ ایک دم غصے سے ڈھارے تھے-
میں بھی اتنا ہی اونچا چیخ سکتی ہوں،مگر میں ایسا نہیں کروں گی،میں یہاں یہ کرنے نہیں آئی،میں صرف محمل سے ملنے آئی ہوں-وہ سینے پہ ہاتھ باندھے پر اعتماد سی ان کے سامنے کھڑی تھی-
لاؤنج میں سب اکٹھے ہونے لگے تھے-لڑکیاں ایک طرف لاعلم سی کھڑیں اشاروں میں ایک دوسرے سے پوچھ رہیں تھیں،حسن بھی شور سن کے سیڑھیوں سے نیچے اتر آیا تھا- لاؤنج کے بیچوں بیچ آغآ جان کے سامنے کھڑی وہ دراز قد سیاہ عبایا والی لڑکی کون تھی-؟
بہت سی آنکھوں میں سوال تھا-
تمہارا محمل سے کوئی تعلق نہیں ہے،وہ تم سے نہیں ملے گی سنا تم نے؟
آپ یہی بات محمل کوبلوا کر پوچھ لیں نا کریم چچا! کہ وہ مجھ سے یہ ملے گی یا نہیں-
ہم تمہیں نہیں جانتے کہ تم کون ہو،کہاں سے اٹھ کر اگئی ہو- تم فورا نکل جاؤ، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا-
آغآ جان! یہ کون ہیں؟حسن الجھا ہو آگے بڑھا-
تم بیچ میں مت بولو-انہوں نے پلٹ کر اتنی بری طرح سے جھڑکا کہ حسن خائف ہوگیا-
ہٹو-بیوٹیشن کا ہاتھ ہٹا کر وہ اٹھی اور کامدار دوپٹہ سنبھالتی ننگے پاؤں باہر لپکی-
آپ مجھ سے ملنے ائی ہیں؟لاؤنج کے سرے پہ وہ رک کر بولی تو سب نو چونک کر اس کی طرف دیکھا -فرشتے ذرا سا مسکرائی-
کریم چچا کہہ رہے تھے کہ تم مجھ سے نہیں ملو گی؟
محمل! تم اندر جاؤ-تائی مہتاب پریشانی سے آگے بڑھیں-
آغآ جان! تائی اماں! فرشتے کو میں نے خود شادی میں انوائیٹ کیا ہے،آپ گھر آئے مہمان کو کیسے نکال سکتے ہیں؟
تم نے؟ تائی مہتاب بھونچکی رہ گئی-تم جانتی ہو اسے؟
ہاں میں انہیں جانتی ہوں-
اور یہ کیسے نہیں جانتی ہونگی،ان کے اس عاشق کی عزیزہ ہیں نا یہ۔۔۔
کوئی تمسخرانہ انداز میں کہتا ہوا سیڑھیوں سے اتر رہا تھا- محمل نے چونک کر گردن اٹھائی-وہ فواد تھا-ہشاش بشاش چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ لیے ،وہ ان کے سامنے آکھڑا ہوا تھا-
یہ کون ہیں؟فرشتے نے قدرے ناگواری سے اسے دیکھ کر محمل کو مخاطب کیا-
یہ اس ملک میں قانون کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے،جن کو قانون زیادہ دیر تک حراست میں نہ رکھ سکتا،،،
ایک جتاتی نگاہ فواد پہ ڈال کر اس نے چہرہ موڑ لیا تھا-آپ اندر آجائیں فرشتے! بیٹھ کر بات کرتے ہیں-
ہرگز نہیں-تائی تیزی سے اگے بڑھیں-
محمل! یہ لڑکی فراڈ ہے، یہ صرف ابراہیم کی جائیداد کے پیچھے ہے-
وہ تو آپ بھی ہین مہتاب آنتی!اور شاید اسی لیے آپ محمل کو بہو بنا رہی ہیں؟
اس نے فرشتے کو کسی سے اتنا درشتی مین بات کرتے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا،مگر اسے حیرت نہیں ہوئی تھی-
یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے، تم بیچ میں مت بولو- میں بیچ میں بولوں گی،محمل کے لیے میں ضرور بولوں گی! وہ پلٹی اور محمل کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کیا-
محمل! مجھے بتاؤ ان لوگوں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے؟یہ تمہیں کیوں مجبور کر رہے ہیں اس شادی کے لیے؟
مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا یہ میرا اپنا فیصلہ ہے،میں اس پہ خوش ہوں-
فرشتے ایک دم چپ ہوگئی-اس کے شانوں پہ اس کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے-
سن لیا تم نے؟اب جاؤ- آغآ جان استہزائیہ سر جھٹکا اور دروازے کی طرف اشارہ کیا، مگر وہ ان کی طرف متوجہ نہ ہوئی-
محمل تم نے اتنا بڑا فیصلہ اکیلے کیسے کر لیا؟وہ دکھ سے اسے دیکھ رہی تھی- جب کسی کو اپنا مخلص دوست کہا جاتا ہے اور اپنے دوست کی محبت اور خلوص کے دعوے کیے جاتے ہیں تو اتنے بڑے فیصلوں سے قبل اسے مطلع بھی کیا جاتا ہے-
میں آپ کو بتانے ہی۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنی بات نہیں کر رہی-
پھر ؟ کون؟ وہ چونکی- کیا ہمایوں؟اس کا نام اس نے آہستہ سے لیا تھا-
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مزیڈ اس کے قریب آئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے دھیرے سے بولی -میں اس مصحف کی بات کر رہی ہوں جس کے اتارنے والے سے تم نے سمعنا واطعنا(ہم نے سنا اور ہم نےاطاعت کی) کا وعدہ کیا تھا-کیا تم نے اسے بتایا؟
فرشتے!وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی-
“اللہ کو سب پتا ہے میں کیا بتاؤں؟
کیا تمہیں دن میں 5 بار اسے اپنی اطاعت کا بتانا نہیں پڑتا؟پھر اپنے فیصلوں میں تم اسے کیسے بھول سکتی ہو؟
محمل ٹکر ٹکر اس کا چہرہ دیکھنے لگی-اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ فرشتے کیا کہہ رہی ہے،کیا سمجھنا چاہ رہی ہے۔۔۔
مگر میں نے نماز تسبیح کچھ نہیں چھوڑا،میں ساری نمازیں پڑھتی ہوں-وہ دونوں بہت مدھم سرگوشی میں بات کر رہی تھیں-
لیکن کیا تم نے اس کی سنی؟اس نے کچھ تو کہا ہوگا تمہارے فیصلے پر-فرشتے نے ابھی تک اسے کندھوں سے تھام رکھا تھا اور وہ یک ٹک اسے تکے جا رہی تھی-
محمل! تم اس کی بات سنتی تو سہی، اس سے پوچھتی تو سہی!تم قرآن کھولو اور سورہ مائدہ کا ترجمہ دیکھو-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: