Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 28

0

مصحف از نمرہ احمد – قسط نمبر 28

–**–**–

 

اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے-شاید انہین احساس ہوگیا تھا کہ انہوں نے اس کے ساتھ کتنا ظلم کیا-
دونوں چچیاں اور دوسری لڑکیاں بھی وہیں آگئیں-وہ ان کے ساتھ ان کے سوالوں کاجواب دیتی اندر آئی تھی-
ایک تو ہمایوں کی شاندار پرسنلٹی، اوپر سے محمل کا بدلا، سجا سنورا، دولت اور آسائشوں کی فراوانی ظآہر کرتا سراپا-فضہ نے تو ازلی میٹھے انداز میں تعریف کی،البتہ ناعمہ کے تو ماتھے کے بلوؔں میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا-وہ اپنی جلن چھپا نہ پا رہی تھی-
لاؤنج کا بھی حلیہ بدلا ہوا تھا-قیمتی فانوس ،پردے، بیش قیمت ڈیکوریشن پیسز،گو کہ پہلے بھی وہاں ہر چیز قیمتی تھی، مگر اب تو جیسے پیسے کی ریل پیل ہوگئی تھی-ایک ایک کونا چمک رہا تھا-شاید اب انہیں کھلا اختیار جو مل گیا تھا-
سدرہ باجی کدھر ہیں اور آرزو؟صوفے پہ بیٹھتے ہوئے اس نے متلاشی نگاہ ادھر ادھر دوڑائی-
سدرہ کی تو دسمبر میں شادی ہوگئی،وہ کینیڈا چلی گئی-تائ مہتاب نے فخر سے بتایا-چہرے پہ اسے نہ بلانے کی کوئ ندامت نہ تھی-اس کا دل اندر ہی اندر ڈوب کر ابھرا-وہ غلط تھے ان کو کوئی شرمندگی نہ تھی بلکہ نعمتوں کی بے پناہ بارش نے انہیں مزیدمغرور کر ڈالا تھا-
مہرین کا نکاح پچھلے ماہ ہوا ہے،لڑکا ڈاکٹر ہے،انگلینڈ میں ہوتا ہے، اسی سال شادی کریں گے-
اچھا ماشاءاللہ! وہ دل سے خوش ہوئی مگر الجھن بہرحال تھی-انہوں نے اس کے ساتھ کتنا ظلم کیا، پھر بھی ان کی خوشیوں میں اضافہ کیوں ہوتا چلا گیا؟
“ندا کی بھی منگنی ہوگئی-فضہ چچی کیوں پیچھے رہتیں-وہ بھی ڈاکٹر سے،سعودیہ کی رائل فیملی کے ڈاکٹرز میں سے ہے- سامیہ کی بھی آج کل بات چ رہی ہے-
اور آرزو؟یونہی اس کے لبوں سے پھسل پڑا-نگاہ سب سے الگ بیٹھی ناعمہ چچی پہ جا پڑی- ان کی کوفت میں جیسے اضافہ ہوا تھا-
رشتوں کی لائن لگی ہے میری بیٹی کے لیے، ہر دوسرے دن کسی شہزادے کا رشتہ آجاتا ہے-وہ ہاتھ نچا کر بہت چمک کر بولی تھیں-
مگر وہ مانے بھی تو-فضہ چچی نے دھیمی سرگوشی کی، آواز یقینا ناعمہ چچی تک نہیں گئی تھی-مخاطب محمل ہی تھی،جو سن کر ذرا سی چونکی تو فضہ چچی معنی خیز انداز میں مسکرائیں-
آرزو باجی کدھر ہیں؟نظر نہیں آرہیں؟اس نے دوسری دفعہ پوچھا تو ناعمہ چچی اٹھیں اور پیر پٹختی ہوئی وہاں سے نکل گئیں-
انہیں کیا ہوا؟اس نے حیرت سے تائی مہتاب کو دیکھا،جنہوں نے استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ سر کو جھٹکا-
بیٹی کا دل آگیا کسی پہ،اب مان کے نہیں دے رہی –
اچھا! اسے حیرت ہوئی-اسی پل سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کوئی رکا-آہٹ پہ محمل نے نگاہ اٹھائی، اور بے اختیار شال کا پلو سر پہ پلو ڈال لیا-
حسن مبہوت سا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا-کف کا بٹن بند کرتے اس کے ہاتھ وہیں رک گئے تھے-
السلام علیکم حسن بھائی- وہ خوشدلی سے مسکرائی تو وہ چونکا،پھر سر جھٹک کر آخری زینہ اترا-
وعلیکم السلام ، کیسی ہو محمل، کب آئیں؟وہ ان کی طرف چلا آیا تھا- یہ تمہارا ۔۔۔۔۔۔ بیٹا ہے یا بیٹی؟
بیٹا ہے ، تیمور – اس نے جھک کر اسے پیار کیا، پھر سیدھا ہوا-
اکیلی ائی ہو؟
ارے نہیں، ہمایوں اس کے ساتھ آیا ہے،
تمہارے آغا جان کے ساتھ ڈرائینگ روم میں بیٹھا ہے- جاؤ مل لو-تائی مہتاب کے کہنے پر وہ سر ہلاتا ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا-
حسن بھائی کی کہیں منگنی وغیرہ نہیں کی چچی؟وہ سادہ سے لہجے میں فضہ سے مخاطب ہوئی-اسے لگا اس کا جوگ لیے ابھی تک بیٹھا ہوگا-
ارے نہیں، حسن کی تو شادی بھی ہوگئی-میری بھانجی طلعت یاد ہے تمہیں؟اسی سے- آ ج کل وہ میکے گئی ہوئی ہے-سامیہ سامیہ ، انہوں نے بیٹی کو پکارا- جاؤ حسن کی شادیکا البم لے آؤ-
محمل کو واقتعا جھٹکا لگا تھا مگر پھر وہ سنبھل گئی- وہ جوگ لینے والا بندہ تو نہ تھا، کمزور مرد جو کبھی اس کے لیے مضوط سہارا نہ بن سکتا، لیکن بھلا اسے اس کا تو سہارا چاہیئے بھی کیوں تھا؟کبھی بھی نہیں – اسکی تو حسن کے ساتھ کبھی بھی کوئی جزباتی وابستگی نہ رہی تھی- سو افسوس بھی نہ تھا-
پھر انہوں نے اسے حسن اور سدرہ کی شادیوں کے البم دکھائے-وہ تو سجاوٹ اور دھوم دھام دیکھ کر حق دق رہ گئی-دلہنوں کے عروسی لباس اور زیورات تو ایک طرف محض ایونٹ ڈیزائنگ پہ پیسہ پانی کی طرح لٹایا گیا تھا-انہیں محمل نے وہ سب خود دیا تھا،اب بھلا کیوں وہ اس کا پر تپاک استقبال نہ کرتے؟
ڈنر بہت پر تکلف تھا- آغا جان اور ہمایوں کے انداز سے لگ رہا تھا ان کی گہری دوستی رہی ہے-کون کہہ سکتا تھا، کبھی آغا جان اس شخص کا نام نہیں سن سکتے تھے؟
بس اس کے ایک دستخط نے ساری دنیا بدل دی تھی-پھر بھی وہ خوش تھی-اسے میکے کا مان جو مل گیا تھا-چاہے منافقت کا ملمع اوڑھے،جھوٹا ہی سہی ، مگر مان تو تھا نا-
بس چند لمحوں کے لیے وہ تیمور کا بیگ لینے گاری تک ائی تھی اور تب اس نے لان میں کرسی پہ بیٹھی آرزو کو دیکھا تو رک گئی-وہ بھی اسے دیکھ چکی تھی ، سو تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس چلی آئی-
بہت خوب مسز ہمایوں! خوب عیش کر رہی ہو-
اس کے قریب سینے پہ بازو لپیٹے کھڑی ، وہ سر سے پاؤں تک اس کا جائزہ لیتے بہت طنز سے بولی تھی-اس نے بمشکل خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا-
اللہ کا کرم ہے آرزو باجی! ورنہ میں اس قابل کہاں تھی؟
قابل تو تم خیر اب بھی نہیں ہو،یہ تو اپنی اپنی چالاکی کی با ت ہوتی ہے-
مجھے چالاکیاں آتی ہوتیں تو اس گھر سے ایسے ہی رخصت ہوتی جیسے سدرہ باجی ہوئیں-
اوہ ڈونٹ پرینٹنڈ ٹو بی انوسینٹ- ( زیادہ معصوم بننے کی کوشش نہ کرو) وہ تیزی سے جھڑک کر بولی-
تم جانتی تھی کہ ہمایوں صرف اور صرف میرا ہے، پھر بھی تم نے اس سے شادی کی- تمہیں لگتا ہے میں تمہیں یونہیں چھوڑ دونگی؟
یہ ہمایوں اپ کے کب ہوگئے آرزو باجی؟
نام تک تو آپ ان کا جانتی نہیں تھیں- وہ بھی مجھ سے ہی پوچھا تھا-
اپنی چھوٹی سی عقل پہ زیادہ زور نہ دو محمل ڈئیر-
اس نے انگلی سے اس کی تھوڑی اٹھائی-اور یاد رکھنا آرزو ایک بار کسی کو چاہ لے تو پھر اس کو حاصل کر کے ہی چھوڑتی ہے-
کیوں؟آرزو خدا ہے کیا؟اس کے اندر غصہ ابلا تھا-بے اختیار اس نے اپنی ٹھوڑی تلے سے اس کی انگلی ہٹائی-
یہ تو تمہیں وقت بتائے گا کہ کون خدا ہے اور کون نہیں- وہ تمسخرانہ انداز میں کہتی مڑی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتی اندر چلی گئی-
عجیب لڑکی ہے یہ، کسی کے شوہر پہ حق جما رہی ہے- اونہہ! وہ غم و غصے سے کھولتی ہوئی اندر آگئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تمہاری کزن آرزو کے ساتھ کوئی دماغی مسئلہ ہے کیا؟واپسی پہ ڈرائیو کرتے ہوئے ہمایوں نے پوچھا تھا- وہ بری طرح چونکی-
کیوں؟کچھ کہا اس نے؟اس کا دل ایک دم ڈر سا گیا-
ہاں عجیب سی باتیں کر رہی تھی-
آپ کو کب ملی؟لاؤنج میں تو آئی ہی نہیں-
پتا نہیں، عجیب طریقے سے سب مردوں کے درمیان آکر بیٹھ گئی، اور مجھ سے پے در پے سوالات شروع کر دئیے-بہت آکورڈ لگ رہا تھا مگر اس کے باپ کو تو فرق ہی نہیں پڑا-
پھر؟وہ دم بخود سی سن رہی تھی-
پھر حسن کو برا لگا تو اس نے اسے جھڑکا کہ اندر جاو، بٹ شی واز لائیک کہ میں تمہاری نوکر ہوں جو اندر جاون، عجیب سی سچویشن بن گئی تھی-میں تو فون کا بہانہ کر کے اٹھ گیا، واپس آیا تو وہ نہ تھی- کوئی مسئلہ ہے اس کے ساتھ؟
پتا نہیں وہ لب کچل کر رہ گئی-
ایک بات کہوں محمل!
ہوں کہیئے-
تم یہ مت سمجھنا کہ میں لالچی ہوں مگر حق حق ہوتا ہے-تم نے دیکھا وہ لوگ کیسے تمہاری جائیداد پہ عیش کر رہے تھے-تمہیں ان سے اپنا حصہ مانگنا چاہیئے-
رہنے دیں مجھے کچھ نہیں چاہیئے- وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی، ہمایوں کو کیسے بتاتی کہ اس کے لیے اپنا حق وہ بہت پہلے چھوڑ چکی ہے- اگر فرشتے نے چھپایا تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی-
وہ اندر سے ایک دم ہی بہت افسردہ ہوگئی تھی- سو بیگ میں رکھا چھوٹا قرآن نکالا- جس کے سفید کور پہ “م” لکھا تھا-
میں یہ ادھر کیوں لکھا ہے؟وہ ہر دفعہ قرآن کھولنے پہ اپنا لکھا “م” پڑھ کر سوچتی اور پھر یاد نہ آنے پہ شانے اچکا کر آگے پڑھنے لگتی-اس نے صبح کی تلاوت پہ لگائے گئے بک مارک سے کھولا- سب سے اوپر لکھا تھا-
اور اس نے عطا کیا تم کو ہر اس چیز سے جو تم نے اس سے مانگی تھی-اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمت کو، اسے تم شمار نہیں کر سکتے – بے اختیار اس کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی-
کیوں مسکرا رہی ہو؟وہ ڈرائیو کرتے ہوئے حیران ہوا تھا-
نہیں، نہیں اس کے دل کی تسلی ہوگئی تھی، سو قرآن بند کر کے رکھنے لگی- اسے واقعی ہر وہ چیز مل گئی تھی جو کبھی اس نے مانگی تھی-
بتاؤ نا-
اصل میں میرے لیے بڑی پیاری آیت اتاری تھی اللہ تعالی نے وہی پڑھ کر ان پہ بہت پیار آیا تھا- وہ سر جھٹک کے ہنس دیا-
ہنسے کیوں؟
کم آن محمل! اٹس آل ان یور مائنڈ!
کیا! وہ حیران ہوئی اور الجھی بھی-
محمل! وہ آیت تمہارے لیے نہیں تھی، یہ الہامی کتاب ہے، اوکے اتنا casually ٹریٹ مت کرو اسے- یہ قرآن پاک ہے-اس میں نماز روزے کے احکام ہیں-اٹس ناٹ اباؤٹ یو- اس نے موڑ کاٹا-
کھلی شاہراہ رات کے اس پہر سنسان پڑی تھی-
وہ سکتے کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی-
تم دیکھو محمل! ایک ہی تصویر کو ہر شخص اپنی زاویے سے دیکھتا ہے، مثلا نقاد اس کی خامی ڈھونڈے گا، شاعر اس کے حسن میں کھوئے گا،سائنس دان کسی اور طرح اسے دیکھیں گا- اٹس آل ان یور مائنڈ-
نہیں ہمایوں!قرآن میں وہی کچھ ہوتا ہے جو میں سوچتی ہوں-
اس لیے تم وہی پڑھنا چاہتی ہو–تمہیں ہر چیز اپنے سے ریلیٹڈ لگتی ہے کیونکہ تم خود سے ریلیٹ کرنا چاہتی ہو- محمل! یہ سب تمہارے ذہن میں ہے، یہ الہامی کتاب ہے اس میں تمہارا ذکر نہیں ہے- ٹرائی ٹو انڈر اسٹینڈ-
دفعتا اس کے موبائل کی گھنٹی بجی – اس نے ڈیش بورڈ پہ رکھا موبائل اٹھایا، چمکتی اسکرین پہ اپنا نمبر دیکھا،اور پھر بٹن دبا کر کان سے لگالیا-
جی رانا صاحب۔۔۔۔۔۔۔ وہ محو گفتگو تھا-
محمل نے گم صم سی نگاہ گود میں سوئے تیمور پہ ڈالی اور پھر ہاتھوں میں پکرے قرآن کو دیکھا جس کو وہ ابھی بیگ میں رکھنے ہی لگی تھی-اسے لگا ہمایوں کی بات نے اس کی جان ہی نکال لی تھی-روح کھینچ لی تھی-وہ لمحے بھر میں کھوکھلی ہوگئی-اس کا دل کھوکھلا ہوگیا، خیال کھوکھلا ہوگیا- امید کھوکھلی ہوگی-
تو کیا اتنا عرصہ وہ یہ سب تصور کرتی آئی تھی-وہ وہی پڑھتی تھی جو وہ پڑھنا چاہتی تھی-اسے وہی دکھائی دیتا جو اس کی خواہش ہوتی ؟وہ ہر چیز کا من چاہا مطلب نکالتی تھی؟
اس کا دل جیسے پاتال میں گرتا گیا-ہمایوں ابھی تک فون پہ مصروف تھا مگر اسے اس کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی-سب آوازیں جیسے بند ہوگئی تھیں-وہ گم صم سی ہاتھوں میں پکڑے قرآن کو دیکھے گئی،پھر درمیاں سے کھول دیا-دو صفحے سامنے روشن ہوگئے-
پہلے صفحے کے وسط میں لکھا تھا-
بے شک (اس قرآن) میں ذکر ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے پڑھا ہی نہیں گیا-وہ جیسے پھر سے جی اٹھی تھی-
ساری اداسی، ویرانی ہوا ہو گئی-دل پھر سے منور ہوگیا-اب اسے کسی کا نظریہ یا رائے خود پہ مسلط نہیں کرنا تھی- اسے اس کا جواب نظر آگیا تھا-دلیل مل گئی تھی-
مسکراہٹ لبوں پہ بکھیرے اس نے واپس سنبھال کر قرآن بیگ میں رکھا اور زپ بند کی،پھر سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موندلیں- اسے ہمایوں سے بحث نہیں کرنا تھی- اسے کچھ نہیں سمجھانا تھا- وہ اسے سمجھا ہی نہیں سکتی تھی کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، نہیں مانتے-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح نئی سی اتری تھی-چڑیان چہچہاتے ہوئے اپنی منزلوں کی طرف اڑ رہی تھیں-رات بارش کھل کے برسی تھی،سو سڑک ابھی تک نم تھی-سیاہ بادل اب نیلی چادر سے قدرے سرک گئے تھے اور موسم خاصا خوشگوار ہوگیا تھا-
وہ گیٹ پار کر کے باہر نکلی تو درختوں کی باڑ کے ساتھ کاشف سائیکل دوڑاتا آرہا تھا-وہ تیمور کی پرام دھکیلتی سڑک پہ آگے بڑھنے لگی- اس کا رخ کاشف کی طرف تھا-
محمل باجی السلام علیکم – کاشف اسے دیکھ کر چہک اٹھا- تیزی سے سائیکل بھگاتا اس کی طرف آیا- وہ کالونی کے ان بچوں میں سے تھا جنہیں شام کو محمل اپنے گھر میں جمع کر کے ناظرہ پڑھاتی تھی-
وعلیکم السلام- صبح ہی صبح کدھ جا رہے ہو کاشف؟ وہ رک گئی تھی-
ہمارے اسکول کی چھٹیاں ہوگئی ہیں نا، تو صبح فارغ ہوتا ہوں- اس نے اپنی الٹی پی کیپ سیدھی کی- اب وہ سائیکل روک کر اس کے ساتھ کھڑا تھا-
حنان اور راحم وغیرہ کی بھی؟
جی باجی، سب آف ہوگیا ہے-
تو پھر یوں نہ کریں کہ آئندہ فجر کے بعد کلاس رکھ لیں؟
باجی! میں تو اجاؤں گا مگر ارحم وغیرہ ۔۔۔ اس نے متذبذب سے اپنے ہمسائے کا نام لیا-
آپ ان سے خود ہی پوچھ لیجئے گا-
کاشف بائیک دوڑاتا دور نکل گیا-
اس کا ارادہ سامنے مدرسے جانے کا تھا،مگر پھر نکڑ پہ چھلی والا نظر آگیا-
بارش کے بعد کا ٹھنڈا سہانا موسم اور بھنے ہوئے دانے -وہ رہ نہ سکی اور پرام دھکیلتی نکڑ پہ کھڑی ریڑھی کی طرف بڑھ گئی-
سڑک سنسان پڑی تھی- چھلی والا خاموشی سے سر جھکائے ریت گرم کر رہا تھا- وہ پرام دھکیلتی آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی- اسے یادآایا اس نے اج صبح کی دعائیں نہیں پڑھی تھیں- حالانکہ روز پابندی سے صبح و شام کی دعائیں پڑھتی تھی، مگر آج جانے کیسے رہ گئیں-وہ ہولے ہولے تسبیح پڑھنے لگی-تب ہی فاصلہ سمٹ گیا اور وہ ریڑھی کے پاس پہنچی تو دھیان بٹ گیا-
ایک چھلی بنا دو، اور ساتھ میں پانچ روپے کے دانے بھی ذرا زیادہ ہو- اس کی تسبیح ادھوری رہ گئی،بوڑھا چھلی والا سر ہلا کہ چھلی بھوننے لگا- وہ محویت سے اسے بھوننے دیکھنے لگی-
ؔذہن کے کسی کونے میں اس دن آرزو کی کہی گئی باتیں گونجنے لگی وہ بار بار ا نہیں ذہن سے جھٹکنا چاہتی مگر یونہی ایک دھڑکا سا دل کو لگ گیا تھا-بس ایسے ہی اس کا دل گھبرا سا جاتا- وہ نیند میں ڈر جاتی جانے کیا بات تھی-
دس روپے ہوئے بی بی-
بوڑھے شخص کی آواز پہ وہ چونکی، پھر سر جھٹک کر ہاتھ میں پکڑا پاؤچ کھولا – اندر سے پیسے اور چند کاغذ، بل وغیرہ رکھے تھے-اس نے دس کا نوٹ نکالنا چاہا تو ایک کاغذ جو نوٹ کے اوپر اڑس کر رکھا گیا تھا، اڑ کر دور سڑک پہ جا گرا-
اوہ ایک منٹ- وہ دس کا نوٹ اس کے ہاتھ پہ رکھ کر تیمور کی پرام وہیں چھوڑ ے دوڑتی ہوئی گئی جہاں سڑک کے وسط میں مڑا تڑا سا کاغذ پڑا تھا- اس نے جھک کر کاغذ اتھایا اور اسے کھول کر پڑھا، پھر تحریر دیکھ کر مسکرا دی- اگلے ہی پل سامنے سڑک کے کونے سے آتی گاڑی کی آواز ائی- اس نے گھبرا کر سر اٹھایا- گاڑی تیزی سے اس کی طرف بڑھی تھی- وہ بھاگنا چاہتی تھی، ایک ہی جست میں اڑ کر سڑک پار کرنا چاہتی تھی، مگر موقع نہ ملا-
تیز ہارن کی آواز تھی اور کوئی چیخ رہا تھا- اس کے پاؤں حرکت کرنے سے انکاری تھے- اس نے گاڑی کو خود سے ٹکراتے دیکھا،پھر اس نے خود کو پورے قد سے گرتے دیکھا، شور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت شور اس نے اپنی چیخیں سنیں۔۔۔۔۔۔۔ اپنے سر سے نکل کے سڑک پہ بہتے خون کو دیکھا بہتا ہوا لال خون بے حد لال-
اس کی کلائی وہی اس کے چہرے کے ساتھ بے دم سی گر گئی اس نے ہاتھ کھول دیا – مڑا تڑا سا کاغذ نکل کر سڑک پہ لڑھک گیا- اس نے اردگرد لوگوں کو اکٹھے ہوتے دیکھا- کہیں دور بچہ رورہا تھا- بہت اونچا حلق پھاڑ پھاڑ کر دور ۔۔۔ بہت دور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو آخری بات اس کے ڈوبتے ذہن نے سوچی تھی، وہ یہ تھی کہ اج اس نے صبح کی دعائیں نہیں پڑھیں تھیں-
٭٭٭٭٭
اس کا ذہن گھپ اندھیرے میں ڈوب چکا تھا- تاریکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاہ کالی مہیب سی تاریکی ، بنا رنگ کے ، بنا شور کے،خاموشی سی تاریکی-اندھیرے پہ اندھیرا،پردے پہ پردہ-
اس کا ذہن زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوچکا تھا-پانی پہ بہہ رہا تھا-بادلوں پہ تیر رہا تھا-
زمین و آسمان کے درمیان، نہ اوپر نہ نیچے، ہوا کے بیچ کہیں معلق، کہیں درمیان میں کسی تیرتے بادل پہ-
پھر آہستہ آہستہ تیرتے بادل کو قرار ایا- ذرا سا جھٹکا لگا اور بادل کسی بلبلے کی طرح پھٹ کر ہوا میں تحلیل ہوگیا- اور ہر طرف روشنی بھرتی گئی، تیز پیلی روشنی اس نے ہولے سے آنکھیں کھولیں- دھندلا سا ایک منظر سامنے تھا- سفید دیواریں، سفید چھت ، چھت سے لٹکتا پنکھا، اس کے تین پر تھے ، ہولے ہولے وہ ایک دائرے میں گھوم رہے تھے-دائرے دائرے بار بار دائرے-
وہ کتنی ہی دیر یک ٹک چھت کو دیکھے گئی- وہ کون تھی؟کدھر تھی؟کیوں تھی؟وہ خالی خالی نگاہوں سے چھت کوتکتی رہی- پھر یکایک ادھر ادھر دیکھنا چاہا-
اردگرد سفید دیواریں تھیں-قریب ہی ایک کاؤچ رکھا تھا- تپائی پہ سوکھے پھولوں کا گلدستہ سجا تھا-اس نے کہنیوں کے بل اٹھنا چاہا، مگر جسم جیسے بے جان سا ہوگیا تھا یا شاید وہ بے حد تھک چکی تھی-اس نے کوشش ترک کردی اور اپنے باذوؤں کو دیکھا، جن میں بے شمار نالیاں سی پیوست تھیں- ہر نالی کسی نا کسی مشین کے سرے پہ جا رکتی تھی-وہ شاید اسپتال کا کمرہ تھا اور وہ شاید ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ یقینا محمل ابراہیم تھی-
خود کو کیسے بھولا جا سکتا ہے بھلا؟آہستہ اہستہ ساری یاد داشتیں ذہن کے گوشے سے ابھرنے لگیں-ایک ایک بات ایک ایک چہرہ اسے یادآتا گیا- تھک کر اس نے آنکھیں موند لیں- آخری بات بھلا کیا ہوئی تھی؟کس چیز نے اسے ادھر اسپتال پہنچایا؟شاید کوئی ایکسیڈنٹ؟ اور اسے دھیرے دھیرے یاد آتا گیا- وہ بھٹہ لینے سڑک کے اس پار گئی تھی- اس کے ساتھ کاشف بھی تھا-وہ سائیکل چلا رہا تھا- وہ نظروں سے اوجھل ہی ہوا تھا کہ وہ ریٹرھی والے کے پاس چلی گئی- پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کچھ ہوا تھا- اسے ٹکر لگی تھی-خون بکھرے کاغذ ۔۔۔۔۔ روتا بچہ-
بچہ؟اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں-پھر ادھر ادھر دیکھا کمرہ خالی تھا-وہ ادھر اکیلی تھی- مگر وہ روتا بچہ۔۔۔۔۔۔ وہ آواز جو اسے آخری پل سنائی دی تھی؟ تیمور ۔۔۔۔ تیمور رو رہا تھا- ہاں اسے یاد تھا، کہاں ہے تیمور؟
اس نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا، اسی پل دروازہ کھلا-
سفید یونیفارم میں ملبوس نرس اندر داخل ہوئی-
اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی-وہ تیزی سے ٹرے لیے بیڈ کی طرف بڑھی، پھر اسے جاگتے دیکھ کر ٹھٹکی-
اوہ شکر ہے آپ کو ہوشآگیا، وہ حیران سی کہتی اس کے قریب آئی- تب ہی کھلے دروازے میں ایک بچہ نظر ایا-
چھ، سات برس کا، خوب صورت سا بچہ ، شاید وہ کاشف کا ہمسایہ تھا- ہاں وہ ارحم ہی تھا یا شاید راحم کا چھوٹا بھائی، وہ فیصلہ نہ کر پائی-
آریو آل رائٹ ؟ نرس نے آہستہ سے اس کے ہاتھ کو چھوا، پھر حیرت سے پوچھا۔۔۔ وہ بنا جواب دیے بچے کا چہرہ دیکھتی رہی،جو عجیب انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا- یہ شاید وہ لڑکا تھا جس کو وہ شاید شام میں ناظرہ پڑھایا کرتی تھی-
ہم آپ کی سسٹر کو بلاتے ہیں ابھی،نرس خوشی سے چہکتی باہر کو بھاگی-وہ ابھی تک بچے کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی،جن میں عجیب سی کوفت تھی اور ننھی پیشانی پہ ذرا سے بل ، وہ اس عجیب سی کوفت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا کاؤچ پہ بیٹھا اور کہنیاں گھٹنوں پہ رکھ کر دونوں ہتھیلیوں میں چہرہ گرادیا- وہ ابھی تک اسی طرح اسے دیکھ رہی تھی-
“راحم!” اس نے پکارا اسے اپنی آواز بہت ہلکی لگی، پھٹی پھٹی سنائی دی-بچہ اسی طرح سے دیکھتا رہا-
“راحم! اس نے پھر سے آواز دی-وہ بمشکل بول پارہی تھی-
میں سنی ہوں- پھر لمحے بھر کو رک کر عجیب سے تنفر سے بولا-آئی ڈونٹ لائیک یو-
سنی؟ وہ دنگ رہ گئی،اس بچے کو وہ روز ناظرہ پڑھاتی تھی،وہ شاید راحم کا چھوٹا بھائی تھا-پھر وہ ایسے بات کیوں کر رہا تھا
اسی پل دروازہ زور سے کھلا-
محمل نے چونک کر دیکھا-
دروازے میں فرشتے کھڑی تھی- سیاہ عبایا پہ سفید حجاب چہرے کے گرد لپیٹے وہ بے یقینی سے بستر پہ لیتی محمل کو دیکھ رہی تھی-
فر ۔۔۔۔۔۔ فرشتے- وہ اپنی جگہ جامد رہ گئی-فرشتے تو باہر تھی وہ پاکستان کب اآئی؟
اوہ میرے اللہ محمل ! اس نے بے اختیار اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا- کتنے ہی پل وہ بے یقین سی کھڑی رہی- اس کا چہرہ کافی کمزور ہوگیا تھا-
محمل ! محمل ! ایک دم اس نے آگے بڑھ کے بے قراری سے اس کا چہرہ چھقوا-
تم مجھے دیکھ سکتی ہو محمل؟تم مجھے پہچانتی ہو؟تم بول سکتی ہو؟
میں تمہیں کیوں نہیں پہچانوں گی فرشتے؟ تم کب آئیں؟
میں؟ فرشتے متعجب —- نظروں سے اسے تک رہی تھی-میں تو ۔۔۔۔۔ مجھے تو کافی عرصہ ہوگیا محمل! تم، میں نے تم سے اتنی باتیں کیں تم نے ، تم نے سنا؟
کیا؟ وہ الجھ سی گئی- نہیں میں نے تو کوئی بات نہیں سنی میں تو — وہ رک رک کر اٹک اٹک کر بول رہی تھی- میں تو صبح ریڑھی والے کے پاس گئی تھی- مجھے گاڑی نے ٹکر ماردی اور ، اور تم نےبتایا بھی نہیں کہ تم آرہی ہو؟
فرشتے بے یقینی سے پھیلی پھیلی آنکھوں سے اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی- گویا اس کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہ ہو-
فرشتے !بولو اسے فرشتے کی یہ حیرت و بے یقینی پریشان کر رہی تھی، کہیں کچھ غلط تھا-
محمل تم- وہ کچھ کہتے کہتے پھر رک گئی جیسے سمجھ میں نہ آیا ہو کہ کیا کہے-
یو اینڈ یور اوور ایکٹنگ ! ہونہہ- وہ چھوٹا لڑکا بے زاری سے کہہ اٹھا تھا-فرشتے نے چونک کر اسے دیکھا –
سیاہ حجاب میں دمکتے فرشتے کے چہرے پہ ہلکی سی ناگواری ابھری-
سنی پلیز بیٹا جاؤ یہاں سے، مجھے بات کرنے دو- میں کیوں جاؤں ؟ میری مرضی، آپ دونوں چلی جائیں-
فرشتے ! یہ کون ہے؟ کیوں ضد کر رہا ہے؟ وہ الجھ کر پوچھ رہی تھی مگر فرستے دوسری طرف متوجہ تھی- آئی ڈونٹ وانٹ ٹو گو- وہ بد تمیزی سے چیخا تھا- شٹ اپ تیمور! اینڈ گیٹ آؤٹ تم دیکھ نہیں رہے میں ماما سے بات کر رہی ہوں-
فرشتے کہہ رہی تھی اور اسے لگا کسی نے اس کے اوپر ڈھیروں پتھر لڑھکا دیے ہیں
تم نے ۔۔۔۔۔۔۔ تم نے تیمور کہا فرشتے؟وہ ساکت رہ گئی تھی
ہاہ!شی از ناٹ مائی مام! وہ سر جھٹکتا اٹھ کر باہر گیا اور اپنے پیچھے زور سے دروازہ بند کیا-
تم نے تیمور کہا؟ نہیں ، یہ تیمور ۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔ میرا تیمور کہاں ہے؟ اس کا دل بند ہورہا ہے، کہیں کچھ غلط تھا،

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: