Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 25

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 25

–**–**–

 

تم قرآن کھولو اور سورہ مائدہ کا ترجمہ دیکھو-اس کی آواز میں تاسف گھل گیا-محمل نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹائے اسے لگا اس سے غلطی ہو گئی ہے-
میں ابھی آتی ہوں آپ جائیے گا نہیں-
وہ کام دار دوپٹے کا پلو انگلیوں سے تھامے ننگے پاؤں بھاگتی ہوئی کمرے کی طرف گئی-
محترمہ آپ جا سکتی ہیں-فواد نے دروازے کی طرف اشارہ کیا-
یہ میرے باپ کا گھر ہے ، اس میں ٹھہرنے کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، وہ رکھائی سے کہتی صوفے پہ بیٹھی اور پھر سے موبائل اٹھا لیا-
فواد اور آغا جان نے ایک دوسرے کو دیکھا،نگاہوں میں ۔۔۔۔۔ اشاروں کا تبادلہ کیا اور آغا جان بھی گہری سانس لیتے ہوئے صوفے پہ بیٹھ گئے-تقریب کے شروع ہونے میں دو ڈھائی گھنتے باقی تھے-مہمانوں آمد کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا-
محمل دوڑتے قدموں سے اپنے کمرے میں آئی تھی-دروازے کی چٹخنی چڑھا کر شیلف کی طرف لپکی-
سب سے اوپر والے خانے میں اس کا سفید جلد والا مصحف رکھا تھا-اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے اوپر رکھا،مصحف اٹھایا اور آہستہ سے اسے دونوں ہاتھوں میں تھامے اپنے چہرے کے سامنے لائی،اسے سب یاد رہا تھا،صرف یہ بھول گیا تھا کیوں؟
وہ اسے مضبوطی سے پکڑے بیڈ پہ آبیٹھی اور کور کھولا-
وہ سورہ مائدہ کی 106 آیت تھی-
اے ایمان والوں جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو-
چند الفاظ پڑھ کر ہی اس کادل بری طرح دھڑکا -اس نے زور سے پلکیں جھپکیں،کیا وہ سب کچھ واقعی ادھر لکھا تھا؟وصیت ۔۔۔ موت کا وقت، وصیت “مسرت نے مرتے وقت وصیت کی تھی۔۔۔۔
تمہارا رشتہ وسیم سے۔۔۔ بہت سی آوازیں ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگیں-وہ سر جھٹک کر پھر سے پڑھنے لگی-
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں دوصاحب عدل آدمی گواہ لے لیے جائیں پھر اگر
(ان کی بتائی ہوئی وصیت میں)
کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو
( مسجد میں روک لیا جائے اور وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو
(ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں)اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں،اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہگاروں میں شمار ہوجائیں گے-
وہ ساکت سی ان الفاظ کو دیکھ رہی تھی-اس کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں-قرآن کو تھامے دونوں ہاتھ بے جان سے ہوگئے تھے-کیا وہ سب واقعی یہاں لکھا تھا؟مگر ۔۔۔ مگر کیسے؟وصیت ۔۔۔ دو افراد کا قسم کھا کر گواہی۔۔۔ رشتہ دار یہ سب تو ۔۔۔۔ یہ سب تو اس کے ساتھ ہورہا تھا-
وہ پلک تک نہ جھپک پارہی تھی-اس کا دل جیسے رعب سے بھر گیا تھا-رعب سے اور خوف سے-
یکایک اسے لگا اس کے ہاتھ کپکپا رہے ہیں،اسے ٹھنڈے پسینے آرہے ہیں،وہ بہت بھاری کتاب تھی،
بہت بھاری، بہت وزنی وہ جس کا بوجھ پہاڑ بھی نہ اٹھا سکتے ہوں،وہ کیسے اٹھا سکتی تھی؟اسے لگا اس کی ہمت جواب دے جائے گی-وہ اب مزید یہ بوجھ نہیں اٹھا پائے گی-وہ عام کتاب نہ تھی،اللہ کی کتاب تھی۔۔۔ اسے اللہ نے اس کے لیے خاص ، خاص اس کے لیے اتارا تھا-ہر لفظ ایک پیغام تھا-ہر سطر ایک اشارہ تھی-
اس نے اتنی زندگی ضائع کردی-اس نے یہ پیغام کبھی دیکھا ہی نہیں-
محمل تم نے اتنی عمر بے کار گزار دی-یہ کتاب غلاف میں لپیٹ کر بہت اونچی سجانے کے لیے تو نہ تھی- یہ تو پڑھنے کے لیے تھی-
ہر دفعہ کی طرح آج بھی پھر اس کتاب نے اسے بہت حیران کیا تھا-سوچنا سمجھنا تو دور کی بات وہ تو متحیر سی ان الفاط کو تکے جا رہی تھی،یہ سب کیا تھا؟کیسے اس کتاب کو سب پتہ ہوتا تھا؟
کیونکہ یہ اللہ کی کتاب ہے نادان لڑکی! یہ اللہ کی بات ہے،اس کا پیغام ہے، خاص تمہارے لیے،تم لوگ نہ سننا چاہو تو یہ الگ بات ہے-کسی نے اس کے دل سے کہا تھا-
وہ کون تھا وہ نہ جانتی تھی ۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر سب نے چونک کر اسے دیکھا-وہ آہستہ سے چلی آرہی تھی-کام دار دوپٹے کا کنارہ ٹھوڑی کے قریب سے اس نے دو انگلیوں میں رکھا تھا-اس کے چہرے کی رنگت قدرے سفید پڑی ہوئی تھی یا شاید یہ کچھ اور تھا جو انہیں چونکا گیا تھا،وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی ان کے سامنے آکھڑی ہوئی-
آغا جان ! اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا-وہ اس کے اجنبی لہجے پہ چونک سے گئے-
ہاں بولو-
میری ماں کی وصیت کے وقت موجود لوگوں میں سے کون سے دو لوگ عصر کی نماز کے بعد اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر گواہی دیں گے کہ انہوں نے یہ وصیت کی تھی یا نہیں؟
پل بھر میں لاؤنج میں سکوت سا چھا گیا، فرشتے نے مسکراہٹ دبا کر سر نیچے کر لیا-
آغا جان حیران سے کھڑے ہوئے-
کیا مطلب؟
آپ کو پتہ ہے سورہ مائدہ میں لکھا ہے نماز کے بعد آپ میں سے دو لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر گواہی دینی پڑے گی-
کیا بکواس ہے؟ وہ بھڑک اٹھے- تمہیں ہماری بات کا اعتبار نہیں؟
نہیں ہے!
تم! وہ غصہ ضبط کرتے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے-
تب ہی نگاہ فرشتے پر پڑی تو اس نے فورا شانے اچکا دیے-
میں نے تو کچھ نہیں کیا کریم چچا!
تم سے تو میں بعد میں ۔۔۔۔
آپ لوگ گواہی دیں گے یا نہیں؟َ وہ ان کی با ت کاٹ کر زور سے بولی تھی-پھر چہرے کا رخ صوفوں پہ بیٹھے نفوس کی طرف موڑا-کون کون تھا اس وقت آپ میں سے ادھر؟کون دے گا گواہی؟کون اٹھائے گا قسم ۔ بولیے جواب دیجیے-
سب خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے-اسے اس کے سارے جواب مل گئے تھے-کاش وہ پہلے اس آیت کو پڑھ لیتی تو اتنا غلط فیصلہ نہ کرتی،صحیح کہتا ہے اللہ تعالی ہماری بہت سی مصیبتیں ہمارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوئی ہیں-
تو آپ لوگوں نے مجھ سے جھوٹ بولا،بہت بہتر مجھے اب کوئی شادی نہیں کرنی-اس نے ماتھے پہ جھولتا ٹیکہ ناوچ کر سامنے پھینکا-نازک سا ٹیکہ ایک آواز کے ساتھ میز پر گرا-
اب میرا فیصلہ بھی سن لو- آغا جان نے ایک گہری سانس لی-مگر پہلے تم لڑکی! انہوں نے حقارت سے فرشتے کو اشارہ کیا-مجھے تم یہاں سے چلتی نظر آؤ-
میرے باپ کا گھر ہے ، میں تو کہیں نہیں جاؤں گی-
ٹھیک ہے فواد-انہوں نے فواد کو اشارہ کیا-وہ سر ہلا کے آگے بڑھا اور صوفے پہ بیٹھی فرشتے کو ایک دم بازو سے کھینچا-
چھوڑو مجھے-وہ اس اچانک افتاد کے لیے تیار نہ تھی،بے اختیار چلا کر خود کو چھڑانے لگی،مگر وہ اسے بازو سے کھینچ کر گھسیٹتا ہوا باہر لے جانے لگا-اسی پل آغا جان محمل کی طرف بڑھے-
تو تم یہ شادی نہیں کروگی؟
ہاں ہرگز نہیں کروگی-میری بہن کو چھوڑ دو- وہ غصے سے فواد پہ جھپٹنا ہی چاہتی تھی جو فرشتے کو باہر لے کے جا رہا تھا،مگر اس سے پہلے ہی آغا جان نے اس کو بالوں سے پکڑ کے واپس کھینچا-
تو تم شادی نہیں کرو گی؟انہوں نے اس کے چہرے پہ تھپڑ مارا-وہ چکرا کر گری-
تمہیں لگتا ہے ہم پاگلوں کی طرح تمہاری منتیں کریں گے؟تمہارے آگے ہاتھ جوڑیں گے؟نہیں بی بی شادی تو تمہیں کرنی پڑے گی،ابھی اور اسی وقت- اسد نکاح خواں کو ابھی بلواؤ-میں بھی دیکھتا ہوں یہ کیسے شادی نہیں کرتی-
میں نہیں کروں گی سنا آپ نے-وہ روتے ہوئے بولی،وہ مسلسل اسے تھپڑوں اور مکوں سے مار رہے تھے-
میری بہن کو چھوڑ دو- خود کو چھڑاتی فرشتے محمل کو پٹتے دیکھ کر لمحے بھر کو سکتہ میں رہ گئی تھی،اور پھر دوسرے ہی پل اس نے زور سے فواد کو دھکا دینا چاہا۔ مگر وہ مرد تھا،وہ اس کو دھکیل نہ سکتی تھی،وہ اس کو بازو سے پکڑتے ہوئے دروازے سے باہر نکال رہا تھا-
فواد اسے چھوڑ دو-یکدم حسن نے فواد کو پوری قوت کے ساتھ دھکیلا تھا-فواد اس حملے کے لیے تیار نہ تھا، ایک دم بوکھلا کر پیچھے کو ہٹا -اس کی گرفت ڈھیلی پڑی، اور فرشتے بازو چھراتی محمل کی طرف بھاگی، جسے آغا جان ابھی تک مار رہے تھے-فواد نے غصے سے حسن کو دیکھامگر اس سے پہلے اسے کچھ سخت کہتا فضہ نے بازو سے پکڑ کر حسن کو ایک طرف کر دیا-میری بہن کو چھوڑیں ہٹیں- وہ چیختی ہوئی آغآاجان کا ہاتھ روکنے لگی،مگر ساتھ ہی انہوں نے ایک زور دار طمانچہ اس کے منہ پہ بھی مارا-فرشتے تیورا کر ایک طرف گری- منہ میز کے کونے سے لگا -ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا-لمحے بھر کو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا،اگلے ہی پل وہ خود کو سنبھالتی ہوئی تیزی سے اٹھی-
محمل اپنے بازو چہرے پہ رکھے ، روتی ہوئی اپنا کمزور سا دفاع کر رہی تھی-اب کی بار فرشتے نے آغا جان کا ہاتھ نہیں روکا،بلکہ محمل کو پیچھے سے پکڑ کے کھینچا-
محمل گٹھڑی بنی چند قدم پیچھے کھینچتی گئی-اس کا دوپٹہ سر سے اتر کر پیچھے ڈھلک گیا تھا،بالوں کی لٹیں جوڑے سے نکل کر چہرے پہ بکھر گئیں-
اس سے پہلے کہ آغآ جان اپنے اور محمل کے درمیاں چند قدم کا فاصلہ عبور کرتے فرشتے ان کے اور محمل کے درمیان آکھڑی ہوئی-
ہاتھ مت لگائیے میری بہن کو-اپنے پیچھے گٹھڑی بنی بیٹھی محمل کے سامنے وہ اپنے دونوں بازو پھیلائے چیخ پڑی تھی-آپ لوگ اس حد تک گر جائیں گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی-کیا بگاڑا ہے اس نے آپ کا؟
سامنے سے ہٹ جاؤ ورنہ تم آج میرے ہاتھوں سے ختم ہو جاو گی! وہ غصے سے ایک قدم آگے بڑھے ہی تھےکہ فواد نے ان کا بازو تھام لیا-
آرام سے آغآ جان!آپ کا بی پی شوٹکر جائے گا-ان کو سہارا دے کر وہ نرمی سے بولا تھا-محمل ابھی تک گھٹنوں پہ سر رکھے رو رہی تھی، جبکہ فرشتے اس کے آگے بازو پھیلائے کھڑی تھی-فواد چاہتا تو اسے پھر پکڑ لیتا، مگر جانے کیوں وہ آغآ جان کو سہارا دئیے وہی کھڑا تھا-اس کے طرف نہیں بڑھا-
میں اب محمل کو ادھر نہیں رہنے دوں گی- اٹھو محمل! اپنا سامان پیک کرو، اب تم میرے ساتھ رہو گی- چلو-
اس نے محمل کو اٹھانا چاہا مگر وہ ایسے ہی گری روتی جا رہی تھی-
آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ اسے لے گئیں تو ہم لوگوں کو کہیں گے کہ محمل کی نام نہاد بہن اسے لے گئی اور بس؟ محمل کو بازو سے پکڑ کر اٹھاتے اس کے ہاتھ ایک ثانیے کو تھم گئے اس نے قدرے الجھ کے سر اٹھایا اور فواد کو دیکھا-چہرے پہ چھایا غصہ ایک دم الجھن میں ڈھلا تھا-
کیا مطلب؟
مطلب محمل وہ لڑکی ہے نا جو ایک بار پہلے بھی ایک رات باہر گزار چکی ہے؟ تو اس کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ یہ نکاح سے پہلے کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے تو فورا یقین کر لیا جائے گا نا؟
اس کے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ تھی-
نہیں- محمل نے تڑپ کے آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اٹھایا –
تمہارے نہیں کہنے سے یہ بدنامی ٹل تو نہیں جائے گی ڈیر کزن!تم اپنی بہن کے ساتھ گئیں تو ہم تمہیں پورے خاندان میں بدنام کر دین گے-اور پھر یہ تمہیں کتنا عرصہ سنبھالے گی؟اس کے بعد تم کہاں جاؤ گی؟
محمل پھٹی پھٹی نگاہوں سے فواد کا چہرہ دیکھ رہی تھی- خود فرشتے بھی سن رہ گئی-
اگر تم نے اس گھر سے قدم بھی باہر نکالا تو تم بدنام ہوجاؤ گی-پورا خاندان تھوکے گا تم پر کہ ماں کے مرتے ہی کھلی چھوٹ۔۔۔۔۔
نہیں ، نہیں۔۔۔ میں نہیں جاؤں گی- وہ خوف زدہ سی گھٹی گھٹی آواز میں بمشکل بول پائی-
یعنی تم وسیم سے شادی کرنے پہ تیار ہو-ویری گڈ کزن!
وہ اسی عیاری سے مسکرایا- اسد چچا یقینا نکاح خواں کو لاتے ہی ہوں گے-وسیم کدھر ہے کوئی اسے بھی بلائے-
ہرگز نہیں-فرشتے نے غصے میں تڑپ کے اسے دیکھا-محمل کی شادی تمہارے بھائی سے ہرگز ہونے نہیں دوں گی-تم لوگ یہ سب صرف اس کی جائیداد ہتھیانے کے لیے کر رہے ہو- میں جانتی ہوں تم شادی کے بعد اس سے جائیداد اپنے نام لکھواؤ گے، اسے طلاق دلا کر گھر سے باہر نکال دو گے-
ہان بالکل ہم یہی کریں گے-وہ بہت سکون سے بولا-گو کہ یہ بات فرشتے نے خود کہی تھی مگر اسے فواد سے اعتراف کی توقع نہیں تھی-وہ اپنی جگہ ششدر رہ گئی-
تو تم واقعی۔۔۔۔
ہاں- ہم اس لیے تو محمل کی شادی وسیم سے کروانا چاہتے ہیں-
فواد! آغآ جان نے تنبیہیی ــــــ نظروں سے اسے ٹوکنا چاہا-
مجھے بات کرنے دیں آغا جان! ہاں تو محمل ! ہم اسی لیے تمہاری شادی وسیم سے کروا رہے ہیں-تمہیں منظور ہے نا؟کیونکہ فرشتے کے ساتھ تو تم جا نہیں سکتیں-اب تمہیں شادی تو کرنا ہی ہوگی-
نہیں ۔ نہیں- وہ بے اختیار وحشت سے چلائی – میں نہیں کروگی شادی-
محمل تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے-
تمہیں شادی کرنا پڑے گی- وہ بغور اس کی انکھوں میں دیکھ کر کہتا آہستہ آہستہ اس کے چاروں طرف سے گھیر رہا تھا-
کاش میں تمہیں بد دعا دے سکتی آغآافواد! مگر میں عاملین قرآن میں سے ہوں، ایسا نہیں کروں گی،کیا تمہیں اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟َ فرشتے نے تنفر سے اسے دیکھا-
میں نے کچھ غلط تھوڑی کہا ہے-
تم غلط کر رہے ہو ایک یتیم لڑکی کے ساتھ-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: