Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 26

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 26

–**–**–

 

میں نے کچھ غلط تھوڑی کہا ہے-
تم غلط کر رہے ہو ایک یتیم لڑکی کے ساتھ-
یہ تو ہم کافی سالوں سے کر رہے ہیں-یقین کیجیے ہم پر کبھی کوئی طوفان ناح نہیں آیا-
تمہیں اس طوفان کی خبر تب ہوگی جب وہ تمہارے سر پر پہنچ چکا ہوگا- اللہ سے ڈرو- تمہیں اس یتیم پر ظلم کرکے کیا ملے گا؟
تو آپ اس ظلم کو اپنے حق میں کیوں نہیں بدل لیتیں؟
کیا مطلب؟ وہ چونکی-
وہ جواب دیے بنا اس پر ایک نطر ڈالتا محمل کی طرف متوجہ ہوا جو زمین پر بیٹھی سر اٹھائے اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی-
ایک صورت میں میں تمہاری شادی محمل سے روک دوں گا، اور چاہو تو تم اپنی بہن کے ساتھ چلی جاؤ-ہم خاندان والوں کو کچھ نہیں بتایں گے-پھر فرشتے جہاں چاہے تمہاری شادی کروا دے، ہم کیا پورا خاندان شریک ہوگا-کیا تم وہ صورت اختیار کرنا چاہو گی؟
محمل کے چہرے پہ بے یقینی اتر آئی- وہ بنا پلک جھپکے فواد کا چہرہ دیکھنے لگی –
سدرہ میری بیڈ سائیڈ ٹیبل پر کاغذ پڑا ہے وہ لے کر آؤ اور ساتھ پین بھی-اس نے مہرین اور ندا کے ساتھ دیوار سے لگی خاموش کھری سدرہ کو اشارہ کیا جو اس کی بات سن کر سر ہلاتے ہوئے تیزی سے سیڑھیوں کی طرف لپکی-
تم کیا کہنا چاہتے ہو؟خطرے کا الارم دور کہیں بجتا فرشتے کو سنائی دے رہا تھا-
یہی کہ محمل کی شادی رک سکتی ہے وہ تمہارے ساتھ جا سکتی ہے اگر ۔۔۔۔۔ اس نے سیڑھیوں سے اترتے سدرہ کو دیکھا جو بھاگتی ہوئی آئی اور اسے کاغذ قلم پکڑا دیا-
اگر تم دونوں یہ پیپر سائن کردو –
یہ کیا ہے فرشتے کا لہجہ محتاط تھا-
مجھے معلوم تھا کہ آپ نکاح کے وقت ڈرامہ کرنے ضرور آئیں گی اسی لیے ہم نے پہلے سے انتظام کر رکھا تھا-آپ کو کیا لگتا ہے ہمیں علم نہیں تھا کہ آپ محمل سے مل کے اسے کیا پٹیاں پڑھا رہی ہیں-ہمیں سب پتہ تھا محترمہ!یہ بھی کہ محمل کب کب آپ کے کزن سے ملتی رہی ہے-مگر اس وقت کے لیے ہم نے آنکھ بند کر رکھی-
آپ کی کیا شرط ہے وہ بات کریں-وہ سرد لہجے میں بولی-
یہ فرشتے ابراہیم اور محمل ابراہیم کااعلان دستبرداری ہے-اس گھر فیکٹری اور آغآ ابراہیم کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے یہ دونوں دستبرداری کا اعلان کرتی ہیں اور ہر چیز ہمارے حوالے کرتی ہیں-یہ کبھی بھی ہم سے کسی بھی موروثی ملکیت سے حصہ مانگنے نہیں آئیں گی اور آپ جانتی ہیں کہ بدلے میں ہم وسیم کی شادی محمل سے نہیں کریں گے-
آف کورس یہ آخری بات اس کاغذ میں نہیں لکھی گئی-
فرشتے کے چہر ےپہ پہلے الجھن ابھری پھر حیرت اور پھر واضح بے یقینی-
تم ۔ تم ہمیں ہمارے حق سے ہمارے گھر سے بے دخل کرنا چاہتے ہو؟
بالکل صحیح-
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو آغا فواد! تم ۔۔۔ اس کی بے یقینی اور تحیر غصے میں بدل گیا-
تم ہمیں ہمارے گھر سے بے دخل کیسے کر سکتے ہو؟یہ ہمارا گھر ہے- ہمارے باپ کا گھر ہے،اس پہ ہمارا حق ہے،ہمیں ضرورت ہے پیسوں کی،محمل کی پڑھائی اور پھر اس کی شادی کے لیے۔۔۔ ہمیں ان سب کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے-
یہ ہمارا درد سر نہیں ہے-تم یہ سائن کردو تو محمل کی جان وسیم سے چھوٹ جائے گی-
مگر ہم تمہیں اپنا حق کیوں دیں؟
کیونکہ ان سب پر میرے شوہر اور بیٹوں کا حق ہے-
تائی مہتاب چمک کر کہتی آگے بڑھیں-ابراہیم کی وفات کے وقت یہ بزنس دیوالیہ ہوچکا تھا-میرا شوہر دن رات محنت نہ کرتا تو یہ بزنس کبھی اسٹیبلش نہ ہوسکتا تھا-
اگر اتنے ہی محنتی تھے آپ کے شوہر اور بیٹے تو میرے ابا کی ڈیتھ کے وقت ب روزگار کیوں پھر رہے تھے؟اور تم ؟ وہ فواد کی طرف پلٹی- اور وارث تو اللہ نے بنائے ہیں ہم کیوں اپنا حق نہ لیں-
فرشتے بی بی! یہ پراپرٹی تو آپ کو چھوڑنا ہی پڑے گی-کچھ دیر میں مہمانوں کی آمد شروع ہوجائے گی-شادی والا گھر ہے،ذرا سی بات کا بتنگر بن جائے گا اور بدنامی کس کی ہوگی؟صرف محمل کی! اول تو وسیم سے شادی کرنی ہی پڑے گی،لیکن اگر آپ یونہی اڑی رہیں تو ٹھیک ہے ہم خاندان سے کہہ دیں گے کہ محمل کسی کے ساتھ بھاگ گئی-کس کا خاندان چھوٹے گا، کس کا میکا بدنامی کے باعث چھوٹے گا آپ فیصلہ کر سکتی ہیں-
وہ کہتے کہتے ذرا دیر کو رکا- وہ تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی-
آغا فواد تمہیں اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟
وہ ہولے سے مسکرا دیا-ہم کوئی غلط بات تھوڑی کر رہے ہیں؟اپنا حق ہی مانگ رہے ہیں-خیر دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ اور محمل اس پر سائن کریں اور اپنے حصے سے دستبردار ہو جائیں، ہم باعزت طریقے سے شادی کینسل کر دیں گے، آپ محمل کو اپنے ساتھ لے جائیے گا،آپ جس سے چاہیں جب چاہیں اس کا نکاح کرا دیں،ہم بھرپور شرکت کریں گے، بلکہ پورا خاندان شرکت کرے گا- یہ گھر محمل کا میکہ رہے گا، وہ جب چاہے ادھر آسکتی ہے ، مگر اس کی ملکیت میں آپ دونوں میں سے کسی کا حصہ نہیں ہوگا لیجیے!
اس نے کاغذ قلم اس کے سامنے کیے-کر دیجئیے سائن-
مگر فواد ۔۔۔۔ آغآ جان نے کچھ کہنا چاہا لیکن تائی مہتاب نے ان کا بازو تھام لیا-
اسے بات کرنے دیں وہ ٹھیک کہہ رہا ہے-
ہونہہ- فرشتے نے سر جھٹکا- آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں آپ کی اس بلیک میلنگ میں آجاؤں گی؟ آپ کو تو ۔۔۔۔
اس کی بات ابھی ادھوری تھی کہ اسے اپنے دائیں ہاتھ پر دباو محسوس ہوا- اس نے چونک کر دیکھا- محمل اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہونے کی کوشش کر رہی تھی-
اس کا کام دار دوپٹہ سر سے ڈھلک گیا تھا، بھوری لٹین گالوں کو چھو رہی تھیں-آنسوؤں نے کاجل دھو ڈالا تھا-وہ بدقت فرشتے کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی، اس کے انداز میں کچھ تھا کہ اس کا ماتھا ٹھنکا اور اس سے پہلے کہ فرشتے اس کو روک پاتی اس نے جھپٹ کر فواد کے ہاتھ سے کاغذ چھینا-
کدھر کرنے ہیں سائن؟بتاؤ مجھے! وہ ہذیانی کیفیت میں چلائی تھی-فواد ذرا سا مسکرایا اور اپنی انگلی کاغذ پہ ایک جگہ رکھی-
نہیں محمل! فرشتے کو جھٹکا لگا تھا-ہمارے پاس کئی راستے ہیں،ہمیں ان کی بلیک میلنگ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے-
مگر فرشتے مجھے ہے!میں اب تنگ آ چکی نہین چاہیئے مجھے کوئی جائیداد ، کوئی دولت- مجھے کچھ نہیں چاہیئے – لے لیں سب- وہ دھرا دھر سائن کرتی جا رہی تھی- آنسو اس کی آنکھوں سے برابر گر رہے تھے-
فرشتے ساکت سی اسے دیکھے گئی-اس نے تمام دستخط کر کے کاغذ اور قلم فواد کی طرف اچھال دیئے-
لے لو سب کچھ-تم لوگوں کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا- میں اب تم سے اپنا کوئی حق نہیں مانگوں گی- چھوڑتی ہوں میں اپنے سارے حقوق- وہ کہتے کہتے نڈھال سی صوفے پہ گر گئی اور گہری سانسیں لینے لگی-
وہ واقعی تھک چکی تھی ٹوٹ چکی تھی-
فواد نے کاغذ سیدھا کر کے دیکھا، پھر فاتحانہ مسکراہت کے ساتھ اردگر خاموش اور بے یقین بیٹھے حاضرین پہ ایک نگاہ ڈالی ، پھر فرشتے کی طرف پلٹا-
محمل نے دستخط کر دئیے اب آپ بھی کر دیں-
اس نے کاغذ قلم اس کی طرف بڑھایا مگر فرشتے نے اسے نہیں تھاما- وہ ابھی تک سکتے کے عالم میں محمل کو دیکھ رہی تھی-
دستخط کرو بی بی اور اسے لے جاؤ-تائی مہتاب نے آگے بڑھ کر اس کا شانہ ہلایا تو وہ چونکی، پھر ناگواری سے ان کا ہاتھ ہٹایا اور فواد کے بڑھتے ہاتھ کو دیکھا-
نہیں- تم محمل کو نفسیاتی طور پہ گھیر کر بے وقوف بنا سکتے ہو- یہ چھوٹی ہے، کم عقل ہے مگر فرشتے ایسی نہیں ہے-میں تمہاری بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گی-میں ہرگز سائن نہیں کروں گی اور میں کیوں کروں سائن؟ مجھے ضرورت ہے اپنے حصے کی، مجھے پی ایچ ڈی بھی کرنا ہے- مجھے باہر جانا ہے میں ۔۔۔۔
اس کی بات ادھوری رہ گئی-فواد نے کاغذ قلم میز پر پھینکا اور صوفے پر بیٹھی محمل کو گردن سے دبوچ کر اٹھایا اور اپنے سامنے ڈھال کی طرح رکھتے ہوئے جانے کہاں سے پستول نکال کر اس کی گردن پر رکھا-
اب بھی نہیں کرو گی تم سائن؟ وہ غرایا-
فرشتے سناٹے میں آگئی-
فواد نے بازو کے حلقے میں اس کی گردن دبوچ رکھی تھی-وہ شاک کے باعث اس کی آنکھیں ابل کر باہر آنے لگیں -بے اختیار وہ کھانسی-
اپنی بہن سے کہو شرافت سے سائن کردے ورنہ میں واقعی گولی چلا دوں گا اور تم جانتی ہو کہ میں قانون کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہوں-یہی کہا تھا نہ تم نے میرے بارے میں؟اس کے کان کے قریب منہ لے جا کر اس کے بظآہر سرگوشی میں کہا مگر سب کے کانوں تک اس کی سرگوشی پہنچ گئی-
سب کو گویا سانپ سونگھ گیا-حسن نے آگے بڑھنا چاہا مگر فضہ چچی نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا-
کیا کر رہے ہو۔اگر اس نے گولی چلا دی تو وہ مر جائے گی-کیا تم یہی چاہتی ہو؟انہوں نے بیٹے کو گھڑکا تو وہ بے بسی سے کھڑا رہ گیا-
بولو فرشتے بی بی تم سائن کروگی یا نہیں؟
اس نے پستول کی ٹھنڈی نال محمل کی گردن پر چبھوئی- وہ سسک کر رہ گئی-
بولو فرشتے وہ زور سے چیخا-
نہیں! وہ جیسے ہوش میں آئی-میں سائن نہیں کروں گی- اس کا لہجہ اٹل تھا-
میں تین تک گنوں گا فرشتے! اگر میں نے گولی چلا دی تو تمہاری بہن کبھی واپس نہیں ائے گی-
فرشتے پلیز محمل بلک پڑی-پلیز میری خاطر فرشتے! آج اپ اپنا حق چھوڑ دیں-میں وعدہ کرتی ہوں ، اگر ضرورت پڑی تو میں بھی اپ کے لیے اپنا حق چھوڑ دوں گی- آئی پرا مس-
نہیں! میں سائن نہیں کروں گی-
ٹھیک ہے میں تین تک گنوں گا-
فرشتے نے دیکھا اس کی انگلی ٹرائیگر پر مضبوط ہوئی اور واقعی گولی چلانے والا تھا-
ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لمحہ بھر کو اس کا دل کانپا- اگر گولی چلا دے تو محمل مر جائے گی پھر بھلے وہ ہمایون کو بھلا لے، کورٹ کچہری میں گواہیاں دیتی پھرے، کچھ بھی کر لے اس کی بہن واپس نہیں آئے گی-
دو ۔۔۔۔۔۔۔
بھلے فواد کو پھانسی ہوجائے اور وہ ساری جائیداد کی مالک بن بیٹھے،اس کی بہن واپس نہیں آئے گی-
تین۔۔۔۔۔۔۔۔!
رکو۔۔۔۔۔! میں سائن کردوں گی-وہ شکست خوردہ لہجے میں بولی”لیکن آپ کو محمل کی شادی اسی وقت وہاں کرنی ہوگی جہاں میں کہوں گی اور اور اس میں نہ صرف آپ سب بلکہ آپ کا پورا خاندان شریک ہوگا-محمل اسی گھر سے رخصت ہوگی-
منظور ہے-فواد جھٹ بولا تھا-محمل پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی،فرشتے کیا کہنا چاہ رہی ہے،وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی،پھر اس نے حسن کو دیکھا جو اسی طرح بے بس سا کھڑا تھا،فضہ نے سختی سے اس کا بازو تھام رکھا تھا-بے بس اور کمزور مرد-وہ جو اتنے دعوے کرتا تھا سب بے کار گئے تھے-
ٹھیک ہے پھر نکاح خواں کو بلوائیے،میں ہمایوؔں کو بلاتی ہوں-اس نے جھک کر میز پہ رکھا موبائل اٹھایا-
ہمایوں؟ ہمایوں داؤد؟فواد کو گویا کرنٹ لگا تھا-جی وہی-فرشتے تلخی سے مسکرا کر سیدھی ہوئی-بولیے اب آپ کو یہ معاہدہ منظور ہے؟
ہمایوں داؤد وہ ای ایس پی؟
وہ پولیس والا؟
نہیں ہرگز نہیں-بہت سی حیران غصیلی آوازیں ابھری تھیں جن میں سب سے بلند آغآ جان کی تھی-
وہ شخص اس گھر میں قدم نہیں رکھ سکتا جس نے میرے بیٹے کو جیل بھجوایا تھا،تمہیں دستخط نہیں کرنا تو نہ کرو مگر محمل کی شادی کبھی اس سے نہیں کروں گا-
میں آپ سے بات نہیں کر رہی کریم چا!میں یہ معاہدہ آغا فواد سے کر رہی ہوں،ان ہی کو بولنے دیجیئے نا-
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں آغا جان کوئی مسئلہ نہیں ہے-آپ بلائیے اس کو ہمیں قبول ہے-وہ سنبھل چکا تھا چہرے کی مسکراہٹ واپس آگئی تھی-
مگر فواد یہ کل کو مکر گئی تو؟آغا جان نے پریشانی سے اس کا کندھا پکڑ کر اپنی جانب کیا-
یہ نہیں مکریں گی،یہ ماشاءاللہ سے مسل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مان ہیں- یہ وعدے سے نہیں پھریں گی-مسلمان کو توڑ کر کہتے ہوئے اس نے استہزائیہ مسکراہٹ فرشتے کی جانب اچھالی-وہ لب بھینچے تنفر سے اسے دیکھتی رہی-
ٹھیک ہے- آپ بلائیے اپنے کزن کو-فنکشن تو آج ہونا ہی ہے-اسد اب تک نکاح خواں کا بندوبست کر چکا ہوگا-غفران چچا مصروف سے لہجے میں کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئے-ان کی جیسے جان چھوٹ گئی تھی-فضہ سے بھی اپنا اطمینان اور خوشی چھپانی مشکل ہورہی تھی-ان دونوں کو گویا اپنا بیٹا واپس مل گیا تھا،پھر بھی وہ حسن کا بازو مضبوطی سے تھامے کھڑی تھیں،مگر اب شاید وہ رسی تڑوا کے بھاگنے کے قابل نہ رہا تھا- اس کا تو آسرا ہی ختم ہوگیا تھا-
آؤ اندر چلو- فرشتے نے تھکے تھکے انداز میں محمل کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لیے اسکے کمرے کی طرف بڑھ گئی- سب گردن موڑ کر انہیں جاتا دیکھنے لگے تھے-پورے گھر میں عجیب سی خاموشی دور گئی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ سب کسی خواب کی سی کیفیت میں ہوا تھا-شاید وہ ایک حسین خواب ہی تھا جس کی تعبیر کی اسے بہت بھاری قیمت چکانی پڑی تھی-بہت سے خواب توڑنے پڑے تھے، مگر اسے اس وقت وہی صحیح لگا تھا-یہ نہ کرتی تو وہ لوگ اسے خاندان بھر میں بدنام کر دیتے-اس کے مرحوم ماں باپ کا نام اچھالا جاتا یا پھر سب سے بڑی وجہ وہ تھی جو فواد کو بھی معلوم تھی اور جس کو اس نے استعمال کیا تھا-محمل کی دکھتی رگ کہ اس کا خاندان اس کو عزت سے بیاہ دے-اسے دولت سے زیادہ اپنا مقام اور عزت چاہیئے تھی اور فواد نے اسی دکھتی رگ کو ایسے دبایا تھا کہ اس کا دل تڑپ اتھا تھا-وہ فیصلہ جذباتی تھا مگر اسے صحیح لگا تھا-
پھر جو بھی ہوا جیسے نیند کی حالت میں ہوا- فرشتے اس کا چہرہ کلینزر سے صاف کرکے بیوٹیشن کے ساتھ اس کا دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی،پھر وہ تائی مہتاب کے زیور اتار کر اس کی ماں کے زیور پہنا رہی تھی،پھر وہ اس کا میک اپ کر رہی تھی،پھر وہ اس کی سینڈل کے اٹریپ بند کر رہی تھی،پھر وہ مسکراتے ہوئے کچھ کہہ رہی تھی، اور پھر وہ بہت کچھ کر رہی تھی،مگر اسے آواز نہیں آرہی تھی-ساری آوازیں بند ہوگئی تھین- سارے منظر دھندلا گئے تھے،بس وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی بت بنی بیٹھی تھی-
وہ خواب حسین تھا، مگر اس کا دل خالی تھا-سارے جزبات گویا مر سے گئے تھے-خواہش کے جگنو کھو گئے تھے-
یا شاید ہمیں خوشی سے محبت نہیں ہوتی،خوشی کی خواہش ” سے محبت ہوتی ہے- ہماری سب محبتیں ، خواہشات سے ہوتی ہیں کبھی کسی کو پانے کی تمنا کبھی کوئی خاص چیز پانے کی آرزو۔۔۔۔ شاید محبت صرف خواہش سے ہوتی ہے،چیزوں یا لوگوں سے نہیں
اس نے اپنی خواہش کو اپنے پہلو میں بیٹھا دیکھا،مگر اس کا اپنا سر جھکا تھا،سو زیادہ دیکھ نہ پائی اور اسی جھکے سر کے ساتھ نکاح نامے پہ دستخط کرتی گئی، کرتی گئی ، کرتی گئی-
جب اس کا ہاتھ تھامے فرشتے اسے اٹھا رہی تھ تو اس نے لمحے بھر کو اسے دیکھا،جو سامنے لب بھینچے کھڑا تھا-براؤن شلوار کرتے میں ملبوس ، سنجیدہ اور وجیہہ-
اس نے نگاہیں جھکا لیں-اسے اس کی سنجیدگی سے خوف آیا تھا-کیا وہ اس پہ مسلط کی گئی تھی؟ان چاہی بے وقعت بیوی؟
اس نے بے عزتی اور توہین محسوس کرنا چاہی مگر دل اتنا خالی تھا کہ کوئی احساس بیدار نہ ہوا-
اردگرد لوگ بہت کچھ کہہ رہے تھے مگر اس کی سماعتیں بند ہوگئی تھیں-وہ سر جھکائے ہمایوں کی گاڑی کی بیک سیٹ پہ بیٹھ گئی- اسے لگا اب زندگی کھٹن ہوگی بہت کھٹن-
وہ اسی جہازی سائز بیڈ کے وسط میں سر گھٹنوں پہ رکھے گم صم بیٹھی تھی-فرشتے کچھ دیر ہوئی اسے وہاں بٹھا کر نہ جانے کہاں چلی گئی تھی-اور ہمایوں کو تو اس نے گاڑی سے نکل کر دیکھا ہی نہیں تھا-وہ تیزی سے اندر چلا گیا تھا اور پھر دوبارہ سامنے نہیں آیا تھا-
اس کے دل میں عجیب عجیب سے خیال آرہے تھے-وہ بار بار اعوذبا اللہ ” پڑھتی مگر وسوسے اور وہم ستانے لگے تھے-شاید وہ اس سے شادی کرنا نہیں چاہتا تھا،شاید وہ اس پہ مسلط کیا گیا تھا-اب شاید اس کے پاس نہیں آئے گا، بلکہ شاید وہ بات تک نہ کرے ، شاید وہ اسے چھوڑ دے، شاید۔۔۔۔۔۔ وہ شاید-
بہت سے شاید تھے جن کے آگے سوالیہ نشان تھے-بار بار وہ شاید اس کے ذہن کے پردے پہ ابھرتے اور اس کا دل ڈوبنے لگتا- وہ مایوس ہونے لگی تھی جب دروازہ کھلا-
بے اختیار سب کچھ بھلا کر وہ سر اٹھائے دیکھنے لگی-
وہ اندر داخل ہو رہا تھا-اس کا دل دھڑککنا بھول گیا-جانے وہ اب کیا کرے گا؟وہ دروازہ بند کر کے اس کی طرف پلٹا،پھر اسے یوں بیٹھا دیکھ کر ذرا سا مسکرایا-
السلام علیکم، کیسی ہو؟آگے بڑھ کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل دراز کھولی وہ خاموشی سے کچھ کہے بنا سے دیکھے گئی-وہ اب دراز میں چیزیں الٹ پلٹ کر رہا تھا-
تم تھک گی ہوگگی،اتنے بڑے ڈراما سے گزری ہو-
پریشان مت ہونا، سب ٹھیک ہوجائے گا-وہ اب نچلے دراز میں کچھ تلاش کر رہا تھا-لہجہ متوازن تھا اور الفاظ۔۔۔۔۔ الفاظ پہ تو اس نے غؤر ہی نہیں کیا،وہ بس اس کے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جو دراز میں ادھر ادھر حرکت کر رہے تھے اور پھر اس نے ان میں ایک میگزین پکڑے دیکھا-
(کیا اس میں گولیاں بھی ہیں؟کیا یہ مجھے مارے گا؟)
وہ عجیب سی باتیں سوچ رہی تھی-
وہ میگزین نکال کر سیدھا ہوا-
آئی ایم سوری محمل! ہمیں سب بہت جلدی میں کرنا پڑااور میں جانتا ہوں- تم اس کے لیے تیار نہ تھیں-
وہ کہہ رہا تھا ، اور وہ خاموشی سے اس کے ہاتھ میں پکڑا میگزین دیکھ رہی تھی-
میں ابھی آن ڈیوٹی ہوں ، اور مجھے ڑیڈ کے لیے جانا ہے-رات فرشتے تمہارے ساتھ رک جائے گی،میں پرسوں شام تک واپس اجاؤں گا،تم پریشان نہ ہونا-
وہ خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھے گئی-عجیب شادی، عجیب سی دلہن ، اور عجیب سا دلہا اسے اس کی باتیں بہت عجیب لگی تھیں-
تم سن رہی ہو؟وہ اس کے سامنے بیڈ پہ بیٹھا بغور اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا- وہ ذرا سا چونکی-
ہوں جی- جی بے ساختہ نگاہیں جھکا لیں-
پھر پتا نہیں وہ کیا کیا کہتا رہا،محمل نظریں نیچی کیے سنتی رہی-الفاظ؟ اس کے کانوں سے ٹکرا کے گویا واپس پلٹ رہے تھے-کچھ سمجھ میں نہیں ارہا تھا-وہ کب خاموش ہوا، کب اٹھ کر چلا گیا، اسے تب ہوش آیا جب پورچ سے گاڑی نکلنے کی آواز آئی-
اس نے ویران نظروں سے کمرے کو دیکھا- یہی وہ کمرہ تھا جس کبھی ہمایون نے اسے بند کیا تھا، تب وہ سیاہ ساڑھی میں ملبوس تھی-
آج اس نے سرخ شلوار قمیض پہن رکھی تھی- عروسی جوڑا،عروسی زیورات،وہ دلہن تھی اور پتہ نہیں کیسی دلہن تھی-اس نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس کمرے میں کبھی یوں ہمایوں کی دلہن بن کر آئے گی-ہاں فواد کے خواب اس نے دیکھے تھے،مگر وہ اس کے دل کا ایک چھپا ہوا راز تھا،جس کی خبر شاید خود فواد کو بھی نہ تھی-
اور حسن؟اندر سے کسی نے سرگوشی کی-
حسن کے لیے اس کے دل میں کبھی کوئی جذبہ نہ ابھرا تھا اور اچھا ہی ہوا-شام کو جب فواد نے اس کے نام کے ساتھ ہمایوں کا نام لیا تو وہ کیسے چپ ہوگیا تھا-وہ جو ہر موقع پر محمل کے حق کے لیے بولتا تھا، لڑتا تھا،اتنے اہم موقعے پہ یوں کیوں پیچھے ہٹ گیا تھا؟وہ فیصلہ نہ کر سکی- اور فرشتے اس نے کتنی بڑی قربانی دی تھی اس کے لیے-وہ کبھی بھی اس کا احسان نہ اتار سکتی تھی،وہ جانتی تھی،اس نے اپنا حق چھوڑ دیا، کاش فرشتے بھی کبھی اسے موقع دے اور وہ اس کے لیے اپنا حق چھوڑ سکے-
اس نے تھک کر سر بیڈ کراؤن سے ٹکا دیا اور آنکھیں موند لیں، اس کا دل اداس تھا، روح بوجھل تھی، سکوں چاہیئے تھا-اپنے خاندان والوں کی قید سے آنکلنے کے احساس کو محسوس کرنے کی حس چاہیئے تھی-اسے غم سے نجات چاہیئے تھی-اس نے ہولے سے لبوں کو حرکت دی اور آنکھیں موندے دھیمی آواز میں دعا مانگنے لگی-
یا اللہ،میں آپ کی بندی ہوں اور آپ کے بندے کی بیٹی ہوں اور آپ کی بندی کی بیٹی ہوں- میری پیشانی آپ کے قابو میں ہے،میرے حق میں اپ کا حکم جاری ہے، آپ کا فیصلہ میرے بارے میں انصاف پہ مبنی ہے، میں اپ سے سوال کرتی ہوں، آپ کے ہر اس نام کے واسطے سے جو آپ نے اپنے لیے پسند کیا اپنی کتاب میں اتارا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یا اپنے علم غیب میں آپ نے اس کو اختیار کر رکھا ہے،اس بات کو کہ اپ قران عظیم کو میرے دل کی بہار اور میری آنکھوں کا نور بنا دیں اور میرے فکر اور غم کو لے جانے کا ذریعہ بنا دیں-
وہ دعا کے الفاظ بار بار دہراتی گئی، یہاں تک کہ دل میں سکون اتر گیا،اس کی آنکھیں بوجھل ہوگئیں اور وہ نیند سے ڈوب گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ دو دن فرشتے اس کے ساتھ رہی-ان دو دنوں میں انہوں نے بہت سی باتیں کیں، سوائے اس شام کے ڈرامے کے – وہ ایسا موضعع تھا کہ دونوں ہی کسی خاموش معاہدے کے تحت اس سے احتراز برت رہی تھیں فرشتے نے اسے بہت کچھ بتایا ابا کے بارے میں،اپنی ماں کے بارے میں،ہمایوں کی امی کے بارے میں،اپنی زندگی ، گھر پرانی یادوں کے بارے میں-وہ چائے کا مگ تھامے گھنٹوں لان میں بیٹھی باتیں کرتی رہتیں،چائے ٹھنڈی ہوجاتی،مگر ان کی باتیں ختم نہ ہوتیں-
پتا ہے محمل! ادھر لان میں ۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں برآمدے کی سیڑھیوں پہ بیٹھی تھیں-چائے کے مگ ہاتھ میں تھے،جب فرشتے نے بازو لمبا کر کے اشارہ کیا-وہاں ایک جھولا تھا بالکل کونے میں-
محمل گردن موڑ کر اس طرف دیکھنے لگی جہاں اب صرف گھاس اور کیاریاں تھیں-
ہم بچپن میں اس جھولے پہ بہت کھیلتے تھے اور اس کے اس طرف طوطوں کا پنجرہ تھا-ایک طوطا میرا تھا اور ایک ہمایوں کا-اگر میرا طوطا اس کی ڈالی گئی چوری کھا لیتا تو ہمایوں بہت لڑتا تھا-وہ ہمیشہ سے ہی اتنا غصے والا تھا، مگر غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس سے بڑھ کر لونگ اور کیئرنگ بھی کوئی نہیں ہے-
محمل مدھم مسکراہٹ لیے سر جھکائے سن رہی تھی-
جب میں بارہ سال کی ہوئی تو ابا نے پوچھا کہ میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں کہ اماں کے ساتھ؟ میں وقتی طور پر ابا کے ساتھ جانے کے لیے راضی ہو گئی،مگر اس دن ہمایوں مجھ سے بہت لڑا-اس نے اتنا ہنگامہ مچایا کہ میں نے فیصلہ بدل لیا-چائے کا مگ اس کے دونوں ہاتھوں میں تھا اور وہ کہیں دور کھوئی ہوئی تھی-
پھر جب ہم بڑے ہوئے اور میں نے قرآن پڑھا تو ہمایوں سے ذرا دور رہنے لگی-وہ خود بھی سمجھدار تھا،مجھے ذیادہ آزمائش مین نہیں ڈالتا تھا-پھر میری اماں کی ڈیتھ ہوئی تو۔۔۔۔۔
دفعتا، گاڑی کا ہارن بجا-وہ دونوں چونک کر اس طرف دیکھنے لگیں-اگلے ہی لمحے گیٹ کھلا اور سیاہ گاڑی زن سے اندر داخل ہوئی

 

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 33

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: