Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 27

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 27

–**–**–

 

اگلے ہی لمحےگیٹ کھلا اور سیاہ گاڑی زن سے اندر داخل ہوئی-
چلو تمہارا میاں آگیا،تم اپنا گھر سنبھالو میں اپنا سامان پیک کر لوں-وہ ہنس کر کہتے ہوئے اٹھ کر اندر چلی گئی-
محمل متذبذب سی بیٹھی رہ گئی-وہ گاڑی سے نکل کر اس طرف آرہا تھا-یونیفارم میں ملبوس، کیپ ہاتھ میں لیے تھکا تھکا سا-اسے دیکھ کر مسکرا دیا-
تو تم میرے انتظار میں بیٹھی ہو، ہوں؟وہ مسکرا کر کہتا اس کے سامنے آکھڑا ہوا تو وہ گڑبڑا کر کھڑی ہوگئی-گلابی شلوار قمیض میں بھورے بالوں کی اونچی پونی ٹیل ، وہ اداس شام کا ایک حصہ لگ رہی تھی-
وہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہہ دو کہ تم میرا انتظار نہیں کر رہی تھیں-
نہیں – وہ۔ چائے لاؤں؟
اونہوں، یہی کافی ہے- اس نے محمل کے ہاتھ سے مگ لے لیا- ایک گھونٹ بھرا اور مگ لیے دروازے کی طرف بڑھ گیا،پھر جاتے جاتے پلٹا، فرشتے ہے؟
جی، وہ اندر ہیں-
اوکے میں شاور لے کر کھانا کھاؤں گا، تم ٹیبل لگا دو-وہ کہہ کر دروازہ کھول کر اندر چلا گیا-
وہ چند لمحے خاموش کھڑی کھلے دروازے کو دیکھتی رہی،وہ دروازہ بند کر کے نہیں گیا تھا،کیا اس کا مطلب تھا وہ اندر آجائے؟پہلے بھی تو وہ بغیر اجازت اس کی زندگی میں داخل کر دی گئی تھی-اب بھی چلی جائے تو کیا مضائقہ ہے؟
اس نے تلخی سے سر جھٹکا اور کھلے دروازے سے اندر چلی آئی-
لاؤنج کے سرے پر سیڑھیوں کے قریب فرشتے اور ہمایوں کھڑے تھے-وہ اپنے بیگ کا ہینڈل تھامے سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیٹتے ہوئے انگلی سے ٹھوڑی کے نیچے اڑس رہی تھی-
نہیں بس، اب میں چلتی ہوں، کل کلاس لینی ہے-
کم از کم کچھ دن تو تمہیں ادھر رہنا چاہیئے-
وہ دونوں باتیں کر رہے تھے-ان کی آواز بے حد مدھم تھی،محمل کو اپنا آپ ادھر بے کار لگا تو وہ سر جھکائے کچن میں چلی گئی-
بلقیس جا چکی تھی-کچن صاف ستھرا پڑا تھا-اس نے چولہا جلایا اور کھانا گرم کرنے لگی-شاید وہ بھی اس گھر میں بلقیس کی طرح تھی-ایک نوکرانی-
محمل! فرشتے نے کھلے دروازے سے جھانکا-
محمل نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا-وہ جانے کے لیے تیار کھڑی تھی-
آپ مت جائیے فرشتے پلیز! وہ بے اختیار روہانسی ہو کر اس کے قریب آئی-
اوہو،میرا کزن بہت اچھا انسان ہے-تم کیوں پریشان ہورہی ہو پاگل!
اس نے ہولے سے اس کا گال تھپتھپایا-محمل چند لمحے اسے دیکھتی رہی،پھر یکایک اس کی بھوری آنکھیں پانی سے بھر گئیں-وہ جھک کر چولہے کو تیز کرنے لگی-
:محمل!کیا ہوا ہے؟تم مجھے پریشان لگ رہی ہو؟وہ ذرا فکر مند سی اس کے پیچھے ائی-محمل کی اس کی طرف پیٹھ تھی،فرشتے اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی-
کسی کی شادی ایسے بھی ہوتی ہے جیسے میری ہوئی؟ بہت دیر بعد وہ بولی تو آواز میں صدیوں کی یاس تھی-فرشتے۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہ بولی تو وہ پلٹی-
فرشتے بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی-اسے لگا اس نے کچھ غلط کہہ دیا ہے-
کیا؟ وہ گڑبڑا گئی-
محمل! تم! حیرت کی جگہ خفگی نے لے لی-
کیا ہوا؟
تم بہت ۔۔۔ بہت نا شکری ہو محمل! بہت زیادہ! وہ جیسے غصہ ضبط کرتے ہوئے تیزی سے مڑ گئی-
فرشتے رکیں” محمل بوکھلا کر اس کے پیچھے لپکی- وہ تیزی سے باہر نکل رہی تھی ا س نے اسے بازو سے تھاما تو وہ رک گئی چند لمحے -کھڑی رہی پھر گہری سانس لے کر اس کی طرف گھومی-
تمہیں ہمایوں مل گیا محمل!تم اب بھی نا خوش ہو؟ وہ بہت دکھی سی ہوکر بولی تھی-محمل نے بے چینی سے لب کچلا -فرشتے اسے غلط سمجھ رہی تھی-
” نہیں میں بس اس خوشی کو محسوس کرنا ۔۔۔۔
جسٹ اسٹاپ اٹ! وہ بہت خفا تھیں-محمل چپ سی ہوگئی-چند لمحے دونوں کے درمیاں خاموشی حائل رہی، پھر فرشتے نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں شانوں پہ اپنے ہاتھ رکھے اور اسے اپنے بالکل سامنے لیا-
تم واقعی ناخوش ہو؟
نہیں- مگر اس سب سے میرا دل کٹ کر رہ گیا ہے-
لوگوں کی روح تک کٹ کے رہ جاتی ہے محمل! سب قربان ہوجاتا ہے او پھر بھی راضی ہوتے ہیں اور تم ۔۔۔۔۔۔ تم اب بھی شکر نہیں کرتیں؟اس کی سنہری آنکھوں میں سرخ سی نمی ابھری تھی- اس کے ہاتھ ابھی تک محمل کے کندھوں پہ تھے-
نہیں میں بہت شکر کرتی ہوں ، مگر بس سب کچھ بہت عجیب لگ رہا ہے جیسے ۔۔۔۔۔۔
بس کرو محمل!اس نے تاسف سے سر جھٹک کر اپنے ہاتھ ہٹائے اور تیزی سے بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی-اسے یونہی شک سا گزرا کہ وہ رو رہی تھی-
وہ دل مسوس کر رہ گئی-اس نے شاید فرشتے کو ناراض کر دیا تھا، لیکن وہ ٹھیک کہتی تھی،وہ واقعی ناشکری کر رہی تھی-صرف زبان سے الحمد اللہ کہنا کافی نہیں ہوتا، اصل اظہار تو رویے سے ہوتا ہے-
کدھر گم ہو؟
آواز پہ وہ چونکی-ہمایوں کاؤنٹر سے ٹیک لگائے بغور اسے دیکھ رہا تھا- وہ جھجک سی گئی-
فرشتے چلی گئی؟وہ کاؤنٹر سے ہٹ کر فریج کی طرف بڑھا اور اسے کھول کر پانی کی بوتل نکالی-
جی-
فرشتے بہت اچھی ہے وہ ہے نا؟اس نے ڈھکن کھول کر بوتل منہ سے لگائی-
بیٹھ کر پئیں پلیز-وہ خود کو کہنے سے روک نہ سکی-وہ بوتل منہ سے ہٹا کر ہنس دیا-
فرشتے نے تمہیں بھی اچھی لڑکی بنا دیا ہے-
تو کیا پہلے میں بری تھی؟وہ برا مان گئی-
ارے نہیں تم ہمیشہ سے اچھی تھیں-مسکرا کر کہتے اس نے پھر بوتل لبوں سے لگا لی-محمل نے دیکھا وہ بیٹھا نہیں تھا،اب بھی کھڑا ہو کر پی رہا تھا-خود کو بدلنا بھی آسان نہیں ہوتا مگر دوسرے کو بدلنا بہت ہی کٹھن ہوتا ہے-
اچھا یہ بتاؤ تمہارا دل کیوں کٹ کر رہ گیا؟
اف! وہ بری طرح چونکی-وہ تو شاور لینے گیا تھا کب اکر سب سن لیا،اسے تو پتہ ہی نہیں چلا تھا-
وہ ۔ دراصل ۔۔۔۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکا -گھر سے کسی نے کال نہیں کی تو میں-
وہ کیوں کریں گے کال؟ان کی اس شادی میں مرضی شامل نہیں تھی-فرشتے نے بہت مشکل سے انہیں راضی کیا تھا،وہ اس بات پہ ابھی تک غصہ ہیں ، آئی تھنک-
وہ یکدم ٹھٹک گئی-
فرشتے نے۔۔۔۔۔ اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا-
اس نے کتنی مشکل سے ان کو راضی کیا۔۔۔۔۔۔۔ تم جانتی ہو!وہ پھر بوتل سے گھونٹ بھر رہا تھا-
وہ دم بخود سی اسے دیکھ رہی تھی- کیا وہ کچھ نہیں جانتا؟اسے نہیں معلوم کہ کیسے ان دونوں نے فواد کے دیئے کاغذ پہ دستخط کیے تھے؟فرشتے نے اسے کچھ نہیں بتایا؟
مگر کیوں؟
تم فکر مت کرو ہم نے یہ شادی ان سے زبردستی کروائی ہے،ان کو کچھ عرصہ ناراض رہنے دو-ڈونٹ وری-
تو وہ واقعی کچھ نہیں جانتا-وہ بتائے یا نہیں؟اس نے لمحے بھر کو سوچا اور پھر فیصلہ کر لیا-اگر فرشتے نے کچھ نہیں بتایا تو وہ کیوں بتائے؟ چھوڑو جانے دو-
صرف ان کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے یا آپ کے ساتھ بھی؟
تو تم اس لیے پریشان تھیں؟اس نے مسکرا کر سر جھٹکا-تمہیں لگتا ہے کوئی ہمایوں داؤد کو مجبور کر سکتا ہے؟
مجبورا قائل تو کر سکتا ہے!
“نہیں کر سکتا- قطعا نہیں-
پھر آپ نے۔۔۔۔ آپ نے کیوں شادی کی مجھ سے؟
اگر تم چاہتی ہو کہ میں تم سے کہوں کہ میں تم سے بہت محبت کرتا تھا وغیرہ وغیرہ تو میں ایسا نہیں کہوں گا، کیونکہ واقعی مجھے تم سے کوئی طوفانی قسم کی محبت نہیں تھی-ہاں تم مجھے اچھی لگتی ہو اور میں نے اپنی مرضی سے تم سے شادی کی ہے اور میں اس فیصلے پہ بہت خوش ہوں-
اس کا انداز اتنا نرم تھا کہ وہ آہستہ سے مسکرا دی-
دل پہ لدا بوجھ ہلکا ہوگیا-
یعنی آپ خوش ہیں؟
آف کورس محمل! ہر بندہ اپنی شادی پہ خوش ہوتا ہے-بنیادی طور پر میں بھی پریکٹیکل انسان ہوں-لمبی بات نہیں کرتا اور مجھے بے کار کی مبالغہ آرائی نہیں پسند-میں کوئی دعویٰ کروں کا نہ وعدہ-یہ تم وقت کے ساتھ دیکھ لو گی کہ تم اس گھر میں خوش رہو گی-
وہ جیسے کھل کر مسکرا دی-اطمینان و سکون اس کے رگ و پے میں دوڑ گیا تھا-
تم اس پہ کچھ نہیں کہو گی؟
میں کیا کہوں؟
میں بتاؤں؟
جی بتائیے-وہ بہت دھیان سے متوجہ ہوئی-
سالن جل رہا ہے-
اوہ- وہ بوکھلا کر پلٹی-دیگچی سے دھواں اٹھنے لگا تھا-مدھم سی جلنے کی بو سارے میں پھیل رہی تھی- اس نے جلدی سے چولہا بند کیا-
ویلکم ٹو پریکٹیکل لائف!وہ مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا-وہ گہری سانس لے کر دیگچی کی طرف متوجہ ہوئی
سالن جل گیا تھا مگر اس کے اندر ہر سو بہار چھا گئی تھی-وہ مسکراہٹ دبائے دیگچی اٹھا کر سنک کی طرف بڑھ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
” محمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل! وہ نیچے لاؤنج میں کھڑا مسلسل سر اونچا کیے اسے آوازیں دے رہا تھا-جلدی کرو دیر ہورہی ہے-
آرہی ہوں بس ایک منٹ-اس نے ڈریسنگ ٹیبل سے لپ گلوز اٹھایا اور سامنے آئینے میں دیکھتے ہوئے اسے لپ اسٹک پہ لگایا،لپ اسٹک چمک اٹھی تھی-
محمل! وہ پھر چلایا تھا۔۔۔
” بس آگئی- اس نے ایک عجلت بھری نظر سنگھار میز کے آئینے میں جھلکتے اپنے وجود پہ دالی-ٹی پنل بنارسی ساڑھی میں ملبوس، لمبے سیدھے بال کمر پہ گرائے کانوں میں چمکتے ڈائمنڈ کے ائیر رنگز، گردن سے چپکا نازک ہیروں کا سیٹ جو ہمایوں نے اسے تیمور کی پیدائش پہ دیا تھا اور کلائی میں وائٹ گولڈ کے موتی جڑے کنگن،ساتھ مناسب سا میک اپ-وہ مطمئن ہوگئی-بیڈ پہ لیٹے تیمور کو اٹھایا اور باہر نکل آئی-
تم اتنی دیر کر رہی ہو کیا ارادہ بدل گیا؟
آخری فقرہ کہتے ہوئے وہ زیر لب مسکرایا-وہ جو تیمور کو اٹھائے سہج سہج سیڑھیاں اتر رہی تھی مسکرا اٹھی-
ہرگز نہیں-آخر کو اپنے میکے جا رہی ہوں، ارادہ کیوں بدلوں گی؟وہ سیڑھیاں اتر آئی- وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا-بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس بالوN کو جیل سے پیچھے کیے وہ بہت شاندار لگ رہا تھا-
اچھے لگ رہے ہیں-
تم بھی!
بس اتنی سی تعریف؟اس کا چہرہ اتر گیا-
شادی کے ایک سال بعد اب اور میں کیا کہوں؟
وہ دونوں ساتھ ساتھ باہر آئے تھے-
ایک سال گزر گیا ہمایوں پتا ہی نہیں چلا – ہے نا؟
وہ فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کھو سی گئی تھی-
“ہاں وقت بہت جلدی گزر جاتا ہے-وہ گاڑی سڑک پہ ڈال کے بہت دیر بعد بولا تھا- یوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہے-
ہوں- محمل نے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا دیا اور آنکھیں موند لیں-
ایک سال گزر بھی گیا، یوں جیسے پتا ہی نہ چلا ہو-
پورے ایک برس پہلے وہ بیاہ کے اس گھر میں ائی تھی،آج ہمایوں نے شادی کی سالگرہ پر اسے اسی گھر لے جانے کا تحفہ دیا تھا-
پورا سال نہ انہوں نے اس کی خبر گیری کی اور نہ ہی محمل نے فون کیا تھا-شروع میں اسے غصہ تھا،پھر آہستہ آہستہ وہ غم میں ڈھل گیا اور اب ۔۔۔۔۔ اب اسے اپنے فرائض یاد آئے-صلہ رحمی کے احکامات یاد آئے تو اس نے تہیہ کر لیا کہ اپنے رشتے داروں سے پھر سے تعلق جوڑے گی-پہلے بھی یہ خیال کئی بار آیا، مگر ہمایوں جانے پہ راضی نہ ہوتا تھا،لیکن گزرتے وقت کے ساتھ فواد کا کیس اندر ہی اندر دبتا چلا گیا اور پھر ہمایون نے ہی ایک دن اسے بتایا کہ فواد ملک سے باہر چلا گیا ہے- شاید آسٹریلیا-وہ بھی کسی حد تک سکون میں آگئی، نہ جانے کیوں-
ہفتہ پہلے ہمایوں کو کہیں آغآ کریم ملے،اس نے محمل کو بتایا کہ وہ بہت خوشدلی سے ملے اور اسے گھر آنے کی دعوت دی-منافقت دنیاداری اور پھر اب وہ کس چیز کابغض چہرے پہ سجائے رکھتے؟فواد تو باہر چلا گیا اور جائیداد انہیں مل گئی،پھر ہمایوں داؤد جیسے بندے کو داماد کہنے میں کیا مضائقہ؟بلکہ فخر ہی تھا-
ایک تبدیلی اور بھی آئی تھی-فرشتے اسکاٹ لینڈ چلی گئی تھی-اسے قرآن سائنسز میں میں پی ایچ ڈی کرنا تھی-، خوب سارا علم حاصل کرنا تھا، پھر اس کا تھیسز اور ۔۔۔۔ بہت کچھ – وہ چلی گئی تو مدرسہ میں اس کی جگہ کسی اور نے لے لی-
اور رہی محمل تو وہ آج بھی تیمور کو لے کے فجر کی نماز کے ساتھ مدرسہ جاتی تھی–اس کے علم الکتاب کا ابھی آدھا سال رہتا تھا-
٭٭٭٭٭
گاڑی رکی تو وہ چونک کر حال میں آئی-وہ آغا ہاؤس کے پورچ میں کھڑی تھی-
وہ تیمور کو اٹھائے باہر نکلی ، اور گم صم سی ادھر ادھرنگاہیں دوڑائیں-
لان کے کونے میں مصنوعی آبشار بن چکی تھی،گھر کا پینٹ بدل چکا تھا،پورچ کے ٹائلز بھی نئے اور قیمتی تھے-
لاؤنج کے دروازے پہ مہتاب تائی اور آغا جان کھڑے تھے- محمل اور ہمایوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر جیسے گہری سانس لے کر ان کی طرف بڑھے-شال اس نے ایک ندھے پہ ڈا ل لی تھی-بھورے سیدھے بال دونوں کانوں کے پیچھے اڑسے تھے-پورچ کی مدھم لائٹ میں بھی اس کے جگر جگر کرتے ہیرے چمکے تھے-
محمل! یہ تم ہو؟کیسی ہو؟تائی مہتاب پر تپاک استقبال کے ساتھ آگے لپکی تھیں-
محمل ! میری بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔ آغآ جان نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا-
اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے-شاید انہین احساس ہوگیا تھا کہ انہوں نے اس کے ساتھ کتنا ظلم کیا-

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: